Hakim Ali Mallah Advocate High Court.

Hakim Ali Mallah Advocate High Court. Hakim Ali Mallah , Advocate High court. whatsp no:+923003130831
whatsp no: +923072485114

05/02/2026

کراچی کے سعید احمد نے 18 سال معروف ملٹی نیشنل کمپنی نیسلے میں کام کیا اس دوران کبھی ان پر مس کنڈکٹ کا الزام نہیں لگا۔ پچھلے کچھ عرصے سے انہیں دانتوں میں درد کی شکایت تھی۔ یکم ستمبر 2015ء کو وہ کراچی کے ایک معروف ڈینٹل سرجن ڈاکٹر کریم کے پاس گئے، انہوں نے دانتوں کا روٹ کینال تجویز کیا۔ علاج کروالیا، 10 ہزار روپے خرچ آیا، جسکی واپسی کیلئے سعید نے پالیسی کے مطابق کمپنی کے ہاں کلیم جمع کروا دیا۔

نیسلے کمپنی نے Allianz نامی انشورنس کمپنی سے بل کی تصدیق کروائی جس نے متعلقہ کلینک سے چیک کرکے رپورٹ دی کہ علاج پر دراصل 7 ہزار روپے خرچ آیا ہے، 3 ہزار روپے ٹرانسپورٹ کے نام پر شامل کیے گئے ہیں۔

یکم دسمبر 15ء کو سعید احمد کو کمپنی کی طرف سے شوکاز نوٹس جاری ہوگیا، جس میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے 10 ہزار روپے کا جعلی بِل جمع کروایا ہے، جبکہ علاج پر صرف 7 ہزار روپے خرچ آیا ہے۔ سعید نے نوٹس کا جواب دیا، الزامات کا انکار کیا اور 4 دسمبر کو 10 ہزار روپے کا کلینک سے تصدیق شدہ بِل بھی جمع کروا دیا۔ اس کے باوجود 8 مارچ 2016ء کو کمپنی کے انکوائری آفیسر نے سعید کو مِس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیدیا، کمپنی نے انہیں نوکری سے نکال دیا۔

سعید نے اپنی برطرفی کے حکم کو NIRC (عدالت) میں چیلنج کردیا۔ سنگل بنچ نے قرار دیا کہ سعید نے تسلیم کیا کہ انہیں انکوائری میں اپنی صفائی کا پورا موقع دیا گیا لیکن اسکے باوجود وہ اپنے حق میں کوئی دستاویز یا گواہ پیش نہ کرسکا۔ سنگل بنچ نے سعید کی درخواست خارج کردی اور برطرفی برقرار رکھی۔ سعید نے اس کیخلاف این آئی آر سی کے فل بنچ میں اپیل کردی۔

فل بنچ نے کہا کہ کلینک کی جانب سے تین قسم کی دستاویزات ہیں، 1۔ کلیم کیساتھ لگی 10 ہزار روپے کی رسید، 2۔ انشورنس کمپنی کو دی گئی 7 ہزار کی رسید اور 3۔ دسمبر میں سعید کو جاری کیا گیا 10 ہزار کا مصدقہ بِل۔ ایسی صورتحال میں انکوائری آفیسر کو چاہیے تھا کہ وہ خود ڈاکٹر کو گواہ کے طور پر بلا کر پوچھتا کہ ان میں سے درست کون سی ہے؟ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ لہذا انکوائری درست نہ ہوئی اور ملازم کا مس کنڈکٹ ثابت نہ ہوا۔فل بنچ نے اپیل منظور کرلی اور نوکری مع تمام واجبات بحال کردی۔

کمپنی نے اس کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں رِٹ دائر کردی۔ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ معاملہ میڈیکل کلیم میں جعلسازی کرتے ہوئے بوگس بِل جمع کروانے کا ہے۔ سائل نے انکوائری دوران اپنے اوپر لگے اس جعلسازی کے الزم کو چیلنج نہیں کیا۔ ہائیکورٹ نے سنگل بنچ NIRC کےحکم کو درست قرار دیتے ہوئے ملازمت سے برطرفی کے حکم کو برقرار رکھا۔

