M Farooq

M Farooq Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from M Farooq, Legal, Islamabad.

10/05/2020

اب بھی کوئی شک باقی ہے؟؟
کہ کٹھ پُتلی کو کیوں لایا گیا ہے۔۔

10/05/2020

بل گیٹس۔۔! یہ تو ہوگا۔۔!
بل گیٹس کو ایک اور میدان میں ناکامی کا سامنا
شاباش پاکستانیوں اور بنگالیوں،😂😂

09/05/2020

1950 میں ہاورڈ یونیورسٹی میں ایک عجیب تجربہ ہوا. انہوں نے کچھ چوہوں کو پانی کے ادھ بھرے جار میں ڈال دیا. چوہوں نے ڈوبنے سے بچنے کیلئے ہاتھ پیر مارنے شروع کردئے. جو چوہا مایوس ہو کر ڈوبنے لگتا یہ اسے باہر نکال دیتے. ان کی اس بقا کی مشقت کا دورانیہ کتنا تھا.؟

یہ ایوریج پندرہ منٹ تھے. اس کے بعد مایوسی نے غلبہ پا کر ان کو ڈوبنے پر راضی کر لیا.

لیکن تجربہ یہاں ختم نہیں ہوا. انہوں نے کچھ دیر کا آرام دے کر چوہوں کو دوبارہ جار میں ڈال دیا. چوہوں نے دوبارہ بچنے کی کوشش شروع کردی. کیا آپ کو پتہ ہے. اس بار ان کی اس کوشش کا دورانیہ کیا تھا.؟

یہ 60 گھنٹے کی لگاتار کوشش تھی. پندرہ منٹ کے بعد مایوسی کا شکار ہوجانے والے چوہوں کو جار سے نکال دئے جانے کی اُمید نے اب ان کو ایک طویل دور کی ہمت دی. اُمید وہ مافوق الفطرت طاقت ہے جو ایک عام انسان کو طاقت کی وہ معراج دیتی ہے جس کے آگے منطق دلیل سب ہاتھ جوڑ دیتی ہیں.

تو اُمید کیا ہے.؟ اُمید آپ کے خوبصورت خواب ہیں. ان کو مایوسی کے اندھیروں میں گُم نہ ہونے دیں.

ریاض علی خٹک

09/05/2020

کرونا سے نہیں، آپ سے ڈر لگتا ہے
ترکش / آصف محمود

کرونا کے بارے میں تو قوم کی رہنمائی فرما دی گئی ہے کہ اس سے ڈرنا نہیں، لڑنا ہے،سوال اب یہ ہے کہ قرنطینہ کا کیا کرنا ہے؟ آپ گلی کوچوں میں پھر کر دیکھ لیجیے لوگ کرونا سے نہیں قرنطینہ کے ڈر سے سہمے پڑے ہیں۔ نہ کوئی ٹیسٹ کرا رہا ہے نہ کوئی ہسپتال جانے کو تیار ہے۔پریشاں حال لوگ سرگوشیاں کر رہے ہیں کہ کرونا سے تو شائد بچ جائیں گے لیکن ہسپتال یا سرکاری قرنطینہ چلے گئے تو کیا ہو گا؟

افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ یہ خوف صرف سازشی تھیوری کے اسیر نیم خواندہ اور جاہل لوگوں میں ہی سرایت نہیں کر چکا، سینیئر ڈاکٹرز بھی سہمے پڑے ہیں۔ کراچی کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں ایک سینیئرڈاکٹر گھر پر ہی جان گنوا بیٹھے کیونکہ انہیں یہ مرض لے کر ہسپتال یا قرنطینہ جانا گوارا نہ تھا۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ حکومتوں کی انتظامی کمزوریوں کی وجہ سے ایک نفسیاتی بحران اس قوم کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ حکمران اگر بے نیازی کے خ*ل سے نکل سکیں تو انہیں معلوم ہو یہ بحران کورونا وائرس سے کم خطرناک نہیں۔

یہ نفسیاتی بحران دن بدن شدت اختیارر کرتا جا رہا ہے اور خوف کے سائے طویل ہوتے جا رہے ہیں۔ لوگ کورونا سے زیادہ اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ کسی سچی جھوٹی رپورٹ نے انہیں کورونا کا مریض بنا دیا توان کا اور ان کے بچوں کا کیا بنے گا۔ اس معاملہ سے جس بے بصیرتی سے نبٹا گیا، یہ خوف اس کا منطقی نتیجہ ہے۔

مرض کسی کو بھی لاحق ہو سکتا ہے لیکن ہمارے ہاں جس طرح مریضوں کو اہل خانہ سمیت اٹھا لیا جاتا ہے اس نے عام آدمی کا نفسیاتی توازن تباہ کر دیا ہے۔سرکاری قرنطینہ اور ہسپتالوں سے آنے والی خبریں اس خوف میں مزید اضافہ کر دیتی ہیں کیونکہ یہاں بے نیازی کا عالم یہ ہے کہ اہل اقتدار ایسی خبروں کی دو چھٹانک کی تردید بھی گوارا نہیں کرتے۔

رپورٹس کے معیار کا عالم یہ ہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک ملازم میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ اس کے بعد ہائی کورٹ میں جو ہوا وہ باقیوں کے لیے تو محض خبر ہو گی لیکن وکلاء کے لیے وہ ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ہر سو خوف پھیل گیا۔ سرگرمیاں محدود ہو گئیں اور معاشی امکانات تباہ ہو گئے۔اب معلوم ہو رہا ہے وہ بھائی صاحب تو صحت مند تھے۔وہ پرائیویٹ لیبارٹری سے ٹیسٹ کراتے ہیں تو کورونا ٹیسٹ منفی آتا ہے اور وہ صحت مند قرار پاتے ہیں لیکن سرکاری لیبارٹری سے ہونے والا ٹیسٹ مثبت آتا ہے اور وہ بیمار قرار پاتے ہیں۔یہ اپنی نوعیت کا واحد واقعہ نہیں۔ دنیا بھر میں ہر طرف سے لیبارٹریوں کے ٹیسٹ کی صحت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔تنزانیہ کے صدر نے تو بھیڑ، بکری اور حتی کہ پپیتے کا سیمپل بھجوایا اور جواب آیا:”تینوں افراد کو کورونا وائرس لاحق ہو چکا ہے“۔

ایک جانب ٹیسٹ رپورٹس میں آنے والا یہ تضاد ہے اور دوسری طرف یہ خبر ہے کہ اب حکومت بڑے پیمانے پر کورونا کے ٹیسٹ کرنے جا رہی ہے۔یعنی اب کوئی قسمت کا دھنی ہو گا جو بچ رہے ورنہ کیا معلوم کون کم بخت کہاں ان ٹیسٹوں کے شکنجے میں آئے اور پھر کسے خبر رپورٹ مثبت آتی ہے یا منفی۔عوام کے اعصاب چٹخانے کو ساتھ ہی اعلان فرمایا جاتا ہے سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے اب جو بھی سبزی لینے آئے گا اس کا ٹیسٹ ہو گا۔ اب جس میں ہمت ہے وہ سبزی لے کر دکھائے۔حیرت ہوتی ہے یہ حکومتیں کرونا سے لڑ رہی ہیں یا عوام کی نفسیات تباہ کرنے پر تلی ہیں۔

کل کی خبر ہے کرونا کے ”مستند“مریضوں میں سے 70 فیصد میں کوئی علامات موجود نہیں۔ عام حالات میں یہ لوگ خود ہی ٹھیک ہو جاتے اور انہیں کبھی معلوم ہی نہ ہوتا انہیں کوروونا ہوا بھی یا نہیں۔ ان کی قوت مدافعت کورونا وائرس پر غالب ہو جاتی۔ اتنی غالب تعداد غیر متاثرہ مریضوں کی ہے لیکن پھر بھی وسیع پیمانے پر ٹیسٹ کا فیصلہ کرنا ایک ناقابل فہم بات ہے۔جن میں کچھ علامات ہیں ان کا ٹیسٹ کرنا ہے تو کر لیجیے لیکن راہ چلتے لوگوں کو پکڑ کر ٹیسٹ کرناکہاں کی دانشمندی ہے۔کیا ضروری ہے ہر اس سوراخ میں گھسا جائے جہاں مغربی ممالک جا گھسے؟

