Hassnain bhorana advocate

Hassnain bhorana advocate Only lawyers and painters can turn black into white

لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر بچی کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ، 18 سال سے کم عمر کی شادی غیرقانونی قرارپنجاب چائلڈ میرج ری سٹری...
02/09/2026

لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر بچی کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ، 18 سال سے کم عمر کی شادی غیرقانونی قرار

پنجاب چائلڈ میرج ری سٹرینٹ ایکٹ 2026 کے تحت فیصلہ جاری

عدالت میں حنا اسلم کی نکاح کے وقت عمر 15 سال ہونے کا انکشاف

کم عمر بچی کی شادی کے خلاف نئی ایف آئی آر کی درخواست پر پولیس کو تحقیقات کا حکم

جسٹس آف پیس کا اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار

کم عمر بچی کی شادی سے متعلق نئے شواہد پر پولیس کو قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت

لاہور ہائیکورٹ کا حنا اسلم کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کرنے کا حکم

حنا اسلم کی حفاظت، فلاح و بہبود اور مفادات کو مقدم رکھا جائے۔ عدالت

بچے کی مرضی اہم لیکن کم عمری میں خود بخود فیصلہ کن نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت

کم عمر بچوں کی شادی کے خلاف قانون کا مقصد بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ عدالت

قابل سزا جرم کی موجودگی کا تعین کرنے کے لئے نئے مقدمے کی تحقیقات کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر بچی کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے متعلقہ اداروں کو اقدامات کا حکم
Child marriage. The child's purported consent cannot legitimize cohabitation expressly treated as child abuse under the Punjab Child Marriage Restraint Act, 2026, and her welfare and best interests remain paramount in determining custody and protective placement. Where a subsequent complaint discloses distinct cognizable offences relating to the solemnization and facilitation of a child marriage, it is not barred as a second FIR under Sughran Bibi; As an interim protective measure, custody of a child who is prima facie a victim of child abuse may be entrusted to the Child Protection and Welfare Bureau to safeguard her rights and provide a secure environment until her safety and well-being are assured. The question of permanent custody may thereafter be determined by the competent Guardian Judge in accordance with the welfare and best interests of the child.
W.P. 46868/26
Muhammad Aslam Vs Additional Sessions Judge etc
Mr. Justice Munawar Iqbal Duggal
2026 LHC 5390
ANNOUNCED IN OPEN COURT on 31.08.2026

📜 وراثتی انتقال کروانے کا مکمل اور آسان طریقہ کارکسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی ملکیتی جائیداد کو اس کے قانونی و شرعی وا...
13/08/2026

📜 وراثتی انتقال کروانے کا مکمل اور آسان طریقہ کار

کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی ملکیتی جائیداد کو اس کے قانونی و شرعی وارثان کے نام منتقل کروانے کے لیے وراثتی انتقال کا اندراج ضروری ہے۔ بروقت وراثتی انتقال نہ کروانے کی صورت میں مستقبل میں جائیداد کی تقسیم، فروخت یا دیگر معاملات میں پیچیدگیاں اور تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں۔

🔹 1۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کریں

متوفی کے وارثان میں سے کوئی بھی وارث متعلقہ یونین کونسل/متعلقہ اتھارٹی سے متوفی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرے گا۔

🔹 2۔ نادرا سے FRC حاصل کریں
نادرا سے متوفی کا Family Registration Certificate (FRC) حاصل کیا جائے، تاکہ خاندان اور ممکنہ وارثان کی تفصیل سامنے آ سکے۔

🔹 3۔ بیانِ حلفی اور نمبردار کی تصدیق

وراثتی انتقال کے لیے:
کسی ایک وارث کی طرف سے بیانِ حلفی تیار کیا جائے گا۔
متعلقہ گاؤں کے نمبردار کی طرف سے بھی بیان/تصدیق دی جائے گی۔
دونوں میں تمام زندہ قانونی وارثان کی مکمل اور درست تفصیل درج ہونا ضروری ہے۔

🔹 4۔ درخواست اور دستاویزات جمع کروانا

اگر موضع/چک مینوئل ہو تو وراثتی انتقال کے اندراج و منظوری کے لیے درخواست تحصیلدار صاحب کے دفتر میں، جبکہ آن لائن ریکارڈ کی صورت میں متعلقہ ADLR کے دفتر میں جمع کروائی جائے گی۔
درخواست کے ساتھ عموماً:
📌 ڈیتھ سرٹیفکیٹ
📌 نادرا FRC
📌 بیانِ حلفی
📌 نمبردار کی تصدیق/بیان
📌 دیگر مطلوبہ دستاویزات
کی فائل جمع کروائی جاتی ہے۔

