Mansoor Ali Thebo Advocate

Mansoor Ali Thebo Advocate Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mansoor Ali Thebo Advocate, Criminal lawyer, Karachi.

Free Qanoni madad @ helpاگر آپ کو درج ذیل مسائل کا سامنا ہے: • گھر، زمین، یا فلیٹ پر قبضہ: اگر کسی نے آپ کی زمین یا جائی...
25/12/2024

Free Qanoni madad @ help
اگر آپ کو درج ذیل مسائل کا سامنا ہے:

• گھر، زمین، یا فلیٹ پر قبضہ: اگر کسی نے آپ کی زمین یا جائیداد پر غیر قانونی قبضہ کر لیا ہے تو آپ کے پاس قانونی حقوق ہیں جن کا دفاع کیا جا سکتا ہے۔free help inbox

• چیک باؤنس ہونا: چیک باؤنس ایک سنگین جرم ہے، جس کے تحت آپ قانونی چارہ جوئی کر کے انصاف حاصل کر سکتے ہیں۔free help inbox

• عورت پر تشدد یا طلاق کے مسائل: خواتین پر تشدد اور طلاق جیسے سنگین مسائل میں قانونی مدد حاصل کریں۔ free help inbox

قانون آپ کے حق میں کھڑا ہے۔

• ماں باپ کی جائیداد میں بیٹیوں کو حصہ نہ ملنا: اسلامی اور ملکی قوانین کے تحت بیٹیوں کو ماں باپ کی جائیداد میں پورا حق ملتا ہے، اور اگر آپ کو یہ حق نہیں دیا جا رہا تو آپ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔inbox

اب عدالتوں میں ڈیجیٹل سسٹم نافذ ہو چکا ہے، جس سے مقدمات کی سماعت اور فیصلے تیزی سے ہونے لگے ہیں۔ وہ مسائل جو سالوں تک چلتے تھے، اب مہینوں میں حل ہو رہے ہیں۔

*Muft QANONI Madad*
Muhammad yousif Law associates Karachi
Court marriage
khula
talaq
civil cases
criminal Case
banking check bonus all cases fori madadl
contact us
ہم آپ کو ہر طرح کے قانونی مسائل میں فوری مدد فراہم کرتے ہیں۔ انصاف کے حصول کے لیے ہم سے رابطہ کریں اور اپنے حقوق کا دفاع کریں
Contact free
Inbox
03008935450
whatapp free
Mansoor Ali Thebo
Advocate High Court.
Karachi.

اسلام وعلیکم PLJ 2024 CrC 79منشیات کیخلاف مہم کے دوران عام طور پر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ پولیس مہم کو کامیاب ظاہر کرنے ...
29/04/2024

اسلام وعلیکم
PLJ 2024 CrC 79

منشیات کیخلاف مہم کے دوران عام طور پر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ پولیس مہم کو کامیاب ظاہر کرنے کیلئے سابقہ ریکارڈ رکھنے والوں پر فرضی برآمدگی ظاہر کرکے اور جھوٹی شہادتیں بنا کر مقدمات درج کر دیتی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کا تازہ ترین فیصلہ

It is unfortunately a growing phenomenon in our police culture that subordinate police officials book the persons having previous criminal record in narcotic cases by fabricating false evidence only to make the campaign or ‘crackdown’ ordered by the superior officers against the addicts or peddlers, successful that practice cannot at all be endorsed and encouraged. Order in the society is to be maintained and the crime is to be curbed by ensuring untainted justice for all. Viable expeditious proceedings in the case is also a requirement of fair trial. In this case, it prima facie, seems that right of fair trial guaranteed by the Constitution stands infringed because of apparently willful abstaining from submission of challan to the Court in time. It prima facie, stinks mala fide on the part of concerned officials which makes this case one of further inquiry into petitioner’s guilt. Finding the unjustifiably belated submission of challan.
Bail allowed.

