Malak Law Firm Swat

Malak Law Firm Swat We offer legal services & immigration consultancy

23/03/2026

یومِ پاکستان کے پُرمسرت موقع پر ملک لا فرم اینڈ امیگریشن کنسلٹنٹس سوات پوری قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہے۔

یہ دن ہمیں تاریخی قراردادِ لاہور کی یاد دلاتا ہے، جو ایک علیحدہ وطن کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ یہ دن ہمارے عظیم رہنماؤں کی بصیرت، اتحاد اور قربانیوں کی عکاسی کرتا ہے، بالخصوص قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔

اس بابرکت موقع پر ہم اُن تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان کی آزادی اور سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اُن کی قربانیاں ہمیشہ ہمارے لیے باعثِ فخر رہیں گی۔

ایک ذمہ دار قانونی ادارے کے طور پر ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ انصاف، آئین کی بالادستی اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی خدمات پوری دیانتداری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔

اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، ترقی اور استحکام عطا فرمائے۔

پاکستان زندہ باد!

21/03/2026

Eid ul Fitr Mubarak to all friends!

May this blessed occasion bring peace, happiness, and prosperity to everyone. May Allah Almighty accept our عبادات and bless us all with success, unity, and good health.

Warm regards,
Malak Law Firm & Immigration Consultants

15/03/2026

ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 14(2)(c) کے تحت اگر فیملی کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ ماہانہ نان و نفقہ پانچ ہزار روپے یا اس سے کم ہو تو ایسے حکم کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جا سکتی، جبکہ دفعہ 14(3) کے مطابق عبوری احکامات کے خلاف بھی اپیل کا حق موجود نہیں ہے۔ قانون ساز کا مقصد یہ ہے کہ خواتین اور کم سن بچوں جیسے کمزور طبقات کے نان و نفقہ کے معاملات کو طویل عدالتی کارروائیوں سے محفوظ رکھا جائے اور ان کا جلد اور حتمی فیصلہ یقینی بنایا جائے۔

لہٰذا ایسے معاملات میں، جنہیں قانون نے اپیل کے دائرے سے خارج کر دیا ہو، آئینی درخواست دائر کر کے فیصلے کو چیلنج کرنا مقننہ کی منشا کے خلاف ہے۔ عدالتِ عالیہ اپنے آئینی دائرہ اختیار میں عام طور پر خصوصی قوانین کے تحت دیے گئے فیصلوں میں مداخلت نہیں کرتی، الا یہ کہ دائرۂ اختیار کی غلطی، صریح غیر قانونی اقدام، سنگین بے ضابطگی یا واضح ناانصافی ثابت ہو۔

08/03/2026

آج عالمی یومِ خواتین کے موقع پر تحصیل بار ایسوسی ایشن کبل تمام خواتین وکلاء، معزز ججز، قانون کی طالبات اور معاشرے کی تمام بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جو انصاف کے قیام، انسانی حقوق کے تحفظ اور معاشرتی برابری کے فروغ کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

قانون کے شعبے میں خواتین کا کردار نہایت اہم اور قابلِ قدر ہے۔ خواتین وکلاء اپنی محنت، قابلیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے عدالتوں میں مرد وکلاء کے شانہ بشانہ کام کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ خاص طور پر خاندانی مقدمات، گھریلو تشدد، وراثتی حقوق، بچوں کے تحفظ اور خواتین کے خلاف جرائم جیسے حساس معاملات میں ان کی خدمات قابلِ ستائش ہیں۔

تحصیل بار ایسوسی ایشن کبل اس بات پر فخر محسوس کرتی ہے کہ قانونی شعبے میں خواتین کی شمولیت اور کامیابیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ان کی محنت، عزم اور دیانت داری نہ صرف وکلا برادری بلکہ پورے معاشرے کے لیے باعثِ فخر ہے۔

اس موقع پر ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ خواتین وکلاء کے پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ، انہیں مساوی مواقع فراہم کرنے اور معاشرے میں صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

