Baloch Online Law Service

Baloch Online Law Service legal service all over pakistan we are available All over pakistan

*نان و نفقہ میں اضافہ کے لیے علیحدہ دعویٰ کی عدم ضرورت دفعہ 151 ضابطہ دیوانی کے تحت فیملی کورٹ کے اختیارات کا تعین**(Leg...
23/01/2026

*نان و نفقہ میں اضافہ کے لیے علیحدہ دعویٰ کی عدم ضرورت دفعہ 151 ضابطہ دیوانی کے تحت فیملی کورٹ کے اختیارات کا تعین*
*(Legal Framework for Enhancement of Maintenance without Fresh Suit under Section 151 CPC in Light of 2016 SCMR 1821 & PLD 2025 SC 850)*

2016 -SCMR -1821
فیملی کورٹ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ضابطۂ دیوانی (CPC) کی دفعہ 151 کے تحت درخواست پر نان و نفقہ (Maintenance Allowance) میں اضافہ کر دے، اور اس مقصد کے لیے علیحدہ یا مستقل دعویٰ (Independent Suit) دائر کرنا ضروری نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔

*Pld 2025 SC 850*
فیملی کورٹ کی جانب سے پہلے سے مقرر کردہ نان و نفقہ میں اضافہ کے لیے نیا دعویٰ دائر کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس مقصد کے لیے صرف ضابطۂ دیوانی (CPC) کی دفعہ 151 کے تحت ایک درخواست دینا ہی کافی ہے۔
قانونی و تجزیاتی جائزہ

ان فیصلوں کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ

جب فیملی کورٹ ایک مرتبہ نان و نفقہ مقرر کر دے، تو بعد میں حالات میں تبدیلی کی صورت میں اس میں اضافہ کے لیے نیا مقدمہ (Fresh Suit) دائر کرنا ضروری نہیں۔
بلکہ صرف دفعہ 151 ضابطہ دیوانی (CPC) کے تحت ایک درخواست کافی ہے۔
1. قانونی پس منظر
فیملی کورٹس ایکٹ، 1964 کا مقصد:

فوری انصاف

سادہ طریقہ کار

غیر ضروری پیچیدگیوں سے اجتناب

ہے۔
نان و نفقہ بذاتِ خود ایک جاری حق (Continuing Right) ہے جو حالات کے مطابق بدل سکتا ہے، مثلاً:

مہنگائی میں اضافہ

شوہر کی آمدن میں بہتری

بچوں کی تعلیمی و طبی ضروریات

وقت کے ساتھ اخراجات میں اضافہ

اگر ہر مرتبہ اضافہ کے لیے نیا دعویٰ لازم قرار دیا جائے تو:

مقدمات میں غیر ضروری طوالت پیدا ہو گی

خواتین اور بچوں کو فوری ریلیف نہیں مل سکے گا

فیملی کورٹس ایکٹ کے مقاصد فوت ہو جائیں گے

اسی خلا کو سپریم کورٹ نے دفعہ 151 CPC کے ذریعے پُر کیا۔

2. 2016 SCMR 1821 کا اصول
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ:

فیملی کورٹ کے پاس Inherent Powers موجود ہیں۔

دفعہ 151 CPC کے تحت عدالت وہ تمام احکامات دے سکتی ہے جو انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہوں۔

نان و نفقہ میں اضافہ کے لیے علیحدہ دعویٰ دائر کرنا ضروری نہیں۔

عدالت نے یہ اصول قائم کیا کہ

Maintenance ایک جامد (static) حق نہیں بلکہ متحرک (dynamic) نوعیت رکھتا ہے، جو حالات کے ساتھ بدلتا ہے۔

3. PLD 2025 SC 850 کی توثیق اور ارتقاء
PLD 2025 SC 850 نے اس اصول کو مزید مضبوط اور حتمی بنا دیا:

"Suit for enhancement of maintenance already fixed by Family Court"

"No need to file any fresh suit."

"Only an application under section 151 CPC is sufficient."

یعنی سپریم کورٹ نے

نئے دعویٰ کی شرط کو مکمل طور پر ختم کر دیا

دفعہ 151 CPC کو براہِ راست قابلِ اطلاق قرار دیا

اس عمل کو فیملی کورٹ کی inherent jurisdiction کا حصہ بنا دیا

اب یہ محض سہولت نہیں بلکہ قانونی طور پر تسلیم شدہ طریقہ ہے۔

4. عملی قانونی اثرات
ان فیصلوں کے بعد قانونی پوزیشن یہ بن چکی ہے کہ:

اگر نان و نفقہ پہلے سے مقرر ہو

اور حالات بدل جائیں

تو متاثرہ فریق (بیوی یا بچے):

صرف ایک درخواست
u/s 151 CPC
فیملی کورٹ میں دائر کرے گا/گی۔

عدالت

فریقین کو سنے گی

آمدن، مہنگائی اور ضروریات کا جائزہ لے گی

اور نان و نفقہ میں اضافہ کر سکتی ہے

بغیر کسی نئے مقدمہ کے۔

5. دفاعی و عدالتی حکمتِ عملی
عدالت کے سامنے درج ذیل نکات رکھے جا سکتے ہیں:

Maintenance ایک جاری حق ہے

نیا دعویٰ انصاف میں تاخیر کا سبب بنتا ہے

فیملی کورٹس ایکٹ کا مقصد فوری اور مؤثر انصاف ہے

سپریم کورٹ کے فیصلے (2016 SCMR 1821، PLD 2025 SC 850) براہ راست قابلِ اطلاق ہیں

دفعہ 151 CPC عدالت کو مکمل اختیار دیتی ہے

لہٰذا
درخواست برائے اضافہ نان و نفقہ قابلِ سماعت ہے،
اور اسے تکنیکی بنیادوں پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

23/12/2025

پنجاب میں قبضوں کے خلاف قانون معطلی کا تحریری فیصلہ جاری۔۔۔ ڈی سی کی سربراہی میں کمیٹیوں نے اختیارات سے تجاوز کیا اسلیے قانون معطل کر دیا گیا! جلد فل بینچ بنا کر سماعتوں کا آغاز کیا جائے گا

