Mujahid Hussain Malik Legal Consultant

Mujahid Hussain Malik Legal Consultant The prime purpose to create this page is, to aware the people about law and legal rights.

Important criminal case laws.S. 154. Delay in lodging of first information report. Effect. Unexplained delay in lodging ...
11/02/2025

Important criminal case laws.

S. 154. Delay in lodging of first information report. Effect. Unexplained delay in lodging FIR creates serious doubt on the authenticity of prosecution version.
2019 _ Pcrlj _ 1627 ( c ).

Art. 22. Identification parade. Holding of I. P. would become mandatory if names of culprits are not mentioned in the FIR. 2019 _ Pcrlj _ 1563 ( c ).

Art. 129. In case of non production of material witnesses, inference could be drawn that had said witnesses stepped into the witness box, they would have not supported the prosecution case.
2019 _ Pcrlj _ 1480 ( e ).

Inordinate delay in lodging the FIR which had not been plausibly explained within the body of FIR. Such inordinate delay was fatal to the prosecution case.
2019 _ Pcrlj _ note 128 _ Page 144

S. 497. Person who is entitled to the grant of bail is not to be kept in the jail, as even a single day of detention of an innocent accused can not be compensated, after his acquittal at the conclusion of the case.
2019 _ Pcrlj _ 1618 ( c ).

S. 342. Statement of defense. Statement of defense was either to be rejected or taken as a whole.
2019 _ Pcrlj _ Note 125 _ Page 139

S. 342. Any piece of evidence not put to accused at the time of recording his statement under s. 342 crpc could not be considered against him.
2019 _ Pcrlj _ 1610 ( c ).

S. 164. Confession. If a retracted confession stands proved from other un challenged or proved circumstances, the same could be believed.
2019 _ Pcrlj _ note 125 _ Page 139

S. 22 _ A. Civil and criminal proceedings can proceed side by side. No bar on the initiation of criminal proceedings in the presence of civil suit. 2019 _ Pcrlj _ 1558 ( c ).

S. 103. Despite availability of independent witnesses of the locality, police official was made mashir for the purpose of all the mashirnamas which being violation of s. 103 crpc caused damage to the prosecution case.
2019 _ Pcrlj _ note 138 _ Page 156

: S. 161. Supplementary statement. Involvement and nomination of accused on the basis of supplementary statement was depreciated and disapproved by the federal shariat court.
2019 _ YLR _ 2270 ( d ).

S. 154. Basic purpose of FIR was not meant to decide guilt or innocence but to activate the law enforcing agencies to immediately move for collection / preservation of evidence.
2019 _ YLR _ 2316 ( b ).

S. 497. Statutory delay. Where a case of statutory delay in the conclusion of trial is made out, ordinarily bail was not to be refused on hyper technical ground. 2019 _ YLR _ 2357 ( c ).

S. 540. Section 540 crpc gives wide powers to the court to examine any person as a witness at any stage of trial and impose a duty on the court to summon any person as a witness, who otherwise could not be brought before the court.
2019 _ YLR _ 2460 ( b ).

Where circumstances in the prosecution evidence create doubt, the benefit thereof must go to the accused.
2019 _ YLR _ 2381 ( b ).

Contradictions of minor nature and not material could be ignored as different witnesses had seen matters from different angles, position, proximity and location.
2019 _ YLR _ 2246 ( e ).

Counsel and client. Admission by counsel. Scope. Accused is not bound of admission of his counsel.
2019 _ YLR _ note 63 _ Page 50

Conviction can not be based on high probabilities and suspicion can not take place of proof.
2019 _ YLR _ 2329 ( c ).

Sentence. Harsher the sentence, stricter the standard of proof.
2019 _ YLR _ 2381 ( c ).

Evidence of police official. Prosecution witnesses being police officials by itself could not be considered as a valid reason to discard their statements.
2019 _ YLR _ 2287 ( c )




10/10/2023

خلع ؛ عورت کا ایک بنیادی حق ؛ کے حوالے سے فیڈرل شریعت کورٹ کا ایک اہم فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :

مسمات نگہت یاسمین نامی مدعیہ کی جانب سے اپنے شوہر حاجی سیف الرحمان شاہین کے خلاف خلع کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کا کیس ضلع جھنگ کی عائلی عدالت میں جمع کرتی ہے اور اٹھارہ مئ دو ہزار بائیس کو عائلی عدالت مدعیہ کی درخواست کو ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ کے دفعہ دس ( پانچ ) کے تحت منظور کر کے مدعیہ کو خلع دے دیتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ فیصلہ بھی دیتی ہے کہ مدعیہ ؛ مدعا علیہ یعنی اپنے شوہر کو مہر معجل کا پچیس فیصد حصہ دس دنوں کے اندر عطا کرے۔ عائلی عدالت کے مندرجہ بالا فیصلے کے خلاف مدعا علیہ لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرتا ہے لیکن لاہور ہائی کورٹ بنیادی سماعت میں ہی عائلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کرتی ہے اور مدعا علیہ یعنی شوہر کی اپیل کو خارج کردیتی ہے۔

مندرجہ بالا دونوں فیصلوں کے خلاف مدعا علیہ فیڈرل شریعت کورٹ سے اس لئے رجوع کرتا ہے کہ فیڈرل شریعت نے اپنے حالیہ فیصلے عمران انور خان بنام حکومت پنجاب ( PLD 2022 FSC 25 ) میں یکم مئ دو ہزار بائیس سے ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ کے دفعہ دس ( پانچ ) کو خلاف شریعت قرار دے کر اس کو کالعدم قرار دے چکی ہوتی ہے تو مدعا علیہ کا بنیادی نکتہ یہ ہوتا ہے کہ جب کسی قانون کو یکم مئ دو ہزار بائیس کو کالعدم قرار دیا جا چکا ہوتا ہے تو پھر اس قانون کی بنیاد پر اٹھارہ مئ دو ہزار بائیس کو کیسے فیصلہ دیا جا سکتا ہے۔ مدعا علیہ کی جانب سے یہ نکتہ اٹھائے جانے کے بعد فیڈرل شریعت کورٹ سب سے پہلے اس بات پر زور دیتی ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل دو سو تین( جی جی ) کے تحت فیڈرل شریعت کورٹ کا فیصلہ نہ صرف عائلی عدالت بلکہ پاکستان کی تمام ہائ کورٹس پر بھی بائنڈنگ ہے اور اسی لئے عدالت نے یہ بات صراحتاً لکھی ہے کہ تمام عدالتوں کو اپنے حدود و قیود کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ انصاف کی فراہمی میں متضاد فیصلے رکاوٹ نہ بنیں۔ مندرجہ بالا باتوں کی وضاحت کے بعد عدالت نے اپیل کنندہ یعنی شوہر کے وکلاء کی جانب سے خلع کے خلاف دلائل اور عام معاشرے میں خلع کے خلاف پھیلے ہوئے چند غلط تصورات کا ذکر کرنے کے بعد اپنے سامنے آسانی کے لئے مندرجہ ذیل دو سوالات رکھے جو کہ زیل ہیں :

