GMN Solicitors A Law Firm

GMN Solicitors  A Law Firm Law Firm Providing Legal Services (Civil,Criminal,Family,corporate)all over Pakistan including AJK.

and litigation, and Lawyers, and Matters.

12/08/2025

پاکستان کی سپریم کورٹ نے 45 سال بعد سپریم کورٹ رولز 1980 کو منسوخ کر کے سپریم کورٹ رولز 2025 نافذ کر دیے ہیں، جو 6 اگست 2025 سے مؤثر ہیں۔ یہ نئے رولز عدالتی کارروائیوں میں شفافیت، کارکردگی، اور ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ذیل میں رولز 1980 اور رولز 2025 کا تقابلی جائزہ اور نئے رولز کی اہم خصوصیات پیش کی جا رہی ہیں:
تقابلی جائزہ: رولز 1980 بمقابلہ رولز 2025
پہلو
رولز 1980
رولز 2025
اپیل دائر کرنے کی مدت
فوجداری اور براہِ راست دیوانی اپیلوں کے لیے مدت 30 دن تھی۔
فوجداری اور براہِ راست دیوانی اپیلوں کی مدت بڑھا کر 60 دن کر دی گئی ہے۔
نظرثانی درخواست کی مدت
واضح طور پر مدت کا ذکر نہیں تھا، یا پرانے طریقہ کار پر عمل ہوتا تھا۔
نظرثانی درخواست کی مدت 30 دن مقرر کی گئی ہے۔ درخواست گزار کو فوری طور پر دوسرے فریق کو نوٹس دینا لازم ہے۔
رجسٹرار اعتراضات پر اپیل
اعتراضات کے خلاف اپیل کی مدت واضح نہیں تھی یا روایتی طریقہ کار پر انحصار تھا۔
رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیل 14 دن کے اندر دائر کرنا لازمی ہے۔
نظرثانی درخواست کے تقاضے
نئے شواہد یا دستاویزات کے لیے مخصوص تقاضوں کا ذکر نہیں تھا۔
نظرثانی درخواست کے ساتھ فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی لازمی ہے۔ نئے شواہد پر مبنی درخواستوں کے لیے مصدقہ دستاویزات اور حلف نامہ درکار ہے۔
غیر سنجیدہ درخواستوں پر جرمانہ
غیر سنجیدہ یا پریشان کن درخواستوں کے لیے جرمانے کا کوئی واضح نظام نہیں تھا۔
غیر سنجیدہ یا پریشان کن نظرثانی درخواست پر وکیل یا فریق پر 25,000 روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
نظرثانی درخواست کی سماعت
واضح طور پر بینچ کے تعین کا ذکر نہیں تھا۔
نظرثانی درخواست وہی بنچ سنے گا جس نے فیصلہ دیا تھا۔ اگر جج ریٹائر یا مستعفی ہو جائے تو باقی ججز سماعت کریں گے۔
جیل درخواستوں پر فیس
جیل درخواستوں پر فیس کے بارے میں واضح ہدایات نہیں تھیں۔
جیل درخواستوں پر کوئی کورٹ فیس نہیں لی جائے گی۔
کورٹ فیس
فیس کا ڈھانچہ پرانا تھا اور ڈیجیٹلائزیشن کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
نیا کورٹ فیس چارٹ جاری کیا گیا ہے، مثلاً: سی پی ایل اے/سول اپیل کی فیس 2500 روپے، آئینی درخواست کی فیس 2500 روپے، سول ریویو کی فیس 1250 روپے، سیکیورٹی چالان کی فیس 50,000 روپے، انٹرا کورٹ اپیل کی فیس 5000 روپے، وغیرہ۔
ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت
ڈیجیٹلائزیشن یا آٹومیشن پر زور نہیں تھا۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کیس مینجمنٹ اور آٹومیشن کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔
رولز کی تیاری
پرانے رولز 1980 میں بنائے گئے تھے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں تھے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ہدایت پر جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی نے ججز، سپریم کورٹ آفس، بار کونسلز، اور وکلاء ایسوسی ایشنز سے تجاویز لے کر رولز تیار کیے۔
نئے رولز 2025 کی اہم خصوصیات
مدت میں اضافہ:
فوجداری اور براہِ راست دیوانی اپیلوں کی مدت 30 دن سے بڑھا کر 60 دن کر دی گئی ہے، جو درخواست گزاروں کو زیادہ وقت فراہم کرتی ہے۔
رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیل کی مدت 14 دن مقرر کی گئی ہے۔
نظرثانی درخواستوں کے تقاضے:
نظرثانی درخواست کے ساتھ فیصلے یا حکم کی تصدیق شدہ کاپی لازمی ہے۔
نئے شواہد پر مبنی درخواستوں کے لیے مصدقہ دستاویزات اور حلف نامہ درکار ہے۔
درخواست پر دستخط کرنے والے وکیل یا فریق کو نظرثانی کی بنیاد مختصر طور پر بیان کرنا ہوگا۔
غیر سنجیدہ درخواستوں پر جرمانہ:
غیر سنجیدہ یا پریشان کن نظرثانی درخواستوں پر وکیل یا فریق پر 25,000 روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جو عدالتی نظام کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد دے گا۔
نظرثانی کی سماعت کا طریقہ کار:
نظرثانی کی درخواست وہی بنچ سنے گا جس نے فیصلہ دیا تھا۔ اگر جج ریٹائر یا مستعفی ہو جائے تو باقی ججز سماعت کریں گے۔
جیل درخواستوں پر فیس معافی:
جیل درخواستوں پر کوئی کورٹ فیس نہیں لی جائے گی، جو قیدیوں کے لیے انصاف تک رسائی کو آسان بناتی ہے۔
نیا کورٹ فیس چارٹ:
نیا فیس چارٹ 6 اگست 2025 سے نافذ العمل ہے، جس میں شامل ہے:
سی پی ایل اے/سول اپیل کی فیس: 2500 روپے
آئینی درخواست کی فیس: 2500 روپے
سول ریویو کی فیس: 1250 روپے
سیکیورٹی چالان کی فیس: 50,000 روپے
انٹرا کورٹ اپیل کی فیس: 5000 روپے
پاور آف اٹارنی، کیویٹ، کنسائز اسٹیٹمنٹ کی فیس: 500 روپے
حلف نامہ کی فیس: 500 روپے
درخواست فیس: 100 روپے
ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت:
نئے رولز میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کیس مینجمنٹ کو بہتر بنانے اور آٹومیشن کے ذریعے انتظامی کاموں کو تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس سے عدالتی کارروائیوں میں تاخیر کم ہوگی اور عوام کے لیے عدالتی معلومات تک رسائی بہتر ہوگی۔
چیف جسٹس کی صوابدیدی اختیارات:
اگر کسی شق پر عمل درآمد میں مشکل پیش آئے تو چیف جسٹس کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر حکم جاری کر سکتے ہیں، جو رولز سے متصادم نہ ہو۔
رولز کی تیاری کا عمل:
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی، جس میں جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس نعیم اختر افغان، اور جسٹس عقیل احمد عباسی شامل تھے۔ کمیٹی نے ججز، سپریم کورٹ آفس، بار کونسلز، اور وکلاء ایسوسی ایشنز سے تجاویز طلب کیں۔
اہم فرق اور فوائد
زیادہ لچک: اپیلوں کی مدت بڑھانے سے درخواست گزاروں کو زیادہ وقت ملے گا، جو انصاف تک رسائی کو بہتر بنائے گا۔
شفافیت اور جوابدہی: غیر سنجیدہ درخواستوں پر جرمانہ اور نظرثانی کے سخت تقاضوں سے عدالتی نظام کے غلط استعمال کو روکا جائے گا۔
ڈیجیٹلائزیشن: جدید تقاضوں کے مطابق آٹومیشن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال عدالتی کارروائیوں کو تیز اور شفاف بنائے گا۔
جیل درخواستوں کی سہولت: فیس معافی سے قیدیوں کے لیے انصاف تک رسائی آسان ہوگی۔
نتیجہ
سپریم کورٹ رولز 2025 پرانے رولز 1980 کے مقابلے میں زیادہ منظم، شفاف، اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں۔ یہ رولز عدالتی کارروائیوں میں کارکردگی، شفافیت، اور انصاف کی فوری فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن پر زور دینے سے عدالتی نظام جدید خطوط پر استوار ہوگا، جبکہ جرمانوں اور سخت تقاضوں سے غیر ضروری مقدمات کی روک تھام ہوگی۔

