15/11/2021
وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و ریونیو نے ٹیکس قوانین کو سادہ بنانے کے اقدام کا افتتاح کر دیا
وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و ریونیوشوکت ترین نے اپنے ویثرن کی تکمیل میں ٹیکس گزاروں کو سہولت دینے کے لئے تمام ان لینڈ ٹیکس قوانین کو ہم آہنگ اور یکجا کرنے کے لئے ان لینڈ ریونیو کوڈ کو وضع کرنے کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ ان لینڈ ریونیو کوڈ کو وضع کرنے سے تجارتی آسانی کو فروغ ملے گا اور بہت سے قوانین اور ریگیولیشنز کی وجہ سے ٹیکس نظام کی پیچیدگیوں سے چھٹکارا ملے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایف بی آر مقامی سطح پر چار بڑے ٹیکس قوانین کا نفاذ اور عمل درآمد کروا رہا ہے جن میں انکم ٹیکس آرڈینینس 2001، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 اور اسلام آباد حدود (خدمات پر سیلز ٹیکس) آرڈینینس 2001 شامل ہیں۔ اسی طرح ان چار ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کے لئے مفصل رولز بھی بنائے گئے ہیں جن میں انکم ٹیکس رولز 2002، سیلز ٹیکس رولز 2006، فیڈرل ایکسائز رولز 2005 اور اسلام آباد حدود (خدمات پر سیلز ٹیکس) رولز 2001 شامل ہیں۔ اس طرح ٹیکس گزار کو آٹھ قانون کی کتابوں سے راہ نمائی لے کر اپنی ٹیکس ادائیگی کو پورا کرنا پڑتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس قوانین کو ہم آہنگ اورسادہ بنایا جائے جو کہ ورلڈ بینک، آئی ایم ایف ، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور دوسرے امدادی اداروں کا بھی دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ اسی طرح سول سوسائیٹی ، وکلاء اور اعلی عدالتوں کی طرف سے بھی قوانین کی پیچیدگی کوقوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ قرار دی جاتی رہی ہے۔پچھلی حکومتوں نے اس اقدام کو اٹھانے کا چیلنج نہ لیا ۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان چار قوانین کو یکجا کرکے قانون کی ایک کتاب بنا دی جائے جس کے لئے صرف رولز کی ایک ہی کتاب ہو گی۔ اس پس منظر کے پیش نظر ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے اشتراک سے ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں ممتاز پبلک سیکٹر ٹیکس پروفیشنلز اور آئی سی اے پی سے قانونی ماہرین کو شامل کیا گیا ہے جو کہ مسلسل ڈرافٹ قانون کی تیاری کی نگرانی اور نظر ثانی کریں گےتا کہ معیار اور درستگی کو یقنی بنایا جا سکے۔ یہ کمیٹی ان لینڈ ریونیو کوڈ کی ڈرافٹنگ کی نگرانی کرے گی اور اس حوالے سے تمام قوانین کی جانچ پڑتال مارچ 2022 تک مکمل کر لے گی۔ جس کے بعد تمام سٹیک ہولڈرز بشمول چیمبرز آف کامرس، تجارتی تنظیمیں ، ٹیکس وکلاء اور فیلڈ دفاتر کی اپریل و مئی 2022 تک مشاورت کے بعد بجٹ سیشن 2022 کے لئے پارلیمنٹ میں پیش کر دی جائے گی۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان لینڈ ریونیو کوڈ کو یکم جولائی 2022 سے نافذ کر دیا جائے گا۔
یہ تاریخی اقدام ڈیجیٹائیزیشن اور آٹومیشن پر مبنی ایف بی آر کے اس ویثرن کا فطری جزو ہے جس کا مقصد ٹیکس گزاروں کی سہولت کو یقینی بنانا ہے۔
ان لینڈر یونیو کوڈ کو مقررہ تاریخ تک وضع کرنے کے عمل کو یقنی بنانے کے لئے وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و ریونیو نے چئیرمین ایف بی آر کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ اس اہم ڈرافٹ قانون کی تیاری کے سلسلے میں سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے عمل اور اس کے بعد کے معاملات کی خود نگرانی کریں اور با قاعدگی سے پراگریس رپورٹ پیش کریں۔