الف ) کیا اسلام میں خلع مطلقا عورت کا حق ہے اور خلع کے حصول کے لئے بنیادی ضروریات کیا ہیں ؟

ب ) کیا عورت کی جانب سے خلع مانگنے کے بعد اگر شوہر راضی نہ ہو رہا ہو تو کیا عدالت خلع دے سکتی ہے ؟

مندرجہ بالا سوالات اپنے سامنے رکھنے کے بعد عدالت نے سورة البقرة کی آیت دو سو انتیس اور صحاح ستہ سے مختلف احادیث کے تفصیل کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد ان سے مندرجہ ذیل اصول وضع کئے ہیں :

الف ) عورت کی جانب سے عدالت سے تنسیخ نکاح کا فیصلہ طلب کرنا عورت کا بنیادی حق ہے اور اس حق سے کوئ بھی انکار نہیں کر سکتا۔

ب ) تنسیخ نکاح بزریعہ خلع کے لئے عورت کا صرف یہ کہنا کافی ہے کہ وہ اپنے شوہر کو اس حد تک ناپسند کرتی ہے کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ حدود کے اندر اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہ سکتی اور خلع کے لئے اس کے علاؤہ کسی اور گراؤنڈ کی ضرورت نہیں ہے۔

ج ) دوسرے نکتے میں اس بات کا اضافہ بھی کیا جائے کہ اگر عورت بدل خلع کے طور پورا مہر واپس کردے تو عدالت کے لئے خلع کا فیصلہ دینے میں تاخیر کی گنجائش نہیں ہے۔

مندرجہ بالا باتوں کی صراحت کے ساتھ عدالت نے اس بابت مختلف اقوال کا ذکر کیا ہے کہ بدل خلع کی مقدار کیا ہوگی ؟

بدل خلع کے مقدار کے حوالے سے عدالت نے سب سے پہلے حضرت عمر رض کا ایک فیصلہ زکر کیا ہے جس کے مطابق بدل خلع مہر کی پوری رقم سے کم بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد عدالت نے حضرت علی رض کا ایک قول ذکر کیا ہے جس کے مطابق بدل خلع مہر کی رقم سے زیادہ نہ ہو۔ مندرجہ بالا اقوال سے عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بدل خلع مہر سے زیادہ نہیں ہوسکتی لیکن کم سے کم مقدار مختلف کیسز میں مختلف ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد عدالت نے اس امر پر زور دیا ہے کہ خلع میں قطعا یہ لازمی نہیں ہے کہ عورت بہر صورت اپنا مہر مکمل طور معاف کرے گی۔ عدالت نے یہاں یہ امر بھی واضح کیا ہے کہ جب تنسیخ نکاح بزریعہ خلع میں عورت کا بیان یہ ہو کہ وہ اپنے شوہر کے برے رویئے کی وجہ سے خلع لے رہی ہے تو عدالت بدل خلع کی مقدار کم سے کم رکھے گی اور اگر صورت حال شدید ہو تو عدالت طلاق بھی دے سکتی ہے اور اس صورت میں بدل خلع نہیں دیا جائے گا۔ اس کے بعد عدالت نے مختلف ائمہ کرام جن میں امام محمد ابن حسن الشیبانی ، امام ابو حنیفہ اور امام کاسانی کے مختلف اقوال کا ذکر کیا ہے۔

مندرجہ بالا باتوں کی وضاحت کے بعد عدالت اپنے فیصلے عمران انور خان بنام حکومت پنجاب کی طرف واپس آئ ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ اس ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ کے دفعہ دس ( پانچ ) کو کالعدم قرار دینے کی وجہ یہ تھی کہ بدل خلع کی مقدار کو فکس نہیں کیا جا سکتا اور چونکہ اس دفعہ میں بدل خلع کی مقدار مقرر کی گئی تھی تو اس وجہ سے اس سیکشن کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے اس کے بعد مندرجہ ذیل نکتے کی وضاحت صراحت کے ساتھ کی ہے کہ اگر بیوی مکمل مہر واپس کر کے خلع لینا چاہے تو عدالت راضی نامے میں ناکامی کے فورا بعد بیوی کو بغیر کسی تاخیر کے خلع کا فیصلہ دے گی لیکن اگر عورت شوہر کی جانب سے برے رویئے کی وجہ سے خلع کا مطالبہ کرے گی تو عدالت شہادت کے بعد بدل خلع کی مقدار کا تعین اس بات کی روشنی میں کرے گی کہ شادی کی ناکامی کس کی وجہ سے ہورہی ہے۔

فیڈرل شریعت کورٹ کے اس اہم فیصلے کا خلاصہ یہ ہے کہ خلع مطلقاً عورت کا حق ہے جو کہ عورت کو قرآن و سنت نے دیا ہے اور اس حق کی وجہ سے عورت عدالت کے زریعے اپنی مرضی سے نکاح کو ختم کر سکتی ہے اور عورت کو یہ حق حاصل کرنے کے لئے بدل خلع کے طور پر مہر کی واپسی پر رضامندی اور ساتھ ہی ساتھ یہ کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ قرآن و سنت کے مقرر کردہ حدود کے اندر نہیں رہ سکتی اور عورت کا یہ حق عدالتیں بھی عورت سے نہیں چھین سکتی۔

مندرجہ بالا امور کی صراحت کے ساتھ وضاحت کے بعد عدالت نے شوہر کی درخواست خارج کر دی۔