آج ہی فائلر بنیں اور محب وطن شہری ہونے کا ثبوت دیں، WhatsApp+Call: +92 313 56 37 184 اس کے علاؤہ کسی بھی قانونی معاملات ...
10/06/2025

آج ہی فائلر بنیں اور محب وطن شہری ہونے کا ثبوت دیں،

WhatsApp+Call: +92 313 56 37 184

اس کے علاؤہ کسی بھی قانونی معاملات کے لیے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

18/05/2025

ماں ان چار صورتوں میں بچے کی کسٹڈی سے محروم ہوسکتی ہے -
1 - اگر وہ دوسری شادی کر لیتی ہے -

2 - اگر وہ شہر سے دور گاؤں میں رہتی ہے -

3 - اگر وہ غیر اخلاقی زندگی گزار رہی ہو -

4- اگر وہ بچے کی ٹھیک طرح دیکھ بھال نہ کر رہی ہو -
PLD 2010 Lahore 206

ماں نے دوسری شادی کر لی باپ نے بھی دوسری شادی کر لی
نابالغ کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھنا ضروری ہے بچے ماں کے حوالے
2020 MLD 55
والد کے حق میں فیصلہ جات

باپ سرکاری ملازم تھا بچہ 7 سال کا باپ کے حوالے
2009 CLC 566
ماں کی دوسری شادی بچہ باپ کے حوالے
2018 CLC 382

ماں نے دوسری شادی کر لی ماں ان پڑھ تھی بچہ باپ کے حوالے
2010 MLD 340 LAh

باپ سکول چلاتا تھا بچہ 8 سال کا ماں کا گھر ان پڑھ
بچہ باپ کے حوالے
2010 MLD 340

والد بچوں کے مفادات میں دوسری شادی نا کرے تو حضانت کا حق والد کا ہو گا
2004SCMR 1735

والد مقدمات میں ریکارڈ یافتہ ہوا تو حضانت کا حق دار نا ہو گا
PLJ 2014 sc 1572

حضانت کا حق والد کو تب ہی ملتا ہے جب وہ خرچہ نان و نفقہ ادا کرتا چلا آ رہا ہو اگر خرچہ نہیں دیتا تو حقدار نا ہو گا
2012CLC 784

نابالغ کی ماں نے دوسری شادی کر لی محض غربت کی وجہ سے نابالغ کو ماں سے جدا نہیں کیا جا سکتا ماں پرائیویٹ سکول میں پڑھاتی تھی
2018 mld 862

ماں نے دوسری شادی کر لی بچے سوتیلی ماں کے پاس جانے کو تیار نا تھے بچے حقیقی والدہ کے پاس رہے
2009 clc 705

ماں دوسری شادی کرے تو لڑکے کی حد تک حضانت کا حق نہیں کھو سکتی
2018 mld 591

قانون شہادت آرڈر کے چند اہم آرٹیکلز ```Article 5: Communication During Marriage```_کسی بھی شخص کو مجبور نہیں کیا جاسکتا ...
21/08/2024

قانون شہادت آرڈر کے چند اہم آرٹیکلز

```Article 5: Communication During Marriage```
_کسی بھی شخص کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ دوسرے شخص کے راز افشاں کرے جس سے اسکی شادی ہوئی ہو۔_

```Article 38: Confession To Police Officer not to be Proved```
_پولیس کے سامنے دی جانے والی شہادت (اقبال جرم) کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہے۔_

```Article 44: Accused Person to be Laible to Cross-Examination```
_ملزم کو جرح کا حق حاصل ہے۔_

```Article 59: Opinion of Expert```
_عدالت کسی ٹیکنیکل معاملہ وغیرہ کے لیے اس (متعلقہ) شعبہ کے ماہر کی رائے لے سکتی ہے، جیساکہ میڈیکل وغیرہ کے بارے میں ڈاکٹر سے رائے لینا وغیرہ۔_

```Article 67: In Criminal Cases Previous Good Character is Relevant```
_فوجداری مقدمات میں اگر ملزم کا سابقہ ریکارڈ اچھا ہوگا تو ملزم کو اسکا فائدہ دیا جائے گا۔_

```Article 71: Oral Evidence must be Direct```
_زبانی شہادت کا براہ راست ہونا ضروری ہے۔_

```Article 73: Primary Evidence```
_پرائمری شہادت سے مراد اصل کاغذات عدالت میں پیش کرنا ہے۔_

