School of Law

School of Law Legal Awareness Page by:
Usman Ali Alavi

23/09/2026

2020 SCMR 316

Federal Board of Intermediate & Secondary Education, Islamabad v. Abeer Masood

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ تاریخِ پیدائش میں تبدیلی معمول کے طور پر قابلِ قبول نہیں بلکہ صرف غیر معمولی اور مضبوط حالات میں کی جا سکتی ہے۔ عدالتوں کو ایسی تبدیلیوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جو ملازمت میں مدتِ ملازمت بڑھانے، کسی ملازمت یا تعلیمی ادارے کی مقررہ عمر کی حد میں آنے، یا کسی دوسرے شخص کے حقوق کو متاثر کرنے کے لیے کی جائیں۔

مذکورہ مقدمے میں طالبہ کی تعلیمی سند میں تاریخِ پیدائش 17-08-1992 درج تھی، جبکہ اس کے برتھ سرٹیفکیٹ، CNIC اور NADRA کے Family Registration Certificate سمیت متعدد سرکاری ریکارڈز میں تاریخِ پیدائش 17-08-1994 درج تھی۔ مزید یہ کہ اس کے بڑے بھائی کی تاریخِ پیدائش 30-12-1992 تھی۔ اگر طالبہ کی تاریخِ پیدائش 17-08-1992 تسلیم کی جاتی تو بظاہر اس کا بڑا بھائی اس کی پیدائش کے تقریباً چار ماہ بعد پیدا ہوتا، جو غیر منطقی تھا۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی مدنظر رکھا کہ respondent کسی سرکاری یا نجی ملازمت میں نہیں تھی اور تاریخِ پیدائش کی تبدیلی سے کسی دوسرے شخص کا حق متاثر نہیں ہو رہا تھا۔ چنانچہ ریکارڈ میں موجود مضبوط اور باہم مطابقت رکھنے والے شواہد کی بنیاد پر تاریخِ پیدائش کی تصحیح برقرار رکھی گئی اور اپیل خارج کر دی گئی۔

اہم قانونی نکات

تاریخِ پیدائش کی تبدیلی حقِ مطلق نہیں ہے؛ اسے صرف غیر معمولی حالات میں اجازت دی جا سکتی ہے۔

ملازمت کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے تاریخِ پیدائش تبدیل کرنا قابلِ قبول نہیں۔ بالخصوص اگر تبدیلی سے ملازمت کی مدت غیر ضروری طور پر بڑھ جائے۔

کسی شخص کو ملازمت، داخلہ یا عمر کی کسی قانونی/ادارتی حد میں لانے کے لیے تاریخِ پیدائش تبدیل کرنے کی کوشش کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

اگر تاریخِ پیدائش کی تبدیلی سے دوسرے افراد کے حقوق متاثر ہونے کا امکان ہو تو عدالت ایسی تبدیلی کی اجازت نہیں دے گی۔

عدالت تاریخِ پیدائش کے تعین میں پیدائش کا سرٹیفکیٹ، CNIC، NADRA کا Family Registration Certificate اور دیگر سرکاری ریکارڈ کو اہم شہادتی مواد سمجھ سکتی ہے۔

مختلف سرکاری دستاویزات میں ایک ہی تاریخِ پیدائش کا مسلسل درج ہونا، جبکہ کسی ایک ریکارڈ میں مختلف تاریخ موجود ہو، تصحیح کے دعوے کو مضبوط کر سکتا ہے۔

موجودہ مقدمے میں تبدیلی کی بنیادی وجہ ملازمت یا عمر کی حد سے فائدہ اٹھانا نہیں بلکہ سرکاری ریکارڈ میں موجود واضح تضاد کو دور کرنا اور مستقبل میں وراثت و نسب سے متعلق تنازع سے بچنا تھا۔

قانونی بنیاد کے طور پر Specific Relief Act, 1877 کی دفعہ 42 کے تحت دعویٰ برائے اعلان دائر کیا گیا تھا۔

اصولی نکتہ:
تاریخِ پیدائش کی تصحیح اسی وقت قابلِ غور ہے جب اس کے حق میں قابلِ اعتماد، قدیم اور باہم مطابقت رکھنے والا ریکارڈ موجود ہو اور تبدیلی کا مقصد کسی ملازمت، عمر کی حد یا دوسرے شخص کے حق سے ناجائز فائدہ اٹھانا نہ ہو۔

23/09/2026

2008 YLR 2679

دوبارہ دفعہ 164 کا بیان
اگر کسی کیس میں ایک دفعہ 164 کے بیان مجسٹریٹ کے سامنے گواہی ریکارڈ ہو چکا ہو تو ضرورت پڑھنے پر دوسرا بیان بھی ریکارڈ کیا جا سکتا ہے قانون اس پر پابندی نہیں لگاتا۔

23/09/2026

2021 SCMR 449

جن جرائم میں گرفتاری کے بغیر تفتیش مکمل نہیں ہو سکتی، ان مین ضمانت قبل از گرفتاری منظور نہیں ہوگی۔

S.498 CrPC,
Accused in a criminal case could not be granted anticipatory bail to subvert or undermine investigative procedure/ process that essentially included an arrest in order to bring statuary exercise to its logical end for effective and meaningful prosecution of the offense through a collection of information or evidence upon arrest. Bail refused.