Crl. Misc.34710/23
Shehzad . Vs The State etc.
Mr. Justice Syed Shahbaz Ali Rizvi

Are You Looking A Lawyer... We provide best legal services. Our Services... -Civil Rights-Criminal-Family -Child Custody...
26/03/2024

Are You Looking A Lawyer...
We provide best legal services.
Our Services...
-Civil Rights
-Criminal
-Family
-Child Custody
At Karachi
Cell phone # 03008935450

منشیات کیس میں مخبری کے باوجود نہ تو کوئی فرضی خریدار بھیجا گیا، اور نہ ہی پبلک کا کوئی گواہ شامل کاروائی کیا گیا۔ ملزما...
19/03/2024

منشیات کیس میں مخبری کے باوجود نہ تو کوئی فرضی خریدار بھیجا گیا، اور نہ ہی پبلک کا کوئی گواہ شامل کاروائی کیا گیا۔ ملزمان بری.

(2018 MLD 1025)

 #مجسٹریٹ اگر ریمانڈ کی درخواست مسترد کر دے تو یہ جوڈیشل آرڈر ہوگا.2024 PCR.LJ 552017 MLD 1319ریمانڈ کے لفظی معنی ”واپس ...
19/03/2024

#مجسٹریٹ اگر ریمانڈ کی درخواست مسترد کر دے تو یہ جوڈیشل آرڈر ہوگا.
2024 PCR.LJ 55
2017 MLD 1319
ریمانڈ کے لفظی معنی ”واپس بھجوانا“ ہے۔ یعنی مجسٹریٹ کی عدالت سے مقدمہ میں نامزد پیش کردہ ملزم کو واپس حوالات بھیجنا. اصل میں پولیس کے تشدد کی وجہ سے یہ اصطلاح بہت خطر ناک سمجھی جاتی ہےجو کافی حد تک صحیح ہے۔
جب کوئی شخص کسی بھی جرم میں گرفتار ہوتا ہے تو پولیس اس کو چوبیس گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے پاس پیش کرنے کی پابند ہوتی ہے اور مزید عرصے کے لئے زیر حراست رکھنا مطلوب ہو تو پولیس مجسٹریٹ سے تحریری حکم حاصل کرتی ہے اس درخواست کو ریمانڈ کی درخواست کہتے ہیں۔
اگر پولیس24 گھنٹے کے اندر ملزم کو عدالت میں پیش نہیں کرتی اور مزید مناسب حکم حاصل نہیں کرتی تو چوبیس گھنٹے سے بعد کی حراست غیر قانونی شمار ہوگی۔
عام طور پر ریمانڈ کی درخواست علاقہ مجسٹریٹ کو دی جاتی ہے تاہم ناگزیر صورت میں ریمانڈ کی درخواست کسی بھی مقامی مجسٹریٹ کو دی جا سکتی ہے۔ مجسٹریٹ جس کے روبرو کسی ملزم کو بغرض ریمانڈ پیش کیا جائے زیادہ سے زیادہ پندرہ دن کا ریمانڈ دیتا ہے۔ ہائی کورٹ رولز میں بھی ریمانڈ کے متعلق احکامات اور ہدایات دی گئی ہیں۔ ریمانڈ کی درخواستوں میں قانون یہ ہے کہ مجسٹریٹ کو ملزم کے وکیل یا اسکے رشتہ داروں کو یہ حق دینا چاہئے کہ اگر وہ ریمانڈ کے خلاف ملزم کی طرف سے عذر پیش کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں۔ ہائی کورٹ کے قواعد میں درج ہے کہ مجسٹریٹ کو لازم ہے کہ وہ ملزم کو وکیل رکھنے کا موقع دے تاکہ وہ وکیل ریمانڈ کے خلاف عذر پیش کر سکے۔
مجسٹریٹ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ آیا ملزم کا پولیس کے قبضہ میں دیا جانا ضروری ہے یا نہیں۔اگر مجسٹریٹ محسوس کرے کہ ملزم کو پولیس کی حراست میں مزید رکھنا ضروری نہیں ہے تو وہ ریمانڈ کا حکم صادر کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔

