Ahmed Law Associates

Ahmed Law Associates Advocates, solicitors & Law Consultants

"Ahmed Law Associates provide a legal services which is managed by Muhammad Ahmed( Advocate ), Ahmed law associate defended the rights of their valuable clients and dealing in vide range of legal matters including but not limited to civil, constitutional, criminal, family and commercial matters and privileged to represent a wide cross section of clients in the public and private sectors, both nati

onal and multinational and to have been involved in several ground-breaking transactions and the development of legislation."

19/06/2025

کیا پولیس ہر گاڑی یا شخص کو ناکے پر روک کر تلاشی لے سکتی ہے؟

Kya Police Har Gari Ya Shakhs Ko Nakay Par Rok Kar Talashi Le Sakti Hai?

08/06/2025

سندھ حکومت کا نیا قانون
رانگ وے ڈرائیونگ پر 2 لاکھ روپے جرمانہ😡

Sindh hukumat ka naya qanoon: Wrong way driving par 2 lakh rupay jurmana

17/05/2025

طلاق - خلع - تنسیخ نکاح
ان تینوں میں فرق کیا ہے؟

21/03/2025

ظالم شوہر کا بیوی پر وحشیانہ تشدد😡

شوہر کو گرفتار کروادیا انشاءﷲ لاوارث خاتون کو انصاف دلائیگے اور ظالم کو کیفر کردار تک پہنچائیگے

12/07/2024

Today visit district jail Malir karachi
لانڈھی جیل کے حالات

حکومت پاکستان نے سائبر کرائم ونگ کو ایف آئی اے سے الگ کرکے آزاد ادارہ بنا دیا۔The National Cyber Crime Investigation Age...
05/05/2024

حکومت پاکستان نے سائبر کرائم ونگ کو ایف آئی اے سے الگ کرکے آزاد ادارہ بنا دیا۔
The National Cyber Crime Investigation Agency (Establishment , Powers and Functions) Rules, 2024.

وفاقی حکومت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے سائبر کرائم کی تحقیقات کا اختیار واپس لے لیا اور سائبر کرائم کی تحقیقات کے لیے سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے نام سے الگ ادارہ قائم کردیا گیا۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سائبر کرائم کے مقدمات کی تحقیقات کرے گی۔
وفاقی حکومت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیش ایجنسی کے سربراہ کے لیے ایسا ڈائریکٹر جنرل تعینات کرے گی جو کم سے کم 21 گریڈ کا افسر یا 63 برس سے کم عمر ہو۔ڈی جی کو صوبے کے آئی جی کے برابر اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ ان کے ماتحت ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کام کریں گے۔تفتیشی افسر اور اس کے ماتحت دیگر افسران پولیس آرڈر 2002 کے تحت ادارے میں خدمات انجام دیں گے۔

10/04/2024
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کا آئی ایس آئی کی طرف سے عدلیہ میں کھلی مداخلت کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو آنکھیں کھول ...
27/03/2024

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کا آئی ایس آئی کی طرف سے عدلیہ میں کھلی مداخلت کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو آنکھیں کھول دینے والا خط:

خط کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے ذاتی گھروں کے کمروں میں خفیہ کمرے پاۓ گیے ہیں۔ جو کہ بلب کے پیچھے فٹ کیے گیے تھے اور ان میں آواز کی ریکارڈنگ تک کا بندوست کیا گیا تھا۔

ججز کے قریبی عزیزوں کو مذکورہ ادارے نے متعدد بار اٹھایا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کو سیاسی کیسز میں اس کے زریعے دھمکانے کی کوشش کی۔

اسلام آباد ہائی تین ججز نے ایک سیاسی کیس سنا۔ بنچ میں عامر فاروق موجودہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ بھی تھے۔ جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ لکھا اور دیگر دو ججز کو دستخط کے لیے بھیجا۔ دونوں ججز نے عامر فاروق سے اختلاف کیا اور اپنا نوٹ لکھا۔ جس پہ آئی ایس آئی نے دونوں ججز پہ حد درجے پریشر ڈالا اور ان کے قریبی رشتی داروں کو دھمکانے کی کوشش کی۔ ( یہ مشہور ٹیریان کیس کی بات ہورہی ہے)

اسلام آباد ہائی کورٹ کے انسپکشن جج نے اسلام آباد ہائی کے چیف جسٹس کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری پہ آئی ایس ائی کی طرف سے بہت پریشر ڈالا جا رہا ہے۔ یہ بات ٹی روم میں سبھی ججز کے سامنے ڈسکس ہوا۔ ایک ڈسٹرک جج کے گھر میں باقاعدہ کریکر پھیکنے گیے تاکہ اس سے مخصوص کیسز میں فایدہ لیا جاسکے۔ اس جج نے جب مذکورہ ادارے کی شکایت اسلام آباد ہائی کورٹ کو کی دو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اسے ہٹا کر اسلام آباد میں بطور سزا تعینات کر دیا۔

اسلام آباد ہائی کے دیگر ججز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا اور مذکورہ ادارے کی مداخلت کو اس کے علم میں لانا چاہا مگر اس خط پہ آج تک کچھ نہیں ہوا۔

