Pakistan Lawyers Forum

Pakistan Lawyers Forum Pakistan Lawyers Forum (PLF) is exclusively to discuss,share and debate any legal issues concerning

A judicial magistrate on Saturday granted bail to Abuzar, son of Islamabad High Court Justice Mohammad Asif, after the f...
07/12/2025

A judicial magistrate on Saturday granted bail to Abuzar, son of Islamabad High Court Justice Mohammad Asif, after the families of the two young women killed in the accident forgave him in court. The incident took place near PNCA Islamabad, where the accused allegedly struck two girls on a scooter with a speeding SUV, killing both on the spot.

Police arrested Abuzar after tracing the vehicle to a private hospital. He was on four day physical remand before being presented in court, where statements of the victims’ families were recorded. With both sides issuing pardons, the court accepted his bail and ordered his release. The FIR was registered under sections related to manslaughter, rash driving and property damage.

Disclaimer: This content is for informational and awareness purposes only.

25/11/2025

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی میں ویڈیو ریکارڈنگ کو لازمی قرار دے دیا

2025 SCMR 721 میں، سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ منشیات کی برآمدگی کے دوران ویڈیو ریکارڈنگ اور جدید آلات کا استعمال اختیاری نہیں ہے، یہ ضروری حفاظتی اقدامات ہیں۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ ویڈیو ثبوت اور آزاد گواہوں کے بغیر استغاثہ کا مقدمہ CNSA کے تحت مطلوبہ ثبوت کے سخت معیار پر پورا نہیں اتر سکتا۔

عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی شخص کو غیر منصفانہ جیل کا سامنا نہیں کرنا چاہئے، اور جہاں پولیس لازمی حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کرتی ہے وہاں ضمانت دی جانی چاہئے۔

ان دنوں یہ بحث زبانِ زدِ عام ہے کہ آیا کراچی کبھی سندھ کا حصہ رہا بھی تھا یا نہیں۔ آئیے اس مسئلے کا تاریخی و معتبر حوالو...
24/11/2025

ان دنوں یہ بحث زبانِ زدِ عام ہے کہ آیا کراچی کبھی سندھ کا حصہ رہا بھی تھا یا نہیں۔ آئیے اس مسئلے کا تاریخی و معتبر حوالوں کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں۔

کیا کراچی تقسیمِ ہند (Partition) سے پہلے سندھ کا حصہ تھا یا ایک الگ انتظامی اکائی؟
مختصر جواب یہ ہے کہ:

۱۹۳۶ء تک کراچی سندھ کا حصہ نہیں تھا، بلکہ بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ تھا۔
۱۹۳۶ء میں سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کر کے ایک علیحدہ صوبہ بنایا گیا، اور کراچی اس نئے صوبۂ سندھ کا حصہ بن گیا۔
تقسیمِ ہند ۱۹۴۷ء کے وقت کراچی سندھ ہی کا دارالحکومت تھا۔
تفصیلی تاریخی پس منظر
1. ابتدائی دور: برطانوی راج سے قبل
برطانوی تسلط سے پہلے کراچی مکران اور سندھ کے ساحلی علاقوں کے ساتھ جڑا ہوا ایک مقامی بندرگاہی قصبہ تھا۔ تاریخی طور پر یہ سندھ کی ثقافتی و جغرافیائی حدود سے منسلک ضرور تھا، مگر کوئی باقاعدہ صوبائی نظام اُس وقت رائج نہیں تھا جیسا کہ جدید دور میں ہوتا ہے۔

2. برطانوی دور: کراچی کا بمبئی پریزیڈنسی میں شامل ہونا
۱۸۴۳ء میں سندھ پر برطانوی قبضے کے بعد:

پورے سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی کے ماتحت شامل کر دیا گیا۔

کراچی کو بھی اسی انتظامی ڈھانچے کے تحت ایک اہم بندرگاہی شہر کے طور پر ترقی دی گئی۔

اس دور میں انتظامی لحاظ سے سندھ اور کراچی دونوں بمبئی کے ماتحت تھے، اس لیے کراچی سندھ کا علیحدہ صوبہ یا اکائی نہیں تھا بلکہ پورا سندھ ہی ایک بڑے صوبے (Bombay Presidency) کا حصہ تھا۔

