Family Lawyers Karachi

Family Lawyers Karachi We are a multi-specialty law firm serving individuals, businesses and governmental entities throughout Karachi.

We are a multi-specialty law firm serving individuals, businesses and governmental entities throughout Karachi.We address all Legal domains i.e Family Law, general civil, commercial, Banking , employment and property, anti corruption and others. We are proud to have represented many of our clients from years or more. While our clients appreciate the results we achieve, the way we achieve those res

ults is equally important to them. We address all Legal domains i.e Family Law, general civil, commercial, Banking , employment and property, anti corruption and others. Mohammad Tariq Hussain
Advocate
B.Pharmacy,M.A., LL.b.

10/09/2024

24/07/2024
31/03/2024
10/12/2023

جدید عورتیں ہمیں یہ کہتی ہیں کہ شادی کے بعد الگ گھر ان کا حق ہے آپ کا حق ہے،
وہ ہمیں کہتی ہیں کہ ہمارے ماں باپ کی خدمت ان کا فرض نہیں ہے ، آپ کا فرض نہیں آپ کی سب باتیں ٹھیک ہیں،
وہ کہتی ہیں کہ جوائنٹ فیملی سسٹم ٹھیک نہیں ہے آپ ٹھیک کہتے ہیں لیکن ہمیں یہ بھی تو بتائیں کہ 30 سال تک ہمیں دن میں تین وقت کا کھانا، صاف ستھرے کپڑے اور سونے کے لیے پنکھے کی سب سے اگلی چارپائی دینے والی ماں کو کہاں چھوڑ کے آئیں؟ اپنی ساری جوانی اپنی جوتیاں گھسا کر ہمیں اس مقام تک پہنچانے والے باپ کا کیا کریں؟ ہم اس باب کا کیا کریں جس کی بچت اور پینشن سے ہماری شادی ہوئی اور آپ ہمارے گھر کا حصہ بنی؟
ہم انہیں کس اولڈ ہوم میں چھوڑ کے آئیں؟
ہر اونچ نیچ گرمی سردی دھوپ چھاؤں میں سائے کی طرح ساتھ دینے والی بڑے بھائی کا ساتھ صرف اس وجہ سے نہ دیں کیونکہ اس کی بیگم کی اور آپ کی نہیں بنتی اور آپ کو لگتا ہے آپ کا خاوند زیادہ کماتا ہے اور اب بھائی کو دینا اپنی سیونگز ختم کرنے کے مترادف ہے؟ کیونکہ آپ نہیں جانتی جب ہم پڑھتے تھے تو بڑا بھائی نوکری کرتا تھا نوکری چھوٹی تھی مگر میرے بڑے خرچے پورے ہوتے تھے ماں باپ نے قربانی دی پھر بڑے بھائی بہنوں نے قربانی دی اب میری بیگم مجھے کہتی ہے کہ مجھ پر صرف اس کا حق ہے آپ کس حیثیت سے اس بات کا حق جتا رہی ہیں؟ میری تو اپنی شادی میرے باپ کی کمائی کی وجہ سے ہوئی ہے کیونکہ اپنی نوکری میں تو میں کسی بڑے شہر میں کرائے کا گھر تک افورڈ نہیں کر سکتا، بھائی مل کے رہ رہے ہیں مسائل ہیں لیکن کیا مسائل بھائیوں کے ہیں؟ آپ پنجاب یونیورسٹی یا کوئی بھی ہوسٹل دیکھ لیں آپ بوائز ہاسٹل میں کبھی یہ تفریق نہیں کر پائیں گی کہ کس کے پاس کتنے پیسے ہیں کیونکہ پیسے کم ہوں یا زیادہ روم میٹس اور دوست آپس میں اکٹھے رہتے ہیں کھاتے ہیں پیتے ہیں اور کبھی یہ محسوس نہیں کرواتے کہ چار دوست مل کر ایک کا خرچ اٹھا رہے ہیں یہ ایک جاگیردار دوست چاروں کو پال رہا ہے تو یہ اچانک ایسا کیا ہوتا ہے کہ جیسے ہی شادیاں ہوتی ہیں ایک ہنستے بستے گھر میں سیاست اور پھر اقوال ذریں کا دور چلنے لگ جاتا ہے کہ جناب الگ گھر تو عورت کا حق ہے!! حق بالکل ہے لیکن کوئی ساتھی یہ بھی تو بتائیں ماں باپ کا کیا حق ہے ان کو کہاں چھوڑ کے آئیں؟ کم کمانے والے بڑے بھائی جس نے کئی جگہ ہماری فیس دی ہو اس کا کیا کریں اس کو کیا کہیں؟ میری جگہ پہ کئی جگہوں پر لڑنے والے مجھ پر جان چھڑکنے والے چھوٹے بھائی کا کیا کروں؟
بہتر نہیں کہ مردوں کو الگ گھر کا طعنہ دینے کی بجائے یا بالفرض اگر اپ الگ گھر میں رہ رہی ہیں اور اپ کی ساری ضرورتیں پوری ہو رہی ہیں تو پھر خاوند اپنے خاندان پر جیسے مرضی خرچ کرے اپ کیوں بھائیوں کے مسائل میں کود پڑتی ہیں بہتر نہیں اپنی زندگی سکون سے گزارے اور خاندان کو الگ گھروں میں الگ رہتے ہوئے بھی اکٹھا رہنے دیں۔ پرائیویسی کے نام پر گھٹن بڑھ رہی ہے ڈپریشن بڑھ رہا ہے اور ہم اپنوں کی بجائے ڈاکٹرز کی طرف دوڑ رہے ہیں بہتر نہیں آپسی مسائل سلجھا لیں خواتین بات بات پر مسائل کھڑا کرنے کی بجائے بھائیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں تاکہ سب خوش رہیں اور سکون رہے

