Justice and Rights Law Firm

Justice and Rights Law Firm We solve all your legal problems

Criminal Law|Civil Law|Family Law |Corporate Law| Immigration Law

Emergency travel document ETD may be issued by the competent authorities to the accused so he may safely travel to Pakis...
11/08/2026

Emergency travel document ETD may be issued by the competent authorities to the accused so he may safely travel to Pakistan and surrender before a court of law though his CNIC passport and red notice has been issued to the accused!



Judges Duty Roster For Summer vacation Islamabad District Court West and East!
30/07/2026

Judges Duty Roster For Summer vacation
Islamabad District Court West and East!



امیگریشن کاؤنٹر پر موجود افسران کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مسافروں کے سفری دستاویزات کی ابتدائی جانچ کریں اور اگر کسی مع...
27/07/2026

امیگریشن کاؤنٹر پر موجود افسران کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مسافروں کے سفری دستاویزات کی ابتدائی جانچ کریں اور اگر کسی معاملے میں غیر قانونی ارادے یا مشکوک صورتحال کا شبہ ہو تو اسے مزید جانچ کے لیے بھیج دیں۔
لیکن یہ اختیار لامحدود (Unlimited) نہیں ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ:
بیرونِ ملک سفر کرنا، اگرچہ قانون کے تحت منظم کیا جا سکتا ہے، لیکن ایک اہم شہری حق (Civil Right) ہے۔
غیر قانونی امیگریشن روکنا حکومت کا جائز مقصد ہے، لیکن اس مقصد کے لیے اختیار استعمال کرتے وقت آئینی حقوق اور قانونی تقاضوں (Due Process) کی پابندی ضروری ہے۔
موجودہ مقدمے میں درخواست گزاروں پر یہ ظاہر ہوا کہ وہ وزٹ ویزا پر ملازمت کے لیے جانا چاہتے تھے۔
انہیں جہاز میں سوار ہونے سے چند لمحے پہلے Off-load کر دیا گیا، جس سے انہیں مالی نقصان، شہرت کو نقصان اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
ایسی کارروائی اگرچہ احتیاطی نوعیت کی ہو سکتی ہے، مگر اس کے سنگین نتائج ہوتے ہیں، اس لیے اس میں زیادہ احتیاط اور شفافیت ضروری ہے۔
اگر کسی مسافر کو آف لوڈ کیا جائے تو متعلقہ افسر پر لازم ہے کہ:
مختصر مگر واضح وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کرے؛
ان وجوہات کی ایک نقل جلد از جلد مسافر کو فراہم کرے۔
صرف زبانی طور پر آف لوڈ کرنا یا وجہ نہ بتانا قانون کے مطابق درست نہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ:
اس مقدمے میں آف لوڈنگ کو مستقل پابندی (Permanent Restraint) نہیں سمجھا جائے گا۔
اگر درخواست گزار آئندہ درست ویزا، مکمل دستاویزات اور مالی شرائط پوری کریں تو وہ دوبارہ بیرونِ ملک سفر کر سکتے ہیں، البتہ قانون کے مطابق جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے۔
عدالت نے آرٹیکل 4، آرٹیکل 10-A اور آرٹیکل 15 کی تشریح کرتے ہوئے کہا:
آرٹیکل 4: ہر شخص کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہونا چاہیے۔
آرٹیکل 10-A: ہر شخص کو منصفانہ طریقہ کار (Due Process) اور Fair Trial کا بنیادی حق حاصل ہے۔
آرٹیکل 15: ہر شہری کو نقل و حرکت اور قانون کے مطابق بیرون ملک سفر کرنے کا حق حاصل ہے۔
لہٰذا کسی شخص کو وجہ بتائے بغیر یا تحریری آرڈر کے بغیر آف لوڈ کرنا آئینی تقاضوں کے خلاف ہو سکتا ہے۔


🚨 خلع اور حق مہر پر لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ — شوہر کا ظلم ثابت ہو جائے تو بیوی پورے حق مہر کی حقدار، FIR یا میڈی...
23/07/2026

🚨 خلع اور حق مہر پر لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ — شوہر کا ظلم ثابت ہو جائے تو بیوی پورے حق مہر کی حقدار، FIR یا میڈیکل رپورٹ بھی لازمی نہیں۔

