Just & Right Law Company

Just & Right Law Company Our law firm deals in areas of corporate, civil, criminal, services tribunals and family law. We bel

We are pleased to announce that the first batch of innocent Chinese nationals detained by the NCCIA in the widely public...
23/06/2025

We are pleased to announce that the first batch of innocent Chinese nationals detained by the NCCIA in the widely publicized Operation Grey has been released on bail.

Mr. Gulbaz Mushtaq, Partner of this firm, represented these individuals in the Special Court, who were named as key suspects in the FIR. Their release is expected to facilitate the freedom of other innocent Chinese citizens still in custody.

Unlike the hype of the case countrywide, there was no credible evidence with NCCIA to link the accused Chinese citizens with alleged crime.

Thank you for your attention.

عید مبارک !!
30/03/2025

عید مبارک !!

22/03/2025

فواد بھائی کی Just & Right کی "بیٹھک" میں آمد!

فرم کے پارٹنرز گل باز مشتاق اور پیر فدا حسین ایڈووکیٹس نے ان کو خوش آمدید کہا۔

اس موقع پر شفقت محمود ایڈووکیٹ اور نعیم گجر ایڈووکیٹ (صدر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن) بھی موجود تھے۔

فواد بھائی Just & Right کی "بیٹھک" میں !بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مسائل پر تاریخی تناظر میں تفصیلی گفتگو ہوئی، ساتھ ...
22/03/2025

فواد بھائی Just & Right کی "بیٹھک" میں !

بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مسائل پر تاریخی تناظر میں تفصیلی گفتگو ہوئی، ساتھ ہی پنجاب میں شناخت کی موجودہ لہر پر بھی بات ہوئی۔ اس کے علاوہ عمران خان اور تحریک انصاف کے مستقبل کے بارے میں ان کے خیالات سنے۔

نعیم گجر (صدر اسلام آباد بار)، منظور ججہ (سیکرٹری اسلام آباد ہائی کورٹ بار)، اور قیصر امام کی خصوصی شرکت پر دل سے شکریہ!

احمد رضا خان قصوری صاحب کے ساتھ "بیٹھک"۔ آج کی بیٹھک میں تاریخ کے کئی اہم اور چشم کشا پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔ہم نے جانا کہ...
08/03/2025

احمد رضا خان قصوری صاحب کے ساتھ "بیٹھک"۔

آج کی بیٹھک میں تاریخ کے کئی اہم اور چشم کشا پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔

ہم نے جانا کہ بھٹو صاحب کے خلاف قتل کا مقدمہ کیسے درج ہوا، جس کے نتیجے میں انہیں پھانسی دی گئی۔

بھگت سنگھ کو پھانسی دینے والے مجسٹریٹ کی شناخت اور پس منظر اور تاریخ کے متضاد بیانات پر بات ہوئی۔

سقوطِ ڈھاکہ اور "ادھر ہم، ادھر تم" کی کہانی کیا تھی۔

آئینِ پاکستان کے بننے کے مراحل اور پس پردہ عوامل کیا تھے۔

تمام دوستوں کی آمد اور دلچسپی کا شکریہ!

Glimpses of yesterday's 'Bethak' with Umer Cheema and Akmal Ghuman at Just & Right's office. Thanks to Rashid Bhai for s...
02/03/2025

Glimpses of yesterday's 'Bethak' with Umer Cheema and Akmal Ghuman at Just & Right's office.

Thanks to Rashid Bhai for special participation.

پاکستان میں خلع کا قانون: ایک مکمل گائیڈلائنپاکستان میں خلع کا قانون اسلامی شریعت اور فیملی لا آرڈیننس 1961 کے تحت مرتب ...
04/02/2025

پاکستان میں خلع کا قانون: ایک مکمل گائیڈلائن

پاکستان میں خلع کا قانون اسلامی شریعت اور فیملی لا آرڈیننس 1961 کے تحت مرتب کیا گیا ہے، جو خواتین کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ ازدواجی زندگی میں شدید مسائل کی صورت میں شوہر سے علیحدگی حاصل کر سکیں۔ یہ قانون خواتین کو تحفظ فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کو بہتر طریقے سے گزار سکیں، خاص طور پر جب ازدواجی رشتہ ناقابل برداشت ہو جائے۔

#خلع کیا ہے؟

خلع ایک اسلامی عمل ہے جس میں عورت، اپنے مہر یا کسی اور مالی معاوضے کے عوض شوہر سے علیحدگی حاصل کرتی ہے۔ یہ حق اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب عورت کو یہ یقین ہو جائے کہ شوہر کے ساتھ ازدواجی تعلق کو مزید جاری رکھنا ممکن نہیں۔

-- پاکستان میں خلع کا دعویٰ دائر کرنے کا طریقہ کار

1. دعویٰ دائر کرنا:

