Law with Fiaz

Law with Fiaz “Law made simple ⚖️ | Daily legal tips & solutions – Family, Criminal & Civil cases”


“⚖️ Legal problems? Solutions made simple ✅”

 !⚖️ قانون بھی کبھی کبھی بولی وڈ اسٹائل میں سمجھ آتا ہے!پاکستان کے آئین کے تحت ہائی کورٹ کو شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحف...
09/03/2026

!

⚖️ قانون بھی کبھی کبھی بولی وڈ اسٹائل میں سمجھ آتا ہے!
پاکستان کے آئین کے تحت ہائی کورٹ کو شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے 5 طاقتور Writs جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے، جو کہ Article 199 of the Constitution of Pakistan کے تحت استعمال ہوتے ہیں۔
آئیے انہیں سادہ اور فلمی انداز میں سمجھتے ہیں:

1️⃣ Habeas Corpus
ڈائیلاگ: “Body mil gayi hai bhai!”
اگر کسی شخص کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہو تو عدالت حکم دیتی ہے کہ اس شخص کو فوراً عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

2️⃣ Mandamus
ڈائیلاگ: “Toh kar na! Pareshan ho gaye hain hum!”
جب کوئی سرکاری افسر اپنا قانونی کام نہ کرے تو عدالت اسے حکم دیتی ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کرے۔

3️⃣ Prohibition
ڈائیلاگ: “Ruko zara… sabar karo!”
اگر کوئی ماتحت عدالت یا ٹریبونل اپنے اختیار سے باہر جا رہا ہو تو ہائی کورٹ اسے مزید کارروائی سے روک دیتی ہے۔

4️⃣ Certiorari
ڈائیلاگ: “Cancel! Cancel! Sab Cancel!”
اگر کسی عدالت یا ٹریبونل کا فیصلہ غیر قانونی ہو تو ہائی کورٹ اس فیصلے کو منسوخ کر سکتی ہے۔

5️⃣ Quo Warranto
ڈائیلاگ: “Kaun hain ye log? Kahan se aate hain ye?”
اگر کوئی شخص کسی سرکاری عہدے پر غیر قانونی طور پر بیٹھا ہو تو عدالت پوچھ سکتی ہے کہ وہ کس اختیار کے تحت اس عہدے پر ہے۔

📌 یاد رکھیں:
یہ Writs عام شہری کے بنیادی حقوق کی حفاظت کے لیے ہیں۔
⚖️ قانون کو سمجھیں، اپنے حقوق جانیں، اور دوسروں تک بھی یہ آگاہی پہنچائیں۔




05/03/2026

قسمت کی جیومیٹری — شور مچاؤ جانی

بارش جب برستی ہے تو سب پر برستی ہے،
لیکن جو اپنا برتن ہی الٹا کر کے بیٹھا ہو، اس کی جھولی کیسے بھرے گی؟

ہم سب کی زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسے لمحات آتے ہیں جب ہم کسی کامیاب شخص کو دیکھتے ہیں۔
کوئی دوست جو اچانک ترقی کی سیڑھی چڑھ گیا،
یا کوئی کاروباری جس کا آئیڈیا راتوں رات مشہور ہو گیا۔

تب ہمارے دل سے ایک سرد آہ نکلتی ہے:
"یار، یہ کتنا خوش قسمت ہے۔"

ہم اپنی ناکامیوں کو بدقسمتی کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں
اور دوسروں کی کامیابیوں کو تقدیر کی مہربانی سمجھ کر خود کو تسلی دے دیتے ہیں۔

لیکن شاید یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا فریب ہے۔

جدید تحقیق اور انسانی نفسیات یہ بتاتی ہے کہ جسے ہم قسمت کہتے ہیں،
وہ کوئی آسمانی بجلی نہیں جو اچانک کسی منتخب شخص پر گرتی ہے۔