استغاثہ کے مطابق مقتول عمر فاروق، عمر تقریباً 17 سال، یکم جنوری 2019 کو شام تقریباً 7 بجے ملزم محمد قاسم عرف کاشو سے ملن...
23/09/2026

استغاثہ کے مطابق مقتول عمر فاروق، عمر تقریباً 17 سال، یکم جنوری 2019 کو شام تقریباً 7 بجے ملزم محمد قاسم عرف کاشو سے ملنے کے لیے گھر سے نکلا لیکن واپس نہ آیا۔ رات گئے اس کی والدہ مسماۃ کوثر بی بی نے اپنے شوہر اور بھائی کو اطلاع دی۔ اگلی صبح وہ اپنے شوہر اور بھائی کے ہمراہ ملزم قاسم کے گھر گئی اور اپنے بیٹے کے بارے میں دریافت کیا، تاہم ملزم نے اس امر سے انکار کیا کہ مقتول اس کے پاس آیا تھا۔

بعد ازاں مدعیہ نے مقتول کے موبائل فون کا Call Data Record (CDR) حاصل کیا، جس سے معلوم ہوا کہ مقتول کے موبائل نمبر سے ملزم قاسم کے موبائل نمبر پر متعدد کالز کی گئی تھیں اور آخری کال وقوعہ کے روز شام 6:47 بجے ہوئی تھی۔ مدعیہ نے ملزم سے اس بارے میں پوچھا تو اس کے رویے پر شک پیدا ہوا۔ مدعیہ کے مطابق اس نے پنچایت کے ذریعے بھی ملزم سے اپنے بیٹے کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہ ملنے پر تقریباً تین ماہ سے زائد عرصہ بعد 12 اپریل 2019 کو مقدمہ درج کروایا گیا۔

تفتیش کے دوران ملزم قاسم کو گرفتار کیا گیا۔ استغاثہ کے مطابق دورانِ جسمانی ریمانڈ اس نے مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ مقتول یکم جنوری کو اس کے پاس آیا تھا اور اس نے شریک ملزم محمد طارق کے ساتھ مل کر مقتول کو قتل کیا۔ بعد ازاں دونوں ملزمان کی مبینہ نشاندہی پر ضلع لودھراں کے ایک مقام سے زمین کھود کر ایک لاش برآمد کی گئی اور دفعہ 302 PPC شامل کی گئی۔

ٹرائل کورٹ نے دونوں ملزمان کو دفعہ 302(b)/34 PPC کے تحت عمر قید کی سزا سنائی اور مقتول کے قانونی ورثاء کو دفعہ 544-A Cr.P.C کے تحت دو لاکھ روپے معاوضہ بھی مقرر کیا۔ اس فیصلے کے خلاف دونوں ملزمان نے اپیلیں دائر کیں جبکہ مقتول کی والدہ نے سزا میں اضافے کے لیے Criminal Revision دائر کی۔

ہائیکورٹ کے سامنے بنیادی سوال:

ہائیکورٹ نے بنیادی طور پر یہ جائزہ لیا کہ آیا استغاثہ نے circumstantial evidence کی ایسی مکمل اور ناقابلِ شکست کڑی قائم کی ہے جو ملزمان کو قتل کے وقوعہ سے بلا شبہ جوڑتی ہو اور آیا ملزمان کی سزا کو شک و شبہ سے بالاتر ثبوت کی بنیاد پر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

مقدمہ مکمل طور پر circumstantial evidence پر مبنی ہونے کی صورت میں استغاثہ پر لازم ہے کہ وہ ایسے تمام حالات و قرائن کی ایک مکمل، مربوط اور ناقابلِ شکست chain of circumstances قائم کرے جو ملزم کو جرم کے ارتکاب سے واضح اور قابلِ اعتماد طور پر منسلک کرے۔ ہر قرینہ اپنی جگہ قابلِ اعتماد ہونا چاہیے اور تمام قرائن باہم مل کر ملزم کے جرم کے علاوہ کسی معقول متبادل امکان کو ختم کرتے ہوں۔

موجودہ مقدمہ میں FIR کے اندراج میں تقریباً ساڑھے تین ماہ کی غیر معمولی تاخیر، اس تاخیر کی غیر تسلی بخش وضاحت، مقتول سے منسوب لاش کی قابلِ اعتماد شناخت کا فقدان، DNA یا دیگر سائنسی تصدیق نہ ہونا، متعدد ملزمان کی مشترکہ نشاندہی پر لاش کی برآمدگی، اور موبائل فون کی ملکیت، SIM اور IMEI کی مؤثر تصدیق نہ ہونا ایسے اہم نقائص تھے جنہوں نے استغاثہ کی circumstantial chain میں material gaps پیدا کر دیے۔