لاہور ہائی کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری
لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے جاری
کردہ اس عدالتی حکم نامے کے مطابق، عدالت نے "پنجاب پروٹیکشن آف اونر شپ آف ایموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025" کے تحت ہونے والی کارروائیوں اور خود اس قانون کی قانونی حیثیت پر بڑے سوالات اٹھاتے ہوئے اہم ریلیف دیا ہے۔
اس فیصلے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. کیس کا پس منظر
یہ کیس ممتاز حسین بنام حکومتِ پنجاب (W.P. No. 76106 of 2025) کے عنوان سے ہے۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی (DRC) نے ڈپٹی کمشنر جھنگ کی سربراہی میں ان کی جائیداد کے حوالے سے جو احکامات جاری کیے، وہ غیر قانونی اور آئین کے خلاف ہیں۔
2. حکومت کا موقف اور اعتراف
سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں اہم اعترافات کیے:
قانون کی تبدیلی:
بتایا گیا کہ جس "آرڈیننس" کے تحت کارروائی شروع ہوئی تھی، وہ 18 دسمبر 2025 کو ختم ہو کر "ایکٹ" کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
کمیٹیوں کا اختیارات سے تجاوز:
سرکاری وکیل نے تسلیم کیا کہ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹیوں کے پاس جائیداد کا قبضہ (Possession) واگزار کروانے یا دینے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔
غیر قانونی اقدامات: یہ بھی مانا گیا کہ کمیٹیوں نے اپنے مینڈیٹ سے باہر نکل کر کام کیا اور جب تک ٹربیونل نوٹیفائی نہیں ہوتا، کمیٹیوں کے پاس کوئی قانونی اختیار نہیں تھا۔
3. عدالت کے اہم مشاہدات
عدالت نے اپنے حکم نامے میں درج ذیل نکات پر تشویش کا اظہار کیا:
بنیادی حقوق کی خلاف ورزی: عدالت نے کہا کہ اس قانون کے تحت کی جانے والی کارروائیوں میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 23 اور 24 (جائیداد رکھنے کے حقوق) اور آرٹیکل 10-A (شفاف ٹرائل کا حق) کو بظاہر نظر انداز کیا گیا ہے۔
سول عدالتوں کی موجودگی: عدالت نے نوٹ کیا کہ جہاں پہلے سے سول عدالتوں میں کیس چل رہے ہوں، وہاں ان کمیٹیوں کا مداخلت کرنا غیر قانونی ہے۔
4. لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ (حکمِ امتناع)
عدالت نے اس کیس میں درج ذیل بڑے حکم جاری کیے ہیں:
قانون کی معطلی: عدالت نے پنجاب پروٹیکشن آف اونر شپ آف ایموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 کی دفعات (Provisions) کو معطل کر دیا ہے اور اس کے تحت ہونے والی تمام کارروائیوں پر اسٹے (Stay) دے دیا ہے۔
جائیداد کی واپسی: ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی کو حکم دیا گیا ہے کہ جائیداد کی صورتحال کو فوری طور پر اسی حالت میں بحال کیا جائے جس میں وہ درخواست دائر ہونے سے پہلے تھی (یعنی اگر قبضہ لیا گیا ہے تو واپس دیا جائے)۔
فل بینچ کی تشکیل:
کیس کی حساسیت اور قانونی پیچیدگی کو دیکھتے ہوئے، عدالت نے اسے فل بینچ (زیادہ ججز پر مشتمل بینچ) کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس:
آئین کی تشریح کے لیے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو معاونت کے لیے نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔

سادہ الفاظ میں، لاہور ہائی کورٹ نے اس نئے پراپرٹی ایکٹ کے تحت ہونے والی کارروائیوں کو روک دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ انتظامی کمیٹیاں (DRCs) عدالتوں کا متبادل نہیں بن سکتیں اور نہ ہی وہ زبردستی کسی سے جائیداد کا قبضہ چھین سکتی ہیں۔

15/12/2025

2025 SCMR 955

"انتقال (Mutation) --- دائرہ کار --- انتقال کسی فریق کے حق میں ملکیت کا ثبوت فراہم نہیں کرتا بلکہ صرف مالیاتی مقاصد کے لیے ایک سرکاری ریکارڈ ہوتا ہے --- ریونیو افسر کی طرف سے کسی بھی انتقال کی غیر قانونی منظوری کا ملکیت پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور اسے کالعدم سمجھا جا سکتا ہے۔"
-----------------------------------------------------------------------

انتقال (Mutation) کا دائرہ کار

انتقال صرف ریونیو ریکارڈ کا اندراج ہے، جو زمین کے مالکانہ حقوق کے بجائے صرف زمین کی آمدن/محصولات کے اندراج اور مالی انتظام کے لیے رکھا جاتا ہے۔

انتقال کا اندراج یا منظوری ملکیت (Ownership) پیدا نہیں کرتا، بلکہ صرف پہلے سے موجود ملکیت یا تصرف کی صورت حال کو ریکارڈ کرتا ہے۔

اگر ریونیو افسر کسی غیر قانونی انتقال کی منظوری دے بھی دے، تو اس کا اصل ملکیت پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور عدالت میں ایسے انتقال کو کالعدم (Nullity) قرار دیا جا سکتا ہے۔

کون سی دستاویز ملکیت ثابت کرتی ہے؟

پاکستانی قانون کے تحت ملکیت (Title) درج ذیل طریقوں سے ثابت ہوتی ہے:

1. رجسٹرڈ بیع نامہ (Registered Sale Deed) – جب زمین فروخت کی جائے اور رجسٹریشن ایکٹ کے تحت رجسٹر ہو۔

2. وراثت (Inheritance / Succession) – قانونی ورثاء کی بنیاد پر، جو انتقال میں ظاہر ہو سکتا ہے مگر اصل ثبوت وراثتی حق ہے۔

3. عدالتی ڈگری/ڈگری نامہ (Court Decree / Judgment) – جب عدالت کسی کے حق میں ملکیت کا فیصلہ دے۔

4. وقف یا ہبہ (Gift, Waqf, etc.) – اگر شرعی اور قانونی شرائط پوری ہوں۔

یعنی اصل دستاویز جو ملکیت پیدا یا منتقل کرتی ہے وہ رجسٹرڈ دستاویز یا عدالتی ڈگری ہے، جبکہ انتقال محض مالی اور ریکارڈ رکھنے کا عمل ہے۔

انتقال (Mutation) کی اہمیت ملکیت کے حوالے سے

انتقال بطور واقعاتی ثبوت (Circumstantial Evidence)

اگرچہ انتقال خود ملکیت نہیں بناتا، لیکن یہ کسی شخص کے قبضہ اور مالکانہ دعویٰ کو ظاہر کرنے والا ایک واقعاتی یا معاون ثبوت ہوتا ہے۔

عدالتیں دیکھتی ہیں کہ آیا جس کے نام پر انتقال ہے، وہ حقیقتاً زمین پر قابض بھی ہے یا آمدن وصول کر رہا ہے۔

لہٰذا، انتقال کو corroborative evidence کے طور پر مانا جا سکتا ہے مگر sole evidence کے طور پر نہیں۔

اصل ملکیت ہمیشہ رجسٹرڈ سیل ڈیڈ، عدالت کی ڈگری، وراثت کی شرعی حیثیت یا دیگر قانونی دستاویزات سے ثابت ہوتی ہے۔

انتقال ان دستاویزات کا ضمنی یا ثانوی ثبوت ہوتا ہے۔

انتقال واقعاتی ثبوت (circumstantial evidence) کی حیثیت تو رکھتا ہے اور کسی کے دعویٰ کو تقویت دے سکتاہے، مگر بذاتِ خود ملکیت کو ثابت کرنے کا بنیادی یوی

08/12/2025

پشاور ہائیکورٹ کا گواہوں کے بیانات کی ریکارڈنگ سے متعلق اہم رہنما اصول جاری👇

پشاور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ، پراسیکوشن اور وکلاء کے لیے گواہوں کے بیانات کی ریکارڈنگ کے دوران اپنانے والے طریقہ کار کے لیے نئے رہنما اصول جاری کیے ہیں۔ ماتحت عدالتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ گواہوں کے بیانات کی آڈیو و ویڈیو (Audio-Visual) ریکارڈنگ لازمی طور پر کی جائے۔ گواہوں کے بیانات کے سلسلے میں درج ذیل رہنما اصول اختیار کیے جائیں:

✍️1. آئندہ تمام ٹرائل کارروائیاں، خاص طور پر بیانات کی ریکارڈنگ، عدالت میں موجود audio-video facility کے ذریعے کی جائیں۔ جب تک transcript recorders مقرر یا دستیاب نہ ہوں، موجودہ طریقہ کار کے ساتھ ساتھ audio-video recording بھی لازمی ہوگی۔ تمام ریکارڈنگز کو مستقبل میں استعمال کے لیے محفوظ کیا جائے گا۔ جہاں یہ سہولت موجود نہ ہو، متعلقہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، رجسٹرار ہائیکورٹ سے مشورہ کر کے تنصیب یقینی بنائیں۔

