Hassnain bhorana advocate

Hassnain bhorana advocate Only lawyers and painters can turn black into white

ضابطہ فوجداری میں تین ترامیم ہوئی جو کہ خوش آئند ہیں۔1. 59-اے۔کسی بھی ملزم کو جب گرفتار کیا جائے گا تو اسک بھائی، دوست، ...
28/02/2026

ضابطہ فوجداری میں تین ترامیم ہوئی جو کہ خوش آئند ہیں۔
1. 59-اے۔
کسی بھی ملزم کو جب گرفتار کیا جائے گا تو اسک بھائی، دوست، یا رشتے دار کو اسکی گرفتاری کے بارے آگاہ کیا جائے گا، اس سے ملزم کی گرفتاری جو غیر قانونی ہوتی ہے محفوظ ہوگی،
2۔ 154 میں ہوئی ہے اب متعلقہ مجسٹریٹ کو بھی ایف آئی آر درج کرنے/حکم صادر کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، پہلے صرف جسٹس آف پیس کے پاس تھا یعنی اب ایک اور فورم مہیا کردیا گیا ہے،
3.
431 اے۔
اگر کوئی ملزم جسکو سزا ہوئی ہے اور وہ فوت ہوگیا ہے تو اسکی سزا کے خلاف اسکے وارثان اپیل کر سکتے ہیں اور وہ اسی ملزم کی طرف سے سمجھیں جائے گی۔۔

28/02/2026

پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں بریت یافتہ مقدمات کے اندراج پر پابندی۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے ایک اہم اور اصولی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جب کسی ملزم کو مجاز عدالت کی جانب سے باقاعدہ طور پر بری کر دیا جائے اور بریت کا فیصلہ حتمی حیثیت اختیار کر چکا ہو، تو قانون کی نظر میں وہ شخص تمام الزامات سے مکمل طور پر مبرا تصور کیا جائے گا۔

لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ ایسی صورت میں کسی سرکاری دستاویز، بالخصوص پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں متعلقہ ایف آئی آر یا مقدمہ کا ذکر کرنا، جب کہ بریت قطعی ہو چکی ہو، غیر ضروری، غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی اقدام شمار ہوگا۔

لاہور ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ یہ طرزِ عمل آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 کے تحت شہری کے حقِ وقار (Right to Dignity) کی صریح خلاف ورزی ہے، کیونکہ ایک ایسے شخص پر دائمی بدنامی کا داغ لگایا جاتا ہے جو عدالتی عمل کے ذریعے بے قصور ثابت ہو چکا ہو۔

فیصلے میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ حتمی بریت کے بعد کسی شہری کو دوبارہ مجرمانہ الزام سے منسلک کرنا نہ صرف عدالتی فیصلے کی روح کے منافی ہے بلکہ اصولِ انصاف، وقارِ انسانی اور قرینۂ معصومیت کو بھی مجروح کرتا ہے۔

لہذا لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ درخواست گزار پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ کا حق دار ہے، اور ایسا سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے جس میں اس کی بریت اور کسی بھی موجودہ مجرمانہ ذمہ داری کی عدم موجودگی واضح طور پر ظاہر ہو۔

عبدالرحمن فریاد بنام حکومت پنجاب وغیرہ
PLJ 2026 LHR 84

یہ قانون کا ایک طے شدہ اصول ہے کہ maintenance (نان و نفقہ) کا حق بچے کا اپنا حق ہے۔ یہ حق بچے کی welfare (فلاح و بہبود)،...
19/02/2026

یہ قانون کا ایک طے شدہ اصول ہے کہ maintenance (نان و نفقہ) کا حق بچے کا اپنا حق ہے۔ یہ حق بچے کی welfare (فلاح و بہبود)، justice (انصاف) اور equity (مساوات) پر مبنی ہے۔ جب یہ بات قانون کے مطابق ثابت ہو جائے کہ کوئی شخص بچے کا biological father (حیاتیاتی باپ) ہے، تو اس پر بچے کی کفالت کرنا لازمی ہو جاتا ہے۔ وہ صرف اس بنیاد پر ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا کہ بچہ قانونی نکاح کے اندر پیدا نہیں ہوا یا وہ کسی technical plea (تکنیکی اعتراض) کا سہارا لے۔

قانون “legitimate child (جائز اولاد)” اور “biological child (حیاتیاتی اولاد)” میں فرق کرتا ہے۔

▪️یہ کہ Biological child وہ ہے جس کا جینیاتی تعلق باپ سے ثابت ہو۔

▪️یہ کہ Legitimate child وہ ہے جو قانونی نکاح کے اندر پیدا ہو۔

اس فرق کو واضح طور پر لاہور ہائیکورٹ نے مقدمہ Muhammad Afzal v. Judge Family Court میں بیان کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی شخص سے بطور biological father نان و نفقہ طلب کیا جائے اور وہ paternity (نسبت) سے انکار کرے، تو مدعی پر لازم ہے کہ وہ قابلِ قبول اور trustworthy evidence (قابلِ اعتماد شہادت) کے ذریعے حیاتیاتی نسبت ثابت کرے۔ جب نسبت ثابت ہو جائے تو باپ پر بچے کا خرچہ دینا قانونی اور اخلاقی دونوں لحاظ سے لازم ہے۔

یہ بھی اہم ہے کہ ہر شخص کی dignity (عزت و وقار) کو آئینِ پاکستان کے Article 14 کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ عدالتیں سماجی تعصب یا عورت کی کردار کشی کا ذریعہ نہیں بن سکتیں۔ اگر کوئی عورت اپنے یا اپنے بچے کے حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت آئے تو اس کے خلاف بے بنیاد الزامات یا جھوٹے دفاع قبول نہیں کیے جا سکتے۔ عدالت کا عمل کسی کو secondary victimization (دوبارہ اذیت) دینے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔

