Muhammad Tariq Saleem Balyana

Muhammad Tariq Saleem Balyana legal services

05/09/2026

2026 P Cr. L J 277
PLJ 2026 CrC (Note) 204
Confronting witness with a video clip---Scope---Application for confronting the Investigating Officer with a video clip obtained from the mobile phone of one of the accused had been declined---Validity---Witness could be confronted with other relevant documents which were admittedly authored or signed by the said witness in order to contradict him---However, in the present case, let alone being the maker/author of the video in question, the witness was not even himself visible in the alleged press conference video which the defence was aspiring to present and confront to the witness---Moreover, the witness had also denied having any knowledge regarding the contents of the subject video---Not only the authenticity of the video purportedly to be shown and confronted to the witness was under question but also the source of the video in the mobile of one of the accused remained unclear---Thus, the two-step verification was not there---However, the defence retained alternate remedies of establishing its plea while entering in defence evidence at the relevant stage accordingly if it considered the video in question supported its case---Video under question was neither part of the investigation nor authenticated---Video evidence did not meet the necessary legal requirements for admissibility, as it was not verified or sourced, and no forensic report was provided to confirm its authenticity---Refusal to allow the video confrontation at this stage did not constitute a violation of the petitioner’s constitutional rights--
Adv Tariq Saleem Sial

02/09/2026

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے
یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے

جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو
یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے

کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے
مگر اس پہ کوئی کرے بھی کیا یے تو میکدے کا نظام ہے

یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے
جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے

تجھے اپنے حسن کا واسطہ میرے شوق دید پہ رحم کھا
ذرا مسکرا کے نقاب اٹھا کہ نظر کو شوق سلام ہے

نہ سنا تو حور و قصور کی یہ حکایتیں مجھے واعظا
کوئی بات کر در یار کی در یار ہی سے تو کام ہے

نہ تو اعتکاف سے کچھ غرض نہ ثواب و زہد سے واسطہ
تری دید ایسی نماز ہے نہ سجود ہے نہ قیام ہے

یہ درست کہ عیب ہے مے کشی یہ بجا کہ بادہ حرام ہے
مگر اب سوال یہ آ پڑا کہ تمھارے ہاتھ میں جام ہے

جو اٹھی تو صبح دوام تھی جو جھکی تو شام ہی شام تھی
تری چشم مست میں ساقیا مری زندگی کا نظام ہے

مرا فرض ہے کہ پڑا رہوں تری بارگاہ میں ساقیا
کوئی تشنہ لب ہے کہ سیر ہے یہی دیکھنا ترا کام ہے

اسی کائنات میں اے جگرؔ کوئی انقلاب اٹھے گا پھر
کہ بلند ہو کے بھی آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے

جگر مراد آبادی

لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر بچی کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ، 18 سال سے کم عمر کی شادی غیرقانونی قرارپنجاب چائلڈ میرج ری سٹری...
31/08/2026

لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر بچی کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ، 18 سال سے کم عمر کی شادی غیرقانونی قرار

پنجاب چائلڈ میرج ری سٹرینٹ ایکٹ 2026 کے تحت فیصلہ جاری

عدالت میں حنا اسلم کی نکاح کے وقت عمر 15 سال ہونے کا انکشاف

کم عمر بچی کی شادی کے خلاف نئی ایف آئی آر کی درخواست پر پولیس کو تحقیقات کا حکم

جسٹس آف پیس کا اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار

کم عمر بچی کی شادی سے متعلق نئے شواہد پر پولیس کو قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت

لاہور ہائیکورٹ کا حنا اسلم کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کرنے کا حکم

حنا اسلم کی حفاظت، فلاح و بہبود اور مفادات کو مقدم رکھا جائے۔ عدالت

بچے کی مرضی اہم لیکن کم عمری میں خود بخود فیصلہ کن نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت

کم عمر بچوں کی شادی کے خلاف قانون کا مقصد بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ عدالت