```Article 74: Secondry Evidence```
_سیکنڑری شہادت سے مراد پرائمری شہادت کے علاوہ کوئی بھی شہادت ہے۔ جیساکہ اصل کاغذات کی فوٹو کاپی وغیرہ۔_

```Article 85: Public Documents```
_تمام وہ کاغذات جو سرکاری دفاتر، پٹوار خانہ، پولیس روز نامچہ اور عدالتی فائلیں وغیرہ پبلک ڈاکومنٹ ہیں جس کا مشاہدہ پاکستان کا ہر شہری کرسکتا ہے۔_

```Article 86: Private Documents```
_مذکورہ بالا کاغذات کے سوا باقی ہر قسم کے کاغذات پرائیویٹ کاغذات ہیں۔_

```Article 114: Estoppel```
_اس سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی بات بندہ عدالت میں کوئی بیان دے دے تو اپنے اس بیان سے مکر نہیں سکتا۔_

```Article 117: Burdun ofy Proof```
_اس سے مراد جو بھی شخص عدالت میں کوئی مقدمہ پیش کرتا ہے تو اسکو ثابت کرنا بھی اسی شخص کی ذمہ داری ہوتی ہے۔_

```Article 136: Leading Questions```
_ایسے سوالات جس میں گواہ کو صرف ہاں یا نا میں جواب دینا ہوتا ہے۔_

```Article When Leading Question may by Asked```
_لیڈنگ سوالات جرح میں کہے جا سکتے ہیں۔_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دستاویزات جو پبلک ڈاکومنٹ کی تعریف میں آتے ہیں
قانون شہادت کے آرٹیکل 85 کے مطابق مندرجہ ذیل کاغذات پبلک ڈاکومنٹ کی تعریف میں آتے ہیں

Passport
قانون شہادت کے آرٹیکل 85 کے مطابق پاسپورٹ بھی پبلک ڈاکومنٹ کی تعریف میں آتا ہے

Roznamcha Waqiati

قانون شہادت کے آرٹیکل 85 کے مطابق روزنامچہ واقعاتی بھی ہبلک ڈاکومنٹ کی تعریف میں آتا ہے

Register of birth

قانون شہادت کے آرٹیکل 85 کے مطابق فوتگی و پیدائشی رجسٹر بھی ہبلک ڈاکومنٹ شمار ہوگا

اسکے علاوہ عدالتی فیصلہ جات، نکاح نامہ ،سرکاری محکمہ کے آمدن وخرچ کا ریکارڈ پبلک ڈاکومنٹ ہیں جنکی نقول آرٹیکل 87 کے تحت ہر شہری وصول کرسکتا ہے. مختلف قسم کے ثبوت جو آپ کو قانونی کیریئر میں نظر آئیں گے

آپ نے شاید ان شرائط میں سے کچھ اپنے پسندیدہ سچے جرم کی دستاویزی فلموں یا کورٹ روم ڈراموں میں سنا ہو ، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان کا اصل مطلب کیا ہے؟ بہت سی مختلف قسم کے ثبوتوں کو سمجھنے کے لئے اپنی دھوکہ دہی پر اس پر غور کریں۔

1. براہ راست ثبوت

عام طور پر ، ثبوت کی دو بنیادی اقسام ہیں: براہ راست اور حالات۔ براہ راست ثبوت ، جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے ، وہ ثبوت ہے جو مدعا علیہ کو براہ راست اس جرم سے جوڑتا ہے جس کے لئے وہ بغیر کسی مداخلت کی مقدمہ چل رہا ہے۔ ایک عام مثال عینی شاہد کی حلف برداری ہوگی۔

2. موضع ثبوت

دوسری طرف ، صورت حال کا ثبوت وہ ثبوت ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرد جرم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ، جب کہ براہ راست شواہد میں گواہ شامل ہوسکتا ہے جس میں مدعا علیہ کسی جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھتا ہو ، صورت حال کا ثبوت گواہ ہوسکتا ہے کہ مدعا علیہ کسی جرم کے منظر سے بھاگتے ہوئے دیکھ رہے ہوں۔ کسی بھی صورت حال میں ، اس طرح کے ثبوتوں کی ایک بڑی تعداد کو کوئی اثر مرتب کرنے کے لئے مرتب کیا جانا چاہئے۔

3. جسمانی ثبوت

اصل ثبوت بھی کہا جاتا ہے ، جسمانی شواہد سے مراد وہ مادی شے ہیں جو معاملے میں کردار ادا کرسکتی ہیں جس کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عام طور پر جسمانی شواہد میں کسی جرم کے موقع پر پائی جانے والی اشیاء پر مشتمل ہوگا ، چاہے یہ ممکنہ ہتھیار ہو ، جوتوں کا پرنٹ ہو ، ٹائر کے نشان ہوں یا یہاں تک کہ کپڑے کے ٹکڑے سے مائنسول ریشے ہو — شاید مجرم نے پہنا ہوا لباس کا ایک شے۔

4. انفرادی جسمانی ثبوت

جسمانی ثبوت کی چھتری میں ثبوت کی دو الگ الگ قسمیں ہیں: انفرادی اور طبقاتی ثبوت۔ انفرادی خصوصیات کے حامل شواہد میں جسمانی خصوصیات موجود ہیں جو ایک فرد کے وسیلہ سے منفرد ہیں۔ انفرادی شواہد کی مثالوں میں انگلیوں کے نشانات ، ڈی این اے یا فائر شدہ گولی پر مارنے والے نشان شامل ہیں۔

5. طبقاتی جسمانی ثبوت

طبقاتی خصوصیات کے ساتھ جسمانی شواہد میں ایسی خصوصیات ہیں جو کسی گروپ کے ساتھ وابستہ ہوسکتی ہیں۔ اس طرح کے ثبوت عام طور پر مشتبہ افراد ، اسلحہ یا اس طرح کے تالاب کو تنگ کرنے میں مدد کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ کلاس ثبوت کی مثالوں میں خون کی قسم ، جوتے کے کسی خاص برانڈ کے چلنے کے نمونے یا آتشیں اسلحے کا میک اپ اور ماڈل شامل ہیں۔

