23/01/2026
*نان و نفقہ میں اضافہ کے لیے علیحدہ دعویٰ کی عدم ضرورت دفعہ 151 ضابطہ دیوانی کے تحت فیملی کورٹ کے اختیارات کا تعین*
*(Legal Framework for Enhancement of Maintenance without Fresh Suit under Section 151 CPC in Light of 2016 SCMR 1821 & PLD 2025 SC 850)*
2016 -SCMR -1821
فیملی کورٹ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ضابطۂ دیوانی (CPC) کی دفعہ 151 کے تحت درخواست پر نان و نفقہ (Maintenance Allowance) میں اضافہ کر دے، اور اس مقصد کے لیے علیحدہ یا مستقل دعویٰ (Independent Suit) دائر کرنا ضروری نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔
*Pld 2025 SC 850*
فیملی کورٹ کی جانب سے پہلے سے مقرر کردہ نان و نفقہ میں اضافہ کے لیے نیا دعویٰ دائر کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس مقصد کے لیے صرف ضابطۂ دیوانی (CPC) کی دفعہ 151 کے تحت ایک درخواست دینا ہی کافی ہے۔
قانونی و تجزیاتی جائزہ
ان فیصلوں کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ
جب فیملی کورٹ ایک مرتبہ نان و نفقہ مقرر کر دے، تو بعد میں حالات میں تبدیلی کی صورت میں اس میں اضافہ کے لیے نیا مقدمہ (Fresh Suit) دائر کرنا ضروری نہیں۔
بلکہ صرف دفعہ 151 ضابطہ دیوانی (CPC) کے تحت ایک درخواست کافی ہے۔
1. قانونی پس منظر
فیملی کورٹس ایکٹ، 1964 کا مقصد:
فوری انصاف
سادہ طریقہ کار
غیر ضروری پیچیدگیوں سے اجتناب
ہے۔
نان و نفقہ بذاتِ خود ایک جاری حق (Continuing Right) ہے جو حالات کے مطابق بدل سکتا ہے، مثلاً:
مہنگائی میں اضافہ
شوہر کی آمدن میں بہتری
بچوں کی تعلیمی و طبی ضروریات
وقت کے ساتھ اخراجات میں اضافہ
اگر ہر مرتبہ اضافہ کے لیے نیا دعویٰ لازم قرار دیا جائے تو:
مقدمات میں غیر ضروری طوالت پیدا ہو گی
خواتین اور بچوں کو فوری ریلیف نہیں مل سکے گا
فیملی کورٹس ایکٹ کے مقاصد فوت ہو جائیں گے
اسی خلا کو سپریم کورٹ نے دفعہ 151 CPC کے ذریعے پُر کیا۔
2. 2016 SCMR 1821 کا اصول
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ:
فیملی کورٹ کے پاس Inherent Powers موجود ہیں۔
دفعہ 151 CPC کے تحت عدالت وہ تمام احکامات دے سکتی ہے جو انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہوں۔
نان و نفقہ میں اضافہ کے لیے علیحدہ دعویٰ دائر کرنا ضروری نہیں۔
عدالت نے یہ اصول قائم کیا کہ
Maintenance ایک جامد (static) حق نہیں بلکہ متحرک (dynamic) نوعیت رکھتا ہے، جو حالات کے ساتھ بدلتا ہے۔
3. PLD 2025 SC 850 کی توثیق اور ارتقاء
PLD 2025 SC 850 نے اس اصول کو مزید مضبوط اور حتمی بنا دیا:
"Suit for enhancement of maintenance already fixed by Family Court"
"No need to file any fresh suit."
"Only an application under section 151 CPC is sufficient."
یعنی سپریم کورٹ نے
نئے دعویٰ کی شرط کو مکمل طور پر ختم کر دیا
دفعہ 151 CPC کو براہِ راست قابلِ اطلاق قرار دیا
اس عمل کو فیملی کورٹ کی inherent jurisdiction کا حصہ بنا دیا
اب یہ محض سہولت نہیں بلکہ قانونی طور پر تسلیم شدہ طریقہ ہے۔
4. عملی قانونی اثرات
ان فیصلوں کے بعد قانونی پوزیشن یہ بن چکی ہے کہ:
اگر نان و نفقہ پہلے سے مقرر ہو
اور حالات بدل جائیں
تو متاثرہ فریق (بیوی یا بچے):
صرف ایک درخواست
u/s 151 CPC
فیملی کورٹ میں دائر کرے گا/گی۔
عدالت
فریقین کو سنے گی
آمدن، مہنگائی اور ضروریات کا جائزہ لے گی
اور نان و نفقہ میں اضافہ کر سکتی ہے
بغیر کسی نئے مقدمہ کے۔
5. دفاعی و عدالتی حکمتِ عملی
عدالت کے سامنے درج ذیل نکات رکھے جا سکتے ہیں:
Maintenance ایک جاری حق ہے
نیا دعویٰ انصاف میں تاخیر کا سبب بنتا ہے
فیملی کورٹس ایکٹ کا مقصد فوری اور مؤثر انصاف ہے
سپریم کورٹ کے فیصلے (2016 SCMR 1821، PLD 2025 SC 850) براہ راست قابلِ اطلاق ہیں
دفعہ 151 CPC عدالت کو مکمل اختیار دیتی ہے
لہٰذا
درخواست برائے اضافہ نان و نفقہ قابلِ سماعت ہے،
اور اسے تکنیکی بنیادوں پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