Bahadar Khan Law Associates

Bahadar Khan Law Associates This page is created to help people to know more about law and legal system of pakistan.

10/12/2022

مختار نامہ کیا ہوتا ہے۔اسے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔اسکی کتنی قسمیں ہیں؟
کوئی بندہ اپنے کسی قانونی کام کی تکمیل کیلئے کسی کو نمائندہ مقرر کرے تو اس تقرر کو مختار نامہ کہا جاتا ہے۔یہ اختیار تحریری ہوگا جسے باقاعدہ رجسٹر کرانا ضروری ہوتا ہے۔
مختار نامہ کی 2 اقسام ہیں۔
1مختار نامہ عام
2۔مختار نامہ خاص۔
مختار نامہ عام۔۔۔: مختار نامہ عام کا حامل شخص اختیار دینے والے کی طرف سے ایک سے زیادہ قانونی معاملات سرانجام دے سکتا ہے۔وہ اسکی ہر جگہ پر نمائندگی کرسکتا ہے۔پراپرٹی خرید،فروخت کرسکتا ہے۔
مختار نامہ خاص۔۔۔ـ: مختار نامہ خاص کا حامل شخص اختیار دینے والے کی طرف سے صرف وہی خاص کام کرسکتا ہے جسکی اسے مختار نامہ میں اجازت دی گئی ہو۔مختار نامہ خاص میں جائیداد کی خرید و فروخت نہیں ہوسکتی۔
مختار نامہ عام اشٹام پیپر پر لکھا جائے گا۔اسے رجسٹرار آفس میں رجسٹر کرایا جائے گا۔اسے کسی نوٹری پبلک،عدالت،جج،مجسٹریٹ یا سفارتخانے سے تصدیق کرایا جائے گا۔مختار نامہ غیر تصدیق شدہ ہو تو اسے درست نہیں سمجھا جائے گا۔ مختار نامہ خاص کو عام طور پر رجسٹرڈ کروانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
مختار کی طرف سے کئے گئے ہر فیصلے کو اختیار دینے والے کو ماننا پڑتا ہے۔(زمین کی فروخت وغیرہ)
ہرپاکستانی شہری جو عاقل،بالغ ہو اور قانون کے مطابق معاہدہ کرنے کا اختیا ررکھتا ہو،مختار نامہ جاری کرسکتا ہے۔
اختیار دینے والا اپنے مختار کے فوجداری جرم کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔اگر مختار نامہ میں دیے گئے امور کو انجام دیتے ہوئے کسی تیسرے فریق کا نقصان ہو جائے تو اختیار دینے والا اسکا ذمہ دار ہو گا۔
مختار نامے کی معیاد کتنی ہوتی ہے؟مختار نامہ جس مقصد کیلئے جاری کیا گیا ہو،مکمل ہوتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔اختیار دینے والا جب چاہے مختار نامہ ختم کرا سکتا ہے۔اس صورت میں وہ رجسٹرار کے پاس اسکی منسوخی درج کرائے گا اور ساتھ ہی اخبار میں اسکی منسوخی کا اشتہار بھی دے گا۔اگر اختیار دینے والے کی موت واقع ہوجائے تب بھی مختار نامہ منسوخ ہو جائے گا۔
For detailed information about "Mukhtar Nama" go through The Registration Act 1908.
طاہر چودھری،ایڈووکیٹ ہائیکورٹ،لاہور۔

28/11/2022

انٹرا کورٹ اپیل سے کیا مراد ہے ؟
INTRA COURT APPEAL (ICA)
(The Law Reforms Ordinance, 1972)

یہ اپیل کسی ہائی کورٹ کے سنگل جج صاحب کے فیصلے کے خلاف اسی عدالت کے دو یا تین ججز کے آگے دائر ہوتی ہے
مندرجہ بالا آرڈیننس کی دفعہ 3 کے تحت یہ اپیل دائر ہوتی ہے ۔(ہم یہاں پر صرف آئین پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر ہونے والی رٹ پیٹیشنز کے خلاف ہونے والی اپیل کے بارے میں بات کر رہے ہیں) اس کے لوازمات یہ ہیں یعنی اگر یہ تمام شرائط پوری ہوتی ہوں تو ICA دائر ہوتی ہے

1. زیر اپیل آرڈر ہائی کورٹ کے سنگل جج کا ہو۔

2.آرڈر یا decree ہائی کورٹ کی original civil jurisdiction میں پاس ہوئی ہو۔

3. جس رٹ پیٹیشن میں حکم ہوا ہو وہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت Habeas Corpus کی پٹیشن نہ ہو۔

4. جس کارروائی کے خلاف رٹ پیٹیشن دائر ہوئی ہو اس کارروائی میں کوئی اپیل ، نگرانی یا review کی آپشن موجود نہ ہو۔(جیسے 22-A کی پٹیشن کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل یا نگرانی نہیں ہے تو اس میں جو رٹ پٹیشن فائل ہوگی اس کے خلاف ICA ہو گی لیکن رینٹ یا فیملی کے مقدمات میں چونکہ اپیل موجود ہے اس لئے ان میں جو رٹ پٹیشن فائل ہوگی اس کے خلاف ICA نہیں ہو گی )

5. انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنے کی مدت بیس دن (Twenty Days)ہے

6. انٹرا کورٹ اپیل دائر کرتے ہوئے آرڈر کی کاپی ساتھ نہیں لگتی اس لئے آرڈر کا انتظار کئے بغیر اسے فائل کر دینا چاہئے کیونکہ مصدقہ کاپی لینے کا وقت اس سے منہا نہیں ہوتا۔

19/09/2022

ٹرانس جینڈر ایکٹ
(اردو متن)

اسے ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائیٹس) ایکٹ 2018 کہا جا سکتا ہے۔
اِس کا اطلاق پاکستان میں ہر جگہ ہو گا۔
اِس کا اطلاق فوری ہو گا۔