6. فارنسک ثبوت

سائنسی ثبوت کے طور پر بھی کہا جاتا ہے ، فارنسک ثبوت اکثر مجرمانہ قانونی چارہ جوئی میں سب سے مددگار اقسام میں سے ہیں۔ عام طور پر ، سائنسی ثبوت وہ ثبوت ہے جو علم پر مبنی ہے جو سائنسی طریقہ استعمال کرکے تیار کیا گیا ہے۔ ایسے ہی ، قابل قبول فرانزک شواہد کی بنیاد پر قیاس ، جانچ اور عام طور پر سائنسی برادری کے اندر قبول کیا گیا ہے۔ اس میں ڈی این اے میچنگ ، فنگر پرنٹ کی شناخت ، بالوں کا ثبوت ، فائبر کے ثبوت اور بہت کچھ شامل ہے۔

7. ٹریس ثبوت

سیدھے الفاظ میں ، جب دو چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کریں تو ٹریس ثبوت تیار ہوجاتا ہے۔ ٹریس شواہد کی مثالوں میں گن شاٹ کی باقیات ، بال ، ریشے ، مٹی ، لکڑی اور جرگ شامل ہیں۔ اس طرح کے ثبوت تفتیش کاروں کو مدعا علیہ اور / یا شکار کو باہمی جگہ سے جوڑنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

8. تعریفی ثبوت

ہم ٹی وی پر ایک عام کمرہ عدالت والے ڈرامے میں جو کچھ دیکھتے ہیں وہ شہادت کا ثبوت ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کسی گواہ کو موقف کے مطابق جج کے سامنے بولنے کے لئے بلایا جاتا ہے اور حلف کے تحت جیوری کی حیثیت سے۔ گواہی کے گواہوں کو مقدمے کی سماعت میں استغاثہ اور دفاع دونوں کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جب استغاثہ کے ذریعہ استغاثہ کے گواہوں سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے تو ، اسے براہ راست معائنہ کہا جاتا ہے۔ جب بعد میں ان سے دفاعی وکیلوں سے پوچھ گچھ ہوتی ہے تو ، اسے کراس معائنہ کہتے ہیں۔ جب دفاعی گواہوں کے کردار کو الٹ کیا جاتا ہے تو یہی بات پیش آتی ہے۔

9. ماہر گواہ کے ثبوت

زیادہ تر تمام عدالتیں گواہوں کو ان کی ذاتی رائے کی بنیاد پر گواہی دینے سے روکتی ہیں — یہی وجہ ہے کہ ہمارے پاس گواہ کے پاس ماہر ثبوت ہیں۔ ماہر گواہوں کو اپنی مہارت کے شعبے میں معاملات کے بارے میں گواہی دینے کی اجازت ہے۔ اس میں ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کے بارے میں گواہی دینے والا فرانزک تجزیہ کار ، ایک ڈاکٹر ایکس رے کے سیٹ کے تجزیہ کے بارے میں گواہی دینے والا یا فنگر پرنٹ تجزیہ کار کسی جرم منظر یا ہتھیار سے اٹھائے گئے پرنٹس سے متعلق نتائج کی گواہی دیتا ہے۔

10۔ڈیجیٹل ثبوت

ہماری تکنیکی طور پر منسلک دنیا میں ، ڈیجیٹل شواہد انتہائی اہم ہوگئے ہیں ، کیوں کہ کمپیوٹر ڈیٹا جرائم کی ایک بڑی تعداد کو چھوڑ سکتا ہے۔ ڈیجیٹل شواہد میں کوئی بھی متعلقہ معلومات شامل ہے جو بائنری شکل میں اسٹور یا منتقل ہوتی ہے۔ اس میں کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو ، ایک سیل فون ، فلیش ڈرائیو اور اس طرح کی کوئی چیز بھی شامل ہے۔ قبل ازیں ای جرائم کے قانونی چارہ جوئی میں مکمل طور پر استعمال ہوتا تھا ، اب ڈیجیٹل شواہد کا استعمال وسیع پیمانے پر جرائم پراسیکیوشن میں کیا جاتا ہے ، ای میل مواصلات ، ٹیکسٹ میسجز اور سیل فون لوکیشن جیسی چیزوں کی روشنی میں۔

11. دستاویزی ثبوت

دستاویزی ثبوت کا مناسب طور پر نام ، دستاویزات سے متعلق دستاویزات میں یا موجود کسی بھی متعلقہ ثبوت سے مراد ہے۔ اس میں ایک دستخط شدہ معاہدہ ، عمل یا وصیت شامل ہوسکتی ہے۔ کسی عدالتی مقدمے میں داخل ہونے کے ل all ، تمام دستاویزی ثبوتوں کو مستند ہونا ضروری ہے۔

12. مظاہرے کے ثبوت

مظاہرے کے ثبوت کی چھتری میں بہت سے مختلف عناصر شامل ہوسکتے ہیں۔ حقائق کو ظاہر کرنے یا سمجھانے کے لئے آزمائش میں استعمال ہونے والی کوئی بھی چیزیں ، تصاویر ، ماڈل یا دوسرے آلات مظاہرے کا ثبوت سمجھے جاتے ہیں۔

13. خصوصیت کا ثبوت

کسی شخص کے متعلقہ معاشرے میں ان کی ساکھ کی بنیاد پر اخلاقی موقف کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہونے والے شواہد کو چہرہ کا ثبوت سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ، ایک خاص گواہ وہ شخص ہے جو کسی اور کی جانب سے عدالت میں گواہی دیتا ہے تاکہ وہ ان کے مثبت یا منفی کردار کی بات کرے۔

14. عادت کے ثبوت

اگرچہ پروانسیٹی ثبوت — یا یہ ثبوت کہ ماضی میں برے سلوک میں ملوث شخص court عام طور پر عدالت کے معاملات میں قابل اعتنا نہیں ہے ، لیکن عادت کے ثبوت اس اصول کی استثناء کے طور پر قابل اعتراف ہیں۔ عادت کے ثبوت سے مراد کسی شخص کے مخصوص حالات میں دہرائے جانے والے ردعمل کے ثبوت ہیں۔ یہ عدالتی مقدمات میں استعمال کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ شخص اسی طرح کی صورتحال میں کیسے کام کرے گا۔

15. ثبوت سماعت

یہ سچ ہے کہ سماعت کے شواہد سے متعلق قواعد دائرہ اختیار سے مختلف ہیں ، لیکن عام طور پر یہ فیصلہ دیا جاتا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران ناقابل سماعت رہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سماعت کے ثبوت کسی مقدمے کی سماعت کے دوران زیر بحث آنے والے معاملے کے سلسلے میں متعلقہ فریق کے ذریعہ عدالت سے باہر بیان بیان کرتے ہیں۔ یہ عام طور پر ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے کیونکہ دوسرے فریق کی طرف سے اس سوال پر غور کرنے والے شخص کی جانچ پڑتال کرنے سے قاصر ہے۔

