Talha Iqbal & Co. - Karachi

Talha Iqbal & Co. - Karachi We are Advocates of High Courts dedicated to providing comprehensive legal services in civil, criminal, family, and industrial laws.

With a commitment to passion for justice, we strive to offer expert legal guidance and representation to our clients.

ایک غیرت مند بھائی جو اپنی باحیا بہن کو ایک درندے سے بچاتے ہوئے زخمی ہوا تھا وہ آج اپنی پیاری بہنا کے پاس جنت میں چلا گی...
18/03/2024

ایک غیرت مند بھائی جو اپنی باحیا بہن کو ایک درندے سے بچاتے ہوئے زخمی ہوا تھا وہ آج اپنی پیاری بہنا کے پاس جنت میں چلا گیا🥹۔
اِنّا لِلّهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
Our Brother Agha Aakash Pathan Is No More With Us 💔 May Allah give highest rank in heaven to departed soul nd give patience to Family Members of Deceased to overcome such unbearable loss ..

اگر ایک مقدمہ میں ریپ کی دفعات 376 ت پ وغیرہ کے ساتھ THE PREVENTION OF ELECTRONIC CRIMES ACT, 2016 کی دفعات 21 یا 22 بھی...
27/02/2024

اگر ایک مقدمہ میں ریپ کی دفعات 376 ت پ وغیرہ کے ساتھ THE PREVENTION OF ELECTRONIC CRIMES ACT, 2016 کی دفعات 21 یا 22 بھی لگائی گئی ہوں تو اس مقدمہ کی سماعتTHE ANTI-RAPE (INVESTIGATION AND TRIAL) ACT, 2021 کی دفعہ 2(f,g،h) کے مطابق ریپ کے مقدمات سماعت کرنیوالی عدالت ہی کرے گی۔ ایف آئی اے عدالت کو اختیار سماعت مقدمہ حاصل نہ ہے.

Facing marriage issues and unsure of your legal options? Don't hesitate to reach out to us! Our expert team offers top-n...
25/02/2024

Facing marriage issues and unsure of your legal options? Don't hesitate to reach out to us! Our expert team offers top-notch legal advice and services to help you navigate your situation with confidence. Contact us today for the support you deserve.
0300 0464705

We, humbly request to respected members of Karachi Bar Association to Vote & Support to Advocate Ghulam Hussain Mirjat a...
07/12/2022

We, humbly request to respected members of Karachi Bar Association to Vote & Support to Advocate Ghulam Hussain Mirjat at Candidate for the seat of in KBA Election 2022-23.

*وراثت کی تقسیم کا مکمل اور جامع قانونی طریقہ کار:* (١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پو...
22/06/2022