بچوں کے معاملات میں سب سے اہم اصول “best interest of the child” ہے، یعنی بچے کا بہترین مفاد۔ آئینِ پاکستان کے Articles 9, 14, 25 اور 35 بھی بچوں کے تحفظ اور مساوی سلوک کی ضمانت دیتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان نے Convention on the Rights of the Child (CRC) کے تحت بھی یہ ذمہ داری قبول کی ہے کہ بچوں کے ساتھ بلا امتیاز تحفظ فراہم کیا جائے۔

یہ بات بھی واضح ہے کہ بچے کے حقوق کو بڑوں کے جھگڑوں یا غلطیوں کی وجہ سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ حتیٰ کہ اگر کہا جائے کہ بچہ نکاح کے بغیر پیدا ہوا، تب بھی قانون اسے بے حق نہیں قرار دیتا۔ maintenance اور protection بچے کا حق ہے۔ جب biological paternity ثابت ہو جائے تو خرچہ دینا لازمی ہو جاتا ہے۔ “Illegitimacy” کا الزام باپ کے لیے ذمہ داری سے بچنے کا بہانہ نہیں بن سکتا اور نہ ہی کسی معصوم بچے کو اس کے حقوق سے محروم کیا جا سکتا ہے۔

آخر میں، suit for jactitation of marriage ایک civil remedy ہے۔ یہ اس وقت دائر کیا جاتا ہے جب کوئی شخص مسلسل اور جھوٹا نکاح کا دعویٰ کرے۔ اس کا مقصد عدالت سے یہ declaration لینا ہوتا ہے کہ کوئی valid marriage موجود نہیں، اور مخالف فریق کو آئندہ ایسے جھوٹے دعوے سے روکا جائے (decree of perpetual silence)۔

(بحوالہ: C.P.L.A. 5626/2024، Mohammad Shahzad v. Mst. Ayesha Noor، فیصلہ از مسٹر جسٹس شاہد بلال حسن، مؤرخہ 18-02-2026)

03/02/2026

P L D 2026 Supreme Court 20
نکاح نامہ کے کالم نمبر 13 اور 16 — تشریح
کالم نمبر 13 میں مہر کی رقم اور کالم نمبر 16 میں غیر منقولہ جائیداد کا اندراج—
نکاح بطور سول معاہدہ — ابہام کی صورت میں فریقین کی حقیقی نیت کی بنیاد پر تشریح*
*Interpretation of Columns 13 & 16 of Nikahnama — Cash Dower and Immovable Property as Distinct and Enforceable rights*
خاندانی عدالت نے بیوی کو کالم نمبر 16 میں درج جائیداد کی صورت میں مہر کا حقدار قرار دیا۔
اپیلیٹ کورٹ نے قرار دیا کہ بیوی کالم نمبر 13 میں درج مہر کی رقم اور کالم نمبر 16 میں درج جائیداد دونوں کی حقدار ہے۔
ہائی کورٹ نے یہ قرار دیا کہ کالم نمبر 16 میں درج مہر، کالم نمبر 13 میں درج رقم کے بدلے (in lieu) ہے، لہٰذا اگر رقم ادا کر دی جائے تو جائیداد کی وصولی کا حق باقی نہیں رہتا۔

قرار دیا گیا:
اگر ہائی کورٹ کی تشریح کو درست مان لیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ نقد مہر کی ادائیگی سے مہر کی دیگر صورتیں (جیسے منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد) عملاً بے معنی ہو جائیں گی، جو مہر کے بنیادی تصور کے خلاف ہے۔
مہر کا بنیادی تصور یہ ہے کہ فریقین اپنی آزاد مرضی سے مہر کو کسی بھی ایسی شکل میں طے کر سکتے ہیں جس کی مارکیٹ ویلیو ہو۔

لہٰذا فریقین اس بات پر متفق ہو سکتے ہیں کہ مہر نقد رقم کے علاوہ اور اس سے الگ جائیداد کی صورت میں بھی ہو۔
نکاح نامہ کے کالموں کی سرخیاں بذاتِ خود فیصلہ کن نہیں ہوتیں اور نہ ہی فریقین کی نیت پر غالب آ سکتی ہیں، کیونکہ ایسا کرنے سے مہر کے تصور کی نفی ہو جائے گی۔

ہائی کورٹ نے کالم نمبر 13 کی شرط پوری ہونے سے مشروط کر کے کالم نمبر 16 میں درج غیر منقولہ جائیداد کی صورت میں طے شدہ مہر کے حق کو عملاً غیر مؤثر بنا دیا، جو غلط تھا۔
مہر ایک لازمی حق ہے اور وہ کسی بھی ایسی چیز کی صورت میں ہو سکتی ہے جس کی مارکیٹ ویلیو ہو—چاہے نقد ہو، جائیداد ہو یا دونوں۔
فریقین اس بات پر متفق ہو سکتے ہیں کہ مہر نقد رقم کے ساتھ ساتھ غیر منقولہ جائیداد کی صورت میں بھی دیا جائے۔
کالم نمبر 13، کالم نمبر 14، 15 اور 16 کے اندراجات پر کسی قسم کی بالادستی یا پابندی عائد نہیں کرتا جیسا کہ ہائی کورٹ نے قرار دیا۔
اپیلیٹ کورٹ نے شواہد اور کالم نمبر 13، 14 اور 16 کے اندراجات کی درست تشریح کرتے ہوئے فریقین کی اصل نیت کو درست طور پر سمجھا تھا۔
لہٰذا ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا گیا اور اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ و ڈگری بحال کی گئی۔