16. ثبوت کی تصدیق

پہلے سے موجود شواہد کو مضبوط بنانے ، شامل کرنے ، توثیق کرنے یا اس کی تصدیق کرنے کے لئے استعمال ہونے والے شواہد کو مربوط ثبوت سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ، اگر کسی مقتول کی گواہی اپنے ذاتی تجربے کی تکرار کرتی ہے تو ، اس کی گواہی کے مختلف پہلوؤں کی تصدیق کرکے اپنے دعووں کو دبانے کے ل cor اکثر ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔

17. عذر ثبوت

مقدمے کی کارروائی کے دوران ، دفاعی ٹیمیں اکثر ایسے شواہد پیش کریں گی جو مدعا علیہ کے مبینہ اقدامات یا ارادوں کے بارے میں معقول شبہات کا جواز پیش کرنے ، عذر کرنے یا تعی .ن کرنے کا کام کرتی ہیں۔ اسے استثناءی ثبوت کہا جاتا ہے ، اور یہ عام طور پر یہ ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے کہ مدعا علیہ قصوروار نہیں ہے۔ جب استغاثہ جان بوجھ کر ممکنہ عذر کے ثبوت کو روکیں تو ، یہ بریڈی رول کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔

18. قابل قبول ثبوت

بہت سی مختلف قسم کے ثبوتوں کے درمیان ، دو بنیادی قسمیں ہیں جو عدالت کے مقدمے کے نتائج کو بہت زیادہ متاثر کرے گی: قابل قبول اور ناقابل تسخیر ثبوت۔ عام طور پر ، ان تمام شواہد کو جو باضابطہ طور پر کسی جج یا جیوری کے سامنے پیش کرنے کے قابل ہو ، قابل اعتراف ثبوت سمجھے جاتے ہیں۔ مقدمے کی سماعت سے قبل جج کا فرض ہے کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ کوئی خاص ثبوت شامل کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

19. ناقابل تسخیر ثبوت

اس کے برعکس ، جج جو فیصلہ کرتے ہیں کہ جج جیوری کے سامنے پیش نہیں ہوسکتے وہ ناقابل قبول شہادت سمجھا جاتا ہے۔ ناقابل تسخیر ہونے کے ثبوت کو سمجھنے کی وجوہات میں مندرجہ ذیل شامل ہوسکتے ہیں: یہ غلط طریقے سے حاصل کیا گیا تھا ، یہ تعصب ہے ، یہ معاملے سے متعلق نہیں ہے یا یہ سماعت ہے۔

20. ناکافی ثبوت

عدالتی معاملات میں ، استغاثہ ٹیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ثبوت کے بوجھ کو پورا کرے — یا یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے الزامات کو کسی معقول شک سے بالاتر ثابت کریں۔ ثبوت کے بوجھ کو پورا کرنے میں ناکام ہونے والے ثبوت کو ناکافی ثبوت سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں ، جج دفاع کی طرفداری پیش کرنے سے پہلے ہی کسی کیس کو خارج کردیتے ہیں۔

18/08/2024

انکم ٹیکس گوشوارے 2024
اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔

محترم احباب!
1.آپ کو یاد دھانی کے لئے اطلاع دی جا رہی ھے۔کہ گوشوارہ جات 2024 کی فائلنگ مورخہ یکم جولائی سے شروع ھو چکی ھے اور 30 ستمبرکو بند ھو جائے گی۔
2. آپ سے گزارش ھے کہ آخری تاریخوں کا انتظار نہ کریں۔ کئی قسم الجھنیں رکاوٹیں اور نادیدہ مسائل درمیان میں حائل ھو جاتے ھیں جن میں۔ لوڈ شیڈنگ انٹرنیٹ یا fbr کااپنا خود کار سسٹم بھی chock ھو سکتا ھے۔
3. لہذا کسی بھی پریشانی یا جرمانہ سے بچنے کے لئے ضروری دستاویزات کے حصول کے لئے چارہ جوئی شروع کردی ۔
4. دستاویزات میں اپنے جملہ بینک اکاؤنٹ کی سٹیٹمنٹ جو یکم جولائی 2023 سے 30 جون 2024 تک ھونی چاہیے
5. آپ کے اپنے نام پر جو جو سم استعمال ھو رھی ھے اور وائی فائی یا انٹرنیٹ سب کے ٹیکس کاٹا گیا ھے ان تمام کا ان کی کمپنیوں سے سرٹیفیکیٹ حاصل کریں۔
6. کس قسم کی جائیداد کی خرید وفروخت اگر ھوئی اس پر ادا شدہ ٹیکس کی تفصیل ۔
7. نوکری پیشہ حضرات اپنے تنخواہوں کی تفصیل کے ساتھ حکومت کو ادا شدہ ٹیکس سرٹیفیکیٹ لینا نہ بھولیں ۔
کسی بھی دشواری کی صورت میں یا معلومات کے حصول کے لئے مجھ سے بلا تردد رابطہ کر سکتے ۔ 03135637184

07/07/2024

PLJ 2024 CrC 79

منشیات کیخلاف مہم کے دوران عام طور پر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ پولیس مہم کو کامیاب ظاہر کرنے کیلئے سابقہ ریکارڈ رکھنے والوں پر فرضی برآمدگی ظاہر کرکے اور جھوٹی شہادتیں بنا کر مقدمات درج کر دیتی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کا تازہ ترین فیصلہ

It is unfortunately a growing phenomenon in our police culture that subordinate police officials book the persons having previous criminal record in narcotic cases by fabricating false evidence only to make the campaign or ‘crackdown’ ordered by the superior officers against the addicts or peddlers, successful that practice cannot at all be endorsed and encouraged. Order in the society is to be maintained and the crime is to be curbed by ensuring untainted justice for all. Viable expeditious proceedings in the case is also a requirement of fair trial. In this case, it prima facie, seems that right of fair trial guaranteed by the Constitution stands infringed because of apparently willful abstaining from submission of challan to the Court in time. It prima facie, stinks mala fide on the part of concerned officials which makes this case one of further inquiry into petitioner’s guilt. Finding the unjustifiably belated submission of challan.
Bail allowed.