🔹 5۔ پٹواری حلقہ کی طرف سے تصدیق اور شجرہ نسب
متعلقہ افسر درخواست مارک کرکے پٹواری حلقہ کو بھجوائے گا۔ پٹواری حلقہ دستاویزات کی جانچ کے بعد وارثان سے رابطہ کرے گا اور موقع پر نمبردار اور پتی دار کی موجودگی میں وارثان کی تصدیق کرے گا۔
اس کے بعد پٹواری حلقہ تمام قانونی وارثان کو شامل کرتے ہوئے شجرہ نسبِ وارثان تیار کرے گا اور اپنی رپورٹ مرتب کرے گا، جس کی حسبِ ضابطہ متعلقہ گرداور اور تحصیلدار سے تصدیق ہوگی۔

🔹 6۔ انتقال کا اندراج اور اخبار میں اشتہار

شجرہ نسب اور وارثان کی تصدیق مکمل ہونے کے بعد وراثتی انتقال کا اندراج کیا جائے گا۔
اس کے بعد متعلقہ تحصیلدار/ADLR کی عدالت کی طرف سے حسبِ ضابطہ اخبار میں اشتہار شائع کروایا جائے گا، جس میں متوفی کے درج شدہ وارثان کی تفصیل دی جاتی ہے اور عوام کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اگر کسی شخص کو کسی وارث کے رہ جانے یا کسی دیگر قانونی اعتراض کے بارے میں کوئی دعویٰ یا عذر ہو تو مقررہ مدت، مثلاً 15 یوم کے اندر بمعہ ثبوت اپنا اعتراض پیش کرے۔

🔹 7۔ عدالت میں حاضری اور شجرہ نسب کی تصدیق

مقررہ کارروائی کے دوران متعلقہ تحصیلدار/ADLR کی عدالت میں کسی ایک وارث کی حاضری بھی ضروری ہو سکتی ہے۔
نمبردار اور ایک گواہ، مثلاً پتی دار، شجرہ نسبِ وارثان اور وارثان کی شناخت/تصدیق کریں گے۔

🔹 8۔ شرعی و قانونی حصص کے مطابق انتقال کی منظوری

تمام قانونی تقاضے مکمل ہونے اور کسی قابلِ سماعت اعتراض کی عدم موجودگی کی صورت میں متعلقہ تحصیلدار/ADLR قانون اور قابلِ اطلاق شرعی اصولوں کے مطابق تمام وارثان کے حصص کا تعین کرتے ہوئے وراثتی انتقال منظور کرے گا۔

⚠️ اہم بات
وراثتی انتقال میں سب سے اہم مرحلہ تمام قانونی وارثان کی درست نشاندہی ہے۔ کسی ایک وارث کو جان بوجھ کر چھپانا یا شجرہ نسب میں غلط معلومات درج کروانا مستقبل میں سنگین قانونی تنازع کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ دستاویزات، اشتہار، حاضری اور دیگر کارروائی کا طریقہ کار موضع کے ریکارڈ کی نوعیت اور متعلقہ صوبائی/ریونیو قوانین کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ اس لیے عملی کارروائی شروع کرنے سے پہلے متعلقہ ریونیو آفس سے موجودہ طریقہ کار کی تصدیق ضرور کر لیں۔

📌 آپ کے لیے مفید معلومات

اگر آپ کو وراثتی انتقال، انتقال، رجسٹری، کھیوٹ تقسیم، شجرہ نسب، فردِ ملکیت، زمین کی تقسیم یا دیگر اراضی ریکارڈ سے متعلق رہنمائی درکار ہے تو اپنی صورتحال کمنٹ میں بتائیں یا ان باکس رابطہ کریں۔
یا واٹس ایپ نمبر پر رابطہ03457585335

اراضی ریکارڈ اور ریونیو معاملات سے متعلق معلومات و رہنمائی
#وراثت #انتقال #پٹواری #تحصیلدار

لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: بجلی کے بل، سول عدالت کے دائرۂ اختیار اور الیکٹرک انسپکٹر کی اتھارٹی۔ اس مقدمہ میں لیسکو (L...
21/07/2026

لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: بجلی کے بل، سول عدالت کے دائرۂ اختیار اور الیکٹرک انسپکٹر کی اتھارٹی۔

اس مقدمہ میں لیسکو (LESCO) نے لاہور ہائیکورٹ میں سول ریویژن دائر کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے ان متفقہ فیصلوں کو چیلنج کیا جن کے ذریعے صارف کے حق میں بجلی کا تقریباً 2,05,043 روپے کا بل غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ صارف کا مؤقف تھا کہ اس کے بل میں تقریباً 19,000 اضافی یونٹس شامل کر دیے گئے ہیں، جس کی بنیاد پر بل ضرورت سے زیادہ جاری کیا گیا۔ دوسری جانب لیسکو نے مؤقف اختیار کیا کہ بل میٹر ریڈنگ اور بقایا جات کے مطابق درست تھا، صارف کئی ماہ سے ادائیگی نہیں کر رہا تھا اور بقایا رقم جمع ہونے کی وجہ سے یہ بل بنا۔ مزید یہ بھی اعتراض اٹھایا گیا کہ مقدمہ اصل صارف نے نہیں بلکہ ایک ایسے شخص نے دائر کیا جو ریکارڈ کے مطابق صارف نہیں تھا، جبکہ اصل صارف فوت ہو چکا تھا اور اس کے قانونی ورثاء کو مقدمہ میں فریق بھی نہیں بنایا گیا تھا۔

عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ مقدمہ ایک فوت شدہ شخص کی طرف سے، قانونی ورثاء کو شامل کیے بغیر دائر کیا گیا، جو قانوناً قابلِ سماعت نہیں تھا۔ مزید برآں ریکارڈ پر موجود Exh.D1 سے واضح تھا کہ بل اضافی یونٹس کی بنیاد پر نہیں بلکہ مسلسل بقایا جات اور عدم ادائیگی کے باعث بڑھا تھا، لیکن ماتحت عدالتوں نے اس اہم دستاویزی شہادت کا درست جائزہ نہیں لیا۔

📍اہم قانونی نکات (Legal Points)

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ میٹر کی درستگی، میٹر کی خرابی، میٹر ٹیسٹنگ، یونٹس کی پیمائش، بجلی کے استعمال کی مقدار اور بلنگ سے متعلق تکنیکی تنازعات بنیادی طور پر الیکٹرک انسپکٹر کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔ ایسے معاملات میں سول عدالتیں تکنیکی سوالات کا فیصلہ نہیں کر سکتیں کیونکہ یہ خصوصی مہارت رکھنے والے فورمز کے سپرد کیے گئے ہیں۔

عدالت نے وضاحت کی کہ Electricity Act, 1910 کی دفعہ 26(6) اور Regulation of Generation, Transmission and Distribution of Electric Power Act, 1997 کی دفعہ 38 ایک مکمل قانونی نظام فراہم کرتی ہیں، جس کے تحت پہلے الیکٹرک انسپکٹر اور بعد ازاں نیپرا کے سامنے اپیل کا حق موجود ہے۔ اگرچہ قانون میں سول عدالت کے اختیار کو ختم کرنے کی واضح شق موجود نہیں، لیکن قانون کی اسکیم سے یہ بات لازم طور پر ظاہر ہوتی ہے کہ ایسے تکنیکی معاملات خصوصی فورمز ہی طے کریں گے۔

عدالت نے "Implied Exclusion Test" بھی وضع کیا اور قرار دیا کہ اگر کوئی قانون نیا حق یا ذمہ داری پیدا کرے، اس کے لیے خصوصی فورم قائم کرے، مکمل ریلیف فراہم کرے اور اس فورم کو خصوصی اختیار دے، تو ایسے معاملات میں سول عدالت کا دائرۂ اختیار بالواسطہ طور پر ختم ہو جاتا ہے۔

تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر تنازعہ دھوکہ دہی، جعلسازی، بدنیتی، جعلی انسپکشن رپورٹ، شہری حقوق، جائیداد کے حق یا معاہداتی حقوق سے متعلق ہو تو ایسے معاملات میں سول عدالت کا اختیار برقرار رہتا ہے کیونکہ یہ امور الیکٹرک انسپکٹر کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ بجلی چوری، میٹر ٹیمپرنگ، ڈائریکٹ ہکنگ یا بجلی کی غیر قانونی چوری جیسے معاملات محض میٹر تنازعہ نہیں بلکہ حقائق اور شہادت کے متقاضی ہوتے ہیں، اس لیے ان میں گواہوں کے بیانات، جرح اور دستاویزی ثبوت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔

عدالت نے یہ اصول بھی دہرایا کہ Detection Bill خود بخود کسی شخص کی ذمہ داری کا حتمی ثبوت نہیں ہوتا بلکہ محض بجلی کمپنی کا دعویٰ ہوتا ہے، جسے قانونی شہادت کے ذریعے ثابت کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح بجلی تقسیم کرنے والی کمپنی اپنے ہی مقدمہ میں خود تفتیش کار، فیصلہ ساز اور فائدہ اٹھانے والی نہیں بن سکتی کیونکہ یہ اصول Nemo Judex in Causa Sua کے خلاف ہے۔

آخر میں لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ موجودہ مقدمہ تکنیکی میٹر تنازعہ نہیں بلکہ بقایا بلوں کی حسابی (Calculation) نوعیت کا معاملہ تھا، جس میں صارف کی مسلسل عدم ادائیگی ثابت تھی۔ چونکہ ماتحت عدالتوں نے ریکارڈ پر موجود تکنیکی اور دستاویزی شہادت کو غلط انداز میں پڑھا، اس لیے ان کے فیصلے قانون اور حقائق کے خلاف تھے۔ نتیجتاً لاہور ہائیکورٹ نے سول ریویژن منظور کرتے ہوئے دونوں ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

خلع کی ڈگری کے بعد رجوع کا قانونی طریقہاگر خلع کے بعد میاں بیوی راضی ہو جائیں تو وہ نئے نکاح کے ساتھ دوبارہ شادی کر سکتے...
18/07/2026

خلع کی ڈگری کے بعد رجوع کا قانونی طریقہ

اگر خلع کے بعد میاں بیوی راضی ہو جائیں تو وہ نئے نکاح کے ساتھ دوبارہ شادی کر سکتے ہیں۔

(2026 MLD 1156 | 2026 LHC 2559)

خلع کے بعد حلالہ ضروری نہیں ہے کیونکہ خلع طلاق بائن ہے، تین طلاقیں نہیں۔
(2044 CLC 1744)

رجوع کے لیے صرف باہمی رضامندی، نیا نکاح، گواهان اور حق مہر کی ضرورت ہے۔

(2023 CLC 7023)

نئے نکاح کو قانونی طور پر رجسٹرڈ کروایا جا سکتا ہے۔

(2015 YLR 316L)

Parent's Maintenance CaseSection 17A cannot be invoked....ماں نے بیٹوں پر خرچے کا دعوی کیا۔ایک محتاج والدہ نے اپنے بیٹوں...
17/07/2026

Parent's Maintenance Case
Section 17A cannot be invoked....

ماں نے بیٹوں پر خرچے کا دعوی کیا۔

ایک محتاج والدہ نے اپنے بیٹوں کے خلاف فیملی کورٹ میں نان و نفقہ کا دعویٰ دائر کیا۔ فیملی کورٹ نے عبوری نان و نفقہ مقرر کیا اور عدم ادائیگی پر بیٹوں کا دفاع ختم کر دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ والدین فیملی کورٹ میں نان و نفقہ نے کا دعویٰ دائر کر سکتے ہیں، مگر ایسے مقدمات میں دفعہ 17-A کے تحت دفاع ختم نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا ماتحت عدالتوں کے احکامات کالعدم قرار دے کر مقدمہ دوبارہ سماعت کے لیے فیملی کورٹ کو بھیجوا دیا گیا۔۔۔۔۔۔

PLD 2026 Lahore 181

پہلی شادی کو چھپا کر دوسری شادی کرنے پر ۱۰ سال تک سزا ہو سکتیمرد حضرات ہوشیار باشPPC Section 495اگر شخص نے دوسری بیوی کو...
15/07/2026

پہلی شادی کو چھپا کر دوسری شادی کرنے پر ۱۰ سال تک سزا ہو سکتی
مرد حضرات ہوشیار باش