✍️2. ہر ٹرائل کورٹ گواہ کی مکمل شناخت یقینی بنائے، جس کے لیے گواہ سے personal questioning کی جائے اور اس کا demeanor نوٹ کیا جائے۔

✍️3. ہر گواہ CNIC پیش کرے اور اگر وہ سرکاری یا محکماتی ملازم ہو تو service card بھی پیش کرے، جس کی جانچ عدالت کرے گی، اور وکلاء بھی اس کی جانچ کر سکتے ہیں۔

✍️4. یہ کہ CNIC اور service card متعلقہ گواہ کے بیان میں ظاہر کیے جائیں۔

✍️5. ہر گواہ کو عدالت میں حلف دلایا جائے۔

✍️6. ہر سرکاری گواہ کے نام، والد کا نام، عہدہ اور محکمانہ تعیناتیاں درست طور پر examination-in-chief کے آغاز میں درج ہوں۔

✍️7. تمام بیانات واضح اور readable ہوں، اور ہر گواہ کے بعد Presiding Officer کے دستخط لازمی ہوں، جب تک digital recording system مکمل طور پر فعال نہ ہو۔

✍️8. اگر گواہ کی شناخت یا کردار مشکوک ہو، تو جانچ پڑتال کے بعد ہی اس کا examination کیا جائے۔

✍️9. انصاف کے تقاضے کے لیے عدالت Section 540 Cr.P.C 1898 کے تحت کسی بھی گواہ کو summon یا re-examine کر سکتی ہے، اگر اس کی گواہی عدالتی فیصلے کے لیے ضروری ہو۔

✍️10. یہ کہ جھوٹی شہادت، جعلی دستاویزات، ناقص تفتیش یا جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے کے معاملات میں عدالت سیکشن 476 ضابطہ فوجداری (CrPC)، سیکشن 32 خیبر پختونخوا کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹانسز ایکٹ 2019 (KP CNSA 2019) اور تعزیراتِ پاکستان (PPC) کے سیکشنز 166(2) اور 186(2) کے تحت کارروائی کرے۔

✍️11. پراسیکوشن یقینی بنائے کہ تمام گواہوں کے درست نام، عہدے اور تفصیلات Section 173 Cr.P.C کے تحت چالان میں درج ہوں۔

✍️12. عدالت میں گواہ پیش کرنے سے پہلے پراسیکیوٹر گواہ کے CNIC اور service card کی تصدیق کرے اور چالان اور پولیس فائل سے مطابقت یقینی بنائے۔

🤔13. پراسیکیوٹر یہ یقینی بنائے کہ کوئی بھی شخص جس کا نام چالان میں نہ ہو، عدالت کی اجازت کے بغیر گواہ کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔

✍️14. کسی بھی discrepancy، substitution یا clerical error کی صورت میں فوراً عدالت کو اطلاع دی جائے۔

✍️15. پراسیکیوٹر بیانات کی ریکارڈنگ کے دوران موجود اور چوکس رہے، اور یقینی بنائے کہ ہر گواہ کو قانون کے مطابق examine, cross-examine اور re-examine کیا جائے۔

✍️16. پراسیکیوٹر کو اپنی اخلاقی ذمہ داری برقرار رکھنی ہوگی اور صرف conviction پر نہ بلکہ انصاف کے حصول پر عمل کرے۔

✍️17. وکلاء کو یاد رہے کہ ان کا بنیادی فریضہ عدالت کی مدد اور انصاف کی فراہمی ہے (Rule 163 PLB Rules 1976)۔

✍️18. گواہ کی شناخت، ثبوت یا بیان میں کسی بھی discrepancy، irregularity یا error کو فوراً عدالت کو بتایا جائے۔

✍️19. دفاعی وکلاء facts چھپانے، misstatements یا procedural lapses سے گریز کریں جو صرف client کے فائدے میں ہوں مگر انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہوں۔

✍️20. ان ذمہ داریوں کو نہ نبھانا misconduct کے زمرے میں آ سکتا ہے (Rule 175A PLB Rules 1976)۔

✍️21. ہر گواہ اپنی اصل شناخت، والد کا نام، پیشہ اور عہدہ ظاہر کرے۔ اگر کوئی حقیقت چھپائی گئی یا عدالت کو گمراہ کیا گیا، تو عدالت مناسب قانونی کارروائی کرے۔

✍️22. ہر گواہ، چاہے سرکاری ہو یا نجی، CNIC اور service card پیش کرے اور یہ ریکارڈ پر ظاہر ہوں۔

⚖️ مختصر حقائقِ کیس

اس کیس میں اپیل کنندہ محمد صابر کو ٹرائل کورٹ نے 13 جنوری 2025 کو عمر قید اور Rs. 1,000,000 fine کی سزا سنائی تھی۔ اپیل کنندہ کے وکیل نے پروسیکوشن میں کئی نقائص کو اجاگر کیا، بشمول قیصر خان کی گواہی، جو witness list میں نہیں تھا۔ چالان کے مطابق "Hidayat" نامی کانسٹیبل نے seized narcotics کے سیمپل Forensic Science Laboratory (FSL) پہنچائے، لیکن ٹرائل کورٹ میں "قیصر خان" کو گواہ کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ اس کا نام چالان (charge sheet) میں شامل نہیں تھا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ Member Inspection Team (MIT) آفس اس کا نوٹس لے اور ٹرائل جج کے خلاف کارروائی شروع کرے۔ اسی طرح، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پشاور، متعلقہ جج اور عملے کی ذمہ داریوں کے حوالے سے نوٹس لیں۔ڈائریکٹر جنرل پراسیکیوشن کو ہدایت دی گئی کہ District Public Prosecutor اور ڈیوٹی پر موجود پبلک پراسیکیوٹر کے حوالے سے نوٹس لیں۔ اسی طرح، Director General Exicise, Taxation and Narcotics Control Department کو ہدایت دی گئی کہ seizing officer اور IO کے خلاف کارروائی کریں۔

⚖️ اپیل کی سماعت اور حکم

عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے impugned judgment، conviction اور sentence کو ختم کر دیا اور کیس دوبارہ ٹرائل کورٹ بھیج دیا۔ ہدایت کی گئی کہ Hidayat یا Qaiser Khan کو دوبارہ examine کیا جائے، اور دونوں فریقین کو cross-examination کا موقع فراہم کیا جائے۔ اگر کسی نئے حقائق کا انکشاف ہوا، تو accused کا amended statement Section 342 Cr.P.C کے تحت ریکارڈ کیا جائے۔ پھر، دونوں فریقین کو دلائل کے لیے موقع دیا جائے اور کیس کو نیا فیصلہ دیا جائے، بغیر کسی سابقہ مشاہدے سے متاثر ہوئے۔ یہ کارروائی ایک ماہ کے اندر مکمل کی جائے۔ اس دوران اپیل کنندہ کو under trial prisoner کے طور پر رکھا جائے۔

بینچ، جس میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس محمد اعجاز خان شامل تھے، نے ہدایت دی کہ گواہوں کے بیانات کی transcription اور translation کے لیے certified transcript recorders مقرر کیے جائیں، اور رجسٹرار کے دفتر کو ہدایت دی کہ وہ ان کے فرائض کے لیے واضح Standard Operating Procedures (SOPs) تیار کرے۔ بینچ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترجیحاً یہ افراد قانونی علم رکھتے ہوں، اور عبوری طور پر موجودہ عملہ اس مقصد کے لیے تربیت حاصل کرے، تاہم آخری ذمہ داری ٹرائل جج کی ہوگی، جو بیانات کو مقررہ طریقے کے مطابق ریکارڈ کرنے کا پابند ہے۔ یہ ہدایات 31 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جاری کی گئی ہیں اور رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کو ہدایت کی گئی کہ یہ ہدایات چھ مہینے کے اندر نافذ کی جائیں۔