چند دن قبل اسلام آباد ہائی کے چھ ججز نے ایک بار پھر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ایک اور خط لکھا اور پھر سے مذکورہ ادارے کی مداخلت کی شکایت کی مگر اب تک اس پہ بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے مکمل خاموشی ہے۔

لہذا چھ ججز سپریم جوڈیشل کونسل سے درخواست کرتی ہے کہ اس حوالے سے پورے ملک کی عدلیہ کی ایک اجلاس بلایا جائے اور اس میں بیٹھ کر سب سے پوچھا جائے کہ کیا ان کے ساتھ بھی مذکورہ ادارے نے یہی رویہ اپنایا ہے اور وہاں بھی مداخلت ہورہی ہے۔ اگر ہاں تو اس حوالے سے ایک جامع پالیسی ترتیب دینے کی ضرورت ہے ورنہ عدلیہ کی آزادی ختم ہو رہی ہے۔

ان چھ ججز کے نام ذیل میں ہیں:

جسٹس محسن اختر کیانی
جسٹس طارق محمود جھانگیری
جسٹس بابر ستار
جسٹس سردار اعجاز اسحاق
جسٹس ارباب طاہر
جسٹس ثمن رفعت

جوڈیشل افسران، معزز ہائی کورٹ کے ججز اور ڈسٹرکٹ عدلیہ کی عدالتی ذمہ داریوں میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مداخلت کی شدید مذم...
27/03/2024

جوڈیشل افسران، معزز ہائی کورٹ کے ججز اور ڈسٹرکٹ عدلیہ کی عدالتی ذمہ داریوں میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اور مطالبہ کرتے ہے کہ اس سلسلے میں منصفانہ/تحقیقات کرائی جائیں۔

Strongly condemn the interference of intelligence agencies into the performance of judicial obligations of the judicial officers, the Judges of Hon'ble High Courts and lower judiciary. It is highly demands that Fair/partial investigation should be conducted in this regard.

فارم 45 اور 47 میں کیا فرق ہے؟👇ایک حلقے میں، متعدد پولنگ اسٹیشنز ہوتے ہیںفارم 45، پولنگ اسٹیشن کا ریزلٹ ہوتا ہے جبکہ 47 ...
12/02/2024

فارم 45 اور 47 میں کیا فرق ہے؟👇

ایک حلقے میں، متعدد پولنگ اسٹیشنز ہوتے ہیں

فارم 45، پولنگ اسٹیشن کا ریزلٹ ہوتا ہے جبکہ 47 اس پورے حلقے کا consolidated ریزلٹ ہوتا ہے

یعنی، ایک حلقے میں اگر 500 پولنگ اسٹیشنز ہیں تو وہاں ہر پولنگ اسٹیشن کے لحاظ سے، 500 ہی فارم 45 ہوں گے
اور ان 500 فارم 45 کا ریزلٹ ملا کر، ایک حلقے کا ریزلٹ بنتا ہے اور وہ ریزلٹ دینے والا ڈاکیومنٹ فارم 47 کہلاتا ہے

آسان ترین مثال سے یوں سمجھیے کہ ایک حلقے میں 3 پولنگ اسٹیشنز ہیں۔ تو یہاں تین فارم 45 بنیں گے۔

فرض کیجیے کہ نتائج کچھ یوں ہیں:

پولنگ اسٹیشن 1: 100
پولنگ اسٹیشن 2: 50
پولنگ اسٹیشن 3: 80

تو فارم 47 کے مطابق، ٹوٹل ووٹ ہوگئے 230

اب صورتحال یہ ہورہی ہے کہ فارم 45 پر تارا جیت گيا ہے پر جب تمام فارم 45 ملا کر، فارم 47 کا اعلان کیا گیا تو وہاں کسی اور پارٹی کی جیت دکھا دی گئی ہے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے👇
(2017 SCMR 1588)
میں یہ واضع کیا ہے " فارم 45 کے ٹوٹل سے فارم 47 جاری ھوتا ھےاگر ان میں کوئی فرق ھوتو فارم 45 کے ٹوٹل کو درست تسلیم کیا جائے گا۔ "

یعنی نتائج کو عظیم الشان قسم کا کچرا بنادیا گیا ہے باقی دھاندلی کے اور زرائع مثلاً ووٹس بڑھا دینا، ہزاروں کی تعداد میں مسترد کردینا وغیرہ وغیرہ اس کے علاوہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ملک میں جانتے بوجھتے افراتفری کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔۔۔۔🎓

12/02/2024

دوبارہ ووٹنگ کیلئے سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی حلقہ میں امیدوار کے ہزاروں ووٹ ضائع ظاہر کئے جائیں تو ایسا الیکشن مشکوک ہوگا اور ایسے حلقے میں دوبارہ ووٹنگ ہوگی2017 SCMR 1588

12/02/2024

الیکشن ایکٹ 2017
فارم 45 کے ٹوٹل سے فارم 47 جاری ھوتاھےاگر ان میں کوئی فرق ھوتو فارم 45 کے ٹوٹل کو درست تسلیم کیا جائے گا۔
2017 SCMR 1588

Address

Office A-1715, Gulshan-e-Hadeed, Phase-1, Bin Qasim Town, District Malir, Karachi
Karachi
75010

Telephone

+923172006216

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahmed Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ahmed Law Associates:

Share

Category