PPC Section 495
اگر شخص نے دوسری بیوی کو دھوکے سے یہ یقین دلایا کہ وہ lawfully unmarried ہے (یعنی پہلی شادی کا انکشاف نہیں کیا)، اور اسی بنیاد پر عورت نے شادی/تعلق قائم کیا، تو یہ “cohabitation caused by deceitfully inducing a belief of lawful marriage” کے تحت آتا ہے — سزا 10 سال تک قید ہو سکتی ہے۔

عملی نکتہ: اگر مقصد صرف MFLO کی خلاف ورزی پر کارروائی کروانی ہے تو Union Council/Arbitration Council میں شکایت + Section 6(5) کا کیس بنے گا۔ اگر دھوکہ دہی prove کرنی ہے (نیت سے چھپانا) تو Section 495 PPC زیادہ مؤثر رہے گا، ساتھ میں 420 PPC بھی add ہو سکتا ہے اگر مالی دھوکہ بھی ثابت ہو۔

Muslim Family Laws Ordinance 1961 – Section 6
دوسری شادی کے لیے Arbitration Council کی اجازت لازمی ہے۔ اگر اجازت کے بغیر شادی کی جائے (چاہے پہلی شادی چھپائی گئی ہو یا نہ)، تو Section 6(5) کے تحت سزا بنتی ہے — ایک سال تک قید، یا 5000 روپے تک جرمانہ، یا دونوں۔ نکاح خود کالعدم نہیں ہوتا، بس یہ خلاف ورزی ہے۔

یہ رہا مذکورہ فیصلے کا بامحاورہ اور قانونی اصطلاحات کے ساتھ اردو ترجمہ:2025 SCMR 579 / PLJ 2025 SC 183Mst. Anita Anam v....
07/07/2026

یہ رہا مذکورہ فیصلے کا بامحاورہ اور قانونی اصطلاحات کے ساتھ اردو ترجمہ:

2025 SCMR 579 / PLJ 2025 SC 183

Mst. Anita Anam v. General Public & another
C.P.L.A. No. 256-Q of 2020
فیصلہ مورخہ: 02-01-2025
مسٹر جسٹس جمال خان مندوخیل

اردو ترجمہ:

سال 1999 میں قواعد (Rules) میں ترمیم کے بعد یہ قانونی حیثیت واضح کر دی گئی کہ کسی فوت شدہ سرکاری ملازم کی سب سے بڑی غیر شادی شدہ بیٹی ماہانہ فیملی پنشن میں اپنے حصے کی حقدار ہوگی اور یہ حق اس کی شادی تک برقرار رہے گا۔ مزید یہ کہ اگر سب سے بڑی بیٹی شادی کر لے یا وفات پا جائے تو اس کے بعد عمر میں اس سے چھوٹی غیر شادی شدہ بیٹی اپنی شادی تک فیملی پنشن میں اپنے حصے کی حقدار ہوگی۔

سرٹیفکیٹ (Succession Certificate) کے اجرا کا معاملہ Succession Act, 1925 کے تحت چلتا ہے، جو ایک خصوصی قانون (Special Law) ہے۔ اس ایکٹ کی دفعہ 373 ٹرائل کورٹ کے لیے ایک سادہ اور مختصر طریقہ کار مقرر کرتی ہے، جس کے تحت عدالت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ آیا درخواست گزار بادی النظر (Prima Facie) اس بات کا حق رکھتا ہے کہ مرحوم کی جائیداد یا واجبات وصول کرے اور انہیں ان تمام قانونی ورثاء میں تقسیم کرے جو اپنے اپنے حصے کے مستحق ہیں۔

اس کارروائی کا مقصد ایک مختصر اور فوری سماعت کے ذریعے انصاف کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانا ہے تاکہ درخواست گزار کو بلا تاخیر جانشینی سرٹیفکیٹ مل سکے، جبکہ فریقین کو انصاف اور منصفانہ سماعت کے بنیادی اصول بھی میسر رہیں۔ لہٰذا، اس ایکٹ کے تحت ہر مقدمہ حتیٰ الامکان جلد نمٹایا جانا چاہیے۔

جانشینی سرٹیفکیٹ کا اجرا محدود مقصد اور محدود دائرہ اختیار کے لیے ہوتا ہے، اس لیے یہ فریقین کے حقوق کا حتمی اور قطعی فیصلہ نہیں سمجھا جاتا۔ عدالت کا فرض ہے کہ وہ دفعہ 373 کے تحت مقررہ طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے صرف یہ دیکھے کہ آیا درخواست گزار بادی النظر سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے یا نہیں۔ اس دوران عدالت کو حتی الامکان خود کو صرف "سرٹیفکیٹ کے حق" کے سوال تک محدود رکھنا چاہیے۔