چیپٹر نمبر ایک:
تعاریف (Definitions)
تعریف یا ڈیفینیشنز میں ایکٹ برائے جینڈر پروٹیکشن رائیٹس، سی این آئی سی یعنی شناختی کارڈ، کمپلینینٹ یعنی شکایت کُنندہ، سی آر سی مطلب بچوں کا رِجسٹریشن فارم یا فارم ب / بی، جینڈر ایکسپریشن کا مطلب کِسی شخص کی صنفی شِناخت وُہ خُود یا دُوسرے کیسے کرتے ہیں، جینڈر آئیڈینٹیٹی یعنی صنفی شِناخت کا مطلب کہ وہ شخص اندر سے خُود کو کیسا محسوس کرتا ہے، بطور مرد، عورت، کُچھ کُچھ دونوں یا کُچھ بھی نہیں۔ یہ شناخت پیدائش کے وقت دِی گئی صنفی شِناخت سے مُطابقت رکھ سکتی ہے اور نہیں بھی رکھ سکتی۔ اِس کے بعد گورنمنٹ یعنی حکومت سے مُراد وفاقی حکومت ہے۔
ہراسمنٹ سے مُراد یا ہراسمنٹ میں جِنسی، جِسمانی، ذہنی اور نفسیاتی ہراسمنٹ مُراد ہے جِس کا مطلب یہ ہے کہ سیکس کے لیے متشدد رویے، دباؤ، ناپسندیدہ سیکشوئل ایڈوائس، دعوت دینا وغیرہ سمیت ایسے تمام رویے جو اِس ضِمن میں آتے ہیں وہ ہراسمنٹ کہلائے جائیں گے۔
نادرا کا مطلب شِناختی کارڈ و اعداد و شمار کی رجسٹریشن کا اِدارہ ہے۔ نوٹیفیکیشن جو گزٹ میں پبلش ہُوا ہو۔ پی ڈی ایم سی یعنی پاکستان میڈیکل این ڈینٹل ایسوسی ایشن، پی ڈی ایم سی آرڈینینس 1962۔
پرسکرائیبڈ مطلب وفاقی حکومت نے جو قوانین اِس ایکٹ میں بنائے / پاس کیے ہیں۔ رُولز مطلب جو قوانین اِس میں شامِل ہیں۔
ٹرانس جینڈر پرسن مطلب؛
درمیانی جِنس (خنسہ) مردانہ و زنانہ جِنسی اعضا کے ساتھ یا پیدائشی جِنسی ابہام، خواجہ سرا ایسا میل چائلڈ جو بوقت پیدائش میل درج کِیا گیا ہو لیکن جِنسی طور پر ناکارہ / خصی ہو گیا ہو، ایک ٹرانس جینڈر مرد یا عورت جِس کی صنفی، جِنسی شِناخت یا شِناخت کا اِظہار معاشرے کی عُمومی اقدار سے ہٹ کر ہو یا اُس صنفی شناخت سے ہٹ کر ہو جو اُنھیں بوقتِ پیدائش دِی گئی تھی۔
کوئی ایسا لفظ یا الفاظ جِس کی تعریف اِس ایکٹ میں نہیں کی گئی یا لِکھی گئی اُس کا مطلب وُہی لِیا جائے گا جو سی آر پی سی ( ضابطہ فوجداری 1898 ) یا پی پی سی ( 1860 ) تعزیراتِ پاکستان میں درج ہے۔

چیپٹر نمبر دو

ایک ٹرانس جینڈر کو اپنی جِنسی / صنفی شِناخت اُس شِناخت کے مُطابق درج کروانے کا حق ہوگا جو صنفی / جِنسی شِناخت وُہ خُود کو تصور کرتا ہے۔

ایک ٹرانس جینڈر اپنے آپ کو سب سیکشن وَن کے تحت اپنی تصور کردہ شِناخت یعنی self perceived identity کے مُطابق تمام نادرا یا دیگر حکومتی اِداروں میں درج کروا سکتا ہے۔

ہر ٹرانس جینڈر اپنے آپ کو نادرا آرڈینینس 2000 یا دیگر متعلقہ قوانین کے مُطابق اٹھارہ سال کی عُمر ہونے پر سیلف پرسِیوڈ جینڈر آئیڈینٹیٹی کے مُطابق شِناختی کارڈ، پاسپورٹ یا ڈرائیونگ لائسنس بنوا سکتا ہے۔

ایک ٹرانس جینڈر جس کا شناختی کارڈ پہلے ہی بن چُکا ہے وہ بھی نادرا آرڈینینس 2000 کے مُطابق his or her سیلف پرسِیوڈ آئیڈینٹٹی کو اپنے شناختی کارڈ، پاسپورٹ یا ڈرائیونگ لائسنس پر درج کروا سکتا ہے۔

چیپٹر نمبر تین:

تعلیمی، صحت یا دیگر اِداروں میں تعلیم یا سروسز سے منع کرنا، ختم کروانا، نااِنصافی پر مبنی رویہ، نوکری کرنے پر مجبور کرنا یا چھوڑنے سے زبردستی روکنا یا امتیازی سلوک منع ہے، غیرقانونی ہے۔ جو عوامی سہولیات ہیں، جو عوام کو دستیاب ہیں اُن سے روکنا، اُن کے استعمال سے روکنا، سفری سہولیات سے روکنا، عوامی سفری سہولیات استعمال کرنے سے منع کرنا، رہائش اختیار کرنے روکنا، جائیداد کی خرید و فروخت، کرایے پر عمارت لینے یا وراثتی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد سے محروم کرنے یا حق سے اِنکار کرنا بالکل غیر قانُونی ہوگا۔ اُنھیں جِنسی، جِسمانی طور پر گھر یا گھر سے باہر ہراساں کرنا بھی منع ہے۔

چیپٹر نمبر چار:
برائے حکومتی فرائض و ذمہ داریاں:

حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وُہ ٹرانس جینڈرز کی معاشرے اور سماج میں مکمل اور محفوظ شمولیت کو مُمکن بنائے۔ اِن کے لیے ری ہیب سینٹرز سمیت دیگر پناہ گاہیں بنائے، میڈیکل سہولیات مُہیا کرے، نفسیاتی علاج و مدد سمیت تعلیم بالغاں کا بندوبست کرے۔
ٹرانس جینڈرز جو جَرائم میں ملوث ہوں اِن کے لیے الگ جیل خانہ جات، حوالہ جات و حوالات بنائے جائیں۔
تمام اِدارے جیسے کہ صحت کا اِدارہ یا دیگر اِداروں میں ٹرانس جینڈر ایشیو کے لیے وقتاً فوقتاً آگاہی دِی جائے۔
اِنھیں ووکیشنل ٹریننگ دِی جائے تاکہ یہ اپنی روزی روٹی کا اِنتظام کر سکیں۔ اِنھیں آسان قرضے یا امداد دے کر چھوٹے کاروبار کرنے پر تیار کیا جائے۔
اِن تمام معاملات کو مکمل کرنا ہی اِس ایکٹ کا مقصد ہے۔

چیپٹر نمبر پانچ:
ٹرانس جینڈرز کے حقوق کا تحفظ:

وراثتی جائیداد یا وراثت سے بے دخل نہیں کِیا جا سکتا یا امتیازی سلوک نہیں روا رکھا جا سکتا۔ جو شناخت یہ اپنے آئی ڈی کارڈ پر درج کروائیں گے اُس کے مُطابق وراثتی حق مِلے گا۔ بطور مَرد اندراج والے کو مَرد کا اور بطور عورت اندراج کو بطور عورت وراثتی حق مِلے گا۔
جو اپنی مردانہ یا زنانہ شِناخت بارے ابہام کا شکار ہیں اُن پر درج ذیل اطلاق ہو گا۔
اٹھارہ سال کی عمر ہونے پر جِن کا اندراج بطور مَرد ہے / ہو گا اُنھیں بطور مَرد جب کہ بطور عورت اندراج ہونے پر بطور عورت وراثتی حق مِلے گا / دِیا جائے گا لیکن پھر بھی اگر کِسی کو صنفی ابہام ہو گا تو دو الگ الگ اشخاص یعنی مرد اور عورت کے وراثتی حقوق کا اوسط / ایوریج حِصہ دِیا جائے گا۔ اٹھارہ سال سے کم عُمر یعنی نا بالغ ہونے کی صُورت میں میڈیکل آفیسر کی رائے کے مُطابق طے ہو گا۔

8۔ حقِ تعلیم
اگر کوئی ٹرانس جینڈر کِسی سرکاری یا پرائیویٹ تعلیمی اِدارے کی باقی شرائط پر پُورا اُترتا ہے تو اُس کو تعلیم کے حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا یا امتیازی سلوک نہیں کِیا جا سکتا۔ اُنھیں تفریحی سہولیات یا کھیلوں میں شمولیت سے منع نہیں کِیا جا سکتا۔
حکومت اِسلامی جمہوریہ پاکستان کے اُنّیس سو تہتر کے آئین کے آرٹیکل پچیس اے کے مُطابق ٹرانس جینڈرز کو لازمی اور فری تعلیم کی ضمانت دینے اور سہولیات مُہیا کرنے کے اقدامات کرے گی۔
جِنسی و صنفی امتیاز پر مبنی رویے غیر قانونی ہوں گے۔ اُنھیں اِس بنیاد پر تعلیمی اِداروں میں داخلہ دینے سے منع کرنا، روکنا یا کِسی ٹریننگ پروگرام میں حِصہ لینے سے روکنا یا کِسی سہولت کو اِستعمال کرنے سے روکنا غیر قانونی ہو گا۔

9۔ نوکری کا حق
اِسلامی جمہوریہ پاکستان کے اُنّیس سو تہتر کے آئین کا آرٹیکل اٹھارہ جو اِن کے لیے جائز ذریعہ آمدنی، کاروبار یا نوکری کی ضمانت دیتا ہے اُس کا اطلاق کروایا جائے۔ کوئی بھی اِدارہ، محکمہ یا تنظیم نوکری، ترقی، تقرری، تبادلے یا متعلقہ معاملات میں امتیازی سلوک نہیں کر سکتا۔ جِنسی یا صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک غیر قانونی ہو گا۔ اِس بنیاد پر نوکری دینے یا پیشکش کرنے، اُن کی کِسی جگہ آمد و رفت یا پیش رفت ، ترقی ، ٹریننگ یا ایسے ہی فوائد کے حصول سے روکنا یا محدود کرنا غیر قانونی ہو گا۔ امتیازی سلوک برائے برخاستگی وغیرہ بھی غیر قانُونی ہے / ہو گا۔

10۔ ووٹنگ کا حق
کِسی ٹرانس جینڈر کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کِیا جا سکتا وہ بمطابق اپنے شناختی کارڈ ووٹ ڈال سکتا ہے۔

11۔ رائیٹ ٹُو ہولڈ پبلک آفس
عوامی عہدے کے اگر کوئی الیکشن میں حِصہ لینا چاہے تو اُسے نہیں روکا جا سکتا۔

12۔ صحت کا حق
حکومت کو چاہیے کہ وہ میڈیکل نصاب کا دوبارہ جائزہ لے، جو ریسرچ ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف کو ٹرانس جینڈرز کی صحت کے مسائل بارے ہے اُس کو مزید بہتر کیا جائے۔ اِن کو ہسپتالوں اور دیگر صحت کے مراکز پر سہولیات فراہم کی جائیں۔ اِن کو جِسمانی و نفسیاتی عِلاج، معالجے یا مدد کی فراہمی کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ جِنس کے تعین یا correction میں مدد دِی جائے۔

