Lawyer online

Lawyer online We deals in all types of cases criminal cases family cases rent cases stay matters civil cases marriage cases child custody cases divorce cases

سات سال بعد کی عدلیہ — ایک افسردہ سوال ⚖️نسلہ ٹاور کے متاثرین کی آنکھوں کے آنسو شاید ابھی خشک نہیں ہوئے تھے کہ سات سال ب...
10/07/2026

سات سال بعد کی عدلیہ — ایک افسردہ سوال ⚖️

نسلہ ٹاور کے متاثرین کی آنکھوں کے آنسو شاید ابھی خشک نہیں ہوئے تھے کہ سات سال بعد ایک نیا قانونی موڑ سامنے آ گیا۔

وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے نے یہ سوال دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ اگر کسی معاملے میں اختیار کا تعین ہی متنازع ہو تو اس دوران ہونے والے نقصان، تباہ ہونے والے گھر اور متاثر ہونے والی زندگیاں کس کے ذمہ ہوں گی؟

قانون کی بالادستی ضروری ہے، مگر قانون کے فیصلوں کے اثرات بھی انسانی زندگیوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

ایک طرف غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ ضروری ہے، تو دوسری طرف بے گناہ شہریوں کے حقوق، ان کی جمع پونجی اور برسوں کی محنت کا تحفظ بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

سات سال بعد آنے والا یہ فیصلہ صرف ایک مقدمے کا اختتام نہیں، بلکہ ایک بڑا سوال ہے:

کیا انصاف صرف فیصلے کا نام ہے، یا اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی انصاف کا حصہ ہے؟

⚖️ وقت، قانون اور تاریخ سب اپنا فیصلہ سناتے ہیں… مگر متاثرین کا درد ہمیشہ یاد رہتا ہے۔

جنازہ سامنے رکھا ہے۔سفید کفن میں لپٹا ہوا۔ خاموش۔ ساکت۔مگر یہ خاموشی عام خاموشی نہیں — یہ اس شخص کی خاموشی ہے جس نے پوری...
03/07/2026

جنازہ سامنے رکھا ہے۔

سفید کفن میں لپٹا ہوا۔ خاموش۔ ساکت۔

مگر یہ خاموشی عام خاموشی نہیں — یہ اس شخص کی خاموشی ہے جس نے پوری زندگی وہ بات کہی جو کہنا سب سے مشکل تھا۔

اور آج جب یہ جسم یہاں پڑا ہے — دنیا کی سب سے بڑی طاقتیں اس ایک جنازے کو دیکھ کر سوچ رہی ہیں کہ اب کیا ہوگا۔

ذرا رکیں — اور سوچیں۔

یہ وہ شخص ہے جسے امریکہ نے توڑنا چاہا — پابندیوں سے، دھمکیوں سے، اقتصادی جنگ سے۔ یہ وہ شخص ہے جس کے سائنسدانوں کو گولیاں ماری گئیں، جس کے جرنیل ڈرون حملوں میں شہید کیے گئے، جس کے ملک کو ہر طرف سے گھیرا گیا۔

مگر یہ جھکا نہیں۔

ایک بار نہیں، بار بار نہیں — کبھی نہیں۔

اور آج جب یہ جسم یہاں لیٹا ہے، تو اس کے ہاتھ خالی ہیں — نہ دولت، نہ محل، نہ اقتدار کا کوئی نشان۔ بس ایک سادہ کفن۔

یہی تھا یہ انسان۔

جوانی میں شاہ کے قید خانے میں گیا — تشدد سہا، مگر زبان نہیں بدلی۔ انقلاب کے بعد جب اقتدار ملا — تو اپنے بیٹے کا تعارف ایک غریب نوجوان کے طور پر کروایا تاکہ رشتہ عہدے پر نہیں، کردار پر ہو۔ جب پوری دنیا نے کہا "جھک جاؤ" — تو اس نے کربلا کا وہ سبق یاد کیا جو چودہ سو سال پہلے ایک اور میدان میں لکھا گیا تھا۔

عزت کی موت، ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔

امام حسینؓ نے یہ الفاظ کربلا کی پیاسی زمین پر کہے تھے۔ اور اس شخص نے یہ الفاظ پوری زندگی جی کر دکھائے۔