3. سندھ کی علیحدگی اور کراچی کا سندھ میں شامل ہونا (1936)
قوم پرست قوتوں، مسلمان نمائندوں اور مقامی رہنماؤں کے مطالبے پر برطانوی حکومت نے:

1 اپریل 1936ء کو سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کر کے ایک نیا صوبہ بنا دیا۔
اس نئے صوبے کے ساتھ:

کراچی سندھ صوبے کا مرکزی شہر بن گیا۔

اسی زمانے میں کراچی کی بندرگاہ اور تجارتی حیثیت بہت تیزی سے بڑھی۔

یعنی ۱۹۳۶ء سے ۱۹۴۷ء تک کراچی سندھ صوبے ہی کا حصہ رہا۔

4. تقسیمِ ہند 1947ء کے وقت
جب پاکستان وجود میں آیا تو:

کراچی پاکستان کا پہلا دارالحکومت بنا۔

اور اس وقت کراچی سندھ صوبے کا حصہ تھا۔

بعد ازاں 1948–1949ء میں جب کراچی کو وفاقی دارالحکومت بنانے کی ضرورت ہوئی تو اسے Federal Capital Territory قرار دے کر عارضی طور پر سندھ سے الگ کیا گیا۔ مگر یہ تقسیمِ ہند کے بعد کا معاملہ ہے۔

حتمی نتیجہ
✔ 1936ء سے پہلے کراچی سندھ کا حصہ انتظامی طور پر نہیں تھا، کیونکہ پورا سندھ ہی بمبئی پریزیڈنسی کے زیرِ انتظام تھا۔
✔ 1936ء میں جب سندھ کو علیحدہ صوبہ بنایا گیا تو کراچی اس صوبے کا حصہ بن گیا۔
✔ 1947ء کی تقسیمِ ہند کے وقت کراچی پوری طرح صوبۂ سندھ کے اندر شامل تھا۔

Lordship Justice Athar Minallah has done his job. The history will remember him as a great judge who resigned under the ...
13/11/2025

Lordship Justice Athar Minallah has done his job. The history will remember him as a great judge who resigned under the protest.
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

ایان علی دبئی جانے کے لیے اسلام آباد ائرپورٹ پر پہنچی جس کا نام اس وقت بےنظیر ائرپورٹ رکھا گیا تھا ، وہ وی آئی پی لاؤنج ...
13/11/2025

ایان علی دبئی جانے کے لیے اسلام آباد ائرپورٹ پر پہنچی جس کا نام اس وقت بےنظیر ائرپورٹ رکھا گیا تھا ، وہ وی آئی پی لاؤنج تک آئی اور اپنا سامان کاونٹر پر رکھا تو کسٹم حکام نے اس کا بیگ چیک کرنا چاہا

ایان علی نے لاپروائی سے بیگ کھولا اور اعجاز چوہدری نامی کسٹم انسپکٹر نے بیگ میں پڑے دو کپڑے ہٹائے تو نیچے ڈالروں کی گڈیاں پڑی ہوئی تھیں ، انسپکٹر نے ایان علی سے استفسار کیا تو اس نے لاپروائی سے کہا کہ:-
" یہ میرے ہیں"
اعجاز چودھری نے کہا :-
"میڈم مجھے یہ رقم زیادہ لگ رہی ہے، کم و بیش پانچ ہزار ڈالرز سے زیادہ کیش لے جانا غیر قانونی ہے"

پھر اس نے گڈیاں گنی تو وہ 5 لاکھ ڈالرز تھے ، کسٹم انسپکٹر نے اپنے سنئئر کو مطلع کیا اور ایان علی کو صوفے پر بٹھا دیا ، ایان علی کو کوئی پریشانی نہیں تھی ، اس کے لئے یہ روز کا معمول تھا لیکن اعجاز چوہدری کے لئے یہ غیر معمولی بات تھی ، وہ جانتا تھا کہ ایان علی ہفتے میں دو مرتبہ دبئی جاتی ہے اور اس کے سامان کی کوئی خاص چیکنگ نہیں ہوتی اور کسٹم کا عملہ ہی اسے ہینگر تک لے کے جاتا ہے

سنئیر حکام آ گئے اور انہوں نے اعجاز چوہدری کو ایک طرف لے جا کر کچھ سمجھانے کی کوشش کی ، اعجاز چوہدری اکڑ گیا اور اپنی قانونی پوزیشن بتانے لگا ، نیز اس نے اس دوران سی اے اے اور نارکوٹیکس کے افسران کو بھی مطلع کیا ، دوسری ایان علی بےزاری سے صوفے پر بیٹھ کر مالکوں سے مسلسل فون پر بات کرتی رہی

