23/09/2026
استغاثہ کے مطابق مقتول عمر فاروق، عمر تقریباً 17 سال، یکم جنوری 2019 کو شام تقریباً 7 بجے ملزم محمد قاسم عرف کاشو سے ملنے کے لیے گھر سے نکلا لیکن واپس نہ آیا۔ رات گئے اس کی والدہ مسماۃ کوثر بی بی نے اپنے شوہر اور بھائی کو اطلاع دی۔ اگلی صبح وہ اپنے شوہر اور بھائی کے ہمراہ ملزم قاسم کے گھر گئی اور اپنے بیٹے کے بارے میں دریافت کیا، تاہم ملزم نے اس امر سے انکار کیا کہ مقتول اس کے پاس آیا تھا۔
بعد ازاں مدعیہ نے مقتول کے موبائل فون کا Call Data Record (CDR) حاصل کیا، جس سے معلوم ہوا کہ مقتول کے موبائل نمبر سے ملزم قاسم کے موبائل نمبر پر متعدد کالز کی گئی تھیں اور آخری کال وقوعہ کے روز شام 6:47 بجے ہوئی تھی۔ مدعیہ نے ملزم سے اس بارے میں پوچھا تو اس کے رویے پر شک پیدا ہوا۔ مدعیہ کے مطابق اس نے پنچایت کے ذریعے بھی ملزم سے اپنے بیٹے کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہ ملنے پر تقریباً تین ماہ سے زائد عرصہ بعد 12 اپریل 2019 کو مقدمہ درج کروایا گیا۔
تفتیش کے دوران ملزم قاسم کو گرفتار کیا گیا۔ استغاثہ کے مطابق دورانِ جسمانی ریمانڈ اس نے مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ مقتول یکم جنوری کو اس کے پاس آیا تھا اور اس نے شریک ملزم محمد طارق کے ساتھ مل کر مقتول کو قتل کیا۔ بعد ازاں دونوں ملزمان کی مبینہ نشاندہی پر ضلع لودھراں کے ایک مقام سے زمین کھود کر ایک لاش برآمد کی گئی اور دفعہ 302 PPC شامل کی گئی۔
ٹرائل کورٹ نے دونوں ملزمان کو دفعہ 302(b)/34 PPC کے تحت عمر قید کی سزا سنائی اور مقتول کے قانونی ورثاء کو دفعہ 544-A Cr.P.C کے تحت دو لاکھ روپے معاوضہ بھی مقرر کیا۔ اس فیصلے کے خلاف دونوں ملزمان نے اپیلیں دائر کیں جبکہ مقتول کی والدہ نے سزا میں اضافے کے لیے Criminal Revision دائر کی۔
ہائیکورٹ کے سامنے بنیادی سوال:
ہائیکورٹ نے بنیادی طور پر یہ جائزہ لیا کہ آیا استغاثہ نے circumstantial evidence کی ایسی مکمل اور ناقابلِ شکست کڑی قائم کی ہے جو ملزمان کو قتل کے وقوعہ سے بلا شبہ جوڑتی ہو اور آیا ملزمان کی سزا کو شک و شبہ سے بالاتر ثبوت کی بنیاد پر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
مقدمہ مکمل طور پر circumstantial evidence پر مبنی ہونے کی صورت میں استغاثہ پر لازم ہے کہ وہ ایسے تمام حالات و قرائن کی ایک مکمل، مربوط اور ناقابلِ شکست chain of circumstances قائم کرے جو ملزم کو جرم کے ارتکاب سے واضح اور قابلِ اعتماد طور پر منسلک کرے۔ ہر قرینہ اپنی جگہ قابلِ اعتماد ہونا چاہیے اور تمام قرائن باہم مل کر ملزم کے جرم کے علاوہ کسی معقول متبادل امکان کو ختم کرتے ہوں۔
موجودہ مقدمہ میں FIR کے اندراج میں تقریباً ساڑھے تین ماہ کی غیر معمولی تاخیر، اس تاخیر کی غیر تسلی بخش وضاحت، مقتول سے منسوب لاش کی قابلِ اعتماد شناخت کا فقدان، DNA یا دیگر سائنسی تصدیق نہ ہونا، متعدد ملزمان کی مشترکہ نشاندہی پر لاش کی برآمدگی، اور موبائل فون کی ملکیت، SIM اور IMEI کی مؤثر تصدیق نہ ہونا ایسے اہم نقائص تھے جنہوں نے استغاثہ کی circumstantial chain میں material gaps پیدا کر دیے۔
عدالت نے یہ اصول بھی واضح کیا کہ CDR محض رابطے یا communication کا ثبوت ہے، بذاتِ خود قتل کے ارتکاب کا ثبوت نہیں۔ اسی طرح ملزم کا مشکوک طرزِ عمل، محض disclosure یا ایسی recovery جس کا تعلق ملزم سے قانوناً اور قابلِ اعتماد طور پر ثابت نہ ہو، دیگر کمزور قرائن کے ساتھ مل کر بھی proof beyond reasonable doubt کا معیار پورا نہیں کرتی۔
چنانچہ جب استغاثہ کی شہادت میں ایک بھی ایسی معقول کڑی موجود ہو جو ملزم کے جرم کے بارے میں reasonable doubt پیدا کرے تو اس شک کا فائدہ ملزم کو دینا لازم ہے۔ Benefit of doubt کوئی رعایت یا صوابدیدی رعایت نہیں بلکہ ملزم کا قانونی حق ہے۔
اہم قانونی نکات
1۔ Circumstantial evidence کی بنیادی شرط
محض متعدد مشکوک حالات کا موجود ہونا کافی نہیں؛ تمام حالات کو ملا کر ایک ایسی مکمل chain بننی چاہیے جو ملزم کے جرم کی طرف منطقی طور پر لے جائے۔
2۔ Missing link کا اثر
اگر chain میں کوئی اہم اور بنیادی کڑی غائب ہو تو باقی قرائن، خواہ وہ بظاہر مشکوک ہی کیوں نہ ہوں، conviction کی محفوظ بنیاد نہیں بن سکتے۔