عورت کو اپنے علاقے کی فیملی کورٹ میں خلع کے لیے دعویٰ دائر کرنا ہوتا ہے۔ یہ دعویٰ **فیملی کورٹس ایکٹ 1964** کے تحت دائر کیا جاتا ہے۔ دعوے میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ کن وجوہات کی بنا پر عورت اپنے شوہر سے علیحدگی چاہتی ہے۔

2. خلع کے لیے ممکنہ وجوہات:

خلع کے دعوے میں درج ذیل وجوہات دی جا سکتی ہیں:
- شوہر کی بدسلوکی یا جسمانی تشدد
- نان و نفقہ کی عدم ادائیگی
- ازدواجی تعلقات میں مستقل ناچاقی
- شوہر کا غیر ذمہ دارانہ یا ظالمانہ رویہ
- ذہنی یا جسمانی اذیت
- ازدواجی زندگی ناقابل برداشت ہو جانا

3. عدالتی کارروائی:

فیملی کورٹ خلع کے دعوے کے بعد شوہر کو نوٹس جاری کرتی ہے اور دونوں فریقین کو عدالت میں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیتی ہے۔ عدالت ثبوت اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔ اگر شوہر خلع پر رضامند نہ ہو تو بھی عدالت حالات کا جائزہ لے کر خلع کا حکم جاری کر سکتی ہے۔

4. خلع کا عدالتی حکم:

جب عدالت اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ ازدواجی تعلق ناقابل واپسی ہو چکا ہے اور عورت اس رشتے کو مزید جاری رکھنے پر مجبور نہیں کی جا سکتی، تو عدالت خلع کا حکم جاری کرتی ہے۔

-- اگر عورت خود عدالت میں پیش نہ ہو سکے؟

بعض اوقات عورت خود عدالت میں پیش نہیں ہو سکتی۔ ایسی صورت میں درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں:

1. وکیل کے ذریعے دعویٰ دائر کرنا:

عورت کسی وکیل کو اپنا مختارِ عام (Power of Attorney) مقرر کر سکتی ہے، جو اس کی طرف سے عدالت میں دعویٰ دائر کرے اور کارروائی میں حصہ لے۔

2. آن لائن سہولت:

کئی شہروں میں ای-کورٹس یا ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت موجود ہے، جس کے ذریعے عورت آن لائن عدالت میں اپنا بیان دے سکتی ہے۔

3. قریبی عزیز کے ذریعے نمائندگی:

اگر عورت بیمار ہو یا کسی اور مجبوری کے تحت عدالت میں پیش نہ ہو سکے، تو عدالت کی اجازت سے اس کا قریبی عزیز اس کی نمائندگی کر سکتا ہے۔

-- خلع کے بعد حقوق و فرائض

خلع کے بعد کچھ اہم معاملات سامنے آتے ہیں جن پر عدالت فیصلہ کرتی ہے:

1. مہر کی واپسی:

عام طور پر خلع کی صورت میں عورت کو اپنا مہر یا کوئی اور معاوضہ واپس کرنا ہوتا ہے، تاہم عدالت حالات کے مطابق اس میں نرمی کر سکتی ہے۔

2. بچوں کی تحویل:

بچوں کی تحویل کا فیصلہ علیحدہ طور پر کیا جاتا ہے، اور یہ بچوں کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔

3. نان و نفقہ:

خلع کے بعد شوہر پر بچوں کے نان و نفقہ کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے۔

خلع کا قانون خواتین کو ان کے حقوق کے تحفظ کا موقع دیتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کو بہتر بنا سکیں۔ یہ عمل اسلامی تعلیمات اور قانونی اصولوں کے تحت مکمل ہوتا ہے اور خواتین کو ایک باوقار طریقے سے اپنی مشکلات سے نکلنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔

خلع کے لیے مناسب رہنمائی اور قانونی مشورہ لینا ضروری ہے تاکہ آپ اس عمل کو بہتر انداز میں مکمل کر سکیں۔

The PECA amendment law: OpinionThe Prevention of Electronic Crimes (Amendment) Act, 2025 significantly impacts freedom o...
30/01/2025

The PECA amendment law: Opinion

The Prevention of Electronic Crimes (Amendment) Act, 2025 significantly impacts freedom of speech and expression, posing potential risks to democratic values in Pakistan.

The expansion of definitions in Section 2 introduces terms like "Aspersion" (2(iiia)), defined as spreading false and harmful information that damages a person’s reputation. This vague definition can be misused to suppress criticism against public officials, journalists, and activists. Similarly, "Unlawful or Offensive Content" (2(xxva)) includes content against the "ideology of Pakistan" and incitement to hatred, which remain undefined. Such ambiguous language can be weaponized to curb dissent or silence opposing views.