اسی دوران کسٹم ہی کے کسی فرد نے میڈیا کو خبر دی اور چند گھنٹوں میں پورے میڈیا میں خبر پھیل گئی کہ مشہور ماڈل ایان علی پانچ لاکھ ڈالر سمگل کرتے ہوئے پکڑی گئی اور پکڑنے والا کسٹم انسپکٹر اعجاز چوہدری ہے

بات چونکہ اب پھیل گئی تھی لہذا کسٹم حکام کو بھی مجبور ہو کر سٹینڈ لینا پڑا ، انہوں نے ایان علی کہ سفری دستاویزات اور ڈیٹا کی انکوائری کی تو صرف ایک سال میں ایان علی 43 مرتبہ دبئی کا سفر کر چکی تھی ، ایان علی نے دوران تفتیش اقرار کیا کہ وہ اپنے ذاتی اخراجات اور شاپنگ کے لیے ڈالر ہی لے کر جاتی تھی ، اس بار 43 ویں مرتبہ پکڑی گئی تھی

جب اس سے پوچھا گیا کہ اتنے ڈالر اس کے پاس کہاں سے آئے اور وہ ڈالر ہی کیوں لے کے جاتی ہے تو اس کے پاس صرف ایک جواب تھا - - - "یہ میری اپنی کمائی ہے"

ایان علی کی گرفتاری سے اس ریاست اور اس کے اداروں کا اصل امتحان شروع ہوا ،

وہ جیل گئی ،پھر جب پیشیوں پر آتی تھی تو پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ بیش قیمت برانڈ کے ڈریس اور تازہ میک اپ کر کے عدالت آتی تھی ،اسے جیل کے فائیو سٹار بیرک میں رکھا گیا ، کمرے میں دنیا کی ہر سہولت موجود تھی - -
وہ جیل میں امپورٹڈ منرل واٹر پیتی تھی اور ناشتے میں امریکن و چائنیز فوڈ کھاتی تھی ،اسے ورزش کی مشینیں مہیا کی گئیں ، اس کا فون اور لیپ ٹاپ کسٹم حکام کے پاس تھا لہذا اسے ایک اور فون دیا گیا ،اس کی خدمت کے لیے پوری جیل کا عملہ وقف تھا - - -

ایان علی ملکی تاریخ کی پہلی قیدی تھی جسے جیل میں فائیو سٹار ہوٹل کی سہولیات دی گئی ، ایسی سہولیات ذوالفقار علی بھٹو جیسے شخص اور نصرت بھٹو و بے نظیر بھٹو سمیت آصف زرداری اور نواز شریف تک کو نہیں دی گئی تھیں ، حتی کہ جتنی بھی بڑی بڑی سیاسی شخصیات جیل گئی ہیں انہیں یہ سہولیات نہیں ملیں ، مریم نواز سمیت جس کے پاس آدھے پاکستان کی ویڈیوز ہیں اور آدھا لندن اس کے جائیداد میں آتا ہے

دوران تفتیش جو کچھ ہوا اس سے ہر شخص باخبر ہے ،لیکن اس سب کے بیچ جو سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ کسٹم انسپکٹر اعجاز چوہدری تھا ،اس کے افسران اسے ملامت کرتے ،اس کے کولیگز اسے نفرت بھری نظروں سے دیکھتے ،عدالت کے احاطے میں اسے دھمکیاں دیتے ، اسے نا معلوم نمبروں سے کالیں آتی ، اسے دھمکیاں دی جاتی لیکن وہ اپنی جگہ کھڑا رہا ، اسے ہر قسم کا لالچ دیا گیا لیکن وہ کیس سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا ، اس کی ترقی روک دی گئی اور بجائے اس کے کہ اسے انعام دیا جاتا ، اسے پابند کیا کہ جب تک کیس کا فیصلہ نہی ہوتا وہ کسٹم کاونٹر پر خدمات نہیں دے گا