پس تحریر
جس یورپ اور عرب معاشرے کی مثال دے کر ہندوستان کے صدیوں پرانے خاندانی نظام پر بات کی جاتی ہے اسی یورپ اور عربوں میں ہر بندہ خود کماتا ہے خود کھاتا ہے بہت کم لوگ باپ کے سر پر عیش کرتے ہیں عربوں کو وراثت ملتی ہے یورپ والوں کو تعلیم اور ہنر جو اپنی جیب سے لیتے ہیں پھر وہ زندگی بھی اپنی جیتے ہیں ایسا نہیں ہو سکتا کہ اپ کا خاوند ابے کی جیب سے پڑھ پڑھا کر اسسٹنٹ کمشنر بنے اور آخر میں آپ کو یاد آجائے کہ بھائی سرکاری گھر پر تو صرف میرا حق ہے یہ بوڑھے لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ اور ہاں ہماری نوکریاں نہ ہوں تعلیم نہ ہو تو آپ کے ابے بھی ہمیں رشتہ نہ دیں سو شکریہ ادا کریں ہمارے ماں باپ کا جنہوں نے پال پوس کر ایک تیار شدہ بچہ آپکے حوالے کیا ہے

18/11/2023

نیت شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں

آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں

نہ ملا کر اداس لوگوں سے
حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں

آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں

جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں
رائیگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں

آؤ کچھ دیر رو ہی لیں ناصرؔ
پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں

ناصر کاظمی

01/10/2023

یہ وہ ہی 1757ء کی اسٹیبلشمنٹ تھی جس نے 1947ء میں اپنے ساتھیوں کو اقتدار سونپا آج 2023ء تک اسٹیبلشمنٹ ایک ہی ہے یعنی غلام ہندوستان پر جابرانہ حکمرانی کرنیوالوں کا راج۔ جلیانوالہ باغ قتل عام ہو یا لال مسجد قتل عام یہ اسی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیاں ہیں جس نے 1757ء میں جنم لیا تھا۔

رابرٹ کلائیو، جنرل ڈائر، جنرل یحیٰی، جنرل ضیأ الحق، جنرل پرویز مشرف اور آج 2023ء تک ایک ہی اسٹیبلشمنٹ کا سیٹ اپ چلا آرہا ہے لیکن لوگ اس بات پر مطمئن ہوگئے ہیں کہ 1947ء میں ہندوستان برٹش راج سے آزاد ہوگیا تھا۔ بظاہرً تو ہندوستان تقسیم ہوا تھا لیکن جو ریاست پاکستان کے نام سے وجود میں آئی تھی اس پر اسی 1757ء والی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسوں کے تسلسل کا معاہدہ فوجی قیادت سے ہوچکا تھا۔ 1757ء کی اسٹیبلشمنٹ نے 14 اگست 1947ء کو پاکستان کا اقتدار فوج (اسٹیبلشمنٹ) کو سونپ دیا تھا۔ قائد اعظم گورنر جنرل اور لیاقت علی خان وزیراعظم یہ سب عوام کو بیوقوف بنانے کا حربہ تھا۔ درحقیقت جیسے آج اسٹیبلشمنٹ بالادست ہے اور وزیراعظم اور صدر وغیرہ کوئ حیثیت نہیں رکھتے اسی طرح اسی اسٹیبلشمنٹ کے زیر سایہ 14 اگست 1947ء کے گورنر جنرل قائد اعظم اور انکے مسلم لیگی اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتے تھے کہ جتنا آج کا کوئی علاقائی بلدیاتی کونسلر حیثیت رکھتا ہو۔

