Legal Guidance

Legal Guidance It provides legal guidance, free legal help and advice. Information about legal rights for awreness

11/04/2023

‏سپریم کورٹ نے بغیرمرضی ڈی این اے ٹیسٹ کرانا غیر قانونی قرار دے دیا۔

‏جسٹس منصور علی شاہ نے 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

‏فیصلے کے متن کے مطابق دیوانی مقدمات میں بغیر مرضی ڈی این اے ٹیسٹ شخصی آزادی اور نجی زندگی کے خلاف ہے، آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 شخصی آزادی اور نجی زندگی کے تحفظ کے ضامن ہیں۔

‏فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نجی زندگی کا تعلق انسان کے حق زندگی کے ساتھ منسلک ہے، مرضی کے بغیر ڈی این اے ٹیسٹ نجی زندگی میں مداخلت ہے، فوجداری قوانین کی بعض شقوں میں مرضی کے بغیر ڈی این اے ٹیسٹ کی اجازت ہے۔
‏فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون شہادت کے مطابق شادی کے عرصے میں پیدا بچے کی ولدیت پر شک نہیں کیا جا سکتا۔

‏جائیداد کے تنازع میں لاہور ہائیکورٹ نے تاج دین، زبیدہ اور محمد نواز کے ڈی این اے ٹیسٹ کا حکم دیا تھا۔

06/02/2023

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے اسامہ ستی قتل کیس میں دو پولیس اہلکاروں کو سزائے موت تین کو عمر قید کی سزا سنا دی۔

بائس سالہ نوجوان اسامہ ستی کو جنوری 2021 کو اسلام آباد کی سرینگر ہائے وے پر رات ڈیڑھ بجے پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا جس کو ڈکیتی کا وقوعہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ناکام رہے مقدمے میں پولیس کے اہلکار نامزد تھے ، ٹرائل دو سال اور ایک ماہ جاری رہا۔

07/12/2022

اسلام آباد ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ 18 سال سے کم عمر لڑکی آزادانہ شادی نہیں کرسکتی

September 21, 2022
PLD 2022 ISLAMABAD 228

جسٹس بابر ستار نے جاری کردہ فیصلے میں لکھا کہ 18 سال سے کم عمر لڑکی آزادانہ شادی نہیں کرسکتی، حیاتیاتی طور پر بلوغت کی عمر 18 سال کا ہونا ہی ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ محض جسمانی تبدیلیوں پر 18 سال سے پہلے قانونی طور پر بلوغت نہیں ہوتی، بلوغت کی قانونی عمر 18 برس ہے، اس سے کم عمر لڑکی کی شادی غیر قانونی ہوگی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ 18سال سے کم عمر لڑکی کے ورثا بھی جسمانی تعلق والا معاہدہ نہیں کراسکتے۔
عدالت نے بیٹی کی بازیابی کے لیے دائر ممتاز بی بی کی درخواست پر فیصلہ سنادیا اور 16سالہ سویرا فلک شیر کو واپس والدہ کے سپرد کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے ایس ایچ او گولڑہ کو دارالامان سے لڑکی واپس والدہ کے سپر کرنے کا حکم بھی دیا۔
عدالت نے مسلم فیملی لاز آرڈیننس میں وضاحت نہ ہونے کا معاملہ کابینہ ڈویژن اور پارلیمنٹ کے سامنے رکھنے کی ہدایت کردی۔
ممتاز بی بی نے مئی 2021 سے بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کرایا تھا، لڑکی نے ہائی کورٹ میں مرضی سے شادی کرنے کا بیان دیا تھا۔

