Legal Minds Academy

Legal Minds Academy "Legal Minds Academy is dedicated to providing expert legal insights and education.

Stay updated with our latest legal discussions on YouTube: [Legal Minds by Shahzad Jatoi](https://youtube.com/-01?si=SDWVadgmRsr1IztQ).

پبلک پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ میں میں بطور پراسیکیوٹر ملازمت حاصل کرنیکا سنہری موقع
07/11/2025

پبلک پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ میں میں بطور پراسیکیوٹر ملازمت حاصل کرنیکا سنہری موقع

15/10/2025
Bill for Bar Council Election Amendments PassedA new bill has been passed regarding the Bar Council elections.To contest...
25/07/2025

Bill for Bar Council Election Amendments Passed

A new bill has been passed regarding the Bar Council elections.

To contest the election for a member of the Punjab Bar Council, any Provincial Bar Council, or the Islamabad Bar Council, the following conditions must be met:

1) The lawyer must have a minimum of 15 years of legal practice.

2) Out of these, 10 years must be as an advocate of the High Court.

3) The lawyer must have been a member of the concerned District Bar (from where they intend to contest the election) for at least 5 years.

4) The lawyer must have handled at least 30 cases in the said bar.

5) A lawyer fulfilling all these criteria will be eligible to contest elections for the Punjab Bar or any other Bar Council.

New bill passed.

15/03/2025

گواہ کے ایک مقدمہ میں دیئے گئے بیان کو دوسرے مقدمہ میں تقابل confront کروایا جا سکتا ھے۔۔
منشیات کے دو مقدمات میں ایک ہی کانسٹیبل دونوں برآمدگیوں کا گواہ تھا۔ دونوں برامدگیاں ایک ہی وقت میں دو مختلف مقامات سے دکھائیں گئی تھیں۔
عدالت نے ملزم کو بری کرتے ہوئےقرار دیا کہ دوران ٹرائل ملزم کی جانب سے کانسٹیبل کے ایک مقدمہ میں دیے گئے بیان کو دوسرے مقدمہ میں پیش کرکے اس سے تقابل confront کرایا جاسکتا ہے

It is a method recognized by law under 151(3) of the Qanoon-e-Shahadat Order 1984 that the credit of a witness can be impeached by proof of former statements inconsistent with any part of his evidence which is liable to be contradicted. If former statement was in writing or was reduced to writing, the attention of witnesses must be called to those part of it which are used for purpose of contradicting him. It is also admitted position of law that previous statement can be relied for the purpose of contradiction but not as substantive evidence, so applying the above principles this Court has noted that defence has exhibited the previous statement of the witness and has confronted him with the same, so while it has been used for contradiction and has not been used as substantive, as not tendered in the statement of the Appellant, therefore, it is safe to use the contradiction as it passes the judicially approved standards of evidence.
Criminal Appeal No.448 of 2023
Muhammad Waseem vs The State
Date of hearing: 06.03.2025.

15/03/2025

*"چیف جسٹس صاحبہ ہائی کورٹ لاہور کے فیصلہ کی روشنی میں قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 150 کا تجزیاتی جائزہ: قانونی دائرہ کار، عدالتی اختیارات اور عملی اطلاق"*

2025 LHC 717
فیصلہ ۔۔۔۔
عدالت کسی بھی فریق کو، جو کسی گواہ کو پیش کر رہا ہو، قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 150 کے تحت صرف گواہ کے ابتدائی بیان (معائنہ بالمشافہ) کے دوران سوالات کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ آرٹیکل 150 بظاہر یا ضروری نتیجے کے طور پر عدالت کی اس اختیار کے استعمال کو ابتدائی بیان کے مکمل ہونے سے پہلے یا گواہ کے بیان کے کسی مخصوص مرحلے تک محدود نہیں کرتا۔