15 اگست 1947ء کا ہندوستان 1757ء کی اسٹیبلشمنٹ سے جان چھڑانے کا فیصلہ کر چکا تھا اسکی وجہ ہندوستان کے عوام کا شعور تھا جسکا سب سےبڑا مظہر نتھورام گوڈسے کے ہاتھوں گاندھی جی کا قتل تھا اسکے برعکس بعد از تقسیم ریاست پاکستان کے عوام فکر و شعور کی پستی میں ڈوبے ہوئے تھے اور انھیں مزھب اور سیاست کے نام پر ابھی بھی باآسانی بیوقوف بنایا جاسکتا تھا لہذا پاکستان پر اسی عوامی کمزوری کی وجہ سے آج بھی برٹش دور کی 1757ء والی اسٹیبلشمنٹ قابض ہے۔

15 اگست 1947ء کا ہندوستان مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسرت موہانی، رام پرساد بسمل، چندر شیکھر آزاد، بھگت سنگھ اور ادھم سنگھ جیسے سوچ و فکر رکھنے والوں کا دیش تھا جبکہ 14 اگست 1947ء کو وجود میں آنیوالا میرا ملک شعوری و فکری طور پر مکمل بانجھ ہے جس پر آج بھی 1757ء کی اسٹیبلشمنٹ قابض ہے۔

02/07/2023

یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں

مجھے گلاس بڑا دے شراب کم کر دے

🔴Forensic Criminal Investigation. TECHNIQUES OF HUMANIDENTIFICATION🔴فرانزک مجرمانہ تفتیش۔ انسان کی شناخت تکنیک🔵 ڈی این ا...
01/07/2023

🔴Forensic Criminal Investigation. TECHNIQUES OF HUMANIDENTIFICATION
🔴فرانزک مجرمانہ تفتیش۔ انسان کی شناخت تکنیک
🔵 ڈی این اے
🔵DNA

As with the other biometric methods of identification, DNA comparison relies on accessible antemortem data. However, unlike other modalities, familial relationship can be established even when antemortem data are not available.

In addition, like ridgeology (fingerprints), large
national databases are currently being established that can reduce the need for a presumptive identification, especially if the decedent has had contact with the justice system.

The best sources for DNA material are direct
reference samples from the decedent during
life. Direct reference samples are classified as
primary and secondary. Primary direct DNA
sources include blood, a tissue biopsy slide, a
pap smear, tooth remnants, and a hair sample
(with roots). Direct secondary DNA sources
include a toothbrush, comb, bedding, or
clothing. Indirect DNA reference samples are
those from biological relatives.

DNA testing requires more time, effort, specialized personnel,and higher cost than other identification methods. The degree to which human remains are fragmented or degraded determines the value of DNA analysis in the identification process. Intact, large body parts lend themselves to identification by less costly methods, such as
dental, radiographic imaging, and fingerprints.

However, DNA analysis may be the only viable
method for identifying severely fragmented or
degraded remains. The majority of forensic
DNA tests are performed on nuclear DNA using polymerase chain reaction (PCR) amplificationof the sample with short tandem repeat (STR)typing.

Simultaneous analysis of mitochondrial
DNA (mtDNA) may be necessary to improve
the identification process.

STRs are particularly informative when using
well-preserved soft tissue and bone samples andeven on degraded tissue and bone fragments if the DNA extraction process is optimized.

However, STRs alone are often not sufficient
for identification when samples are severely
compromised.

Forensic DNA analyses for human identification has seen a tremendous upsurge since the President’s DNA Initiative Program that beganin 2003.

The program provided funding,training, and further financial assistance to ensure that forensic DNA would reach its full potential in identifying missing persons. Fromthis program, the National Institute of Justice
(NIJ) now provides funding to have DNA
analyses performed on unidentified remains bythe Center for Human Identification at the University of North Texas or the FBI.

Once the analysis is complete, the profiles (if they are sufficient) are entered into the FBI’s CODIS system (Combined DNA Index System) and uploaded into the National DNA Index System.