نکاح نامہ کے کالم نمبر 13 اور 16 — امتیاز
کالم نمبر 16 میں استعمال ہونے والے الفاظ “بدلے میں (in lieu)”، “کل” اور “حصہ” کی تشریح—
کالم نمبر 13 کا عنوان “مہر کی رقم” ہے، جو عموماً نقد مہر کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس سے مراد مہر کی مجموعی مالیت نہیں ہوتی، کیونکہ فریقین مہر کو مختلف صورتوں میں (نقد اور جائیداد) دینے پر متفق ہو سکتے ہیں۔

اردو متن میں لفظ “رقم” استعمال ہوا ہے، جو واضح طور پر نقد رقم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اسی طرح کالم نمبر 14 اور 15 کی سرخیاں بھی کالم نمبر 13 سے متعلق اور کالم نمبر 16 سے الگ سمجھی جائیں گی۔

کالم نمبر 16 کی سرخی سے واضح ہوتا ہے کہ یہ خاص طور پر مہر کی صورت میں جائیداد کے اندراج کے لیے ہے۔
لفظ “بدلے میں” یہاں “کل مہر” یا “مہر کے کسی حصے” کے تناظر میں استعمال ہوا ہے، نہ کہ کالم نمبر 13 میں درج رقم کے بدلے میں، جیسا کہ ہائی کورٹ نے غلطی سے سمجھا۔

مہر صرف جائیداد کی صورت میں بھی مقرر ہو سکتی ہے، جو کل مہر کے بدلے ہو گی، یا جائیداد مہر کے کسی حصے کے طور پر بھی دی جا سکتی ہے، جس صورت میں وہ نقد مہر کے علاوہ ہو گی۔
کالم نمبر 16 میں جائیداد کی تفصیل اور قیمت درج کرنے کی شرط بھی اس بات کو واضح کرتی ہے کہ یہ کالم خاص طور پر مہر کی صورت میں جائیداد کے لیے ہے۔

رجسٹرڈ نکاح نامہ — نوعیت اور ثبوتی حیثیت
رجسٹرڈ نکاح نامہ ایک عوامی دستاویز ہے اور اس کے اندراجات کے درست ہونے کا قانونی قرینہ (presumption of truth) موجود ہوتا ہے۔
نکاح نامہ ایک سول معاہدہ ہے جس میں فریقین کی باہمی رضامندی سے طے شدہ شرائط شامل ہوتی ہیں۔
نکاح کی بنیاد فریقین کی آزاد رضامندی ہے۔
مہر — کالم نمبر 13 اور 16 میں ابہام
نکاح نامہ کے کالم یا سرخیاں قطعی یا مقدس نہیں ہوتیں، بلکہ اصل فیصلہ کن عنصر فریقین کی نیت ہوتی ہے۔
معاہدے میں کسی بھی ابہام کی صورت میں فریقین کی حقیقی نیت معلوم کرنا لازم ہے۔
لہٰذا نکاح نامہ کی سرخیاں صرف رہنمائی کے لیے ہیں، حتمی فیصلہ کن نہیں۔

نکاح رجسٹرار کی ذمہ داری
نکاح نامہ کے اندراجات کی درستگی نکاح رجسٹرار کی اہلیت، علم اور تجربے پر منحصر ہوتی ہے۔
مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 5(2A) (پنجاب میں 2015 کی ترمیم) کے تحت نکاح رجسٹرار یا نکاح پڑھانے والے شخص پر لازم ہے کہ نکاح نامہ کے تمام کالم درست طور پر فریقین کے جوابات کے مطابق پُر کرے۔
اس ذمہ داری میں ناکامی پر دفعہ 5(4)(i) کے تحت تعزیری کارروائی ہو سکتی ہے۔
اسی لیے نکاح نامہ کی سرخیاں غلط فہمی یا غلط تشریح کا شکار ہو سکتی ہیں، خصوصاً جب نکاح پڑھانے والا شخص مطلوبہ قانونی فہم نہ رکھتا ہو۔

مہر — مفہوم، صورتیں اور دائرہ کار
مہر ایک لازمی شرط ہے، مگر اگر نکاح نامہ میں اس کا ذکر نہ بھی ہو تو نکاح درست رہتا ہے اور مہرِ مثل فرض کر لیا جاتا ہے۔
مہر عورت کا خالص حق ہے اور اس کا تعلق ایسی چیز سے ہے جس کی مارکیٹ ویلیو ہو۔
یہ نقد، جائیداد یا دونوں صورتوں میں ہو سکتا ہے، فوری یا مؤخر۔
اگر ادائیگی کی نوعیت طے نہ ہو تو وہ فوری تصور ہو گی (دفعہ 10)۔
غیر منقولہ جائیداد کی صورت میں بلا شرط مہر، نکاح نامہ کے اندراج کے ساتھ ہی بیوی کی ملکیت بن جاتی ہے۔
نکاح نامہ کی تشریح — شوہر کے حق میں مفروضہ؟
یہ تصور کہ مالی ذمہ داری شوہر پر ہونے کی وجہ سے ابہام کی صورت میں تشریح شوہر کے حق میں کی جائے، نکاح کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
پاکستان میں نافذ قانون فریقین کو آزاد رضامندی اور شرائط طے کرنے کا حق دیتا ہے۔
عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ کہیں سماجی یا ثقافتی دباؤ کی وجہ سے عورت کی آزاد مرضی متاثر تو نہیں ہوئی۔