البتہ اگر عدالت کی رائے میں ملکیت یا حق (Title) سے متعلق ایسا پیچیدہ سوال موجود ہو جسے مختصر کارروائی میں دستیاب مواد کی بنیاد پر طے نہ کیا جا سکے تو عدالت سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے انکار کر سکتی ہے اور فریقین کو ہدایت دے سکتی ہے کہ وہ اپنے حقوق کے تعین کے لیے مجاز عدالت میں باقاعدہ دعویٰ دائر کریں۔

مقننہ (Legislature) نے بظاہر اس معاملے میں عدالتوں کو وسیع صوابدید (Discretion) دی ہے تاکہ وہ ایکٹ کے تحت مکمل انصاف فراہم کر سکیں۔ ایک جج کو دفعہ 372(3) اور دفعہ 373(3) و (4) کے تحت ایک سے زیادہ جانشینی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

مزید یہ کہ اس ایکٹ میں ایسی کوئی پابندی موجود نہیں جو کسی شخص کو ایک سے زیادہ درخواستیں دائر کرنے سے روکے۔ لہٰذا، Part X کے تحت کسی سوالِ حق پر دیا گیا فیصلہ بعد میں اسی یا متعلقہ سوال پر نئی کارروائی یا باقاعدہ دعویٰ دائر کرنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔

اسی طرح، اگر کوئی شخص پہلی درخواست میں اپنے دعوے کا صرف ایک حصہ شامل کرے اور بعد میں باقی حصے کے لیے الگ درخواست دائر کرے تو ایکٹ اس پر بھی کوئی پابندی عائد نہیں کرتا۔

یہ امر خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ چونکہ Succession Act, 1925 ایک خصوصی قانون ہے اور اس میں اپنا مخصوص طریقہ کار موجود ہے، اس لیے ضابطۂ دیوانی (Code of Civil Procedure) کے Order II Rule 2 CPC کی دفعات اس ایکٹ کے تحت چلنے والی کارروائی پر لاگو نہیں ہوتیں۔ البتہ جہاں ایکٹ کسی طریقہ کار کے بارے میں خاموش ہو، وہاں کارروائی کو منظم کرنے کے لیے CPC کی متعلقہ دفعات سے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔

زیرِ نظر مقدمے میں درخواست گزار کو پہلے اپنے مرحوم والد کے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم کے حوالے سے جانشینی سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا تھا، جبکہ بعد ازاں اس نے ماہانہ فیملی پنشن میں اپنے حصے کے حصول کے لیے دوسری درخواست دائر کی۔

چونکہ Succession Act, 1925 میں دوسری یا بعد کی درخواست دائر کرنے پر کوئی قانونی پابندی موجود نہیں، لہٰذا دوسری درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ اگر کوئی شخص پہلے جاری ہونے والے سرٹیفکیٹ سے متاثر ہو تو وہ قانون کے مطابق دستیاب مناسب قانونی چارہ جوئی اختیار کر سکتا ہے۔

لہٰذا معزز سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے درخواست گزار کی دوسری درخواست کو Order II Rule 2 CPC کی بنیاد پر ناقابلِ سماعت قرار دینا Succession Act, 1925 کی دفعات کے منافی تھا، اس لیے ہائی کورٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔یہ ترجمہ قانونی انداز میں تیار کیا گیا ہے اور وکلاء، عدالتی حوالہ جات، یا سوشل میڈیا پر قانونی آگاہی کے لیے موزوں ہے۔

Lahore civil courts parking1.* "یہ پارکنگ نہیں، امیدوں کا قبرستان ہے۔"*2.* "باہر سواریاں، اندر زندگیاں لٹکی ہیں۔"*3.* "ہ...
05/07/2026

Lahore civil courts parking
1.* "یہ پارکنگ نہیں، امیدوں کا قبرستان ہے۔"

*2.* "باہر سواریاں، اندر زندگیاں لٹکی ہیں۔"

*3.* "ہر بائک، ایک مقدمہ۔ ہر شخص، ایک کہانی۔"

*4.* "انصاف ڈھونڈنے آئے تھے، انتظار ملا۔"

*5.* "عدالت کا میلہ، صبر کا امتحان۔"