12/11/2022
12/11/2022

متنازع ٹویٹ پر مقدمہ اندراج کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے FIA کا اختیار سے تجاوز قرار دے دیا ، اپریل میں حکومت تبدیلی کے بعد سوشل میڈیا مہم کیس میں مقدمہ خارج کرتے ہوئے جسٹس بابر ستار نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ " ایف آئی آر اظہار رائے پر قدغن کی کوشش ہے ۔کسی بھی ٹرینڈ میں محض ٹویٹ کرنے سے کوئی جرم سرزد نہیں ہوتا ، ٹوئٹ کرنے والے کے اپنے الفاظ میں جب تک کچھ غلط نہ ہو جرم نہیں ، ایف آئی اے نے یہ کیس درج کر کے ریاست کا مذاق ہی بنایا ٹوئٹر صارف نے ویگو ڈالے اور ماورائے قانون جبری گمشدگیوں کی بات کی ۔ متنازع ٹوئٹ میں مخصوص ٹرینڈ سے متعلق کہا گیا اس میں لکھنے پر ادارے ماورائے قانون کارروائی کر سکتے ہیں ایف آئی اے کا سچ میں ایسی ٹوئٹ پر کریمنل کیس بنا کر عوام کے ذہن میں ایسے شبہات کو تقویت دینا المیہ ہے ۔

20/10/2022

‏ افغان مہاجرین کے جو بچے پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں انہیں پاکستانی شہریت دی جائے ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ

20/10/2022

اسلام آباد تھانہ کراچی کمپنی میں پولیس آفیسر کا ایک بچے پہ تشدد کا واقعہ

چند دن قبل ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک خاتون وکیل صاحبہ تھانہ کراچی کمپنی میں ایس ایچ او کے ساتھ بحث کر رہی ہے اور اسے قانونی ذمہ داریاں یاد دلا رہی ہیں۔
اب مذکورہ کیس اسلام آباد ہائی کورٹ اور سیشن کورٹ میں دائر ہو گیا ہے اس کیس پہ جانے سے قبل زرا واقعے کا پس منظر ملاحظہ کیجیے۔
ہوا یوں کہ مذکورہ خاتون وکیل تھانے میں اپنے مؤکل کے ساتھ موجود تھی جہاں دیگر صحافی بھی موجود تھے کہ اتنے میں ایک بندہ آتا ہے اور چھپکے سے ایس ایچ او کو کچھ نقدی تھاما دیتا ہے۔ اس کا عینی شاہد بھی موجود ہے۔
اس کے بعد ایس ایچ او ایک اور کمرے میں جاتا ہے اور اتنے میں شدید چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ خاتون وکیل کمرے میں داخل ہوتی ہے تو دیکھتی ہے کہ سولہ سترہ سال کے ایک بچے کے چہرے پہ ایس ایچ او پاؤں رکھ کر بری طرح تشدد کر رہا ہے۔ تب خاتون وکیل سے رہا نہیں گیا اور ایس ایچ او کے ساتھ بحث شروع کی۔

اسی واقعے کے بعد مذکورہ بچے کے والد سے خاتون وکیل صاحبہ سمیت دیگر وکلاء نے رابطہ کیا اور سب نے مل کر پولیس تشدد کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی۔ جس کی سماعت آج مقرر تھی۔

مذکورہ درخواست میں ہائی کورٹ کے سامنے اسامہ خاور صاحب اور عمر اعجاز گیلانی صاحب ایڈووکیٹس ہائی کورٹ نے درخواست گزار خاتون وکیل صاحبہ کی طرف سے دلائل دیے۔
مذکورہ درخواست کافی تفصیلی ہے اور اس پہ بہت زیادہ محنت کی گئی ہے۔ تیس صفحات پر مشتمل اس درخواست میں عدالت عالیہ سے بہت ساری استدعائیں کی گئی ہیں۔ تفصیلی دلائل دینے کے بعد عدالت نے فوری طور پر ہیومین رائٹس کمیشن کو نوٹس جاری کیے اور اگلی سماعت پہ اس کمیشن سے اسلام آباد کے تھانوں میں ہونے والے تشدد کے واقعات کے حوالے سے رپورٹ طلب کی۔