اس نے تمام ثبوت اکھٹے کئے اور عدالت کو دے دئیے، جب فرد جرم لگنے کی تاریخ قریب آگئی اور اسے بطور عینی گواہ پیش ہونا تھا ،اسے اپنے گھر کے سامنے دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ق۔۔ ل کر دیا ،پولیس آئی اور اسکی لا۔۔ ش پوسٹ مارٹم کے لئے لے گئی ،چند دن میڈیا پر ہاہا کار رہی پھر تھانہ وارث خان پولیس نے اس کو ڈکیتی کی واردات قرار دے کر فائل بند کردیا

کسٹم حکام بھی بلکل خاموش ہوگئے ،اسکی بیوی سر پیٹ پیٹ کر تھانوں عدالتوں میں دھاڑیں مارتی رہی لیکن اسے ہر طرف سے دھتکار دیا گیا ،اسکے ساتھ اسکا کم سن بیٹا عدالتوں کے احاطے میں بدترین گرمی میں رلتا رہتا لیکن کسٹم حکام اور اعجاز چوہدری کے ساتھی اس سے نظریں چرا کر ایک طرف ہوجاتے

اعجاز چوہدری مرگیا تھا ۔
عدالت نے ایان علی کو منی لانڈرنگ کیس میں اور اعجاز چوہدری کے ق۔۔ل کے ایف آئی آر میں نامزد ملزم کی حیثیت سے بری کردیا اور اسے پاسپورٹ واپس دے دیا ۔

آج ایان علی دبئی کے سب سے مہنگے ترین علاقے میں رہائش پذیر ہے ،اسکے پاس ڈاج کی سپورٹس کار ہے ،پچھلے دنوں اس نے منی رولز رائس خریدی ہے ،وہ فائیو سٹار ہوٹلوں میں قیام کرتی ہے اور پام جمیرا میں بیچ پہ نہاتی ہے - - -

رہا اعجاز چوہدری تو وہ قبر کے اندھیروں میں اتر گیا ،اسکی بیوی اور کم سن بیٹا تین مرلے کے مکان کی بوسیدہ دیواروں پر اسکا عکس ڈھونڈتے ہیں ،اسکے شیو کا سامان اور تولیہ اور وردی اسکی بیوی نے سنبھال کر رکھے ہیں لیکن اس نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے بیٹے کو کسٹم میں بھرتی نہیں کرائے گی

اسکے ساتھی اسکی خالی کرسی کو آج بھی دکھ سے دیکھتے ہیں ،اعجاز چوہدری کی روح اسلام آباد کے پرانے ائرپورٹ کی فضاوں میں دیکھی جا سکتی ہے ،اسکی موت کا سایہ آج بھی اسلام آباد ائر پورٹ پر سایہ فگن ہے

اسلام آباد کا نیا ائر پورٹ بن گیا ہے ،وہاں اعجاز چوہدری کے مو۔ ت کے سائے نہیں ہیں لیکن وہاں کے کسٹم انسپکٹر اب اعجاز چوہدری والی غلطی کبھی نہیں دہرائیں گ

26/10/2025
*‏خاک میں ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ۔۔۔**‏ہم نے سونا سپردِ خاک کیا ہے۔۔۔!**‏محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان**اللہ پاک آپ کو...
10/10/2025

*‏خاک میں ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ۔۔۔*
*‏ہم نے سونا سپردِ خاک کیا ہے۔۔۔!*

*‏محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان*
*اللہ پاک آپ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔۔۔۔*
*آمین یارب العالمین!*
*‏آج 10 اکتوبر کو محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو قوم سے بچھڑے 3 برس گزر گئے , آپکا قوم پر کیا گیا احسان ہمیشہ یاد رہے گا , پروردگار ڈاکٹر قدیر خان کے درجات بلند فرمائے۔*

*ڈھونڈو گے اگر مُلکوں مُلکوں مِلنے کے نہیں نایاب ہیں ہم*
*تعبیر ہے جس کی حسرت و غم ، اَے ہم نفسو! وہ خواب ہیں ہم۔۔*

ملکہ وکٹوریہ تاج برطانیہ کی ساتویں ملکہ تھی‘ یہ 20 جون1837 ء میں ملکہ بنی اور 22 جنوری 1901ء تک ملکہ رہی‘ یہ اس لحاظ سے ...
09/10/2025