یہ انتہائی اہم فیصلہ فیڈرل شریعت کورٹ کے عالم جج ؛ جسٹس سید محمد انور صاحب نے لکھا ہے جو کہ سولہ/ایک، دو ہزار بائیس شریعت پیٹیشن نمبر پر فیڈرل شریعت کورٹ کے ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔









































Mujahid Hussain Malik Legal Consultant

01/10/2023

ریمانڈ اور اس کا طریقہ کار

ریمانڈ سے متعلق تفصیلات جاننے کے لئے ضابطہ فوجداری کی دفعات61، 167 اور344 کا مطالعہ ضروری ہے۔ اس کے ساتھ دفعہ62 اور دفعہ173 کا بھی مطالعہ کرنا چاہئے۔

ریمانڈ کے لفظی معنی واپس بھجوانا ہے۔ فوجداری مقدمات میں ملزم کو پھر حوالات بھیجنا مگر پولیس کے تشدد کی وجہ سے یہ اطلاع بڑی خطر ناک بن چکی ہے۔ جب کوئی شخص گرفتار ہوتا ہے تو پولیس اس کو چوبیس گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے پاس پیش کرنے کی پابند ہوتی ہے اور مزید عرصے کے لئے زیر حراست رکھنا مطلوب ہو تو پولیس مجسٹریٹ سے تحریری حکم حاصل کرتی ہے اس درخواست کو ریمانڈ کی درخواست کہتے ہیں۔ اگر پولیس24 گھنٹے کے اندر ملزم کو عدالت میں پیش نہیں کرتی اور مزید مناسب حکم حاصل نہیں کرتی تو 24 گھنٹے سے بعد کی حراست غیر قانونی شمار ہوگی۔
(PLD 1960 Pesh 74)

عام طور پر ریمانڈ کی درخواست علاقہ مجسٹریٹ کو دی جاتی ہے تاہم ناگزیر صورت میں ریمانڈ کی درخواست کسی بھی مقامی مجسٹریٹ کو دی جا سکتی ہے۔ مجسٹریٹ جس کے روبرو کسی ملزم کو بغرض ریمانڈ پیش کیا جائے زیادہ سے زیادہ پندرہ دن کا ریمانڈ دے سکتا ہے۔ ہائی کورٹ رولز میں بھی ریمانڈ کے متعلق احکامات اور ہدایات دی گئی ہیں۔ ریمانڈ کی درخواستوں میں قانون یہ ہے کہ مجسٹریٹ کو ملزم کے وکیل یا اسکے رشتہ داروں کو یہ حق دینا چاہئے کہ اگر وہ Remand کے خلاف ملزم کی طرف سے عذرات پیش کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں۔ ہائی کورٹ کے قواعد میں درج ہے کہ مجسٹریٹ کو لازم ہے کہ وہ ملزم کو وکیل رکھنے کا موقع دے تاکہ وہ وکیل ریمانڈ کے خلاف عذرات پیش کر سکے۔

مجسٹریٹ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ آیا ملزم کا پولیس کے قبضہ میں دیا جانا ضروری ہے یا نہیں۔اگر مجسٹریٹ محسوس کرے کہ ملزم کو پولیس کی حراست میں مزید رکھنا ضروری نہیں ہے تو وہ ریمانڈ کا حکم صادر کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔

(PLD 1979 Lah 587)

وہ ملزم جس کے خلاف مقدمہ زیر تجویز ہو ریمانڈ پر صرف پولیس اسٹیشن میں رکھا جا سکتا ہے کسی اور جگہ نہیں ورنہ یہ اقدام غیر قانونی ہوگا۔ریمانڈ کے لئے ضروری ہے کہ ملزم کو مجسٹریٹ کے روبرو حاضر کیا جائے۔ مجسٹریٹ کا خود مقامنظر بندی تک جانا غیر قانونی ہے۔

(PLD 1965 Lah 336)

ملزم کے رشتہ داروں کو دوران ریمانڈملزم کو کھانا یا لباس مہیا کرنے سے بھی منع نہیں کیا جا سکتا۔

ریمانڈ دو طرح کا ہوتا ہے۔

1۔ جسمانی ریمانڈ (Physical Remand)

جسمانی ریمانڈ کا مطلب یہ ہے کہ گرفتار شدہ ملزم تھانہ میں زیر حراست رہتا ہے۔ مجسٹریٹ اگر اس نتیجے پر پہنچے کہ پولیس کو بر آمدگی وغیرہ یا کسی اور مقصد کے لئے ملزم کے جسم کی ضرورت ہے تو وہ ملزم کا جسمانی ریمانڈ وقتاً فوقتاً پولیس افسران کو دیتا رہے گا۔ لیکن اس ریمانڈ کی مجموعہ تعداد پندرہ دن سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ اس جسمانی ریمانڈ کی وجہ بھی لکھی جائے گی۔ریمانڈ دینے لا طریقہ یہ ہوگا کہ ایک تو جسمانی ریمانڈ زیادہ دنوں کے لئے نہ دیا جائے گا اور شاید ہی کبھی پندرہ دن کا ہوا ہو۔

اس جسمانی ریمانڈ کا مطلب بھی پولیس کی چھترول سمجھا جاتا ہے حالانکہ قانون کا یہ منشا ہر گز نہ ہے۔مگر تفتیش کا مطلب مار پٹائی کے سوا ہمارے ملک میں اور کچھ نہیں ہوتا۔ پولیس جس طرح دوران ریمانڈ ملزم کے ساتھ سلوک کرتی ہے وہ مہذب قوموں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس رویے کی بناء پر پولیس کو خوف اور نفرت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ گرفتار شدہ شخص کے دوست، رشتہ دار صرف اس بات کے لئے پولیس کو بھاری رقوم دیتے ہیں کہ وہ جسمانی ریمانڈ نہ لے بلکہ جوڈیشل ریمانڈ لے اور مدعی پارٹی پولیس کو بھاری رقم اسلئے دیتی ہے کہ وہ دوران ریمانڈ ملزم پر جسمانی تشدد کرے۔ گرفتار ملزم پر اگر دوران حراست تشدد کیا گیا ہے تو علاقہ مجسٹریٹ سے میڈیکل کرانے کا حکم حاصل کیا جا سکتا ہے تاکہ پولیس کی طرف سے کیا گیا تشدد ثابت ہونے پر پولیس کے خلاف کاروائی کی جا سکے۔