(بحوالہ PLD 1979 Lah 587)
وہ ملزم جس کے خلاف مقدمہ زیر تجویز ہو ریمانڈ پر صرف پولیس اسٹیشن میں رکھا جا سکتا ہے کسی اور جگہ نہیں ورنہ یہ اقدام غیر قانونی ہوگا۔ریمانڈ کے لئے ضروری ہے کہ ملزم کو مجسٹریٹ کے روبرو حاضر کیا جائے۔ مجسٹریٹ کا خود مقامنظر بندی تک جانا غیر قانونی ہے۔
ملزم کے رشتہ داروں کو دوران ریمانڈملزم کو کھانا یا لباس مہیا کرنے سے بھی منع نہیں کیا جا سکتا۔
اب آتے ہیں ریمانڈ کی اقسام کی جانب تو جناب بنیادی طور پر ریمانڈ دو طرح کا ہوتا ہے۔

✍️1۔ جسمانی ریمانڈ (Physical Remand)

✍️2.جوڈیشل ریمانڈ (Judicial Remand)

◾جسمانی ریمانڈ کا مطلب یہ ہے کہ گرفتار شدہ ملزم تھانہ میں ہی زیر حراست رہتا ہے۔ مجسٹریٹ اگر اس نتیجے پر پہنچے کہ پولیس کو بر آمدگی وغیرہ یا کسی اور مقصد کے لئے ملزم کی بنفسہ ضرورت ہے تو وہ ملزم کا جسمانی ریمانڈ وقتاً فوقتاً پولیس افسران کو دیتا رہے گا۔ لیکن اس ریمانڈ کی مجموعہ تعداد پندرہ دن سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اس جسمانی ریمانڈ کی وجہ بھی باقاعدہ درج کی جائے گی
اس جسمانی ریمانڈ کا مطلب ویسے ہماری عام عوام میں پولیس کا ملزم پر تشدد ہی سمجھا جاتا ہے حالانکہ قانون کا یہ منشا ہر گز نہ ہے۔
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ تفتیش کا مطلب مار پٹائی کے سوا ہمارے ملک میں اور کچھ نہیں ہے۔ پولیس جس طرح دوران ریمانڈ ملزم کے ساتھ سلوک کرتی ہے وہ مہذب قوموں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس رویے کی بناء پر پولیس کو خوف اور نفرت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ گرفتار شدہ شخص کے دوست، رشتہ دار صرف اس بات کے لئے پولیس کو بھاری رقوم بطور بطوررشوت دیتے ہیں کہ وہ ملزم کا جسمانی ریمانڈ نہ لے بلکہ جوڈیشل ریمانڈ لے اور مدعی پارٹی پولیس کو بھاری رقم اسی لئے دیتی ہے کہ وہ دوران ریمانڈ ملزم پر جسمانی تشدد کرے۔
گرفتار ملزم پر اگر دوران حراست تشدد کیا گیا ہے تو علاقہ مجسٹریٹ سے میڈیکل کرانے کا حکم حاصل کیا جا سکتا ہے تاکہ پولیس کی طرف سے کیا گیا تشدد ثابت ہونے پر پولیس کے خلاف کاروائی کی جا سکے۔
اب آتے ہیں جوڈیشل ریمانڈ کی جانب

◾2۔ جوڈیشل ریمانڈ (Judicial Remand)
جوڈیشل ریمانڈ کا مطلب ملزم کو سیدھا جیل بھجوانا ہوتا ہے۔ اگر پولیس آفیسر استدعا کرے کہ تفتیش مقدمہ مکمل ہے یا مزید تفتیش کی ضرورت نہیں ہے تو مجسٹریٹ ملزم کو عدالتی ریمانڈ(Judicial Remand) پر جیل بھجوا سکتا ہے۔
ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر تفتیشی افست مزید ریمانڈ جسمانی کی استدعا کرے تو مجسٹریٹ مزید ریمانڈ جسمانی(Physical Remand) کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوا سکتا ہے۔ اس کے لئے مجسٹریٹ چند امور کو مد نظر رکھے گا۔

1۔ مجسٹریٹ اگر مناسب سمجھے کہ تفتیش مقدمہ مکمل ہے۔

2۔ مجسٹریٹ اگر مناسب سمجھے کہ مزید تفتیش کی غرض سے جسمانی ریمانڈ دینا مناسب نہیں ہے۔

