03/03/2026
عورتوں کا حقِ وراثت — ایک اہم سماجی اور دینی مسئلہ
ہمارے معاشرے میں اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر عورتوں کو وراثت میں حصہ نہ دیا جائے تو ایسی صورت میں انہیں کیا کرنا چاہیے؟ بدقسمتی سے عورتوں کو وراثت سے محروم کرنا ہمارے ہاں ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے۔ بعض اوقات انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ وہ اپنا حق استعمال نہ کریں یا خاموشی اختیار کریں، حالانکہ یہ رویہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ غیر شرعی بھی ہے۔
اسلام نے عورت کو وراثت میں باقاعدہ اور واضح حق دیا ہے۔ قرآنِ مجید میں اس کی مکمل تفصیل موجود ہے، جہاں بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کے حصے متعین کیے گئے ہیں۔ اس لیے عورت کا وراثت میں حق محض ایک سماجی مطالبہ نہیں بلکہ ایک الٰہی حکم ہے، جس کی ادائیگی ہر صورت لازم ہے۔
عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے حق کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل کریں اور اگر انہیں ان کے جائز حصے سے محروم کیا جا رہا ہو تو قانونی اور شرعی طریقے سے اپنا حق طلب کریں۔ خاموشی اختیار کرنا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ یہ ناانصافی کو تقویت دیتا ہے۔ خاندان کے بڑوں اور معاشرے کے بااثر افراد پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انصاف کو یقینی بنائیں اور عورتوں کے حقِ وراثت کی ادائیگی میں رکاوٹ نہ بنیں۔
ایک مہذب اور اسلامی معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ وہاں کمزور طبقے کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ عورت کا حقِ وراثت اس کی عزت، خودمختاری اور معاشی تحفظ کی ضمانت ہے۔ لہٰذا ہمیں بطور فرد اور بطور معاشرہ اس حق کو تسلیم بھی کرنا چاہیے اور اس پر عمل بھی یقینی بنانا چاہیے۔