ایک چالاک گواہ اپنے ابتدائی بیان میں وہی کچھ بیان کرتا ہے جو اس نے پہلے پولیس یا متعلقہ عدالت میں کہا تھا، لیکن جرح کے دوران وہ چالاکی سے ایسے بیانات شامل کر دیتا ہے جو درحقیقت اس کے ابتدائی بیان سے متصادم ہوتے ہیں۔ اگر جرح کے دوران اس کا ارادہ واضح ہو جائے، تو عدالت اس فریق کو، جو گواہ کو پیش کر رہا ہے، ایسے سوالات کرنے کی اجازت دے سکتی ہے جو مخالف فریق کی جرح میں کیے جا سکتے تھے، بشرطیکہ عدالت اس بات کو یقینی بنائے کہ ملزم کو ان جوابات پر جرح کا موقع ملے جو ابتدائی بیان میں شامل نہیں تھے۔

آرٹیکل 150 کے پسِ پردہ مقننہ کا مقصد شہادت کو کسی بھی آمیزش سے پاک کرنا ہے۔ لہٰذا، عدالت کسی بھی فریق کو، جو گواہ کو پیش کر رہا ہو، اس سے ایسے سوالات پوچھنے کی اجازت دے سکتی ہے جو مخالف فریق جرح میں کر سکتا تھا، اور یہ عمل کسی بھی مرحلے پر—یعنی ابتدائی بیان، جرح، یا دوبارہ معائنہ—کے دوران کیا جا سکتا ہے۔

جیل اپیل: 62458/20
بلال مظفر ہیرا بنام ریاست و دیگر
چیف جسٹس
04-03-2025
2025 LHC 717

آرٹیکل 150 قانونِ شہادت آرڈر 1984 کا تجزیاتی جائزہ
قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 150 کے تحت عدالت کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی فریق کو، جو کسی گواہ کو پیش کر رہا ہو، اس سے جرح جیسے سوالات کرنے کی اجازت دے، اگر عدالت محسوس کرے کہ گواہ سچ چھپا رہا ہے یا بیان میں تضاد پیدا کر رہا ہے۔ اس دفعہ کا بنیادی مقصد گواہی کو خالص اور غیر جانبدار بنانا ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

متعلقہ قوانین اور ان کا اطلاق
1. ضابطہ فوجداری (Criminal Procedure Code - CrPC)
دفعہ 540 - عدالت کا اختیار گواہ طلب کرنے کا
یہ دفعہ عدالت کو اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی بھی وقت کسی بھی گواہ کو طلب کرے اور اس سے شہادت لے، چاہے وہ گواہ فریقین میں سے کسی نے نہ بھی بلایا ہو۔
✅ تعلق: آرٹیکل 150 کے تحت اگر عدالت محسوس کرے کہ کوئی گواہ غلط بیانی کر رہا ہے تو دفعہ 540 CrPC کے تحت عدالت خود بھی وضاحت طلب کر سکتی ہے۔

دفعہ 161 - پولیس کی طرف سے گواہ کے بیانات
اس دفعہ کے تحت پولیس کسی بھی ملزم یا گواہ کے بیانات ریکارڈ کر سکتی ہے۔
✅ تعلق: اگر کوئی گواہ عدالت میں آ کر اپنے پہلے دیے گئے بیان سے منحرف ہو جائے تو آرٹیکل 150 کے تحت فریق مخالف کو اسے چیلنج کرنے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔

دفعہ 265-F - دفاع اور استغاثہ کے گواہوں کی جانچ پڑتال
یہ دفعہ ملزم کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ استغاثہ کے گواہوں پر جرح کرے اور ان کے بیانات کو چیلنج کرے۔
✅ تعلق: آرٹیکل 150 کا اطلاق یہاں بھی ہوتا ہے، جہاں گواہ کے بیانات میں تضاد کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