آئیے اس دن کے موقع پر ہم سب یہ عہد کریں کہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کو عزت، تحفظ اور برابر کے مواقع حاصل ہوں اور وہ ملک کی ترقی اور انصاف کے نظام کو مضبوط بنانے میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

عالمی یومِ خواتین مبارک

ملک فضل قدیم خان ایڈووکیٹ
صدر
تحصیل بار ایسوسی ایشن کبل، سوات ⚖

“POR"پروف آف رجسٹریشن رکھنے والا افغان شہری غیر قانونی مقیم نہیں: پشاور ہائی کورٹ نے سیکشن 14-FA میں ضمانت منظور کر لی”پ...
06/03/2026

“POR"
پروف آف رجسٹریشن رکھنے والا افغان شہری غیر قانونی مقیم نہیں: پشاور ہائی کورٹ نے سیکشن 14-FA میں ضمانت منظور کر لی”

پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں ایک افغان شہری کو سیکشن 14-FA کے تحت ضمانت دے دی۔ کیس کے دوران یہ قانونی نکتہ سامنے آیا کہ ملزم کے پاس Proof of Registration (PoR) کارڈ موجود ہے، جو حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک باقاعدہ دستاویز ہے۔
عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا گیا کہ جب کسی افغان شہری کے پاس حکومت کی طرف سے جاری کردہ رجسٹریشن کا ثبوت موجود ہو تو اسے محض اسی بنیاد پر غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس نکتے کو مدِنظر رکھتے ہوئے عدالت نے ملزم کو ضمانت دینے کا حکم جاری کیا۔

پشاور ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلہ میں شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق سے متعلق نہایت اہم اصول وضع کیے گئے ہیں، خصوصاً سفری پابند...
05/03/2026

پشاور ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلہ میں شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق سے متعلق نہایت اہم اصول وضع کیے گئے ہیں، خصوصاً سفری پابندیوں اور انتظامی فہرستوں کے دائرۂ اختیار کے حوالے سے۔
عدالتِ عالیہ نے واضح طور پر قرار دیا کہ PNIL یا بلیک لسٹ جیسی داخلی و انتظامی فہرستیں کسی صورت بھی قانونی Exit Control List (ECL) کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں۔ کسی شہری کے بیرونِ ملک سفر پر پابندی عائد کرنا ایک سنجیدہ قانونی اقدام ہے، جس کے لیے باقاعدہ قانونی اختیار، شفاف طریقۂ کار اور وجوہات کا موجود ہونا ناگزیر ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ محض انتظامی بنیادوں پر نام شامل کرنا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4، 9، 10-A اور 15 کی صریح خلاف ورزی ہے، جو شخصی آزادی، منصفانہ ٹرائل اور آزادیٔ نقل و حرکت کا تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
مزید برآں عدالت نے ہدایت کی کہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) اپنی قانونی حدود میں رہتے ہوئے صرف شناختی امور تک محدود رہے اور سفری پابندیوں سے متعلق معاملات میں مداخلت نہ کرے، جب تک کہ اس کے لیے واضح قانونی اختیار موجود نہ ہو۔
اسی طرح فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کو حکم دیا گیا کہ ضبط شدہ پاسپورٹس مقررہ مدت کے اندر واپس کیے جائیں، اور اگر کسی شہری کا نام ECL میں برقرار رکھنا مقصود ہو تو اس بابت مجاز فورم مستند اور تحریری وجوہات کے ساتھ قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔
خلاصہ یہ ہے کہ عدالت نے اس اصول کو مستحکم کیا ہے کہ ریاستی ادارے شہریوں کے بنیادی حقوق پر قدغن صرف اور صرف واضح قانونی اختیار اور منصفانہ طریقۂ کار کے تحت ہی عائد کر سکتے ہیں۔ کسی بھی غیرقانونی یا غیرشفاف انتظامی فہرست کی بنیاد پر سفری پابندی آئینی تحفظات سے متصادم تصور کی جائے گی۔

آئیے ایک بات کی وضاحت کر لیں کہ فوجداری ضابطہ (CrPC) میں حالیہ ترامیم کے بارے میں ہم میں سے بہت سے لوگ، حتیٰ کہ قانونی ح...
27/02/2026

