13/04/2025
یقیناً، آپ کی بات ایک نہایت اہم اور نازک قومی مسئلے پر ہے، اور اسے مدلل اور باوقار انداز میں اجاگر کرنا بہت ضروری ہے۔ نیچے ایک تفصیلی تحریر ہے جو آپ سوشل میڈیا، پوسٹ، یا کسی پریس ریلیز کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، جس میں آپ کا نام بھی شامل ہے اور آخر میں وہ تصویر کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
---
سندھ کے پانی پر وفاقی اور اسٹیبلشمنٹ کی چشم پوشی: گرین پاکستان انیشیٹو کے نام پر سندھ کے حقوق کی پامالی
دریائے سندھ، جو کہ سندھ کی پہچان، ثقافت اور زراعت کی شہ رگ ہے، آج شدید خطرے میں ہے۔ وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی میں ایک نیا منصوبہ "گرین پاکستان انیشیٹو" کے نام پر شروع کیا گیا ہے جس کے تحت مبینہ طور پر سندھ کے پانی کو غیر قانونی طور پر روک کر جنوبی پنجاب میں 6 کنال کی زمین بنائی جا رہی ہے۔
یہ ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف آئین پاکستان بلکہ ان تمام آبی معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہے جن کے ذریعے بین الصوبائی پانی کی تقسیم کی جاتی ہے، جیسے:
Indus Waters Treaty (1960) جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہے، مگر اس کا اثر اندرونِ ملک پانی کی تقسیم پر بھی پڑتا ہے؛
Water Accord of 1991 جو کہ چاروں صوبوں کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کا معاہدہ ہے۔
اس وقت سندھ میں پانی کی قلت خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ زرخیز زمینیں بنجر ہو رہی ہیں، نہریں سوکھ رہی ہیں، اور کسانوں کا مستقبل اندھیرے میں ڈوب رہا ہے۔ سندھ کے وکلاء اس نازک صورتحال پر خاموش نہیں بیٹھے۔ کل آل پاکستان لائرز کنونشن کا انعقاد کراچی بار ایسوسی ایشن نے کیا، جس میں متفقہ طور پر اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی گئی۔
وکلاء نے وفاق کو تین دن کی مہلت دی ہے کہ وہ یہ عمل فوری بند کرے، بصورت دیگر سندھ اور پنجاب کے درمیان سڑکیں بند کر کے بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی جو سندھ کی نمائندہ جماعت ہونے کی دعویدار ہے، وہ بھی اس ظلم میں برابر کی شریک ہے۔ صدر آصف علی زرداری کی اس منصوبے کو دی گئی منظوری نے سندھ کے عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف عمل کیا ہے۔
ہم سندھ کے بیٹے اور بیٹیاں، اپنے آبا و اجداد کے پانی اور زمین کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم اس سازش کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کریں گے، چاہے وہ عدالت ہو یا سڑک۔
آخر میں میری ایک تصویر جنرل سیکریٹری اور میری قریبی دوست کے ساتھ، جو کل کے کنونشن کے اختتام پر لی گئی، جس میں ہم نہایت پرعزم، تھکے ہوئے لیکن اپنے مشن کے لیے مکمل تیار نظر آ رہے ہیں۔
تحریر: عبیداللہ نوناری ایڈووکیٹ
(رکن کراچی بار ایسوسی ایشن، سول, کرمنل، فیملی اور پراپرٹی لیگل ایڈوائزر)