Crl. Misc.34710/23
Shehzad . Vs The State etc.
Mr. Justice Syed Shahbaz Ali Rizvi Rafiq Khan

✅  𝐒𝐩𝐞𝐜𝐢𝐚𝐥 𝐩𝐚𝐜𝐤𝐚𝐠𝐞 𝐟𝐨𝐫 𝐒𝐭𝐚𝐫𝐭𝐮𝐩 & 𝐒𝐦𝐚𝐥𝐥 𝐁𝐮𝐬𝐢𝐧𝐞𝐬𝐬𝐞𝐬✅  𝐋𝐢𝐦𝐢𝐭𝐞𝐝 𝐓𝐢𝐦𝐞 𝐏𝐞𝐫𝐢𝐨𝐝 𝐎𝐟𝐟𝐞𝐫✅  𝐎𝐮𝐫 𝐂𝐨𝐧𝐬𝐮𝐥𝐭𝐢𝐧𝐠 𝐅𝐢𝐫𝐦 𝐇𝐞𝐥𝐩𝐬 𝐲𝐨𝐮 𝐭𝐨 𝐠𝐞𝐭 𝐫𝐞𝐠...
17/02/2024

✅ 𝐒𝐩𝐞𝐜𝐢𝐚𝐥 𝐩𝐚𝐜𝐤𝐚𝐠𝐞 𝐟𝐨𝐫 𝐒𝐭𝐚𝐫𝐭𝐮𝐩 & 𝐒𝐦𝐚𝐥𝐥 𝐁𝐮𝐬𝐢𝐧𝐞𝐬𝐬𝐞𝐬
✅ 𝐋𝐢𝐦𝐢𝐭𝐞𝐝 𝐓𝐢𝐦𝐞 𝐏𝐞𝐫𝐢𝐨𝐝 𝐎𝐟𝐟𝐞𝐫
✅ 𝐎𝐮𝐫 𝐂𝐨𝐧𝐬𝐮𝐥𝐭𝐢𝐧𝐠 𝐅𝐢𝐫𝐦 𝐇𝐞𝐥𝐩𝐬 𝐲𝐨𝐮 𝐭𝐨 𝐠𝐞𝐭 𝐫𝐞𝐠𝐢𝐬𝐭𝐞𝐫𝐞𝐝 𝐢𝐧 3 𝐃𝐚𝐲𝐬
𝐎𝐅𝐅𝐄𝐑𝐈𝐍𝐆 𝐓𝐇𝐄𝐒𝐄 𝐒𝐄𝐑𝐕𝐈𝐂𝐄𝐒
✅ Company Registration SECP
✅ Private Limited
✅ Single Member Company
✅ LLP Registration
✅ GST Registration
✅ NTN Registration
✅ Chamber of commerce registration
✅ SRB Registration
✅ PRA Registration
✅ KPRA Registration
✅ Trade Mark Registration
✅ Partnership/Firm Registration
✅ Sole Proprietorship Registration
📞 𝐒𝐞𝐧𝐝 𝐚 𝐌𝐬𝐠 𝐨𝐫 𝐂𝐚𝐥𝐥 at 0313 5637184
💬 𝐋𝐞𝐚𝐯𝐞 𝐚 𝐌𝐬𝐠/ 𝐍𝐮𝐦𝐛𝐞𝐫 at 𝐅𝐚𝐜𝐞𝐛𝐨𝐨𝐤
💬 𝐄𝐦𝐚𝐢𝐥 us at [email protected]

✅  𝐒𝐩𝐞𝐜𝐢𝐚𝐥 𝐩𝐚𝐜𝐤𝐚𝐠𝐞 𝐟𝐨𝐫 𝐒𝐭𝐚𝐫𝐭𝐮𝐩 & 𝐒𝐦𝐚𝐥𝐥 𝐁𝐮𝐬𝐢𝐧𝐞𝐬𝐬𝐞𝐬✅  𝐋𝐢𝐦𝐢𝐭𝐞𝐝 𝐓𝐢𝐦𝐞 𝐏𝐞𝐫𝐢𝐨𝐝 𝐎𝐟𝐟𝐞𝐫✅  𝐎𝐮𝐫 𝐂𝐨𝐧𝐬𝐮𝐥𝐭𝐢𝐧𝐠 𝐅𝐢𝐫𝐦 𝐇𝐞𝐥𝐩𝐬 𝐲𝐨𝐮 𝐭𝐨 𝐠𝐞𝐭 𝐫𝐞𝐠...
05/02/2024

✅ 𝐒𝐩𝐞𝐜𝐢𝐚𝐥 𝐩𝐚𝐜𝐤𝐚𝐠𝐞 𝐟𝐨𝐫 𝐒𝐭𝐚𝐫𝐭𝐮𝐩 & 𝐒𝐦𝐚𝐥𝐥 𝐁𝐮𝐬𝐢𝐧𝐞𝐬𝐬𝐞𝐬
✅ 𝐋𝐢𝐦𝐢𝐭𝐞𝐝 𝐓𝐢𝐦𝐞 𝐏𝐞𝐫𝐢𝐨𝐝 𝐎𝐟𝐟𝐞𝐫
✅ 𝐎𝐮𝐫 𝐂𝐨𝐧𝐬𝐮𝐥𝐭𝐢𝐧𝐠 𝐅𝐢𝐫𝐦 𝐇𝐞𝐥𝐩𝐬 𝐲𝐨𝐮 𝐭𝐨 𝐠𝐞𝐭 𝐫𝐞𝐠𝐢𝐬𝐭𝐞𝐫𝐞𝐝 𝐢𝐧 3 𝐃𝐚𝐲𝐬
𝐎𝐅𝐅𝐄𝐑𝐈𝐍𝐆 𝐓𝐇𝐄𝐒𝐄 𝐒𝐄𝐑𝐕𝐈𝐂𝐄𝐒
✅ Company Registration SECP
✅ Private Limited
✅ Single Member Company
✅ LLP Registration
✅ GST Registration
✅ NTN Registration
✅ Chamber of commerce registration
✅ SRB Registration
✅ PRA Registration
✅ KPRA Registration
✅ Trade Mark Registration
✅ Partnership/Firm Registration
✅ Sole Proprietorship Registration
📞 𝐒𝐞𝐧𝐝 𝐚 𝐌𝐬𝐠 𝐨𝐫 𝐂𝐚𝐥𝐥 at 0313 5637184
💬 𝐋𝐞𝐚𝐯𝐞 𝐚 𝐌𝐬𝐠/ 𝐍𝐮𝐦𝐛𝐞𝐫 at 𝐅𝐚𝐜𝐞𝐛𝐨𝐨𝐤
💬 𝐄𝐦𝐚𝐢𝐥 us at [email protected]

18/01/2024

⚫ Limitation Period:

1. The time for filing first appeal in civil cases is 30 days.

2. The time for filing second appeal in civil cases is 60 days.

3. The time for filing civil revision is 90 days.

4. Limitation period of appeal in capital punishment, 7 days.

5. Limitation period of appeal From Magistrate to Sessions Court, 30 days.

6. Limitation period of appeal From Sessions Court to High Court, 60 days.

7. Limitation period of appeal From High Court to Supreme Court, 30 days.

8. Limitation period of appeal From High Court to Supreme Court in special Leave to
Appeal, 30 days.

9. Limitation period of appeal From Magistrate to High Court in acquittal in Challan
Case is 30 days and in Complaint Case 60 days.