08/12/2025

*پنجاب غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت کے تحفظ کا آرڈیننس 2025 – آسان اردو خلاصہ*

*1. نام، دائرہ اور نفاذ*
- اس قانون کا نام “پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025” ہے۔
- پورے پنجاب میں لاگو ہوتا ہے اور فوراً نافذ العمل ہے۔

*2. تعریفیں*
- *کمیٹی*: تنازعہ حل کرنے والی سرکاری کمیٹی۔
- *حکومت*: پنجاب حکومت۔
- *غیر منقولہ جائیداد*: زمین، عمارت، کھیت، گھر اور زمین سے جڑی ہر چیز (کھڑے درخت، فصل، پھل، جڑی ہوئی ماشینری کو شامل نہیں)۔
- *رکن*: کمیٹی کا فرد۔
- *ٹربیونل*: اس قانون کے تحت بنائی گئی خاص عدالت جو قبضے کے کیس سنتی ہے۔

*3. قانون کی بالادستی*
- اگر کوئی دوسرا قانون اس کے خلاف ہو تو یہ آرڈیننس ہی مرجع ہوگا۔

*4. غیر قانونی قبضہ*
- کسی بھی شخص کا زبردستی، دھوکہ، جعل سازی یا بغیر اجازت جائیداد پر قبضہ کرنا جرم ہے۔
- سزا: 5 سال سے 10 سال تک قید (کم سے کم 5 سال)۔

*5. مدد یا سازش*
- قبضہ کروانے میں مدد، جھوٹے کاغذات بنانا یا سازش کرنا بھی جرم ہے اور اسی سزا کا حامل ہو سکتا ہے۔

*6. کمپنی/ادارے کا جرم*
- اگر کوئی ادارہ یا کمپنی قبضہ کرے تو اس کے ڈائریکٹر/منیجر ذمہ دار ہوں گے، الا یہ کہ وہ ثابت کریں کہ انہیں علم نہیں تھا اور وہ روک نہیں سکے۔

*7. شکایت کیسے دائر کریں*
- متاثرہ مالک تحریری درخواست کے ساتھ کمیٹی میں شکایت کرے گا۔
- درخواست میں جائیداد کی تفصیل، قبضے کا ثبوت، قبضہ کرنے والے کا نام، تاریخ و طریقہ شامل ہونا چاہیے۔

*8. نوٹس اور کارروائی*
- کمیٹی ملزم کو نوٹس دے کر دونوں طرف سے سن کر کارروائی کرے گی۔
- ضرورت پڑنے پر کمیٹی موقع پر جا کر معائنہ بھی کر سکتی ہے۔

*9. 90 دن میں فیصلہ*
- کمیٹی کو کوشش کرنی ہوگی کہ معاملہ 90 دن میں ختم ہو۔
- پیچیدہ کیس میں یہ مدت مزید 90 دن بڑھائی جا سکتی ہے۔

*10. حل نہ ہونے پر ٹربیونل کو بھیجنا*
- اگر کمیٹی حل نہ کر سکے تو کیس اپنی رائے کے ساتھ ٹربیونل کو بھیجے گی۔

*11. ٹربیونل کا قیام*
- حکومت ہر ضلع میں کم از کم ایک ٹربیونل بنائے گی۔
- سربراہ: سابقہ جج (لہور ہائی کورٹ یا ڈسٹرکٹ جج)۔

*12. ٹربیونل کے اختیارات*
- ثبوت طلب کرنا، گواہ بلانا، ریکارڈ منگوانا اور مکمل مقدمہ چلانا۔
- یہ ایک مکمل عدالت کی طرح کام کرے گا۔

*13. جھوٹی شکایت پر سزا*
- جان بوجھ کر جھوٹی شکایت کرنے والے کو 1‑5 سال قید اور جرمانہ (کم از کم 100,000 روپے) ہو سکتا ہے۔

*14. ٹربیونل کے عدالتی اختیارات*
- ٹربیونل کو سول اور سیشن کورٹ جیسے اختیارات حاصل ہوں گے۔

*15. گرفتاری کا اختیار*
- ٹربیونل کے حکم پر پولیس یا سرکاری ادارہ ملزم کو گرفتار کر سکتا ہے اگر جرم ثابت ہو۔

*16. اصل مالک کو فوراً قبضہ واپس*
- اگر ٹربیونل یہ مانے کہ قبضہ غیر قانونی ہے تو فوراً مالک کو قبضہ واپس کرنے کا حکم دے گا۔

*17. رضاکارانہ واپسی*
- اگر قبضہ کرنے والا خود ہی جائیداد چھوڑ دے تو ٹربیونل اسے ریکارڈ کر کے کارروائی ختم کر سکتا ہے۔

*18. حکومتی اداروں کی مدد*
- ریونیو، پولیس، ڈپٹی کمشنر دفتر وغیرہ ٹربیونل کی مدد کریں گے تاکہ قبضہ ختم کر کے مالک کو جائیداد مل سکے۔

*19. قواعد بنانے کا اختیار*
- حکومت اس قانون کے نفاذ کے لیے مزید قواعد بنا سکتی ہے۔

---

_یہ خلاصہ اس آرڈیننس کے اہم نکات کو عام فہم اور آسان اردو میں پیش کرتا ہے تاکہ مالکان اور عام لوگ اس کے حقوق و فرائض کو آسانی سے سمجھ سکیں۔_

قانون کے 50 مشہور اصول📜 50 اہم قانونی ضوابط (Legal Maxims in Urdu with Explanation & Examples)---1. Ignorantia juris non...
25/10/2025

قانون کے 50 مشہور اصول
📜 50 اہم قانونی ضوابط (Legal Maxims in Urdu with Explanation & Examples)

---

1. Ignorantia juris non excusat

📖 قانون کی لاعلمی عذر نہیں۔
👉 مطلب: کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے قانون کا پتہ نہیں تھا۔
🔹 مثال: اگر کوئی سگریٹ پینے پر پابندی والے علاقے میں سگریٹ پیے اور کہے کہ "مجھے قانون کا پتہ نہیں تھا"، تو یہ عذر قابل قبول نہیں۔

---

2. Audi alteram partem

📖 فریق مخالف کو سنے بغیر فیصلہ نہ دیا جائے۔
👉 مطلب: انصاف کا تقاضا ہے کہ دونوں طرف کو سننے کے بعد فیصلہ ہو۔
🔹 مثال: اگر کسی ملازم کو برطرف کیا جانا ہے تو اسے وضاحت کا موقع دینا ضروری ہے۔

---

3. Nemo judex in causa sua

📖 کوئی شخص اپنے ہی کیس کا جج نہیں۔
👉 مطلب: انصاف غیر جانبداری سے ہونا چاہیے۔
🔹 مثال: اگر کسی جج کا بیٹا کسی مقدمے میں فریق ہو تو وہ جج اس مقدمے کی سماعت نہیں کر سکتا۔

---

4. Fiat justitia ruat caelum

📖 انصاف ہونا چاہیے چاہے آسمان ہی کیوں نہ گر پڑے۔
👉 مطلب: انصاف ہر حال میں ہونا چاہیے، چاہے حالات مشکل ہوں۔
🔹 مثال: طاقتور شخص کے خلاف بھی قانون حرکت میں آئے گا۔