آئیے ایک بات کی وضاحت کر لیں کہ فوجداری ضابطہ (CrPC) میں حالیہ ترامیم کے بارے میں ہم میں سے بہت سے لوگ، حتیٰ کہ قانونی حلقے بھی، غلط فہمی کا شکار ہیں اور انہیں علاقائی دائرہ اختیار واضح کیے بغیر شیئر کر رہے ہیں۔
یہ ترامیم صرف اسلام آباد کی حدود تک محدود ہیں اور پورے پاکستان پر لاگو نہیں ہوں گی۔
اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے لیے CrPC میں دلچسپ تبدیلیاں متوقع ہیں۔ بل سینیٹ سے منظور ہو چکا ہے۔
گرفتار شخص کو یہ حق دیا جا رہا ہے کہ اس کی گرفتاری کی اطلاع اس کے کسی عزیز کو دی جائے۔
اسی طرح مجسٹریٹ کو دفعہ 22-A اور 22-B کے تحت ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق معاملات دیکھنے کا اختیار دیا جا رہا ہے۔

Let me clarify one thing that is regarding the latest amendments in CrPs, which many of us including legal paternity misunderstood and sharing it without explaining its territorial jurisdi.

The amendments are only for Islamabad territory not extended to the whole of Pakistan...

Interesting changes coming up for Islamabad Capital territory in Cr. PC. Bill has cleared Senate,. Right of arrested person to have his relative informed of arrest. Magistrate gets power to handle 22-A/22-B registration of FIR.

23/02/2026

2025 YLR 152 (PLJ 2024 Cr.C. 1083)
In an honour-killing case under Section 302 & 311 PPC, despite a compromise and forgiveness by legal heirs, the court rejected bail and did not allow compromise to negate prosecution because honour killings are treated as fasad-fil-arz and are not compoundable.

19/02/2026

سپرداری
مجسٹریٹ نے درخواست سپرداری منظور کر کے گاڑی مالک کے حوالے کرنے کا حکم صادر کیا مگر پولیس آفیسر نے اس حکم۔کے باوجود گاڑی مالک کے حوالے نہ کی۔ ہائیکورٹ نے اس پولیس آفیسر کو دو لاکھ روپے بطور ہرجانہ گاڑی کے مالک کو ادا کرنے کا حکم صادر فرمایا۔
2020 PCrLJ 1144

Schengen Visa GrantedBy Professional Consultancy of Malak Law Firm & Immigration Consultants, KabalIf anyone is interest...
14/11/2025

Schengen Visa Granted
By Professional Consultancy of Malak Law Firm & Immigration Consultants, Kabal

If anyone is interested in Schengen visa services, please contact:
📞 0343-9994008

✅ Ireland C-Type Visa Granted!By the utmost efforts and expertise of our consultancy, our client has successfully been g...
19/09/2025

✅ Ireland C-Type Visa Granted!
By the utmost efforts and expertise of our consultancy, our client has successfully been granted an Ireland C-Type Visa.

📌 If you are interested in applying for an Ireland C-Type Visa or need professional assistance with your immigration process, feel free to contact us.

📲 WhatsApp: 0343 999 4008

Alhamdulillah!Another Schengen (Germany) Tourist Visa successfully granted through the expert services of:Malak Law Firm...
05/08/2025

Alhamdulillah!
Another Schengen (Germany) Tourist Visa successfully granted through the expert services of:

Malak Law Firm & Immigration Consultants
📍 Hasan Trade Center, Kabal, Swat
📞 Cell: 0343 999 4008

We continue to deliver trusted legal and immigration solutions with professionalism and integrity.

Address

Kabal Banda

Opening Hours

Monday 08:00 - 20:00
Tuesday 08:00 - 20:00
Wednesday 08:00 - 20:00
Thursday 08:00 - 20:00
Friday 08:00 - 20:00
Saturday 08:00 - 20:00

Telephone

+923439994008

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malak Law Firm Swat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share