*وراثت کی تقسیم کا مکمل اور جامع قانونی طریقہ کار:*
(١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد تقسیم ہوگی.
(٢): اگر صاحب جائیداد خود اپنی جائیداد تقسیم کرے تو اس پر واجب ہے کہ پہلے اگر کوئی قرض ہے تو اسے اتارے، جن لوگوں سے اس نے وعدے کیۓ ہیں ان وعدوں کو پورا کرے اور تقسیم کے وقت جو رشتےدار، یتیم اور مسکین حاضر ہوں ان کو بھی کچھ دے.
(٣): اگر صاحب جائیداد فوت ہوگیا اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ ہی جائیداد تقسیم کی تو متوفی پر واجب الادا قرض دینے کے بعد جائیداد صرف حقداروں میں ہی تقسیم ہوگی.
*جائیداد کی تقسیم میں جائز حقدار:*
(١): صاحب جائیداد مرد ہو یا عورت انکی جائیداد کی تقسیم میں جائیداد کے حق دار اولاد، والدین، بیوی، اور شوہر ہوتے ہیں.
(٢): اگر صاحب جائیداد کے والدین نہیں ہیں تو جائیداد اہل خانہ میں ہی تقسیم ہوگی.
(٣): اگر صاحب جائیداد کلالہ ہو اور اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں تو کچھ حصہ سوتیلے بہن بھائی کو جاۓ گا اور باقی نزدیکی رشتے داروں میں جو ضرورت مند ہوں نانا، نانی، دادا، دادی، خالہ، ماموں، پھوپھی، چچا، تایا یا انکی اولاد کو ملے
*(1): شوہر کی جائیداد میں بیوی یا بیویوں کا حصہ:*
(١): شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حصہ آٹھواں (1/8) یا چوتھائی (1/4) ہے.
(٢): اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہونگی تو ان میں وہی حصہ تقسیم ہوجاۓ گا.
(٣): اگر شوہر کے اولاد ہے تو جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ بیوی کا ہے، چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.
(٤): اگر شوہر کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، بیوی کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کیلئے ہے.
(٥): اگر شوہر کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیوی کیلئے جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ ہے اور شوہر کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.
(٦): اگر شوہر کے اولاد نہیں ہے تو بیوی کا حصہ چوتھائی (1/4) ہو گا اور باقی جائیداد شوہر کے والدین کی ہوگی.
(٧): اگر کوئی بیوی شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاتی ہے تو اسکا حصہ نہیں نکلے گا.
(٨): اگر بیوہ نے شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے دوسری شادی کرلی تو اسکو حصہ نہیں ملے گا.
(٩): اور اگر بیوہ نے حصہ لینے کے بعد شادی کی تو اس سے حصہ واپس نہیں لیا جاۓ گا.
*(2): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ:*
(١): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ نصف (1/2) یا چوتھائی (1/4) ہے.
(٢): اگر بیوی کے اولاد نہیں ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور نصف (1/2) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے.
(٣): اگر بیوی کے اولاد ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے، اور چھٹا (1/6) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.
(٤): اگر بیوی کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، شوہر کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد بیوی کے والدین کیلئے ہے.
(٥): اگر بیوی کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور بیوی کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.
(٦): اگر شوہر، بیوی کے والدین کی طرف سے جائیداد ملنے سے پہلے فوت ہو جاۓ تو اس میں شوہر کا حصہ نہیں نکلے گا.
(٧): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے بچے ہیں تو بیوی کا اپنے والدین کی طرف سے حصہ نکلے گا اور اس میں شوہر کا حصہ چوتھائی (1/4) ہوگا اور باقی بچوں کو ملے گا.
(٨): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے
*(3): باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:*
(١): باپ کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.
(٢): باپ کی جائیداد میں پہلے باپ کے والدین یعنی دادا، دادی کا چھٹا (1/6) حصہ، اور باپ کی بیوہ یعنی ماں کا آٹھواں (1/8) حصہ نکالنے کے بعد جائیداد اولاد میں تقسیم ہوگی.
(٣): اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں، دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، آٹھ واں (1/8) حصہ بیوہ ماں کا ہوگا اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کوملے گا.
(٤): اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے، آٹھواں (1/8) حصہ بیوہ ماں کیلئے ہے اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کیلئے ہے.
(٥): اگر باپ کے والدین یعنی دادا یا دادی جائیداد کی تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.
(٦): اگر کوئی بھائی باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوگیا اور اسکی بیوہ اور بچے ہیں تو بھائی کا حصہ مکمل طریقہ سے نکالا جاۓ گا.
(٧): اگر کوئی بہن باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاۓ اور اسکا شوہر اور بچے ہوں تو شوہر اور بچوں کو حصہ ملے گا. لیکن اگر بچے نہیں ہیں تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.
*(4): ماں کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:*
(١): ماں کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.
(٢): جائیداد ماں کے والدین یعنی نانا نانی اور باپ کا حصہ نکالنے کے بعد اولاد میں تقسیم ہوگی.
(٣): اور اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، باپ کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد ماں کے والدین کیلئے ہے.
(٤): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، باپ کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور ماں کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.
(٥): اگر ماں کے والدین تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.
(٦): اور اگر باپ بھی زندہ نہیں ہے تو باپ کا حصہ بھی نہیں نکالا جاۓ گا ماں کی پوری جائیداد اسکے بچوں میں تقسیم ہوگی.
(٧): اگر ماں کے پہلے شوہر سے کوئی اولاد ہے تو وہ بچے بھی ماں کی جائیداد میں برابر کے حصہ دار ہونگے.
*(5): بیٹے کی جائیداد میں والدین کا حصہ:*
(١): اگر بیٹے کے اولاد ہو تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.
(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.