سول پٹیشنز نمبر 768 اور 827/2022
مسز فخرہ جبین و دیگر بنام واصف علی
قانونی تجزیاتی جائزہ ۔۔۔۔
بنیادی قانونی سوال (Core Legal Issue)
کیا نکاح نامہ کے کالم نمبر 13 میں درج مہر کی رقم، کالم نمبر 16 میں درج غیر منقولہ جائیداد کی صورت میں مہر کو ختم (substitute) کر دیتی ہے یا دونوں علیحدہ، مستقل اور قابلِ نفاذ حقوق ہیں؟

اسی ایک سوال پر تینوں عدالتوں کی تشریحات مختلف رہیں، جسے سپریم کورٹ نے حتمی طور پر طے کیا۔

ہائی کورٹ کی تشریح — کیوں غلط قرار پائی؟
ہائی کورٹ نے یہ مفروضہ قائم کیا کہ:

کالم نمبر 16 میں درج جائیداد

کالم نمبر 13 میں درج رقم کے بدلے (in lieu) ہے

لہٰذا اگر شوہر نے نقد رقم ادا کر دی تو جائیداد دینے کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے

سپریم کورٹ کے مطابق اس تشریح کی خامیاں:
مہر کے بنیادی تصور کی نفی
مہر کا تصور محض مالی لین دین نہیں بلکہ ایک آزاد معاہداتی حق ہے، جس میں فریقین کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ مہر کو کسی بھی صورت میں طے کریں۔

جائیداد کی صورت میں مہر کو غیر مؤثر بنا دینا
اگر نقد رقم کی ادائیگی سے جائیداد کا حق ختم ہو جائے تو عملی طور پر مہر کی صورت میں جائیداد رکھنا بے معنی ہو جاتا ہے۔

فریقین کی نیت کو نظر انداز کرنا
معاہدات کی تشریح کا بنیادی اصول ہے کہ

“Form does not override intent”
مگر ہائی کورٹ نے فارم (کالم ہیڈنگز) کو نیت پر فوقیت دی۔

سپریم کورٹ کا اصولی مؤقف (Authoritative Ratio Decidendi)
سپریم کورٹ نے درج ذیل قانونی اصول وضع کیے:

(الف) مہر کی مختلف صورتیں بیک وقت ممکن ہیں
مہر:

صرف نقد ہو سکتی ہے

صرف جائیداد ہو سکتی ہے

یا نقد + جائیداد دونوں ہو سکتی ہیں

کوئی قانونی ممانعت موجود نہیں کہ مہر صرف ایک ہی صورت میں ہو۔

(ب) کالم نمبر 13 نقد مہر کے لیے ہے، مجموعی مہر کے لیے نہیں
کالم نمبر 13 کا عنوان:

“Amount of Dower”

اردو متن میں لفظ:

“رقم”

یہ دونوں واضح کرتے ہیں کہ یہ صرف نقد مہر کی طرف اشارہ ہے، نہ کہ مہر کی مجموعی قدر (total valuation) کی طرف۔

(ج) کالم نمبر 16 بذاتِ خود ایک آزاد حق تخلیق کرتا ہے
کالم نمبر 16 میں:

جائیداد کی تفصیل

اس کی قیمت
درج کرنا لازمی ہے

یہ تقاضا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ:

یہ کالم مہر کی صورت میں جائیداد کے لیے مخصوص ہے، نہ کہ کالم 13 کی ذیلی شق۔

(د) لفظ “in lieu” کی درست تشریح
سپریم کورٹ نے نہایت اہم نکتہ واضح کیا:

“in lieu”:

کل مہر کے بدلے ہو سکتا ہے

یا مہر کے کسی حصے کے بدلے ہو سکتا ہے

مگر یہ ہرگز یہ معنی نہیں رکھتا کہ:

جائیداد، کالم نمبر 13 میں درج رقم کے بدلے ہے۔

یہ وہ بنیادی قانونی لغزش تھی جو ہائی کورٹ نے کی۔

نکاح نامہ — قانونی حیثیت اور ثبوتی قدر
رجسٹرڈ نکاح نامہ:
ایک Public Document ہے

اس کے اندراجات کے درست ہونے کا قانونی قرینہ موجود ہے

اس کے خلاف دعویٰ کرنے والے پر ثبوت کا بوجھ ہوتا ہے

نکاح نامہ بطور سول کنٹریکٹ:
فریقین کی آزاد رضامندی سے طے شدہ شرائط

عدالت فارم سے زیادہ معاہداتی نیت کو دیکھے گی

معاہدات کی تشریح — بین الاقوامی اصولوں سے ہم آہنگی
سپریم کورٹ کا مؤقف درج ذیل مسلمہ اصولوں سے ہم آہنگ ہے:

Intention of Parties Prevails

Contra Proferentem Rule (ابہام کی صورت میں تشریح اس کے خلاف ہو گی جو دستاویز تیار کرنے یا غالب پوزیشن میں ہو)

Substance over Form

نکاح رجسٹرار کی قانونی ذمہ داری
مسلم فیملی لاز آرڈیننس، 1961 — دفعہ 5(2A) (پنجاب):
تمام کالمز کو درست اور واضح پُر کرنا لازم

خلاف ورزی پر:

فوجداری ذمہ داری

جرمانہ / سزا

عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ:

بہت سے ابہامات نکاح رجسٹرار کی نااہلی یا غلط فہم اندراجات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

مہر — اسلامی اور قانونی حیثیت
بنیادی اصول:
مہر عورت کا خالص، ناقابلِ تنسیخ حق ہے

نکاح مہر کے بغیر بھی درست ہے مگر:

مہرِ مثل خود بخود لاگو ہو جاتا ہے

جائیداد کی صورت میں مہر:
نکاح نامہ کے اندراج کے ساتھ ہی:

