05/07/2025
پیغامِ حسینؑ - کربلا کا درس
کربلا صرف ایک معرکہ نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک عظیم اور ابدی جنگ کی علامت ہے۔ امام حسین علیہ السلام کا قیام، ظلم و جبر کے خلاف ایک پکار تھا، ایک ایسی صدا جو آج بھی مظلوموں کے دلوں میں گونجتی ہے۔
حضرت امام حسینؑ نے یزید کی بیعت سے انکار کر کے انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ ظلم کے سامنے جھکنا حرام ہے، چاہے اس کی قیمت جان ہی کیوں نہ ہو۔ کربلا میں امامؑ نے صرف تلوار سے نہیں بلکہ صبر، قربانی، استقامت، وفا اور عشقِ الٰہی سے ایک ایسا انقلاب برپا کیا جو رہتی دنیا تک مشعلِ راہ ہے۔
کربلا کا اصل پیغام:
1. حق گوئی اور حق پر ڈٹ جانا:
امام حسینؑ نے فرمایا:
“مثلی لا یبایع مثله”
یعنی “میرے جیسا شخص یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا۔”
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مؤمن کو کبھی باطل کے آگے سر نہیں جھکانا چاہیے۔
2. قربانی کا جذبہ:
امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں نے سب کچھ قربان کر دیا—جان، مال، خاندان، حتیٰ کہ شیر خوار علی اصغرؑ کی قربانی دے کر ہمیں یہ سبق دیا کہ حق کی راہ میں قربانی سے نہ گھبراؤ۔
3. صبر و استقامت:
کربلا کے میدان میں امام حسینؑ اور ان کے اہل بیت نے بھوک، پیاس، مصیبت اور شہادت کے باوجود صبر کا دامن نہ چھوڑا۔ حضرت زینبؑ کا صبر بھی اسی پیغام کا تسلسل ہے۔
4. امر بالمعروف و نہی عن المنکر:
امام حسینؑ نے قیام کا مقصد واضح فرمایا:
“میں امتِ جدی میں اصلاح کے لیے نکلا ہوں، میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں۔”
یعنی وہ صرف حکومت کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح کے لیے اُٹھے تھے۔
آج کا انسان اور پیغامِ کربلا:
آج جب دنیا ظلم، کرپشن، ناانصافی، اور لالچ کی لپیٹ میں ہے، پیغامِ حسینؑ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں بھی اس معاشرے میں کردار ادا کرنا ہے۔ اگر ہم واقعی حسینی ہیں تو ہمیں اپنے قول، عمل، اور رویے سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہم حق کے ساتھ کھڑے ہیں، مظلوم کے ساتھ ہیں، اور باطل سے نفرت کرتے ہیں۔