بلکہ یہ ایک ریاضیاتی مساوات (Equation) ہے جسے حل کیا جا سکتا ہے۔

خوش قسمتی کوئی جادو نہیں —
یہ ایک سائنس ہے۔

اور اس سائنس کا نام ہے: Luck Surface Area

ذرا تصور کریں کہ خوش قسمتی کے تیر ہر وقت فضا میں گردش کر رہے ہیں۔
اگر آپ ایک چھوٹے سے نقطے کی طرح کسی کونے میں بیٹھے رہیں،
تو امکان تقریباً صفر ہے کہ کوئی تیر آپ کو چھو جائے۔

لیکن اگر آپ حرکت میں آجائیں،
اپنے دائرے کو بڑھائیں،
نئے لوگوں سے ملیں، نئے مواقع آزمائیں،
تو آپ اپنے وجود کا رقبہ بڑھا دیتے ہیں۔

پھر آپ ایک چلتا پھرتا مقناطیس بن جاتے ہیں
جس سے خوش قسمتی کے یہ تیر خود بخود ٹکرانے لگتے ہیں۔

اسی لیے شاید صدیوں پہلے ہمارے بزرگوں نے کہا تھا:

"حرکت میں برکت ہے۔"

⚖️🔥 اہم عدالتی فیصلہ – ہر عورت کے لیے جاننا ضروری 🔥⚖️📌 جھوٹا نکاح، عورت کی عزت، اور بچے کا حق – سپریم کورٹ کا تاریخی فیص...
20/02/2026

⚖️🔥 اہم عدالتی فیصلہ – ہر عورت کے لیے جاننا ضروری 🔥⚖️

📌 جھوٹا نکاح، عورت کی عزت، اور بچے کا حق – سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

🏛️ Case Title:
Muhammad Shahzad vs. Mst. Ayesha Noor & others
CPLA No. 5626 of 2024
(Decision by سپریم کورٹ آف پاکستان)

🧾 Case Background (پسِ منظر):
یہ کیس ایک نہایت حساس اور تکلیف دہ حقیقت پر مبنی ہے، جس کا سامنا ہماری سوسائٹی میں بہت سی عورتوں کو کرنا پڑتا ہے۔
🔹 ایک مرد نے دعویٰ کیا کہ اس کا ایک لڑکی کے ساتھ شرعی نکاح ہو چکا ہے۔
🔹 لڑکی نے واضح طور پر کہا کہ:
کوئی نکاح نہیں ہوا
مرد نے جھوٹا نکاح ظاہر کر کے اسے بدنام کیا
اور اس جھوٹے دعوے کے ذریعے اسے ذہنی دباؤ اور ہراسانی کا نشانہ بنایا
🔹 لڑکی نے عدالت میں Jactitation of Marriage کا کیس دائر کیا
(یعنی: عدالت سے یہ اعلان کروایا جائے کہ کوئی نکاح ہوا ہی نہیں)
🔹 مرد نے الٹا:
Restitution of Conjugal Rights کا کیس کر دیا
یعنی زبردستی ازدواجی تعلق منوانے کی کوشش

🚨 حیران کن حقیقت
عدالت میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ: ❗ مرد پہلے سے شادی شدہ تھا
❗ اس کی بیوی، لڑکی کی پھوپھی تھی
❗ یعنی اگر نکاح مان بھی لیا جاتا تو وہ شرعاً اور قانوناً ممنوع تھا

⚖️ عدالتوں کا فیصلہ (خلاصہ):
✔️ فیملی کورٹ
✔️ اپیلیٹ کورٹ
✔️ ہائی کورٹ
✔️ اور آخرکار سپریم کورٹ

👉 سب نے متفقہ طور پر کہا: نکاح ثابت نہیں ہو سکا کوئی رجسٹرڈ نکاح نامہ موجود نہیں مرد کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ہے

👶 بچے کے حق پر بڑا اصول
اگرچہ نکاح ثابت نہیں ہوا، لیکن عدالت نے واضح کہا:
🔴 “بچہ بے قصور ہے — باپ ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا”

✔️ بچے کا نان نفقہ اس کا بنیادی حق ہے
✔️ حیاتیاتی باپ ہونے کی وجہ سے مرد ذمہ دار رہے گا
✔️ ناجائز یا متنازع تعلق کا نقصان بچے کو نہیں پہنچایا جا سکتا