عدالت نے یہ اصول بھی واضح کیا کہ CDR محض رابطے یا communication کا ثبوت ہے، بذاتِ خود قتل کے ارتکاب کا ثبوت نہیں۔ اسی طرح ملزم کا مشکوک طرزِ عمل، محض disclosure یا ایسی recovery جس کا تعلق ملزم سے قانوناً اور قابلِ اعتماد طور پر ثابت نہ ہو، دیگر کمزور قرائن کے ساتھ مل کر بھی proof beyond reasonable doubt کا معیار پورا نہیں کرتی۔

چنانچہ جب استغاثہ کی شہادت میں ایک بھی ایسی معقول کڑی موجود ہو جو ملزم کے جرم کے بارے میں reasonable doubt پیدا کرے تو اس شک کا فائدہ ملزم کو دینا لازم ہے۔ Benefit of doubt کوئی رعایت یا صوابدیدی رعایت نہیں بلکہ ملزم کا قانونی حق ہے۔

اہم قانونی نکات

1۔ Circumstantial evidence کی بنیادی شرط
محض متعدد مشکوک حالات کا موجود ہونا کافی نہیں؛ تمام حالات کو ملا کر ایک ایسی مکمل chain بننی چاہیے جو ملزم کے جرم کی طرف منطقی طور پر لے جائے۔

2۔ Missing link کا اثر
اگر chain میں کوئی اہم اور بنیادی کڑی غائب ہو تو باقی قرائن، خواہ وہ بظاہر مشکوک ہی کیوں نہ ہوں، conviction کی محفوظ بنیاد نہیں بن سکتے۔

3۔ FIR میں غیر معمولی تاخیر
غیر معمولی delay بذاتِ خود ہمیشہ prosecution case کو ختم نہیں کرتی، لیکن اگر اس کی قابلِ اطمینان وضاحت نہ ہو تو یہ prosecution story کی spontaneity اور credibility پر سنجیدہ سوال پیدا کر سکتی ہے۔

4۔ CDR کی حدود
CDR یہ ثابت کر سکتا ہے کہ دو نمبروں کے درمیان رابطہ ہوا، لیکن صرف CDR سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ متعلقہ شخص نے قتل کیا، جب تک دیگر قابلِ اعتماد شہادت اس رابطے کو جرم سے منسلک نہ کرے۔

5۔ لاش کی شناخت
اگر برآمد شدہ لاش ناقابلِ شناخت ہو اور استغاثہ یہ ثابت نہ کر سکے کہ وہی لاش مقتول کی ہے تو یہ prosecution case میں بنیادی نوعیت کا missing link بن سکتا ہے۔

6۔ DNA/Sائنسی شہادت
جب لاش advanced decomposition کی وجہ سے شناخت کے قابل نہ رہے تو DNA یا دیگر قابلِ اعتماد شناختی شہادت کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اس کا فقدان، مخصوص حالات میں، prosecution chain کو متاثر کر سکتا ہے۔

7۔ Joint pointation/recovery
متعدد ملزمان کی مشترکہ نشاندہی پر ہونے والی recovery کو محض اس بنیاد پر incriminating circumstance نہیں سمجھا جا سکتا کہ recovery ان کی مشترکہ pointation پر ہوئی؛ اس کی admissibility اور evidentiary value قانونِ شہادت کے اصولوں کے مطابق الگ سے پرکھی جائے گی۔

8۔ موبائل فون کی recovery
صرف موبائل فون ملزم سے برآمد ہونا کافی نہیں۔ اگر ownership، SIM، IMEI یا دوسرے قابلِ اعتماد شواہد سے فون کا مقتول سے تعلق ثابت نہ ہو تو اس recovery کی incriminating value محدود رہتی ہے۔

9۔ Disclosure کی قانونی حیثیت
ملزم کا پولیس کے سامنے مبینہ disclosure اپنے آپ میں مکمل confession نہیں بنتا۔ اس کا وہی حصہ evidentiary value رکھتا ہے جو قانون کے تحت قابلِ قبول discovery/recovery سے متعلق ہو۔

10۔ Conduct of accused
ملزم کا پریشان ہونا، evasive جواب دینا یا مشکوک رویہ اختیار کرنا، جب تک اسے قابلِ اعتماد substantive evidence سے تقویت نہ ملے، قتل کا قطعی ثبوت نہیں بنتا۔

11۔ Identity of corpus کا بنیادی مسئلہ
قتل ثابت کرنے کے لیے صرف یہ ثابت کرنا کافی نہیں کہ ایک شخص لاپتہ ہوا اور بعد میں ایک لاش ملی؛ prosecution کو قابلِ اعتماد شہادت سے missing person اور recovered dead body کے درمیان identity کا تعلق قائم کرنا ہوتا ہے۔