سعید صاحب نے ہائیکورٹ کے حکم کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل کردی جس کی سماعت تین رکنی بنچ نے گذشتہ سال جولائی میں کی اور بنچ کے سربراہ جسٹس محمد علی مظہر نے فیصلہ تحریر کیا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ملازم پر مِس کنڈکٹ کے الزام کا بارِ ثبوت کمپنی پر ہوتا ہے نہ کہ ملازم پر۔ دانتوں کے ایک ہی علاج کی مختلف دستاویزات کی صورت میں انکوائری آفیسر کی ذمہ داری تھی کہ وہ ڈاکٹر یا کلینک کے نمائندے کو طلب کرتا جو آکر بتاتا کہ ان میں سے درست کون سی ہے؟ لیکن ایسا نہ کرکے کمپنی نے ثبوت دینے (بارِ ثبوت) کی ذمہ داری ادا نہیں کی۔

کمپنی کا دعویٰ کہ سائل کو صفائی کا مکمل موقع دیا گیا، غلط ہے۔کیونکہ متضاد رسیدوں کی موجودگی میں ڈاکٹر کو نہ بلانا فطری انصاف اور منصفانہ سماعت کے اصولوں کے منافی ہے۔ یہ بوجھ سائل پر نہیں ڈالا جاسکتا کہ وہ اپنے صفائی میں گواہ پیش کرے بلکہ یہ کمپنی کی ذمہ داری تھی کہ وہ متعلقہ گواہوں کے ذریعے ثابت کرتی کہ سائل مِس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا ہے، جو اس کیس میں نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے سعید احمد کو سابقہ تمام مراعات کے ساتھ بحال کرنے کا حکم دیدیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سعید احمد کے وکیل امتیاز سولنگی سپریم کورٹ کے وکیل نہیں ہیں، انہیں سپریم کورٹ نے خصوصی اجازت دیتے ہوئے سنا، وہ اور سعید احمد جو نیسلے جیسی کمپنی کیخلاف سپریم کورٹ تک اپنے حق کیلئے لڑے، دونوں ہی داد کے مستحق ہیں۔ ماخوذ۔
تحریر وسیم شیخ ایڈووکیٹ ھائی کورٹ

⚖️ برطرفی کے بعد تنخواہ اور بقایا جات — سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہسپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بنچ نے ایک نہایت اہ...
31/01/2026

⚖️ برطرفی کے بعد تنخواہ اور بقایا جات — سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بنچ نے ایک نہایت اہم اور دور رس اثرات رکھنے والا فیصلہ جاری کیا ہے جس میں واضح کر دیا گیا ہے کہ برطرفی کے بعد بحالی (Reinstatement) کی صورت میں بیک بینیفٹس (Back Pay / Arrears) دینا محض صوابدید نہیں بلکہ انصاف کے اصولوں سے جڑا معاملہ ہے۔

عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے میں پولیس افسران کی برطرفی کے بعد بحالی اور بقایا تنخواہوں کا معاملہ زیرِ غور آیا۔ بنیادی سوال یہ تھا کہ:

👉 کیا برطرفی کالعدم ہونے کے بعد ملازم خود بخود مکمل تنخواہ اور مراعات کا حقدار بن جاتا ہے؟
📌 سپریم کورٹ کا واضح مؤقف
عدالت نے قرار دیا کہ:
محض بحالی (Reinstatement) کافی نہیں
اگر برطرفی غلط (Wrongful) یا بے بنیاد ثابت ہو جائے تو مکمل بیک پے دینا اصولی حق ہے
“No work, no pay” کا اصول ہر صورت لاگو نہیں ہوتا

⚖️ اہم قانونی نکتہ
عدالت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-A (Fair Trial) کی روشنی میں کہا کہ:
اب ریاستی ادارے صرف اختیار (Authority) کی بنیاد پر فیصلے نہیں کر سکتے،
بلکہ انہیں ہر فیصلے کی معقول اور قانونی توجیہ (Justification) دینا ہو گی۔
یعنی: 🔹 صوابدید من مانی نہیں ہو سکتی
🔹 ہر فیصلہ Reasoned اور Fair ہونا لازمی ہے