ماس ٹیسٹنگ سے ہو گا کیا؟جھوٹے یا سچے، زیادہ مریض سامنے آئیں گے۔اس کے بعد کیا ہو گا؟ نہ آپ کے پاس اتنے ہسپتال ہیں، نہ سہولیات ہیں، نہ وسائل ہیں۔ان مریضوں کا پھر آپ کیا کریں گے؟ ان میں سے 70 فیصد تو وہ ہوں گے جن میں سرے سے کوئی علامات ہی نہیں ہوں گی۔کیا آپ ان تمام مریضوں کو سرکاری قرنطینوں میں بند کر دیں گے جو اپنی بد انتظامی سے پہلے ہی خوف کی علامت بن چکے ہیں؟سوال پھر وہی ہے: اس سے کیا ہو گا؟

حکومت صوبوں کی ہو یا وفاق کی،کورونا پر صرف سیاست فرمائی جا رہی ہے۔ایک جامع اور موثر پالیسی کسی کے پاس نہیں ہے۔لاہور میں ایک بچے اور باپ کو وائرس لاحق ہوا تو باپ الگ رکھا گیا اور معصوم بچہ الگ۔ ”اہل دانش“ تصویریں دکھا دکھا کر لوگوں کو ڈراتے رہے کہ کہ آپ کے بچوں کو بھی وائرس ہو گیا تو ایسے رکھا جائے گا ااس لیے احتیاط کیجیے۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خوف پیدا ہوا اور چیخ و پکار ہوئی۔ جب چیخ و پکار ہوئی تو سلطان عثمان بزدار اول نے حکم جاری فرمایا: بچے کو باپ کے ساتھ رکھا جائے۔اس غریب پرور ی پر پھر قصیدے لکھے گئے۔ حالانکہ یہ قصیدے کا نہیں فکر کا مقام تھا کہ اتنا بڑا بحران اور حکومت نے کوئی ایس او پی ہی جاری نہیں کر رکھا کہ ایسی صورت میں کیا ہو گا۔ خبر نہ بنتی، فوٹونہ ہوتی اور سوشل میڈیا پر شور نہ اٹھتا تو باپ کہیں ہوتا بچہ کہیں ہوتا اور اہل دربار ٹوئٹر پر داد شجاعت دے رہے ہوتے۔

کورونا ٹائیگر فورس ہی کو دیکھ لیجیے۔اس کا بنیادی کام یہ تھا کہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں گھروں تک لوگوں کو ریلیف پہنچائے۔ لیکن اس سارے دورانیے میں اس کا کہیں وجود نہ تھا۔اس فورس کے ابتدائی نقوش اب واضح ہو نا شراوع ہوئے ہیں جب لاک ڈاؤن ختم ہو رہا ہے۔

ٹھیک ہے ابھی ویکسین نہیں بنی اور عوام کا علاج نہیں کیا جا سکتا۔ ان پر رحم تو کیا جا سکتا ہے؟رحم عالی جاہ رحم!
.

09/05/2020

Hahahaha...😂😂

08/05/2020

کپتان😡، تم ہمارے لئے "انصاف" کیوں نہیں کرتے جیسا تم نے سلیکشن سے پہلے وعدہ کیا تھا.. دیکھ لو بھٹو کا انجام، اس نے ہمارے ساتھ ظلم کروایا تھا نا....
اگر آج تمہیں ہم نے سلیکٹ کروایا ہے تو انصاف کرو، ورنہ🔪

قادیانی چینل سے دبے لفظوں دھمکی کا مفہوم...