(٣): اگر بیٹے کے اولاد نہیں ہے لیکن بیوہ ہے اور بیوہ نے شوہر کی جائیداد کے تقسیم ہونے تک شادی نہیں کی تو اس کو جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ملے گا اور باقی جائیداد بیٹے کے والدین کی ہوگی.
(٤): اگر بیٹے کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.
(٥): اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.
(٦): اگر بیٹا رنڈوا ہے اور اسکے کوئی اولاد بھی نہیں ہے تو اسکی جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور دو تہائی (2/3) حصہ باپ کا ہے اور اگر بیٹے کے بہن بھائی بھی ہوں تو اسکی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور باقی باپ کا ہے.
*(6): بیٹی کی جائیداد میں والدین کا حصہ:*
(١): اگر بیٹی کے اولاد ہے تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.
(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.
(٣): اگر بیٹی کے اولاد نہیں ہے لیکن شوہر ہے تو شوہر کو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ملے گا اور نصف (1/2) جائیداد بیٹی کے والدین کی ہوگی.
(٤): اور اگر بیٹی کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے ایک چوتہائی (1/4) حصہ اور باقی والدین کا ہے.
(٥): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے چوتہائی (1/4) حصہ اور والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.
(٦): اگر بیٹی بیوہ ہو اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہوگا اور اگر بیٹی کے بہن بھائی ہیں تو ماں کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہوگا اور باقی باپ کو ملے گا۔
*(7): کلالہ:*
کلالہ سے مراد ایسے مرد اور عورت جنکی جائیداد کا کوئی وارث نہ ہو یعنی جنکی نہ تو اولاد ہو اور نہ ہی والدین ہوں اور نہ ہی شوہر یا بیوی ہو.
(١): اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہوں، اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں، اور اگر اسکا صرف ایک سوتیلہ بھائی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے، یا اگر صرف ایک سوتیلی بہن ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.
(٢): اگر بہن، بھائی تعداد میں زیادہ ہوں تو وہ سب جائیداد کے ایک تہائی (1/3) حصہ میں شریک ہونگے.
(٣): اور باقی جائیداد قریبی رشتے داروں میں اگر دادا، دادی یا نانا، نانی زندہ ہوں یا چچا، تایا، پھوپھی، خالہ، ماموں میں یا انکی اولادوں میں جو ضرورت مند ہوں ان میں ایسے تقسیم کی جاۓ جو کسی کیلئے ضرر رساں نہ ہو.
*(8): اگر کلالہ کے سگے بہن بھائی ہوں:*
(١): اگر کلالہ مرد یا عورت ہلاک ہوجاۓ، اور اسکی ایک بہن ہو تو اسکی بہن کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلئے ہے.
(٢): اگر اسکی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلیے ہے.
(٣): اگر اسکا ایک بھائی ہو تو ساری جائیداد کا بھائی ہی وارث ہوگا.
(٤): اگر بھائی، بہن مرد اورعورتیں ہوں تو ساری جائیداد انہی میں تقسیم ہوگی مرد کیلئے دوگنا حصہ اسکا جوکہ عورت کیلئے ہے.
الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اور ہر ترکہ کیلئے جو ماں باپ اور عزیز و اقارب چھوڑیں ہم نے وارث قرار دئیے ہیں اور جن سے تم نے عہد کر لئے ہیں ان کا حصہ ان کو دیدو بیشک الله ہر شے پر گواہ ہے. (4:33)
مردوں کیلئے اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں ایک حصہ ہے اور عورتوں کیلئے بھی اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں تھوڑا یا زیادہ مقرر کیا ہوا ایک حصہ ہے. (4:7)
اور جب رشتہ دار و یتیم اور مسکین تقسیم کے موقع پر حاضر ہوں تو انکو بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے نرمی کے ساتھ کلام کرو. (4:8)
الله تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے اور اگر فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو ترکے کا دو تہائی (2/3) ان کا ہے اور اگر وہ ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے نصف (1/2) ہے اور والدین میں سے ہر ایک کیلئے اگر متوفی کی اولاد ہو تو ترکے کا چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر متوفی کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کیلئے ترکہ کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور اگر متوفی کے بہن بھائی بھی ہوں تو اس کی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے بعد تعمیل وصیت جو وہ کر گیا ہو یا بعد اداۓ قرض کے تم نہیں جانتے کہ تمہارے آباء یا تمہارے بیٹوں میں سے نفع رسانی میں کون تم سے قریب تر ہے یہ الله کی طرف سے فریضہ ہے بیشک الله جاننے والا صاحب حکمت ہے. (4:11)
اور جو ترکہ تمہاری بے اولاد بیویاں چھوڑیں تمہارے لئے اس کا نصف (1/2) حصہ ہے اور اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لئے اس ترکہ کا جو وہ چھوڑیں چوتھائی (1/4) حصہ ہے اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو وہ کر گئی ہوں یا قرض کی ادائیگی کے بعد اور اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو جو ترکہ تم چھوڑو ان عورتوں کیلئے اس کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور اگر تمہارے اولاد ہو تو ان عورتوں کا اس ترکہ میں آٹھواں (1/8) حصہ ہے جو تم چھوڑو بعد از تعمیل وصیت جو تم نے کی ہو یا قرض کی ادائیگی کے اور اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر وہ تعداد میں اس سے زیادہ ہوں تو بعد ایسی کی گئی وصیت کی تعمیل جو کسی کیلئے ضرر رساں نہ ہو یا ادائیگی قرض کے وہ سب ایک تہائی (1/3) میں شریک ہونگے یہ وصیت منجانب الله ہے اور الله جاننے والا بردبار ہے. (4
تجھ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں کہہ دے کہ الله تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا آدمی ہلاک ہوجاۓ جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو پس اس کی بہن کیلئے اس کے ترکہ کا نصف (1/2) حصہ ہے. (اگر عورت ہلاک ہوجاۓ) اگر اس عورت کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کا وارث اس کا بھائی ہوگا اور اگر اس کی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے اس کے ترکہ کا دو تہائی (2/3) ہے اور اگر بھائی بہن j مرد اور عورتیں ہوں تو مرد کیلئے دوگنا حصہ اس کا جو کہ عورت کیلے ہے الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