آج ہی کے دن اسی خاتون وکیل نے درخواست گزار بن کر جسٹس آف پیس کی عدالت میں تشدد کرنے والے ایس ایچ او کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 22A and B کے تحت درخواست بھی دائر کی۔ جس میں درخواست گزار کے دو وکلاء عمر اعجاز گیلانی صاحب اور اسامہ خاور صاحب نے دلائل دیے اور عدالت کی توجہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ "337 کے" کی طرف مبذول کروائی اور بتایا کہ یہ دفعات بادی النظر میں ریاستی اداروں کی طرف سے عام شہریوں پہ ہونے والے تشدد کی روک تھام کے لیے بنائے گیے ہیں مگر پاکستان کی معلوم تاریخ میں اس پہ آج تک کاروائی نہیں ہوسکی کیوں کہ یہ دفعات عمل میں ہی نہیں لائی جاتی۔
جس پہ معزز عدالت نے متعلقہ پولیس حکام کو سات دن کے اندر اندر کمنٹس جمع کرانے کا حکم دیا۔ اگلی تاریخ 25/10/22 تک سماعت ملتوی کی گئی۔

یہ تشدد کا ایک عام کیس تھا جسے ایک خاتون وکیل نے دیکھا تو برداشت نہ ہوا اور بلا کسی غرض کے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ پولیس تشدد اس ملک میں رواج بن گیا ہے اور اس قدر زیادہ ہو گیا ہے کہ عوام نے اسے قانونی سمجھ کر قبول کر لیا ہے۔ حالانکہ یہ قانون میں سخت ممنوع ہے۔
ہر باضمیر شہری کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔
نوٹ: اس کے بعد پولیس نے اپنی خفت مٹانے کے لیے مذکورہ بچے کو تین دیگر کیسز میں نامزد کر دیا ہے اور اسے جبری طور پر مجرم بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مجسٹریٹ سے چودہ دن کا ریمانڈ بھی لے لیا ہے اور ان پہ
ہر طرف سے پریشر ڈالنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔

یہ ابتدائی سماعت تھی۔ مدعا علیہان عدالت میں اپنا موقف اگلی تاریخ پہ سامنے رکھیں گے۔

اس بابت مزید کاروائی کی روداد اگلی سماعت کے بعد سامنے رکھی جائے گی۔

دونوں درخواستوں میں درخواست گزار خاتون وکیل ایمان زینب مزاری ہے۔

تحریر: ٹیم ممبر قانون دان ٹیم سجاد حمید یوسفزئی

تھانہ مارگلہ میں عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
21/08/2022

تھانہ مارگلہ میں عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔

28/07/2022

حال ہی میں بہت سے قانون کے طلبہ ڈگریاں مکمل کر چکے ہیں اور وکالت کے شعبے میں قدم رکھنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پہ ان کی رہنمائی بہت ضروری ہے

انہی کے لیے چند مختصر گذارشات

ابتداء میں فیصلہ کریں کہ وکیل بننا ہے یا جاب کرنی

اگر وکیل بننا ہے تو پھر یہ فیصلہ کریں کہ کہاں پر مستقل وکالت کرنی ہے وہاں جاکر کچہری میں کسی اچھے سینیر کا انتخاب کریں۔ اور پھر پیچھے مڑ کر مت دیکھیں۔ ابتداء میں کسی چھوٹے اسٹیشن پہ بلکل مت جائیں بلکہ کسی بڑے اسٹیشن پہ سال ایک گزار کر جائیں۔
سینیر اور اسٹیشن کے انتخاب کے بعد کامیاب وکیل بنے کے لیے ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے " بے پناہ محنت"۔ بے پناہ محنت کے بغیر اس شعبے میں کامیابی مشکل ہی نہیں ناممکن ہے