عورت کی ملکیت بن جاتی ہے

شوہر بعد میں اس حق کو:

محدود

مشروط

یا ختم
نہیں کر سکتا

اہم قانونی نظیر (Precedential Value)
یہ فیصلہ مستقبل میں درج ذیل تنازعات میں کلیدی حوالہ ہو گا:

مہر میں جائیداد کے دعوے

نکاح نامہ کے کالمز کی تشریح

ابہام کی صورت میں عورت کے حق کا تحفظ

فیملی کورٹ اپیلز

نتیجاً مختصراً ۔۔۔۔

سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ

کالم نمبر 13 اور کالم نمبر 16 میں درج مہر ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ علیحدہ، آزاد اور قابلِ نفاذ حقوق ہو سکتے ہیں۔

ہائی کورٹ کا فیصلہ:

معاہداتی اصولوں

اسلامی تصورِ مہر

اور خواتین کے قانونی تحفظ
کے منافی تھا، اس لیے اسے کالعدم قرار دیا گیا۔

اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ:

درست تشریح

فریقین کی اصل نیت
اور قانون کے مطابق تھا، جسے بحال کر دیا گیا۔

خواتین کو زبردستی "خلع" دے کر ان کا حقِ مہر ختم نہیں کیا جا سکتا! ​سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک حالیہ فیصلے (CPLA No. 37...
03/02/2026

خواتین کو زبردستی "خلع" دے کر ان کا حقِ مہر ختم نہیں کیا جا سکتا!
​سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک حالیہ فیصلے (CPLA No. 3767 of 2025) میں خواتین کے حق میں ایک بہت بڑی رکاوٹ دور کر دی ھے۔
​کیس کیا تھا؟
ایک خاتون (مسماۃ نائلہ جاوید) نے اپنے شوہر کی دوسری شادی اور تشدد کی بنیاد پر طلاق مانگی تھی۔ لیکن فیملی کورٹ اور ہائی کورٹ نے اسے "خلع" قرار دے دیا، جس کی وجہ سے خاتون کا 12 لاکھ روپے کا حق مہر ختم ہو گیا۔
​سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ:
​عدالت کی من مانی ختم: اگر عورت نے "خلع" نہیں مانگی بلکہ شوہر کی غلطی (دوسری شادی یا تشدد) کی بنیاد پر طلاق مانگی ھے، تو عدالت اسے اپنی مرضی سے خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی۔
​حقِ مہر کا تحفظ: سپریم کورٹ نے خاتون کو خلع کے بجائے طلاق کا حقدار قرار دیا اور شوہر کو حکم دیا کہ وہ 12 لاکھ روپے حقِ مہر ادا کرے۔
​بغیر اجازت دوسری شادی: اگر شوہر پہلی بیوی یا ثالثی کونسل کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرے گا، تو یہ بیوی کے لئے طلاق لینے کی ٹھوس قانونی بنیاد ھے اور اس صورت میں مہر معاف نہیں ھوگا۔
​نتیجہ: اب کوئی بھی عدالت کسی خاتون کو اپنا حقِ مہر چھوڑنے (خلع لینے) پر مجبور نہیں کر سکے گی اگر شوہر قصوروار ھے۔

نوجوان وکلاء کیلئے جو منشیات قانون کے پریکٹس کرتے ہیں کیلئے نئے انداز میں پیش خدمت ھےمنشیات کی برآمدگی---ضمانت کی منظوری...
05/04/2025

نوجوان وکلاء کیلئے جو منشیات قانون کے پریکٹس کرتے ہیں کیلئے نئے انداز میں پیش خدمت ھے
منشیات کی برآمدگی---ضمانت کی منظوری---مزید تفتیش
درخواست گزار (ملزم) کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ امر حیران کن ہے کہ مئی کے مہینے میں شام 6 بجے، جب دن کی روشنی موجود تھی، ایک معروف عوامی پارک میں گرفتاری اور برآمدگی کے واحد گواہ پولیس اہلکار تھے، جن میں سے کسی نے بھی نہ تو ویڈیو ریکارڈنگ کی اور نہ ہی برآمدگی یا گرفتاری کی کوئی تصویر لی۔
مذکورہ مقدمے کے حالات و واقعات اسے مزید تفتیش (Further Inquiry) کا کیس بناتے ہیں۔ عدالت نے اپیل دائر کرنے کی اجازت کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کیا اور اسے منظور کرتے ہوئے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
👈منشیات کے مقدمات میں پولیس اور اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) کی جانب سے ویڈیو ریکارڈنگ اور تصاویر کا استعمال کے متعلق تفصیل---👇
اگر پولیس اور اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) سرچ، برآمدگی اور گرفتاری کے دوران اپنے موبائل فون کیمروں سے ویڈیو ریکارڈنگ کریں یا تصاویر لیں، تو یہ مؤثر ثبوت ہوگا جس سے درج ذیل امور ثابت ہو سکتے ہیں:
ملزم کی جائے وقوعہ پر موجودگی
ملزم کے قبضے سے منشیات کی برآمدگی
تلاشی اور ضبطگی کے عمل کی شفافیت
اسکے علاوہ، یہ اقدام اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) یا پولیس پر لگائے جانے والے جھوٹے الزامات کو روکنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے، جن میں بعض اوقات ملزم کے خلاف منشیات رکھنے کے جھوٹے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ، 1997 کی دفعہ 25، ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 103 کے اطلاق کو مستثنیٰ قرار دیتی ہے، جو تلاشی کے وقت دو یا زیادہ معزز شہریوں کو شامل کرنے کی شرط عائد کرتی ہے۔ تاہم، یہ سمجھنا مشکل ہے کہ پولیس اور ANF کے اہلکار سرچ، ضبطگی اور گرفتاری کے دوران ویڈیو ریکارڈنگ یا تصویری ثبوت کیوں محفوظ نہیں کرتے۔
قانون شہادت 1984 کے آرٹیکل 164 کے تحت کسی بھی ایسے ثبوت کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے جو جدید ٹیکنالوجی یا آلات کے ذریعے حاصل کیا گیا ہو، جبکہ اس کا آرٹیکل 165 تمام دیگر قوانین پر فوقیت رکھتا ہے۔