2۔ جوڈیشل ریمانڈ (Judicial Remand)

جوڈیشل ریمانڈ کا مطلب ملزم کو جیل بھجوانا ہوتا ہے۔ اگر پولیس آفیسر استدعا کرے کہ تفتیش مقدمہ مکمل ہے یا مزید تفتیش کی ضرورت نہ ہے تو مجسٹریٹ ملزم کو عدالتی ریمانڈ(Judicial Remand) پر جیل بھجوا سکتا ہے۔

ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر تفتیشی افسر مزید ریمانڈ جسمانی کی استدعا کرے تو مجسٹریٹ مزید ریمانڈ جسمانی(Physical Remand) کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوا سکتا ہے۔ اس کے لئے مجسٹریٹ چند امور کو مد نظر رکھے گا۔

1۔ مجسٹریٹ اگر مناسب سمجھے کہ تفتیش مقدمہ مکمل ہے۔

2۔ مجسٹریٹ اگر مناسب سمجھے کہ مزید تفتیش کی غرض سے جسمانی ریمانڈ دینا مناسب نہیں ہے۔

3۔ ملزم کے خلاف بظاہر کوئی مقدمہ نہ بنتا ہو۔

4۔ تمام بر آمدگیاں مکمل ہو چکی ہوں۔

جسمانی ریمانڈ سے متعلق ہائی کورٹ کی ہدایات یہ ہیں کہ اسے بہت ہچکچاہٹ کے ساتھ منظور کرنا چاہئے اور تھوڑے تھوڑے دن کے لئے کرنا چاہئے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 167 اس بابت تفصیل فراہم کرتی ہے۔ عام لوگ چونکہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ریمانڈ کی منظوری اور نا منظوری پولیس کی مرضی پر منحصر ہے اسلئے کوئی بھی ریمانڈ کے مرحلہ پر کسی وکیل سے رجوع نہیں کرتا۔ پولیس کے ٹاؤٹوں سے کام چلایا جاتا ہے حالانکہ ریمانڈ کے مرحلہ پر وکیل بحث کرکے مندرجہ ذیل قسم کے احکام حاصل کر سکتا ہے۔

1۔ جسمانی ریمانڈ کی بجائے جوڈیشل ریمانڈ کیا جائے۔

2۔ ملزم کی ضمانت لے لی جائے۔

3۔ ملزم کے خلاف ثبوت نہیں ہے اسکو رہا کر دیا جائے اس بابت درج ذیل Rulings قابل ملاحظہ ہیں۔

PLD 1987 Lah 2436, NLR 1984 Criminal 39 – 1989 Pcr Lj 1993, 1989 Pcr Lj 2241

وکیل صاحب یہ عذر بھی لے سکتے ہیں کہ جسمانی ریمانڈ کم دنوں کا دیا جائے۔ یہ بھی عام مشاہدہ ہے کہ گرفتار شدہ لوگوں کے وارث اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ریمانڈ کے متعلق معاملات میں وکیل کوئی دخل نہیں دے سکتا اسی لئے وہ پولیس کے دلالوں کو ہزاروں روپے صرف اتنی سی رعایت کے لئے دے دیتے ہیں کہ جسمانی ریمانڈ نہ لیا جائے۔





































Mujahid Hussain Malik Legal Consultant

30/12/2022

"میرا شوہر نامرد ہے اور مُجھے خُلع چاہیے۔۔۔

"وہ تنسیخِ نِکاح کا عام سا کیس تھا۔.

اچھی پڑھی لکھی فیملی تھی دو پیارے سے بچے تھے لیکن خاتون بضِد تھی کہ اُسکو ہر حال میں خُلع چاہیے، جبکہ میرا موکل مُدعا علیہ (شوہر) شدید صدمے کی کیفیت میں تھا،

ِجج صاحب اچھے آدمی تھے اُنہوں نے کہا کہ آپ میاں بیوی کو چیمبر میں لے جا کر مصالحت کی کوشش کرلیں شاید بات بن جائے۔ مُدعا علیہ (شوہر) کا وکیل ہونے کے ناطے میں نے فوری حامی بھر لی۔ جبکہ مُدعیہ (بیوی) کے وکیل نے اِس پر اچھا خاصہ ہنگامہ بھی کیا لیکن خاتُون بات چیت کے لیے راضی ہوگئی۔

چیمبر میں دونوں میاں بیوی میرے سامنے بیٹھے تھے:-
" ہاں خاتون ۔! آپ کو اپنے شوہر سے کیا مسئلہ ہے"؟
" وکیل صاحب یہ شخص مردانہ طور پر کمزور ہے"
میں اُسکی بے باکی پر حیران رہ گیا ویسے تو کچہری میں زیادہ تر بے باک خواتین سے ہی واسطہ پڑتا ہے لیکن اُس خاتُون کی کُچھ بات ہی الگ تھی۔

اُسکے شوہر نے ایک نظرِ شکایت اُس پر ڈالی اور میری طرف اِمداد طلب نظروں سے گُھورنے لگا، میں تھوڑا سا جھلا گیا کہ کیسی عورت ہے ذرا بھی شرم حیا نہیں ہے۔
بہرحال میں نے بھی شرم و حیا کا تقاضا ایک طرف رکھا اور تیز تیز سوال کرنا شُروع کر دیے۔
جب اُس سے پُوچھا :-
" کیا آپکا اپنے مرد سے گُزارہ نہیں ہوتا" ؟
تو کہتی کہ:-
" ماشاءاللہ دو بچے ہیں ہمارے۔ یہ جسمانی طور پہ تو بالُکل ٹھیک ہیں"
" تو بی بی پِھر مردانہ طور پر کمزور کیسے ہُوئے"؟!!
میں نے استفسار کیا۔۔۔

وکیل صاحب! میرے بابا دیہات میں رہتے ہیں اور زمینداری کرتے ہیں ہم دو بہنیں ہیں میرے والد نے ہمیں کبھی"دھی رانی" سے کم بُلایا ہی نہیں جبکہ میرے شوہر مُجھے" کُتی" کہہ کے بُلاتے ہیں !!" یہ کونسی مردانہ صِفت ہے وکیل صاحب ؟- - "