وہ محنت یوں کرنی ہے کہ صبح عدالتی وقت سے ایک گھنٹہ پہلے دفتر/چیمبر پہنچیں اور رات کا دفتر کبھی بھی دس بجے سے پہلے نہ چھوڑیں۔ روزانہ چودہ سے پندرہ گھنٹے اس شعبے کو دیں۔ عدالتی وقت میں صرف عدالتوں میں رہیں اور عملی کام دیکھیں۔ عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد فورا شام کے دفتر جائیں اور اگلے دن کی فائلیں رٹ لیں۔ ان فائلوں کی حد تک قانونی ریسرچ کریں اور ہر کیس کو دونوں زاویوں سے دیکھیں۔ ہر کیس کا چھوٹا سا بریف بنائیں اور فائل میں رکھ دیں۔ اگلے دن سینیر کے ساتھ عدالت میں جائیں اور دیکھیں کہ وہ وہی کیسز کس اندازہ میں آرگیو کرتا ہے ۔
روزانہ تین سے چار ججمنٹس ضرور پڑھیں اور اچھی ججمنٹس کو ایک ڈائری میں نوٹ کرتے جائیں یہ ڈائری سپریم کورٹ تک آپ کے کام آنی ہے۔ اعلی عدلیہ کے ججمنٹس رسالوں میں ماہانہ شائع ہوتے ہیں۔ اپنی پسند اور آپ کی پریکٹس سے متعلق تین سے چار رسالے بالاستیعاب پڑھیں۔
ڈرافٹنگ پہ بھرپور توجہ دیں اور کوشش کریں دعویٰ یا جواب دعویٰ ڈرافٹ کرتے ہوئے وہی الفاظ استعمال کریں جو قانون کے کتب میں موجود ہوں یا پھر مختلف ججمنٹس میں استعمال ہوچکے ہوں۔ ہفتے میں ایک بار ہائی کورٹ ضرور جائیں۔ اور کسی اچھے جج کی عدالت میں چند گھنٹے ضرور گزاریں۔ وہاں ہونے والی بحث کو زبانی نوٹ کریں اور آپ کو اگر لگے کہ اہم ججمنس اس کیس میں دیے گیے ہیں تو ان ججمنٹس کو متعلقہ قانونی مسئلے کے ساتھ کسی کاغذ پہ نوٹ کریں اور پھر دفتر آکر اسے ڈائری میں لکھیں۔
روزانہ کی بنیاد پہ ججمنٹس پڑھنا، اچھی ججمنٹس کو ڈائری میں نوٹ کرنا اور ڈرافٹنگ کرنا کسی بھی صورت نہ چھوڑیں۔ اگر آپ کا مزاج کریمنل وکالت کا ہے تب بھی سول لاء کے ساتھ ٹچ میں رہیں کیوں کہ اصل وکالت اور قانون یہی ہے کریمنل کیسز کا سارا دارومدار حقائق پہ ہوتا ہے جب کہ سول لاء میں ڈرافٹنگ اور قانون کی تشریح کی بہت ضرورت پڑتی ہے۔
اگلے چار پانچ سال تک ایسی ہی محنت جاری رکھیں یہ سوچیں بغیر کہ کچھ کما رہے ہیں یا نہیں۔ پانچ سال بعد ایک بہترین مستقبل آپ کا منتظر ہوگا۔ وکالت کی معراج پہ پہنچنے کے لیے اسی نوعیت کی محنت درکار ہے اگر یہ محنت آپ سے نہیں ہوسکتی تو وکیل بن جائیں گے لیکن اچھے وکیل نہیں بن پائیں گے۔ اور یہ محنت ساری زندگی کرنی ہے۔
قانون کے اس شعبے کو ہلکا مت لیں۔ ہر وکیل کو اسی نوعیت کی محنت کرنی چاہیے کیوں کہ اس شعبے میں جو کچھ بھی روزانہ کہ بنیاد پہ ہوتا ہے اس کا براہِ راست اثر پورے معاشرے اور ملکی نظام پہ پڑتا ہے۔ اچھے وکلاء سے بہترین ججز برآمد ہوتے ہیں اور بہترین ججز سے قانون کی اعلی ترین تعبیر و تشریح برآمد ہوتی ہے۔ پورا ملک قانون سے چلتا ہے اور قانون کے شعبے کو چلانے والے وکیل اور ججز ہوتے ہیں۔ لہذا اس پروفیشن کو اختیار کرتے ہوئے یہ سوچ لیں کہ آپ پہ معاشرے کی ذمہ داری بھی ہے۔

