Lawyer online

Lawyer online We deals in all types of cases criminal cases family cases rent cases stay matters civil cases marriage cases child custody cases divorce cases

15/05/2026
یہ والی پنکی تو کبھی بھی نہ پکڑی جاتی اگر موصوفہ کی فراہم کردہ منشیات کی گھٹیا کوالٹی کے باعث ایک خاتون سینیٹر کی بیٹی ا...
14/05/2026

یہ والی پنکی تو کبھی بھی نہ پکڑی جاتی
اگر موصوفہ کی فراہم کردہ منشیات کی گھٹیا کوالٹی
کے باعث ایک خاتون سینیٹر کی بیٹی اور
سابقہ وفاقی وزیر کا نوجوان بیٹا منشیات کی زائد
خوراکیں لینے سے پرلوک نہ سدھار گئے ہوتے۔

یہ مسئلہ منشیات فروشی کا نہیں بلکہ گھٹیا مال کی
سپلائی اور لوکل مال کو امپورٹڈ بتا کر امیروں
سے کروڑوں روپے ہتھیانے کا ہے !!!

ورنہ سالے چھ سو چھتیس غریب لاوارث ہیروئنچیوں کی
آئے روز موت اور گلی محلوں میں کھلے منشیات کے
اڈوں کا علم کیا اداروں کو نہیں؟ یا یہ منشیات فروش اور
ان کے اڈے کیا مسٹر انڈیا کے انیل کپور کی طرح
لال چشمے میں ہی دکھائی دیتے ہیں ؟؟؟

چیف جسٹس نے چار ججون ملازمت سے برطرف کردیاچیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس ظفر راجپوت نے ماتحت عدالتوں میں صفائی کا عمل شروع ...
22/04/2026

چیف جسٹس نے چار ججون ملازمت سے برطرف کردیا

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس ظفر راجپوت نے ماتحت عدالتوں میں صفائی کا عمل شروع کردیا

مس کنڈکٹ کے الزامات ثابت ہونے پر دو جوڈیشل افسران کو ملازمت سے برطرف کردیا

برطرف ہونیوالوں میں کراچی شرقی کے دو سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹس زاہد حسین مغیری اور نیاز حسین مستوئی شامل

چیف جسٹس نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن جج گھوٹکی نزاکت علی کی ترقی پانچ سال کیلیے روک دی

سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ میرپور خاص ذیشان خان کی ترقی بھی پانچ سال روکنے کی منظوری دیدی گئی

برطرف افسران کو 2023میں مس کنڈکٹ اور ان ایفیشنسی کے الزامات میں شوکاز جاری کئے گئے

افسران کو ذاتی طور پر صفائی کا موقع بھی دیاگیا تھا ،

انکوائری افسران کی جانب سے سزا کی سفارشات منظور کرلی گئیں

ایڈیشنل سیشن جج نزاکت علی اور سول جج ذیشان خان مکا کو بھی شوکاز ،چارج شیٹ اور ذاتی صفائی کا موقع دیا گیا

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی منظوری کے بعد ممبر انسپکشن ٹیم ون نے سزاؤں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیئے

� “نکاح نامہ میں درج مہر کو ہلکا نہ لیں! عدالت کا بڑا فیصلہاس آئینی درخواست کے ذریعے درخواست گزار نے فیملی کورٹ اور ڈسٹر...
17/04/2026

� “نکاح نامہ میں درج مہر کو ہلکا نہ لیں! عدالت کا بڑا فیصلہ
اس آئینی درخواست کے ذریعے درخواست گزار نے فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ جج وہاڑی کے مورخہ 12.10.2024 اور 18.12.2024 کے فیصلوں کو چیلنج کیا ہے، جن کے ذریعے مدعا علیہ نمبر 3 (بیوی) کا حق مہر کی وصولی کا دعویٰ منظور کیا گیا۔

فریقین کی شادی 18.04.2011 کو ہوئی۔ نکاح کے وقت مہر 5000 روپے نقد، 5 تولہ چاندی اور 10 تولہ سونا مقرر ہوا۔ بیوی کا مؤقف تھا کہ مہر ادا نہیں ہوا، اس لیے وہ اس کی حقدار ہے۔ شوہر نے کہا کہ صرف 5000 روپے طے ہوئے اور ادا بھی کر دیے گئے، باقی اندراجات جعلی ہیں۔