Raees Ahmad

08/05/2020

👉

💓

غلامی کا تصور بہت قدیم ہے ۔جب سے انسان نے انسان پر قبضہ کرنے کا تصور اپنایا ہے تب سے غلامی کاتصور اس وقت سے چلا آرہا ہے ۔
کسی زمانے میں مقہور ومجبور اقوام یا بے گھر اور مسافر افراد کو بجبر واکراہ غلام بنادیا جاتا۔عرب تو راہ جاتے مسافر جوان کو پکڑ کر کسی کے ہاتھ فروخت کرجاتے اور یوں وہ غلام بن جاتا۔
مغرب اور بالخصوص امریکہ افریقی ممالک سے بحری جہاز بھر بھر کر لوگوں کو لے جاتے اور ان کو غلام بنادیتے۔
لیکن جو کسی حد تک قانونی طریقہ تھا جو کہ ممدوح اور قابل تعریف کبھی نہیں تھا وہ جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کا تھا۔اور یہ طریقہ بھی ہر دور کے طاقت ور اقوام نے متعارف کروایا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے قیدیوں کوغلام بناتے جیسا کہ کسی زمانے میں روم اور فارس تھے۔
ایسے وقت میں رسول پاکﷺ مبعوث کیے گئے ۔آپﷺ نے جب مدینہ طیبہ میں اسلامی ریاست کی بنیاد ڈالی اور وہ ریاست دشمنوں کی نظر میں کانٹے کی طرح کھٹکتی رہی تو اس کا لازمی نتیجہ ہوا جنگیں لڑنا۔اور جنگوں میں قیدی بھی آجاتے ۔اب جنگی قیدیوں کے حوالے سے غلامی کا تصور یک طرفہ طور پر اڑانا تو ممکن نہ تھا لیکن اسلام نے اس کوبطور ایک آپشن کے باقی رکھا ۔جبکہ دیگر تصورات تھے قیدیوں کو مفت میں آزاد کرنا ،قیدیوں کے بدلے میں آزاد کرنا ،کسی خاص خدمت کو پورا کرنے کے بعد آزاد کرنایا فدیہ لے کر آزاد کرنا ۔اور ساتھ یہی تصور بھی کہ اگر حالات کا تقاضا ہو اور خلیفہ بھی اس کو ضروری سمجھتا ہو تو غلام بنانا۔لیکن پھر اسلام نے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرنا ،ان کے ساتھ احسان کرنا ،انہیں فیملی ممبر سمجھنا ،ان کے آزاد کرنے کی ترغیب دینابلکہ شریعت نے ان کو آزاد کروانے کے کئی ایک طریقے بھی بتلادئے ۔ساتھ ساتھ مختلف کفارات میں ان کو آزاد کروانے کا تصور دیا۔
ان سب سے معلوم ہوا کہ کہ خدا کا دین غلامی نہیں آزادی کی ترغیب دیتا ہے۔
اب آج کی دنیا میں اس قسم کی غلامی کا تصور یو۔این۔او میں باہمی اتفاق اور رضامندی سے ختم کردیا گیا۔
لیکن انسان میں یہ جو قہر وغلبے کا تصور ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اوروں پر غلبہ حاصل کرے یا کم ازکم دیگران غلاموں جیسا اس کے ماتحت اس کی اتباع کرے ۔سرمایہ دار اور صنعت کار اپنے کارندوں اور مزدوروں سے یہی تقاضا کرتے ہیں ،جاگیرداروں کا اپنے ہاریوں اور زمینداروں کا اپنے کسانوں اور دہقانوں سے یہی رویہ ہے حتی کہ قومیت اور قبیلے یا پیشے کے نام پر اوروں کو غلام سمجھنا ،کمتر سمجھنا ،کمینہ اور کمی سمجھنا اسی تصور کا نتیجہ ہے کہ میں آقا ہوں اور یہ غلام ہیں۔اور تو اور مذہبی لوگوں میں بھی یہ جراثیم سرایت کرگئے ہیں۔استاد چاہتا ہے کہ شاگرد غلام بن کررہے ۔وہ جب بات کرتا ہے تو یہ کہ استاد کا شاگرد پر یہ یہ حق ہے کبھی اس نے یہ نہیں بیان کیا کہ شاگرد کا استاد پر یہ یہ حق ہے ۔خانقاہ کے پیر اپنے مریدوں سے اس قسم کا اٹھک بیٹھک چاہتے ہیں اور ہمیشہ سے ان کے ذہن نشین کیا جاتا ہے کہ مریدین مرشد کے پاؤں تلے فرش ہوجائیں ۔کبھی اس بات کا ذکر نہیں کرتے کہ مریدین کا مرشد پر کیا کیا حقوق ہیں جو اپنے اصلاح کے لئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے چکے ہیں اور اس پر اعتماد کرچکے ہیں۔ہمارا مقصد کسی محترم شخصیت کے احترام میں کمی لانا نہیں نہ اس کو نیچا دکھانا مقصود ہے ۔صر ف یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام فرائض اور حقوق کانام ہے ۔ہر طبقہ اگر پورے خلوص سے اپنے فرائض اور ذمہ داریاں پوری کرے تو دوسری جانب سے اس کے حقوق اس کو ملتے رہیں گے استاد پورے اخلاص سے شاگردوں کی تربیت وتعلیم پر توجہ دیں گے تو شاگرد دیدہ ودل فرش راہ کریں گے ۔مرشد پورے اخلاص سے مریدین کی تربیت واصلاح کرے ۔لینے کے بجائے دینے کا رویہ اپنائے ،ناز ونعم میں رہنے کے بجائے فقر ودرویشی کو سینے سے لگائے تو مریدین ہاتھ چومیں گے ۔اب استاد کا کام ہے تربیت وتعلیم۔اب تربیت تو بالکل عنقاء ہوچکا ہے اور تعلیم کی جو حالت ہے سو ہے کہ شاگردوں کے ذہن میں آتا نہیں کہ یہ اخلاص سے مجھے علم منتقل کررہا ہے بلکہ اس کو یہ محسوس ہورہا ہے کہ یہ مجھے کورس اور نصاب پڑھا رہا ہے اور میں بھی پڑھ رہا ہوں کہ سرٹیفیکیٹ یا سند مل جائے اور روٹی روزگار کا مسئلہ حل ہو اور یہ بھی تنخواہ کے لئے ایسا کررہا ہے ۔
مرشد جس کی دو خصوصیات لازمی ہیں ۔
۱۔سب سے اولین تو زہد اور مادی اغراض سے لاتعلقی ۔
۲۔اور دوسرا خدا خوفی سے مرید کی اصلاح او ر تربیت ۔
اور گستاخی معاف! ہم استاد ہوں یا مرشد اس چیز کو ہم جتلاتے ہیں اپنے شاگردوں اور مریدوں پر۔اور بار بار ان کواحساس دلاتے ہیں کہ آپ ہمارے زیر احسان ہیں کہ میرے شاگردہیں یا مرید ہیں۔یہ احساس دلانا ہی ضد احسان ہے یعنی آپ کوئی احسان نہیں کررہے کہ احسان تو صرف اللہ کے لئے کیا جاتا ہے ۔
‘‘ان تعبداللہ کانک تراہ ’’
کہ بندگی کریں اللہ کی جیسا کہ آپ اس کو دیکھ رہے ہیں۔
تواس تعلیم اور ارشاد کو یا تو آپ عبادات میں شمارکریں گے تو اس کا تو تقاضا ہی یہی ہے کہ اللہ کے لئے ہو ورنہ محنت غارت ہوجائے گی کہ آپ نے تو اس کا معاوضہ حاصل کرلیا شاگرد سے یا مرید سے ،مادیات کی صورت میں یا جذبات کی صورت میں جس کا کہ آپ صراحتاً،دلالۃً،اشارۃً یا اقتضاءً تقاضا کرتے ہیں ۔
اورناانصافی ہوگی اگر ہم سیاسی زعماء کی بات نہ کریں ۔وہ بھی اپنے کارکنون سے اندھی تقلید بغیر کسی اختلاف رائے کا تقاضا کرتے ہیں کہ بس جو ہم کہتے ہیں اس کو من وعن مانواس سے کوئی اختلاف نہ کرو اور آپ کو حق بھی نہیں کہ اختلاف رائے کا اظہار کرو۔ان میں سے بعض قومیت یا علاقائیت کے أساس پر اپنی آقائیت قائم کرچکے ہیں اور ان کے اتباع ان کے غلام بنے ہوئے ہیں مثلاً کوئی پختون قومیت ،کوئی جاگ پنجابی جاگ،کوئی سندھ کے خلاف سازش کوئی بلوچ کے ساتھ زیادتی ۔اس طرح بعض دیگران مذہب کے أساس پر لوگوں کے احساسات وجذبات کو کیش کرنے کے أساس پر ان کو پیچھے لگا دیتے ہیں۔اور ایک موقع آتا ہے کہ یہ اتباع ذہنی اور نفسیاتی طور پر ان کے غلام بن جاتے ہیں۔ان کے آزادانہ سوچ کے سارے بٹن آف ہوجاتے ہیں بس یہی ایک پگڈنڈی کھلی رہتی ہے ۔
ہاں یہ صحیح ہے کہ علم وفہم کے لیول مختلف ہوتے ہیں لیکن انسان انسان ہے ۔أساسی عقل ہر ایک میں موجود ہے اس کے عقل اور علم وفہم کے حد تک اس کی بات کو سننا چاہئے کہ یہی جوڑ کا ذریعہ ہے کیونکہ انسان کلی اور افراد کے جزئیات میں تو جزئیات کی نفی نہیں کی جاسکتی ۔
انسانوں کا ایک دوسرے سے تعلق غلامی کا نہیں ہونا چاہئے ۔وہ کسی بھی قسم کی غلامی ہو بدنی ہو یا ذہنی اور نفسیاتی ہو ۔بلکہ ذہنی اور نفسیاتی غلامی جس کسی کی بھی وہ بدنی غلامی سے زیادہ مضر ہے ۔یہ ساری صلاحیتوں کو ختم کردیتی ہیں ۔ہاں محبت اور عقیدت ایک الگ چیز ہے ۔عقیدت بھی محبت ہی ہے لیکن اس کی أساس ہوتی ہےدین اور یہ ہوتی ہے دل سے ذہن سے نہیں ۔اور اس کے لئے وہ دینی شخصیت اپنی ذات کے حوالے سے کبھی تقاضا نہیں کرتی اس کے علم وفہم اور ان کے کردار وعمل کی وجہ سے لوگ اس پر جان نچھاور کرتے ہیں۔
‘‘ان الذین آمنوا وعملواالصلحت سیجعل لہم الرحمن ودا’’
اہل ایمان او ر عمل صالح والوں کے لئے اللہ ود (دلی محبت)پیدا کردے گا ۔
یعنی ان سے لوگ دلی محبت کریں گے اور یہ من جانب اللہ ہوگا ۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ اللہ اور اس کے فرشتے محبت کرتے ہیں اور پھر فرشتے وہی محبت لوگوں کے دلوں میں پھونک دیتے ہیں۔اور یہ لوگ اس محبت اور عقیدت کو کبھی نہ کیش کرتے ہیں نہ لوگوں کے جذبات اور احساسات سے کھیلتے ہیں نہ کبھی اپنی کسی ادا پر اتراتے ہیں نہ کسی کو اپنے سے کمتر سمجھتا ہے بلکہ اپنے کو جس وقت کوئی برتر سمجھے اس کا اللہ کی طرف سفر رک جاتا ہے اس کو بریک لگ جاتے ہیں اور ان کی حیثیت زمین میں دھنس کر غائب ہوجاتی ہے ۔
‘‘فلا یصدنک عنہا من لا یومن بہا واتبع ہواہ فتردی’’
کہ نہ ہٹائیں تمہیں اس (عقیدہ قیامت )سے وہ جو اس پر عقیدہ نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کا اتباع کرچکا ورنہ تم گرجاؤگے (ہلاک ہوجاؤگے)
وَ اتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ الَّذِیۡۤ اٰتَیۡنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانۡسَلَخَ مِنۡہَا فَاَتۡبَعَہُ الشَّیۡطٰنُ فَکَانَ مِنَ الۡغٰوِیۡنَ ﴿۱۷۵﴾ وَ لَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰہُ بِہَا وَ لٰکِنَّہٗۤ اَخۡلَدَ اِلَی الۡاَرۡضِ وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ ۚ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الۡکَلۡبِ ۚ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَیۡہِ یَلۡہَثۡ اَوۡ تَتۡرُکۡہُ یَلۡہَثۡ ؕ ذٰلِکَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۱۷۶﴾ (الاعراف)
اور پڑھو ان پر قصہ اس بندے کا جس کو ہم اپنی آیات (کا علم)دے چکے تھے وہ اس(جامے)سے نکل گیا تواس کے پیچھے شیطان لگ گیا تووہ گمراہوں میں شامل ہوگیا اور اگر ہم چاہتے تو ہم اس کو ان(آیات کے علم)کے ذریعے رفعت دیتے لیکن وہ زمین کی طرف لٹک گیا(دنیا کی طرف مائل ہوااور اس کو ترجیح دیدی)اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گیا تو اس کی کیفیت کتے کی کیفیت جیسی ہے اگرتم اس پر باعث ہو(چھیڑتے ہو اسے یا اس پر کچھ لادتے ہو)تو بھی ہانپتا ہے اور اسے اس طرح چھوڑتے ہو تو بھی ہانپتا ہے یہ کیفیت ہے اس قوم کی جنہوں نے تکذیب کی ہے ہماری آیات کی سو ان کو بیان کرو یہ قصے شاید وہ(اس میں)فکر(غوروخوض)کریں۔
اب بحیثیت مسلمان ہماری عقیدتوں کا مرکز ہو رسول پاکﷺ اور بعد ازان وہ جو آپ ﷺ کے صحیح اتباع ہیں۔جنہیں نفس پر کنٹرول ہے جوہر ایک کو اپنے سے بہتر سمجھتا ہے جو حق کا خوف رکھتا اور خلق پر رحم کھاتا ہے ۔جسے خلق خدا کی اعانت سے ذہنی سکون ملتا ہے اور یہی ولایت ہے ۔دعویٰ نہیں کرتا کہ دعویٰ خود کی تکذیب ہے ۔اشعث بن قیسؓ اور جریر ؓ دونوں دمشق سے عراق آئے ۔بصرہ میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا تھا کہ وہاں میرا بھائی ہے سلمان فارسیؓ ،رسول اللہ ﷺ کا ساتھی ہے جب آپﷺ سلمان ؓ سے کبھی بات کرتے تو ایسے میں کرتے جب کوئی اور نہ تھا یعنی ایسی خلّت اور دوستی تھی۔یہ لوگ آئے وہاں پتہ کیا تو ان کو معلوم ہوا کہ وہ مدائن میں دریاکنارے رہتے ہیں ۔یہ لوگ آئے ۔آپؓ ایک سادہ سی جھونپڑی میں لیٹے ہوئے تھے ۔انہوں نے سلام کیا ۔
وہ اٹھ گیا وعلیکم السلام کہا ۔
انہوں نے کہا کہ آپ سلمانؓ ہیں ؟اس نے کہا ہاں۔
(یہ اس لئے انہوں نے پوچھا کہ گورنر ہو اورایسی جھونپڑی میں تو ان کو شک ہوگیا کہ شاید اور کوئی دوسرا سلمان نامی آدمی ہو)
رسول پاک ﷺ کے ساتھی ہیں؟
اس نے کہا پتہ نہیں ۔
پھر ان سے کہا کیسے آئے ہو؟
انہوں نے کہا کہ حضرت ابوالدرداءؓ نے آپؓ سے ملنے کا کہا تھا ۔
اس نے کہا تو میرا ہدیہ کہاں ہے؟
انہوں نے کہا بخدا! ہمیں اس نے کوئی ہدیہ نہیں دیا۔
حضرت سلمانؓ نے کہا ہو نہیں سکتا ۔وہ جب بھی کسی کو میرے ہاں بھجواتا ہے ہدیہ دیتا ہے ۔
انہوں نے اپنا سامان آگے کیا کہ جو کچھ لینا ہے اس سے لے لیں۔لیکن واللہ اس نے ہمیں کوئی ہدیہ نہیں دیا ۔
حضرت سلمانؓ نے کہا وہ جب آپ لوگوں سے کہہ رہا تھا کہ اس کے پاس جائیں تو کیا کہا تھا؟
انہوں نے کہا آپ کو سلام کہا تھا کہ میرا سلام کہدیں۔
اس کو سلمانؓ نے کہا کہ یہی تو وہ ہدیہ ہے اس بڑے آدمی کا جو وہ ہمیشہ سے میرے لئے بھجواتا ہے اور میں اسے تفاؤلاً اپنی مغفرت کا ذریعہ سمجھتا ہوں ۔
انہوں نے کہا تو آپؓ سلمان فارسی ہیں رسول پاک ﷺ کے ساتھی ۔لیکن جب ہم نے پوچھا تو آپ نے کہا کہ پتہ نہیں۔
اس نے کہا اس لئے کہ آپ کا ساتھی وہ ہے جو آپ کے ساتھ جنت میں داخل ہوتو آئیں دعا کریں خدایا! ہمیں آپﷺ کا ساتھی بنائیں اور قیامت کے دن آپﷺ کے ساتھ جنت میں داخل کریں آمین۔ہمیں بھی یہ سعادت نصیب ہو۔
تو محبت وعقیدت بندے کو غلامی نہیں آزادی دیتی ہے ۔