2. قانونِ شہادت آرڈر 1984 (Qanun-e-Shahadat Order, 1984)
آرٹیکل 132 - گواہ کی جرح اور معائنہ
اس آرٹیکل کے مطابق گواہ سے پہلے ابتدائی سوالات کیے جاتے ہیں، پھر جرح کی جاتی ہے، اور آخر میں دوبارہ معائنہ کیا جاتا ہے۔
✅ تعلق: آرٹیکل 150 عدالت کو اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی مرحلے پر گواہ کے بیان میں پائے جانے والے تضادات کو سامنے لائے۔

آرٹیکل 140 - مخالف فریق کے گواہ پر جرح
یہ آرٹیکل مخالف فریق کو حق دیتا ہے کہ وہ گواہ پر جرح کرے اور اس کے بیان میں کسی بھی قسم کے تضاد کو چیلنج کرے۔
✅ تعلق: اگر عدالت محسوس کرے کہ کوئی گواہ چالاکی سے ابتدائی بیان میں کچھ اور اور جرح میں کچھ اور کہہ رہا ہے تو آرٹیکل 150 کے تحت فریق کو سوال کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

آرٹیکل 153 - گواہ کی غیر جانبداری کو چیلنج کرنا
یہ آرٹیکل کسی بھی فریق کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ ثابت کرے کہ گواہ سچ نہیں بول رہا یا جھوٹا گواہ ہے۔
✅ تعلق: آرٹیکل 150 کے تحت اگر عدالت محسوس کرے کہ گواہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے تو اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

عدالتی نظیریں (Case Laws)
PLD 1995 SC 34 – سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر گواہ بیان بدل لے تو عدالت کے پاس اختیار ہے کہ وہ فریق کو گواہ سے جرح جیسے سوالات کرنے کی اجازت دے۔
2004 SCMR 1307 – عدالت نے واضح کیا کہ آرٹیکل 150 کا مقصد انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بننے والے عوامل کو ختم کرنا ہے۔
2018 LHC 2020 – لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ آرٹیکل 150 عدالت کو مکمل اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت گواہ کی سچائی کو پرکھنے کے لیے فریق کو سوالات کرنے کی اجازت دے۔
نتیجہ و تجزیہ
آرٹیکل 150 ایک مضبوط قانونی شق ہے جو عدالت کو انصاف کے اصولوں کو برقرار رکھنے کا اختیار دیتی ہے۔
اس آرٹیکل کو CrPC کی دفعہ 540، 161 اور 265-F کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو عدالت کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی مرحلے پر گواہ کی سچائی کو جانچ سکے۔
آرٹیکل 150 کا اصل مقصد شہادت کو خالص بنانا اور گواہ کے جھوٹ یا بدنیتی کو بے نقاب کرنا ہے۔
عدالتی نظائر سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عدالتیں اس دفعہ کو استعمال کرتے ہوئے حقائق کو واضح کرنے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد لیتی ہیں۔
لہٰذا، آرٹیکل 150 کا اطلاق کسی بھی مرحلے پر ہو سکتا ہے، چاہے وہ ابتدائی بیان ہو، جرح ہو، یا دوبارہ معائنہ، بشرطیکہ عدالت ملزم کو مکمل صفائی کا موقع فراہم کرے۔

14/03/2025

PLD 2025 Lahore 137..... Police Order 2002...... Article 18-A .....Re investigation ..... Stage.... Filing of investigation report in court..... Effect.... There is no encumbrance for police to conduct re investigation of a case even if an earlier report under section 173 crpc has been submitted before court and the court has been cognizance of the matter .... Police is competent to re investigate and to submit fresh challan on the basis of subsequent investigation .... Transfer of investigation is regulated by article 18-A of police order 2002 ..... Only impediment in such regard is that re investigation or further investigation is not permissible after conclusion of the Trial of criminal case.