3۔ ملزم کے خلاف بظاہر کوئی مقدمہ نہ بنتا ہو۔

جسمانی ریمانڈ سے متعلق ہائی کورٹ کی ہدایات یہ ہیں کہ اسے بہت ہچکچاہٹ کے ساتھ منظور کرنا چاہئے اور تھوڑے تھوڑے دن کے لئے کرنا چاہئے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 167 اس بابت تفصیل فراہم کرتی ہے۔ عام لوگ چونکہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ریمانڈ کی منظوری اور نا منظوری پولیس کی مرضی پر منحصر ہے اسلئے کوئی بھی ریمانڈ کے مرحلہ پر کسی وکیل سے رجوع نہیں کرتا۔ پولیس کے ٹاؤٹوں سے کام چلایا جاتا ہے حالانکہ ریمانڈ کے مرحلہ پر وکیل بحث کرکے مندرجہ ذیل قسم کے احکام حاصل کر سکتا ہے۔
1۔ جسمانی ریمانڈ کی بجائے جوڈیشل ریمانڈ کیا جائے۔
2۔ ملزم کی ضمانت لے لی جائے۔
3۔ ملزم کے خلاف ثبوت نہیں ہے اسکو رہا کر دیا جائے.
وکیل یہ عذر بھی لے سکتا ہے کہ جسمانی ریمانڈ کم دنوں کا دیا جائے۔
یہ بھی عام مشاہدہ ہے کہ گرفتار شدہ لوگوں کے وارث اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ریمانڈ کے متعلق معاملات میں وکیل کوئی دخل نہیں دے سکتا اسی لئے وہ پولیس کے دلالوں کو ہزاروں روپے صرف اتنی سی رعایت کے لئے دے دیتے ہیں کہ جسمانی ریمانڈ نہ لیا جائے۔ سادہ لوح لوگوں کی غلط فہمی اور قانون سے لاعلمی کی وجہ سے پولیس کے لئے کرپشن کے کئی دروازے کھل جاتے ہیں۔ اس بابت تدارک کے لئے وکلاء اور عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