13۔ اکٹھے ہونے کا حق
بمطابق اُنّیس سو تہتر کے آئین کے آرٹیکل نمبر سولہ کے تحت دِیا جائے۔ حفاظت کا معقول بندوبست کِیا جائے۔ امتیازی سلوک نہ کِیا جائے۔

14۔ پبلک پلیسز میں داخلے کی سہولت
اِس کے مُطابق ٹرانس جینڈرز کو پبلک پلیس میں داخلے، سہولیات کے استعمال سے جِنسی یا صنفی وجوہات پر روکا نہین جا سکتا، امتیازی سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اِن کو روکنا یا امتیازی سلوک آئین کے آرٹیکل چھبیس کی خِلاف ورزی ہو گا۔

15۔ جائیداد کا حق
جائیداد کی خرید و فروخت، لِیزنگ یا کرائے پر حصول سے بوجوہ جِنس / صنف روکا نہیں جا سکتا۔ یہ غیر قانونی ہے۔

16۔ بنیادی حقوق کی ضمانت
آئین میں دیے گئے تمام بُنیادی حقوق کی ضمانت دِی جائے۔ یہ حکومتی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی قِسم کے امتیازی سلوک سے روک تھام اور بچنے کے اقدامات کرے۔

17۔ جَرائم اور سزائیں
جو بھی ٹرانس جینڈرز کو بھیک مانگنے پر رکھتا یا مجبور کرے گا اُس کو چھ ماہ تک کی جیل کی سزا یا پچاس ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

چیپٹر نمبر سات:
18۔ اینفورسمینٹ میکنزم
آئینِ پاکستان، تعزیراتِ پاکستان اور ضابطہ فوجداری میں درج و دستیاب "remedies" کے ساتھ ساتھ متاثرہ ٹرانس جینڈر کو اگر کسی جگہ اُن حقوق سے محروم رکھا گیا یا جائے گا جو اُنھیں آئین دیتا ہے تو اُسے وفاقی محتسب، نیشنل کمیشن فار سٹیس آف ویمن یا نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس کو درخواست دینے کا حق حاصل ہو گا۔

چیپٹر نمبر سات:
19۔ متفرق

19 : Act having over-riding effect to any other law :
اِس ایکٹ میں موجود پروژنز پہلے سے موجود قوانین سے متصادم ہونے کی صورت میں اُن پر بالا تصور ہوں گی یعنی اِن کی روشنی میں مزید معاملات برائے ٹرانس جینڈر دیکھے جائیں گے۔
20۔
حکومتی اختیار میں یہ شامل ہے وہ رولز بنائے، نوٹیفیکیشن جاری کرے یا اِس ایکٹ کے عمل درآمد کے لیے قوانین بنائے۔
21۔
حکومت کے پاس اختیار اور طاقت ہے کہ اگر اِس کے عمل درآمد میں کوئی مسائل یا مشکلات ہیں تو ایسے احکامات جاری کرے یا سرکاری گزٹ میں پبلش کرے۔ مسائل کو سامنے لا کر انھیں حل کرے تا کہ جلد از جلد رکاوٹ یا مشکل کو دُور کیا جا سکے۔ یہ سب دو سال کے اندر کیا جائے گا۔

22۔
Statement of Objects and Reasons
ٹرانس جینڈرز کی کمیونٹی کو سماجی بے دخلی اور امتیازی سلوک کے مسائل ہیں۔ تعلیمی سہولیات کی کم یابی، بے روزگاری، صحت کی سہولیات کی کمی اور اِسی طرح کے متعدد مسائل دَرپیش ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے دو ہزار نو میں ایک رولنگ پاس کی تھی کہ خواجہ سراؤں کو اُن کے بُنیادی حقوق سے کوئی قانون محروم نہیں رکھ سکتا۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل چھبیس اور ستائیس کی شِق نمبر ایک کے تحت تمام شہری قانون کی نظر میں مساوی ہیں۔ آرٹیکل اُنّیس آزادی رائے کی آزادی ہر شہری کو دیتا ہے لیکن پھر بھی ٹرانس جینڈرز کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔

18/08/2022
09/08/2022

PLD 2021 Balochistan 172
بلوچستان ہائی کورٹ کا وراثت میں خواتین کے حق سے متعلق تاریخی فیصلہ: ’اگر جائیداد خواتین شیئر ہولڈرز کا نام نکال کر منتقل کی تو یہ عمل کالعدم ہو گا‘
بلوچستان کی ہائی کورٹ نے وراثت میں خواتین کے حق سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ وراثت پہلے تمام شیئر ہولڈرز بشمول خواتین کے نام منتقل کی جائے اور پھر اس کے بعد اس کے انتقال کی کارروائی کی جائے گی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ’اگر کوئی بھی جائیداد خواتین شیئر ہولڈرز کا نام چھپا کر یا نکال کر منتقل کی گئی تو انتقال کا سارا عمل کالعدم ہو جائے گا اور سول عدالت سے رجوع کیے بغیر یہ سارا عمل پلٹا دیا جائے۔‘

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس کامران ملا خیل پر مشتمل بینچ نے کہا ہے کہ ’خواتین کے حقوق کا تحفظ قرآن مجید میں کیا گیا ہے جس سے انکار کسی صورت نہیں کیا جاسکتا لہذا خواتین اپنے متوفی کی میراث میں حقدار ہیں۔‘

عدالت نے یہ حکم بلوچستان کے سینیئر وکیل اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر صادر کیا۔

اس درخواست میں یہ کہا گیا تھا کہ وراثت میں خواتین کو ان کے حق سے محروم کیا جاتا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ سرکاری مدعا علیہان کو یہ حکم جاری کیا جائے کہ مووایبل اور ام مووایبل جائیداد میں خواتین کے حصے کو یقینی بنائیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ’فیصلے کی طرف جانے سے پہلے یہ بات ہمیں نوٹ کر لینی چاہیے کہ ہم اکیسویں صدی کا حصہ اور تعلیم یافتہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی خواتین شیئر ہولڈرز کو ان کے حق وراثت سے محروم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

