Karachi School of Law Help

Karachi School of Law Help Karachi School of Law: Your trusted partners in legal resolution. Expertise, professionalism,

"Experienced Karachi Lawyer: Legal Services for Family, Criminal, etc
12/12/2023

"Experienced Karachi Lawyer: Legal Services for Family, Criminal, etc

30/11/2023
30/11/2023
السلام علیکماکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ میاں بیوی میں ناچاقی یا علیحدگی کی صورت میں بچوں کی کسٹڈی (حضانت) کے حوالے سے قا...
30/11/2023

السلام علیکم
اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ میاں بیوی میں ناچاقی یا علیحدگی کی صورت میں بچوں کی کسٹڈی (حضانت) کے حوالے سے قانون کیا کہتا ہے تو آج اس بابت چند معلومات آپ دوستوں سے شیئر کروں گا۔
1۔ ناچاقی یا علیحدگی کی صورت میں بچوں کی کسٹڈی (حضانت) کے حوالے سے زیادہ حق بچوں کی والدہ کا ہے بشرطیکہ والدہ جسمانی اور ذہنی طور پر ٹھیک ہو اور بچوں کی بہتر پرورش کر سکتی ہو۔
2۔ بچے کا خرچہ ان کی ضروریات کے مطابق ادا کرنا والد کی ذمہ داری ہے چاہے بچے والدہ کے پاس ہوں۔
3۔ بچے کی عمر 7 سال ہونے پر والد بچے کی کسٹڈی بذریعہ عدالت حاصل کر سکتا ہے اگر والدہ کے پاس بچوں کی بہتر پرورش نہ ہو رہی ہو۔
4۔ اگر والدہ کے پاس بچوں کی بہتر تربیت اور پرورش ہو رہی ہو تو بچے والد کو نہیں دئے جائیں گے چاہے والدہ نے دوسری شادی بھی کی ہو۔
5۔ بیٹی کی عمر 7 سال ہونے پر والد بیٹی کی کسٹڈی اس وجہ سے لے سکتا ہے کہ اگر بیٹی کی والدہ نے دوسری شادی کی ہو اور والدہ کا دوسرا شوہر اس بیٹی کے لئے نا مہرم ہوتا ہے۔
6۔ اگر والد بچوں کا ماہانہ خرچہ ادا نہ کر رہا ہو تو بچوں سے ملاقات کا حق بھی کھو دیتا ہے
7۔ اگر والد بچوں کا مسلسل خرچہ ادا کر رہا ہو تو وہ بچوں سے ملاقات کا حق رکھتا ہے۔
8۔ اگر نا بالغ شیر خوار بچے کو والد چھین لیتا ہے اور والدہ سے دور کرتا ہے تو عدالت بذریعہ پولیس فوری طور پر بچے کو حاصل کر کے والدہ کے حوالے کرے گی اور والد کو اس حرکت پر سزا یا جرمانہ کر سکتی ہے۔
9۔ عدالت سے بچوں کے خرچے کی ڈگری ہونے کے باوجود اجراء میں اگر والد بچوں کا خرچہ نہیں ادا کرتا تو عدالت بچوں کے والد کو گرفتار کرنے کا حکم دے سکتی ہے یا والد کی جائیداد نیلام کرا کے بچوں کا خرچہ ادا کرا سکتی ہے۔
10۔ بچوں کے خرچے کا تعین کرتے وقت عدالت چند چیزوں کا خیال رکھے گی جن میں بچوں کا مناسب خوراک، لباس، تعلیم، میڈیکل اور دیگر ضروریات ذندگی۔
11۔ بچے اگر کافی عرصہ سے والدہ کے پاس ہوں اور اس عرصہ میں اگر والدہ ہی بچوں کا خرچہ اٹھاتی رہی ہو تو اس دورانیہ کا خرچہ بھی عدالت والد سے والدہ کو دلوائے گی۔
12۔ بچے کی پیدائش کے وقت جتنے بھی میڈیکل کے اخراجات ہوں گے وہ والد ادا کرے گا۔
13۔ عدالت بچوں کے خرچے کے کیس کا فیصلہ کرتے وقت والد کی ماہانہ آمدن کو بھی مد نظر رکھے گی۔
14۔ اگر کوئی والد اس بات سے انکار کرے کہ بچہ اس کا ہے تو عدالت بذریعہ ڈی این اے ٹیسٹ اس بات کا فیصلہ کرے گی اور اگر بچہ اس والد کا ہی ہونا پایا تو والد پر بھاری جرمانہ عائد کرے گی۔
16۔ اگر عدالت نے والد کو بچے سے ملاقات کا حکم دیا ہو تو عدالت ملاقات کا دن ، وقت اور جگہ بھی متعین کرے گی ۔
17۔ والد اپنے بیٹے کا خرچہ 18 سال کی عمر تک جبکہ بیٹی کا خرچہ اس کی شادی ہونے تک دینے کا پابند ہے.
مزید قانونی مشاورت ، رہنمائی یا مدد کے لئے رابطہ کریں۔

Address

Saddar
Karachi
77440

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Karachi School of Law Help posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share