آخر میں پھر نوٹ کر لیں کہ بے پناہ محنت کے بغیر اس شعبے میں کامیابی ممکن نہیں۔ محنت، محنت اور بس محنت کامیابی کا یہی راستہ ہے اور بس۔

ایک اور نوٹ: اس شعبے میں سب سے اہم چیز دیانتداری اور ایمانداری ہے۔ یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ان دونوں کو خود سے پوری زندگی باندھ کر رکھیں اور ان کا دامن کبھی بھی مت چھوڑیں۔ پیسے کو خود پہ کبھی بھی حاوی مت ہونے دیں۔ کیوں کہ پیسہ آنے جانے کی چیز ہے۔ ایمانداری اور دیانتداری سے وکالت کرنا تمہیں بہت عزت اور شہرت دے گا۔
Advocate Sajjad hameed

14/07/2022

عدالت عظمیٰ نے سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کے موقع پر قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی جانب سے کی آئین کے آرٹیکل 5(1) کے تحت جاری کی گئی رولنگ کیخلاف از خود نوٹس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، 86 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے قلمبند کیا ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ بیرونی مداخلت پر دلیل سے مطمئن نہیں،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ، تحریک عدم اعتماد مسترد کرنا غیرآئینی ہے،آرٹیکل 95 (2) کے تحت ا سپیکر تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کا پابند،ڈپٹی ا سپیکر نے وزیر اعظم کے مفاد کیلئے حلف سے رو گردانی کی،متفقہ فیصلے میںجسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندو خیل نے علیحدہ سے بھی اپنے نوٹس قلمبند کئے ہیں ،چیف جسٹس کی جانب سے رولنگ کیخلاف از خود نوٹس پر فیصلے کا آغاز سور الشعرا سے کیا گیا ہے،جس میں لکھا ہے کہ چیف جسٹس ہائوس میں منعقدہ اجلاس میں سپریم کورٹ کے 12 ججوں نے ملکی سیاسی صورتحال پر ازخودنوٹس لینے کی سفارش کی تھی ،فیصلے کے مطابق عدالت نے آئین و قانون کو مقدم رکھنے اور اس کے تحفظ کیلئے سپیکراسمبلی کی رولنگ کیخلاف یہ ازخودنوٹس لیا اور ڈپٹی سپیکر کے غیر آئینی اقدام کی وجہ سے سپریم کورٹ متحرک ہوئی تھی ،عدالت نے متفقہ فیصلے میں قراردیاہے کہ ڈپٹی سپیکر کی جانب سے وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کا فیصلہ غیر آئینی ہے لہذا وزیر اعظم کی سفارش پر قومی اسمبلی کی تحلیل کرنے کے حکم کوغیرقانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا جاتاہے، فاضل عدالت نے قراردیاہے کہ تحریک انصاف کے وکیل نے بیرونی مداخلت سے متعلق مراسلے کا حوالہ تو دیا ہے لیکن مبینہ بیرونی مراسلے کا مکمل متن عدالت کو نہیں دکھایا گیا ہے ، مراسلے کا کچھ حصہ بطور دلائل سپریم کورٹ کے سامنے رکھا گیاتھا ،فیصلے میں قراردیاگیا ہے کہ تحریک انصاف کے وکیل کے مطابق مراسلے کے تحت حکومت گرانے کی دھمکی دی گئی تھی، مبینہ بیرونی مراسلہ خفیہ سفارتی دستاویز ہے، فاضل عدالت نے قراردیاہے کہ سفارتی