🧾 بیک پے کے بارے میں اصول
عدالت نے درج ذیل اصول وضع کیے:

اگر ملازم بے گناہ ثابت ہو جائے → مکمل بیک پے اصولاً دیا جائے گا
اگر ادارہ یہ دعویٰ کرے کہ ملازم نے اس دوران کوئی اور نوکری کی → ثبوت دینا ادارے کی ذمہ داری ہے
طویل عدالتی کارروائی کا نقصان ملازم کو نہیں بھگتنا پڑے گا
📖 آئینی پہلو
عدالت نے قرار دیا کہ:
غلط برطرفی صرف انتظامی غلطی نہیں بلکہ
آرٹیکل 9 (حقِ زندگی) کی خلاف ورزی بھی ہو سکتی ہے

کیونکہ روزگار چھین لینا، زندگی کے وسائل چھیننے کے مترادف ہے۔

🏛️ حتمی فیصلہ
سپریم کورٹ نے: ✔️ کئی پولیس افسران کو مکمل بیک پے دینے کا حکم دیا
✔️ محکمے کی اپیلیں مسترد کر دیں
✔️ ایک ماہ میں فیصلے پر عملدرآمد کا حکم جاری کیا

📢 یہ فیصلہ تمام سرکاری ملازمین کے لیے ایک مضبوط نظیر (Precedent) ہے
جو غیر قانونی، بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی محکمانہ کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

✍️ قانون صرف سزا دینے کا نام نہیں،
بلکہ انصاف کی مکمل بحالی کا تقاضا کرتا ہے۔

26/01/2026
Discussion on hurts  in short form.by Akhtar Ali Kanhar Advocate.
07/01/2026

Discussion on hurts in short form.
by Akhtar Ali Kanhar Advocate.

14/12/2025

اگر حکومت کسی کو بلاوجہ گرفتار کرئے گی تو گرفتار شده شخص -رہائی کے وقت 5000 روپے فی یوم سرکار سے جرمانہ لینے کا حقدار ہوگا
2023 LHC 266

02/12/2025

سندھ میں ٹافی جیسے کھانے پینے کی اشیاء کی تیاری کا کاروبار شروع کرنے کے لیے مختلف لائسنس، سرٹیفکیٹس اور این او سی (NOCs) حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ مقامی قوانین کی تعمیل یقینی بنائی جا سکے۔ ذیل میں اہم ضروریات کی تفصیلات دی گئی ہیں:

1. فوڈ بزنس لائسنس

تمام فوڈ بزنس آپریٹرز کو سندھ فوڈ اتھارٹی (SFA) سے سندھ فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2016 کے تحت لائسنس حاصل کرنا ہوگا۔ یہ لائسنس اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آپ کے کاروباری عملے کھانے کی حفاظت اور صفائی کے مطلوبہ معیارات پر پورا اترتے ہیں۔

2. پروڈکٹ رجسٹریشن

آپ جس بھی کھانے کی مصنوعات کو تیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اسے سندھ فوڈ اتھارٹی (SFA) کے ساتھ رجسٹر کرنا ہوگا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آپ کی مصنوعات حفاظت اور معیار کے معیارات پر پوری اترتی ہیں۔

3. ماحولیاتی منظوری (NOC)

سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (SEPA) سے ماحولیاتی منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔ آپ کے منصوبے کے حجم پر منحصر ہے، اس کے لیے آپ کو ماحولیاتی چیک لسٹ، ابتدائی ماحولیاتی جانچ (IEE)، یا ماحولیاتی اثرات کی جانچ (EIA) جمع کروانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

4. ٹریڈ لائسنس

مقامی میونسپل اتھارٹی سے ٹریڈ لائسنس حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ آپ کا کاروبار شہر میں قانونی طور پر کام کر سکے۔ یہ لائسنس اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آپ کی کاروباری سرگرمیاں مقامی ضوابط کے مطابق ہیں۔