🔴فرانزک مجرمانہ تفتیش۔ انسان کی شناخت تکنیک
🔵 ڈی این اے

شناخت کے دیگر بائیو میٹرک طریقوں کی طرح، ڈی این اے کا موازنہ قابل رسائی پر انحصار کرتا ہے۔ اینٹی مارٹم ڈیٹا تاہم، دیگر طریقوں کے برعکس، خاندانی تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اینٹی مارٹم ڈیٹا دستیاب نہ ہو۔

اس کے علاوہ، رجولوجی (انگلیوں کے نشانات) کی طرح، بڑے قومی ڈیٹا بیس اس وقت قائم کیے جا رہے ہیں جو ایک مفروضہ شناخت کی ضرورت کو کم کر سکتے ہیں، خاص طور پر اگر متوفی انصاف کے نظام سے رابطہ ہوا ہے۔

ڈی این اے مواد کے بہترین ذرائع براہ راست ہیں۔
کے دوران مرنے والے سے حوالہ نمونے۔ زندگی براہ راست حوالہ نمونے کے طور پر درجہ بندی کر رہے ہیں بنیادی اور ثانوی. بنیادی براہ راست ڈی این اے ذرائع میں خون، ایک ٹشو بایپسی سلائیڈ، a پاپ سمیر، دانتوں کی باقیات، اور بالوں کا نمونہ (جڑوں کے ساتھ)۔ براہ راست ثانوی DNA ذرائع دانتوں کا برش، کنگھی، بستر، یا شامل کریں۔ لباس بالواسطہ ڈی این اے ریفرنس کے نمونے ہیں۔ وہ جو حیاتیاتی رشتہ داروں سے ہیں۔

ڈی این اے ٹیسٹنگ مزید وقت، محنت، خصوصی افراد کی ضرورت ہے، اور دیگر شناخت سے زیادہ قیمت طریقے جس درجہ تک انسان باقی رہتا ہے۔ بکھرے ہوئے ہیں یا انحطاط کا تعین کرتا ہے۔ شناخت میں ڈی این اے تجزیہ کی قدر عمل برقرار، جسم کے بڑے حصے خود کو قرض دیتے ہیں۔ کم مہنگے طریقوں سے شناخت کرنا، جیسے
ڈینٹل، ریڈیوگرافک امیجنگ، اور فنگر پرنٹس۔

تاہم، ڈی این اے کا تجزیہ ہی ممکن ہے۔ شدید بکھرے ہوئے یا کی شناخت کا طریقہ تباہ شدہ باقیات. فرانزک کی اکثریت ڈی این اے ٹیسٹ جوہری ڈی این اے پر استعمال کرتے ہوئے کئے جاتے ہیں۔ پولیمریز چین ری ایکشن (PCR) پروردن مختصر ٹینڈم ریپیٹ (STR) کے ساتھ نمونے کا ٹائپنگ مائٹوکونڈریل کا بیک وقت تجزیہ ڈی این اے (mtDNA) شناخت کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہو سکتا ہے۔
.

استعمال کرتے وقت STRs خاص طور پر معلوماتی ہوتے ہیں۔ اچھی طرح سے محفوظ نرم بافتوں اور ہڈیوں کے نمونے اور یہاں تک کہ انحطاط شدہ بافتوں اور ہڈیوں کے ٹکڑوں پر بھی اگر ڈی این اے نکالنے کے عمل کو بہتر بنایا گیا ہو۔

تاہم، اکیلے STRs اکثر کافی نہیں ہوتے ہیں۔سمجھوتہ شناخت کے لیے جب نمونے شدید ہوں۔


انسانی شناخت کے لیے فرانزک ڈی این اے کے تجزیوں میں اس کے بعد سے زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ صدر کا ڈی این اے انیشیٹو پروگرام شروع ہوا۔

2003 میں پروگرام نے فنڈ فراہم کیا، تربیت، اور مزید مالی امداد اس بات کو یقینی بنائیں کہ فرانزک ڈی این اے مکمل طور پر پہنچ جائے گا۔ لاپتہ افراد کی شناخت کا امکان سے یہ پروگرام، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف جسٹس این آئی جی اب ڈی این اے رکھنے کے لیے فنڈ فراہم کرتا ہے۔کی طرف سے نامعلوم باقیات پر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تجزیہ یونیورسٹی آف نارتھ ٹیکساس یا ایف بی آئی میں انسانی شناخت کا مرکز۔

تجزیہ مکمل ہونے کے بعد، پروفائلز (اگر وہ ہیں۔ کافی) ایف بی آئی کے CODIS سسٹم (کمبائنڈ ڈی این اے انڈیکس سسٹم) میں داخل ہیں اور نیشنل ڈی این اے انڈیکس سسٹم میں اپ لوڈ کیا گیا۔

01/07/2023

On December 31, 1600, .East India Company, also called English East India Company, formally Governor and Company of Merchants of London Trading into the East...

Address

Near City Courts Karachi
Karachi
74700

Telephone

+923142757789

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Family Lawyers Karachi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Family Lawyers Karachi:

Share