مُجھ سے کوئی چھوٹی موٹی غلطی ہو جائے تو یہ میرے پُورے میکے کو گالیاں دیتے ہیں!! آپ ہی بتائیں کہ اِس میں میرے مائیکے کا کیا قصُور ہے ؟ یہ مردانہ صِفت تو نہیں نا کہ دُوسروں کی گھر والیوں کو گالی دی جائے !!
وکیل صاحب۔! میرے بابا مُجھے شہزادی کہتے ہیں اور یہ غُصے میں مُجھے " کنجری" کہتے ہیں !!
وکیل صاحب ! مرد تو وہ ہوتا ہے نا جو کنجری کو بھی اِتنی عزت دے کہ وہ کنجری نہ رہے اور یہ اپنی بیوی کو ہی کنجری کہہ کر پُکارتے ہیں !! یہ کوئی مردانہ بات تو نہیں ہوئی نا '
وکیل صاحب اب آپ ہی بتائیں کیا یہ مردانہ طور پر کمزور نہیں ہیں" ؟؟
میرا تو سر شرم سے جُھک گیا- اُسکا شوہر اُسکی طرف دیکھ کر بولا " اگر یہی مسئلہ تھا تو تُم مُجھے بتا سکتی تھی نا مُجھ پر اِس قدر ذہنی ٹارچر کرنے کی کیا ضرورت تھی"۔۔؟ شوہر منمنایا۔

" آپ کو کیا لگتا ہے آپ جب میری ماں بہن کے ساتھ کِسی ناجائز رِشتے کو جوڑتے ہیں تو میں خُوش ہوتی ہُوں۔۔؟
اِتنے سالوں سے آپکا کیا گیا یہ ذہنی تشدُد برداشت کر رہی ہُوں اِسکا کون حساب دے گا ؟!!
بیوی کا پارہ کِسی طور کم نہیں ہو رہا تھا۔۔
خیر جیسے تیسے مِنت سماجت کر کے سمجھا بُجھا کے اُنکی صُلح کروائی ۔۔
میرے موکل نے وعدہ کیا کہ وہ آئئندہ اب کبھی اپنی بیوی کو گالی نہیں دے گا اور پھر وہ دونوں چلے گئے۔۔۔

میں کافی دیر تک وہیں کھڑے سوچتا رہا کہ گالیاں تو میں نے بھی اُس خاتُون کو اُسکے پہلے جواب پر دِل ہی دِل میں بہت دی تھیں تو شاید میں بھی نامرد ہُوں اور شاید ہمارا مُعاشرہ نامردوں سے بھرا پڑا ہے۔

مصنف
(نامعلوم)

29/12/2022

> کورٹ میرج کیا ہے اور کیسے کی جاتی ہے؟

> کورٹ میرج اور عام شادی میں کیا فرق ہے؟

کورٹ میرج اور عام میرج میں فرق صرف اتنا ہے کے عام حالات میں لڑکا لڑکی کا نکاح گھر میں ہوتا ہے یا میرج ہال میں جبکہ کورٹ میرج میں نکاح عدالت میں ہوتا ہے مطلب کسی وکیل کے چیمبر میں.

کورٹ میرج اکثر و بیشتر ان کیسز میں ہوتی ہے جن میں لڑکا لڑکی گھر والوں سے چھپ کر بھاگ کر شادی کرتے ہیں.

لڑکا لڑکی عدالت آتے ہیں وہاں کسی وکیل سے رابطہ کرتے ہیں جو نکاح رجسٹرار کو بلا لیتا ہے.

جس کے پاس نکاح کا رجسٹر ہوتا ہے۔ ایک بات یاد رہے قانون میں یہ ضروری نہیں نکاح خواہ صرف مولوی ہوگا اور نکاح رجسٹر صرف مولوی کو ہی ملے گا.

قانون کے مطابق کسی بھی شخص کو متعلقہ ڈی سی نکاح رجسٹر جاری کرسکتا ہے اب آتے ہیں موضوع کی جانب تو وکیل صاحب کسی نکاح خواہ کو بلا کر لڑکا لڑکی کا نکاح کروا دیتا ہے. نکاح کے لیے لڑکا کی عمر 18 اور لڑکی کی 18 سال ہونا لازمی ہے. انکا شناخی کارڈ ہو اگر شناختی کارڈ نہیں ہے تو بے فارم یا تعلیمی اسناد ہوں جس سے عمر کا تعین ہوسکے۔ نکاح کے بعد وہی نکاح خواہ متعلقہ یونین کونسل سے نکاح رجسٹرڈ بھی کروا دیتا ہے اور یوں کورٹ میرج پوری ہو جاتی ہے.

> کورٹ میرج سے جڑے مسائل؟

پسند کی شادی میں ہوتا یہ ہے کہ لڑکی کے گھر والے لڑکے پر 365 ب کے تحت اغوا کی ایف آئی آر کروا دیتے ہیں.اس صورتحال میں لڑکے کو چاہیے فوراً لڑکی کا 164 کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے کروائے جس میں لڑکی لڑکے کے حق میں بیان دے اور ساتھ ہی لڑکے کو چاہیے وہ ضمانت قبل از گرفتاری کروائے اور ہائی کورٹ میں Quashment Of FiR کے لیے رجوع کرے. بطور ثبوت نکاح نامہ، لڑکی کے 164 کے بیان پیش کرے یوں لڑکے کی جان بڑی حد تک چھوٹ جائے گی. اگر لڑکا یہ نہیں کرتا اور لڑکی بعد میں گھر والوں کے دباؤ میں آکر لڑکے کے خلاف بیان دے دے تو لڑکا 365B کے تحت کئ سال کے لیے جیل جا سکتا ہے۔