5. پاکستان اسٹینڈرڈز سرٹیفیکیشن

پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ آپ کی مصنوعات قومی معیار پر پورا اترتی ہوں۔ یہ سرٹیفیکیشن کوالٹی کنٹرول اور صارفین کے اعتماد کے لیے ضروری ہے۔

6. ملازمین کے طبی سرٹیفکیٹس

کھانے کی اشیاء سنبھالنے والے عملے کو طبی معائنے سے گزرنا پڑ سکتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ متعدی بیماریوں سے پاک ہیں، جیسا کہ SFA کے ضوابط کے تحت لازم ہے۔

7. فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ

یہ سرٹیفکیٹ مقامی فائر ڈیپارٹمنٹ سے حاصل کیا جاتا ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ آپ کی مینوفیکچرنگ فیکٹری آگ سے بچاؤ کے معیارات پر پورا اترتی ہے۔

8. عمارت اور زوننگ کی منظوری

یہ یقینی بنانے کے لیے کہ آپ کی فیکٹری مقامی تعمیراتی قوانین اور زوننگ ضوابط پر پورا اترتی ہے، آپ کو میونسپل اتھارٹیز سے اضافی منظوری درکار ہو سکتی ہے۔

9. ٹریڈ مارک رجسٹریشن

اپنے برانڈ نام اور لوگو کو انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان کے ساتھ رجسٹر کرائیں تاکہ آپ کے برانڈ کی شناخت محفوظ رہے۔

10. ٹیکس رجسٹریشن

اپنے کاروبار کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ساتھ رجسٹر کریں تاکہ نیشنل ٹیکس نمبر (NTN) حاصل کر سکیں اور ٹیکس کے قوانین کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ مقامی ریگولیٹری اداروں یا قانونی ماہرین سے مشورہ کریں تاکہ تمام ضروری قواعد و ضوابط پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے اور تازہ ترین معلومات حاصل کی جا سکیں۔

Food item Business formalities.

To establish a food manufacturing business, such as producing toffees, in Karachi, Sindh, you need to obtain several licenses, certificates, and No Objection Certificates (NOCs) to ensure compliance with local regulations. Below is a list of the primary requirements:

1. Food Business License: All food business operators must obtain a license from the Sindh Food Authority (SFA) under the Sindh Food Authority Act, 2016. This license ensures that your operations meet the necessary food safety and hygiene standards.

2. Product Registration: Each food product you intend to produce must be registered with the SFA to ensure compliance with safety and quality standards.

3. Environmental Approval (NOC): You are required to obtain an environmental approval from the Sindh Environmental Protection Agency (SEPA). Depending on your project's scale, this may involve submitting an Environmental Checklist or conducting an Initial Environmental Examination (IEE) or Environmental Impact Assessment (EIA).

4. Trade License: A trade license from the local municipal authority permits you to operate your business within the city legally. This license ensures your business activities comply with local regulations.

5. Pakistan Standards Certification: The Pakistan Standards & Quality Control Authority (PSQCA) certifies that your products meet national quality standards. Obtaining this certification is essential for quality assurance and consumer trust.

6. Employee Medical Certifications: Staff involved in food handling may need to undergo medical examinations to ensure they are free from contagious diseases, as per SFA regulations.

7. Fire Safety Certificate: This certificate from the local fire department confirms that your manufacturing facility complies with fire safety standards.

8. Building and Zoning Approvals: Ensure your facility complies with local building codes and zoning regulations, which may require additional approvals from municipal authorities.

9. Trademark Registration: Registering your brand name and logo with the Intellectual Property Organization of Pakistan protects your brand identity.

10. Tax Registrations: Register your business with the Federal Board of Revenue (FBR) to obtain a National Tax Number (NTN) and comply with tax obligations.

It is advisable to consult with local regulatory bodies or legal experts to ensure compliance with all necessary regulations and obtain the most current information.