قابل سزا جرم کی موجودگی کا تعین کرنے کے لئے نئے مقدمے کی تحقیقات کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر بچی کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے متعلقہ اداروں کو اقدامات کا حکم
Child marriage. The child's purported consent cannot legitimize cohabitation expressly treated as child abuse under the Punjab Child Marriage Restraint Act, 2026, and her welfare and best interests remain paramount in determining custody and protective placement. Where a subsequent complaint discloses distinct cognizable offences relating to the solemnization and facilitation of a child marriage, it is not barred as a second FIR under Sughran Bibi; As an interim protective measure, custody of a child who is prima facie a victim of child abuse may be entrusted to the Child Protection and Welfare Bureau to safeguard her rights and provide a secure environment until her safety and well-being are assured. The question of permanent custody may thereafter be determined by the competent Guardian Judge in accordance with the welfare and best interests of the child.
W.P. 46868/26
Muhammad Aslam Vs Additional Sessions Judge etc
Mr. Justice Munawar Iqbal Duggal
2026 LHC 5390
ANNOUNCED IN OPEN COURT on 31.08.2026

﴿ إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَـٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَـٰٓأَيُّهَا﴿ إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَـٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّ...
28/08/2026

﴿ إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَـٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَـٰٓأَيُّهَا﴿ إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَـٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا ﴾
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔

﴿ إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَـٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَـٰٓأَيُّهَا﴿ إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَـٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا ﴾

چہرہ ہے کہ انوارِ دو عالم کا صحیفہآنکھیں ہیں کہ بحرین تقدس کے نگین ہیںماتھا ہے کہ وحدت کی تجلی کا ورق ہےعارِض ہیں کہ “وا...
26/08/2026

چہرہ ہے کہ انوارِ دو عالم کا صحیفہ
آنکھیں ہیں کہ بحرین تقدس کے نگین ہیں
ماتھا ہے کہ وحدت کی تجلی کا ورق ہے
عارِض ہیں کہ “والفجر” کی آیات کے اَمیں ہیں

گیسُو ہیں کہ “وَاللَّیل” کے بکھرے ہوئے سائے
ابرو ہیں کہ قوسینِ شبِ قدر کھُلے ہیں
گردن ہے کہ بَر فرقِ زمیں اَوجِ ثُریا
لَب صورتِ یاقوت شعاعوں میں دُھلے ہیں

قَد ہے کہ نبوت کے خدوخال کا معیار
بازو ہیں کہ توحید کی عظمت کے عَلم ہیں
سینہ ہے کہ رمزِ دل ہستی کا خزینہ
پلکیں ہیں کہ الفاظِ رُخِ لوح و قلم ہیں

باتیں ہیں کہ طُوبٰی کی چٹکتی ہوئی کلیاں
لہجہ ہے کہ یزداں کی زباں بول رہی ہے
خطبے ہیں کہ ساون کے اُمنڈتے ہوئے دریا
قِرأت ہے کہ اسرارِ جہاں کھول رہی ہے

یہ دانت ، یہ شیرازہ شبنم کے تراشے
یاقوت کی وادی میں دمکتے ہوئے ہیرے
شرمندہ تابِ لب و دندانِ پَیمبر (صلّی اللہ علیہ و آلِہ وسلّم)
حرفے بہ ثنا خوانی و خامہ بہ صریرے

یہ موجِ تبسم ہے کہ رنگوں کی دھنک ہے
یہ عکسِ متانت ہے کہ ٹھہرا ہوا موسم
یہ شُکر کے سجدے ہیں کہ آیات کی تنزیل
یہ آنکھ میں آنسو ہیں کہ الہام کی رِم جھم

یہ ہاتھ یہ کونین کی تقدیر کے اوراق
یہ خط ، یہ خد و خالِ رُخِ مصحف و اِنجیل
یہ پاؤں یہ مہتاب کی کِرنوں کے مَعابِد
یہ نقشِ قدم ، بوسہ گہِ رَف رَف و جِبریل