*6.* "فیصلہ اندر ہوتا ہے، سانسیں باہر رکتی ہیں۔"

*"یہ بھیڑ بتاتی ہے، انصاف کتنا دور ہے۔"*

وراثت خیرات نہیں، اللہ کا فرض ہے" - سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ**بھائیوں کا قبضہ = بہنوں کاسپریم کورٹ نے خواتین کے وراثتی...
03/07/2026

وراثت خیرات نہیں، اللہ کا فرض ہے" - سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ*
*بھائیوں کا قبضہ = بہنوں کا
سپریم کورٹ نے خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کیلئے قرار دیا ہے کہ 71سال پرانا ریونیو انتقال یا بھائیوں کا طویل قبضہ بہنوں کو ان کے شرعی حقِ وراثت سے محروم کر سکتا ہے؟
*71 سال بعد بھی انصاف! سپریم کورٹ نے بہنوں کا حق بحال کر دیا*
*" قبضہ۔ اب Limitation کا بہانہ نہیں چلے گا!*
*فرضی ہبہ اور جعلی انتقال ختم! C.P.L.A 1103/2016 نے کھیل پلٹ دیا*
*خواتین متوجہ ہوں! 71 سال پرانی جائیداد بھی واپس لے سکتی ہیں*
*کیا آپ کو وراثت سے محروم رکھا گیا؟ سپریم کورٹ نے دروازہ کھول دیا*
*پردہ نشین بیٹی کا حق کوئی نہیں چھین سکتا۔ نیا سپریم کورٹ فیصلہ*
*آپ کا حصہ آپ کا ہے۔ 71 سال گزر جائیں، حق ختم نہیں ہوتا*
*نوٹ کر لیں وکلاء حضرات: Noor Muhammad v. Ghulam Haider - PLD 2026 SC 42*
*ریونیو Mutation اب ثبوت نہیں رہا۔ بارِ ثبوت اب Beneficiary پر ہے*
11. *Limitation Act کی شق 3 نے وراثت کو محفوظ کر دیا۔ سپریم کورٹ*
13. *قبضہ مالک نہیں بناتا ✋*
14. *71 سال = 0 سال، اگر حق بہن کا ہو*
15. *جعلی ہبہ؟ اب نہیں چلے گا ❌*
16. *حق مانگو، عدالت دے گی ⚖️
` `
"وراثت اللہ کا فرض ہے" والا اقتباس لگا دیں۔
معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو رکنی بینچ، مسٹر جسٹس شاہد بلال حسن اور مسٹر جسٹس شکیل احمد نے حالیہ تاریخی مقدمے "Noor Muhammad etc. v. Ghulam Haider etc. (C.P.L.A. No. 1103/L/2016)" میں اس اہم قانونی سوال کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے مور خہ 30/6/2026کونچلی عدالتوں کے فیصلوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک شاندار اور بے باک نظیر قائم کی ہے۔
اگر آپ کی کسی عزیزہ کی اس طرح حق تلفی کی گئی ہے یا آپ ریونیو یا سول لا پریکٹس کرتے ہیں،تو یہ فیصلہ آپ کے گراؤنڈ پریکٹس کے لیے ایک مضبوط ہتھیار ثابت ہوگا!
کیس کے مختصر حقائق
اصل جائیداد کا مالک: روشن ولد بورا نامی شخص 1955 میں وفات پا گیا۔
وراثت اور زبانی تحفہ (Oral Gift): وفات کے فوراً بعد ریونیو ریکارڈ میں وراثت کا انتقال نمبر 74 درج ہوا، لیکن اسی دن (17-04-1955) ایک فرضی زبانی تحفے کا انتقال نمبر 75 بھی منظور کروا لیا گیا، جس کے تحت متوفی کی بیوہ اور بیٹیوں کو جائیداد سے بالکل محروم کر کے سب کچھ بیٹوں/بھائیوں کے نام منتقل کر دیا گیا۔
ماتحت عدالتوں کا فیصلہ: بیٹیوں نے جب اس فراڈ کو چیلنج کیا تو ٹرائل کورٹ، اپیلٹ کورٹ اور ہائی کورٹ نے طویل قبضے (Long Possession) اور معیادِ سماعت (Limitation) کی بنیاد پر بیٹیوں کا دعویٰ خارج کر دیا۔
سپریم کورٹ کا حتمی ایکشن: معزز سپریم کورٹ نے نچلی عدالتوں کے تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بیٹیوں کے حق میں فیصلہ جاری کیا۔
سپریم کورٹ کے طے کردہ اہم ترین قانونی اصول