💸 سخت سزا – 10 لاکھ روپے جرمانہ
سپریم کورٹ نے کہا: ❌ عدالت کو عورتوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا
❌ جھوٹے کیسز پر خاموشی ظلم ہے
👉 مرد پر 10,00,000 روپے جرمانہ عائد

👉 مقصد:
عورت کو انصاف
جھوٹے مقدمات کی حوصلہ شکنی

🌸 ہر عورت کے لیے پیغام
💬 اگر کوئی شخص جھوٹے نکاح کا دعویٰ کر کے دباؤ ڈالے:
✔️ قانون آپ کے ساتھ ہے
✔️ عدالت آپ کی عزت کی محافظ ہے
✔️ خاموش رہنا ضروری نہیں

🔺 عورت کی عزت آئین کے تحت محفوظ ہے
🔺 جھوٹا نکاح جرم بن سکتا ہے
🔺 بچے کا حق کسی صورت ختم نہیں ہوتا

📌 یہ پوسٹ ہر عورت تک پہنچائیں
📌 تاکہ کوئی بیٹی، بہن یا ماں
❌ جھوٹے نکاح
❌ بلیک میلنگ
❌ سماجی دباؤ
کا شکار نہ ہو

⚖️ اہم عدالتی فیصلہ – خواتین کے تحفظ سے متعلق تاریخی رہنمائیسپریم کورٹ آف پاکستانجیل پٹیشن نمبر 787/2018وارث مسیح بنام ر...
17/02/2026

⚖️ اہم عدالتی فیصلہ – خواتین کے تحفظ سے متعلق تاریخی رہنمائی
سپریم کورٹ آف پاکستان

جیل پٹیشن نمبر 787/2018

وارث مسیح بنام ریاست

کیس کا پس منظر (Background)
ملزم وارث مسیح پر اپنی بیوی مسماۃ جمیلہ بی بی کے قتل اور اپنے دو کمسن بچوں کو شدید زخمی کرنے کا الزام تھا۔
ٹرائل کورٹ نے اسے دفعہ 302(b) PPC کے تحت سزائے موت سنائی، جبکہ ہائی کورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔
ملزم نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جیل پٹیشن دائر کی۔

اہم شواہد
مقتولہ کی بیٹی رمیشہ (خود زخمی گواہ) نے اپنے والد کو قاتل قرار دیا
میڈیکل شواہد نے سر پر شدید ضربوں سے موت کی تصدیق کی
واقعہ گھر کے اندر پیش آیا
ملزم نے:
کوئی وضاحت نہیں دی
پولیس کو اطلاع نہیں دی
تدفین میں شرکت نہیں کی
واقعہ کے بعد فرار رہا

❓ سپریم کورٹ کی جانب سے خواتین سے متعلق اٹھائے گئے بنیادی سوالات
1. سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں خواتین کے قتل اور گھریلو تشدد کے تناظر میں درج ذیل نہایت اہم سوالات اٹھائے:

2. جب ایک عورت اپنے شوہر کے گھر میں غیر طبعی موت مرے، تو سب سے پہلے وضاحت دینے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

3. اگر شوہر واقعہ کے وقت گھر میں موجود ہو اور خاموش رہے، تو کیا یہ خاموشی اس کے خلاف جا سکتی ہے؟

4. کیا صرف یہ کہنا کہ “میں بے گناہ ہوں” (دفعہ 342 Cr.P.C.) کافی ہے، جب حقائق شوہر کے خصوصی علم میں ہوں؟

5. کیا شوہر پر یہ اخلاقی، قانونی اور سماجی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کی حفاظت کرے؟

6. اگر عورت کا قتل گھر کے اندر ہو اور کوئی تیسرا فرد شامل نہ ہو، تو کیا حالات و واقعات (Circumstantial Evidence) پر سزا دی جا سکتی ہے؟