07/05/2020

‏یہ "منافق" چند دن پہلے کہہ رہا تھا کہ ایسی کوئی بات ہوئی نہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ وزیر مذہبی امور ہے خود کہہ رہا ہے کہ کابینہ میں میرے سامنے 5، 6 بندوں نے کہا کہ قادیانیوں کو شامل کر لینا چاہیے، اور یہ بندہ پھر بھی اس کمیٹی کا حصہ رہا

ﺁﺋﯽ ﭘﯽ ﭘﯽ ﭘﯿﺰ ﮐﺮﭘﺸﻦ ﺳﮑﯿﻨﮉﻝ، ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﻣﻠﮏ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺑﮭﺠﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺲ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ؟ ﺗﮩﻠﮑﮧ ﺧﯿﺰ...
07/05/2020

ﺁﺋﯽ ﭘﯽ ﭘﯽ ﭘﯿﺰ ﮐﺮﭘﺸﻦ ﺳﮑﯿﻨﮉﻝ، ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﻣﻠﮏ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺑﮭﺠﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺲ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ؟ ﺗﮩﻠﮑﮧ ﺧﯿﺰ ﺩﻋﻮﯼٰ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁ ﮔﯿﺎ
May 07, 2020

ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ‏( ﮈﯾﻠﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺁﻥ ﻻﺋﻦ ‏) ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﻧﮯ ﺁﭨﺎ ﭼﯿﻨﯽ ﺳﮑﯿﻨﮉﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺁﺋﯽ ﭘﯽ ﭘﯽ ﭘﯿﺰ ﮐﺮﭘﺸﻦ ﺳﮑﯿﻨﮉﻝ ﮐﯽ ﺍﻧﮑﻮﺍﺋﺮﯼ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺑﮭﯽ ﭘﺒﻠﮏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺎﮨﻢ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﻭﻓﺎﻗﯽ ﮐﺎﺑﯿﻨﮧ ﮐﮯ ﺍﺟﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﯽ ﺍﻟﺤﺎﻝ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﮐﻮ ﺩﻭ ﻣﺎﮦ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﻮﺧﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎﮨﮯ ﺗﺎﮨﻢ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﻨﺌﺮ ﺻﺤﺎﻓﯽ ﺭﻭﻑ ﮐﻼﺳﺮ ﺍ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﺩﻋﻮﯼٰ ﮐﺮ ﺩﯾﺎﮨﮯ ۔

ﺗﻔﺼﯿﻼﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﭨﻮﯾﭩﺮ ﭘﺮ ﺟﺎﺭﯼ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻑ ﮐﻼﺳﺮﺍ ﻧﮯ ﺩﻋﻮﯼٰ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ” ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﻣﻠﮏ ﻧﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻠﺪ ﺍﺯ ﺟﻠﺪ ﺁﺋﯽ ﭘﯽ ﭘﯽ ﺳﮑﯿﻨﮉﻝ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﮐﻮ ﺩﺑﺎ ﺩﯾﺎﺟﺎﺋﮯ ، ﻭﻓﺎﻗﯽ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﺳﺪ ﻋﻤﺮ ﺍﻭﺭ ﻭﺯﯾﺮ ﺑﺮﺍﺋﮯ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﻋﻤﺮ ﺍﯾﻮﺏ ﻧﮯ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ ﺗﺤﻔﻈﺎﺕ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﺑﺎﻧﮯﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺏ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﺳﮯ ﻋﻮﺍﻣﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ، ﺣﮑﻮﻣﺖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﮧ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ۔ “

ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﮩﻨﺎﺗﮭﺎ ﮐﮧ ” ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﮔﺮ ﺁﺋﯽ ﭘﯽ ﭘﯽ ﭘﯿﺰ ﮐﯽ ﻟﻮﭦ ﻣﺎﺭﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﮐﻮ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻻﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﺳﮯ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﯽ ﺳﻄﺢ ﭘﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ، ﺟﺲ ﭘﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻧﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻧﮯ ﺭﺿﺎ ﻣﻨﺪﯼ ﻇﺎﮨﺮﮐﺮ ﺩﯼ ﮨﮯ ،ﺷﯿﺦ ﺭﺷﯿﺪ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﮐﺎﺑﯿﻨﮧ ﻣﻤﺒﺮﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﯽ ﭘﯽ ﭘﯽ ﭘﯿﺰ ﺳﮑﯿﻢ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ۔ “