◾غیر قانونی ریمانڈ
عدالت کو ریمانڈ دینے کی وجوہات اپنے حکم میں لکھنا ہوتی ہیں۔اسکا بہترین حل یہ ہے کہ آپ جوعذر پیش کرنا چاہتے ہیں وہ تحریری درخواست کے زریعے ریمانڈ کے وقت پیش کردیں۔ کوئی بھی جوڈیشل مجسٹریٹ ان عذرکو نہ تو پھاڑے گا اور نہ ان کو نظر انداز کرے گا یعنی حکم میں اگر ان کا ذکر نہ کرے گا تب بھی قابل مواخذہ ہوگا اور اگر عذرکی تردید میں بھی کچھ نہیں لکھے گا تب بھی جوابدہ ہوگا۔ ہائی کورٹ کو بڑی سختی کے ساتھ ایسے مجسٹریٹ صاحبان کی گرفت کرنی چاہئے جو ہائی کورٹ کے قواعد و ہدایات اور سکرول کو نظر انداز کریں۔ اب قانون میں ترمیم کرکے یہ حکم بھی ہو چکا ہے کہ ہر ریمانڈ کی نقل سیشن جج صاحب کو بھیجی جائے۔
ہائی کورٹ کو یہ واضح ہدایات ہیں کہ سیشن ججز صاحبان پر لازم ہے کہ وہ ناجائز قسم کے احکام ریمانڈ سے متعلق ہائی کورٹ کو رپورٹ بھجوائیں۔ بہر حال جب بھی کوئی متاثرہ فریق محسوس کرے کہ مجسٹریٹ صاحب نے ریمانڈ منظور کرتے ہوئے قانون کے مطابق عمل نہیں کیا تو فوراً اس کی نقل لے کر سیشن عدالت میں نگرانی دائر کر سکتے ہیں۔ اگچہ ایسی نگرانی کوئی زیادہ فائدہ مند نہیں ہوگی لیکن مجسٹریٹ صاحب سے حکم ریمانڈ کی بابت جواب طلبی ہو سکتی ہے۔
ایسے کئی فیصلے ہیں جن میں صرف ریمانڈ کے خلاف ہدایات دینے پر مجسٹریٹ صاحب کی جوابدہی ہوئی۔ اگر ایسی صور ت درپیش ہو تو براہ راست ہائی کورٹ میں بھی درخواست زیر دفعہ 491 ض۔ف دی جا سکتی ہے کہ ریمانڈ ہائی کورٹ کی ہدایات کے خلاف منظور کیا گیا ہے اسلئے حراست ملزم ناجائز اور نامناسب ہے۔ ایسی صورت میں ملزم زیر ریمانڈ کو رہا کردیا جائے گا۔
491 ضابطہ فوجداری Illegal Custody اورImproper Custody دونوں صورتوں میں ہائی کورٹ مداخلت کرتی ہے۔جب ریمانڈ جوڈیشل کی بجائے جسمانی دیا گیا ہو تو اسے Illegal نہ سہی Improper Custody کہا جا سکتا ہے اور491 ضابطہ فوجداری چونکہ سستا قانونی حربہ ہے اس سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ ریمانڈ کے دوران بھی ملزم کو قانوناً یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ اس کے دوست احباب اور وکیل اس سے ملاقات کریں اور اس کوقانون کے مطابق صحیح مشورہ دیں۔ملزم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ: Accused is the Favourite Child of Law اسلئے یہ تمام سہولیات قانون کے مطابق ملزم کو ملنی چاہئیں۔
قانونی تقاضہ یہ ہے کہ ملزم کو تھانے کی عمارت میں رکھا جائے۔ کئی تھانیدار تشدد کرنے کے لئے پرائیویٹ مکان حاصل کرکے ملزموں کو ایسے پرائیویٹ مکانوں میں رکھتے ہیں جو سراسر غیر قانونی ہے۔اس کے علاوہ ان کو بھی جن کی گرفتاری ریکارڈ میں موجود نہیں ہوتی انہیں بھی ایسے ٹارچر سیلز میں رکھا جاتا ہے۔ لہذاایسے مکانوں پر چھاپہ ڈلواکر تھانیدار کے خلاف پرچہ درج کروایا جا سکتا ہے۔
سی آئی اے کا دفتر تھانہ نہیں ہوتا،اسی طرح کرائم برانچ کا دفتر بھی تھانہ نہیں ہوتا اسلئے ملزمان کو سی آئی اے کے دفتر میں رکھنا خلاف قانون سمجھا جائے گا۔
منطقی طور پر یہ بات سمجھ لینی آسان ہے کہ جب قانون نے ملزم کو یہ حق دیا ہے کہ وہ گرفتاری کے بعد اپنے گھر سے بستر اور کپڑے منگوا سکتا ہے، دوست احباب اور وکلاء سے ملا قات کر سکتا ہے تو یہ سب قانونی حقوق ایسی حالت میں کیونکر پورے ہونگے جب ملزم کو کسی خفیہ مقام پر پابند رکھا جائے۔
(ہائی کورٹ کے بیلف 491 ضابطہ فوجداری کی درخواستوں پر چھاپہ مارتے ہیں تو سب سے پہلے وہ روزنامچہ قابو کرتے ہیں جہاں رپٹ گرفتاری عموماً لکھی ہوئی نہیں ہوتی بلکہ تھانیدار بیلف کے چھاپے کے بعد کسی مقدمے کی ضمنی میں گرفتاری کا ذکر کر دیتا ہے۔تھانے کے روز نامچے کا رجسٹر سب سے زیادہ قابل اعتبار ریکارڈ ہوتا ہےاس میں ردو بدل آسان نہیں ہوتا)

What's App Number
03008935450
منصور علی تھیبو ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کراچی
Everyone

کسی بھی قسم کی قانونی مشاورت کے لیے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔Whatsapp No . 03008935450
13/03/2024

کسی بھی قسم کی قانونی مشاورت کے لیے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔
Whatsapp No . 03008935450

2021 PCrLJ 250ملزمان ضمانت قبل از گرفتای دائر کر کے پہلے تو تاخیری حربے استعمال کرکے اسکو زیادہ سے زیادہ طوالت دینے کی ک...
13/03/2024