7. کیا گھریلو تشدد کے مقدمات میں عورتوں کو “کمزور فریق” سمجھ کر قانون کو ان کے تحفظ کے لیے زیادہ حساس ہونا چاہیے؟

کیا منشیات کا عادی شوہر اپنی مجرمانہ ذمہ داری سے بری ہو سکتا ہے؟
⚖️ سپریم کورٹ کے اہم قانونی اصول (Findings)
✔️ عورت کا شوہر Article 122, Qanun-e-Shahadat کے تحت وضاحت دینے کا پابند ہے
✔️ وضاحت نہ دینا Article 129(g) کے تحت ملزم کے خلاف جا سکتا ہے
✔️ گھریلو قتل میں Circumstantial Evidence مکمل اور مضبوط ہو تو سزا دی جا سکتی ہے
✔️ خاموشی، فرار، اور غیر فطری رویہ اضافی مضبوط کڑی بنتے ہیں
✔️ شوہر کو “خاندان کا نگہبان” تصور کیا گیا

🕌 اسلامی اور آئینی تناظر
عدالت نے سورۃ النساء (آیت 34) کا حوالہ دیا:
“مرد عورتوں کے نگہبان ہیں”
ساتھ ہی آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 (زندگی کا حق) اور آرٹیکل 25 (برابری) کی خلاف ورزی قرار دی۔

📢 سپریم کورٹ کا پیغام (Public Message)
عورتیں شکار نہیں، معاشرے کی برابر کی رکن ہیں۔
گھریلو تشدد برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
ریاست پر لازم ہے کہ خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی اور عملدرآمد کرے۔

📝 حتمی فیصلہ
🔹 جیل پٹیشن خارج
🔹 عمر قید برقرار
🔹 ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار
📌 یہ فیصلہ ہر شوہر، ہر گھر اور ہر ادارے کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ عورت کا قتل “نجی معاملہ” نہیں بلکہ سنگین ریاستی جرم ہے۔

⚖️ Law with Fiaz | Legal Awareness📌 Landmark Observation by the Supreme Court of Pakistan“The administration of criminal...
18/01/2026

⚖️ Law with Fiaz | Legal Awareness

📌 Landmark Observation by the Supreme Court of Pakistan

“The administration of criminal justice must not be allowed to hinge upon the whims, strategy, or inadvertence of counsel, particularly where the liberty of a citizen is at stake.”

🔹 اردو مفہوم:
فوجداری انصاف کا نظام وکیل کی حکمتِ عملی، غفلت یا کسی بھی غیر ارادی کوتاہی پر منحصر نہیں ہونا چاہیے، خاص طور پر جب کسی شہری کی آزادی داؤ پر لگی ہو۔

📖 Case Reference:
Tariq Sajjad Khan v. The State
Criminal Petition No. 749-L of 2022
📅 Judgment dated: 30.09.2025
📍 (Para-9)

⚖️ Key Takeaway:
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اپیلیٹ عدالتیں محض وکیل کی رعایت (concession) کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی پابند نہیں بلکہ وہ پورے ریکارڈ کو میرٹ پر جانچنے کی قانونی ذمہ دار ہیں—خاص طور پر جب معاملہ کسی شہری کی آزادی سے متعلق ہو۔

🔍 یہ فیصلہ Fair Trial، Due Process اور Judicial Responsibility کے بنیادی اصولوں کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