Section 2R and Chapter 1B regulate social media platforms by mandating their registration with the Social Media Protection and Regulatory Authority (SMPRA) and enabling content removal or blocking without judicial oversight. This provision, especially the power to block content within 24 hours of a complaint, lacks transparency and opens doors for political misuse, thereby discouraging open discourse.

The addition of Section 26A criminalizes the dissemination of "false and fake" information with penalties of up to three years imprisonment or fines up to two million rupees. While combating misinformation is a valid concern, the broad scope of this section threatens journalistic freedoms and whistleblowing, as individuals may fear prosecution for reporting sensitive issues.

The establishment of SMPRA under Chapter 1A centralizes control over online content, with its members appointed by the Federal Government, raising concerns over political interference. Moreover, Section 2H grants the Authority unilateral power to block content it deems unlawful, which could suppress critical opinions without independent checks and balances.

The creation of a Social Media Protection Tribunal (2V) limits appeals to the Supreme Court, bypassing lower courts and potentially delaying justice. This setup restricts access to legal recourse for individuals affected by decisions under the Act.

The prohibition of content against state institutions in Section 2R undermines the democratic principle of holding public institutions accountable. Additionally, banning content from proscribed organizations, while necessary for national security, risks being expanded to target legitimate dissent or minority groups.

Journalists and whistleblowers are particularly vulnerable under this law. The provisions criminalizing fake information and defamation may deter them from exposing corruption or government inefficiencies. The establishment of the National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA) (Section 29) also increases state surveillance capabilities, potentially intimidating citizens into self-censorship.

This law aligns with global trends of regulating cyberspace but lacks robust protections for freedom of expression. Countries with similar legislation, like India and Turkey, have faced international criticism for suppressing dissent, and Pakistan risks similar backlash.

In short, the amendment law, while addressing legitimate concerns such as misinformation and cyber threats, poses significant risks to fundamental freedoms. The vague definitions, unchecked regulatory powers, and disproportionate penalties create an environment conducive to abuse and self-censorship. Safeguards, including judicial oversight, clear definitions, and protection for journalists and activists, are essential to ensure that the law balances regulation with upholding democratic principles and constitutional rights. Without these measures, the Act could erode the foundations of free expression and democracy in Pakistan.

- By Gulbaz Mushtaq

افلاطون جکھڑ ایڈووکیٹ: ایک تعارفافلاطون جکھڑ ضلع گجرات کے ایک دور افتادہ گاؤں جکھڑ سے تعلق رکھنے والا ایک باہمت اور غیرم...
23/10/2024

افلاطون جکھڑ ایڈووکیٹ: ایک تعارف

افلاطون جکھڑ ضلع گجرات کے ایک دور افتادہ گاؤں جکھڑ سے تعلق رکھنے والا ایک باہمت اور غیرمعمولی شخصیت کا مالک انسان ہے۔ ایک متوسط جٹ گھرانے میں جنم لینے والے افلاطون جکھڑ کی زندگی کا سفر کئی کٹھن مراحل سے گزرتا ہوا اسے آج لاہور کی وکلاء برادری میں ایک نمایاں مقام پر لے آیا ہے۔

ان کے والد، جو محکمہ پولیس میں اپنی خدمات سرانجام دیتے ہوئے دورانِ ڈیوٹی وفات پا گئے، کی اچانک رحلت نے افلاطون کی کم عمری میں ہی ان کے دل میں عزم و ہمت کا ایک ایسا بیج بو دیا جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک تناور درخت بن گیا۔ نو سال کی عمر میں قرآنِ پاک حفظ کرنے کے بعد انہوں نے گیارہ سال کی عمر میں تجوید القران مکمل کی اور قاری القرآن کا لقب پایا۔ رمضان کی راتوں میں تراویح کے دوران پورا قرآن سنانے کا عمل ان کا معمول تھا، جو ان کی قرآنی علوم سے وابستگی اور عشق کا واضح مظہر ہے۔

افلاطون جکھڑ نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ درس نظامی، دورہ حدیث، دورہ تفسیر اور فاضل عربی کی ڈگریوں کے ساتھ ساتھ وفاق المدارس سے اعلیٰ سندات حاصل کیں، جس سے ان کی دینی و علمی شخصیت مزید نکھری۔ تاہم ان کے والدین کی دیرینہ خواہش نے انہیں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ قانونی علوم کی طرف بھی راغب کیا۔ افلاطون جکھڑ نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے ایل ایل بی (آنرز) شریعہ اینڈ لاء کی ڈگری مکمل کی اور سنہ 2007 میں وکالت کے میدان میں قدم رکھا۔

