23/05/2026
تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستوں میں عوام کی آواز دبنے لگے، صوبوں میں بے چینی بڑھ جائے، انصاف کمزور ہو جائے، اور طاقتور ادارے عوامی نمائندوں پر غالب آ جائیں، تو سلطنتیں بظاہر مضبوط ہونے کے باوجود اندر سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
رومی سلطنت سے لے کر مغلیہ سلطنت تک، ہر دور میں حکمرانوں نے یہ غلطی کی کہ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھا، جبکہ تاریخ نے ثابت کیا کہ قومیں طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، اعتماد اور عوامی احترام سے قائم رہتی ہیں۔
جب بلوچستان ناراض ہو، خیبر پختونخوا بےچین ہو، سندھ اپنے حقوق مانگ رہا ہو، اور مرکز صرف اقتدار بچانے میں مصروف ہو، تو یہ لمحہ جشن کا نہیں بلکہ سنجیدہ احتساب کا ہوتا ہے۔
ریاستیں بندوق سے چل سکتی ہیں، لیکن مضبوط صرف آئین، انصاف اور عوام کے اعتماد سے ہوتی ہیں۔
تاریخ ہمیشہ طاقتور کو نہیں، انصاف کرنے والے کو یاد رکھتی ہے۔