13/03/2025

PLD 2025 SC 262

تنسیخ نکاح ایکٹ (The Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939)کی دفعہ 2 کی شق 2A کے تحت ثالثی کونسل کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنا تنسیخ نکاح کا ایک سبب ہے اور کوئی بھی عورت اس بنیاد پر تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کر سکتی ہے۔

Grant of Khula and ground of dissolution of marriage due to taking additional wife in contravention of the provisions of The Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939.
Khula through judicial order is dissolution of marriage by the court/Qazi on the demand of the wife---It authorises the court to dissolve the marriage in an appropriate case against the will or consent of the husband---However, a court on its own. cannot order dissolution of the marriage on the basis of Khula when it has not been sought by the wife either expressly or impliedly.
C.P.L.A.308-P/2019
Dr. Faryal Maqsood & another v. Khuram Shehzad Durani & others

12/03/2025

*VVV Important Judgement*
*"سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں نکاح نامہ کی قانونی حیثیت، معاہداتی اصول اور عدالتی نظائر کا تجزیاتی جائزہ""نکاح نامہ بطور قانونی معاہدہ: کنٹریکٹ ایکٹ 1872 اور مسلم عائلی قوانین کے تحت تجزیہ"*

PLD 2025 SC 262
فیصلہ ۔۔۔۔
نکاح نامہ میں مرد اور عورت کے درمیان نکاح کے معاہدے کی شرائط درج ہوتی ہیں۔ ان شرائط و ضوابط کا مقصد زوجین کے حقوق اور ارادوں کو محفوظ بنانا ہوتا ہے۔ نکاح فریقین کے درمیان ایک سماجی معاہدہ ہوتا ہے، جو ایک جائز نکاحی معاہدے میں داخل ہونے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ یہ ایک مسلمہ قانونی اصول ہے کہ نکاح نامہ کو صداقت کا مفروضہ حاصل ہوتا ہے اور یہ ایک عوامی دستاویز کا درجہ رکھتا ہے۔ نکاح نامہ میں درج اندراجات کے حوالے سے ایک مضبوط صداقت کا مفروضہ موجود ہوتا ہے۔

نکاح نامہ کے مقررہ فارم میں کالم 13 سے 16 کا تعلق "مہر" سے ہے، جبکہ کالم 17 کا عنوان "کوئی خاص شرائط، اگر ہوں" ہے۔ تاہم، مقررہ فارم یا اندراجات کے عنوانات، فریقین کے ارادے کو سمجھنے کے لیے حتمی حیثیت نہیں رکھتے۔ اس عدالت نے حسین اللہ کیس میں یہ قرار دیا ہے کہ نکاح نامہ فریقین کے درمیان نکاح کے معاہدے کی دستاویز ہے، اور اس کی شقوں/کالموں/مواد کی تشریح فریقین کے ارادے کی روشنی میں کی جائے گی۔

محض عنوانات کی بنیاد پر فریقین کے ارادے کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ مزید برآں، کسی معاہدے کی تشریح کا ایک مسلمہ اصول یہ بھی ہے کہ عدالت کسی ایسی شق کا اطلاق نہیں کر سکتی جو معاہدے کی واضح شرائط سے متصادم ہو، اور کسی ایسی شرط کو بھی معاہدے میں شامل نہیں کیا جا سکتا جو تحریری معاہدے میں موجود نہ ہو، خواہ وہ عدالت کو معقول ہی کیوں نہ معلوم ہو۔
نکاح نامہ اور اس کے قانونی اثرات: تجزیاتی جائزہ
نکاح نامہ ایک معاہدہ (Contract) ہے جو اسلامی عائلی قوانین اور عمومی معاہداتی اصولوں کے تحت آتا ہے۔ اس کے قانونی جائزے کے لیے دو بنیادی قانونی حوالہ جات اہم ہیں:

کنٹریکٹ ایکٹ 1872 (Contract Act, 1872)
مسلم عائلی قوانین (Muslim Family Laws)
1. کنٹریکٹ ایکٹ 1872 کے تحت نکاح نامہ کا تجزیہ
(الف) نکاح نامہ بطور معاہدہ
کنٹریکٹ ایکٹ 1872 کے مطابق، ایک جائز معاہدے (Valid Contract) کے بنیادی عناصر درج ذیل ہیں:

