A&A Law Firm

A&A Law Firm Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from A&A Law Firm, Lawyer & Law Firm, GT Road, Islamabad.

22/01/2025
17/07/2024
06/07/2024

" ایک تفریحی بحری جہاز سمندر میں حادثے کا شکار ہو گیا، جہاز پر ایک میاں بیوی کا جوڑا بھی سوار تھا، لائف بوٹ کی طرف جانے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اس میں صرف ایک شخص کی گنجائش باقی ہے۔
اس وقت اس شخص نے عورت کو اپنے پیچھے دھکیل دیا اور خود لائف بوٹ پر چھلانگ لگا دی۔
خاتون نے ڈوبتے ہوئے جہاز پر کھڑے ہو کر اپنے شوہر سے ایک جملہ کہا۔
یہاں استانی نے توقف کیا اور پوچھا، "آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ وہ کیا بات چلائی تھی؟"
زیادہ تر طلباء نے پرجوش ہو کر جواب دیا، "میں تم سے نفرت کرتی ہوں! میں اب تک اندھی تھی!"
اب استانی نے ایک لڑکے کو دیکھا جو اس تمام تر قصے کے دوران خاموش رہا تھا، استانی نے اسے جواب دینے کے لیے کہا اور اس نے جواب دیا، "استانی صاحبہ، مجھے یقین ہے کہ وہ چیخی ہوگی - "ہمارے بچے کا خیال رکھنا!"
استانی نے حیرانی سے پوچھا کیا تم نے یہ کہانی پہلے سنی ہوئی ہے؟
لڑکے نے سر ہلایا، "نہیں، لیکن یہ بات میری ماں نے میرے والد کو بیماری سے مرنے سے پہلے کہی تھی"۔
استانی نے افسوس کرتے ہوئے کہا، "جواب صحیح ہے"۔
تفریحی بحری جہاز ڈوب گیا، وہ شخص بخیریت گھر پہنچ گیا اور اپنی بیٹی کو تن تنہا ہی پالا۔
اس شخص کی موت کے کئی سال بعد، ان کی بیٹی کو اپنا سامان صاف کرتے ہوئے والد کی ایک ڈائری ملی۔
اس ڈائری سے یہ راز آشکار ہوا کہ " جب اس کے والدین تفریحی جہاز پر گئے تھے، تو ماں کو پہلے سے ہی ایک لاعلاج بیماری کی تشخیص ہو چکی تھی.
اس نازک لمحے میں، باپ زندہ بچ جانے کے واحد موقع سے فائدہ اٹھا کر بھاگ نکلا۔
اس نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا، "میری کس قدر تمنا تھی کہ تمہارے ساتھ سمندر کی تہہ میں ڈوب مروں، لیکن اپنی بیٹی کی خاطر میں تمہیں ہمیشہ کے لیے سمندر کی گہرائیوں میں اکیلا رہنے کے لیے چھوڑ آیا ہوں"۔
کہانی ختم ہوئی، کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ -----------
دنیا میں اچھائی اور برائی کا وجود ہے، لیکن ان کے پیچھے بہت سی پچیدگیاں ہیں جن کو سمجھنا مشکل ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمیں کبھی بھی صرف سطحی حالات کو دیکھ کر اور دوسروں کو پہلے سمجھے بغیر فیصلہ صادر نہیں کرنا چاہئے۔
جو لوگ کھانے کا بل ادا کرنا پسند کرتے ہیں، وہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ دولت مند ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ دوستی کو پیسے پر ترجیح دیتے ہیں۔
جو لوگ کام میں پہل کرتے ہیں وہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ بیوقوف ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ ذمہ داری کے تصور کو سمجھتے ہیں۔
جو لوگ جھگڑے کے بعد پہلے معافی مانگتے ہیں وہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ غلط ہیں بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی قدر کرتے ہیں۔
جو لوگ اکثر آپ کو میسج کرتے ہیں، ایسا اس لیے نہیں کرتے کہ ان کے پاس کرنے کے لیے کچھ بہتر کام نہیں ہے بلکہ اس لیے کہ آپ ان کے دل میں بستے ہیں۔
ایک دن ہم سب ایک دوسرے سے بچھڑ جائیں گے۔ ہم ہر موضوع اور موقع کے بارے میں گفتگو کو یاد کریں گے۔اور ان خوابوں کو جو ہم نے مل کر دیکھے تھے۔ دن، مہینے، سال گزرتے جائیں گے، یہاں تک کہ یہ رابطے نایاب ہو جائیں گے۔
ایک دن ہمارے بچے ہماری تصویریں دیکھیں گے اور پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں؟
اور ہم پوشیدہ آنسوؤں کے ساتھ مسکرائیں گے کیونکہ ایک مضبوط لفظ دل کو چھو لیتا ہے اور ہم کہیں گے: " یہ وہی تھے جن کے ساتھ ہم نے اپنی زندگی کے بہترین دن گزارے تھے "۔