قبر کشائی کے قوانین اور طریقہ کار:کسی بھی مقتول کی موت کی وجہ معلوم کرنے اور تحقیات کرانے کے لیے مجسٹریٹ کو درخواست زیر ...
20/06/2022

قبر کشائی کے قوانین اور طریقہ کار:
کسی بھی مقتول کی موت کی وجہ معلوم کرنے اور تحقیات کرانے کے لیے مجسٹریٹ کو درخواست زیر دفعہ 176 ضابطہ فوجداری گزاری جاسکتی ہے جس پر مجسٹریٹ انکوائری تشکیل دینے کاحکم دے سکتا ہے

جب کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 176(2)کے تحت درخواست گزار کر قبر کشائی کراے جانے کی استدعا کی جاسکتی ہے
جس پر مجسٹریٹ درخواست منظور کرکے اپنی نگرانی پر قبر کشائی کرانے کے بعد لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دے سکتا ہے تاکہ وجہ موت کا ٹھیک طرح پتہ چل سکے
اعلی عدلیہ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ قبر کشائی کی درخواست زائد المعیاد ہو تب بھی مجسٹریٹ درخواست کو خارج نہیں کرسکتا.

ایک اور مقدمہ میں قرار دیا گیا ہے کہ اگرمقدمہ عدالت میں چل رہا ہو اور کوئی فریق قبر کشائی کی درخواست گزارے تو دوسرے فریق کو سنے بغیر درخواست منظور نہ کی جاے
اگر ایک بار پوسٹ مارٹم ہوجاے اور تدفین ہوجاے تو دوبارہ قبر کشائی کرنے کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا جاسکتا ہے
قبر کشائی کی درخواست یا قتل کی تحقیات کی درخواست گزارنے پر کوئی معیاد لاگو نہیں ہوتی یہ درخواست کبھی بھی دی جاسکتی ہے

قبر کشائی کی درخواست اور موت کی وجوہات کی تحقیات کی درخواست کوئی بھی دے سکتا ہے حتی کہ اجنبی شخص بھی مجسٹریٹ کو درخواست دے کر قانون کو حرکت میں لاسکتا ہے.

جب ایک بار مجسٹریٹ کرادے تو گورنمنٹ یا پولیس دوبارہ انکوائری نہیں کراسکتی اور نہ ہی قبر کشائی کرا سکتی ہے
ایک اور فیصلہ میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پولیس کی قید میں کوئی بھی شخص پولیس کی ذمہ داری میں پر ہوتا ہے اگر وہ قیدی کو جعلی مقابلہ میں ماردے اور اگر پولیس کے خلاف کاروائی نہ ہوئی تو یہی سمجھا جاے گا کہ ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے
References:

2003 PCRLj 2000, PLD 1998 S.C 388,1985 MLD 782,2006 YLR 2953.

وفاقی شرعی عدالت نے پنجاب فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 10 کی ذیلی دفعات 5 اور 6 کالعدم قرار دے دیں جن کے مطابق خلع لینے...
17/05/2022

وفاقی شرعی عدالت نے پنجاب فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 10 کی ذیلی دفعات 5 اور 6 کالعدم قرار دے دیں جن کے مطابق خلع لینے کے باوجود بھی خاتون کو معجل حق مہر کے 75 فیصد اور غیر معجل حق مہر کے 50 فیصد کا حقدار قرار دیا گیا تھا.
PLD 2022 FSC 25

توہین عدالت کے بارے مکمل معلومات.توہین عدالت سے مراد عدالت کی شان یا احترام میں اپنے کسی بھی عمل سے گستاخی کرنا توہین عد...
17/05/2022