یہ رفعتِ دستار ہے یا اوجِ تخیل
یہ بند قبا ہے کہ شگفتِ گُلِ ناہید
یہ سایہ داماں ہے کہ پھیلا ہوا بادل
یہ صبحِ گریباں ہے کہ خمیازۂ خورشید

یہ دوشِ پہ چادر ہے کہ بخشش کی گھٹا ہے
یہ مہرِ نبوت ہے کہ نقشِ دلِ مہتاب
رُخسار کی ضَو ہے کہ نمو صبحِ ازل کی
آنکھوں کی ملاحت ہے کہ روئے شبِ کم خواب

ہر نقشِ بدن اتنا مناسب ہے کہ جیسے
تزئین شب و روز کہ تمثیلِ مہ و سال
ملبوسِ کُہن یوں شِکن آلود ہے جیسے
ترتیب سے پہلے رخِ ہستی کے خد و خال

رفتار میں افلاک کی گردش کا تصور
کردار میں شامل بنی ہاشم کی اَنا ہے
گفتار میں قرآں کی صداقت کا تیقُّن
معیار میں گردُوں کی بلندی کفِ پا ہے

وہ فکر کہ خود عقلِ بشر سَر بگریباں
وہ فقر کے ٹھوکر میں ہے دنیا کی بلندی
وہ شُکر کے خالق بھی ترے شُکر کا ممنون
وہ حُسن کہ یوسف(ع) بھی کرے آئینہ بندی

وہ علم کہ قرآں تِری عترت کا قصیدہ
وہ حِلم کہ دشمن کو بھی اُمیدِ کرم ہے
وہ صبر کہ شَبِّیر تِری شاخِ ثمردار
وہ ضبط کہ جس ضبط میں عرفانِ اُمم ہے

“اورنگِ سلیمان” تری نعلین کا خاکہ
“اِعجازِ مسیحا” تری بکھری ہوئی خوشبو
“حُسنِ یدِ بیضا” تری دہلیز کی خیرات
کونین کی سَج دھج تِری آرائشِ گیسُو

سَرچشمۂ کوثر ترے سینے کا پسینہ
سایہ تری دیوار کا معیارِ اِرَم ہے
ذرے تِری گلیوں کے مہ و انجمِ افلاک
“سُورج” ترے رہوار کا اک نقشِ قدم ہے

دنیا کے سلاطیں ترے جارُوب کشوں میں
عالم کے سکندر تِری چوکھٹ کے بھکاری
گردُوں کی بلندی ، تری پاپوش کی پستی
جبریل کے شہپر ترے بچوں کی سواری

دھرتی کے ذوِی العدل ، تِرے حاشیہ بردار
فردوس کی حوریں ، تِری بیٹی کی کنیزیں
کوثر ہو ، گلستانِ ارم ہو کہ وہ طُوبٰی
لگتی ہیں ترے شہر کی بکھری ہوئی چیزیں

ظاہر ہو تو ہر برگِ گُلِ تَر تِری خوشبو
غائب ہو تو دنیا کو سراپا نہیں ملتا
وہ اِسم کہ جس اِسم کو لب چوم لیں ہر بار
وہ جسم کہ سُورج کو بھی سایہ نہیں ملتا

احساس کے شعلوں میں پگھلتا ہوا سورج
انفاس کی شبنم میں ٹھٹھرتی ہوئی خوشبو
اِلہام کی بارش میں یہ بھیگے ہوئے الفاظ
اندازِ نگارش میں یہ حُسن رمِ آہُو

حیدر تری ہیبت ہے تو حَسنین ترا حُسن
اصحاب وفادار تو نائب تِرے معصوم
سلمٰی تری عصمت ہے ، خدیجہ تری توقیر
زہرا تری قسمت ہے تو زینب ترا مقسوم

کس رنگ سے ترتیب تجھے دیجیے مولا ؟
تنویر ، کہ تصویر ، تصور ، کہ مصور ؟
کس نام سے امداد طلب کیجیے تجھ سے
یٰسین ، کہ طہٰ ، کہ مُزمِّل ، کہ مدثر ؟