تعلقات کے باعث عدالت مراسلے سے متعلق کوئی حکم نہیں دے سکتی ،عدالت نے قراردیاہے کہ سپریم کورٹ کاسپیکررولنگ پرازخودنوٹس سیاسی جماعتوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر لیا گیاتھا، ڈپٹی سپیکر کی رولنگ، وزیراعظم کی سفارش پر صدرمملکت کا اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اقدام سیاسی جماعتوں کے بنیادی حقوق کے منافی ہے، عدالت نے قراردیاہے کہ قومی سلامتی کیلئے دی گئی 3 اپریل کی سپیکر رولنگ شواہدپرمبنی ہونی چاہیے تھی، ثبوت کے بغیر لیے گئے پارلیمانی اقدامات کا سپریم کورٹ جائزہ لے سکتی ہے ، عدالت نے قراردیاہے کہ بیرونی مداخلت سے متعلق مبینہ مراسلہ 7 مارچ کو وزارت خارجہ کو موصول ہوا تھا جس پر سابق حکومت نے کسی قسم کی کوئی تحقیقات نہیں کروائیں نہ ہی یہ بتایاکس نے بیرونی سازش کی ہے؟ حکومت نے 31 مارچ تک مراسلے کی تحقیقات کرائیں نہ ہی اپوزیشن کے سامنے حقائق رکھے تھے ،عدالت نے قراردیاہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن وزیر قانون نے پہلی بار بیرونی سازش سے متعلق ڈپٹی سپیکر کو رولنگ جاری کرنے کی استدعا کی تھی، تفصیلی رولنگ سے ثابت ہوا کہ بیرونی سازش کے نامکمل، ناکافی اور غیرنتیجہ خیزحقائق اسپیکرکوپیش کیے گئے تھے، ڈپٹی سپیکر نے اسی وجہ سے بیرونی سازش پر تحقیقات کرانے کی رولنگ دی تھی ،عدالت نے قراردیاہے کہ 2 اپریل کو اس وقت کے وزیرقانون نے بیرونی مداخلت سے متعلق کمیشن بنانے کا کہا تھا، انکوائری کمیشن کا قیام غماز ہے کہ سابقہ حکومت کو بیرونی مداخلت کا شک تھا، ڈپٹی سپیکر نے قومی سلامتی کو جواز بنا کر تحریک عدم اعتماد مسترد کر دی تھی،تاہم یہ عدالت بیرونی مداخلت سے متعلق دلیل سے مطمئن نہیں ،عدالت نے قراردیاہے کہ عدالت کے سامنے بیرونی سازش سے متعلق ثبوتوں میں صرف ڈپٹی اسپیکرکا بیان ہی موجود ہے، ڈپٹی سپیکر کی رولنگ میں نہیں بتایا گیا کہ مراسلے کے مطابق وزیراعظم کو ہٹانے کیلئے اپوزیشن میں کس ممبر نے بیرون ملک رابطہ کیا تھا، ڈپٹی سپیکر کی تفصیلی رولنگ میں نہیں بتایاگیا کہ مبینہ مراسلے کے مطابق حکومت گرانے میں کون کون شامل تھا ؟عدالت نے قراردیاہے کہ آرٹیکل 69(1) واضح ہے کہ پارلیمانی کارروائی کو عدالت سے تحفظ حاصل ہے لیکن اگرپارلیمانی کارروائی میں آئین کی خلاف ورزی ہو تو اس پر کوئی تحفظ حاصل نہیں ، عدالت مقننہ کے معاملات میں آئینی حدود پار نہ ہونے تک مداخلت نہیں کرے گی، آئین کے آرٹیکل 95 (2) کے تحت اسپیکر تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کا پابند ہے،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو آئینی تحفظ حاصل نہیں، ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دینے کا فیصلہ ذاتی طورپر وزیرقانون کے کہنے پر کیا تھا ،جسٹس جمال خان مندو خیل نے اپنے علیحدہ نوٹ میں قراردیاہے کہ اس مقدمہ میں