2021 PCrLJ 250
ملزمان ضمانت قبل از گرفتای دائر کر کے پہلے تو تاخیری حربے استعمال کرکے اسکو زیادہ سے زیادہ طوالت دینے کی کوشش کرتے ہیں اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ جج صاحب اب مزید تاریخ نہیں دیں گے تو جان بوجھ کر غیر حاضر ھو کر درخواست ضمانت قبل از گرفتای عدم پیروی خارج کرا لیتے ہیں اور دوبارہ نئے سرے سے درخواست ضمانت قبل از گرفتاری دائر کرنے کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں جو کہ قانون کے ساتھ سراسر مذاق ھے

The policy of law is that bail petitions should be decided within the shortest possible time. Nevertheless, in a number of cases the accused applying for pre-arrest bail first use dilatory tactics to gain time and then deliberately absent themselves when they feel that the presiding officer would not allow any more adjournments. If their bail application is dismissed for non-prosecution, they start afresh in sheer abuse of the process of law. This cannot be permitted.
Therefore, once a pre-arrest bail application is admitted it must be decided on merits in all eventualities.

Mansoor Ali Thebo
Advocate High Court
Mob No.03008935450

ایشو فریم کرنے اور شہادت گواہان قلمبند کرنے سے قبل دعویٰ ہرجانہ زیر آرڈر 7 رول 11 ض د خارج نہ ہو گا۔2021 MLD 354 (c)محض ...
13/03/2024

ایشو فریم کرنے اور شہادت گواہان قلمبند کرنے سے قبل دعویٰ ہرجانہ زیر آرڈر 7 رول 11 ض د خارج نہ ہو گا۔
2021 MLD 354 (c)
محض کسی کے خلاف FIR درج کروانے کی بناء پر Malacious prosecution کا اطلاق نہ ہو گا بلکہ اس کے لیے بدنیتی کا ثابت کرنا ضروری ہے
PLJ 2017 SC (AJK) 129
سول کورٹ میں بدنیتی کی بناء پر کیس کرنے کی صورت میں بھی دعویٰ ہرجانہ قابل رواں ہے۔
2020 MLD 14 (b)
2016 SCMR 1841
اگر ملزم کو شک کا فائدہ دے کر بری کیا جاۓ تو Malcious Prosecution کا اطلاق نہ ہو گا
PLJ 2017 SC (AJK) 129
مدعی نہ تو کبھی گرفتار ہوا تھا نہ سماعت مقدمہ ہوئی بلکہ اسے ڈسچارج کر دیا گیا تھا Damages Suit میں وکیل کی فیس کی رسید یا وکیل کا نام تک نہ لکھا گیا تھا نہ ہی وکیل کو بطور گواہ پیش کیا گیا ایسی کوئی شہادت نہ تھی کہ مدعی کے خلاف بلاوجہ مقدمہ درج کروایا گیا تھا دعویٰ ہرجانہ خارج شد۔
2015 CLC 150

2023  SCMR  413Family suits---Practice of High Courts to entertain constitutional petitions in Family cases---Supreme Co...
13/03/2024

2023 SCMR 413

Family suits---Practice of High Courts to entertain constitutional petitions in Family cases---Supreme Court observed that the Family Courts Act, 1964 does not provide the right of second appeal to any party to the proceedings; that the legislature intended to place a full stop on the Family litigation after it was decided by the appellate court, however, the High Courts routinely exercise their extraordinary jurisdiction under Article 199 of the Constitution as a substitute of appeal or revision and more often the purpose of the statute i.e., expeditious disposal of the cases is compromised and defied; that no doubt, there may be certain cases where the intervention could be justified but a great number (of cases) falls outside such exception, therefore, the High Courts should prioritize the disposal of Family cases by constituting special Family benches for such purpose.

تمام عالم اسلام کو جمعہ مبارک۔۔۔
01/03/2024

تمام عالم اسلام کو جمعہ مبارک۔۔۔

Address

Karachi

Telephone

+923008935450

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mansoor Ali Thebo Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Mansoor Ali Thebo Advocate:

Share