👉 Follow | Share | Educate
⚖️ Law with Fiaz

14/01/2026

⚖️ 👨‍👩‍👧 جبری شادی کے خلاف قانون (پاکستان)
— آزادیِ نکاح اور انسانی وقار کا تحفظ
تعارف:
پاکستانی قانون کے تحت شادی رضامندی (Free Consent) کے بغیر باطل اور جرم ہے۔
کسی لڑکے یا لڑکی کو زبردستی شادی پر مجبور کرنا
قانون اور اسلام دونوں کے خلاف ہے۔
📜 پس منظر / قانونی بنیاد
جبری شادی کے خلاف بنیادی قوانین:
Muslim Family Laws Ordinance, 1961
Pakistan Penal Code (PPC)
Child Marriage Restraint Act
آئینِ پاکستان (Article 9 & 14)
اسلامی اصول:
“نکاح صرف بالغ اور با رضامندی فریقین سے جائز ہے۔”
⚖️ پاکستان پینل کوڈ (PPC) میں جرم:
🔹 دفعہ 498-B PPC
عورت کو زبردستی شادی پر مجبور کرنا جرم ہے
چاہے مقصد جائیداد، دشمنی ختم کرنا، یا روایت ہو
🔹 دفعہ 310-A PPC (ونی / سوارہ)
لڑکی کو دشمنی یا تنازعہ کے بدلے دینا
سنگین جرم ہے
🔹 دفعہ 496-A PPC
دھوکے یا جبر سے شادی کروانا قابلِ سزا جرم ہے
🚨 سزا (Punishment):
3 سے 7 سال قید
جرمانہ
بعض صورتوں میں دونوں سزائیں
(سزا جرم کی نوعیت کے مطابق دی جاتی ہے)
🧭 متاثرہ فرد کے قانونی حقوق:
عدالت میں FIR درج کروانے کا حق
تحفظ (Protection) اور پولیس مدد
جبری شادی کو کالعدم قرار دلوانا
اپنی مرضی سے شادی کرنے کا حق
نادرا اور نکاح رجسٹریشن میں درستگی کا حق
⚖️ عدالت کا بنیادی اصول:
“Consent is the foundation of a valid marriage.”
یعنی رضامندی کے بغیر شادی نہ شرعی ہے نہ قانونی۔
📢 عوام کے لیے پیغام:
❌ جبری شادی
❌ ونی، سوارہ
❌ خاندانی دباؤ کے نام پر جبر
یہ سب
⚠️ سنگین جرائم ہیں۔
خاموش رہنا حل نہیں —
قانون آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔

⚖️ لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہAwon Muhammad vs The StateCriminal Bail Application (Pre-Arrest Bail)👉 صرف الزام نہیں، ثبو...
06/01/2026

⚖️ لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

Awon Muhammad vs The State

Criminal Bail Application (Pre-Arrest Bail)

👉 صرف الزام نہیں، ثبوت بھی ضروری ہیں

In this case, a wife registered an FIR against her husband under Section 376 PPC to put pressure on him in a matrimonial dispute. However, her allegations were not supported by medical evidence. The medico-legal report clearly contradicted her claims, and the DNA report was also negative.
Under the law, allegations of such serious nature must be supported by strong medical and forensic evidence. When the medical evidence does not support the version of the complainant, the benefit of doubt goes to the accused, even at the stage of pre-arrest bail.
Keeping these facts in view, the court confirmed the pre-arrest bail of the accused.
This case highlights that false or unproven allegations can seriously damage lives, and that the law protects innocent persons through due process and evidence-based justice.

اس مقدمے میں بیوی نے ازدواجی تنازعہ میں دباؤ ڈالنے کے لیے شوہر کے خلاف دفعہ 376 پی پی سی کے تحت ایف آئی آر درج کرائی، مگر اس کے الزامات کو طبی شواہد کی تائید حاصل نہ ہو سکی۔ میڈیکو لیگل رپورٹ نے شکایت کنندہ کے مؤقف کی واضح نفی کی اور ڈی این اے رپورٹ بھی منفی آئی۔
قانون کے مطابق اس نوعیت کے سنگین الزامات کے لیے مضبوط طبی اور سائنسی شواہد ضروری ہوتے ہیں۔ جب طبی ثبوت شکایت کنندہ کے بیان کے مطابق نہ ہوں تو شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ ضمانت قبل از گرفتاری کے مرحلے پر بھی۔
ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی توثیق کر دی۔
یہ مقدمہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جھوٹے یا بغیر ثبوت الزامات نہ صرف زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں بلکہ قانون صرف شواہد اور انصاف کی بنیاد پر ہی فیصلہ دیتا ہے۔