ٹرائل کورٹ نے ثبوت سن کر دعویٰ منظور کیا، اپیل میں بھی فیصلہ برقرار رہا۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نچلی عدالتوں نے شواہد کو غلط پڑھا اور 10 تولہ سونا دینے کا حکم قانون کے خلاف ہے کیونکہ اس کی قیمت 5 لاکھ روپے درج تھی۔

دوسری طرف بیوی کے وکیل نے کہا کہ نکاح نامہ ایک عوامی دستاویز ہے، جسے درست مانا جاتا ہے، اور شوہر اس کو غلط ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

عدالت نے قرار دیا کہ:
• نکاح نامہ درست ہے اور شوہر نے اس پر دستخط تسلیم کیے۔
• شوہر نے اس کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں کی۔
• مہر کی تمام اشیاء (نقد، چاندی، سونا) الگ الگ اور جمعی حیثیت رکھتی ہیں۔

خصوصاً 10 تولہ سونے کے بارے میں عدالت نے کہا کہ:
• اصل چیز سونا ہے، قیمت صرف اندازہ (indicative) ہے۔
• یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صرف رقم ادا کرنی ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ:
• اگر سونا نہ دیا جائے تو اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو وصول کی جا سکتی ہے۔
• نچلی عدالتوں کے فیصلے درست ہیں اور ان میں مداخلت کی ضرورت نہیں۔

لہٰذا درخواست خارج کر دی گئی۔



🔹 خلاصہ (Precise Summary)

یہ کیس حق مہر کی وصولی سے متعلق تھا، جس میں:
• نکاح نامہ کے مطابق مہر = 5000 روپے + 5 تولہ چاندی + 10 تولہ سونا
• شوہر نے سونے اور چاندی کو جعلی قرار دیا
• عدالت نے کہا:
• نکاح نامہ ایک مستند دستاویز ہے
• شوہر اس کو غلط ثابت نہیں کر سکا
• مہر ایک مخلوط (composite) حق ہے (یعنی تمام اجزاء الگ الگ واجب الادا ہیں)

🔸 اہم نکتہ:
• 10 تولہ سونا ایک مستقل حق ہے
• 5 لاکھ روپے صرف اس کی اندازاً قیمت ہے، متبادل نہیں
• اگر سونا نہ دیا جائے تو اس کی مارکیٹ ویلیو (ex*****on کے وقت) ادا ہوگی

🔸 نتیجہ:
• نچلی عدالتوں کے فیصلے برقرار
• آئینی درخواست مسترد






سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ: نجی اسکولوں میں نصاب اور یونیفارم کی فروخت پر مکمل پابندی عائدحکومتِ سندھ کے محکمہ تعلیم (ایجوک...
15/04/2026

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ: نجی اسکولوں میں نصاب اور یونیفارم کی فروخت پر مکمل پابندی عائد

حکومتِ سندھ کے محکمہ تعلیم (ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ) نے صوبے بھر کے تمام نجی تعلیمی اداروں کے لیے سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔ نئے نوٹیفکیشن کے مطابق، کوئی بھی نجی اسکول انتظامیہ اسکول کی حدود میں کتابیں، کاپیاں، یونیفارم یا اسٹیشنری فروخت کرنے کی مجاز نہیں ہوگی۔

اہم تفصیلات:
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اسکول انتظامیہ والدین کو کسی مخصوص دکان یا وینڈر سے خریداری کے لیے مجبور نہیں کر سکتی۔ اسکولوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ تعلیمی سال کے آغاز پر نصابی کتب اور اسٹیشنری کی مکمل فہرست (Book List) والدین کو فراہم کریں تاکہ وہ کھلی مارکیٹ سے اپنی سہولت کے مطابق اشیاء خرید سکیں۔

لوگو والی کاپیوں پر پابندی:
محکمہ تعلیم کے مطابق، والدین کو اسکول کے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے پر مجبور کرنا بھی غیر قانونی عمل ہے۔ اس اقدام کا مقصد والدین پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کو کم کرنا اور تعلیمی اخراجات میں شفافیت لانا ہے۔

خلاف ورزی پر سخت کارروائی:
ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز نے وارننگ جاری کی ہے کہ جو اسکول ان احکامات کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس میں بھاری جرمانے اور اسکول کی رجسٹریشن کی منسوخی بھی شامل ہے۔

والدین اور سماجی حلقوں نے حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ان احکامات پر سختی سے عمل درآمد کروانے کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی جائیں تاکہ نجی اسکولوں کی من مانیوں کو روکا جا سکے۔

قومی شناختی کارڈ (CNIC) کی قانونی حیثیت اور دیوانی عدالت کا اختیار:ہائیکورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ اہم اصول واضح کیا ہے کہ...
10/04/2026