پیدا تری خاطر ہوئے اطرافِ دو عالم
کونین کی وُسعت کا فَسوں تیرے لیے ہے
ہر بحر کی موجوں میں تلاطم تِری خاطر
ہر جھیل کے سینے میں سَکوں تیرے لیے ہے

ہر پھول کی خوشبو تِرے دامن سے ہے منسوب
ہر خار میں چاہت کی کھٹک تیرے لیے ہے
ہر دشت و بیاباں کی خموشی میں تِرا راز
ہر شاخ میں زلفوں سی لٹک تیرے لیے ہے

دِن تیری صباحت ہے ، تو شب تیری علامت
گُل تیرا تبسم ہے ، ستارے ترے آنسو
آغازِ بہاراں تری انگڑائی کی تصویر
دِلداریِ باراں ترے بھیگے ہوئے گیسُو

کہسار کے جھرنے ترے ماتھے کی شعاعیں
یہ قوسِ قزح ، عارضِ رنگیں کی شکن ہے
یہ “کاہکشاں” دُھول ہے نقشِ کفِ پا کی
ثقلین ترا صدقۂ انوارِ بدن ہے

ہر شہر کی رونق ترے رستے کی جمی دھول
ہر بَن کی اُداسی تری آہٹ کی تھکن ہے
جنگل کی فضا تیری متانت کی علامت
بستی کی پھبن تیرے تَبسُّم کی کرن ہے

میداں ترے بُو ذر کی حکومت کے مضافات
کہسار ترے قنبر و سلماں کے بسیرے
صحرا ترے حبشی کی محبت کے مُصلّے
گلزار ترے میثم و مِقداد کے ڈیرے

کیا ذہن میں آئے کہ تو اُترا تھا کہاں سے ؟
کیا کوئی بتائے تِری سرحد ہے کہاں تک ؟
پہنچی ہے جہاں پر تِری نعلین کی مٹی
خاکسترِ جبریل بھی پہنچے نہ وہاں تک

سوچیں تو خدائی تِری مرہونِ تصوّر
دیکھیں تو خدائی سے ہر انداز جُدا ہے
یہ کام بشر کا ہے نہ جبریل کے بس میں
تو خود ہی بتا اے میرے مولا کہ تو کیا ہے ؟

کہنے کو تو ملبوسِ بشر اوڑھ کے آیا
لیکن ترے احکام فلک پر بھی چلے ہیں
انگلی کا اشارہ تھا کہ تقدیر کی ضَربت
مہتاب کے ٹکڑے تری جھولی میں گِرے ہیں

کہنے کو تو بستر بھی میسر نہ تھا تجھ کو
لیکن تری دہلیز پہ اترے ہیں ستارے
اَنبوہِ ملائک نے ہمیشہ تری خاطر
پلکوں سے ترے شہر کے رستے بھی سنوارے

کہنے کو تو امی تھا لقب دہر میں تیرا
لیکن تو معارف کا گلستاں نظر آیا
ایک تو ہی نہیں صاحبِ آیاتِ سماوات
ہر فرد ترا وارثِ قرآں نظر آیا

کہنے کو تو فاقوں پہ بھی گزریں تری راتیں
اسلام مگر اب بھی نمک خوار ہے تیرا
تُو نے ہی سکھائی ہے تمیزِ من و یزداں
انسان کی گردن پہ سدا بار ہے تیرا

کہنے کو تِرے سر پہ ہے دستارِ یتیمی
لیکن تو زمانے کے یتیموں کا سہارا
کہنے کو ترا فقر ترے فخر کا باعث
لیکن تو سخاوت کے سمندر کا کنارا

کہنے کو تو ہجرت بھی گوارا تجھے لیکن
عالم کا دھڑکتا ہوا دل تیرا مکاں ہے
کہنے کو تو مسکن تھا ترا دشت میں لیکن
ہر ذرہ تری بخششِ پیہم کا نشاں ہے

کہنے کو تو ایک “غارِ حرا” میں تیری مَسند
لیکن یہ فلک بھی تری نظروں میں “کفِ خاک”
کہنے کو تو “خاموش” مگر جُنبشِ لب سے
دامانِ عرب گرد ، گریبانِ عجم چاک