The Illegal Dispissession Act 2025 is a special penal statute intended to protect lawful owners and occupiers from forci...
23/10/2025

The Illegal Dispissession Act 2025 is a special penal statute intended to protect lawful owners and occupiers from forcible dispossession and land grabbing by unauthorised persons. This Court has repeatedly clarified that its reach is not restricted to so-called Qabza groups or land mafias, but any person who with force intrudes upon or controls the property of a lawful owner or occupier with the intention to dispossess, grab, (naeem)control or occupy may be proceeded against, provided the statutory ingredients are made out.

Our constitutional and normative compass reinforces this calibrated reading. Pakistan’s constitutional order places the family at the heart of social life. Articles 9 and 14 protect security of person and hi dignity and privacy of the home. Article 31 obliges the State to enable Muslims to live in accordance with the injunctions of Islam, and Article 35 commands protection of the family, the mother and the child. In our collective, not individualist, social fabric the home is a site of mutual care, interdependence and trust. Islamic law and (naeem)ethics accord the highest status to parents and the elderly and enjoin kindness, respect and service to them. Penal statutes must, therefore be applied so as to deter abuse without splintering family unions or criminalising ordinary frictions within them. To deploy the IDA 2005, in a permissive, fiduciary household setting risks over-criminalisation and distorts the statute beyond its text, purpose and spirit.

The Illegal Dispossession Act, 2005 was enacted to shield persons in settled possession from land grabbers and violent or lawless ouster, not to furnish a shortcut for private parties in domestic or intra-family disputes. Its provisions operate as protections, not weapons. On the facts before us, Petitioner No. 2 is the complainant’s daughter and a woman claiming shelter within the family home. Any attempt to remove her must proceed through due process in the civil forum, for(naeem) example by a suit for possession, partition or injunction as may be advised, or by recourse to protective family laws where applicable, rather than by criminalization under the IDA 2005. This approach accords with the broader normative framework that places a premium on the dignity, security and maintenance of women within the family.

Criminal Petition No.61-K of 2025
Abbas Asif Zaman and another. Versus The State and others.
Announced in open Court on 15th October, 2025.

17/10/2025

سامان جہیز پر بہترین ججمنٹس

عدالت نے اجراء میں 12 سال بعد ادائیگی پر سامان جہیز کی موجوہ قیمت ادا کرنے کا حکم دیا
2017 SCMR 321‏

لست سامان جہیز کی تائیدی شہادت موجود نہ ہے دعوی خارج
2004 scmr 1739
لسٹ سامان جہیز داخل کی ہے رسیدات نہ ہے دعویٰ ڈگری ہوا
2008 SCMR 1584

سامان جہیز کی رسیدات سنبھال کر رکھنا مشکل ہوتا ہے اس لیے صرف لڑکی کے بیان پر ہی سامان جہیز ڈگری کر دینا چاہیے
2017 SCMR 393

بیوی کے لیئے ممکن نہ ہے کہ وہ شادی کے وقت سامان جہیز کی لسٹ پر خاوندو گواہ کے دستخط لے صرف ، سامان جہیز بیوی کے ہی بیان پر ڈگری ہو سکتا ہے
2020 clc 380

‏ ‏ صرف بیوی کے بیان پر ہی سامان جہیز کا دعوی ڈگری
2015 clc 632
ہمارے معاشرے میں بوقت شادی سامان جہیز کی لسٹ تیار نہیں ہوتی نہ ہی ان پر خاوند کے دستخط ہوتے مدعیہ کی اپیل منظور شده سامان جہیز مطابق عرضی دعویٰ
ڈگری شده. ‏
2012-MLD 756‏
سامان جہیز کی ٹوٹ پھوٹ کو مد نظر رکھا جائے گا
‏PLJ 2015 LAH 540

سامان جہیز کے دعوی میں شوہر کے والدین اور قریبی رشتے داروں کو بھی پارٹی بنایا جا سکتا ہے جن کے قبضہ میں سامان جہیز ہو
2018 CLC 241
بیوی کے والدین کی مالی حیثیت سامان جہیز کے مقدمہ کو ثابت کرنے کیلیے بنیادی عنصر ھے
2020 Y L R 282