ﺳﯿﻨﺌﺮ ﺻﺤﺎﻓﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ” ﺩﻭﺳﺖ ﻣﻠﮏ ﺍ ﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺿﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺳﺘﺨﻂ ﮐﯿﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﮨﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﻻﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﺋﯽ ﭘﯽ ﭘﯽ ﭘﯿﺰ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﻣﺬﺍﮐﺮﺍﺕ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ، ﻗﯿﻤﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﻣﺬﺍﮐﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﺷﻖ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ، ﺑﮍﮮ ﭘﯿﻤﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﮐﺮﭘﺸﻦ ﭘﺮ ﻣﺒﻨﯽ ﺁﺋﯽ ﭘﯽ ﭘﯽ ﭘﯿﺰ ﺳﮑﯿﻨﮉﻝ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮈﯾﻞ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ۔ “

07/05/2020

ﭘﭩﺮﻭﻝ ﺍﻭﺭ ﮈﯾﺰﻝ ﭘﺮ ﻣﺰﯾﺪ ﻟﯿﻮﯼ ﻋﺎﺋﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﺠﻮﯾﺰ، ﻻﮎ ﮈﺍﺅﻥ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﮨﻮﺋﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻧﺌﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ
May 07, 2020

ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ‏( ﻭﯾﺐ ﮈﯾﺴﮏ ‏) ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﮐﻮ ﮔﺮﺩﺷﯽ ﻗﺮﺿﮯ ﮐﮯ ﺧﺎﺗﻤﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﻟﯿﻮﯼ ﻋﺎﺋﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﺩﮮ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔ ﺩﺳﺘﺎﻭﯾﺰ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮔﺮﺩﺷﯽ ﻗﺮﺿﮯ ﮐﮯ ﺑﺘﺪﺭﯾﺞ ﺧﺎﺗﻤﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭘﭩﺮﻭﻝ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺋﯽ ﺳﭙﯿﮉ ﮈﯾﺰﻝ ﭘﺮ 5 ﺭﻭﭘﮯ ﻓﯽ ﻟﭩﺮ ﮐﯽ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﻟﯿﻮﯼ ﻋﺎﺋﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔

ﺩﺳﺘﺎﻭﯾﺰ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﭘﭩﺮﻭﻝ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺋﯽ ﺳﭙﯿﮉ ﮈﯾﺰﻝ ﮐﯽ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﮐﮭﭙﺖ 20 ﺍﺭﺏ ﮈﺍﻟﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﻟﯿﻮﯼ ﻋﺎﺋﺪ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﺳﺎﻻﻧﮧ 100 ﺍﺭﺏ ﺭﻭﭘﮯ ﻭﺻﻮﻝ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔ ﺩﺳﺘﺎﻭﯾﺰ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﯾﺪ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﻓﺎﻕ ﺍﻭﺭ ﺻﻮﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻘﺎﯾﺎ ﺟﺎﺕ ﮔﺮﺩﺷﯽ ﻗﺮﺿﮯ ﮐﯽ ﮐﻞ ﺭﻗﻢ ﮐﺎ 26 ﻓﯿﺼﺪ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﺑﻘﺎﯾﺎ ﺟﺎﺕ ﮐﻮ ﺭﯾﮑﻮﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﺮﺩﺷﯽ ﻗﺮﺿﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻨﮑﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﮎ ﺍﭖ ﭘﯿﻤﻨﭩﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﻻﺋﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔

ﺩﺳﺘﺎﻭﯾﺰ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﻓﺎﻕ ﺍﻭﺭ ﺻﻮﺑﮯ ﺑﺠﻠﯽ ﮐﮯ ﺷﻌﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯼ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺳﺒﺴﮉﯾﺰ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﺩﺷﯽ ﻗﺮﺿﮯ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﯾﮑﺴﺎﮞ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮐﺎﺭ ﻣﺮﺗﺐ ﮐﺮﯾﮟ۔

07/05/2020

ﺑﮯ ﺑﺲ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ
ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺑﭧ
May 07, 2020

ﺟﻨﺎﺏ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﯾﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺎ ” ﻻﮎ ﮈﺍﺅﻥ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﺍﺷﺮﺍﻓﯿﮧ ﮨﮯ “ ۔ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻻﮎ ﮈﺍﺅﻥ ﺳﮯ ﭘﺴﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﭘﺮ ﺑﻢ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﮔﺮﮮ ﮨﯿﮟ۔ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﺗﺒﺎﮦ ﮨﻮﭼﮑﺎ۔ ﻓﯿﮑﭩﺮﯾﺎﮞ ﺁﺳﯿﺐ ﺯﺩﮦ۔ ﭼﻤﭽﻤﺎﺗﮯ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﮐﺎﻟﯽ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ۔ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﻣﺎﻟﺰ ﮐﯽ ﺩﻣﮑﺘﯽ ﭨﺎﺋﻠﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﺮﻣﺌﯽ ﻣﭩﯽ ﮐﯽ ﺗﮩﯿﮟ۔ ﮔﺎﮨﮑﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﺗﮑﺘﮯ ﮔﺮﺩ ﺁﻟﻮﺩ ﮐﺮﺳﯿﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﯾﺴﺘﻮﺭﺍﻥ۔ ﻣﺎﻟﮑﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﭼﮍﺍﺗﯽ ﮨﻮﭨﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﻻﺑﯿﺎﮞ۔ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﺒﻠﮏ ﭨﺮﺍﻧﺴﭙﻮﺭﭦ ﻧﺎﭘﯿﺪ۔ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ، ﮐﻨﮉﯾﮑﭩﺮ ﻓﺎﻗﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﮑﺎﺭ۔ ﮐﻮﮌﺍ ﭼﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮨﯿﻮﯼ ﺍﻧﮉﺳﭩﺮﯼ ﺗﮏ، ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺑﻨﺪ۔ ﻓﻘﻂ ﺍﺱ ﺑﺨﺎﺭ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺟﺲ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﮐﮭﯿﻠﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻮ ﻣﻔﻠﻮﺝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺍﺷﺮﺍﻓﯿﮧ ﭘﺮ ﺩﮬﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺷﺮﺍﻓﯿﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ Pillars ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﺮﻧﮕﻮﮞ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﺟﺐ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﺩﯾﮯ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟۔
ﺍﺱ ﺑﯿﺎﻥ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﭘﻨﮉﻭﺭﺍ ﺑﮑﺲ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔

ﺍﺷﺮﺍﻓﯿﮧ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﻣﺮﺍﺩ ﮨﮯ؟۔ ﻓﻮﺝ۔۔۔ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ۔۔۔ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺍﺳﭩﯿﺒﻠﺸﻤﻨﭧ۔۔۔ﯾﺎ ﻋﻼﻗﺎﺋﯽ ﻃﺎﻗﺘﯿﮟ۔۔۔؟ﻻﮎ ﮈﺍﺅﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺷﺮﺍﻓﯿﮧ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﺗﻌﻠﻖ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ۔ ﯾﮧ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻻﮎ ﮈﺍﺅﻥ ﻣﺤﺾ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﺷﯽ ﺯﻧﺪﮔﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺟﺎﮌ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔ﮐﯿﺎ ﻓﻮﺝ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺭﺍﺋﮯ ﻣﺴﻠﻂ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮐﯿﺎ ﻓﻮﺝ ﻻﮎ ﮈﺍﺅﻥ ﮐﮯ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ؟۔ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔ ﻓﻮﺝ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺩﻭ ﺣﮑﻮﻣﺘﯽ ﻣﺸﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺳﻨﮕﯿﻦ ﻏﻠﻄﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﻠﻨﮉﺭﺯ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮈﺭﺯ ﭘﺮ ﺯﺍﺋﺮﯾﻦ ﮐﺎ ﮈﯾﭩﺎ، ﺍﻧﺴﭙﮑﺸﻦ ﺍﻭﺭ ﮨﯿﻠﺘﮫ ﺍﯾﻤﺮﺟﻨﺴﯽ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯽ۔

ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ۔۔۔ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺑﻼﻭﻝ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﻼﻭﻝ ﺑﮭﭩﻮ ﺗﻮ great panic ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺗﮭﮯ۔ ﻭﺑﺎﺀ ﮐﮯ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﺍﺗﺮ ﺳﮯ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﻣﯿﮉﯾﺎ، ﮈﺍﮐﭩﺮﺯ ﮐﻮ ﺳﭩﮉﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻭﮊﻥ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﺩﮮ ﮔﯿﺎ۔ ﺳﺰﺍ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺑﮭﮕﺘﻨﺎ ﭘﮍﯼ۔ ﺑﻼﻭﻝ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﮯ ﻻﺷﻌﻮﺭ ﻧﮯ، ﮐﺮﺍﭼﯽ ﮐﯽ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﺭﻭﻥ ﺳﻨﺪﮪ ﮔﻠﯽ ﻣﺤﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ،ﮐﺮﻭﻧﺎ ﮐﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺳﻨﺪﮬﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻻﺷﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺗﮍﭘﺘﮯ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ۔ ﻧﺘﯿﺠﺘﮧ ﺑﻼ ﺳﻮﭼﮯ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﻓﻮﺭﯼ ﻻﮎ ﮈﺍﺅﻥ ﮐﮯ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ۔ ﺩﻭ ﻣﺎﮦ ﮔﺬﺭ ﮔﺌﮯ۔ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﻻﺷﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﻈﺮ ﻧﮧ ﺁﺳﮑﯿﮟ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺑﻼﻭﻝ ﺑﮭﭩﻮ ﺳﻨﺪﮬﯽ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﺮﮐﮯ ﺧﻮﺩ ﻣﻨﻈﺮ ﻋﺎﻡ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺑﻼﻭﻝ ﺑﮭﭩﻮ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭨﺮﯾﭗ ﮐﯿﺎ؟۔

ﺁﮔﮯ ﭼﻠﺌﮯ۔ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻻﮎ ﮈﺍﺅﻥ ﭘﺮ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺍﺳﭩﯿﺒﻠﺸﻤﻨﭧ ﻧﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﯿﺎ؟۔ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﻠﮏ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩﻭ ﻗﺮﺿﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ؟۔ ﯾﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻭﮊﻥ ﻧﮯ، ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻃﺒﯽ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﻧﮯ، ﺍﺟﺘﻤﺎﻋﯽ ﻧﻈﺮ ﺑﻨﺪﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﻌﺎﺷﯽ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻭﺍ ﮈﺍﻻ۔ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﮐﯽ ﭨﯿﻢ ﻧﮯ ﻭﺭﻟﮉ ﮨﯿﻠﺘﮫ ﺁﺭﮔﻨﺎﺋﺰﯾﺸﻦ ﮐﯽ advice ﭘﺮ ﻣﻦ ﻭ ﻋﻦ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ؟۔ WHO ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﮐﮫ ﺩﺍﺅ ﭘﺮ ﻟﮓ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ۔ ﺳﺰﺍ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮈﻭﻧﻠﮉ ﭨﺮﻣﭗ ﺁﺭﮔﻨﺎﺋﺰﯾﺸﻦ ﮐﯽ ﻓﻨﮉﻧﮓ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺩﺭﺣﻘﯿﻘﺖ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﺷﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﻮ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺁﺭﮔﻨﺎﺋﺰﯾﺸﻦ ﭘﺮ ﺩﮬﺮﺍ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺭﻗﻢ ﺑﭩﻮﺭﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﺎﯾﺎﮞ ﮈﺍﺋﯽ ﻣﯿﮑﺮ ﺳﻤﭙﻞ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻣﯽ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻟﻮﮨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺍﻟﭩﯽ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﯽ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺳﻤﺒﺎ، ﺳﻨﭩﺮ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﺑﯿﺸﯽ ﭘﺮ ﮈﺍﻟﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ WHO ﺳﮯ ﻣﺎﻝ ﮨﮍﭖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮﺯ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﻭﺍﺋﺮﺳﺰ ﮐﯽ ﺍﻥ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﺑﺎﺭﮮ ﺟﮭﻮﭨﯽ ﺳﭽﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﺁﺭﮔﻨﺎﺋﺰﯾﺸﻦ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺳﻦ ﺩﻭ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﺱ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﺳﮯ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﻼﮐﺖ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﻦ ﮔﻮﺋﯽ ﮐﯽ۔ ﮐﯿﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﺱ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ؟۔ ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﺁﺭﮔﻨﺎﺋﺰﯾﺸﻦ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺩﻭ ﮨﺰﺍﺭ ﻧﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﺋﻦ ﻓﻠﻮ ﮐﻮ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﮯ ﺧﺎﺗﻤﮯ ﺳﮯ ﻧﺘﮭﯽ ﮐﯿﺎ۔ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺩﻭ ﮨﺰﺍﺭ ﭼﻮﺩﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺒﻮﻟﮧ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﺳﮯ ﺍﻓﺮﯾﻘﮧ ﻣﯿﮟ ﻭﺳﯿﻊ ﺍﻣﻮﺍﺕ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﮟ۔ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺩﻭ ﮨﺰﺍﺭ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﭩﺮﻝ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺅﺗﮫ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﻣﯿﮟ zika ﻭﺍﺋﺮﺱ ﺳﮯ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﮨﻼﮐﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮈﯾﭧ ﺗﮏ ﺩﮮ ﮈﺍﻟﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺍﺳﯽ ﺁﺭﮔﻨﺎﺋﺰﯾﺸﻦ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻟﮓ ﮔﺌﮯ ﺟﻮ ﺳﺎﮨﻦ، ﮐﺎﮨﻦ، ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺎﻝ ﭘﺮﺍﯾﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﯼ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔

ﮐﯿﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﻻﮎ ﮈﺍﺅﻥ ﺟﯿﺴﺎ ﻣﻨﺤﻮﺱ ﻗﺪﻡ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻋﻼﻗﺎﺋﯽ ﻃﺎﻗﺘﻮﮞ ﻧﮯ incite ﮐﯿﺎ؟۔ ﺍﮔﺮ ﭼﯿﻦ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﻭﺑﺎﺀ ﮐﮯ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﭘﯿﻤﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻻﮎ ﮈﺍﺅﻥ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺷﻨﮕﮭﺎﺋﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﮭﻼ ﺭﮨﺎ۔ ﺻﻨﻌﺘﯿﮟ، ﻓﯿﮑﭩﺮﯾﺎﮞ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﺍﮔﻠﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ۔ ﺭﯾﺴﺘﻮﺭﺍﻥ، ﮨﻮﭨﻠﺰ، ﺷﺎﭘﻨﮓ ﻣﺎﻟﺰ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﺩﯼ ﮨﺎﻝ ﮐﮭﻠﮯ ﺭﮨﮯ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﺳﯽ ﻓﯿﺼﺪ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﻗﻮﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﻭﮌﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﮞ ﺩﻭ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮍﯼ ﭼﻮﭨﯽ ﮐﺎ ﺯﻭﺭ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﮑﮍ ﺩﮬﮑﮍ ﮐﺮ ﺑﻤﺸﮑﻞ ﭼﻨﺪ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﺮﯾﺾ ﮔﮭﯿﺮﮮ ﮔﺌﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﻤﺎﺝ ﺗﮩﮧ ﻭ ﺑﺎﻻ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﻟﯿﺴﯽ ﺳﺎﺯﻭﮞ ﻧﮯ ﮐﻦ ﻣﻘﺎﺻﺪ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﻣﺮﺣﻠﮧ ﻭﺍﺭ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻣﮑﻤﻞ ﻻﮎ ﮈﺍﺅﻥ ﮐﺎ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺎ؟۔ ﮐﯿﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﭘﺮ ﺧﺪﺍﻧﺨﻮﺍﺳﺘﮧ ﺧﻼﺀ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﮯ ﺣﻤﻠﮯ ﮐﺎ ﺧﺪﺷﮧ ﺗﮭﺎ؟۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺗﮭﻨﮏ ﭨﻨﮏ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﺎﻧﭗ ﭘﺎﺋﮯ ﮐﺮﻭﻧﺎ ﮐﯽ ﺁﮌ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﻃﺎﻗﺘﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﺎ ﺳﻤﺎﺝ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﺗﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺁﺝ ﮐﮩﺎﮞ ﮔﺌﮯ ﻭﮦ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﻮ ﻻﮎ ﮈﺍﺅﻥ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻻﺷﯿﮟ ﺧﺰﺍﮞ ﺭﺳﯿﺪﮦ ﭘﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺑﮑﮭﺮﯼ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ﺁﺝ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻮ ﻋﻈﯿﻢ ﻏﺮﺑﺖ، ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﺑﯿﺎﻥ ﺧﻮﻑ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﮑﯿﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻗﻮﻣﯽ ﻣﺠﺮﻡ ﮐﮩﺎﮞ ﭼﮭﭙﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ؟۔ ﻣﺮﮮ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﮯ ﻟﻮﺍﺣﻘﯿﻦ ﺳﮯ ” ﺁﺧﺮﯼ ﮐﻮﺷﺶ “ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺍﻧﺠﮑﺸﻦ ﺑﭩﻮﺭﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﺲ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﻮﮌ ﺟﻮﮌ ﮐﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﭘﯿﻠﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺣﮑﻮﻣﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺍﺛﺮ ﺣﻠﻘﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﺱ ﻻﮐﮫ ﺍﻣﻮﺍﺕ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﻦ ﮔﻮﺋﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭨﯿﻢ ﺁﺝ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﮨﯽ؟۔