اے فکرِ مکمل ، رُخِ فطرت ، لبِ عالم
اے ہادی کُل ، خَتم رُسل ، رحمت پیہم
اے واقفِ معراجِ بشر ، وارثِ کونین
اے مقصدِ تخلیقِ زماں ، حُسنِ مُجسّم

نسلِ بنی آدم کے حسِین قافلہ سالار
انبوہِ ملائک کے لیے ظلِ الٰہی
پیغمبرِ فردوسِ بریں ، ساقی کوثر
اے منزلِ ادراک ، دِل و دیدہ پناہی

اے باعثِ آئینِ شب و روزِ خلائق
اے حلقۂ ارواحِ مقدس کے پیمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
اے تاجوَرِ بزمِ شریعت ، مرے آقا !
اے عارفِ معراجِ بشر ، صاحبِ منبر !

اے سید و سَرخیل و سرافراز و سخن ساز
اے صادق و سجاد و سخی ، صاحبِ اسرار
اے فکرِ جہاں زیب و جہاں گیر و جہاں تاب
اے فقرِ جہاں سوز و جہاں ساز و جہاں دار

اے صابر و صناع و صمیم وصفِ اوصاف
اے سرورِ کونین و سمیع یمِ اصوات
میزان اَنا ، مکتبِ پندارِ تیقُّن
اعزازِ خود مصدرِ صد رُشد و ہدایت

اے شاکر و مشکور و شکیلِ شبِ عالم
اے ناصر و منصور و نصیرِ دلِ انسان
اے شاہد و مشہود و شہیدِ رُخِ توحید
اے ناظر و منظور و نظیرِ لبِ یزداں

اے یوسف و یعقوب کی اُمّید کا محور
اے بابِ مناجاتِ دلِ یونس و ادریس
اے نوح کی کشتی کے لیے ساحلِ تسکیں
اے قبلہ حاجاتِ سلیماں شہِ بلقیس

اے والی یثرب میری فریاد بھی سن لے !
اے وارثِ کونین میں لَب کھول رہا ہوں
زخمی ہے زباں ، خامۂ دل خون میں تر ہے
شاعر ہوں مگر دیکھ ! مَیں سچ بول رہا ہوں

سید محسن نقوی

اب بنے ہیں پتھر تو حیرت کیسی ہے             فراز جب تھے موم کے تو جلاۓ بہت گٸے
24/08/2026

اب بنے ہیں پتھر تو حیرت کیسی ہے
فراز جب تھے موم کے تو جلاۓ بہت گٸے

سفاری پارک لاہور
23/08/2026

سفاری پارک لاہور

داتا دربار لاہور
20/08/2026

داتا دربار لاہور

﴿ إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَـٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَـٰٓأَيُّهَا﴿ إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَـٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّ...
19/08/2026

﴿ إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَـٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَـٰٓأَيُّهَا﴿ إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَـٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا ﴾

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔

﴿سورۃ الاحزاب،۵۶﴾

بلیڈ کلہاڑی سے زیادہ تیز ہوتا ہے پر درخت نہیں کاٹ سکتا،اور کلہاڑی بلیڈ سے زیادہ بھاری ہوتی ہے پر بال نہیں کاٹ سکتی۔اسی ط...
15/08/2026

بلیڈ کلہاڑی سے زیادہ تیز ہوتا ہے پر درخت نہیں کاٹ سکتا،
اور کلہاڑی بلیڈ سے زیادہ بھاری ہوتی ہے پر بال نہیں کاٹ سکتی۔
اسی طرح ہر انسان میں الگ الگ خوبیاں اور ہنر ہوتے ہیں۔
اسی لیے کسی بھی پیشے یا انسان کو کمتر نہ سمجھیں،
اور سب ایک دوسرے کی عزت کریں۔

Address

Jhang Sadar
144221

Telephone

+923457607337

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Tariq Saleem Balyana posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Muhammad Tariq Saleem Balyana:

Shortcuts

Share

Category