عدالت نے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ہر فرد کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے اس عمل کی حوصلہ شکنی کریں اور اسے روکیں۔‘

عدالت کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی خاتون حصہ دار کو اس کے حق سے دستبرداری نامہ، تحفے، دلہن کا تحفہ، نگہداشت الاؤنس، جبر یا کسی بھی ذریعے سے اس کے متوفی وارث کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔‘

عدالت نے قرار دیا کہ اگر ان وجوہات یا کسی بھی طرح خاتون وارث کو وراثت سے محروم کیا گیا تو اس کے انتقال کا سارا عمل کالعدم ہو جائے گا۔‘

عدالت نے حکم دیا کہ بلوچستان بھر میں کہیں بھی سیٹلمنٹ کا عمل اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک یہ یقینی نہ بنایا جائے کہ خاتون وارثوں کے نام اس میں شامل کر لیے گئے ہیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق اگر کسی خاندان میں کوئی خاتون نہیں ہے تو ریونیو حکام متعلقہ تفصیلات میں خاص طور پر اس کا ذکر کریں گے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے بینچ نے کہا کہ سیکریٹری یا سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو اس ضمن میں یہ بات نہ صرف یقینی بنائیں گے بلکہ اپنے ماتحت ریونیو یا سیٹلمنٹ اہل کاروں کو بھی اس کی ہدایت کریں گے کہ کسی بھی علاقے میں سیٹلمنٹ آپریشن شروع کرنے سے قبل مطلوبہ علاقے کی مقامی زبان اور اردو میں کتابچے تقسیم کیے جائیں۔

عدالت نے کہا کہ یہ کتابچے اور ہینڈ بلزگرلز سکولوں، کالجز، ہسپتالوں میں لیڈی کانسٹیبل، لیڈی ٹیچر یا متعلقہ بنیادی صحت مرکز ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی نرس یا میڈ وائف کے ذریعے تقسیم کرائے جائیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ سیٹلمنٹ والے علاقوں کے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو پابند بنایا جائے کہ وہ ان علاقوں کی نہ صرف مساجد اور مدارس میں لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے اعلان کروائیں بلکہ سیٹلمنٹ آپریشن والے مقررہ علاقوں کی حدود میں نقاروں کے ذریعے علاقے میں بھی اعلانات کروائیں۔

عدالت نے ڈی جی نادرا کو حکم دیا کہ وہ متعلقہ ضلع و تحصیل کے ریونیو آفس میں رجوع کرنے یا درخواست دینے والوں کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کریں جو اس متوفی مورث کا شجرہ نسب فراہم کرے گا جس کی جائیداد تقسیم ہونی ہے، یا پھر سیٹلمنٹ آپریشن کے دوران مرحوم اور اس کی جائیداد میں تمام قانونی وارثین چاہے مرد ہوں یا خواتین، ان کے ناموں کی شمولیت یقینی بنائی جائے گی۔

ڈی جی نادرا کو یہ بھی حکم دیا گیا کہ وہ رجسٹریشن ٹریک سسٹم (RTS) کے ذریعے قانونی وارث خاتون کی شادی کے بعد اس کے شوہر کے شجرہ نسب میں نام کی شمولیت یقینی بنائے اور خواتین کو ان کے قانونی حق سے کسی بھی طرح محروم رکھنے سے بچانے کے لیے والد کی طرف سے بھی شجرہ نسب معلوم کرے۔

عدالت نے سیکرٹری اور ممبر بورڈ آف ریونیوکو حکم دیا کہ وہ ریونیو آفس میں خصوصی ڈیسک کے قیام تک شجرہ نسب کی فراہمی میں غیر ضروری تاخیر سے بچنے کے لیے ڈی جی نادرا کے مکمل میکنزم کی تشکیل کے لیے اجلاس بلوائیں اور میکنیزم کی تشکیل تک اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے عبوری طریقہ کار وضع کریں۔

عدالت کی جانب سے سکریٹری اور ممبر بورڈ آف ریونیو کو مزید حکم دیا گیا کہ وہ ایک شکایت سیل ایڈیشنل سیکرٹری رینک کے افسر کی نگرانی میں ریونیو آفس میں قائم کریں گے تاکہ سیٹلمنٹ آپریشن و وراثت کے عمل میں غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے اور اس کے ذریعے غیر قانونی مراعت کے امکان کو بھی رد کیا جا سکے۔

عدالت نے بورڈ آف ریونیو اور اس کے ماتحت عملے کو سختی سے حکم دیا کہ قانونی وارث کو محروم رکھنے کی شکایت موصول ہوئی تو ایسے غلط کام کرنے والوں کے خلاف تعزایرت پاکستان کے 498A کے تحت کیس درج کر کے قانونی کارروائی شروع کی جائے۔

فیصلے میں سول عدالتوں کو بھی ہدایت کی گئی کہ وراثت سے متعلق دائر مقدمات جو کہ زیرالتوا ہیں ان کا فیصلہ اس حکم کے موصول ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر کر دیا جائے یا پھر التوا کیسز کے لیے یہ مدت چھ ماہ سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر کوئی نیا مقدمہ قائم ہوتا ہے تو اسے بطور وراثت کا مقدمہ/اپیل/ رویژن/ پٹیشن درج کیا جائے اور اس کا فیصلہ تین ماہ میں بغیر مزید وقت دیے کر دیا جائے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اسی طرح ایپلٹ کورٹ اور ری ویژن کورٹ میں زیر التوا تمام درخواستوں کو ترجیحاً ایک ماہ میں نمٹا دیا جائے لیکن تاخیر کی صورت میں درخواست کو دو ماہ سے زیادہ التوا میں نہ رکھا جائے۔ عدالت عالیہ کی انسپکشن ٹیم کا ممبر ان احکامات پر من و عن عمل درآمد کے لیے سرکلر جاری کریں۔