3۔ FIR میں غیر معمولی تاخیر
غیر معمولی delay بذاتِ خود ہمیشہ prosecution case کو ختم نہیں کرتی، لیکن اگر اس کی قابلِ اطمینان وضاحت نہ ہو تو یہ prosecution story کی spontaneity اور credibility پر سنجیدہ سوال پیدا کر سکتی ہے۔
4۔ CDR کی حدود
CDR یہ ثابت کر سکتا ہے کہ دو نمبروں کے درمیان رابطہ ہوا، لیکن صرف CDR سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ متعلقہ شخص نے قتل کیا، جب تک دیگر قابلِ اعتماد شہادت اس رابطے کو جرم سے منسلک نہ کرے۔
5۔ لاش کی شناخت
اگر برآمد شدہ لاش ناقابلِ شناخت ہو اور استغاثہ یہ ثابت نہ کر سکے کہ وہی لاش مقتول کی ہے تو یہ prosecution case میں بنیادی نوعیت کا missing link بن سکتا ہے۔
6۔ DNA/Sائنسی شہادت
جب لاش advanced decomposition کی وجہ سے شناخت کے قابل نہ رہے تو DNA یا دیگر قابلِ اعتماد شناختی شہادت کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اس کا فقدان، مخصوص حالات میں، prosecution chain کو متاثر کر سکتا ہے۔
7۔ Joint pointation/recovery
متعدد ملزمان کی مشترکہ نشاندہی پر ہونے والی recovery کو محض اس بنیاد پر incriminating circumstance نہیں سمجھا جا سکتا کہ recovery ان کی مشترکہ pointation پر ہوئی؛ اس کی admissibility اور evidentiary value قانونِ شہادت کے اصولوں کے مطابق الگ سے پرکھی جائے گی۔
8۔ موبائل فون کی recovery
صرف موبائل فون ملزم سے برآمد ہونا کافی نہیں۔ اگر ownership، SIM، IMEI یا دوسرے قابلِ اعتماد شواہد سے فون کا مقتول سے تعلق ثابت نہ ہو تو اس recovery کی incriminating value محدود رہتی ہے۔
9۔ Disclosure کی قانونی حیثیت
ملزم کا پولیس کے سامنے مبینہ disclosure اپنے آپ میں مکمل confession نہیں بنتا۔ اس کا وہی حصہ evidentiary value رکھتا ہے جو قانون کے تحت قابلِ قبول discovery/recovery سے متعلق ہو۔
10۔ Conduct of accused
ملزم کا پریشان ہونا، evasive جواب دینا یا مشکوک رویہ اختیار کرنا، جب تک اسے قابلِ اعتماد substantive evidence سے تقویت نہ ملے، قتل کا قطعی ثبوت نہیں بنتا۔
11۔ Identity of corpus کا بنیادی مسئلہ
قتل ثابت کرنے کے لیے صرف یہ ثابت کرنا کافی نہیں کہ ایک شخص لاپتہ ہوا اور بعد میں ایک لاش ملی؛ prosecution کو قابلِ اعتماد شہادت سے missing person اور recovered dead body کے درمیان identity کا تعلق قائم کرنا ہوتا ہے۔
12۔ Benefit of Doubt
فوجداری مقدمے میں استغاثہ پر burden beyond reasonable doubt ہے۔ اگر مجموعی شہادت میں ایک ایسا معقول شک باقی رہ جائے جو ایک محتاط اور سمجھدار شخص کے ذہن میں پیدا ہو سکتا ہو تو ملزم acquittal کا حقدار ہے۔
مختصر عدالتی اصول
> “In a case based on circumstantial evidence, suspicion, however strong, cannot substitute proof. Every material circumstance must be established through reliable evidence and the chain of circumstances must remain complete, leaving no reasonable hypothesis consistent with innocence.”
نتیجہ:
اس مقدمے میں عدالت کے نزدیک prosecution evidence نے complete chain of circumstances قائم نہیں کی۔ FIR delay، corpus کی identity کا فقدان، DNA evidence کی عدم موجودگی، joint pointation، غیر ثابت شدہ mobile ownership اور محض CDR جیسے قرائن کو مجموعی طور پر دیکھا گیا تو reasonable doubt باقی رہا۔ لہٰذا conviction برقرار رکھنے کے بجائے ملزمان کو benefit of doubt as a matter of right دیا گیا۔
متعلقہ نظائر
Muhammad Nadeem v. The State — 2026 SCMR 1323 — FIR میں غیر معمولی تاخیر۔
Osama v. The State — 2026 SCMR 1146 — circumstantial evidence۔
Naveed Asghar v. The State — PLD 2021 SC 600 — chain of circumstances۔
Hashim Qasim v. The State — 2017 SCMR 986 — missing link in chain۔
Azeem Khan v. Mujahid Khan — 2016 SCMR 274 — circumstantial evidence۔
Muhammad Mushtaq v. Mustansar Hussain — 2016 SCMR 2123 — joint recovery/pointation۔
Shahbaz alias Gillo v. The State — 2016 SCMR 2123 — benefit of doubt۔
Ali Imran v. The State — 2026 SCMR 1370 — benefit of doubt۔
Iftikhar Ahmad alias Papu v. The State — 2026 SCMR 1010 — reasonable doubt۔ ::