12۔ Benefit of Doubt
فوجداری مقدمے میں استغاثہ پر burden beyond reasonable doubt ہے۔ اگر مجموعی شہادت میں ایک ایسا معقول شک باقی رہ جائے جو ایک محتاط اور سمجھدار شخص کے ذہن میں پیدا ہو سکتا ہو تو ملزم acquittal کا حقدار ہے۔

مختصر عدالتی اصول

> “In a case based on circumstantial evidence, suspicion, however strong, cannot substitute proof. Every material circumstance must be established through reliable evidence and the chain of circumstances must remain complete, leaving no reasonable hypothesis consistent with innocence.”

نتیجہ:
اس مقدمے میں عدالت کے نزدیک prosecution evidence نے complete chain of circumstances قائم نہیں کی۔ FIR delay، corpus کی identity کا فقدان، DNA evidence کی عدم موجودگی، joint pointation، غیر ثابت شدہ mobile ownership اور محض CDR جیسے قرائن کو مجموعی طور پر دیکھا گیا تو reasonable doubt باقی رہا۔ لہٰذا conviction برقرار رکھنے کے بجائے ملزمان کو benefit of doubt as a matter of right دیا گیا۔

متعلقہ نظائر

Muhammad Nadeem v. The State — 2026 SCMR 1323 — FIR میں غیر معمولی تاخیر۔

Osama v. The State — 2026 SCMR 1146 — circumstantial evidence۔

Naveed Asghar v. The State — PLD 2021 SC 600 — chain of circumstances۔

Hashim Qasim v. The State — 2017 SCMR 986 — missing link in chain۔

Azeem Khan v. Mujahid Khan — 2016 SCMR 274 — circumstantial evidence۔

Muhammad Mushtaq v. Mustansar Hussain — 2016 SCMR 2123 — joint recovery/pointation۔

Shahbaz alias Gillo v. The State — 2016 SCMR 2123 — benefit of doubt۔

Ali Imran v. The State — 2026 SCMR 1370 — benefit of doubt۔

Iftikhar Ahmad alias Papu v. The State — 2026 SCMR 1010 — reasonable doubt۔ ::

23/09/2026

2024 P.Cr.L.J. 1289 — Mst. Saira Fatima v. The State & others
Crl. Misc. No. 31686 of 2023 — لاہور ہائیکورٹ

ملزمہ کو دفعہ 489-F PPC کے تحت تین الگ مقدمات کا سامنا تھا، جو تقریباً ایک سال کے اندر درج ہوئے تھے۔ اس نے دفعہ 234 Cr.P.C. کے تحت استدعا کی کہ تینوں مقدمات کے الزامات یکجا کرکے ایک ہی ٹرائل کیا جائے۔ ٹرائل کورٹ اور ریویژن کورٹ نے درخواست مسترد کی، جسے ہائیکورٹ نے برقرار رکھا۔

اہم قانونی نکات:
دفعہ 233 Cr.P.C. عمومی اصول ہے کہ ہر الگ جرم کے لیے الگ چارج اور الگ ٹرائل ہوگا، سوائے ان صورتوں کے جو دفعات 234، 235، 236 اور 239 Cr.P.C. میں بیان ہیں۔

دفعہ 234 Cr.P.C. لازمی نہیں بلکہ اختیاری (discretionary) ہے۔ اس میں لفظ “may be charged and tried” استعمال ہوا ہے، اس لیے عدالت پر لازم نہیں کہ وہ ایک سال کے اندر ایک ہی نوعیت کے زیادہ سے زیادہ تین جرائم کو لازماً ایک ٹرائل میں یکجا کرے۔

دفعات 234 تا 239 کے تحت Joinder of Charges ملزم یا استغاثہ کا حق نہیں۔ ملزم عدالت کو مجبور نہیں کر سکتا کہ تمام مقدمات کو لازماً یکجا کیا جائے۔
عدالت الگ الگ ٹرائل جاری رکھ سکتی ہے، خصوصاً جب الگ مقدمات کے شکایت کنندگان، گواہان اور شہادت کا مجموعہ مختلف ہو۔

ملزم کو Joinder of Charges کا مطالبہ اسی وقت مؤثر طور پر حاصل ہو سکتا ہے جب وہ دکھائے کہ الگ الگ ٹرائل سے اس کے دفاع کو حقیقی prejudice ہوگا یا الگ ٹرائل کسی قانونی ممانعت، مثلاً double jeopardy کا باعث بنے گا۔

صرف یہ حقیقت کہ تمام مقدمات ایک ہی نوعیت کے ہیں اور 12 ماہ کے اندر درج ہوئے ہیں، دفعہ 234 کا لازمی اطلاق نہیں کرتی۔