ملکہ وکٹوریہ تاج برطانیہ کی ساتویں ملکہ تھی‘
یہ 20 جون1837 ء میں ملکہ بنی
اور 22 جنوری 1901ء تک ملکہ رہی‘
یہ اس لحاظ سے برطانیہ کی طویل المدت ملکہ تھی‘
یہ 63 سال 7 ماہ اور دو دن مسند اقتدار پر جلوہ افروز رہی‘
وکٹوریہ کے دور میں انگریز سلطنت میں حقیقتاً سورج غروب نہیں ہوتا تھا‘
کرہ ارض پر سورج کی پہلی کرن نیوزی لینڈ میں پڑتی ہے‘
نیوزی لینڈ برطانوی سلطنت کا حصہ تھا‘ سورج نیوزی لینڈ کے بعد جوں جوں آگے بڑھتا تھا اس کے راستے میں آنے والے تمام ملک‘ تمام زمینوں پر برطانیہ کا یونین جیک لہراتا تھا‘ سورج جب تھک کر آنکھیں موندھنے لگتا تھا تو نیوزی لینڈ میں دن کا آغاز ہو جاتا تھا لہٰذا یوں ملکہ وکٹوریہ کے عہد میں برطانوی سلطنت پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔

ملکہ وکٹوریہ نے دنیا کو بے شمار نئی چیزیں‘
نئی روایات بھی دیں‘
یہ روایات‘ یہ چیزیں آج تک موجود ہیں مثلاً دنیا میں آج بھی وکٹورین طرز تعمیر موجود ہے‘ وکٹورین فرنیچر بھی آج تک بنایا جاتا ہے‘
ملکہ وکٹوریہ جس طرز کی بگھی استعمال کرتی تھی وہ بگھی بعد ازاں پوری سلطنت میں عوامی سواری بنی اور وہ وکٹوریہ کہلائی‘ یہ وکٹوریہ تانگہ کہلایا‘ برطانیہ میں بہادری کا سب سے بڑا اعزاز آج بھی وکٹوریہ کراس کہلاتا ہے
اور دنیا میں پروٹوکول کا جدید نظام بھی ملکہ وکٹوریہ نے وضع کیا تھا‘ ملکہ نے وی آئی پی اور وی وی آئی پی کی باقاعدہ کیٹگریز بنوائی تھیں اور اس کی پوری سلطنت میں لوگوں کو ان کیٹگریز کے تحت سرکاری پروٹوکول دیا جاتا تھا‘
انگریز دور میں تحصیل کی سطح پر کرسی نشین اور سفید پوش دو اعزازی عہدے ہوتے تھے۔
کرسی نشین کا ٹائیٹل گاءوں کے اس شخص کو ملتا تھا جو انگریز کو گھوڑے‘ فوجی اور مخبری دیتا تھا‘ کرسی نشین کو سرکاری دفاتر میں سرکاری افسروں کے سامنے کرسی پر بیٹھنے کی اجازت ہوتی تھی جب کہ باقی لوگ زمین پر بیٹھتے تھے یا زیادہ سے زیادہ افسر کے سامنے کھڑے ہو سکتے تھے
جب کہ سفید پوش وہ معزز لوگ ہوتے تھے جنھیں سرکار ان کی وفاداریوں سے خوش ہو کر ہر سال سفید رنگ کے دو جوڑے عنایت کرتی تھی اور یہ لوگ یہ کپڑے پہن کر سرکاری دفتروں میں جاتے تھے‘ سرکاری پروٹوکول سفید پوشوں اور کرسی نشینوں سے شروع ہوتا تھا اور ملکہ تک جاتا تھا‘ اس دور میں سرکار لمبڑ دار‘
کانسٹیبل اور پٹواری سے شروع ہوتی تھی‘ وائسرائے تک جاتی تھی‘ یہ وائسرائے ملکہ کے گورے غلام ہوتے تھے۔
ان لوگوں کو کیا کیا پروٹوکول حاصل تھا یہ تمام معلومات ایک سرکاری ڈائری میں درج ہوتی تھیں‘
یہ ڈائری ’’بلیو بک‘‘ کہلاتی تھی‘
یہ بلیو بک ڈپٹی کمشنر کے قبضے میں رہتی تھی‘ وہ اسے سرکاری تجوری میں رکھتا تھا اور اس کے علاوہ کوئی شخص اس ڈائری کو ہاتھ نہیں لگا سکتا تھا‘
ڈپٹی کمشنر تبادلے کے بعد اس وقت تک چارج نہیں چھوڑ سکتا تھا جب تک وہ بلیو بک نئے ڈپٹی کمشنر کے حوالے نہیں کر دیتا تھا‘
ملکہ کا ایک حکم سلطنت کی بلیو بک بدل دیتا تھا‘
ملک کے تمام معززین ذلیل ہو جاتے تھے اور ذلیلوں کو درجے مل جاتے تھے۔