10. Limitation period of appeal From Sessions Court to High Court in acquittal in Challan
Case is 30 days and in Complaint Case 60 days.

11. Limitation period of appeal From High Court when case decide by it in its original
jurisdiction and to Division Bench than 20 days in acquittal or conviction as the case
may.

12. Plaintiff has a time of 6 years to file ex*****on.

13. Limitation in civil suits is 3 years from the cause of action.

14. Article 150. Appeal from death sentence to High Court-7 days.

15. Article 151. High Court order on original side-appeal-20 days.

16. Article 154. Appeal to any Court other than High Court-30 days.

17. Article 155. Criminal appeal to High Court-60 days.

18. Article 157. Appeal from acquittal by State-6 months.

16/12/2023

وراثت کی تقسیم کا قانونی طریقہ کار آسان اردو زبان میں ملاحظہ فرمائیں۔ اس پوسٹ کو ذیادہ سے ذیادہ شیئر کریں۔

وراثت کی تقسیم کا مکمل اور جامع قانونی طریقہ کار:

(١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد تقسیم ہوگی.

(٢): اگر صاحب جائیداد خود اپنی جائیداد تقسیم کرے تو اس پر واجب ہے کہ پہلے اگر کوئی قرض ہے تو اسے اتارے، جن لوگوں سے اس نے وعدے کیۓ ہیں ان وعدوں کو پورا کرے اور تقسیم کے وقت جو رشتےدار، یتیم اور مسکین حاضر ہوں ان کو بھی کچھ دے.

(٣): اگر صاحب جائیداد فوت ہوگیا اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ ہی جائیداد تقسیم کی تو متوفی پر واجب الادا قرض دینے کے بعد جائیداد صرف حقداروں میں ہی تقسیم ہوگی.

جائیداد کی تقسیم میں جائز حقدار:

(١): صاحب جائیداد مرد ہو یا عورت انکی جائیداد کی تقسیم میں جائیداد کے حق دار اولاد، والدین، بیوی، اور شوہر ہوتے ہیں.

(٢): اگر صاحب جائیداد کے والدین نہیں ہیں تو جائیداد اہل خانہ میں ہی تقسیم ہوگی.

(٣): اگر صاحب جائیداد کلالہ ہو اور اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں تو کچھ حصہ سوتیلے بہن بھائی کو جاۓ گا اور باقی نزدیکی رشتے داروں میں جو ضرورت مند ہوں نانا، نانی، دادا، دادی، خالہ، ماموں، پھوپھی، چچا، تایا یا انکی اولاد کو ملے گا.
X

(1): شوہر کی جائیداد میں بیوی یا بیویوں کا حصہ:

(١): شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حصہ آٹھواں (1/8) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہونگی تو ان میں وہی حصہ تقسیم ہوجاۓ گا.

(٣): اگر شوہر کے اولاد ہے تو جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ بیوی کا ہے، چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر شوہر کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، بیوی کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر شوہر کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیوی کیلئے جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ ہے اور شوہر کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر کے اولاد نہیں ہے تو بیوی کا حصہ چوتھائی (1/4) ہو گا اور باقی جائیداد شوہر کے والدین کی ہوگی.

(٧): اگر کوئی بیوی شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاتی ہے تو اسکا حصہ نہیں نکلے گا.

(٨): اگر بیوہ نے شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے دوسری شادی کرلی تو اسکو حصہ نہیں ملے گا.

(٩): اور اگر بیوہ نے حصہ لینے کے بعد شادی کی تو اس سے حصہ واپس نہیں لیا جاۓ گا.

(2): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ:

(١): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ نصف (1/2) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر بیوی کے اولاد نہیں ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور نصف (1/2) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے.

(٣): اگر بیوی کے اولاد ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے، اور چھٹا (1/6) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر بیوی کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، شوہر کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد بیوی کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر بیوی کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور بیوی کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر، بیوی کے والدین کی طرف سے جائیداد ملنے سے پہلے فوت ہو جاۓ تو اس میں شوہر کا حصہ نہیں نکلے گا.

(٧): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے بچے ہیں تو بیوی کا اپنے والدین کی طرف سے حصہ نکلے گا اور اس میں شوہر کا حصہ چوتھائی (1/4) ہوگا اور باقی بچوں کو ملے گا.

(٨): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.

(3): باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): باپ کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): باپ کی جائیداد میں پہلے باپ کے والدین یعنی دادا، دادی کا چھٹا (1/6) حصہ، اور باپ کی بیوہ یعنی ماں کا آٹھواں (1/8) حصہ نکالنے کے بعد جائیداد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں، دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، آٹھ واں (1/8) حصہ بیوہ ماں کا ہوگا اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کوملے گا.

(٤): اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے، آٹھواں (1/8) حصہ بیوہ ماں کیلئے ہے اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر باپ کے والدین یعنی دادا یا دادی جائیداد کی تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اگر کوئی بھائی باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوگیا اور اسکی بیوہ اور بچے ہیں تو بھائی کا حصہ مکمل طریقہ سے نکالا جاۓ گا.

(٧): اگر کوئی بہن باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاۓ اور اسکا شوہر اور بچے ہوں تو شوہر اور بچوں کو حصہ ملے گا. لیکن اگر بچے نہیں ہیں تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گ

(4): ماں کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): ماں کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): جائیداد ماں کے والدین یعنی نانا نانی اور باپ کا حصہ نکالنے کے بعد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اور اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، باپ کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد ماں کے والدین کیلئے ہے.

(٤): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، باپ کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور ماں کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر ماں کے والدین تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اور اگر باپ بھی زندہ نہیں ہے تو باپ کا حصہ بھی نہیں نکالا جاۓ گا ماں کی پوری جائیداد اسکے بچوں میں تقسیم ہوگی.

