24/12/2025
ایک غیر شادی شدہ خاتون کے ہاں ریپ کے نتیجے میں بچہ پیدا ہوا، ڈی این اے رپورٹ نے ملزم کو بچے کا باپ ثابت کیا، ٹرائل کورٹ نے زنا بالجبر ثابت ہونے پر 20 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کیا، لاہور ہائیکورٹ نے سزا برقرار رکھی، مگر سپریم کورٹ نے فیصلہ بدل دیا۔ عدالتِ عظمیٰ کی اکثریتی رائے کے مطابق 7 ماہ کی تاخیر سے ایف آئی آر، جائے وقوعہ پر شور یا مزاحمت نہ ہونا، جسم پر زخموں کے آثار نہ ملنا اور شواہد کی مجموعی کیفیت ریپ کے الزام کو ثابت نہیں کرتی، لہٰذا جرم کو زنا بالجبر (376 PPC) کے بجائے زنا بالرضا (496-B PPC) قرار دے کر سزا 5 سال قید اور جرمانہ 10 ہزار روپے کر دیا گیا۔ تاہم جسٹس صلاح الدین پنہور نے بھرپور اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں خوف، بدنامی اور دباؤ کے باعث تاخیر فطری ہے، مزاحمت کا نہ ہونا رضامندی نہیں بنتا، سات ماہ بعد میڈیکل سے زخموں کی توقع غیر حقیقت پسندانہ ہے، اور اگر ڈی این اے ریپ کے لیے مشکوک ہے تو رضامندی کے لیے کیسے معتبر ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ریپ ثابت نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ رضامندی خودبخود ثابت ہو گئی—خاموشی کو رضامندی سمجھنا انصاف نہیں، مظلوم پر مزید بوجھ ڈالنا ہے.