⚖️ 👨‍👩‍👧 گارجین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 — بچوں کی سرپرستی کا قانونتعارف:گارجین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 ایک اہم قانون ہے جو ایس...
27/10/2025

⚖️ 👨‍👩‍👧 گارجین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 — بچوں کی سرپرستی کا قانون

تعارف:
گارجین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 ایک اہم قانون ہے جو ایسے بچوں کے لیے بنایا گیا جن کی عمر 18 سال سے کم ہو (یعنی وہ نابالغ ہوں)۔
اس قانون کا مقصد ایسے بچوں کی دیکھ بھال، حفاظت، تعلیم، اور جائیداد کے حقوق کو یقینی بنانا ہے۔

📜 پس منظر / تعریف

“گارجین” (Guardian) وہ شخص ہوتا ہے جو کسی نابالغ بچے کی ذاتی، تعلیمی، یا مالی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔
عدالت کسی بھی ایسے شخص کو گارجین مقرر کر سکتی ہے جس پر اسے یقین ہو کہ وہ بچے کے بہترین مفاد میں کام کرے گا۔

⚖️ گارجین کی تقرری (Appointment) اور اعلان (Declaration):

عدالت گارجین تب مقرر کرتی ہے جب:

1. بچہ 18 سال سے کم ہو۔

2. والدین میں سے کوئی زندہ نہ ہو یا نااہل ہو۔

3. عدالت سمجھے کہ بچے کا مفاد اسی میں ہے۔

سیکشن 7 اور 8 کے تحت عدالت گارجین کی تقرری یا اعلان کر سکتی ہے۔

🧭 گارجین کے حقوق، فرائض اور ذمہ داریاں:

بچے کی تعلیم، صحت اور رہائش کا مکمل خیال رکھنا۔

بچے کی جائیداد یا پیسے کا استعمال صرف عدالتی اجازت سے کرنا۔

عدالت کو اپنی کارکردگی کی رپورٹ دینا۔

اگر گارجین اپنی ذمہ داری میں کوتاہی کرے تو عدالت اسے برطرف کر سکتی ہے۔

👩‍🍼 کسٹڈی (حضانہ) — ماں یا باپ؟

کسٹڈی ہمیشہ بچے کے بہترین مفاد (Welfare of Minor) کے مطابق طے ہوتی ہے، نہ کہ صرف ماں یا باپ کے حق پر۔

اہم اصول:

سات سال سے کم عمر بچوں کی پرورش عام طور پر ماں کو دی جاتی ہے۔

بڑے بچوں یا لڑکیوں کی شادی تک، عدالت حالات دیکھ کر فیصلہ کرتی ہے۔

اگر باپ ظالم، نشے کا عادی، یا غیر ذمہ دار ہو تو عدالت ماں کو کسٹڈی دے سکتی ہے۔

اگر ماں کی کردار یا ماحول بچے کے لیے نقصان دہ ہو تو عدالت باپ کو کسٹڈی دے سکتی ہے۔

⚖️ عدالت کا بنیادی اصول:

“The welfare of the minor is the first and paramount consideration.”
یعنی عدالت کے نزدیک سب سے اہم چیز بچے کی بھلائی اور مستقبل ہے۔

📢 عوام کے لیے پیغام:

اگر والدین کے درمیان بچے کی سرپرستی یا کسٹڈی پر جھگڑا ہو تو اس کا فیصلہ عدالت Guardian and Wards Act, 1890 کے تحت کرتی ہے۔
یہ قانون بچوں کے حقوق، تحفظ اور بہتر مستقبل کے لیے بنایا گیا ہے۔

Haider & Haider International Legal Consultants Pakistan’s first and only Legal Process Outsourcing (LPO) firm.We offer ...
28/09/2025

Haider & Haider International Legal Consultants Pakistan’s first and only Legal Process Outsourcing (LPO) firm.
We offer a wide range of legal services in civil, criminal, property, family, taxation, corporate, immigration, debt recovery and more.
Our team of highly qualified and experienced lawyers is committed to providing reliable solutions with professionalism and integrity.

Address

Gulshan Iqbal
Karachi Lines
75300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law with Fiaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share