وکالت کے پیشے سے ان کی محبت اور اپنے والد کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا عزم ان کے پیشہ ورانہ سفر میں ہمیشہ ایک رہنما قوت رہی ہے۔ اپنے بھائیوں کے لیے بھی وہ مشعلِ راہ بنے اور ان کو بھی قانونی تعلیم دلوا کر خاندان کو ایک مضبوط وکیلوں کے قبیلے میں تبدیل کر دیا۔ اس محبت اور خلوص کا نتیجہ یہ ہوا کہ جکھڑ اینڈ چوہدری لاء ایسوسی ایٹس، جسے انہوں نے اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا، آج لاہور سمیت پنجاب کے کئی اضلاع میں وکالت کے میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔

افلاطون جکھڑ کی پیشہ ورانہ قابلیت، ان کی غیر معمولی ذہانت اور وکلاء برادری کے ساتھ ان کی مضبوط وابستگی نے انہیں ایک نمایاں مقام پر فائز کر دیا ہے۔ ان کی جرات اور بہادری کا یہ عالم ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے ساتھی وکلاء کے حقوق کے لیے کھڑے رہے ہیں، اور بطور ایک پروفیشنل پریکٹیشنر انہوں نے ہمیشہ وکلاء کو درپیش مسائل اور مشکلات کو بخوبی سمجھا اور ان کے حل کے لیے کوشاں رہے۔

آج افلاطون جکھڑ لاہور بار ایسوسی ایشن کی کینٹ سیٹ کے نائب صدر کے عہدے کے لیے امیدوار برائے سال 2025/26 ہیں۔ وہ نہ صرف ایک قابل وکیل ہیں، بلکہ ایک ایسے رہنما بھی ہیں جو وکلاء کے حقوق کی نمائندگی کرنے اور ان کی مشکلات کا ازالہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت اور پیشہ ورانہ خدمات کی روشنی میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ آپ کے قیمتی ووٹ کے مستحق ہیں اور اگر اللہ نے انہیں کامیابی عطا کی، تو وہ اپنی برادری کی بہترین خدمت کریں گے۔

اللہ تعالیٰ ان کو کامیاب کرے اور لاہور بار کی ترقی و بہتری کے لیے ان کو مزید مواقع فراہم کرے۔ آمین۔

ـ تحریر گل باز مشتاق

22/10/2024

سود کے خاتمے کی ڈیڈ لائن کا چورن

پاکستانی عوام کو 26ویں آئینی ترمیم میں سود کے خاتمے کی ڈیڈ لائن کے ذریعے وہی خواب دکھائے جا رہے ہیں، جیسے منٹو کے افسانے "نیا قانون" میں منگو کوچوان کو نئے قانون سے آزادی کی امید تھی۔ منگو کو یقین تھا کہ نئے قانون کے نافذ ہوتے ہی انگریز کا جبر ختم ہو جائے گا، اور اس کی زندگی بدل جائے گی۔ لیکن جب وہ حقیقت سے ٹکرایا تو معلوم ہوا کہ "نیا قانون" صرف کاغذ پر تھا، جبکہ اس کی زندگی پہلے جیسی ہی رہی۔

اسی طرح پاکستانی عوام کو سود کے خاتمے کی آئینی ترمیم کا "چورن" بیچ کر امیدوں کے سراب میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ ترمیم آئین کے باب نمبر دو میں محض "پالیسی ہدایات" کے طور پر شامل کی گئی ہے، جن کا عملی طور پر نافذ ہونا حکومت کی صوابدید پر ہے۔ ان ہدایات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں کوئی قانونی کارروائی بھی ممکن نہیں۔

عوام کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ جنوری 2028 کی ڈیڈ لائن کے بعد ملک سود سے مکمل طور پر پاک ہو جائے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا انحصار محض حکومت کے "ارادے" پر ہے۔ منگو کی طرح عوام بھی ایک ایسے "نئے قانون" سے خوش ہو رہے ہیں، جس کا ان کی زندگی پر کوئی عملی اثر نہیں پڑے گا۔

اگر اس نئی آئینی شق کی حقیقت کو سمجھنا ہو، تو اسے یوں پڑھ لیں: "ملک میں یکم جنوری 2028 تک سود کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ انشاءاللہ!"

The evening was full of disagreements; except, we three agreed on taking the snap in this background. Thank you Bros for...
28/09/2024

The evening was full of disagreements; except, we three agreed on taking the snap in this background.

Thank you Bros for the wonderful dinner and discussion.

Address

Office 47, Abu-Bakr Block, Kaghan Road, F-8
Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 08:30 - 19:30
Tuesday 08:30 - 19:30
Wednesday 08:30 - 19:30
Thursday 08:30 - 19:30
Friday 08:30 - 19:30
Saturday 08:30 - 19:30

Telephone

+923334057077

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Just & Right Law Company posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Just & Right Law Company:

Share

Category