سامان جہیز کو، ثابت کرنے کے لیے، لسٹ سامان جہیز تیار کرنا اور سامان جہیز کی رسیدات پیش کرنا ضروری نہ ہے.
(2012 YLR 2693).
لسٹ سامان جہیز اور رسیدات کی کوئی اہمیت نہ ہے، دعوی سامان جہیز ڈگری شد.
(2013 CLC 698).
اگر مدعا علیہ، جواب دعوی میں، لسٹ سامان جہیز منجانب مدعیہ کو درست تسلیم کرے، تو دعویٰ واپسی سامان جہیز ڈگری ہوگا.
(2015 YLR 1427).
دعویٰ سامان جہیز اور طلائی زیورات کے لیے تین سال کی معیاد مقرر ہے.
(2016 CLC 313).
فیملی کیس میں قانون شہادت کا اطلاق نہ ہوتا ہے، اس لئے سامان جہیز کو ثابت کرنے کے لیے سامان جہیز کی رسیدات اور متعلقہ افراد کو بطور گواہ پیش کرنا ضروری نہ ہے.
(2017 SCMR 393).

سامان جہیز کو بذریعہ پنچائیت واپس کرنےکے لئے کسی تیسرے آدمی سے تحریر لکھوانا لازم ہے ۔
2019 YLR 1900
رواج کے مطابق والدین اپنی بیٹیوں کو اپنی حیثیت سے زائد سامان جہیز دیتے ہیں ۔
2019 YLR 1862 (c)
محض لسٹ سامان جہیز ایگزبٹ نہ ہونے کی بناء پر دعٰوی سامان جہیز خارج نہ ہو گا۔
2019 MLD 1145
دعٰوی واپسی سامان جہیز میں سامان جہیز کی رسیدات کے تحریر کنندہ کو پیش کرنا ضروری نہ ہے ۔
2018 YLR 1642

01/10/2025

ضلع کورنگی میں ریاست، پاکستان، صوبہ سندھ اور لوکل انتظامیہ کی رٹ مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے۔
ریاستی ادارے، کے ڈی اے، کے ایم سی، ٹی ایم سی، ڈی ایم سی، ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور موبائل پر گھومنے والی پولیس نے ریاستی قانون کی حفاظت کرنے کے بجائے قبضہ مافیہ اور عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو کھلی چھوٹ دے دی ہے۔

عوامی پارکس پر دکانیں اور مکانات تعمیر ہونا شروع ہوگئے ہیں، عیدگاہیں، فٹ پاتھ، اسکول اور کالج کی زمینیں راتوں رات رہائشی مکانات میں تبدیل کی جا رہی ہیں۔ عوامی گرین بیلٹس پر ملبہ پھینکا جا رہا ہے اور کچھ دنوں میں ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہے گا۔

کورنگی ضلع مخصوص افراد کی مافیا پر مشتمل ہوچکا ہے۔ پاکستان کے تمام انتظامی اداروں کے ذمہ داران مال بٹورنے میں مصروف ہیں۔ سپریم کورٹ کے انکروچمنٹ ہٹانے کے احکامات پر کسی قسم کا عمل درآمد نہیں ہوا۔

ضلع کورنگی میں عوامی نمائندہ سیاسی پارٹیاں بھی نام نہاد ثابت ہوئی ہیں۔ ضلع کورنگی کے باشعور عوام سے گزارش ہے کہ اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنے مستقبل سے کھیلنے والوں کے سامنے ڈٹ جائیں۔

تمام ادارے آئین سے بغاوت کے مرتکب ہیں، جو اپنے فرائض انجام نہیں دے رہے اور عوامی حقوق پر ہونے والی ڈاکہ زنی کے حصہ دار بنے ہوئے ہیں۔
لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ان تمام قانون سے کھیلنے والوں کو سپریم کورٹ میں بلواکر گناہ گنوائے جائیں اور ملوث افسران اور مافیا کے بدمعاشوں کو جیل بھجوایا جائے۔

consent decree
17/09/2025

consent decree

Address

Karachi
75180

Telephone

00923003130831

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakim Ali Mallah Advocate High Court. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Hakim Ali Mallah Advocate High Court.:

Share

Category