دفعہ 561-A Cr.P.C. کے تحت ہائیکورٹ کی inherent jurisdiction صرف اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کارروائی کو Code کے مطابق مؤثر بنانے، abuse of process روکنے یا ends of justice حاصل کرنے کے لیے مداخلت ضروری ہو۔ اسے محض اس بنیاد پر استعمال نہیں کیا جا سکتا کہ ملزم مختلف مقدمات میں الگ الگ ٹرائل کا سامنا کر رہا ہے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ Article 10-A کے fair trial کے حق کا حوالہ بذاتِ خود ہر صورت میں separate trials کو غیر قانونی نہیں بناتا؛ ملزم کو یہ دکھانا ہوگا کہ الگ ٹرائل سے اس کے fair-trial rights کو حقیقی prejudice پہنچ رہا ہے۔

اصولی جملہ:
Section 234 Cr.P.C. permits joinder of up to three offences of the same kind committed within twelve months, but it does not confer an absolute right upon the accused to demand a joint trial. The decision to join or separate the trials remains within the judicial discretion of the Court.

22/09/2026

PLD 2026 Lahore 627

​مدعیہ اپنا گھر ٹوٹنے کے بعد اپنے جہیز کے سامان کی واپسی کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، مگر انصاف کے اس سفر میں اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

​ نچلی عدالت اور فیصلہ
​شادی جب انجام کو پہنچی، تو لڑکی (مدعیہ) نے خلع اور اپنے جہیز کے سامان کے حصول کے لیے فیملی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا۔ عدالت میں دونوں طرف سے گواہ پیش ہوئے، تحریری ثبوت دیے گئے اور لمبی بحث ہوئی۔ فیملی کورٹ کے جج نے تمام شہادتوں کا بغور جائزہ لینے کے بعد لڑکی کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اسے 2 لاکھ روپے کی حد تک جہیز کا سامان واپس دلوانے کا حکم دیا۔

​اپیل اور "خاص قسم (Special Oath)"

​فیملی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف شوہر (مدعا علیہ) نے ڈسٹرکٹ کورٹ (ایپلیٹ کورٹ) میں اپیل دائر کر دی۔
​دورانِ سماعت، شوہر نے لڑکی کے والد کو ایک چیلنج دیا:

"اگر تم قران پاک پر یہ خاص قسم اٹھا لو کہ جہیز کا سامان باقی ہے، تو میں کیس ہارنے کو تیار ہوں!"

​لڑکی کے والد نے کسی بھی ذاتی، مذہبی یا اخلاقی وجہ سے قران پاک پر وہ خاص قسم اٹھانے سے انکار کر دیا۔

​ڈسٹرکٹ جج صاحب نے والد کے قسم نہ اٹھانے کی بنیاد پر یہ فیصلہ کر لیا کہ جہیز کا سامان پہلے ہی وصول ہو چکا ہے، اور لڑکی کا پورا دعویٰ خارج کر دیا۔

​ ہائی کورٹ کا میدان اور قانون کی لکیر
​مدعیہ نے لاہور ہائی کورٹ کا رخ کیا اور آئینی درخواست (Constitutional Petition) دائر کی۔

​ہائی کورٹ کے معزز جج صاحب نے جب اس کیس کا ریکارڈ دیکھا، تو انہوں نے ایپلیٹ کورٹ کے فیصلے میں ایک سنگین قانونی غلطی کی نشاندہی کی اور اپنے فیصلے میں اہم نکات درج کیے:

​انکار، جرم کا اعتراف نہیں: اوتھس ایکٹ (Oaths Act, 1873) کے تحت اگر کوئی شخص خاص قسم اٹھانے سے انکار کرتا ہے، تو عدالت صرف اس کا انکار ریکارڈ کرتی ہے۔ اس انکار سے یہ ہرگز نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ دوسرا فریق سچا ہے اور انکار کرنے والا جھوٹا۔

​والد کی قسم اور بیٹی کا حق:
معزز جج نے فرمایا کہ خاص قسم کی پیشکش لڑکی کے والد کو کی گئی تھی، جو خود اس کیس میں مدعی (Claimant) نہیں تھا! کسی اور کے انکار کی سزا بیٹی کو نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی اس سے اس کے بنیادی قانونی حقوق ختم ہو سکتے ہیں۔

​عدالتی اندازہ بمقابلہ شہادتیں:
اپیل سننے والی عدالت کا کام یہ تھا کہ وہ ریکارڈ پر موجود گواہوں کے بیانات اور دستاویزات کا جائزہ لیتی۔ شہادتوں کو نظر انداز کر کے صرف قسم کے انکار کو حتمی ثبوت مان لینا قانون کی سنگین خلاف ورزی (Patent Error of Law) ہے۔