فیصلے میں بلوچستان ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی شکایت متاثرہ شخص کی جانب سے کسی ریونیو سیٹلمنٹ اہلکار یا کسی بھی غیر سرکاری فرد کی بابت موصول ہوتی ہے کہ اس نے وراثت یا سیٹلمنٹ میں قانونی خاتون وارث کو محروم رکھا ہے تو درخواست ہائی کورٹ میں غور کے لیے پیش کی جائے۔ اور اس پر مناسب حکم دیے جانے کے بعد اسے فورا سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی اطلاع اور عملدرآمد کے لیے بھیجا جائے

All the settlement process and mutation entries carried out in the settlement without inclusion of the names of female legal heirs shall stand cancelled and in future any such exclusion or elimination with regard to female shareholder in the legacy of her/their deceased predecessor shall be curbed with iron hands by means of registering criminal cases against the offenders and case in this behalf shall be registered on behalf of the concerned revenue officials instead of complaining women with further directions to the DG NADRA and DG Public Relations, Govt. of Balochistan.

Following directions were issued by the High Court

I. The rights of women are being protected by the Holy Quran, which cannot be denied, thus, they are entitled to be given their/her right from the legacy of their/her deceased predecessor.

II. No mutation process of inheritance be carried out without transferring the property firstly in the name of all shareholders including female(s) and any property being transfer/mutated by concealing or excluding the name(s) of female(s) shareholder(s), the entire process would be treated as null and void, and liable to be reversed without even approaching the court of civil jurisdiction.

III. No female shareholder can be deprived from her right on basis of relinquishment/gift deed, bridal gift, maintenance allowance, payment of some cash for any erroneous consideration, force, or for any other means, whatsoever high it may be, other than right of inheritance in the legacy/property of her/their deceased predecessor. In case of any such reason stated hereinabove or leading to deprivation of female shareholder from her right of inheritances , the entire process would stand null and void,

IV. No Process of settlement is to be carried out anywhere in the province, unless it is assured that the name of female shareholders are provided and are included in the process, and in case, there is no female in the family, the Revenue Authorities must specifically mention the relevant details in this behalf .

V. The Secretary/Senior Member Board of Revenue shall ensure and direct his sub-ordinate revenue/settlement officials that before starting the settlement operation in any area of the province, the leaflet/handbill duly written in Urdu and local language of the respective area shall be distributed in the girls’ schools/colleges, hospitals and door to door by deputing a lady constable and if not available the lady teacher or midwife/nurse of the respective basic health unit (BHU)/District Head Quarter Hospital (DHQH).

VI. The respective Deputy Commissioners shall also be directed to arrange the announcement in Urdu and local language of the respective area on loudspeaker in the Masjids/Madrasas, followed by beat of drum in the streets/vicinities, within the precincts of the targeted area(s) of settlement operation.

VII. The DG NADRA is directed to establish an on call special desk facilities at the revenue office of the relevant District/Tehsil for provision of family tree of the deceased, whose property is either likely to be inherited or to be settled during the settlement operation to ensure inclusion of name(s) of female legal heir(s) of any deceased either male or female.

VIII. The DG NADRA is also directed to ensure that wherever the female legal heir after getting marriage is or has been included in the family tree of her husband, through registration track system (RTS), the origin of her father’s family shall also be ascertained to avoid any deprivation of legal right.

IX. The Secretary, Member Board of Revenue is directed to convene a meeting with the DG NADRA for evolving a comprehensive mechanism for avoiding unnecessary delay for provision of family tree of the deceased and till establishment of special facility at the revenue offices, an interim procedure shall be devised to achieve the objects of this judgment.

X. The Secretary, Member Board of Revenue is further directed to constitute a complaint cell at the Revenue Office(s) supervised by an officer not below the rank of Additional Secretary, to avoid any unnecessary delay in the process of inheritance as well as in the settlement operation and also to eradicate the possibility of illegal gratification.

XI. The Member Board of Revenue and his all sub-ordinate officials are strictly directed that in case of any complaint with regard to deprivation of any female legal heir(s) a legal action shall be initiated against the wrong doers by registering a criminal case under the provision of Section 498-A PPC. While for this purpose no female shall be compelled either to withdraw from her claim or to force her to initiate a criminal proceeding on her own, rather, it would be the duty of the concerned revenue official to lodge a criminal case.

XII. All civil suits relating to inheritance pending before the Civil Court are directed to be decided within three months from receipt of this judgment and such period in no case shall exceed six months, from today, whereas, if any suit is newly instituted, the same be registered as Inheritance Suit/appeal/revision/petition and be decided within three months without extension of further time. All the appeals and revisions pending before the Appellate Court and Revisional Courts are directed to be decided within one month preferably, but not later than two (02) months. The Member Inspection Team of this court shall circulate a circular and ensure that these directions are followed in letter and spirit within stipulated time.

XIII. The Registrar of this court is directed that if any complaint is received by any aggrieved person against any revenue/settlement official or by any private individual with regard to deprivation of female legal heir either in case of inheritance or settlement operation, the same be immediately placed before us for our perusal in chamber and after passing an appropriate direction same shall immediately be transmitted to Senior Member Board of Revenue for information and compliance.

XIV. Any application/complaint filed with regard to issue decided in this judgment shall be treated as an ex*****on application, which after entering as a Civil Miscellaneous Application shall be proceeded accordingly either under the Code of Civil Procedure, 1908, (CPC) or The Contempt of Court Act 2003, and as a criminal complaint under Section 200 Cr.P.C.