(٧): اگر ماں کے پہلے شوہر سے کوئی اولاد ہے تو وہ بچے بھی ماں کی جائیداد میں برابر کے حصہ دار ہونگے

(5): بیٹے کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹے کے اولاد ہو تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹے کے اولاد نہیں ہے لیکن بیوہ ہے اور بیوہ نے شوہر کی جائیداد کے تقسیم ہونے تک شادی نہیں کی تو اس کو جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ملے گا اور باقی جائیداد بیٹے کے والدین کی ہوگی.

(٤): اگر بیٹے کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹا رنڈوا ہے اور اسکے کوئی اولاد بھی نہیں ہے تو اسکی جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور دو تہائی (2/3) حصہ باپ کا ہے اور اگر بیٹے کے بہن بھائی بھی ہوں تو اسکی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور باقی باپ کا ہے.

(6): بیٹی کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹی کے اولاد ہے تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹی کے اولاد نہیں ہے لیکن شوہر ہے تو شوہر کو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ملے گا اور نصف (1/2) جائیداد بیٹی کے والدین کی ہوگی.

(٤): اور اگر بیٹی کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے ایک چوتہائی (1/4) حصہ اور باقی والدین کا ہے.

(٥): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے چوتہائی (1/4) حصہ اور والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹی بیوہ ہو اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہوگا اور اگر بیٹی کے بہن بھائی ہیں تو ماں کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہوگا اور باقی باپ کو ملے گا.

(7): کلالہ:

کلالہ سے مراد ایسے مرد اور عورت جنکی جائیداد کا کوئی وارث نہ ہو یعنی جنکی نہ تو اولاد ہو اور نہ ہی والدین ہوں اور نہ ہی شوہر یا بیوی ہو.

(١): اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہوں، اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں، اور اگر اسکا صرف ایک سوتیلہ بھائی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے، یا اگر صرف ایک سوتیلی بہن ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر بہن، بھائی تعداد میں زیادہ ہوں تو وہ سب جائیداد کے ایک تہائی (1/3) حصہ میں شریک ہونگے.

(٣): اور باقی جائیداد قریبی رشتے داروں میں اگر دادا، دادی یا نانا، نانی زندہ ہوں یا چچا، تایا، پھوپھی، خالہ، ماموں میں یا انکی اولادوں میں جو ضرورت مند ہوں ان میں ایسے تقسیم کی جاۓ جو کسی کیلئے ضر رساں نہ ہو.

(8): اگر کلالہ کے سگے بہن بھائی ہوں:

(١): اگر کلالہ مرد یا عورت ہلاک ہوجاۓ، اور اسکی ایک بہن ہو تو اسکی بہن کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلئے ہے.

(٢): اگر اسکی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلیے ہے.

(٣): اگر اسکا ایک بھائی ہو تو ساری جائیداد کا بھائی ہی وارث ہوگا.

(٤): اگر بھائی، بہن مرد اورعورتیں ہوں تو ساری جائیداد انہی میں تقسیم ہوگی مرد کیلئے دوگنا حصہ اسکا جوکہ عورت کیلئے ہے.

الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اور ہر ترکہ کیلئے جو ماں باپ اور عزیز و اقارب چھوڑیں ہم نے وارث قرار دئیے ہیں اور جن سے تم نے عہد کر لئے ہیں ان کا حصہ ان کو دیدو بیشک الله ہر شے پر گواہ ہے. (4:33)

مردوں کیلئے اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں ایک حصہ ہے اور عورتوں کیلئے بھی اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں تھوڑا یا زیادہ مقرر کیا ہوا ایک حصہ ہے. (4:7)

اور جب رشتہ دار و یتیم اور مسکین تقسیم کے موقع پر حاضر ہوں تو انکو بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے نرمی کے ساتھ کلام کرو. (4:8)

الله تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے اور اگر فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو ترکے کا دو تہائی (2/3) ان کا ہے اور اگر وہ ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے نصف (1/2) ہے اور والدین میں سے ہر ایک کیلئے اگر متوفی کی اولاد ہو تو ترکے کا چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر متوفی کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کیلئے ترکہ کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور اگر متوفی کے بہن بھائی بھی ہوں تو اس کی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے بعد تعمیل وصیت جو وہ کر گیا ہو یا بعد اداۓ قرض کے تم نہیں جانتے کہ تمہارے آباء یا تمہارے بیٹوں میں سے نفع رسانی میں کون تم سے قریب تر ہے یہ الله کی طرف سے فریضہ ہے بیشک الله جاننے والا صاحب حکمت ہے. (4:11)

اور جو ترکہ تمہاری بے اولاد بیویاں چھوڑیں تمہارے لئے اس کا نصف (1/2) حصہ ہے اور اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لئے اس ترکہ کا جو وہ چھوڑیں چوتھائی (1/4) حصہ ہے اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو وہ کر گئی ہوں یا قرض کی ادائیگی کے بعد اور اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو جو ترکہ تم چھوڑو ان عورتوں کیلئے اس کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور اگر تمہارے اولاد ہو تو ان عورتوں کا اس ترکہ میں آٹھواں (1/8) حصہ ہے جو تم چھوڑو بعد از تعمیل وصیت جو تم نے کی ہو یا قرض کی ادائیگی کے اور اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر وہ تعداد میں اس سے زیادہ ہوں تو بعد ایسی کی گئی وصیت کی تعمیل جو کسی کیلئے ضرر رساں نہ ہو یا ادائیگی قرض کے وہ سب ایک تہائی (1/3) میں شریک ہونگے یہ وصیت منجانب الله ہے اور الله جاننے والا بردبار ہے. (4:12)

تجھ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں کہہ دے کہ الله تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا آدمی ہلاک ہوجاۓ جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو پس اس کی بہن کیلئے اس کے ترکہ کا نصف (1/2) حصہ ہے. (اگر عورت ہلاک ہوجاۓ) اگر اس عورت کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کا وارث اس کا بھائی ہوگا اور اگر اس کی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے اس کے ترکہ کا دو تہائی (2/3) ہے اور اگر بھائی بہن مرد اور عورتیں ہوں تو مرد کیلئے دوگنا حصہ اس کا جو کہ عورت کیلے ہے الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

Address

E-11/2 Islamabad
Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GMN Solicitors A Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to GMN Solicitors A Law Firm:

Share

Category