​انجام (حتمی فیصلہ):
​لاہور ہائی کورٹ نے ڈسٹرکٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم (Set Aside) قرار دیتے ہوئے اسے غیر قانونی ٹھہرایا، اور فیملی کورٹ کے اصل فیصلے کو بحال کر دیا جس کے تحت بیٹی کو اس کے جہیز کا حق مل گیا۔

22/09/2026

PLD 2026 Lahore 601

اپیل برائے منسوخیِ ڈگری زیرِ آرڈر 37 ضابطہ دیوانی بمقابلہ فیصلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج، فیصل آباد

​مقدمے کا پس منظر:
مدعیہ (رضامند/جواب دہندہ) نے مدعا علیہ (اپیل کنندہ) کے خلاف 25 لاکھ روپے کی رقم کی وصولی کے لیے آرڈر 37 ضابطہ دیوانی کے تحت ایک سوٹ دائر کیا، جو 25 لاکھ روپے کے ایک چیک کی بنیاد پر تھا جسے بینک نے واپس کر دیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے مدعیہ کے حق میں ڈگری جاری کی تھی، جسے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ High Court نے اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور مدعیہ کا دعویٰ خارج کر دیا۔

​اہم قانونی و واقعاتی نکات (Key Findings):

​بہترین شہادت کا چھپانا اور قانونِ شہادت کا آرٹیکل (g)129 (Withholding Best Evidence):

​مدعیہ نے دعویٰ کیا کہ مدعا علیہ اس کے بھائی کا دوست تھا اور اس نے یہ رقم اپنے رشتہ داروں سے اکٹھی کر کے تین گواہوں کی موجودگی میں مدعا علیہ کو دی تھی۔
​تاہم، مدعیہ نے نہ تو اپنے بھائی کا نام دعوے میں لکھا اور نہ ہی اسے بطور گواہ پیش کیا۔ نہ ان رشتہ داروں کے نام بتائے جن سے رقم لی گئی، اور نہ ہی باقی دو نامزد گواہوں کو عدالت میں پیش کیا۔

​عدالت نے قرار دیا کہ اہم اور بہترین گواہوں کو پیش نہ کرنا "Best Evidence" کو چھپانے کے مترادف ہے۔ اس بنا پر قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل (g)129 کے تحت مدعیہ کے خلاف یہ قانونی قرینہ (Presumption) قائم ہوتا ہے کہ اگر وہ گواہ آتے تو وہ مدعیہ کے خلاف بیان دیتے۔

​چیک کا ڈس اونر (Dishonour) نہ ہونا اور Cause of Action کی عدم موجودگی:

​مدعیہ کا دعویٰ تھا کہ چیک ڈس اونر (Bounce) ہوا ہے، جبکہ بینک ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ چیک "Photo Account" ہونے اور کھاتے دار (مدعا علیہ) کی عدم موجودگی کے باعث واپس کیا گیا تھا۔
​قانون کے مطابق بینک افسر کے سامنے کھاتے دار کی عدم موجودگی پر چیک کا واپس ہونا "Dishonour" کے زمرے میں نہیں آتا۔ جب چیک باقاعدہ ڈس اونر ہی نہیں ہوا، تو مدعیہ کے پاس آرڈر 37 کے تحت دعویٰ دائر کرنے کا کوئی قانونی جواز (Cause of Action) نہیں تھا۔

​سٹیٹ بینک کا سرکلر اور 'فوٹو اکاؤنٹ' (Photo Account) کا طریقہ کار:

سٹیٹ بینک ​State Bank of Pakistan کے سرکلر نمبر 10 (مؤرخہ 29-03-2003) کے تحت ناخواندہ افراد کے فوٹو اکاؤنٹ کو چلانے کے لیے شرط ہے کہ کھاتے دار خود بینک میں حاضر ہو کر بینک آفیسرز کی موجودگی میں چیک پر انگوٹھا لگائے۔

​مدعیہ نے اس مقررہ طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے چیک پیش کیا، جس کی وجہ سے وہ قابلِ ادائی نہ ہو سکا۔

​چیک پر "Cash" کا لکھا ہونا اور تین مختلف روشنائیاں (Inks):
​متنازعہ چیک مدعیہ کے نام پر جاری نہیں ہوا تھا بلکہ اس پر اردو میں "Cash" لکھا ہوا تھا، جس کا مطلب کوئی بھی حامل اسے کیش کرا سکتا ہے۔
​چیک پر تحریر تین مختلف روشنائیوں (Inks) سے لکھی گئی تھی، جس سے چیک کی اصلیت پر شدید شبہات پیدا ہوتے ہیں۔

​فوجداری مقدمے (Section 489-F PPC) سے بریت:
​مدعا علیہ اس سے قبل اس چیک کی بنیاد پر درج ہونے والے 489-F PPC کے مقدمے میں مجرمانہ عدالت سے بری (Acquitted) ہو چکا تھا، اور مدعیہ نے اس بریت کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی تھی۔