انگریزی ادب سے لی گئی کہانی، یہ کہانی ہمارے معاشرے کی بھی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔
منقول

QURBANI MUBARAK
17/06/2024

QURBANI MUBARAK

17/06/2024

EAD UL ADHA MUBARAK TO ALL MUSLIMS

16/06/2024

ہر یونیفارم ملازم کا ہر سال دماغی ٹیسٹ ہونا چائیے۔ایک دماغی مفلوج شخص نے ہمارے دو وکلاء بھائیوں کی جان لے لی

19/05/2024

اسٹیوارٹ کا انتقال 103 سال کی عمر میں کیلیفورنیا میں ہوا‘ یہ اور ان کی بیگم دونوں پچاس سال راولپنڈی میں پڑھاتے رہے‘

پروفیسر اسٹیوارٹ نے 1960میں اپنی الوداعی تقریر میں اس خطے کے بارے میں بڑی خوب صورت بات کی ‘ اس کا کہنا تھا ’’پاکستانی ایک ناکارہ اور مفلوج قوم ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اس قوم کو پہلے اس کی مائیں نکما بناتی ہیں‘ یہ اپنے بچوں کا ہر کام خود کرتی ہیں‘ ان کے کپڑے دھوتی ہیں‘ استری کرتی ہیں‘ بچوں کو جوتے پالش کر کے دیتی ہیں‘ لنچ باکس تیار کرکے بچوں کے بستوں میں رکھتی ہیں اور واپسی پر باکسز کو نکال کر دھو کر خشک بھی خود کرتی ہیں۔

بچوں کی کتابیں اور بستے بھی مائیں صاف کرتی ہیں اور ان کے بستر بھی خود لگاتی ہیں چناں چہ بچے ناکارہ اور سست ہو جاتے ہیں اور یہ پانی کے گلاس کے لیے بھی اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو آواز لگادیتے ہیں یا ماں کو اونچی آواز میں کہتے ہیں امی پانی تو دے دو‘ پاکستانی بچے اس کلچر کے ساتھ جوان ہوتے ہیں‘ اس کے بعد ان کی بیویاں آ جاتی ہیں‘ یہ انھیں اپنا مجازی خدا سمجھتی ہیں اور غلاموں کی طرح ان کی خدمت کرتی ہیں‘ یہ بھی ان کا کھانا بناتی ہیں‘ کپڑے دھو کر استری کرتی ہیں۔

ان کے واش رومز صاف کرتی ہیں‘ ان کے بستر لگاتی ہیں اور پھر ان کی نفرت‘ حقارت اور غصہ برداشت کرتی ہیں چناں چہ میں اگر یہ کہوں پاکستانیوں کی مائیں بچوں کی نرسیں‘ بیویاں ملازمائیں اور چھوٹے بہن بھائی غلام ہوتے ہیں تو یہ غلط نہیں ہوگا لہٰذا سوال یہ ہے جو لوگ اس ماحول میں پل بڑھ کر جوان ہوتے ہیں کیا وہ ناکارہ اور مفلوج نہیں ہوں گے؟‘‘ پروفیسر اسٹیوارٹ کا کہنا تھا ’’اگر تم لوگوں نے واقعی قوم بننا ہے تو پھر تمہیں اپنے بچوں کو شروع سے اپنا کام خود کرنے اور دوسروں بالخصوص والدین کی مدد کی عادت ڈالنا ہو گی تاکہ یہ بچے جوانی تک پہنچ کر خود مختار بھی ہو سکیں اور ذمے دار بھی‘ تم خود فیصلہ کرو جو بچہ خود اٹھ کر پانی کا گلاس نہیں لے سکتا وہ کل قوم کی ذمے داری کیسے اٹھائے گا؟‘‘۔
منقول

BAIL GRANTED BY CH ABDUL AZIZ J
19/05/2024

BAIL GRANTED BY CH ABDUL AZIZ J

09/04/2024

تمام وکلا برادری اور اہل پاکستان کو چاند رات مبارک ہو۔🌙

BARRISTER AQEEL MNA TAXILA
29/02/2024

BARRISTER AQEEL MNA TAXILA

Address

GT Road
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when A&A Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share