> اخلاقی نقطہ نظر ہمارے معاشرے کو پیش نظر رکھتے ہوئے؟

اوپر کی گئ باتیں تو قانون کے حوالے سے تھیں. اگر ہمارے معاشرے کے پس منظر میں دیکھا جائے تو لڑکی کا اپنے گھر سے بھاگ کر شادی کرنا بہت معیوب سمجھا جاتا ہے. گھر والوں کے لیے ذلت کا باعث بنتا ہے. ایسا قدم اٹھانے سے پہلے لڑکے اور خصوصاً لڑکی کو ہزار بار سوچنا چاہیے. اس کے ساتھ ہی والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کی شادی کرتے وقت بچوں کی مرضی رضامندی کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں کیوں کہ اسلام میں اولاد کی شادی کے لیے رضامندی لینا لازمی ہے. ہم اس شخص کے ساتھ ایک گاڑی میں سفر نہیں کرسکتے جو ہمیں پسند نہ ہو تو زندگی کا سفر کے لیے ہم کیسے غیر پسندیدہ شخص کا انتخاب کرسکتے ہیں. بدقسمتی سے ہوتا یہ ہے کہ والدین بغیر بتائے بغیر پوچھے رشتہ کر دیتے ہیں جس سے بعد میں مسائل پیدا ہوتے ہیں. اگر لڑکا یا لڑکی کو برادری سے باہر شادی کا کہہ دیں تو گھر میں طوفان کھڑا ہوجاتا ہے اور یہ سوچ بن گئ ہے کہ خاندان کے ویلے نکمے سے شادی کر دیں گے لیکن باہر کے پڑھے لکھے سلجھے ہوئے سے شادی نہیں کریں گے. ایسی سوچ کو ہمیں ختم کرنا ہوگا۔ یاد رکھیں اسلام میں نکاح کے لیے کوئی ذات پات برادری کا کوئی تصور نہیں ہے اور اولاد کی بھی ذمہ داری ہے جذباتی فیصلے کے بجائے صبر و تدبر سے کام لیں. اور آخری بات کہ یہ یاد رکھیں کسی عورت کی زبردستی شادی کروانا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 498B کے تحت جرم ہے جسکی سزا 10 سال تک ہوسکتی ہے۔






















28/12/2022

خلع کے متعلق پوچھے گئے سوالات

خلع کسے کہتے ہیں؟

س… خلع کیا ہے؟ یہ اسلامی ہے یا غیراسلامی؟ زید نے اپنی بیوی گلشن کو شادی کے بعد تنگ کرنا شروع کردیا، بیوی نے خلع کے لئے کورٹ سے رُجوع کیا، دو سال کیس چلا اس کے بعد خلع کا آرڈر ہوگیا، اور دونوں میاں بیوی علیحدہ ہوگئے، لیکن بعد میں دونوں میاں بیوی میں پھر صلح ہوگئی اور بغیر نکاح یا حلالہ کے میاں بیوی پھر بن گئے، کیا یہ سب جائز تھا؟

ج… خلع کا مطلب ہے کہ جس طرح بوقتِ ضرورت مرد کو طلاق دینا جائز ہے، اسی طرح اگر عورت نباہ نہ کرسکتی ہو تو اس کو اجازت ہے کہ شوہر نے جو مہر وغیرہ دیا ہے اس کو واپس کرکے اس سے گلوخلاصی کرلے۔ اور اگر شوہر آمادہ نہ ہو تو عدالت کے ذریعہ خلع لے لے۔ اور عدالت کے ذریعہ جو خلع لیا جاتا ہے اس کی صورت یہ ہے کہ عدالت اگر محسوس کرے کہ میاں بیوی کے درمیان موافقت نہیں ہوسکتی تو عورت سے کہے کہ وہ اپنا مہر چھوڑ دے، اور شوہر سے کہے کہ وہ مہر چھوڑنے کے بدلے اس کو طلاق دے دے، اور اگر شوہر اس کے باوجود بھی طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو تو عدالت شوہر کی مرضی کے بغیر خلع کا فیصلہ نہیں کرسکتی۔ خلع سے ایک بائن طلاق ہوجاتی ہے، اگر میاں بیوی کے درمیان مصالحت ہوجائے تو نکاح دوبارہ کرنا ہوگا۔

طلاق اور خلع میں فرق

س… اگر عورت خلع لینا چاہے تو اس صورت میں بھی کیا مرد کے لئے طلاق دینا ضروری ہے یا عورت کے کہنے پر ہی نکاح فسخ ہوجائے گا؟ اگر مرد کا طلاق دینا ضروری ہے تو پھر طلاق اور خلع میں کیا فرق ہے؟

ج… طلاق اور خلع میں فرق یہ ہے کہ خلع کا مطالبہ عموماً عورت کی جانب سے ہوتا ہے، اور اگر مرد کی طرف سے اس کی پیشکش ہو تو عورت کے قبول کرنے پر موقوف رہتی ہے، عورت قبول کرلے تو خلع واقع ہوگا، ورنہ نہیں۔ جبکہ طلاق عورت کے قبول کرنے پر موقوف نہیں، وہ قبول کرے یا نہ کرے طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔

دُوسرا فرق یہ ہے کہ عورت کے خلع قبول کرنے سے اس کا مہر ساقط ہوجاتا ہے، طلاق سے ساقط نہیں ہوتا، البتہ اگر شوہر یہ کہے کہ تمہیں اس شرط پر طلاق دیتا ہوں کہ تم مہر چھوڑ دو اور عورت قبول کرلے تو یہ بامعاوضہ طلاق کہلاتی ہے اور اس کا حکم خلع ہی کا ہے۔

خلع میں شوہر کا لفظ ”طلاق“ استعمال کرنا ضروری نہیں، بلکہ اگر عورت کہے کہ: ”میں خلع (علیحدگی) چاہتی ہوں“، اس کے جواب میں شوہر کہے: ”میں نے خلع دے دیا“ تو بس خلع ہوگیا۔ خلع میں طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے، یعنی شوہر کو اب بیوی سے رُجوع کرنے یا خلع کے واپس لینے کا اختیار نہیں، ہاں! دونوں کی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔

ظالم شوہر کی بیوی اس سے خلع لے سکتی ہے

س… میری ایک رشتہ دار کو اس کا شوہر خرچ بھی نہیں دیتا اور نہ طلاق دیتا ہے، وہ بہت پریشان ہے کہ کیا کرے؟ وہ بچوں کے ڈَر سے کیس بھی نہیں کرتی کہ بچے اس سے چھن نہ جائیں، اور تقریباً پانچ سال ہوگئے ہیں، اگر وہ چھوڑ دیتا ہے تو دُوسری شادی کرکے وہ عزّت کی زندگی گزارتی۔ تو آپ یہ بتائیں کہ شرعی رُو سے یہ نکاح اب تک قائم ہے کہ نہیں؟ اور وہ اس کے ساتھ رہتا بھی نہیں ہے۔

