23/05/2026
#شارعِ_بھٹو صرف بحریہ ٹاؤن کا منصوبہ نہیں بلکہ پورے کراچی کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ ملیر، ملیر پندرہ، گڈاپ، دمبا گوٹھ، میمن گوٹھ، شاہ فیصل کالونی، کورنگی، قیوم آباد، ڈیفنس اور کلفٹن سمیت کراچی کی بہت بڑی آبادی اس سے فائدہ اٹھائے گی۔
میری رائے اور مختلف عوامی تاثرات کے مطابق سب سے بڑا فائدہ وقت کی بچت کا ہے۔ کراچی میں روزانہ لوگ ٹریفک میں گھنٹوں پھنسے رہتے ہیں۔ ایک عام شہری اپنی زندگی کا بڑا حصہ سڑکوں پر گزار دیتا ہے۔ شارعِ بھٹو اس مسئلے میں کافی حد تک کمی لا سکتی ہے۔
اس منصوبے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس نے شہر کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑ دیا ہے۔ ڈیفنس، کلفٹن، کورنگی اور قیوم آباد کو سپر ہائی وے سے کنیکٹ کرنا کراچی کے ٹریفک نیٹ ورک کے لیے بڑا قدم ہے۔
اگر شہری منصوبہ بندی درست رہی اور اس روٹ سے زیادہ ٹریفک ڈائیورٹ ہوئی تو کراچی کے لاکھوں افراد کو روزانہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ کاروبار، سفر، ایمرجنسی رسائی اور روزمرہ زندگی میں بہتری آئے گی۔ شہر جتنا بڑا ہو رہا ہے، ایسے روڈ نیٹ ورک کراچی کی ضرورت بنتے جا رہے ہیں