۱۔ثبوت کی ذمہ داری (Burden of Proof): جب بھی کسی تحفے یا زبانی انتقال کے ذریعے خواتین کو وراثت سے محروم کیا جائے گا، تو تحفہ ثابت کرنے کی سخت ترین ذمہ داری (Onus of Proof) اس مرد بینیفشری (Beneficiary) پر ہوگی جو اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
۲۔انتقال جائیداد کا ثبوت نہیں: ریونیو ریکارڈ میں محض انتقالِ نامزدگی (Mutation) سے کوئی نیا حق یا ٹائٹل پیدا نہیں ہوتا۔ یہ صرف ٹیکس اور مالیاتی مقاصد کے لیے ہوتا ہے۔
۳۔قبضہ اور معیادِ سماعت کا اصول: ایک وارث کا قبضہ تمام وارثوں کا قبضہ تصور کیا جاتا ہے۔ محض وقت گزرنے (Limitation) یا طویل قبضے کی بنیاد پر خواتین کا حقِ وراثت ختم نہیں کیا جا سکتا۔
۴۔آئینی ضمانت: عدالت نے واضح کیا کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 2A، 23، 24 اور 25 خواتین کے جائیداد کے حقوق کا مکمل تحفظ کرتے ہیں اور ریاست یا عدالتیں خواتین کو محروم کرنے والے خاندانی دباؤ یا فرضی ہتھکنڈوں پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتیں۔
حوالہ جات (Key Precedents Cited)
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے اپنے ہی پرانے اہم فیصلوں کا حوالہ دے کر قانون کو مزید مضبوط کیا:
PLD 2022 SC 85 (تحفے کی صورت میں خواتین کو محروم کرنے پر بارِ ثبوت کا اصول)
PLD 1990 SC 1 (شریک کھاتہ دار کا قبضہ سب کا قبضہ ہے)
PLD 2026 SC 42 (خواتین کے حقوق پر ویور اور اسٹاپل کا اطلاق نہ ہوتا ہے۔۔۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ
وراثت کوئی خیرات یا تحفہ نہیں جو مردوں کی مرضی پر منحصر ہو بلکہ یہ اللہ کا مقرر کردہ وہ فرض ہے جسے کسی بھی رسم و رواج یا فرضی گفٹ ڈیڈ کے پیچھے چھپ کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ خواتین کے حقوقِ وراثت کا انکار عدالتوں سے نہیں بلکہ گھروں سے شروع ہوتا ہے، جہاں روایت یا خاندانی غیرت کے نام پر ان سے دستبرداری لی جاتی ہے۔
یہ فیصلہ خواتین کو جائیداد سے محروم کرنے کے لیے بنائے گئے فرضی زبانی تحفوں (Hibba) اور جعلی ریونیو انتقالات کا مکمل خاتمہ کرتا ہے، جس کے تحت اب محض طویل قبضہ یا وقت گزرنے (Limitation) کی بنیاد پر بہنوں کے شرعی و قانونی حقِ وراثت کو دبایا نہیں جا سکے گا۔ مزید برآں یہ نظیر سول عدالتوں اور ریونیو حکام پر یہ سخت قانونی ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ وہ تمام تر تکنیکی خامیوں کو بالائے طاق رکھ کر جائیداد کے تنازعات میں خواتین کے آئینی و مالیاتی حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں۔











Talaq / Divorce subject to fineنکاح ایک سماجی معاہدہ ہے اگر میاں بیوی نے اپنی آزادانہ رضامندی سے یہ شرط آپس میں بوقت نکا...
02/07/2026

Talaq / Divorce subject to fine

نکاح ایک سماجی معاہدہ ہے اگر میاں بیوی نے اپنی آزادانہ رضامندی سے یہ شرط آپس میں بوقت نکاح طے کی ہو کہ طلاق کی صورت میں خاوند بیوی کو جائیداد یا جرمانہ ادا کرے گا تو یہ کوئی غیرقانونی شرط نہ ہے بلکہ عدالت کواس پر فیصلہ دینا چاہئے۔۔۔۔

2026 CLC 580

Address

Jhang Sadar
35200

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923457585335

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hassnain bhorana advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Hassnain bhorana advocate:

Shortcuts

Share

Category