Adv Sanaullah supro

Adv Sanaullah supro lawyer|legal consultant|

تُمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو”🥲‏سانحہ سیالکوٹ: معصوم بھائیوں کا بہیمانہ قتل‏اگست 2010 میں، رمضان کے مقدس مہینے میں، سیالکوٹ...
19/02/2025

تُمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو”🥲

‏سانحہ سیالکوٹ: معصوم بھائیوں کا بہیمانہ قتل

‏اگست 2010 میں، رمضان کے مقدس مہینے میں، سیالکوٹ کے دو بھائی، مغیث (17 سال) اور منیب (15 سال)، ایک بے رحم ہجوم کے ہاتھوں بے گناہ قتل کر دیے گئے۔ وہ روزانہ کی طرح کرکٹ کھیلنے گئے تھے، جہاں چند روز قبل ان کی مقامی نوجوانوں سے معمولی تلخ کلامی ہوئی تھی۔

‏جس دن وہ دوبارہ میدان میں گئے، وہاں ایک ہجوم پہلے سے موجود تھا کیونکہ کچھ دیر پہلے ڈکیتی ہوئی تھی۔ بدقسمتی سے، جن لڑکوں سے ان کی جھگڑا ہوا تھا، انہوں نے انہیں ڈاکوؤں کا ساتھی قرار دے دیا۔ مشتعل ہجوم نے بغیر سوچے سمجھے انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

‏بے رحمانہ قتل:
‏ہجوم نے انہیں اینٹوں اور ڈنڈوں سے اتنا مارا کہ ان کے چہرے تک پہچانے نہیں جا رہے تھے۔ منیب چند منٹ میں جاں بحق ہو گیا، جبکہ مغیث نے بھاگنے کی کوشش کی اور پولیس سے مدد مانگی، لیکن ڈی پی او وقار چوہان نے اسے دوبارہ ہجوم کے حوالے کر دیا، جس کے بعد مغیث کو بھی بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔

‏پولیس کی بے حسی:
‏واقعے کے وقت 10 پولیس اہلکار اور ریسکیو ورکرز موجود تھے، لیکن کسی نے بھی انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ، ڈی پی او وقار چوہان نے ہجوم کو قتل کے لیے اکسایا اور کہا کہ پولیس اس قتل کی ذمہ داری لے لے گی۔

‏انصاف کا خون:
‏قتل میں ملوث 7 افراد کو سزائے موت سنائی گئی، لیکن 2019 میں سپریم کورٹ نے ان کی سزائیں 10 سال قید میں تبدیل کر دیں۔ پولیس اہلکاروں کو بھی گرفتار کیا گیا لیکن وہ بعد میں رہا ہو گئے، بشمول ڈی پی او وقار چوہان۔

‏خاندان کا صبر اور قربانی:
‏حکومت نے مقتولین کے اہلخانہ کو 10 لاکھ روپے بطور معاوضہ دیے، جس میں سے انہوں نے 1 لاکھ روپے مزید شامل کر کے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے عطیہ کر دیے۔

‏یہ واقعہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے، جو رمضان جیسے مقدس مہینے میں پیش آیا۔ معصوم مغیث اور منیب کو بے گناہ مار دیا گیا، اور انصاف آج تک نہیں مل سکا۔ یہ واقعہ ایک ناقابلِ فراموش سانحہ ہے جو قانون اور انصاف کے نظام پر ایک سوالیہ نشان چھوڑ گیا۔

‏یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ موب لنچنگ کا جو کلچر ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکا ہے، وہ اب مذہبی درندگی کا لبادہ اوڑھ چکا ہے۔ اگر سیالکوٹ میں مغیث اور منیب کا بہیمانہ قتل پہلا بڑا واقعہ تھا، تو یہ ریاست کے لیے ایک سبق بننا چاہیے تھا۔ مگر افسوس کہ ریاستی نااہلی نے اس ظلم کو جڑ سے ختم کرنے کے بجائے اسے مزید پروان چڑھنے دیا۔

‏آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہر گلی، ہر چوک پر ہجوم نکلتا ہے، کسی کو کاٹ ڈالتا ہے، کسی کو آگ میں جلا دیتا ہے—اور کوئی روکنے والا نہیں ہوتا۔ اگر اس ظلم کو اب بھی نہ روکا گیا، اگر قانون کو حرکت میں نہ لایا گیا، اگر مجرموں کو سرعام عبرتناک سزائیں نہ دی گئیں، تو یہ درندگی مزید پھیلتی جائے گی۔ ہمیں بطور ریاست اور معاشرہ اس روش کو روکنا ہوگا، ورنہ کوئی بھی اس وحشت کا شکار ہو سکتا ہے۔
‏⁧‫ ‬⁩

Address

Karachi
Karachi

Telephone

+923123306465

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Sanaullah supro posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Adv Sanaullah supro:

Share