اہلیت (Competency) - سیکشن 11:
معاہدے کے لیے ضروری ہے کہ فریقین قانونی طور پر اہل ہوں۔ نکاح کے معاملے میں، اسلامی قانون اور ملکی قوانین میں اہلیت کی شرائط موجود ہیں، جیسے کہ بلوغت اور رضامندی۔

رضامندی (Free Consent) - سیکشن 13 اور 14:
نکاح ایک باہمی معاہدہ ہے، اور کنٹریکٹ ایکٹ کے تحت کسی بھی معاہدے کے لیے ضروری ہے کہ فریقین کی رضا و رغبت شامل ہو۔ جبر، غلط بیانی یا دھوکہ دہی کی صورت میں نکاح کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

قانونی مقصد (Lawful Object) - سیکشن 23:
معاہدہ کسی غیر قانونی یا غیر اخلاقی مقصد کے تحت نہیں ہونا چاہیے۔ نکاح اسلامی اور ملکی قوانین کے تحت ایک جائز اور قانونی معاہدہ ہے۔

شرائط و ضوابط (Terms & Conditions) - سیکشن 10:
نکاح نامہ میں موجود شرائط، جیسے کہ مہر، نان و نفقہ، طلاق کا حق، اور دیگر خصوصی شرائط، ایک قانونی معاہدے کی طرح نافذ العمل ہوتی ہیں، جب تک کہ وہ قانون سے متصادم نہ ہوں۔

(ب) نکاح نامہ بطور عوامی دستاویز
قانون شہادت 1984 (Qanun-e-Shahadat Order, 1984) کے تحت نکاح نامہ ایک عوامی دستاویز (Public Document) ہے اور اس پر صداقت کا مفروضہ (Presumption of Truth) لاگو ہوتا ہے۔ عدالت اس میں درج شرائط کو عمومی طور پر درست تسلیم کرتی ہے، جب تک کہ اس کے برعکس کوئی مضبوط ثبوت پیش نہ کیا جائے۔

2. مسلم عائلی قوانین کے تحت نکاح نامہ
(الف) مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961
سیکشن 5: نکاح کا اندراج (Registration of Marriage)
نکاح کو قانونی طور پر نافذ کرنے کے لیے اس کا اندراج ضروری ہے، اور نکاح نامہ ایک مستند قانونی دستاویز ہے۔

سیکشن 6: دوسری شادی کی شرائط
اگر شوہر دوسری شادی کرنا چاہے تو اسے پہلی بیوی سے اجازت لینا لازمی ہے، جو نکاح نامہ میں درج شرائط کے تحت بھی آ سکتا ہے۔

سیکشن 9: نان و نفقہ (Maintenance)
نکاح نامہ میں اگر کوئی شرط درج ہو کہ شوہر نفقہ (خرچہ) دے گا، تو یہ شرط قانونی طور پر نافذ العمل ہو گی۔

(ب) مہر اور خصوصی شرائط کا اطلاق
مہر (Dower) کا تعین نکاح نامہ میں ہوتا ہے اور یہ بیوی کا شرعی اور قانونی حق ہے۔ نکاح نامہ میں خصوصی شرائط جیسے کہ طلاق کا حق تفویض (Delegated Right of Divorce) یا کوئی دیگر شرط درج ہو، تو عدالت فریقین کے ارادوں کی روشنی میں اس کی تشریح کرے گی۔

3. عدالت کا نقطہ نظر اور عدالتی نظائر
عدالتوں نے متعدد فیصلوں میں یہ قرار دیا ہے کہ نکاح نامہ ایک باضابطہ معاہدہ ہے، اور اس میں درج شرائط کا اطلاق عمومی معاہداتی اصولوں کے تحت ہوگا۔

