23/07/2026
🚨 خلع اور حق مہر پر لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ — شوہر کا ظلم ثابت ہو جائے تو بیوی پورے حق مہر کی حقدار، FIR یا میڈیکل رپورٹ بھی لازمی نہیں۔
Writ Petition No. 20300 of 2023
اس مقدمے میں شوہر نے فیملی کورٹ کے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جس میں بیوی کے حق میں نکاح ختم (Dissolution of Marriage)، عدت کا نان و نفقہ اور مؤخر حق مہر کا 50 فیصد ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ بعد ازاں شوہر کی اپیل ڈسٹرکٹ جج نے ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کر دی، جس کے بعد شوہر نے لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی۔
حق مہر کتنے کا تھا؟
کل حق مہر: 1,00,000 روپے
حق مہر مؤخر (Deferred Dower) تھا اور ادا نہیں کیا گیا تھا۔
فیملی کورٹ نے بیوی کے دعوے کے مطابق 50,000 روپے ادا کرنے کا حکم دیا۔
بیوی کے الزامات
بیوی نے مؤقف اختیار کیا کہ:
شوہر اسے مارتا پیٹتا تھا۔
نشہ کرتا تھا۔
بے روزگار تھا۔
چوری کرتا تھا۔
والدین سے پیسے لانے کا مطالبہ کرتا تھا۔
گھر سے نکال دیا۔
نان و نفقہ ادا نہیں کیا۔
صلح یا واپس لانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
لاہور ہائی کورٹ کے اہم فیصلے اور اصول
1۔ خلع اور Dissolution of Marriage الگ قانونی حیثیت رکھتے ہیں
عدالت نے قرار دیا کہ ہر نکاح کی تنسیخ خلع نہیں ہوتی۔ اگر بیوی ظلم، تشدد، نان و نفقہ نہ دینے یا دیگر قانونی وجوہات ثابت کر دے تو مقدمہ Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939 کے تحت فیصلہ ہوگا، صرف خلع نہیں سمجھا جائے گا۔
2۔ ظلم ثابت ہونے پر پورا حق مہر ملے گا
اگر شوہر کا ظلم، تشدد یا دیگر قانونی زیادتی ثابت ہو جائے تو:
بیوی پورے حق مہر کی حقدار ہوگی۔
شوہر حق مہر کا کوئی حصہ واپس لینے کا حق نہیں رکھتا۔
اگر حق مہر ابھی تک ادا نہیں ہوا تو بھی پورا ادا کرنا ہوگا۔
3۔ صرف "خلع" لکھ دینے سے حق مہر ختم نہیں ہوتا
عدالت نے واضح کیا کہ صرف فیصلے میں "خلع" کا لفظ لکھ دینے سے حق مہر ختم نہیں ہو جاتا۔ اصل بات یہ دیکھی جائے گی کہ علیحدگی کی وجہ کیا تھی۔
4۔ ظلم صرف مارپیٹ کا نام نہیں
عدالت کے مطابق ظلم میں شامل ہیں:
جسمانی تشدد
ذہنی اذیت
گالم گلوچ
توہین
معاشی دباؤ
خرچہ نہ دینا
والدین سے پیسے لانے پر مجبور کرنا
نشہ کرنا
گھر سے نکال دینا
5۔ FIR یا میڈیکل رپورٹ لازمی نہیں
عدالت نے واضح کیا کہ اگر بیوی کی گواہی قابلِ اعتماد ہو اور مجموعی حالات اس کی تائید کرتے ہوں تو:
FIR ضروری نہیں۔
میڈیکل رپورٹ ضروری نہیں۔
صرف دستاویزی ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر دعویٰ مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
فیملی کورٹس کے لیے اہم ہدایات
لاہور ہائی کورٹ نے تمام فیملی کورٹس کو ہدایت دی کہ:
پہلے یہ طے کریں کہ علیحدگی کی اصل وجہ کیا ہے۔
اگر شوہر کا ظلم ثابت ہو جائے تو پورا حق مہر دیا جائے۔
ہر مقدمے کو خودکار طور پر خلع قرار نہ دیا جائے۔
ہر فیصلے میں واضح قانونی وجوہات تحریر کی جائیں۔
حق مہر کے بارے میں الگ اور واضح فیصلہ دیا جائے۔
حتمی فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے شوہر کی آئینی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت نے واضح اصول قائم کیا کہ اگر شوہر کا ظلم یا قانونی قصور ثابت ہو جائے تو بیوی اپنے پورے حق مہر کی حقدار رہے گی، اور صرف خلع کا لفظ استعمال ہونے سے اس کا حق مہر ختم نہیں ہوگا۔ مزید یہ کہ ایسے مقدمات میں FIR یا میڈیکل رپورٹ کو لازمی شرط قرار نہیں دیا جا سکتا۔