قومی شناختی کارڈ (CNIC) کی قانونی حیثیت اور دیوانی عدالت کا اختیار:

ہائیکورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ اہم اصول واضح کیا ہے کہ نادرا کی جانب سے جاری کردہ قومی شناختی کارڈ (CNIC) اپنے حامل کی منقولہ جائیداد (Movable Property) نہیں ہے، لہٰذا دیوانی عدالتیں اسے بطور جبری اقدام (Coercive Measure) ضبط، منسلک، بلاک یا منسوخ کرنے کا اختیار نہیں رکھتیں۔ یہ کارڈ محض ایک شناختی دستاویز ہے جو کسی شخص کی شناخت ثابت کرنے کے لیے جاری کیا جاتا ہے، نہ کہ اسے کسی قسم کا حقِ ملکیت فراہم کرتا ہے۔

قانون کے مطابق ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ خود کو متعلقہ اتھارٹی (نادرا) کے ساتھ رجسٹرڈ کروائے۔ نادرا کی طرف سے جاری کردہ شناختی کارڈ درحقیقت وفاقی حکومت کی ملکیت ہوتا ہے، جیسا کہ نادرا آرڈیننس، 2000 کی دفعہ 18 میں واضح کیا گیا ہے۔ اس کارڈ کو نہ فروخت کیا جا سکتا ہے، نہ منتقل کیا جا سکتا ہے، نہ کسی دوسرے کے قبضہ میں دیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی یہ حامل کی وفات کے بعد وراثت میں منتقل ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کسی بھی صورت میں جائیداد کے زمرے میں نہیں آتا، اگرچہ بظاہر یہ ایک مادی (Physical) شے ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ چونکہ CNIC کو منقولہ جائیداد تصور نہیں کیا جا سکتا، اس لیے دیوانی عدالتیں اسے کسی مقدمہ میں دباؤ ڈالنے کے لیے بطور ذریعہ استعمال نہیں کر سکتیں۔ چنانچہ اسے ضبط کرنا، بلاک کرنا یا منسوخ کرنا دیوانی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ اس قسم کے اقدامات صرف متعلقہ مجاز اتھارٹی یعنی نادرا ہی کر سکتی ہے، اور وہ بھی صرف ان حالات اور طریقہ کار کے مطابق جو قانون میں، خصوصاً نادرا آرڈیننس، 2000 کی دفعہ 18 میں مقرر کیے گئے ہیں۔

لہٰذا عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ CNIC کی حیثیت محض ایک شناختی دستاویز کی ہے، نہ کہ جائیداد کی، اور اسے دیوانی کارروائی میں بطور جبری ہتھیار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

حوالہ: رٹ پٹیشن نمبر 8895 بابت 2025
محمد علی انصاری بنام وفاقِ پاکستان و دیگر

📱

09/04/2026

🚨 سندھ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
سندھ ہائی کورٹ نے حالیہ فیصلے میں ایک نہایت اہم قانونی نکتہ واضح کیا ہے کہ شادی کا جھوٹا وعدہ کر کے حاصل کی گئی رضامندی، قانونی رضامندی نہیں ہوتی۔

⚖️ اہم نکات:
▪️ اگر کسی عورت سے شادی کے وعدے پر تعلق قائم کیا جائے اور بعد میں وعدہ پورا نہ کیا جائے تو یہ عمل رضامندی نہیں بلکہ جرم تصور ہوگا۔
▪️ عدالت کے مطابق، رضامندی اسی وقت معتبر ہوتی ہے جب وہ آزادانہ، بغیر دباؤ اور بغیر کسی دھوکے کے دی گئی ہو۔

▪️ اس کیس میں عدالت نے واضح کیا کہ نفسیاتی دباؤ یا manipulation کے ذریعے حاصل کی گئی رضامندی بھی قابلِ قبول نہیں۔
▪️ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 376 (زیادتی) اور 377 (غیر فطری فعل) کے تحت سزا کو برقرار رکھا گیا۔

**e

Random picture outside of our office along with my associate mir muhammad bapar he is not only an associate but a younge...
06/04/2026

Random picture outside of our office along with my associate mir muhammad bapar he is not only an associate but a younger brother his honesty and sincerity with work is precious.❤️❤️❤️❤️❤️

Address

27th Street 21 C Building Mezanine Floor Tuheed Commercial Area Dha Phase 5
Karachi
21000

Telephone

03009210971

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lawyer online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share