توہین عدالت کے بارے مکمل معلومات.
توہین عدالت سے مراد عدالت کی شان یا احترام میں اپنے کسی بھی عمل سے گستاخی کرنا توہین عدالت کہلاتا ہے توہین عدالت کی مندرجہ ذیل دو اقسام ہیں

Civil Contempt of court

اس سے مراد کسی بھی عدالتی فیصلہ کو نہ ماننا یا حکم عدولی کرنا توہین عدالت کے ذمرہ میں آتا ہے مثلاً کوئی فیصلہ حکم یا عدالتی ڈگری جسے ماننے سے انکار کردینا توہین عدالت کہلاتا ہے

مثال کے طور پر عدالت کسی ملازم کو بحال کرنے کا حکم دیتی ہے مگر آفیسر مجاز یا مجاز اتھاڑٹی ملازم کو بحال نہیں کرتی تو وہ توہین عدالت کی مرتکب ہوگی

عدالت کوئی ڈائریکش دیتی ہے یا کوئی سٹے دیتی ہے اور جو اسکو نہیں مانے گا تو توہین عدالت کا مرتکب ہوگا

Criminal Contempt of Court

اس سے مراد کوئی ایسا عمل یا ایسے الفاظ نکالنا جس سے عدالت کی شان میں گستاخی ہو توہین عدالت کے ذمرہ میں آے گی اس توہین کا عدالت خود نوٹس لے کر شوکاز جاری کرتی ہے

Case Laws

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ 2018 ایس سی ایم آر کے صفحہ نمبر 100 پر قرار دیا ہے کہ تمام توہین عدالت چاہے سول ہو یا کریمنل ہو جرم تصورہوگا اور قابل سزا ہوگا

ایک فیصلہ 2013 ایس سی ایم آر کے صفحہ نمبر 346 پر سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ توہین عدالت کی کاروائی کرنے کا مقصد لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد بحال رکھنا ہے

تاہم کراچی ہائیکورٹ نے اپنے فیصلہ پی ایل ڈی 1988 کے صفحہ نمبر 309 پر قرار دیا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر کی جانے والی تقریر توہین عدالت کے ذمرہ میں نہیں آتی

ریونیو عدالتیں جوڈیشل کورٹس کے ذمرہ میں نہیں آتیں لہذہ ریونیو عدالتوں کے پاس اختیار حاصل نہیں کہ توہین عدالت کی کاروائی کریں ملاھذہ ہو پی ایل ڈی 1965(ایس سی)677

16/05/2022

بڑے جرم میں، فردِ جرم لگنے کی صورت میں، چھوٹے جرم میں سزا دی جاسکتی ہے. اور چھوٹے جرم میں، فردِ جرم لگنے کی صورت میں، بڑے جرم میں سزا نہ دی جا سکتی ہے.
(2014 YLR 1473).
فردِ جرم میں ترمیم کے بعد، شہادت گواہان دوبارہ لکھی جائے گی.
(2020 YLR 317).
ملزم کو کسی ایسے جرم میں سزا نہ دی جاسکتی ہے، جس میں اس کے خلاف فردِ جرم نہ لگایا گیا ہو.
(PLD 2019 FSC1)
فردِ جرم عائد کرتے وقت، عدالت، پولیس کی لگائی دفعات کی پابندنہ ہے.
(2015 PCrLJ 502).
ملزم کو نوٹس دئیے بغیر فردِ جرم میں ترمیم نہ ہو سکتی ہے.
(2005 PCrLJ 489).

14/05/2022

بیان زیر دفعہ 164 ض ف کوئی بھی مجسٹریٹ قلمبند کر سکتا ھے۔

قانونی طور پر یہ ضروری نہ ھے کہ بیان زیر دفعہ 164 ض ف صرف علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو ہی قلمبند ھو
متعلقہ تھانے کے علاقہ مجسٹریٹ کے دوسرے ضلع کے مجسٹریٹ کے روبرو بھی بیان زیر دفعہ 164 ض ف قلمبند کرایا جاسکتا ھے
PLJ 2022 Lahore 302
PLJ 2022 Lahore 181
PLJ 2021 Lahore 645

Address

City Court
Karachi

Opening Hours

Monday 13:00 - 22:00
Tuesday 13:00 - 22:00
Wednesday 13:00 - 22:00
Thursday 13:00 - 22:00
Friday 13:00 - 22:00
Saturday 14:00 - 23:00

Telephone

+923000464705

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Talha Iqbal & Co. - Karachi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Talha Iqbal & Co. - Karachi:

Share