Al-Wakeel Human Rights Protection Cell & Legal Aid System

Al-Wakeel Human Rights Protection Cell & Legal Aid System Al-Wakeel provides legal services and teach people about human rights.

Aims &objective
*To secure basic human rights
*To reform society
*To help needy and poor people
*Holding seminar to create awareness of human rights and civil laws.

04/08/2023

سوال : نکاح نامہ کیا ہے اور اس میں موجود 25 کالمز کی تفصیل و اہمیت کی وضاحت فرمائیں۔؟
جواب: نکاح ایک سماجی معاہدہ ہے۔ جو فریقین کے درمیان ایجاب وقبول کے عمل سے مکمل ہو جاتا ہے۔ نکاح نامہ ایک قانونی دستاویز ہے۔ اس کے ذریعے حقوق و فرائض کا تعین ہوتا ہے۔

اکثر لوگ نکاح نامہ کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں اس لیے ضروری ہے کہ نکاح نامہ کی ضرورت کا احساس دلایا جائے کیوں کے عورت کو مذہب اورقانون نے اپنے مستقبل کے بارے میں جن تحفظات کویقینی بنانے کی اجازت دے رکھی ہے

وہ نکاح نامہ کے کالم صحیح کرنے سے ہی ممکن ہے۔ اس لئے نکاح نامہ کے کالم انتہائی احتیاط سے پر کرنے کی ضرورت ہے۔

#عام معلومات ( کالم 1 تا 12)

ان کالموں میں دولہا٬ دولہن کا نام ولدیت٬ ضلع٬ عمر٬ یونین کونسل٬ فریقین کی طرف سے وکیل٬ گواہ٬ شادی کی تاریخ اور یہ کی دلہن کنواری٬ بیوہ یا مطلقہ ہے درج کرنا ہوتا ہے

#حق مہر (کالم 13تا16)

حق مہر کا نکاح نامہ میں اندراج ضروری ہے۔ جو عورت کا مذہبی اور قانونی حق ہے۔ ارشادات رسول اور عمل رسول کا خلاصہ ہے کہ جو حق مہر شوہر آسانی کے ساتھ ادا کرسکے اور بیوی بھی اس پر راضی ہو وہ شرعی حق مہر ہے ۔

#نکاح کے کالم نمبر 14 میں اسکی نوعیت لکھی جاتی ہے کہ وہ معجل ہے یا مؤجل۔

#اس طرح اگر مہر کا کچھ حصہ شادی کے موقع پر ادا کیا گیا ہو تو کالم نمبر 15 میں اس کی مقدار درج کی جاتی ہے۔

#اگر حق مہر کے عوض کوئی جائیداد وغیرہ دی گئی ہو تو کالم نمبر 16میں اس کی مکمل تفصیل اس کے آگے اور پیچھے کیا ہے۔ اور اس وقت اس کی قیمت کیا ہے درج کی جاتی ہے۔ تاکہ بعد میں دھوکا نہ ہو۔

حق مہر کی اقسام

(1)مہر مؤجل

اگر مہر یا اس کے کسی حصے کی ادائیگی مستقبل میں کسی خاص مدت کے بعد دیاجانا طے پائے تو اس کو مہر مؤجل کہتے ہیں۔

(2)مہر معجل

مہر معجل سے مراد مہر کا وہ حصہ جسے فورا ادا کرنا ہوتا ہے یعنی مہر کو نکاح کے وقت ادا کیا جاتا ہے یا جب بیوی طلب کریں تو اس کو فوری ادا کرے گا۔

#خاص شرائط ( کالم نمبر 17)

کالم نمبر 17 خاص شرائط سے متعلق ہے جس کی خاص اہمیت ہے اس میں ناچاقی کی صورت میں نان و نفقہ کس طرح ادا ہوگا

اور رہائش کے بارے میں بھی لکھا جا سکتا ہے کہ شادی کے بعد دیہات میں رہائش ہو گی یا شہر میں اور شادی کے بعد تعلیم یا ملازمت جاری رکھنے کی اجازت ہوگی یا نہیں وغیرہ اس میں درج کی جاتی ہیں۔