---

5. Ubi jus ibi remedium

📖 جہاں حق ہے وہاں چارہ جوئی ہے۔
👉 مطلب: ہر حق کے ساتھ اس کے تحفظ کا قانونی راستہ ہوتا ہے۔
🔹 مثال: اگر کسی کی جائیداد پر قبضہ ہو جائے تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔

---

6. Actus reus non facit reum nisi mens sit rea

📖 جرم تبھی ہے جب نیت بھی مجرمانہ ہو۔
👉 مطلب: صرف عمل کافی نہیں، نیت بھی دیکھنا ضروری ہے۔
🔹 مثال: غلطی سے کسی کو دھکا لگنا جرم نہیں، مگر جان بوجھ کر مارنا جرم ہے۔

---

7. Res ipsa loquitur

📖 چیز خود بولتی ہے۔
👉 مطلب: حالات خود بخود غفلت ظاہر کرتے ہیں۔
🔹 مثال: سرجری کے بعد مریض کے جسم میں کینچی رہ جانا ڈاکٹر کی غفلت ظاہر کرتا ہے۔

---

8. Nemo debet bis vexari pro eadem causa

📖 کسی کو ایک ہی معاملے میں دو بار پریشان نہیں کیا جا سکتا۔
👉 مطلب: ڈبل سزا یا ڈبل ٹرائل نہیں ہوگا۔
🔹 مثال: اگر کسی کو چوری کے الزام میں بری کر دیا گیا تو اسی الزام پر دوبارہ مقدمہ نہیں ہو سکتا۔

---

9. Caveat emptor

📖 خریدار خبردار رہے۔
👉 مطلب: خریدار کو خریداری سے پہلے جانچ کرنی چاہیے۔
🔹 مثال: اگر آپ بغیر دیکھے پرانی گاڑی خریدیں تو بعد میں خرابی پر بیچنے والا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

---

10. Lex posterior derogat priori

📖 بعد کا قانون پہلے کو ختم کر دیتا ہے۔
🔹 مثال: اگر 2020 کا قانون اور 2023 کا قانون آپس میں متصادم ہوں تو نیا قانون لاگو ہوگا۔

---

11. Injuria sine damno

📖 قانونی نقصان بغیر مالی نقصان۔
🔹 مثال: کسی کو ووٹ ڈالنے سے روکنا، چاہے مالی نقصان نہ ہو۔

---

12. Damnum sine injuria

📖 مالی نقصان بغیر قانونی نقصان۔
🔹 مثال: کوئی نئی دکان کھلنے سے پرانی دکان کا بزنس کم ہو جائے، تو پرانی دکان والے کا قانونی حق نہیں بنتا۔

---

13. Volenti non fit injuria

📖 جو راضی ہو اسے نقصان نہیں۔
🔹 مثال: کرکٹ کھیلتے وقت گیند لگ جائے تو کھلاڑی مقدمہ نہیں کر سکتا۔

---

14. Actio personalis moritur cm persona

📖 ذاتی دعویٰ مرنے والے کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔
🔹 مثال: ہتک عزت کا دعویٰ مدعی کی موت کے بعد جاری نہیں رہ سکتا۔

---

15. Delegatus non potest delegare

📖 نمائندہ مزید نمائندہ نہیں بنا سکتا۔
🔹 مثال: اگر وزیر کو اختیار دیا جائے تو وہ کسی اور کو منتقل نہیں کر سکتا۔

---

16. Ex turpi causa non oritur actio

📖 غیر اخلاقی بنیاد پر کوئی دعویٰ نہیں بنتا۔
🔹 مثال: جوا کھیلنے کا معاہدہ عدالت میں نافذ نہیں ہوگا۔

---

17. Salus populi suprema lex

📖 عوام کی بھلائی سب سے بڑا قانون ہے۔
🔹 مثال: وبا کے دوران لاک ڈاؤن لگانا۔

---

18. Lex non cogit ad impossibilia

📖 قانون ناممکن پر مجبور نہیں کرتا۔
🔹 مثال: اگر زلزلے سے دستاویزات جل جائیں تو پیش نہ کرنے پر سزا نہیں ہوگی۔

---

19. Ut res magis valeat quam pereat

📖 چیز کو بچانے کی کوشش قانون کا مقصد ہے۔
🔹 مثال: معاہدے میں چھوٹی غلطیوں کے باوجود اسے مؤثر مانا جاتا ہے۔

---

20. Lex specialis derogat legi generali

📖 خاص قانون عام قانون پر غالب ہے۔
🔹 مثال: فیملی لا، سول پروسیجر پر فوقیت رکھے گا۔

---

21. Qui facit per alium facit per se

📖 جو دوسرے سے کرائے وہ گویا خود کرتا ہے۔
🔹 مثال: آجر (Employer) ملازم کے عمل کا ذمہ دار ہے۔

---

22. Consensus ad idem

📖 ایک بات پر باہمی رضامندی۔
🔹 مثال: خریدار اور بیچنے والا ایک ہی چیز پر متفق ہوں۔

---

23. Falsus in uno, falsus in omnibus

📖 ایک بات میں جھوٹا تو سب میں جھوٹا۔
🔹 مثال: گواہ اگر ایک بات میں جھوٹ بولے تو اس کی پوری گواہی مشکوک ہو جاتی ہے۔

---

24. Lex loci contractus

📖 معاہدے کی جگہ کا قانون۔
🔹 مثال: دبئی میں معاہدہ ہو تو دبئی کا قانون لاگو ہوگا۔

---

25. Lex fori

📖 عدالت کا اپنا قانون۔
🔹 مثال: پاکستان کی عدالت میں پاکستان کا طریقہ کار ہوگا۔

---

26. Lex loci delicti commissi

📖 جرم کی جگہ کا قانون۔
🔹 مثال: سعودی عرب میں جرم ہو تو سعودی قانون لاگو ہوگا۔

---

27. Bona fide

📖 نیک نیتی سے۔
🔹 مثال: کوئی شخص ایمانداری سے کام کرے۔

---

28. Mala fide

📖 بدنیتی سے۔
🔹 مثال: کوئی افسر ذاتی دشمنی میں کسی کو سزا دے۔

---

29. Ratio decidendi

📖 فیصلے کی اصل وجہ۔
🔹 مثال: عدالت نے گواہی کے ناقابل اعتماد ہونے کی بنیاد پر فیصلہ دیا۔

---

30. Obiter dictum

📖 جج کی ضمنی رائے۔
🔹 مثال: جج کا ایسا تبصرہ جو فیصلہ کا حصہ نہ ہو۔

---

31. Consensus facit legem

📖 رضامندی قانون بناتی ہے۔
🔹 مثال: نکاح میں میاں بیوی کی رضامندی۔

---

32. Acta exteriora indicant interiora secreta

📖 ظاہری عمل نیت کو ظاہر کرتا ہے۔
🔹 مثال: چوری کرتے وقت دروازہ توڑنا نیت ظاہر کرتا ہے۔

---

33. Dur lex sed lex

📖 قانون سخت ہے مگر قانون ہے۔
🔹 مثال: ٹیکس لازمی دینا پڑے گا۔

---

34. Nullum crimen sine lege

📖 قانون کے بغیر جرم نہیں۔
🔹 مثال: جس کام پر قانون نہ ہو، اسے جرم نہیں کہا جا سکتا۔