آج لاکھوں لوگ اس جنازے کے گرد کھڑے ہیں۔

آنکھیں بھیگی ہیں، سینے بھاری ہیں۔

مگر ایک بات ہے جو رونے نہیں دیتی — یہ احساس کہ یہ شخص ہارا نہیں۔

دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت اس ایک انسان کو نہیں توڑ سکی۔ سب سے بڑی اقتصادی پابندیاں اس کا حوصلہ نہیں توڑ سکیں۔ سب سے جدید خفیہ ایجنسیاں اس کے ایمان کو نہیں پڑھ سکیں۔

کیونکہ جو انسان موت سے نہیں ڈرتا — اسے کوئی نہیں ڈرا سکتا۔

اور یہی وہ راز ہے جو طاقتور کبھی نہیں سمجھ سکے۔

وہ سوچتے ہیں کہ جسم ختم کر دو تو آواز ختم ہو جاتی ہے۔

مگر کربلا نے چودہ سو سال پہلے ثابت کر دیا — جسم مٹتا ہے، آواز نہیں مٹتی۔ خون خشک ہوتا ہے، پیغام نہیں خشک ہوتا۔

آج یہ جنازہ یہاں ہے — کل یہ تاریخ میں ہوگا۔

اور تاریخ ہمیشہ انہی کو یاد رکھتی ہے جو ڈرے نہیں، جھکے نہیں، بکے نہیں۔

جو بنیاد ایمان پر کھڑی ہو — وہ جسم کے جانے کے بعد بھی قائم رہتی ہے۔

03/07/2026
سپریم کورٹ  نے 71 سال قبل انتقال ہبہ کے ذریعے جائیداد سے محروم کی جانیوالی بہنوں اور والدہ کو وراثتی جائیداد میں سے حصہ ...
01/07/2026

سپریم کورٹ نے 71 سال قبل انتقال ہبہ کے ذریعے جائیداد سے محروم کی جانیوالی بہنوں اور والدہ کو وراثتی جائیداد میں سے حصہ دینے کا حکم دے دیا۔ماتحت عدالتوں کے فیصلے اور انتقال ہبہ کالعدم قرار .
وراثت مردوں کی مہربانی نہیں بلکہ شرعی و قانونی حق ہے، خواتین کو محروم کرنے کے لئے جعلی ہبہ، فراڈ اور خاندانی دباؤ ہرگز قبول نہیں، 1955ء میں والد کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں نے وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کرا لی اور زبانی ہبہ کو بنیاد بنا کر والدہ اور بہنوں کو جائیداد سے محروم کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے نور محمد کی اپیل پر 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، عدالت نے واضح کیا کہ وراثت خاندان کے مرد افراد کی مہربانی یا صوابدید نہیں بلکہ ہر وارث کا شرعی اور قانونی حق ہے، جو مورث کے انتقال کے ساتھ ہی خود بخود منتقل ہو جاتا ہے۔

فیصلے میں قرار دیا کہ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کیلئے جعلی ہبہ، جعلی انتقال، فراڈ، خاندانی دباؤ یا رسم و رواج کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا، عدالتوں پر لازم ہے کہ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والی ہر ٹرانزیکشن اور معاہدے کا انتہائی احتیاط سے جائزہ لیں تاکہ کسی بھی خاتون کے بنیادی حق کو سلب نہ ہونے دیا جائے۔

جسٹس شاہد بلال حسن نے فیصلے میں لکھا کہ خواتین کے وراثتی حصے علامتی یا اختیاری نہیں بلکہ لازمی حقوق ہیں، خواتین کو خاندانی عزت، روایت یا سماجی دباؤ کے نام پر وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ریاست، عدالتیں اور ریونیو حکام خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں، جبکہ خواتین کو صرف کاغذی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ان کا حق ملنا چاہیے، عدالت نے مزید قرار دیا کہ قانون کا جھکاؤ خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کی طرف ہونا چاہیے، نہ کہ ان کے خاتمے کی طرف۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ 1955ء میں والد کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں نے وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کرا لی اور زبانی ہبہ کو بنیاد بنا کر والدہ اور بہنوں کو جائیداد سے محروم کر دیا، درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ زبانی ہبہ جعلسازی کے ذریعے منظور کرایا گیا سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ زبانی ہبہ ثابت کرنے کا بوجھ اس فریق پر ہوتا ہے جو اس سے فائدہ حاصل کر رہا ہو۔

عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے بارِ ثبوت کا درست جائزہ لینے کے بجائے خود ہبہ کو ہی ثبوت تسلیم کر لیا، جو قانون کے سراسر منافی تھا، عدالت کے مطابق ٹرائل کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے حقائق اور قانون دونوں کے برعکس تھے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ ہائی کورٹ نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ زبانی ہبہ کو کئی دہائیوں تک چیلنج نہیں کیا گیا، تاہم تاخیر کے باوجود ہبہ ثابت کرنا فائدہ اٹھانے والوں کی ذمہ داری تھی، ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ معاہدے کے بعد کئی برس تک والدہ اور بہنوں کو زمین کی آمدن میں حصہ ملتا رہا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں مبینہ ہبہ سے لاعلم رکھا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے تاخیر سے دعویٰ دائر کرنے کی بنیاد بھی مسترد کرتے ہوئے درخواست گزاروں کی اپیل منظور کر لی اور تمام ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ ریونیو حکام کو وراثتی ریکارڈ قانون کے مطابق درست کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

The right of inheritance is not a bounty to be bestowed at the pleasure of male family members nor a concession dependent upon custom, convenience or familial goodwill. It is a vested Shari and legal right which devolves upon the heirs immediately upon the death of the predecessor-in-interest and cannot be defeated through private arrangements, social pressures, dubious revenue entries or procedural stratagems. This Court has repeatedly emphasized that the law of inheritance occupies a unique position in Islamic jurisprudence because it embodies the Divine scheme of distribution of wealth and seeks to ensure economic justice within the family and society at large. The experience of the courts, however, demonstrates that women continue to be deprived of their lawful inheritance through a variety of devices, including fabricated gifts, manipulated revenue entries, fraudulent relinquishments, coercive family arrangements and prolonged litigation designed to exhaust those asserting their rights.

The Constitution of the Islamic Republic of Pakistan does not countenance the deprivation of women from their lawful inheritance. Article 2A incorporates the principles of democracy, freedom, equality, tolerance and social justice as enunciated by Islam, while Article 25 guarantees equality before law and equal protection of law. Articles 23 and 24 recognize and protect the right to acquire, hold and enjoy property and prohibit deprivation thereof save in accordance with law. Article 35 further obligates the State to protect the family, the mother and the child. Article 227 further mandates that all laws shall be brought in conformity with the Injunctions of Islam. These constitutional guarantees, when read in conjunction with the Islamic injunctions relating to inheritance, leave no room for ambiguity. The State is not a passive spectator where women are deprived of property lawfully devolving upon them through succession. The constitutional guarantee of equality before law becomes illusory if women are denied ownership of property that has vested in them by operation of law. Likewise, the constitutional protection of property rights is rendered meaningless if inheritance rights can be defeated through coercion, fraud, social pressure, manipulated revenue entries, dubious family arrangements or prolonged litigation. The Constitution, therefore, imposes a positive obligation upon all organs of the State, including the courts and revenue authorities, to ensure that female heirs are able to obtain, retain and enjoy their lawful inheritance in a practical and effective manner and not merely as a matter of abstract legal entitlement. Any custom, practice, arrangement or device which has the effect of excluding a female heir from her lawful share not only offends the injunctions of Islam but is also inconsistent with the constitutional commitment to equality, dignity, social justice and protection of property rights.

The responsibility, however, does not rest upon the State alone. Families, Community leaders, Islamic Scholars and Orators, members of the legal profession, revenue authorities and civil society all share a collective obligation to ensure that the rights conferred by Almighty Allah are neither diluted nor defeated. A society that celebrates the virtues of justice while tolerating the deprivation of women from their lawful inheritance suffers from a contradiction that cannot be reconciled with either constitutional values or Islamic principles. The true measure of a legal system lies not in the rights it proclaims but in the rights it protects. Courts must, therefore,remain vigilant to ensure that inheritance laws are not circumvented through artificial devices and that women receive, in substance and not merely in theory, the shares to which they are lawfully entitled.

We accordingly observe that all courts and revenue authorities dealing with inheritance disputes must remain mindful that the law leans in favour of protecting, rather than defeating, the inheritance rights of women, the vulnerable segment of the society, and any transaction having the effect of excluding a female heir from succession must be examined with the utmost care, caution and judicial scrutiny.

C.P.L.A.1103-L/2016
Noor Mohammad,etc v. Ghulam Haider,etc
Mr. Justice Shahid Bilal Hassan
30-06-2026

Address

27th Street 21 C Building Mezanine Floor Tuheed Commercial Area Dha Phase 5
Karachi
21000

Telephone

03009210971

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lawyer online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share