ﺍﺏ ﺁﺋﯿﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺣﻘﯿﻘﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﻮ ﻋﻨﻘﺮﯾﺐ ﺳﻤﺎﺝ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﮍﺍﺋﯿﺎﮞ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺣﮑﻮﻣﺘﯽ ﺳﺎﮐﮫ ﺑﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﻣﺠﺮﻭﺡ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ۔ ﻋﻈﯿﻢ ﻋﻮﺍﻣﯽ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﮔﻠﯽ، ﻣﺤﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﻭﻧﺎ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﺗﯽ ﻧﻈﺮ ﺁ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﻨﮉﯼ ﺑﮩﺎﺅ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﺳﻨﺌﮯ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﺮﻭﻧﺎ ﮐﮯ ﭘﯿﻨﺴﭩﮫ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﮑﺸﺎﻑ ﮨﻮﺍ۔ ﮔﻠﯿﺎﮞ ﺳﯿﻞ۔ ﻣﺤﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻑ ﻭ ﮨﺮﺍﺱ۔ ﻣﺘﺎﺛﺮﮦ ﮔﮭﺮ ﺍﭼﮭﻮﺕ ﻗﺮﺍﺭ۔ ﺣﺘﯽ ﮐﮧ ﺳﮕﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﺗﮏ ﮐﺎ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺑﺎﺋﯿﮑﺎﭦ۔ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ؟۔ ﭼﻮﻥ ﻣﺮﯾﺾ ﺻﺤﺖ ﯾﺎﺏ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﮐﯽ ﺭﭘﻮﺭﭨﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﻮﺍﺕ ﺻﻔﺮ۔ ﭘﻮﺭﺍ ﺿﻠﻊ ﮐﻠﺌﯿﺮ ﻗﺮﺍﺭ۔ ﺍﺏ ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻥ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﮐﺮﻭﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﯾﺎ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ؟۔ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﻣﺮﺽ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﮨﻔﺘﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﺳﺎﺭﮮ ﮨﯽ ﻣﺮﯾﺾ ﺻﺤﺖ ﯾﺎ ﺏ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﮐﮯ ﻣﻌﺎﺷﯽ ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﮬﮑﯿﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ؟۔ ﺍﺏ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﻠﮏ ﭼﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺣﮑﻮﻣﺘﯽ ﺧﺰﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺲ ﺳﮯ ﭘﯿﻨﺘﯿﺲ ﻓﯿﺼﺪ ﺗﮏ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ۔ ﺍﺏ ﺟﺒﮑﮧ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭨﯿﮑﺲ ﺍﮐﭩﮭﺎﮨﻮﻧﺎ ﺗﻮ ﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﻟﭩﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﯼ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺳﮯ ﻗﺮﺽ ﻣﺎﻧﮓ ﺭﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺟﺒﮑﮧ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺑﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﮨﻮﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ، ﻭﮨﺎﮞ ﺍﮔﺮ ﻓﻮﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻻﮎ ﮈﺍﺅﻥ ﻧﮧ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﺍﺗﻨﮯ ﺑﮭﯿﺎﻧﮏ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﺑﮭﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻭﻗﺖ ﺍﺩﺭﺍﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺻﺒﺮ ﮐﺎ ﭘﯿﻤﺎﻧﮧ ﻟﺒﺮﯾﺰ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ۔

ﻋﻮﺍﻣﯽ ﭼﻨﮕﺎﺭﯼ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮐﺴﯽ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﮍﮎ ﺍﭨﮭﯽ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﮭﺮ ﮐﻮ ﻟﭙﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﮯ ﮔﯽ۔ ﻭﮦ ﻭﻗﺖ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﻓﻮﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺣﻔﺎﻇﺘﯽ ﺍﻗﺪﺍﻣﺎﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﯿﮑﭩﺮﯾﻮﮞ، ﺑﺎﺯﺍﺭﻭﮞ، ﻣﺎﻟﺰ، ﺭﯾﺴﺘﻮﺭﺍﻧﻮﮞ، ﮨﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ﺍﺋﯿﺮ ﮐﻮﻟﺮ، ﭘﻨﮑﮭﮯ، ﻭﺍﭨﺮ ﭘﻤﭙﺲ، ﮈﮬﻼﺋﯽ ﺳﻤﯿﺖ ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺎﻝ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎﺭﺧﺎﻧﮯ، ﻣﻠﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﻝ ﺳﯿﻞ ﺩﮐﺎﻧﯿﮟ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﺒﺰﯾﺎﮞ ﺍﺻﻞ ﻻﮔﺖ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﭘﺮ ﺑﯿﭽﻨﯽ ﭘﮍ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﮨﻮﭨﻠﻮﮞ، ﺭﯾﺴﺘﻮﺭﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﺵ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭘﻮﻟﭩﺮﯼ ﺍﻧﮉﺳﭩﺮﯼ ﺗﺒﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﺍﻟﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﭽﺎﺱ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﻠﻮ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ، ﺟﺒﮑﮧ ﺁﭖ ﻣﺎﺳﮏ، ﺳﻮﺷﻞ ﮈﺳﭩﻨﺲ، ﺳﯿﻨﯽ ﭨﺎﺋﺰﺭﺯ، ﻣﺘﺎﺛﺮﮦ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﮯ ﻓﻀﻠﮧ ﭨﮭﮑﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﯾﺸﻮﺯ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ۔ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﯾﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﺮﻭﻧﺎ ﮐﯽ ﺁﮌ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﯿﻠﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮔﺮﯾﭧ ﮔﯿﻢ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﺎ ﺳﻤﺎﺝ ﮐﻮ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ ﻧﺌﮯ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﮕﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﺏ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺰﯾﺪ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﻻﮎ ﮈﺍﺅﻥ ﺑﮍﮬﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﮨﻔﺘﮯ ﺩﻭ ﮨﻔﺘﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﻮﮔﯽ۔ ﻟﻮﮒ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﻻﮎ ﮈﺍﺅﻥ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺣﮑﻮﻣﺘﯽ ﺭﭦ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﭨﮭﻮﮐﺮﻭﮞ ﭘﺮ۔ ﺍﺏ ﺗﻮ ﺳﻨﺪﮪ ﺳﮯ ﻧﺎﺻﺮ ﺣﺴﯿﻦ ﺷﺎﮦ ﺑﮭﯽ ﭘﮩﻠﻮ ﺑﭽﺎ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﺍ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺗﮭﻮﭖ ﺭﮨﮯ۔ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ” ﺳﻨﺪﮪ ﻣﯿﮟ ﻻﮎ ﮈﺍﺅﻥ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ۔۔۔ ‘“ ﮐﯿﺎ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﻮﮈﯾﺸﻞ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﺑﻨﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ، ﻣﻠﮏ ﮐﻮ ﺑﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺩﮬﮑﯿﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ، ﮐﺲ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﺩﺱ ﻻﮐﮫ ﻻﺷﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﻮﺷﮧ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﮔﯿﺎ۔

07/05/2020

ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ،ﻣﻌﯿﺸﺖ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻮﻣﺖ
ﻣﺤﻤﺪ ﺣﻤﺰﮦ ﻋﺰﯾﺰ
May 07, 2020

ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﻭ ﻋﻼﻗﺎﺋﯽ ﻣﻌﯿﺸﺖ ﭘﺮ ﮔﮩﺮﮮ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﻣﺮﺗﺐ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﺋﯿﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺍﻗﺘﺼﺎﺩﯼ ﻃﺎﻗﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﺴﻤﺎﻧﺪﮦ ﺗﺮﯾﻦ ﻣﻌﯿﺸﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﺳﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﺴﺎﺩ ﺑﺎﺯﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﻋﻤﻠﯽ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺩﮮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺧﻮﺍﮦ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﮨﯽ۔ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮩﯽ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﺯﺩ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﻟﻮﮒ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺗﻮﻗﻊ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻣﺎﮦ ﺻﯿﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﻭﺑﺎ ﮐﮯ ﭘﯿﺶ ﻧﻈﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﺳﺎﻧﯿﺎﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ۔ ﮐﺎﻡ،ﺩﮬﻨﺪﺍ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﻔﯿﺪ ﭘﻮﺵ ﺁﺩﻣﯽ ﺧﺼﻮﺻﺎً ﭘﺮﺍﺋﯿﻮﯾﭧ ﻧﻮﮐﺮﯾﺎﮞ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺮﺍ ﺣﺎﻝ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﻣﮩﻨﮕﺎﺋﯽ ﻟﮯ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﺧﻄﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔

ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺯﻣﺖ ﭘﯿﺸﮧ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﭼﮫ ﺳﮯ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﮫ ﮐﺮﻭﮌ ﮨﮯ۔ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﻧﺴﭩﯽ ﭨﯿﻮﭦ ﺁﻑ ﮈﻭﯾﻠﭙﻤﻨﭧ ﺍﮐﻨﺎﻣﮑﺲ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﮔﺮ ﺣﺎﻻﺕ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﮯ ﺗﻮ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺍﯾﮏ ﮐﺮﻭﮌ ﺑﯿﺲ ﻻﮐﮫ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻮﮐﺮﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﮬﻮ ﺑﯿﭩﮭﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﯿﺲ ﻓﯿﺼﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﺳﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻧﺌﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ ﮨﻢ ﺧﺴﺎﺭﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﭘﯽ ﭨﯽ ﺁﺋﯽ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﮯ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﻋﺪﻡ ﺍﺳﺘﺤﮑﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻭ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﻋﺮﺻﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﭻ ﺍﻋﺸﺎﺭﯾﮧ ﺁﭨﮫ ﻓﯿﺼﺪ ﮐﮯ ﮔﺮﻭﺗﮫ ﺭﯾﭧ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻌﯿﺸﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﮌﮬﺎﺋﯽ ﻓﯿﺼﺪ ﭘﺮ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﻣﻨﻔﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﻠﮑﯽ ﻗﺮﺿﮯ، ﻗﺮﺿﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺪﻭﺩ ﮐﮯ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮﺩﮦ ﺣﺪ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮍﮪ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﺯﺍﺭﺕ ﺧﺰﺍﻧﮧ ﻧﮯ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﮦ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﻣﺎﮦ ﮐﮯ ﺍﻋﺪﺍﺩ ﻭ ﺷﻤﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻗﺮﺿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﻓﯿﺼﺪ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﻤﻮﻋﯽ ﻗﺮﺿﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺟﯽ ﮈﯼ ﭘﯽ ﮐﺎ 84.8 ﻓﯿﺼﺪ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﻗﺮﺿﮯ ﺟﯽ ﮈﯼ ﭘﯽ ﮐﮯ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ 76.6 ﻓﯿﺼﺪ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﻗﺮﺿﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺪ ﮐﮯ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﯾﮧ ﻗﺮﺿﮯ ﺟﯽ ﮈﯼ ﭘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﭨﮫ ﻓﯿﺼﺪ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﭼﺎﮨﺌﯿﮟ۔ ﻣﮩﻨﮕﺎﺋﯽ ﺳﻤﯿﺖ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻗﺘﺼﺎﺩﯼ ﺍﻋﺸﺎﺭﯾﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺑﮯ ﻗﺎﺑﻮ ﺗﮭﮯ، ﺭﮨﯽ ﺳﮩﯽ ﮐﺴﺮ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﻭ ﻣﻠﮑﯽ ﺍﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮔﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﻠﮑﯽ ﺟﯽ ﮈﯼ ﭘﯽ ﻣﻨﻔﯽ ﮈﯾﮍﮪ ﻓﯿﺼﺪ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ۔

ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﮐﺮﮐﭧ ﮐﮯ ﻋﻼﻭ ﮦ ” ﺑﻠﯿﻢ ﮔﯿﻢ “ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﯽ ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﻣﺎﮦ ﻭﮦ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﭘﺮ ﺗﮩﻤﺘﯿﮟ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﺭﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺳﺎﻝ ﻭﮦ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﮯ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﺎﻗﯽ ﺩﻭ ﺳﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﻨﮕﮯ۔ ﭼﯿﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭨﺎ ﺳﮑﯿﻨﮉﻝ ﮐﯽ ﻓﺮﺍﻧﺰﮎ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺑﮭﯽ ﭘﭽﯿﺲ ﺍﭘﺮﯾﻞ ﮐﻮ ﻻﻧﮯ ﮐﺎ ﺩﻋﻮﯼٰ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﻔﺮ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺩﻋﻮﯼٰ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﭘﭽﯿﺲ ﺍﭘﺮﯾﻞ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺁﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﺭﺭﻭﺍﺋﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﯽ۔ ﻟﮓ ﯾﮩﯽ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﻟﭩﮏ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭﺯﯼ ﮐﮯ ﻻﻟﮯ ﭘﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻣﺎﮦ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﮩﻨﮕﺎﺋﯽ ﻧﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﭼﮭﻮ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﻟﻮ ﺳﺘﺮ ﺭﻭﭘﮯ، ﮐﯿﻠﮯ ﺩﻭﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ، ﻟﯿﻤﻮﮞ ﭼﮫ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ، ﺧﺮﺑﻮﺯﮦ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺐ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ ﻓﯽ ﮐﻠﻮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﭘﮭﻞ ﻓﺮﻭﺷﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﮩﻨﮕﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﺎﻝ ﻣﮩﻨﮕﺎ ﻣﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﮭﻞ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﯾﺴﯽ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﭘﺮﺍﺋﺲ ﻟﺴﭧ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﮮ ﺟﻮ ﺩﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﻨﺪﮦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﮨﻮ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺳﻨﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﻌﺾ ﺩﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻟﺴﭧ ﭘﺮﻋﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﺩﺍﻣﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﺷﯿﺎﺀ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﮐﺎﻥ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﮐﮍﯼ ﻧﻈﺮ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯿﺮﺍ ﭘﮭﯿﺮﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻓﻮﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﯾﮑﺸﻦ ﻟﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ ﮐﮧ ﺫﺧﯿﺮﮦ ﺍﻧﺪﻭﺯﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮏ ﮈﺍﺅﻥ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﮮ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﻣﺎﺭ ﮐﺎ ﮐﮭﻼ ﻣﻮﻗﻊ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﯾﻠﯿﻒ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻣﻤﮑﻦ ﮐﺎﺭﺭﻭﺍﺋﯽ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ۔ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﭨﯿﻠﭩﯽ ﺳﭩﻮﺭﺯ ﭘﺮ ﻣﺰﯾﺪ ﺍﺷﯿﺎﺀ ﭘﺮ ﺳﺒﺴﮉﯼ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﻮﮔﯽ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻭﺑﺎ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﺭﮎ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﻣﻨﮉﯼ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻞ ﮐﮯ ﻧﺮﺧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺭﻗﻢ ﮐﻮ ﻣﺴﺘﺤﻖ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺛﻤﺮﺍﺕ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﭼﺎﮨﺌﯿﮟ۔ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﯾﻮﭨﯿﻠﭩﯽ ﺑﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔
ﻻﮎ ﮈﺍﺅﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﻟﻮﮒ ﻣﻌﺎﺷﯽ ﺑﺤﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺫﮨﻨﯽ ﺩﺑﺎﺅﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮ ﮞ ﯾﺎ ﺑﺰﺭﮒ ﺳﺐ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﺍﺏ ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻗﺪﺍﻡ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﮨﻮﻧﮕﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺏ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﺣﺮﮐﺖ ﻣﯿﮟ ﺁ ﺋﮯ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ، ﻋﻮﺍﻡ ﻧﮯ ﺁﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ۔

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M Farooq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to M Farooq:

Share

Category