---

35. Nulla poena sine lege

📖 قانون کے بغیر سزا نہیں۔
🔹 مثال: عدالت خود سزا ایجاد نہیں کر سکتی۔

---

36. Qui prior est tempore potior est jure

📖 جو وقت میں پہلے ہے، قانون میں مضبوط ہے۔
🔹 مثال: پہلے رجسٹری کرانے والا مالک مضبوط حق رکھتا ہے۔

---

37. Nemo dat quod non habet

📖 جو چیز اس کے پاس نہیں وہ نہیں دے سکتا۔
🔹 مثال: چوری شدہ گاڑی بیچنے والا اصل مالک نہیں۔

---

38. Pacta sunt servanda

📖 معاہدے پورے کرنا لازم ہیں۔
🔹 مثال: کرایہ داری کا معاہدہ پورا کرنا ہوگا۔

---

39. Expressio unius est exclusio alterius

📖 ایک کا ذکر دوسروں کو خارج کرتا ہے۔
🔹 مثال: اگر قانون میں "بیٹے" لکھا ہو تو بیٹیاں شامل نہیں۔

---

40. In pari delicto potior est conditio possidentis

📖 برابر قصور میں قابض کو ترجیح۔
🔹 مثال: ناجائز قبضے میں دونوں برابر ہوں تو موجودہ قابض کو برتری ملے گی۔

---

41. Qui tam pro domino rege quam pro se ipso in hac parte sequitur

📖 جو بادشاہ اور اپنے لیے ایک ساتھ دعویٰ کرے۔
🔹 مثال: عوامی مفاد میں بھی ذاتی مفاد شامل ہو سکتا ہے۔

---

42. Lex prospicit non respicit

📖 قانون آگے دیکھتا ہے، پیچھے نہیں۔
🔹 مثال: نیا قانون پرانے واقعات پر لاگو نہیں ہوتا۔

---

43. De minimis non curat lex

📖 قانون چھوٹی باتوں کی پرواہ نہیں کرتا۔
🔹 مثال: ایک روپے کا نقصان عدالت میں دعویٰ نہیں۔

---

44. Cessante ratione legis cessat ipsa lex

📖 قانون کی وجہ ختم ہو تو قانون ختم۔
🔹 مثال: پرانے حالات کے لیے بنایا گیا قانون نئے حالات میں نہیں۔

---

45. Ignorantia facti excusat

📖 حقیقت کی لاعلمی معافی ہے۔
🔹 مثال: کوئی شخص زہر سمجھ کر دوا نہ دے تو معافی ہے۔

---

46. Inter arma silent leges

📖 جنگ میں قانون خاموش ہو جاتا ہے۔
🔹 مثال: ہنگامی صورتحال میں عام قوانین معطل ہو سکتے ہیں۔

---

47. Necessitas non habet legem

📖 ضرورت کا کوئی قانون نہیں۔
🔹 مثال: آگ بجھانے کے لیے کسی کا مکان توڑ دینا۔

---

48. Nemo est supra leges

📖 کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔
🔹 مثال: صدر یا وزیراعظم بھی قانون کے تابع ہیں۔

---

49. Jus cogens

📖 ناقابل تنسیخ اصول۔
🔹 مثال: غلامی یا نسل کشی عالمی سطح پر ممنوع ہے۔

---

50. Stare decisis et non quieta movere

📖 فیصلوں پر قائم رہو اور طے شدہ بات کو نہ چھیڑو۔
🔹 مثال: عدالت اپنے پرانے فیصلوں کو بدلنے میں جلدی نہیں کرے گی۔
منقول

21/08/2025

2025 YLR 1364

پس منظر (Background)

مقدمہ چیک ڈس آنر (S. 489-F PPC) کا تھا۔

درخواست گزار (ملزم) کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی لیکن 45 دن کی غیر معمولی تاخیر کے بعد۔

فریقین کے درمیان پہلے سے کاروباری لین دین اور جھگڑے چل رہے تھے۔

ملزم نے کچھ دستاویزات عدالت میں پیش کیں جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ معاملہ باہمی کاروباری تنازع کا ہے۔

---

قانونی نکات (Legal Issues)

1. دفعہ 498 Cr.P.C. → پری اریسٹ بیل (Pre-arrest Bail)۔

2. دفعہ 497(2) Cr.P.C. → مزید تحقیق (Further Inquiry)۔

3. دفعہ 489-F PPC → چیک ڈس آنر، جس میں ملزم پر الزام تھا کہ اس نے واجب الادا رقم کے لیے چیک دیا جو باؤنس ہوگیا۔

---

عدالت کی مشاہدات (Court’s Observations)

1. ایف آئی آر میں تاخیر (45 دن):

پراسیکیوشن نے تاخیر کی کوئی معقول وضاحت پیش نہیں کی۔

عدالت نے کہا کہ فوجداری مقدمات میں تاخیر ہمیشہ شک و شبہ پیدا کرتی ہے اور اس کو ملزم کے حق میں شمار کیا جاتا ہے۔

2. کاروباری لین دین اور پرانی دشمنی:

چونکہ دونوں کے درمیان پرانے کاروباری معاملات اور تنازعات موجود تھے، اس لیے عدالت نے کہا کہ بدنیتی (Mala fide) کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔

3. دستاویزات اور تنازعہ:

ملزم نے مختلف دستاویزات پیش کیں جن سے ظاہر ہوا کہ اصل معاملہ ایک ڈسپیوٹڈ بزنس ٹرانزیکشن ہے۔

یہ متنازعہ حقائق صرف ٹرائل کورٹ ہی شہادت ریکارڈ کر کے طے کر سکتی ہے۔

4. مزید تحقیق (Further Inquiry):

عدالت نے کہا کہ یہ کیس 497(2) Cr.P.C. کے تحت مزید تحقیق کا متقاضی ہے۔

جب تک ٹرائل مکمل نہیں ہوتا، شک کا فائدہ ملزم کو دینا چاہیے۔

---

فیصلہ (Judgment)

عدالت نے کہا کہ چونکہ:

ایف آئی آر میں غیر معقول تاخیر ہوئی،

کاروباری لین دین کی بنیاد پر بدنیتی کا عنصر ظاہر ہے،

اور حقائق متنازعہ ہیں،
لہٰذا ملزم کو Ad-interim Pre-arrest Bail دی جاتی ہے اور کنفرم کی جاتی ہے۔

مختصر خلاصہ (Summary)

2025 YLR 1364 میں عدالت نے کہا کہ ایف آئی آر میں تاخیر، کاروباری تنازعہ اور بدنیتی کے امکان کی وجہ سے ملزم کو مزید تحقیق (Further Inquiry) کا فائدہ ملتا ہے۔

نتیجتاً، پری اریسٹ بیل کنفرم کی گئی۔

By Legal Luminaries

----Ss. 498 & 497(2)---Penal Code (XLV of 1860), S. 489-F---Dishonoring of cheque---Ad-interim pre-arrest bail, confirmation of---Further inquiry---Applicant was nominated in the FIR however, it was registered with an inordinate delay of about 45 days, for which no plausible explanation has been furnished by the prosecution---Delay in criminal cases had always been deprecated---As far as the amount in question was concerned, the applicant had placed on record number of documents through his statement, which on perusał revealed that the parties had strained relations over business transactions hence, disputed the claim of each other---In view of earlier litigation between parties, the element of mala fide on the part of complainant could not be ruled out---Hence, the basic ingredients for grant of pre-arrest bail were very much attracted and applicable to the present case---Moreover, there were disputed facts which were to be thrashed out by the Trial Court after recording pro and contra evidence of the parties at trial; thus, the case against the applicant required further enquiry within the meaning of subsection (2) to S.497, Cr.P.C.---Consequently, bail application was allowed, in circumstances and interim pre-arrest bail was confirmed. [Sindh]
(a) 1364