منشیات کے مقدمات میں استغاثہ کے گواہ عام طور پر ANF اہلکار یا پولیس افسران ہوتے ہیں، جن کے پاس بلاشبہ موبائل فون کیمرے موجود ہوتے ہیں۔ ان مقدمات میں عام طور پر چند ہی گواہ ہوتے ہیں، اور زیادہ تر یا تمام سرکاری اہلکار ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے مقدمات غیر ضروری طور پر طویل ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً، ملزم پہلے ٹرائل کورٹ میں ضمانت کے لیے درخواست دائر کرتا ہے، اور اگر وہاں مسترد ہو جائے تو ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جاتی ہے، اور اگر وہاں بھی مسترد ہو جائے تو سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی جاتی ہے۔
اگر پولیس اور ANF تلاشی، ضبطگی اور گرفتاری کے دوران ویڈیو ریکارڈنگ کریں یا تصاویر محفوظ کریں، تو یہ ثبوت مقدمے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں اور یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ملزم موقع پر موجود تھا، اس کے قبضے سے منشیات برآمد ہوئی، اور تلاشی کا عمل شفاف طریقے سے انجام دیا گیا۔ اس کے علاوہ، یہ اقدام پولیس اور ANF پر جھوٹے الزامات کی روک تھام میں بھی مدد دے سکتا ہے کہ انہوں نے ملزم پر بدنیتی کے تحت منشیات رکھنے کا جھوٹا الزام عائد کیا۔
👈سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ اس فیصلے کی ایک کاپی درج ذیل اداروں کو ارسال کی جائے:

1. سیکریٹری، وزارت انسداد منشیات، حکومتِ پاکستان

2. ڈائریکٹر جنرل، اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF)

3. چاروں صوبوں کے محکمہ داخلہ کے سیکریٹریز
4. چاروں صوبوں اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے انسپکٹر جنرلز آف پولیس (IGPs)
عدالت نے مزید تجویز کیا کہ متعلقہ ادارے اس بات پر غور کریں کہ آیا وہ ANF اور پولیس کے قواعد و ضوابط میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں تاکہ گرفتاری، ضبطگی اور تلاشی کے دوران ویڈیو ریکارڈنگ اور تصاویر محفوظ کرنے کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے، اور ان شواہد کو ٹرائل میں بروئے کار لایا جا سکے۔
🔴 2024 S C M R 934
[Supreme Court of Pakistan]

Present: Qazi Faez Isa, CJ, Amin-ud-Din Khan and Athar Minallah, JJ

ZAHID SARFARAZ GILL---Petitioner

Versus

The STATE---Respondent

Criminal Petition No. 1192 of 2023, decided on 22nd November, 2023.

(Against the order dated 20.09.2023 of the Islamabad High Court, Islamabad passed in Criminal Misc. No. 1285-B of 2023).

🍀(a) Criminal Procedure Code (V of 1898)---🍀

----S. 497(2)---Control of Narcotic Substances Act (XXV of 1997), S. 9(c)---Constitution of Pakistan, Art.185(3)---Possession of narcotics---Bail, grant of---Further inquiry---Counsel for the petitioner (accused) contended that it was surprising that in the month of May at 6 pm during daylight hours at a popular public park, the only witnesses were policemen, none of whom made a video recording, nor took any photographs of the seizure and arrest---Validity---Facts and circumstances of the instant case made it a case of further inquiry---Petition for leave to appeal was converted into appeal and allowed and accused was granted bail.

🍀(b) Control of Narcotic Substances Act (XXV of 1997)---🍀

----Ss. 9 & 25---Criminal Procedure Code (V of 1898), Ss. 103 & 497---Qanun-e-Shahadat (10 of 1984), Arts. 164 & 165---Narcotics cases---Use of video recording and photographs by the police and members of the Anti-Narcotics Force (ANF) when search, seizure and/or arrest is made---If the police and ANF were to use their mobile phone cameras to record and/or take photographs of the search, seizure and arrest, it would be useful evidence to establish the presence of the accused at the crime scene, the possession by the accused of the narcotic substances, the search and its seizure---It may also prevent false allegations being levelled against ANF/police that the narcotic substance was foisted upon the accused for some ulterior motives.
Section 25 of the Control of Narcotic Substances Act, 1997 ('the Act') excludes the applicability of section 103 of the Code of Criminal Procedure, 1898 which requires two or more respectable inhabitants of the locality to be associated when search is made. However, it was not understandable why the police and members of the Anti-Narcotics Force ('ANF') do not record or photograph when search, seizure and/or arrest is made. Article 164 of the Qanun-e-Shahadat, 1984 specifically permits the use of any evidence that may have become available because of modern devices or techniques, and its Article 165 overrides all other laws.
In narcotic cases the prosecution witnesses usually are ANF personnel or policemen who surely would have a cell phone with an in-built camera. In respect of those arrested with narcotic substances generally there are only a few witnesses, and most, if not all, are government servants. However, trials are unnecessarily delayed, and resultantly the accused seek bail first in the trial court which if not granted to them is then filed in the High Court and there too if it is declined, petitions seeking bail are then filed in the Supreme Court. If the police and ANF were to use their mobile phone cameras to record and/or take photographs of the search, seizure and arrest, it would be useful evidence to establish the presence of the accused at the crime scene, the possession by the accused of the narcotic substances, the search and its seizure. It may also prevent false allegations being levelled against ANF/police that the narcotic substance was foisted upon them for some ulterior motives.
Supreme Court directed that copy of present order be sent to the Secretary Ministry of Narcotics Control, Government of Pakistan, Director-General, Anti-Narcotics Force, the Secretaries of the Home Departments of all the provinces, Inspector Generals of Police of all the provinces and of the Islamabad Capital Territory; that they may also consider whether they want to amend the ANF/Police rules to ensure making video recordings/taking photographs whenever possible with regard to capturing, preserving and using such evidence at trial.