ڈپٹی سپیکر کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کو مسترد کئے جانے کی بناء پر وزیر اعظم کو اسمبلی کی تحلیل کی سفارش کا موقع ملا تھا ،صدر نے بھی اس سفارش کو قبول کرتے ہوئے اسمبلی تحلیل کردی اور نئے انتخابات کا اعلان کردیا گیا ،جب اس عدالت نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو ہی و ہی غیر آئینی قرار دے دیا تو تحریک عدم اعتماد خو د بخود ہی بحال ہوگئی ہے،رولنگ کی بنیاد پر کھڑی کی گئی ساری عمارت ہی گر گئی اور قومی اسمبلی بحال ہو گئی ہے ،سابق حکومت کے اٹارنی جنرل نے نظریہ ضرورت کے تحت نئے انتخابات کروانے کی اجازت دینے کی استدعا کی ہے ،جو کسی صورت بھی قابل غور نہیں ،چونکہ ڈپٹی سپیکر کا اقدام تعصب اور بدنیتی پر مبنی ہے اگر اس کی بنیاد پر نئے انتخابات کی اجازت دی جائے تو یہ بااختیار لوگوں کو نظریہ ضرورت کے من مانے استعمال کا لائسنس دینے کے مترادف ہوگا ،فاضل جج نے قرار دیاہے کہ اس سے قبل متعدد بار قوم نے اس ملک میں نظریہ ضرورت کے ناجائز ستعمال کا مشاہدہ کیا ہے ،جسے عدالتوںنے بھی منظور کیا تھا لیکن اس سے کبھی بھی مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے اور جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان ہی پہنچا ہے ،فاضل جج نے قراردیاہے کہ اس وقت ملک میں کوئی غیر معمولی حالات نہیں تھے نہ ہی ریاست کیے وجود کو کسی قسم کا کوئی خطرہ تھا،کسی شخص کی ذاتی خواہش پر نئے انتخابات کا انعقاد کروانے کا کوئی جواز نہیں تھا اورنہ ہی کوئی ایسی صورتحال تھی کہ حکومت کی جانب سے عد الت نے نظریہ ضرورت کے استعمال کی استدعا کی جاتی ،فاضل جج نے قراردیاہے کہ عدالت اس معاملہ میں وزیر اعظم یا صدر کی بجائے پارلیمنٹ کی اجتماعی دانش پر انحصار کررہی ہے ،تاہم اگر نئی حکومت کے راستے میںحکومت چلانے کے عمل میں کوئی مشکلات حائل ہوں تو نیا وزیر اعظم صدر مملکت کو اسمبلیء کی تحلیل کی سفارش کرسکتا ہے ،فاض جج نے قراردیاہے کہ آئین کی جانب سے موزوں داد رسی کی دستیابی کی صورت میں اس عدالت کو نظریہ ضرورت کو استعمال کرنےکی کوئی وجہ نظر نہیں آئی ہے،فاضل جج نے قرار دیاہے کہ صرف آئین اور قانون پر عملددرآمد کرکے ہی ہم نظریہ ضرورت سے جان چھڑوا سکتے ہیں،ایک مستحکم ملک بنانے کیلئے ملک میں جمہوریت کی مضبوطی نہایت ضروری ہے جبکہ آئین اور قانون ہی اس ملک کے عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرسکتے ہیں، فاضل جج نے قراردیاہے کہ نظریہ ضرورت کے استعمال کیلئے موثر چیک اینڈ بیلنس کا نظام ہونا چاہیئے ،اور عدالتوں کو اس کے استعمال سے مکمل گریز کرنا چاہیئے ،فاضل جج نے قراردیاہے کہ وزیر اعظم کو تحریک عدم اعتماد کے نوٹس کے اجراء کے بعد اسمبلی کی تحلیل کی سفارش کا کوئی اختیار نہیں ہوتا ،اس لئے صدر کی جانب سے اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن اور نئے انتخابات کے اعلان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ،فاضل جج نے قرار دیاہے کہ ہم حیران ہیں کہ سائفر کے متن کا تفصیلی جائزہ لئے بغیر ہی ڈپٹی سپیکر کو کیسے علم ہوا کہ یہ ایک غیر ملکی سازش ہے اور کس نے کی ہے ؟