09/07/2026
ارجنٹ ٹکرز / سندھ ہائیکورٹ
تین ہفتے قبل اغوا ہونے راجد حسین کی مسنگ پرسن کی پٹیشن پر سندھ ہائیکورٹ کا نوٹس
مسنگ پرسن کی پٹیشن راجد حسین کی بیوی طاہرہ پروین نے لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ کے توسط سے سندھ ہائیکورٹ میں داخل
پٹیشن میں گورنمنٹ آف سندھ، ایس ایچ او تھانہ خواجہ اجمیر نگری، ایس ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈی آئی جی سینٹرل زون انسپکٹر جنرل سندھ پولیس، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی ایس ایس پی ایس آئی یو ڈی آئی جی سی آئی اے سینٹرل زون، ڈی جی رینجر سندھ ، ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے، سیکرٹری منسٹری آف داخلہ ، سیکرٹری منسٹری آف ڈیفنس فیڈریشن آف پاکستان کو فریق بنایا گیا
مورخہ 16.6.2026 کی رات کو ایک بجےپٹیشنر کے گھر خواجہ اجمیر نگری میں پانچ افراد زبردستی اسلحے کے ساتھ داخل ہوے جن میں دو پولیس یونیفارم ،تین سول ڈریس میں اور ایک لیڈی پولیس ساتھ تھی ۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
تمام لوگوں نے پٹیشنر کے گھر کی تلاشی لی اور گھر سے دو موباءل فون، تیس ہزار روپے اور پٹیشنر کے شوہر راجد حسین کو اغوا کرکے اپنے ہمراہ لے گئے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
پٹیشنر کی بیوی نے تھانہ اجمیر نگری سمیت کراچی کے تمام تھانوں میں جاکر معلومات ہیں لیکن راجد حسین کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
تین ہفتے گزر گئے ہیں راجد حسین نہ تو کسی تھانہ میں ملا ہے اور نہ ہی اسے کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے جس کا تاحال کچھ پتہ نہیں ہے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
سندھ ہائیکورٹ کے ڈویثرن بینچ کے جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس عدنان چوہدری نے تمام جوابداروں کو مورخہ 6 اگست 2026 تک نوٹس جاری کرتے ہوے رپورٹ طلب کرتے ہوے سماعت ملتوی
کردی
ارجنٹ ٹکرز / ایڈیشنل سیشن ساؤتھ
بچت کمیٹی کے نام پر فراڈ کرنے اور باؤنس چیک دینے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم
عدالت نے یہ احکامات محمد اکرم کی 22 اے کی پٹیشن جاری کیے۔
محمد اکرم نے اللہ دتہ اور محمد اشرف کے خلاف بچت کمیٹی کی رقم ہڑپ کرنے اور باؤنس چیک دینے پر لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ کے توسط سے پٹیشن داخل کی تھی۔
اللہ دتہ اور محمد اشرف کے سال 2018میں بچت کمیٹی شروع کی تھی جس میں 20 ممبران شامل تھے۔ وکیل درخواست گزار لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
اللہ دتہ اور محمد اشرف نے 20 ماہ تک مجھ سے 2 لاکھ روپے بچت کمیٹی کے نام پر لیے اور پانچ لاکھ 90 ہزار روپے اس نے درخواست گزار کے دینے تھے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
جب درخواست گزار نے ان دونوں سے اپنی رقم واپسی کا تقاضہ کیا تو انہوں نے 60 ہزار روپے کے چار چیک دییے جو باؤنس ہوگئے ۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
2018 سے لیکر ابتک درخواست گزار اپنی رقم کی واپسی کا تقاضہ کررہا ہے لیکن دونوں رقم واپس کرنے سے انکاری ہیں۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
دونوں کے خلاف درخواست گزار نے ایس ایچ او تھانہ گزری اور ایس ایس پی کمپلینٹ سیل کو درخواستیں دیں لیکن کوئی قانونی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
عدالت نے ایس ایچ او تھانہ گزری اور ایس ایس پی کمپلینٹ سیل سے رپورٹ کال کرنے اور دونوں فریقین کے وکلا کے دلایل سننے کے بعد ایس ایچ او تھانہ گزری کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوے پٹیشن نمٹادی۔