Date of hearing: 22nd November, 2023.
🔴 ORDER
QAZI FAEZ ISA, CJ. The learned counsel for the petitioner states that the petitioner was falsely implicated in case arising out of FIR No. 173 registered at Police Station Secretariat, Islamabad on 29 May 2023 which was registered as a counterblast to the written complaint submitted by the petitioner against some police officials on 17 May 2023. He further states that the record establishes that the petitioner was not at the stated place of incident and this aspect of the case has not been examined by the Investigating Officer.

2. Notice was issued to the respondent-State on 30 October 2023 and the learned State counsel is in attendance. He states that the chemical report confirms that the seized substance was narcotic - charas - and the total quantity is 1833 grams, which as per the Table in section 9(1) of the Control of Narcotic Substances Act, 1997 ('the Act') comes under clause (c) of its third category and prescribes a minimum imprisonment of nine years and a maximum of fourteen years, and fine. The learned State counsel further states that the petitioner was caught red handed by the police in a public place at 6 pm in the month of May and the case against him is fully established.

3. The learned counsel for the petitioner in rebuttal states that the petitioner has attributed mala fide to the police and it is surprising that in the month of May at 6 pm during daylight hours at a popular public park, the only witnesses were policemen, none of whom made a video recording, nor took any photographs of the seizure and arrest.

4. The facts and circumstances of the instant case makes it a case of further inquiry. Accordingly, the petitioner is granted bail, in case arising out of FIR No. 173, dated 29 May 2023, registered at Police Station, Secretariat, Islamabad, subject to furnishing bail bond in the sum of one hundred thousand rupees with one surety in the like amount to the satisfaction of the Trial Court. This petition is converted into an appeal and allowed by setting aside the impugned order. We think it appropriate to make certain observations which were necessitated by the facts of this and other narcotic substance cases.
5. We are aware that section 25 of the Act excludes the applicability of section 103 of the Code of Criminal Procedure, 1898 which requires two or more respectable inhabitants of the locality to be associated when search is made. However, we fail to understand why the police and members of the Anti-Narcotics Force ('ANF') do not record or photograph when search, seizure and/or arrest is made. Article 164 of the Qanun-e-Shahadat, 1984 specifically permits the use of any evidence that may have become available because of modern devices or techniques, and its Article 165 overrides all other laws.

6. In narcotic cases the prosecution witnesses usually are ANF personnel or policemen who surely would have a cell phone with an in-built camera. In respect of those arrested with narcotic substances generally there are only a few witnesses, and most, if not all, are government servants. However, trials are unnecessarily delayed, and resultantly the accused seek bail first in the trial court which if not granted to them is then filed in the High Court and there too if it is declined, petitions seeking bail are then filed in this Court. If the police and ANF were to use their mobile phone cameras to record and/or take photographs of the search, seizure and arrest, it would be useful evidence to establish the presence of the accused at the crime scene, the possession by the accused of the narcotic substances, the search and its seizure. It may also prevent false allegations being levelled against ANF/police that the narcotic substance was foisted upon them for some ulterior motives.
7. Those selling narcotic substances make their buyers addicts, destroy their state of mind, health and productivity, and adversely affect the lives of their family members. The very fabric of society is damaged. ANF and the Police forces are paid out of the public exchequer. It is incumbent upon them to stem this societal ill. The Prosecution services, paid out of the public exchequer, is also not advising the ANF/police to be do this simple act of making a recording and/or taking photographs as stated above.

8. A consequence of poor investigation, not supported by evidence adversely affects the cases of the prosecution. The courts, which too are sustained by the public exchequer, are burdened with having to attend bail applications because the commencement and conclusion of the trial is delayed. It is time that all institutions act professionally and use all available lawful means to obtain evidence. A credible prosecution and adjudication process also improves public perception. We expect that all concerned will attend to these matters with the attention that they demand, because the menace of narcotic substances in society has far reaching consequences: by destroying entire households, creating societal problems and casting a heavy financial burden on the State when drug addicts are required to be treated. Moreover, research indicates that drugs addicts resort to all methods to obtain drugs, including committing crimes.

9. Copy of this order be sent to the Secretary Ministry of Narcotics Control, Government of Pakistan, Director-General, Anti-Narcotics Force, the Secretaries of the Home Departments of all the provinces, Inspector-Generals of Police of all the provinces and of the Islamabad Capital Territory. They may also consider whether they want to amend the ANF/Police rules to ensure making video recordings/ taking photographs whenever possible with regard to capturing, preserving and using such evidence at trial.

MWA/Z-11/SC Bail granted.