یہ بھی ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ یہ سائفر وزارت خارجہ کو تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے بہت پہلے موصول ہوا تھا ،اگر کوئی حقیقت ہوتی تو حکومت کو اس کی تحقیقات کیلئے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہییے تھا ،لیکن اس حوالے سے کوئی اقدام بھی نہیں اٹھایا گیا ،فاضل جج نے قراردیاہے کہ اگر سائفر میں ایسا کوئی مواد موجود بھی ہوتا تو بھی اس کی بنیاد پر تحریک عدم اعتماد کو مسترد نہیں کیا جاسکتا تھا کیونکہ یہ ایک آئینی تقاضا تھا، سائفر کی بنیاد پر آئینی تقاضا پورا نہ کرنے کا یہ عمل ڈپٹی سپیکر کی جانب سے بدنیتی ،تعصب اور دائرہ اختیار سے باہر تھا،پوری قوم گواہ ہے کہ آئینی تقاضے اور عدالتی حکم کے باوجودسپیکرنے جان بوجھ کر ایک جمہوری کام کو لٹکایا تھا ،فاضل جج نے قراردیاہے کہ ڈپٹی سپیکر نے آئین کے جس آرٹیکل 5(1)کے تحت تحریک عدم اعتماد کو مسترد کیا تھا یہ بڑی عجیب بات ہے کہ انہوںنے وضاحت نہیں کی کہ یہ آرٹیکل انہیں تحریک کو روکنے کا اختیار کیسے دیتا ہے ،فاضل جج نے قراردیاہے کہ آرٹیکل 95سپیکر کو تحریک عدم اعتماد کی کارروائی کرنے کے علاوہ کوئی اختیار بھی نہیں دیتا ،لیکن ڈپٹی سپیکر نے وزیر اعظم کے مفاد کے تحفظ کیلئے اپنے حلف سے بھی رو گردانی کی اور اختیارات کا بھی ناجائز استعمال کیا ہے،اس سے لگتا ہے کہ وہ پہلے ہی ذہن بنا چکے تھے ،کیونکہ رولنگ سپیکر اسد قیصر کے نام پر تھی جو ایوان میں موجود ہی نہیں تھے ،لگتا ہے کہ یہ سارا کام پہلے سے ہی منصوبہ بندی کرکے کیا گیا تھا ،جس کا مقصد پارلیمنٹ کو وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے حق سے محروم کرنا تھا ،اسی بناء پر ڈپٹی سپیکر نے ایوان کو جواب دینے کا موقع بھی نہ دیا ،فاضل جج نے قراردیا ہے کہ دپٹی سپیکر کا یہ اقدام بدنیتی ،غیر شفافیت ،تعصب پر مبنی اور آئین کے بالکل خلاف تھا ،فاضل جج نے قلمبند کیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر کے اقدام کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی اس عدالت نے از خود نوٹس کے اختیار کو استعمال کیا ہے کیونکہ یہ عدالت آئین اور قانون کی محافظ ہے جسے قانون و آئین کے خلاف ورزی کی صورت میںکا اختیار ہے جو آئین کے آرٹیکل 69 کے زمرہ میں نہیں آتی ۔

Address

District Court F8
Islamabad

Telephone

+923469798133

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Guidance posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Legal Guidance:

Share