Writ Petition No. 20300 of 2023

اس مقدمے میں شوہر نے فیملی کورٹ کے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جس میں بیوی کے حق میں نکاح ختم (Dissolution of Marriage)، عدت کا نان و نفقہ اور مؤخر حق مہر کا 50 فیصد ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ بعد ازاں شوہر کی اپیل ڈسٹرکٹ جج نے ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کر دی، جس کے بعد شوہر نے لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی۔

حق مہر کتنے کا تھا؟

کل حق مہر: 1,00,000 روپے

حق مہر مؤخر (Deferred Dower) تھا اور ادا نہیں کیا گیا تھا۔

فیملی کورٹ نے بیوی کے دعوے کے مطابق 50,000 روپے ادا کرنے کا حکم دیا۔

بیوی کے الزامات

بیوی نے مؤقف اختیار کیا کہ:

شوہر اسے مارتا پیٹتا تھا۔

نشہ کرتا تھا۔

بے روزگار تھا۔

چوری کرتا تھا۔

والدین سے پیسے لانے کا مطالبہ کرتا تھا۔

گھر سے نکال دیا۔

نان و نفقہ ادا نہیں کیا۔

صلح یا واپس لانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

لاہور ہائی کورٹ کے اہم فیصلے اور اصول

1۔ خلع اور Dissolution of Marriage الگ قانونی حیثیت رکھتے ہیں

عدالت نے قرار دیا کہ ہر نکاح کی تنسیخ خلع نہیں ہوتی۔ اگر بیوی ظلم، تشدد، نان و نفقہ نہ دینے یا دیگر قانونی وجوہات ثابت کر دے تو مقدمہ Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939 کے تحت فیصلہ ہوگا، صرف خلع نہیں سمجھا جائے گا۔

2۔ ظلم ثابت ہونے پر پورا حق مہر ملے گا

اگر شوہر کا ظلم، تشدد یا دیگر قانونی زیادتی ثابت ہو جائے تو:

بیوی پورے حق مہر کی حقدار ہوگی۔

شوہر حق مہر کا کوئی حصہ واپس لینے کا حق نہیں رکھتا۔

اگر حق مہر ابھی تک ادا نہیں ہوا تو بھی پورا ادا کرنا ہوگا۔

3۔ صرف "خلع" لکھ دینے سے حق مہر ختم نہیں ہوتا

عدالت نے واضح کیا کہ صرف فیصلے میں "خلع" کا لفظ لکھ دینے سے حق مہر ختم نہیں ہو جاتا۔ اصل بات یہ دیکھی جائے گی کہ علیحدگی کی وجہ کیا تھی۔

4۔ ظلم صرف مارپیٹ کا نام نہیں

عدالت کے مطابق ظلم میں شامل ہیں:

جسمانی تشدد

ذہنی اذیت

گالم گلوچ

توہین

معاشی دباؤ

خرچہ نہ دینا

والدین سے پیسے لانے پر مجبور کرنا

نشہ کرنا

گھر سے نکال دینا

5۔ FIR یا میڈیکل رپورٹ لازمی نہیں

عدالت نے واضح کیا کہ اگر بیوی کی گواہی قابلِ اعتماد ہو اور مجموعی حالات اس کی تائید کرتے ہوں تو:

FIR ضروری نہیں۔

میڈیکل رپورٹ ضروری نہیں۔

صرف دستاویزی ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر دعویٰ مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

فیملی کورٹس کے لیے اہم ہدایات

لاہور ہائی کورٹ نے تمام فیملی کورٹس کو ہدایت دی کہ:

پہلے یہ طے کریں کہ علیحدگی کی اصل وجہ کیا ہے۔

اگر شوہر کا ظلم ثابت ہو جائے تو پورا حق مہر دیا جائے۔

ہر مقدمے کو خودکار طور پر خلع قرار نہ دیا جائے۔

ہر فیصلے میں واضح قانونی وجوہات تحریر کی جائیں۔

حق مہر کے بارے میں الگ اور واضح فیصلہ دیا جائے۔

حتمی فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ نے شوہر کی آئینی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت نے واضح اصول قائم کیا کہ اگر شوہر کا ظلم یا قانونی قصور ثابت ہو جائے تو بیوی اپنے پورے حق مہر کی حقدار رہے گی، اور صرف خلع کا لفظ استعمال ہونے سے اس کا حق مہر ختم نہیں ہوگا۔ مزید یہ کہ ایسے مقدمات میں FIR یا میڈیکل رپورٹ کو لازمی شرط قرار نہیں دیا جا سکتا۔