دنیا سے صرف ملکہ وکٹوریہ رخصت نہیں ہوئی بلکہ اس کی سلطنت بھی آہستہ آہستہ بند مٹھی کی ریت کی طرح زمین پر بکھر گئی اور آج برطانیہ صرف برطانیہ تک محدود ہو چکا ہے‘
اب سوال یہ ہے دنیا کی اتنی بڑی سلطنت ختم کیسے ہو گئی‘
وہ برطانیہ جس کی ملکہ کی مشعل 68 ممالک میں گھمائی گئی تھی‘
وہ برطانیہ آج صرف دو لاکھ 43 ہزار 6سو 10 مربع کلومیٹر تک محدود ہو کر کیوں رہ گیا؟
اس زوال کی بے شمار وجوہات میں سے ایک وجہ گوروں کی بلیو بک اور پروٹوکول بھی تھا‘ گوروں نے انسان کو اسٹیٹس کی لاتعداد ٹکٹکیوں پر لٹکا دیا تھا‘ بادشاہ اور ملکہ سے پروٹوکول شروع ہوتا تھا اور وائسرائے تک آتا تھا اور وائسرائے سے اس کی کونسل کے ارکان تک جاتا تھا‘
وہاں سے سر کے خطاب حاصل کرنے والے لوگوں تک آتا تھا اور وہاں سے ہوتے ہوئے سفید پوشوں اور کرسی نشینوں تک جاتا تھا۔
یہ جس شخص کو وفاداری اور حب الوطنی کا پروانہ جاری کرتے تھے صرف وہی شخص وفادار اور حب الوطن ہوتا تھا‘
باقی تمام مشکوک سمجھے جاتے تھے اور انھیں اس شک کی بنیاد پر کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا تھا‘
گولی ماری جا سکتی تھی‘
سرکار کے ظلم کی حالت یہ تھی‘
بریگیڈیئر جنرل ڈائر نے 13 اپریل 1919ء کو امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں گولی چلا کر 370 لوگ قتل کر دیے اور کوئی شخص اس کا ہاتھ نہ روک سکا‘
کیوں؟
کیونکہ جنرل ڈائر کو ملکہ کے عنایت کردہ اختیارات کے مطابق گولی چلانے کا اختیار حاصل تھا چنانچہ اس نے یہ اختیار استعمال کیا اور سرکار نے عوامی رد عمل کے بعد جنرل ڈائر کو بطور سزا لندن واپس بھجوا دیا اور یہ سزا 370 لوگوں کے قتل کی سزا تھی۔
یہ وہ پروٹوکول اور یہ وہ بے لگام اختیارات تھے جنہوں نے برطانیہ کے نہ ڈوبنے والے سورج کو تاریخ کے سیاہ سمندر میں ڈبکی دے کر بجھا دیا‘

برطانیہ نے تاریخ کے اس خوفناک زوال کے بعد چار بڑے فیصلے کیے‘

پہلا فیصلہ پروٹوکول کا خاتمہ تھا‘
برطانیہ نے لوگوں کے درجے ختم کر دیے‘ آج برطانیہ میں شاہی خاندان موجود ہے لیکن ان کی شہنشاہیت صرف محل تک محدود ہے‘
یہ لوگ جوں ہی محل سے باہر آتے ہیں‘
عام برطانوی لوگوں اور ان میں کوئی فرق نہیں رہتا‘
انھیں بھی سڑک پر روکا جاتا ہے‘
ان کا بھی چالان ہوتا ہے اور انھیں بھی عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے‘ وزیراعظم اور وزراء بھی عام شہریوں کی طرح سڑکوں پر پھرتے ہیں‘
یہ عام ٹرینوں اور بسوں میں سفر کرتے ہیں۔
عام جہازوں کی اکانومی کلاس میں سوار ہوتے ہیں‘
برطانیہ کے وزراء اعظم 282سال سے تین بیڈروم کے گھر 10 ڈائوننگ اسٹریٹ میں رہ رہے ہیں‘
ملک کے کسی وزیراعظم کو 282 سالوں میں کوئی بڑی رہائش گاہ نصیب نہیں ہوئی‘
شاہی خاندان کے پاس درجنوں محلات تھے‘
ہر محل کے اندر ہزار ہزار ایکڑ کا باغ تھا لیکن پھر یہ تمام باغ عوامی پارک بنا دیے گئے‘
اسی فیصد محلات بھی آج میوزیم ہیں اور سیاح روزانہ ان کی سیر کرتے ہیں‘
ملک میں آرمی چیف ہو‘ پولیس چیف ہو یا چیف جسٹس ہو کسی کو کوئی پروٹوکول حاصل نہیں‘
یہ لوگ اپنے دفاتر کے باہر عام شہری ہیں۔