PLD 2025 SC 262 (ڈاکٹر فریال مقصود کیس)
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ نکاح نامہ کی شرائط کو معاہدے کی عمومی اصولوں کے تحت پرکھا جائے گا، اور صرف عنوانات (Headings) کی بنیاد پر فریقین کے ارادے کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔

PLD 2021 SC 732
عدالت نے قرار دیا کہ نکاح نامہ میں درج کسی بھی شرط کو صرف اس بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ نکاح نامہ کے عمومی فارم میں درج نہیں تھی۔

PLD 2018 SC 189
عدالت نے مہر کی ادائیگی اور دیگر شرائط کے اطلاق کے حوالے سے یہ اصول وضع کیا کہ اگر کوئی شرط نکاح نامہ میں موجود ہو، تو وہ قانونی طور پر قابلِ عمل ہوگی، جب تک کہ اس کے برعکس کوئی واضح قانون نہ ہو۔

4. معاہدے کی تشریح کے اصول اور نکاح نامہ
عدالتوں کے مطابق، کسی بھی معاہدے (Contract) کی تشریح کرتے وقت درج ذیل اصول لاگو ہوتے ہیں:

ظاہر الفاظ کی پابندی (Plain Meaning Rule)
اگر نکاح نامہ کی کسی شق کے الفاظ واضح ہوں، تو عدالت ان کی اصل شکل میں تشریح کرے گی۔

فریقین کے ارادے کی تشریح (Intention of Parties)
عدالت صرف عنوانات (Headings) پر انحصار نہیں کرے گی، بلکہ فریقین کی نیت کو مدنظر رکھے گی۔

معاہدے میں شامل نہ کی گئی شق کا اطلاق نہیں ہوگا
عدالت کوئی ایسی شرط شامل نہیں کرے گی جو نکاح نامہ میں تحریری طور پر موجود نہ ہو، خواہ وہ کتنی ہی معقول کیوں نہ ہو۔

نتیجتاً مختصراً ۔۔۔۔
قانونی طور پر نکاح نامہ ایک مستند معاہدہ ہے جو کنٹریکٹ ایکٹ 1872 اور مسلم عائلی قوانین کے اصولوں کے تحت نافذ ہوتا ہے۔ عدالتیں نکاح نامہ میں درج شرائط کو عمومی معاہداتی اصولوں کی روشنی میں جانچتی ہیں، اور اس پر صداقت کا مفروضہ لاگو ہوتا ہے۔ فریقین کے ارادے اور معاہدے کی شرائط کی درست تشریح کے لیے عدالت کسی بھی اضافی یا متضاد شرط کو لاگو نہیں کر سکتی۔

یہ تجزیہ ثابت کرتا ہے کہ نکاح نامہ ایک قانونی معاہدہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عوامی دستاویز بھی ہے، جس پر قانون کی مکمل عملداری ہوتی ہے، اور اس میں درج شرائط کو ملکی قوانین کے مطابق نافذ کیا جا سکتا ہے۔

Revamp of syllabus of LLB/LLM
31/07/2024

Revamp of syllabus of LLB/LLM

Take the first step towards becoming a licensed advocate! Register for the Law-GAT test; a mandatory requirement for enr...
24/05/2024

Take the first step towards becoming a licensed advocate! Register for the Law-GAT test; a mandatory requirement for enrollment with the Bar Council.

Register for the test at: etc.hec.gov.pk

Get revised test curriculum at: hec.gov.pk/site/LCW

For more details: hec.gov.pk

20/04/2024

The Board of Directors of Pakistan Law Society is pleased to announce that the TV channel affiliated with Pakistan Law Society will be named "Pakistan Law Defenders TV," i.e., PLD-TV. The official opening ceremony for PLD-TV will take place in mid-May. We are excited to launch this channel as a platform to promote legal awareness and uphold the principles of justice. Stay tuned for further updates!

Address

Karachi
75500

Telephone

+923217433374

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Minds Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Legal Minds Academy:

Share