20/08/2025

# 🌳 #شجرہ #نسب کو کیسے تلاش کر سکتے ہیں
# # 📋 محکمہ #مال کے ریکارڈ میں موجود قیمتی راز... 💎
🔍 اگر کسی کو اپنا شجرہ نسب معلوم نہیں ہے تو آپ اپنے آباؤ اجداد کی زمین کا خسرہ نمبر لے کر (اگر خسرہ نمبر نہیں معلوم تو موضع اور یونین کونسل کا بتا کر بھی ریکارڈ حاصل کر سکتا ہے) 🏘️ اپنے ضلع کے محکمہ مال آفس میں جائیں یہ آفس اکثر ضلعی کچہریوں میں ہوتا ہے ⚖️ اور جہاں قدیم ریکارڈ ہوتا ہے اس کو محافظ خانہ کہا جاتا ہے 📚۔ محافظ خانہ سے اپنا
1872ء / 1880ء یا 1905ء کا ریکارڈ (بندوبست) نکلوائیں 📜۔
⭐ 1872ء / 1880ء یا 1905ء میں انگریز نے جب مردم شماری کی تو انگریزوں کو کسی قوم سے کوئی غرض نہ تھی 🎯 ہر ایک گائوں میں جرگہ بیٹھتا جس میں پٹواری گرداور چوکیدار نمبردار ذیلدار اس جرگہ میں پورے گائوں کو بلاتا تھا 👥۔ ہر ایک خاندان کا اندراج جب بندوبست میں کیا جاتا تو اس سے اس کی قوم پوچھی جاتی اور وہ جب اپنی قوم بتاتا تو پھر اونچی آواز میں گاؤں والوں سے تصدیق کی جاتی اسکے بعد اسکی قوم درج ہوتی 🗣️۔ یاد رہے اس وقت کوئی شخص اپنی قوم تبدیل نہیں کرسکتا تھا بلکہ جو قوم ہوتی وہی لکھواتا تھا 🚫۔ بے شمار اقوام ان #بندوبست میں درج ہیں 📊..... اپنے ضلع کے محکمہ مال میں جاکر اس بات کی تصدیق بھی کریں اور اپنا شجرہ نسب وصول بھی کریں ✅۔وہی آپکے پاس آپکی قوم کا ثبوت ہے خواہ آپ کسی بھی قوم میں سے ہوں اگر آپ کے بزرگوں کے پاس زمین تھی تو ان کا شجرہ نسب ضرور درج ہو گا 🏡۔
🏛️ ہندوستان میں سرکاری سطح پر زمین کے انتظام و انصرام کی تاریخ صدیوں پرانی ہے، جو شیر شاہ سوری سے لے کر اکبر اعظم اور انگریز سرکار سے لے کر آج کے دور تک پھیلی ہوئی ہے 👑۔ پنجاب میں انگریز حکمرانوں نے محکمہ مال کا موجودہ نظام 1848ء میں متعارف کرایا 📅۔
📖 محکمہ مال کے ریکارڈ کی ابتدائی تیاری کے وقت ہر گائوں کو ''ریونیو اسٹیٹ'' قرار دے کر اس کی تفصیل، اس گائوں کے نام کی وجہ، اس کے پہلے آباد کرنے والے لوگوں کے نام، #قومیت، عادات و خصائل، ان کے حقوق ملکیت حاصل کرنے کی تفصیل، رسم و رواج، مشترکہ مفادات کے حل کی شرائط اور حکومت کے ساتھ گائوں کے معاملات طے کرنے جیسے قانون کا تذکرہ، زمینداروں، زراعت پیشہ، غیر زراعت پیشہ دست کاروں، پیش اماموں تک کے حقوق و فرائض، انہیں فصلوں کی کاشت کے وقت شرح ادائیگی اجناس اور پھر نمبردار، چوکیدار کے فرائض وذمہ داریاں، حتیٰ کہ گائوں کے جملہ معاملات کے لئے دیہی دستور کے طور پر دستاویز شرط واجب العرض تحریر ہوئیں جو آج بھی #ریونیو ریکارڈ میں محفوظ ہی
📏 جب محکمہ کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے زمین کی پیمائش کی گئی۔ سابق پنجاب کے ضلع گڑگانواں، کرنال وغیرہ سے بدون مشینری و جدید آلات پیمائش زمین شروع کر کے ضلع اٹک دریائے سندھ تک اس احتیاط اور عرق ریزی سے کی گئی کہ درمیان میں تمام ندی نالے، دریا، رستے، جنگل، پہاڑ، کھائیاں، مزروعہ، بنجر، آبادیاں وغیرہ ماپ کر پیمائش کا اندراج ہوا 🌊⛰️🏞️۔ ہر گائوں کی حدود کے اندر زمین کے جس قدر ٹکڑے، جس شکل میں موقع پر موجود تھے ان کو نمبر خسرہ، کیلہ الاٹ کئے گئے اور پھر ہر نمبر کے گرد جملہ اطراف میں پیمائش ''کرم'' (ساڑھے5فٹ فی کرم) کے حساب سے درج ہوئی 📐۔ اس پیمائش کو ریکارڈ بنانے کے لئے ہر گائوں کی ایک اہم دستاویز'' فیلڈ بک'' تیار ہوئی 📝۔
🗺️ جب ''ریونیو اسٹیٹ'' (حد موضع) قائم ہو گئی تو اس میں نمبر خسرہ ترتیب وار درج کر کے ہر نمبر خسرہ کی پیمائش چہار اطراف جو کرم کے حساب سے برآمد ہوئی تھی، درج کر کے اس کا رقبہ مساحت کے فارمولا اور اصولوں کے تحت وضع کر کے اندراج ہوئے۔ اس کتاب میں ملکیتی نمبر خسرہ کے علاوہ گائوں میں موجود #شاملات، سڑکیں، راستے عام، قبرستان، بن، روہڑ وغیرہ جملہ اراضی کو بھی نمبر خسرہ الاٹ کر کے ان کی پیمائش تحریر کر کے الگ الگ رقبہ برآمدہ کا اندراج کیا گیا 🛣️⚰️🌲۔ اکثر خسرہ جات کے وتر، عمود کے اندراج برائے صحت رقبہ بھی درج ہوئے پھر اسی حساب سے یہ رقبہ بصورت مرلہ، کنال، ایکڑ، مربع، کیلہ درج ہوا اور گائوں، تحصیل، ضلع اور صوبہ جات کا کل رقبہ اخذ ہوا 📊۔ اس دستاویز کی تیاری کے بعد اس کی سو فیصد صحت پڑتال کا کام تحصیلدار اور افسران بالا کی جانب سے ہوا تھا ✅۔ اس کا نقشہ مساوی ہائے کی صورت آج بھی متعلقہ تحصیل آفس اور ضلعی محافظ خانہ میں موجود ہے، جس کی مدد سے پٹواری کپڑے پر نقشہ تیار کر کے اپنے دفتر میں رکھتا ہے 🗾۔ جب نیا بندوبست اراضی ہوتا ہے تو نئی فیلڈ بک تیار ہوتی ہے 🔄۔