دوسرا فیصلہ قانون کی حکمرانی تھا‘
برطانیہ میں کوئی شخص قانون سے مضبوط اور بالاتر نہیں‘ برطانیہ نے فیصلہ کیا ہمارے ملک میں قانون مضبوط ہو گا اور کوئی عہدہ یا کوئی شخصیت اس سے بالاتر نہیں ہو گی‘

تیسرا فیصلہ جمہوریت تھا‘ ملک کے تمام اختیارات کا ماخذ عوام ہیں‘
عوام پارٹی یا شخصیت کو مینڈیٹ دیتے ہیں اور کسی شخص یا عہدیدار کو یہ مینڈیٹ چوری کرنے کا حق نہیں‘ ملک میں جعلی ووٹ یا دھاندلی کا سوال تک پیدا نہیں ہوتا‘
برطانیہ میں پچھلے سو سال میں الیکشن دھاندلی کا کوئی الزام نہیں لگا اور چوتھا اور آخری فیصلہ لیڈر شپ تھا۔
یہ لوگ صرف اس شخص کو حق حکمرانی دیتے ہیں جو ذہنی‘ تعلیمی‘
اخلاقی اور جسمانی لحاظ سے شاندار ہوتا ہے‘
ان کے کسی سیاستدان پر انا‘
ضد یا ہٹ دھرمی یا نقل‘
جعلی ڈگری یا بے ایمانی‘
چوری‘ٹیکس چوری‘ جھوٹ یا کسی بڑی بیماری کا الزام لگ جائے تو اس کا سیاسی کیریئر ختم ہو جاتا ہے‘
یہ سیاست کے ایوانوں سے فارغ ہو جاتا ہے‘
یہ وہ چار فیصلے ہیں جن کی وجہ سے تاج برطانیہ صرف برطانیہ بننے کے باوجود دنیا کی پانچویں بڑی طاقت ہے اور دنیا بھر کے حکمران برطانیہ کے وزیراعظم اور ملکہ سے ہاتھ ملانا اعزاز سمجھتے ہیں۔
میں اکثر اپنے مُلک کے مختلف ادوار کے وزیرِ اعظم ،صدور و وُزراعظم کو 10 ڈائوننگ اسٹریٹ میں برطانوی وزیراعظم کے گھر کے دروازے پر کھڑا دیکھا‘
برطانوی وزیراعظم نے باہر نکل کراستقبال کیا‘
برطانوی وزیراعظم نے اپنے ہاتھ سے دروازہ کھولا اور ہمارے وزیراعظم کو اندر لے کر گئے‘
کیا ہمارے وزیراعظم نے اس منظر سے کچھ سیکھا؟

میرا خیال ہے نہیں سیکھا ہو گا کیونکہ ہمارے کسی حکمران نے آج تک ان مناظر سے کچھ نہیں سیکھا‘
یہ لوگ سیکھ سکتے تو آج ملک کی یہ حالت نہ ہوتی‘
یہ لوگ آج بھی اس پروٹوکول سے باہر نہیں آئے جس کو برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد مکمل طور پر ترک کر دیا تھا‘
ہمارے ملک میں آج بھی کرسی نشین اور سفید پوش موجود ہیں‘
پوری ریاست انھیں سیلوٹ کرتی ہے اور یہ لوگ جب تک سسٹم کا حصہ رہیں گے ہم اس وقت تک زوال کے عذاب سے نہیں نکل سکیں گے‘
میرا دعویٰ ہے ہمارا وزیراعظم جب تک 10 ڈائوننگ اسٹریٹ جیسے تین کمروں کے مکان میں شفٹ نہیں ہوتا اور یہ اپنے ہاتھ سے دروازے نہیں کھولتا‘
ہم اس وقت تک پروٹوکول کے دور میں زندہ رہیں گے‘
ہم پر اس وقت تک اس بلیو بک کی حکومت رہے گی جس نے برطانیہ جیسی سلطنت کو تباہ کر دیا تھا ۔