​شہادتوں کی غلط تعبیر (Misreading/Non-reading of Evidence):
​ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے شہادتوں کا درست جائزہ نہیں لیا (Misreading & Non-reading)۔ مدعیہ 25 لاکھ روپے کا قرض دینا ٹھوس اور قابلِ اعتماد شہادتوں سے ثابت کرنے میں مکمل ناکام رہی۔

​نتیجہ (Verdict):
لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا ڈگری کا فیصلہ منسوخ کر دیا اور مدعیہ کا 25 لاکھ روپے کی وصولی کا دعویٰ خارج کر دیا۔

22/09/2026

PLJ 2026 Lahore 663

اگر کرایہ داری کی مدت میں زبانی طور پر توسیع (Oral Extension) کی گئی ہو، تو ایسی توسیع کو زیادہ سے زیادہ صرف ایک ماہ کے لیے ہی تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

​ایک ماہ سے زائد کی توسیع کے لیے شرط:
زبانی توسیع کو ایک ماہ سے زیادہ کی مدت کے لیے اس وقت تک تسلیم نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ دوسرا فریق (مالک مکان/فریق ثانی) خود اس کا اعتراف يا قبول نہ کرے۔

​15 سالہ زبانی توسیع کے دعوے کی نفی:
درخواست گزار (کرایہ دار) کا یہ موقف کہ کرایہ داری میں زبانی طور پر 15 سال کی توسیع کی گئی تھی، درست نہیں مانا جا سکتا کیونکہ دوسرے فریق نے اس کی توثیق يا قبولیت نہیں کی تھی۔

ڈبلیو پی (W.P.) نمبر: 7652-26
عنوان: خضر حیات بنام ایڈیٹنگ سیشن جج وغیرہ (Khizar Hayyat vs ADJ etc.)

22/09/2026

2026 P Cr. L J 277 |
PLJ 2026 CrC (Note) 2

تفتشیشی افسر کے سامنے ویڈیو کلپ پیش کر کے جرح کرنے/متصادم (Confront) کرنے کا دائرہ کار۔

ملزم کے موبائل فون سے حاصل کردہ ویڈیو کلپ کی بنیاد پر تفتیشی افسر کے ساتھ جرح/تضاد ثابت کرنے کی درخواست نچلی عدالت سے خارج کر دی گئی تھی، جسے برقرار رکھا گیا۔

​گواہ سے تضاد ثابت کرنے کا قانون:
گواہ کو صرف ایسے دستاویزات یا تحریروں سے ہی متصادم (Confront) کیا جا سکتا ہے جو خود اس کی تحریر کردہ، تیار کردہ یا دستخط شدہ ہوں۔

​ویڈیو کلپ کی عدم مطابقت:
موجودہ کیس میں، تفتیشی افسر نہ تو اس ویڈیو کا خالق/سازندہ تھا اور نہ ہی اس پریس کانفرنس کی ویڈیو میں خود کہیں نظر آ رہا تھا جسے دفاعی فریق پیش کرنا چاہتا تھا۔ علاوہ ازیں، گواہ نے ویڈیو کے مواد سے متعلق کسی بھی علم ہونے سے انکار کیا۔

​صداقت اور ذریعہ (Source) کی کمی (Two-Step Verification):
موبائل میں موجود ویڈیو کی صداقت مشکوک تھی اور یہ بھی واضح نہیں تھا کہ یہ ویڈیو کس ذریعے سے حاصل کی گئی۔ اس طرح قانونی طور پر لازمی دو نکاتی تصدیق (Two-Step Verification) کا معیار پورا نہیں ہو رہا تھا۔

​فارنسک رپورٹ اور قانونی تقاضے:
مذکورہ ویڈیو نہ تو تفتیش کا حصہ تھی اور نہ ہی اس کی تصدیق کی گئی تھی۔ ویڈیو کی اصلیت اور صداقت کی تصدیق کے لیے کوئی فارنسک رپورٹ بھی پیش نہیں کی گئی تھی، اس لیے یہ شہادت کے طور پر قابلِ قبول ہونے کے قانونی تقاضوں پر پوری نہیں اترتی۔

​دفاع کا متبادل حق:
اس مرحلے پر ویڈیو دکھانے کی اجازت نہ دینے سے درخواست گزار کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ تاہم، صفائی کے فریق (defence) کے پاس یہ حق محفوظ ہے کہ وہ بعد میں اپنے صفائی کے بیان/شہادت (defence evidence) کے مرحلے پر اس ویڈیو کو پیش کر کے اپنا موقف ثابت کرنے کی کوشش کرے۔

20/09/2026

2025 SCMR 955

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صرف میوٹیشن میں ہبہ کا اندراج ہو جانے سے ہبہ ثابت نہیں ہوتا اور نہ ہی میوٹیشن بذاتِ خود ملکیت منتقل کرتی ہے۔ جو فریق میوٹیشن کی بنیاد پر ملکیت کا دعویٰ کرے، اس پر اصل ہبہ کے لین دین کو ثابت کرنے کا بوجھ ہوتا ہے۔