🌳 اس پیمائش کے بعد ہر ''ریونیو اسٹیٹ'' کے مالکان قرار پانے والوں کے نام درج ہوئے۔ ان لوگوں کا شجرہ نسب تیار کیا گیا اور جس حد تک پشت مالکان کے نام صحیح معلوم ہو سکے، ان سے اس وقت کے مالکان کا نسب ملا کر اس دستاویز کو مثالی بنایا گیا، جو آج بھی اتنی موثر ہے کہ کوٸی بھی اپنا شجرہ یا قوم تبدیل کرنے کی کوشش کرے مگر کاغذات مال کا ریکارڈ کسی مصلحت سے کام نہیں لیتا 🚫💼۔ تحصیل یا ضلعی محافظ خانہ تک رسائی کی دیر ہے، یہ ریکارڈ پردادا کے بھی پردادا کی قوم، کسب اور سماجی حیثیت نکال کر سامنے رکھ دے گا 👴🏼۔ بہرحال یہ موضوع سخن نہیں۔ جوں جوں مورث فوت ہوتے گئے، ان کے وارثوں کے نام شجرے کا حصہ بنتے گئے 👨‍👩‍👧‍👦۔ یہ دستاویز جملہ معاملات میں آج بھی اتھارٹی کی حیثیت رکھتی ہے اور وراثتی مقدمات میں بطور ثبوت پیش ہوتی ہے ⚖️۔ نیز اس کے ذریعے مالکان اپنی کئی پشتوں کے ناموں سے آگاہ ہوتے ہیں 👑۔
📚 شجرہ نسب تیار ہونے کے بعد مالکان کا ریکارڈ ملکیت جسے جمع بندی کہتے ہیں اور اب اس کا نام رجسٹر حقداران زمین تبدیل ہوا ہے، وجود میں آیا۔ خانہ ملکیت میں مالکان اور خانہ کاشت میں کاشتکاروں کے نام، نمبر کھیوٹ، کھتونی، خسرہ، کیلہ، مربعہ اور ہر ایک کا حصہ تعدادی اندراج ہوا 📋۔ ہر چار سال بعد اس دوران منظور ہونے والے انتقالات بیعہ، رہن، ہبہ، تبادلہ، وراثت وغیرہ کا عمل کر کے اور گزشتہ چار سال کی تبدیلیاں از قسم حقوق ملکیت، کاشت کار کی تبدیلی، رجسٹر گرداوری کی تبدیلی یا زمین کی قسم کی تبدیلی وغیرہ کا اندراج کر کے نیا رجسٹر حقداران تیار ہوتا ہے اور اس کی ایک نقل ضلعی محافظ خانہ میں داخل ہوتی ہے 🔄📂۔ اس دستاویز کے نئے اندراج کے لئے انتہائی منظم اور اعلیٰ طریقہ کار موجود ہے۔ اس کی تیاری میں جہاں حلقہ پٹواری کی ذمہ داری مسلمہ ہے، وہاں گرداور اور حلقہ آفیسر ریونیو سو فیصد پڑتال کر کے نقائص برآمدہ کی صحت کے ذمہ دار ہوتے ہیں 💯✅۔ ضابطے کے مطابق افسران مذکور کا متعلقہ گائوں میں جا کر مالکان کی موجودگی میں اس کے اندراج کا پڑھ کر سنانا اور اغلاط کی فہرست جاری کرنا ضروری ہے، جن کی درستی کا پٹواری ذمہ دار ہوتا ہے 👥📢۔ آخر میں تحصیلدار سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے کہ اب یہ غلطیوں سے مبرا ہے 🏆۔
🌾 رجسٹر حقداران زمین کے ساتھ رجسٹر گرداوری بھی تیار ہوتا ہے، جس میں چار سال کے لئے آٹھ فصلات کا اندراج کیا جاتا ہے۔ مارچ میں فصل ربیع اور اکتوبر میں فصل خریف مطابق ہر نمبر خسرہ، کیلہ موقع پر جا کر پٹواری مالکان و کاشتکاران کی موجودگی میں فصل کاشتہ و نام مالک، حصہ بقدر اراضی اور نام کاشتکار کا اندراج کرتا ہے 🌱🍂۔ ہر فصل کے اختتام پر ایک گوشوارہ فصلات برآمدہ تیار کر کے اس کتاب کے آخر میں درج کیا جاتا ہے کہ کون سی فصل کتنے ایکڑ سے کتنی برآمد ہوئی 📈۔ اس کی نقل تحصیل کے علاوہ بورڈ آف ریونیو کو بھجوائی جاتی ہے، جس سے صوبہ اور ملک کی آئندہ برآمدہ اجناس کا تخمینہ لگایا جاتا ہے 🏢📊۔ اس رجسٹر میں نہری اور بارانی علاقوں کی موقع کی مناسبت سے اقسام زمین نہری، ہیل، میرا، رکڑ، بارانی اول، بنجر، کھندر وغیرہ کے علاوہ روہڑ، بن، سڑکیں، رستہ جات، قبرستان، عمارات اور مساجد وغیرہ بھی تحریر کی جاتی ہیں 💧🏞️🕌۔ یہ رجسٹر ریونیو کی اہم دستاویز ہے اور مطابق قانون اس کی جانچ پڑتال گرداور سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک موقع پر کر کے نتائج تحریر کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں 🔍👨‍💼۔
📝 رجسٹر انتقالات میں جائیداد منتقلہ کا اندراج کیا جاتا ہے۔ اس میں نام مالک، جس کے نام جائیداد منتقل ہوئی، گواہان، نمبر کھیوٹ، کھتونی، خسرہ، کیلہ، مربعہ حصہ منتقلہ، زر ثمن، پٹواری مفصل تحریر کرتا ہے، گرداور جملہ کوائف تصدیق کرتا ہے اور ریونیو آفیسر (تحصیلدار) بوقت دورہ پتی داران، نمبرداران کی موجودگی میں تصدیق کر کے فیصلہ کرتا ہے 👥✅۔ پرت پٹوار پر حکم لکھتا ہے اور پرت سرکار برائے داخلہ تحصیل دفتر ہمراہ لے جاتا ہے 📋📬۔
📖 کاغذات مال متذکرہ کے علاوہ بھی کئی دستاویزات ہوتی ہیں، جن سے جملہ ریکارڈ آپس میں مطابقت کرتاہے اور غلطی کا شائبہ نہیں رہتا۔ جو کاغذات ہر وقت استعمال میں رہتے ہیں ان کا مختصر تذکرہ کیا گیا ہے، ورنہ پٹواری کے پاس ایک''لال کتاب''بھی ہوتی ہے، جس میں گائوں کے جملہ کوائف درج ہوتےہیں جیسے اس گائوں کاکل رقبہ، مزروعہ کاشتہ، غیر مزروعہ بنجر، فصلات کاشتہ، مردم شماری کا اندراج، مال شماری جس میں مویشی ہر قسم اور تعدادی نر، مادہ، مرغیاں، گدھے، گھوڑے، بیل، گائے، بچھڑے غرض کیا کچھ نہیں ہوتا 📕🐄🐎🐔۔ جس طرح یہ محکمہ بنا اور اس کے قواعدوضوابط بنائے گئے اور متعلقہ اہلکاران و افسران کی ذمہ داریاں مقرر ہوئی تھیں، اگر ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تو اس سے بہتر نظام زمین کوئی نہیں ⚖️💯۔ یہ نظام انگریز کے دور میں بہترین اور 1964-65ء تک نسبتاً بہتر چلتا رہا 👑📅...
🌟 **زمین ریکارڈ سے بہترین شجرہ نسب کا کوئی اور طریقہ نہیں ہو سکتا۔**
*✍️ زاہد درویش*
#تاریخ #وراثت #پنجاب #ریکارڈ #قوم #خاندان #بندوبست

Address

Islamabad

Telephone

+923120981422

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Baloch Online Law Service posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Baloch Online Law Service:

Share

Category