(بدلنا صِرف سیاستدانوں کو ھی نہیں، بلکہ ھمیں بھی اپنی سوچ بدلنی ہے۔ہم آج بھی جگنی سے باہر نہیں آئے) ۔

سیف سٹی کیمرے سے پہلا چالان کراچی میں ہوگیا  سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر سوزوکی لوڈنگ گاڑی 7500 کا چالان اگر  14 دن کے بعد 21...
04/10/2025

سیف سٹی کیمرے سے پہلا چالان کراچی میں ہوگیا سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر سوزوکی لوڈنگ گاڑی 7500 کا چالان اگر 14 دن کے بعد 21 دن میں 15000 اور 21 دن بعد 30000 روپے بھرنا پڑیں گے تین ماہ بعد لائسنس معطل اور چھ ماہ تک نہ بھرا تو شناختی کارڈ۔ بلاک ہوجائے گا

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) — نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (NCCIA) کو حکومت کی جانب سے نئے اور اہم اختیارات تفویض ک...
31/08/2025

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) — نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (NCCIA) کو حکومت کی جانب سے نئے اور اہم اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں۔ اب ایجنسی کو سائبر جرائم کے ساتھ ساتھ اینٹی منی لانڈرنگ قوانین پر عمل درآمد کی بھی مکمل اجازت ہوگی۔ اس فیصلے کے بعد NCCIA نہ صرف سائبر دہشت گردی، الیکٹرانک فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور سم کارڈز کے غیر مجاز اجراء جیسے سنگین جرائم کی تحقیقات کر سکے گی بلکہ چائلڈ پورنوگرافی، آن لائن گرومنگ، سائبر لالچ، بچوں کے جنسی استحصال و اسمگلنگ، اور جھوٹی یا جعلی معلومات کے پھیلاؤ کے خلاف بھی مؤثر کارروائی ممکن بنائے گی۔ 🤖💻🔒💸📈👮

تفصیلات کے مطابق یہ دونوں بھائی گاؤں رتی پنڈی (ضلع قصور) کے ہیں-دونوں لاہور سے اپنے گھر آ رہے تھے- مبیّنہ طور پر انہوں ن...
25/08/2025

تفصیلات کے مطابق یہ دونوں بھائی گاؤں رتی پنڈی (ضلع قصور) کے ہیں-
دونوں لاہور سے اپنے گھر آ رہے تھے- مبیّنہ طور پر انہوں نے راستے میں رائیونڈ کے ساتھ ایک گاؤں بھمبھ (جائے وقوعہ) سے ایک درجن کیلے خریدے جو 130 روپے کے تھے-
ان کے پاس ایک نوٹ سو والا تھا اور باقی 5 5 ہزار والے تھے- فروٹ والے کے پاس پانچ ہزار کا کھلّا نہیں تھا-
انہوں فروٹ والے سے کہا کہ ہمارے پاس سو روپے ہیں- یہ لے لو یا اپنے باقی 30 روپے کے کیلے واپس نکال لو- اس بات پر تکرار ہوئی اور فروٹ والا گالیاں دینے لگا-
یوں جھگڑا بڑھ گیا اور فروٹ والے نے اپنے دوست کو فون کر دیا کہ یہاں لڑائی ہو گئی ہے- فروٹ والے کے دوست نزدیک ہی کرکٹ کھیل رہے تھے جو سب کے سب اکٹھے ہو کر آ گئے اور بنا تحقیق ان دونوں بھائیوں کو ملکر مارنے لگے-
دونوں بھائی شدید زخمی ہوۓ جس پر انہیں قریبی ہسپتال لیجایا گیا- دونوں میں سے چھوٹا بھائی زخموں کی تاب نا لا سکا-
اسنے ہسپتال پہنچتے ہی دم توڑ دیا
جب کہ بڑا بھائی اج وفات پا گیا 😭

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Lawyers Forum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share