ج… نکاح تو قائم ہے، عورت کو چاہئے کہ شرفاء کے ذریعہ اس کو خلع دینے پر آمادہ کرے، اگر شوہر خلع نہ دے تو عورت عدالت سے رُجوع کرے اور اپنا نکاح اور شوہر کا نان نفقہ نہ دینا شہادت سے ثابت کرے، عدالت تحقیقات کے بعد اگر اس نتیجے پر پہنچے کہ عورت کا دعویٰ صحیح ہے تو عدالت شوہر کو حکم دے کہ یا تو اس کو حسن و خوبی کے ساتھ آباد کرو اور اس کا نان و نفقہ ادا کرو، یا اس کو طلاق دو، ورنہ ہم نکاح فسخ ہونے کا فیصلہ کردیں گے۔ اگر عدالت کے کہنے پر بھی وہ نہ تو آباد کرے اور نہ طلاق دے تو عدالت خود نکاح فسخ کردے۔

اگر بیوی نے کہا کہ ”مجھے طلاق دو“ تو کیا اس سے طلاق ہوجائے گی؟

س… فرض کیا کہ اگر کسی شخص کی بیوی نے اس سے کہا کہ: ”مجھے طلاق دو“ تین بار اس طرح کہا، لیکن شوہر نے کچھ نہیں کہا، تو کیا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟ جبکہ شوہر بالکل خاموش رہا۔

ج… اگر شوہر نے بیوی کے جواب میں کچھ نہیں کہا تو طلاق نہیں ہوئی۔

عورت کے طلاق مانگنے سے طلاق کا حکم

س… ایک شادی شدہ عورت اگر ۴، ۵ دفعہ اپنے خاوند کو بھری مجلس میں کہہ دے کہ: مجھے طلاق دے دو یا طلاق چاہئے تو اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟ جبکہ مرد اور عورت کے حقوق برابر ہیں، اور کیا مرد پر کوئی شرط عائد ہوتی ہے؟ ذرا وضاحت کریں۔

ج… عورت کے طلاق مانگنے سے تو طلاق نہیں ہوتی، البتہ اگر عورت بغیر کسی معقول وجہ کے طلاق مانگے تو ایسی عورت کو حدیث میں منافق فرمایا گیا ہے۔ اور اگر مرد کے ظلم و جور سے تنگ آکر طلاق مانگے تو وہ گنہگار نہیں ہوگی، بلکہ مرد کے لئے لازم ہوگا کہ اگر وہ شریفانہ برتاوٴ نہیں کرسکتا تو طلاق دے دے۔ مرد و عورت کے حقوق تو بلاشبہ برابر ہیں (اگرچہ حقوق کی نوعیت اور درجے کا فرق ہے) لیکن طلاق ایک خاص مصلحت و حکمت کی بنا پر مرد کے ہاتھ میں رکھی گئی ہے، عورت کے سپرد اس کو نہیں کیا گیا، البتہ عورت کو خلع لینے کا حق دیا گیا ہے۔

عورت، ظالم شوہر سے خلاصی کے لئے عدالت کے ذریعہ خلع لے

س… میری ایک دوست جو بعض وجوہات کی بنا پر اپنے شوہر سے خلع لینا چاہتی ہے اور بعض موٴثر ذرائع سے کہلوا بھی چکی ہے، اس کا شوہر جو بیرونِ ملک مقیم ہے مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کئے جارہا ہے اور اسے آزاد کرنے کے بجائے مسلسل سات مہینے سے ذہنی کرب میں مبتلا کئے ہوئے ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے اسی لئے مرد کو بااختیار بنایا ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کسی عورت کی زندگی برباد کئے رکھے؟ اللہ تعالیٰ نے تو ہر چیز میں توازن رکھا ہے، کیا اللہ کے ہاں ایسے انسانوں کی کوئی پکڑ نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کریں تاکہ بہت سے کلمہ گو مسلمانوں کو احساس ہو کہ یہ عمل اسلام میں کتنا ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔

ج… جو شوہر اپنی بیویوں سے زیادتی کرتے ہیں وہ بڑے ہی ظالم ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار تاکید کے ساتھ عورتوں سے حسنِ سلوک کی تاکید فرمائی ہے، اگر زوجین میں موافقت نہ ہو تو عورت کو خلع لینے کا اختیار دیا ہے، وہ عدالت سے رُجوع کرے اور عدالت اس کے شوہر سے خلع دِلوائے، یہی توازن ہے جو شریعت نے اس نازک رشتے میں ملحوظ رکھا ہے۔

خلع سے طلاقِ بائن ہوجاتی ہے

س… ایک سوال کے جواب میں آپ نے طلاق اور خلع میں فرق کی یہ تشریح کی کہ خلع قبول کرنے پر مہر ساقط ہوجاتا ہے اور طلاق میں نہیں۔ خلع قبول کرنا عورت کی مرضی پر ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ خلع کے بعد عدّت بھی ضروری ہے یا نہیں؟ اور اگر عورت دوبارہ اسی سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو بغیر حلالہ شرعی کے نکاح ہوسکتا ہے؟ کیونکہ شوہر نے طلاق نہیں دی ہے۔

ج… خلع کا حکم ایک بائن طلاق کا ہے، اگر میاں بیوی کے درمیان ”خلوَت“ ہوچکی ہے تو خلع کے بعد عورت پر عدّت لازم ہوگی۔ اور سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے، حلالہ کی ضرورت نہ ہوگی۔ البتہ اگر عورت کے خلع کے مطالبے پر شوہر نے تین طلاقیں دے دی تھیں تو انٹیرم میرج کے بغیر نکاح نہ ہوگا

خلع کی ”عدّت“ لازم ہے

س… میری شادی ادلے بدلے کی ہوئی، میرے بھائی کی بیوی نے طلاق لے لی، میرا شوہر اس طلاق کا بدلہ مجھے ذہنی اذیتوں اور ذِلتوں میں دیتا رہتا ہے۔ آٹھ سال ہوگئے مجھے اس کے سلوک سے اور بچوں سے عدم دِلچسپی سے کچھ نفرت سی ہوگئی ہے۔ اس صورتِ حال میں کیا کیا جائے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ خلع لے کر اور شادی کرلوں تو خلع کی کیا صورت ہوگی؟ کیا خلع کی بھی عدّت ہوتی ہے؟

