Legal Minds Network

Legal Minds Network Currently the page is run by a law Student , In case of any misconception please guide it'll be fruitful for Us . Thanks 🧑‍⚖️

07/12/2025
پنجاب کابینہ نے پتنگ بازی پر پابندی کے ایکٹ 2007 میں اہم ترامیم منظور کر لیںمحکمہ داخلہ پنجاب نے پتنگ بازوں کے گرد شکنجہ...
23/08/2024

پنجاب کابینہ نے پتنگ بازی پر پابندی کے ایکٹ 2007 میں اہم ترامیم منظور کر لیں

محکمہ داخلہ پنجاب نے پتنگ بازوں کے گرد شکنجہ سخت کر دیا

پتنگ بازی، پتنگ سازی اور ٹرانسپورٹ کرنا ناقابل ضمانت جرم قرار

پتنگ کیساتھ ساتھ دھاتی ڈور، تار، تندی اور مانجھا لگی ڈور کی تیاری، استعمال اور ٹرانسپورٹیشن جرم قرار

پتنگ اڑانے والے کو 3 سے 5 سال قید یا 20 لاکھ جرمانہ یا دونوں ہوں گے

پتنگ اڑانے والے کو جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید 1 سال قید کی سزا ہوگی

پتنگ ساز اور ٹرانسپورٹر کو 5 سے 7 سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں ہونگے

پتنگ بنانے والے اور ٹرانسپورٹر کو جرمانے کی عدم ادائیگی پر مذید 2 سال قید کی سزا ہوگی

پتنگ باز بچے کو پہلی بار وارننگ، دوسری بار پکڑے جانے پر 50 ہزار جرمانہ ہوگا

پتنگ باز بچے کو تیسری دفعہ خلاف ورزی پر 1 لاکھ جرمانہ ہوگا

بچہ جرمانہ ادا نہ کر سکے تو اسکے والدین یا سرپرست سے وصول کیا جائے گا

چوتھی خلاف ورزی پر بچے کو جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018ء کے تحت سزا اور جیل جانا پڑے گا .
Follow for more

سوال: حادثے میں لوگوں کو مارنے والی خاتون کو سزائے موت یا عمر قید ہو سکتی ہے؟جواب: ایسا ممکن نہیں ہو گا۔ قانون کیا ہے اس...
23/08/2024

سوال: حادثے میں لوگوں کو مارنے والی خاتون کو سزائے موت یا عمر قید ہو سکتی ہے؟
جواب: ایسا ممکن نہیں ہو گا۔ قانون کیا ہے اسے جانئے۔
عام طور پر ٹریفک ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت ہو جاتی ہے تو قصور وار کیخلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 320 لگائی جاتی ہے۔ یہ دفعہ غلط ڈرائیونگ کے ذریعے کسی کی موت کا سبب بننے کیلئے موجود ہے۔ قانون اسے "قتل خطا" سے تعبیر کرتا ہے۔ کہ مارنے والے نے جان بوجھ کر نہیں مارا۔ اس کی ایسی کوئی نیت نہیں تھی لیکن غلطی سے یہ فعل سرزد ہو گیا۔ موت کی سزا تب دی جاتی ہے جب کسی نے جان بوجھ کر قتل کیا ہو۔ اس کی سزا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 میں بتائی گئی ہے جو سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔ 320 (ڈرائیونگ میں غفلت سے قتل خطا) کی زیادہ سے زیادہ سزا 10 سال تک قید ہے۔ تاہم قانون اسے قابل ضمانت جرم بناتا ہے۔ اور قابل ضمانت جرم میں ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جانا اس کا حق ہوتا ہے۔ ایسے جرائم میں عموما ٹرائل کم ہی مکمل ہوتا ہے اور سزا بھی نہیں ہوتی۔ کراچی میں روڈ ایکسیڈنٹ کی ملزمہ کے کیس میں پہلے یہی دفعہ لگائی گئی تھی۔ جسکا مطلب یہ تھا کہ خاتون ایک دو دن میں ضمانت پر رہا ہو جاتی۔ تاہم بعد میں اس ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 322 لگا دی گئی۔ یہ دفعہ قتل بالسبب کو بیان کرتی ہے۔ اس میں بھی ملزم/مجرم کی ایسی کوئی نیت نہیں ہوتی کہ وہ متاثرہ شخص کو جان سے مار دے تاہم وہ اس کا سبب بن جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دفعہ ناقابل ضمانت تو ہے تاہم اس کی قید جیسی کوئی سزا نہیں ہے۔ اس کی سزا صرف دیت ہے۔ جو کہ ایک اسلامی سزا ہے۔ مطلب یہ کہ اس دفعہ کے تحت ملزم/ملزمہ کو ضمانت پر رہا تو نہیں کیا جائے گا تاہم اگر وہ مقتول/مقتولہ کے خاندان کو رائج دیت دے دے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا۔
کیس کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہ کیس بیک وقت دو دفعات 320 اور 322 کے تحت نہیں چلایا جا سکتا۔ دفعہ 320 لگی تو اگرچہ اس کی سزا 10 سال تک قید ہو سکتی ہے لیکن یہ جرم قابل ضمانت ہے اور خاتون جلد ضمانت پر رہا ہو جائے گی اور ٹرائل مکمل ہونے میں وقت لگے گا۔ اور اگر دفعہ 322 لگتی ہے تو یہ دفعہ اگرچہ ناقابل ضمانت ہے تاہم اس میں سزا صرف دیت ہے۔ مطلب یہ کہ خاتون جب بھی دیت ادا کر دے اسے رہا کر دیا جائے اور خاتون کی فیملی کے پاس پیسے کی کمی نہیں۔
ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اگر خاتون ڈرائیور کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہ ہو یا وہ نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہی ہو تب اس پر قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ قائم ہو سکتا ہے لیکن میری اطلاع کے مطابق خاتون کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود تھا۔ تاہم یہ پاکستانی نہیں بلکہ کسی اور ملک کا تھا۔ کئی ممالک کے ڈرائیونگ لائسنس کو پاکستان میں بھی قبول تصور کیا جاتا ہے۔ آخری ٹیسٹ یہ رہ جاتا ہے کہ دیکھا جائے وہ نشے کی حالت میں تو نہیں تھی؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر معاملات مختلف ہو سکتے ہیں تاہم میری رائے کے مطابق یہ 302 کا کیس پھر بھی نہیں بنے گا۔
اس کے علاوہ پاکستان میں Fatal Accident Act بھی موجود ہے۔ یہ قانون بھی متاثرہ لواحقین کو پیسے کی صورت ہرجانے کی بات کرتا ہے جسمانی سزا نہیں۔
کراچی حادثہ کیس پر ابتدائی بحث۔
Follow for more .

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Minds Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category