اس شق میں جہیز کی تفصیل بھی درج کی جاسکتی ہے۔

#طلاق تفویض (کالم نمبر 18)

اس شق میں عورت مرد سے طلاق کا حق مانگ سکتی ہے اور اگر شوہر نے بیوی کو طلاق کا حق دے دیا ہے اور اس بارے میں کوئی شرائط مقرر کی ہیں تو وہ بھی اس خانہ میں درج کی جائیں گی۔

اور عورت جب چاہے مقررہ شرائط کو پورا کر کے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو شوہر کی زوجیت سے آزاد کر سکتی ہے۔

عورت کو اس کا نوٹس چیئرمین ثالثی کونسل کو دینا ضروری ہے کے اس نے طلاق تفویض کا حق استعمال کیا ہے۔

#شوہر کے حق طلاق پر پابندی( کالم نمبر 19)

اس کالم میں شوہر کے حق کے طلاق پر شرائط مقرر مقرر کی جاتی ہیں۔ مثلا حق مہر کی فوری ادائیگی اور بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری ماں کی ہوگی وغیرہ

#حق مہر اور نان و نفقہ کی دستاویز کا اندراج (کالم نمبر 20)

اگر شادی کے موقع پر حق مہر اور نان و نفقہ کے بارے میں کوئی دستاویز تیار کی گئی ہو تو اس کا اندراج کالم نمبر 20 میں کیا جاتا ہے

#دوسری شادی کیلئے اجازت نامہ( کالم نمبر 21٬22)

دوسری شادی کی صورت میں عائلی قوانین کے تحت پہلی بیوی اور چیئرمین ثالثی کونسل کا اجازت نامہ لینا ضروری ہے

اور دوسری شادی کی صورت میں بوقت نکاح کالم نمبر21 کو ضروری پر کرنا چاہیے اس میں دوسری شادی کی اجازت ملنے کی تاریخ درج کرنی ہوتی ہے۔

نکاح نامہ کو نکاح رجسٹرار مکمل کرکے یونین کونسل میں رجسٹرڈ کرواتا ہے.

ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ، 1964 کے سیکشن 10(5) کے مطابق، شادی کو تحلیل کرنے کے مقدمے میں، اگر مصالحت ناکام ہو جاتی ہ...
04/08/2023

ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ، 1964 کے سیکشن 10(5) کے مطابق، شادی کو تحلیل کرنے کے مقدمے میں، اگر مصالحت ناکام ہو جاتی ہے، تو فیملی کورٹ فوری طور پر نکاح کو تحلیل کرنے کا حکم نامہ پاس کرے گی اور خلع کے ذریعے نکاح کو تحلیل کرنے کی صورت میں، بیوی کو اپنے موخر مہر کا پچاس فیصد تک یا اپنے تسلیم شدہ فوری مہر کا پچیس فیصد تک شوہر کے حوالے کرنے کی ہدایت کر سکتا ہے۔
2023 SCMR 1394

Recovery of Dower Amount .
Per Section 10(5) of the West Pakistan Family Courts Act, 1964, in a suit for dissolution of marriage, if reconciliation fails, the Family Court shall immediately pass a decree for dissolution of marriage and in case of dissolution of marriage through khula, may direct the wife to surrender up to fifty percent of her deferred dower or up to twenty-five percent of her admitted prompt dower to the husband.

The house from the petitioner, as mentioned in Nikahnama, is the deferred dower and as per the khula judgment, the respondent is only entitled to fifty percent (50%) of the house (deferred dower). This premise is grounded in Section 10(5) ibid that while obtaining dissolution on the sole basis of khula, the respondent is bound to surrender fifty percent (50%) percent of her share in deferred dower.

17/10/2022

# kahuta law college Sajid ur Rehman Isma Gul # Prof Shabir Raja # kahuta press club

Address

Kahuta
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Wakeel Human Rights Protection Cell & Legal Aid System posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Al-Wakeel Human Rights Protection Cell & Legal Aid System:

Share