ج… ”خلع“ کے معنی ہیں عورت کی جانب سے علیحدگی کی درخواست۔ عورت اپنے شوہر کو یہ پیشکش کرے کہ میں اپنا مہر چھوڑتی ہوں، اس کے بدلے میں مجھے ”خلع“ دے دو، اگر مرد اس کی اس پیشکش کو قبول کرلے تو طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے، جس طرح طلاق کے بعد عدّت ہوتی ہے، اسی طرح خلع کے بعد بھی لازم ہے، عدّت کے بعد آپ جہاں دِل چاہے عقد کرسکتی ہیں۔

کیا خلع کے بعد رُجوع ہوسکتا ہے؟

س… خلع کے مبہم ہونے کی صورت میں اگر ایک مفتی کہے کہ خلع ہوگیا اور دُوسرا کہے کہ نہیں ہوا، اور لڑکی نادم ہوکر نباہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہو تو کیا تجدیدِ نکاح ہوسکتا ہے؟ نیز تجدیدِ نکاح کون کرتا ہے اور کیسے ہوتا ہے؟

ج… خلع میں اگر شوہر نے تین طلاقیں دے دی تھیں تو دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا، اور اگر صرف خلع کا لفظ یا ایک طلاق کا لفظ استعمال کیا تھا تو نکاح دوبارہ ہوسکتا ہے۔ دوبارہ نکاح کرنے کو تجدیدِ نکاح کہتے ہیں۔ جس طرح پہلا نکاح ایجاب و قبول سے ہوتا ہے، اسی طرح دوبارہ نکاح بھی ایسے ہی ہوگا۔ چونکہ خلع کا علم سب تعلق والوں کو ہوچکا تھا، اس لئے دوبارہ نکاح بھی علی الاعلان ہونا چاہئے۔

خلع کے لئے طے شدہ معاوضے کی ادائیگی لازمی ہے

س… میاں بیوی کی ناچاقی کی وجہ سے اگر مرد نے خلع رکھ کر بیوی کو طلاق دے دی اور بیوی نے خلع ادا کرنے کے بغیر شادی کرلی تو شادی حلال ہے یا حرام؟

ج… اگر نقد طلاق دے دی تھی تو عدّت کے بعد وہ دُوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے اور جو معاوضہ طے ہوا تھا وہ اس کے ذمہ واجب الادا ہے، اور اگر معاوضہ ادا کرنے کی شرط پر طلاق دی تھی تو جب تک معاوضہ ادا نہیں ہوجاتا طلاق نہیں ہوگی، لہٰذا دُوسری جگہ شادی بھی نہیں ہوسکتی۔

لڑکی بچپن کا نکاح پسند نہ کرے تو خلع لے سکتی ہے

س… میں نے اپنی لڑکی شاہدہ کا نکاح منظور احمد کے لڑکے منیر احمد سے بچپن میں کردیا تھا، اس وقت لڑکی کی عمر پانچ سال اور لڑکے کی عمر سات سال تھی، اب ماشاء اللہ دونوں جوان ہیں۔ منیر احمد کی سوسائٹی اور کردار اچھا نہ ہونے کی وجہ سے میری لڑکی نے شادی کرنے سے انکار کردیا ہے، لڑکے والے متواتر زور ڈال رہے ہیں کہ لڑکی کو وداع کرو، لیکن لڑکی اس بات پر بالکل راضی نہیں، اس صورت میں نکاح بحال رہتا ہے یا کہ ٹوٹ جاتا ہے؟

ج… لڑکی کی نابالغی میں جو نکاح لڑکی کے باپ نے کردیا ہو، بالغ ہونے کے بعد لڑکی کو اس کے توڑ دینے کا اختیار نہیں ہوتا۔ اب اگر لڑکا بدکردار ہے تو لڑکی کو وہاں رُخصت نہ کیا جائے بلکہ لڑکے سے ”خلع“ لے لیا جائے، یعنی اس کو مہر چھوڑنے کی شرط پر طلاق دینے کے لئے کہا جائے۔

بیوی کے نام مکان

س… اگر کوئی شخص شادی کے بعد اپنی محنت کی کمائی سے ایک مکان بناتا ہے اور وہ اپنی بیوی کے نام کردیتا ہے، اس کے بعد بیوی اس شخص سے خلع چاہتی ہے، قرآن پاک کے حوالے سے بتائیں کہ وہ مکان بیوی کو واپس کرنا ہوگا یا نہیں؟ وہ شخص کہتا ہے کہ میری محنت کا مکان ہے وہ مکان واپس کردو، ورنہ خلع نہیں دُوں گا۔

ج… وہ خلع میں مکان کی واپسی کی شرط رکھ سکتا ہے، اس صورت میں عورت اگر خلع لینا چاہتی ہے تو اسے وہ مکان واپس کرنا ہوگا۔ الغرض شوہر کی طرف سے مکان واپس کرنے کی شرط صحیح ہے، اس کے بغیر خلع نہیں ہوگا۔

اگر خاوند بے نمازی ہو تو بیوی کیا کرے؟

س… اگر کسی شخص کی بیوی نماز نہ پڑھتی ہو تو کہتے ہیں کہ خاوند کو حق ہے کہ وہ بیوی کو سمجھا اور مار بھی سکتا ہے، اور اگر اس سے بھی باز نہ آئے تو طلاق بھی دے سکتا ہے۔ اب قابلِ دریافت اَمر یہ ہے کہ اگر کسی عورت کا خاوند باوجود سمجھانے کے بھی نماز نہیں پڑھتا تو شریعت ایسی عورت کو کیا حقوق دِلاتی ہے؟ کیا وہ اپنے شوہر سے مقاطعہ کرسکتی ہے؟ اس سے بھی باز نہ آئے تو وہ طلاق بھی لے سکتی ہے؟

ج… عورت کو چاہئے کہ نہایت شفقت و محبت سے اسے راہِ راست پر لانے کی کوشش کرے، اور حسنِ تدبیر سے اسے نماز روزہ کا عادی بنائے، لیکن اگر وہ کسی طرح بھی نہ مانے تو عورت اس سے خلع لے سکتی ہے.







































Mujahid Hussain Malik Legal Consultant

Address

Karachi

Telephone

+923101131367

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mujahid Hussain Malik Legal Consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share