18/02/2026
محکمانہ انکوائری میں جرح کا حق لازمی — سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
سپریم کورٹ نے سروس میٹر میں
ایک نہایت اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ محکمانہ انکوائری میں گواہوں پر جرح (Cross-Examination) کا حق دینا لازمی ہے، بصورتِ دیگر پوری کارروائی قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہوگی۔
کیس کا پس منظر
یہ فیصلہ CPLA No.706/2021 میں جسٹس Muhammad Ali Mazhar اور جسٹس Musarrat Hilali پر مشتمل بینچ نے سنایا۔
درخواست گزار محمد عابد، جو محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خیبر پختونخوا میں نائب قاصد تعینات تھے، کو مبینہ غیر حاضری کی بنیاد پر محکمانہ انکوائری کے بعد ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ:
انکوائری خیبر پختونخوا سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2011 کے مطابق نہیں کی گئی
گواہوں کے بیانات ان کی موجودگی میں ریکارڈ نہیں کیے گئے
انہیں گواہوں پر جرح کا موقع نہیں دیا گیا
سپریم کورٹ کا قانونی مؤقف
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ:
شو کاز نوٹس کا مقصد ملازم کو مؤثر دفاع کا موقع دینا ہے۔
اگر انکوائری میں گواہ پیش کیے جائیں تو ملزم کو لازمی طور پر ان پر جرح کا حق دیا جائے۔
جرح کا حق "قدرتی انصاف" (Natural Justice) اور آرٹیکل 10-A (حقِ منصفانہ ٹرائل) کے تحت بنیادی حق ہے۔
اگر یہ حق نہ دیا جائے تو پوری کارروائی مشکوک اور کالعدم ہو سکتی ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ محکمانہ انکوائری میں سقم یا جان بوجھ کر قانونی تقاضے پورے نہ کرنا ناقابلِ قبول ہے، کیونکہ ایک سرکاری ملازم کا پورا کیریئر اور روزگار داؤ پر لگا ہوتا ہے۔
📖 سابقہ نظائر کا حوالہ
عدالت نے اپنے سابقہ فیصلوں:
Federation of Pakistan v. Zahid Malik
Ghulam Murtaza Sheikh v. Chief Minister Sindh
کا حوالہ دیتے ہوئے اعادہ کیا کہ:
بغیر جرح کے کوئی بھی الزام ثابت تصور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جرح ہی وہ قانونی ذریعہ ہے جس سے سچ اور جھوٹ کا تعین ہوتا ہے۔
حتمی حکم
سپریم کورٹ نے:
سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا
اہم قانونی نکتہ
یہ فیصلہ تمام سرکاری ملازمین اور محکمانہ اتھارٹیز کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ:
✔️ محکمانہ کارروائی میں شفافیت
✔️ جرح کا مکمل حق
✔️ منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کی پابندی
لازمی ہے، ورنہ کارروائی عدالت میں برقرار نہیں رہ سکتی۔