20/07/2026
وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے  قرار دیا کہ سروس ٹریبونل کو کسی قانون یا سروس رول کو آئین سے متصادم قرار دینے، اس کی آئین...
20/07/2026

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے قرار دیا کہ سروس ٹریبونل کو کسی قانون یا سروس رول کو آئین سے متصادم قرار دینے، اس کی آئینی حیثیت جانچنے یا اسے کالعدم قرار دینے کا اختیار حاصل نہیں۔ سروس ٹریبونل صرف ایسے معاملات سن سکتا ہے جو کسی سرکاری ملازم کی سروس کی شرائط یا انفرادی سروس آرڈر سے متعلق ہوں، جبکہ آئینی سوالات اور قانون کی آئینی حیثیت کا تعین صرف آئینی عدالتیں ہی کر سکتی ہیں۔
فیصلے میں مزید واضح کیا گیا کہ اگر کوئی سروس رول بنیادی حقوق سے متصادم ہو، امتیازی سلوک پر مبنی ہو، یا آئین اور بنیادی قانون (Parent Statute) کے خلاف بنایا گیا ہو تو اس کے خلاف براہِ راست آئینی درخواست ہائی کورٹ میں دائر کرنا ہی درست قانونی راستہ ہے۔
C.P.L.A No.2799 of 2023


Monal Restaurant Verdict by Federal Constitution Court!
16/07/2026

Monal Restaurant Verdict by Federal Constitution Court!


11/07/2026





Razia Khatoon vs Dr. Arifa Manzoor PLD 2026 Islamabad 105Medical Negligence exclusively falls under jurisdiction of Isla...
11/07/2026

Razia Khatoon vs Dr. Arifa Manzoor

PLD 2026 Islamabad 105

Medical Negligence exclusively falls under jurisdiction of Islamabad Healthcare Regulation Authority under Islamabad healthcare Regulation Act 2018
Consumer court lack of jurisdiction under Islamabad consumer protection Act 1995 in matter of medical Negligence
An aggrieved person must first approach to IHRA or PMDC in case of medical negligence.
Any criminal complaints before the Police Station,Ex officio justice of peace or any other forum by an aggrieved person due to medical negligence the said forum police or court bound to first refer the Matter to IHRA or PMDC for an expert inquiry/investigation report. Upon receiving such a report in negative from IHRA or PMDC or both then proceed further with the registration of FIR
The SHO is bound to cite the name of expert as a witness and make the report part of challan
Both the authority and Council are bound to complete their investigation and submit the report to the police station within a period of 90 days.




PLD 2026 Supreme Court 238While deciding Custody Petition by Guardian Judge Child must be heard so that her/his best int...
10/07/2026

PLD 2026 Supreme Court 238
While deciding Custody Petition by Guardian Judge
Child must be heard so that her/his best interests can be properly understood and protected
Participation of a child in legal proceedings is not a formality but fundamental to a justice System that respects dignity and agency of the child.
Listening to the voice of a Child gives them a sense of worth, inclusion and trust in the judicial process. Views of the child must be seriously considered not merely acknowledged.
Listening to a child doesn't mean obeying them but rather understanding their perspective deeply enough to act in their best interests.
By interpreting Section 17 of guardians and wards act 1890 in such harmonized manner consistent with both international obligation and constitutional Values,
Court affirm that the provision requires not only an objective inquiry into what serves the child's welfare but also procedural Obligation to hear the child and give due consideration to their voice.



Address

Office No. 6 First Floor Al Ghaffar Plaza G-11 Markaz Islamabad
Islamabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 18:00
Tuesday 09:00 - 18:00
Wednesday 09:00 - 18:00
Thursday 09:00 - 18:00
Friday 09:00 - 18:00
Saturday 09:00 - 18:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Justice and Rights Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share