26/07/2022

سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پرویز الہٰی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دیدی اور پرویز الہٰی کو پنجاب کا وزیراعلیٰ قرار دیدیا۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پرویز الہٰی کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا۔

عدالتِ عظمیٰ نے حمزہ شہباز کی نئی کابینہ نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا جبکہ گورنر پنجاب کو آج ہی رات ساڑھے گیارہ بجے پرویز الہٰی سے وزارت اعلیٰ کا حلف لینے کی ہدایت کردی۔

اسی طرح عدالت نے قرار دیا کہ اگر گورنر پنجاب دستیاب نہ ہوں تو صدر مملکت پرویز الہٰی سے حلف لیں۔

عدالتِ عظمیٰ نے حمزہ شہباز کی جانب سے کی گئی تمام تقرریوں کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔

خیال رہے کہ فیصلہ سنانے کے وقت میں تاخیر ہوئی تھی جس کے بعد فیصلہ سنانے کے لیے شام ساڑھے 7 بجے کا وقت دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی بینچ میں شامل تھے۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے وکیل علی ظفر سے کہا تھا کہ قانونی سوالات پر معاونت کریں یا پھر ہم اس بینچ سے الگ ہو جائیں، جو دوست مجھے جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ اپنے کام کو عبادت کا درجہ دیتا ہوں۔

میرے مؤکل کی ہدایت ہے کہ عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بننا، عرفان قادر
ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری کے وکیل عرفان قادر نے کہا کہ میرے مؤکل کی ہدایت ہے کہ عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بننا، فل کورٹ کی استدعا مسترد کرنے کے خلاف پاکستان میں مثالی بائیکاٹ ہوا، فل کورٹ سے متعلق فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست دائر کریں گے۔

فاروق نائیک نے بھی کارروائی کے بائیکاٹ سے آگاہ کیا
پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو کارروائی کے بائیکاٹ سے آگاہ کر دیا۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے فاروق نائیک سے کہا کہ آپ تو کیس کے فریق ہی نہیں، ہمارے سامنے فل کورٹ بنانے کا کوئی قانونی جواز پیش نہیں کیا گیا، عدالت میں صرف پارٹی سربراہ کی ہدایات پر عمل کرنے سے متعلق دلائل دیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ موجودہ کیس میں فل کورٹ بنانے کی ضرورت نہیں، اصل سوال تھا کہ ارکان کو ہدایات کون دے سکتا ہے، آئین پڑھنے سے واضح ہے کہ ہدایات پارلیمانی پارٹی نے دینی ہیں، اس سوال کے جواب کے لیے کسی مزید قانونی دلیل کی ضرورت نہیں۔

فل کورٹ بنتا تو معاملہ ستمبر تک چلا جاتا: چیف جسٹس
چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ اس کیس کو جلد مکمل کرنے کو ترجیح دیں گے، فل کورٹ بنانا کیس کو غیرضروری التواء کا شکار کرنے کے مترادف ہے، فل کورٹ بنتا تو معاملہ ستمبر تک چلا جاتا کیوں کہ عدالتی تعطیلات چل رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے میں عدالتی فیصلوں سے واضح ہے کہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات پر عمل کرنا ہوتا ہے، جسٹس عظمت سعید نے فیصلے میں پارٹی سربراہ کی ہدایات پر عمل کرنے کا کہا، فریقین کے وکلاء کو بتایا تھا کہ آئین گورننس میں رکاوٹ کی اجازت نہیں دیتا۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کا کہنا ہے کہ صدر کی سربراہی میں 1988ء میں سپریم کورٹ نے نگران کابینہ کالعدم قرار دی تھی، عدالت کا مؤقف تھا کہ وزیرِ اعظم کے بغیر کابینہ نہیں چل سکتی، فل کورٹ کی تشکیل کیس لٹکانے سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ گورننس اور بحران کے حل کے لیے جلدی کیس نمٹانا چاہتے ہیں، آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں کون ہدایت دے گا یہ سوال نہیں تھا، تشریح کے وقت سوال صرف انحراف کرنے والے کے نتیجے کا تھا۔

وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ہم نے آئین و قانون کے مطابق مؤقف رکھا ہے، ہم نظرِ ثانی کی اپیل کا بھی حق رکھتے ہیں، نظر ثانی کی اپیل مسترد ہو گئی تو دیکھیں گے، پھر ہم نہیں چاہیں گے کہ نظرِ ثانی کی اپیل یہ بینچ سنے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا 17 میں سے 8 ججز کی رائے کی سپریم کورٹ پابند ہو سکتی ہے؟ فل کورٹ بینچ کی اکثریت نے پارٹی سربراہ کے ہدایت دینے سے اتفاق نہیں کیا تھا، آرٹیکل 63 اے کے کیس میں ہدایات کے معاملے پرکسی وکیل نے کوئی دلیل نہیں دی تھی، عدالت کو پارٹی سربراہ کی ہدایات یا پارلیمانی پارٹی ڈائریکشنز پر معاونت درکار ہے۔

چیف جسٹس نے وکیل علی ظفر سے کہا کہ قانونی سوالات پر معاونت کریں یا پھر ہم اس بینچ سے الگ ہوجائیں، جو دوست مجھے جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ اپنے کام کو عبادت کا درجہ دیتا ہوں، میرے دائیں بیٹھے حضرات نے اتفاقِ رائے سے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ شکر ہے کہ اتنی گریس باقی ہے کہ عدالتی کارروائی سننے کے لیے بیٹھے ہیں۔

پرویز الہٰی کے وکیل علی ظفر کے دلائل
عدالت نے پرویز الہٰی کے وکیل علی ظفر کو روسٹرم پر بلا لیا۔

پرویز الہٰی کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اکیسویں ترمیم کےخلاف درخواستیں فل کورٹ میں13/4 کے تناسب سے خارج ہوئی تھیں، درخواستیں خارج کرنے کی وجوہات بہت سے ججز نے الگ الگ لکھی تھیں۔