اہم قانونی نکات:
ہبہ ثابت کرنے کا تین گنا بوجھ جس فریق کے حق میں ہبہ کی میوٹیشن درج ہو، اسے:

تحریری بیان میں ہبہ کی تمام اہم تفصیلات بیان کرنا؛

متعلقہ دستاویزی اور زبانی شہادت پیش کرنا؛

اور عدالت کو ہبہ کے حقیقی اور قانونی ہونے پر مطمئن کرنا ہوتا ہے۔

زبانی ہبہ زبانی ہبہ قانوناً ممکن ہے، لیکن اس کے لیے پیشکش (offer)، قبولیت (acceptance) اور قبضہ (delivery of possession) جیسے بنیادی عناصر کو حالات و شہادت کے مطابق ثابت کرنا ضروری ہے۔ محض روزنامچہ واقعاتی یا میوٹیشن کا اندراج بذاتِ خود ہبہ کا اصل دستاویز نہیں بنتا۔

تحریری بیان میں مکمل تفصیلات ضروری اگر ایک ناخواندہ خاتون کی طرف سے زبانی ہبہ کا دعویٰ کیا جائے تو مستفید ہونے والے فریق کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ:

ہبہ کب، کہاں اور کس موقع پر ہوا؛

کون کون گواہ موجود تھے؛

ہبہ کیسے قبول کیا گیا؛

اور کیا عطیہ دینے والی خاتون نے ہبہ کے قانونی نتائج کو سمجھتے ہوئے آزادانہ اور شعوری فیصلہ کیا تھا۔

میوٹیشن ملکیت کا ثبوت نہیں میوٹیشن صرف مالیاتی/ریونیو ریکارڈ کے مقصد کے لیے ہوتی ہے۔ یہ بذاتِ خود کسی شخص کو ملکیت کا حق نہیں دیتی۔ اگر میوٹیشن چیلنج ہو تو اصل لین دین، یعنی ہبہ، کو ثابت کرنا ضروری ہے۔
فراڈ کی صورت میں عدالت کا کردار عدالت نے قرار دیا کہ فراڈ اور انصاف ایک ساتھ نہیں چل سکتے — Fraus et jus nunquam cohabitant. اگر کسی لین دین کی بنیاد دھوکے اور فراڈ پر ہو تو محض اس کے رسمی یا پرانے ریکارڈ میں درج ہونے کی وجہ سے اسے تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔
خواتین کے وراثتی حقوق عدالت نے ہبہ کے پس پردہ حالات اور مقصد کا جائزہ لینے کی اہمیت پر زور دیا، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں کسی خاتون کے وراثتی حق کو متاثر کرنے کے لیے بظاہر ہبہ کا سہارا لیا گیا ہو۔

فنگر پرنٹ کی فرانزک شہادت متنازعہ میوٹیشن پر موجود انگوٹھے کے نشان کا ماہرِ انگلیات سے موازنہ کرایا گیا۔ ماہر نے قرار دیا کہ متنازعہ انگوٹھے کا نشان خاتون کے تسلیم شدہ نمونے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ سپریم کورٹ نے اس dactyloscopy/فنگر پرنٹ شواہد کو اہم اور مضبوط فرانزک شہادت قرار دیا۔

حقِ دعویٰ اور Limitation اعلامیۂ حق (Suit for Declaration) میں حقِ دعویٰ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مخالف فریق مدعی کے حقِ ملکیت سے انکار کرے یا اس حق کو واضح طور پر چیلنج کرے۔ اگر حق سے انکار کے مختلف مواقع پر نئی خلاف ورزیاں ہوں تو ہر مؤثر انکار ایک نیا cause of action پیدا کر سکتا ہے۔

فراڈ اور Limitation عدالت نے واضح کیا کہ فراڈ سے پیدا ہونے والے لین دین کو صرف رسمی کارروائی یا وقت گزرنے کی بنیاد پر تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔ فراڈ کو بے نقاب کرنا اور حقیقی حق کا تعین کرنا عدالت کی ذمہ داری ہے۔
فیصلہ
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نچلی عدالتوں نے اہم شہادت، بالخصوص ہبہ ثابت کرنے میں مدعا علیہان کی ناکامی اور فنگر پرنٹ کی فرانزک رپورٹ کو مناسب طور پر نہیں دیکھا۔ نتیجتاً ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے کر مدعیہ کا دعویٰ منظور کر لیا گیا۔

اہم اصول:
"Mutation does not confer title; the beneficiary must prove the original transaction."
یعنی میوٹیشن ملکیت نہیں دیتی؛ میوٹیشن کے فائدہ اٹھانے والے فریق کو اصل ہبہ ثابت کرنا ہوتا ہے۔

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when School of Law posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category