05/04/2025

‏بلیک_میلنگ

خدانخواستہ اگر کسی خاتون نے اپنی ذاتی (صاف ستھری ناقابلِ اعتراض) تصویریں کسی دوست /کزن / کلاس فیلوز کے ساتھ یا کسی کلوزڈ گروپ میں شئیر کیں اور وہاں سے کسی بلیک میلر نے اٹھا کر AI کی مدد سے انہیں فحش تصاویر میں کنورٹ کر دیا تو اس واردات سے خود کو محفوظ کرنے کے لیے،

آپ اپنی اصل تصاویر اور ایڈٹ شدہ Morphed تصویریں ایک ویب سائٹ stop ncii org پر پوسٹ کر کے تمام تصاویر انٹرنیٹ سے Delete کروا سکتے ہیں،

ہوگا یہ کہ اگر بلیک میلر کسی بھی قسم کے فائدے کے لیے آپ کو Morphed تصویریں وائرل کرنے کی دھمکیاں دے اور خدانخواستہ پوسٹ کر بھی دے.

تو آپ نے مذکورہ ویب سائٹ پر جا کر دونوں تصاویر (یعنی اصل اور Morphed) کو اس ویب سائٹ پر موجود Create a case کے آپشن میں جا کر پوسٹ کر دینا ہے،

ویب سائٹ آپ سے ان تصاویر کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات حاصل کرے گی اور ویریفیکیشن کرکے تمام Morphed تصویروں کو انٹرنیٹ پر جہاں جہاں بھی یہ شئیر/ پوسٹ ہوئی ہیں وہاں سے ڈیلیٹ کر دے گی.
ان معاملات میں ہر صورت گھر والوں کو اعتماد میں لیں اور سائبر کرائم میں رپورٹ کریں. یہ پوسٹ زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اکاؤنٹ فا لو ضرور کریں
2nd method

بلیک میل ہونا چھوڑئیے ۔۔

اگرکوئی مرد عورت آپکو بلیک میل کرنےکی کوشش کرےیا آپکو آپکےپرسنل ڈیٹا (تصاویر/ ویڈیوز)کو لیک آؤٹ کرنےکی دھمکی دےتو اس صورت میں قانونی رہنمائی کے لیے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن پاکستان سےرابطہ کریں.
0800-39393
ایف آئی اے میں ڈائریکٹ کمپلین کرنےکیلیےیہ سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر 9911 ڈائل کریں یا پھر آن لائن شکایت درج کروانے کے لیے [email protected] پر ای-میل کریں۔
‏یہ آپکی شناخت بناسامنےلائےآپکی شکایت درج کرانےمیں نہ صرف آپکی مدد کرینگےبلکہ محکمہFIAاس شکایت پرسخت کاروائی بھی کرےگا-
Cyber Crime Reporting Centers Phone Numbers:
Islamabad (ICT) 051-9262106, 051-9262107-08
Rawalpindi 051-9330717, 051-9334919,051-9330720
Lahore 042-99332744
Peshawar 091-9217109
Quetta 081-2870057
Karachi 021-99333950
Multan 061-9330999
Sukkar 071-9310849
Faisalabad 041-9330865
Gujranwala 055-9330015-16
Dera Ismail Khan 0966-852945
Hyderabad 022-9250009
Gawadar 0322-2451500
Gilgit 05811-920409
Abbottabad 099-2384148
اس پوسٹ کو زیادہ سےزیادہ شیئرکریں اور ہماری ان بہنوں/بھائیوں کی مددکریں جو اس حوالے سےکسی پریشانی میں مبتلاہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے جنسی استحصال کے نتیجے یا شادی کے بغیر پیدا ہونے والے بچوں کی کفالت کرنا بائیولوجیکل والد کی ذمہ داری ق...
18/03/2025

لاہور ہائیکورٹ نے جنسی استحصال کے نتیجے یا شادی کے بغیر پیدا ہونے والے بچوں کی کفالت کرنا بائیولوجیکل والد کی ذمہ داری قرار دے دیا، جسٹس احمد ندیم ارشد نے محمد افضل کی درخواست پر 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا، فیصلے میں عدالت نے پانچ سالہ بچی کے خرچے کے دعوے سے متعلق کیس دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھجواتے ہوئے شواہد کی روشنی میں دوبارہ فیصلے کرنے کی ہدایت کر دی۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگر خاتون ثابت کرے کہ بچی کا بائیولوجیکل والد درخواست گزار ہے تو ٹرائل کورٹ بچی کا خرچہ مقرر کرے، عدالت نے تمام فریقین کو ٹرائل کورٹ کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کر دی، جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلے میں لکھا کہ انصاف اور برابری کا تقاضہ یہ ہے اگر بچی کا بائیولوجیکل والد ثابت ہو جائے تو وہ اس کے اخراجات کا پابند ہے، بائیولوجیکل والد کی اخلاقی ذمہ دار بھی ہے کہ وہ اپنے ناجائز بچے کی ذمہ داری اٹھائے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ریکارڈ کے مطابق 2020ء میں درخواستگزار نے خاتون مریم سے مبینہ زیادتی کی، درخواستگزار کے خلاف زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، مبینہ زیادتی کے نتیجے میں خاتون نے بیٹی کو جنم دیا، خاتون نے بچی کے خرچے کیلئے بائیولوجیکل والد کے خلاف دعویٰ دائر کیا جبکہ درخواستگزار نے ٹرائل کورٹ میں بیان دیا کہ بچی اس کی نہیں ہے، لہٰذا خرچے کا دعویٰ مسترد کیا جائے تاہم ٹرائل کورٹ نے خاتون کا دعویٰ تسلیم کرتے ہوئے بچی کا 3 ہزار خرچہ مقرر کر دیا۔

Address

Jhang Sadar
35200

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923457585335

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hassnain bhorana advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Hassnain bhorana advocate:

Share

Category