علی ظفر نے کہا کہ اکیسویں ترمیم کیس میں جسٹس جواد خواجہ نے آرٹیکل 63 اے کو خلاف آئین قرار دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 63 اے کی کچھ شقوں کو جسٹس جواد ایس خواجہ نے آئین سے متصادم قرار دیا۔

علی ظفر کا کہنا ہے کہ جسٹس خواجہ کی رائے تھی آرٹیکل 63 اے ارکان کو آزادی سے ووٹ دینے سے روکتا ہے، انہوں نے فیصلے میں اپنی رائے کی وجوہات بیان نہیں کیں، جسٹس جواد خواجہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا۔

آئین کیا کہتا ہے کہ کس کی ہدایات پر ووٹ دیا جائے؟ چیف جسٹس کا علی ظفر سے سوال
چیف جسٹس نے علی ظفر سے سوال کیا کہ آئین کیا کہتا ہے کہ کس کی ہدایات پر ووٹ دیا جائے؟

وکیل علی ظفر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے مطابق ووٹ کی ہدایات پارلیمانی پارٹی دیتی ہے۔

چیف جسٹس نے پھر سوال کیا کہ کیا پارلیمانی پارٹی اور پارٹی سربراہ سے الگ ہے؟

علی ظفر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی جماعت اور پارٹی لیڈر دو الگ الگ چیزیں ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ آئین کے تحت پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کے فیصلے پر عمل درآمد کراتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اپنے طور پر تو کوئی فیصلہ نہیں کرتی، جماعت کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی کو بتایا جاتا ہے جس کی روشنی میں وہ فیصلہ کرتی ہے۔

جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ پارٹی سربراہ کی کیا تعریف ہے؟ کیا پارٹی سربراہ صرف سیاسی جماعت کا سربراہ ہوتا ہے؟

وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ پرویز مشرف کے دور میں پارٹی سربراہ کی جگہ پارلیمانی سربراہ کا قانون آیا تھا، اٹھارہویں ترمیم میں پرویز مشرف کے قانون کو ختم کیا گیا۔

پارلیمانی لیڈر والا لفظ کہاں استعمال ہوا ہے؟ جسٹس اعجازالاحسن
جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ پارلیمانی لیڈر والا لفظ کہاں استعمال ہوا ہے؟

پرویز الہٰی کے وکیل نے کہا کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002ء میں سیاسی جماعتوں سے متعلق پارلیمانی پارٹی کا ذکر ہوا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ پارلیمانی پارٹی کی جگہ پارلیمانی لیڈر کا لفظ محض حقائق کی غلطی ہے۔

جسٹس اعجاز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 18 ویں اور 21ویں ترامیم کے کیسز میں آرٹیکل 63 کی صرف شقوں کو دیکھا گیا، آرٹیکل 63 اے سے متعلق پارٹی لیڈر کا معاملہ ماضی میں تفصیل سے نہیں دیکھا گیا۔

علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ آئین کا جائزہ لے کر قانون میں تبدیلی کا حکم دے سکتی ہے، سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں ترمیم بھی کر سکتی ہے۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ جج کے بار بار اپنی رائے تبدیل کرنے سے اچھی مثال قائم نہیں ہوتی، جج کی رائے میں یکسانیت ہونی چاہیے، میں اپنی رائے تب ہی بدلوں گا جب ٹھوس وجوہات دی جائیں گی۔

پرویز الہٰی کے وکیل علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن روسٹرم آ گئے
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ عدالت کی خدمت میں چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

جسٹس منیب اختر نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا وفاقی حکومت حکمران اتحاد کے فیصلے سے الگ ہو گئی ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 27 اے کے تحت عدالت کی معاونت کروں گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فیصلے میں کوئی غلطی نہ ہوجائے اس لیے سب کو معاونت کی کھلی دعوت ہے۔

پی ٹی آئی کے وکیل امتیاز صدیقی کے دلائل
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ سوال یہ ہے کہ خط پولنگ سے پہلے پارلیمانی پارٹی کے سامنے پڑھا گیا تھا یا نہیں، عدالت کے سامنے سوال یہ بھی ہے کہ فیصلے کو ٹھیک سے پڑھا گیا یا نہیں۔

پی ٹی آئی کے وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی سربراہ کی ہدایات بروقت آنی چاہئیں، ڈپٹی اسپیکر نے کہا کے مجھے چوہدری شجاعت کا خط موصول ہوا۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چوہدری شجاعت کے وکیل نے کہا کہ خط ارکان کو بھیجا گیا تھا۔

جسٹس اعجاز کا کہنا ہے کہ دیکھنا ہو گا کہ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا غلط استعمال تو نہیں کیا۔

تحریکِ انصاف کے وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ اسمبلی کی تمام کارروائی کا ریکارڈ موجود ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہر ایک کو دعوت ہے کہ عدالت کی معاونت کرے تا کہ آگے غلطی نہ ہو۔

پی ٹی آئی وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ پارٹی ہیڈ کی ہدایات اگر الیکشن سے پہلے ہوں تو کوئی تنازع نہیں، پارٹی ہیڈ کو اگر ووٹ سے متعلق ہدایت کا اختیار ہے تو ہدایات الیکشن سے پہلے آنی چاہئیں، وزیر اعلیٰ کے الیکشن میں چوہدری شجاعت کی ہدایات پولنگ کے بعد آئیں۔

اس کے ساتھ ہی پی ٹی آئی کے وکیل امتیاز صدیقی کے دلائل مکمل ہو گئے۔

جسٹس اعجازالاحسن اور فاروق نائیک میں دلچسپ مکالمہ
جسٹس اعجازالاحسن نے فاروق ایچ نائیک سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ نائیک صاحب اگر کچھ بہتری آ سکتی ہے تو عدالت سننے کے لیے تیار ہے۔

وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ ان مقدمات میں ہم پارٹی پالیسی کے پابند ہوتے ہیں، میں عدالت کی معاونت کرنے کے لیے تیار تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دوسری جانب سے وکلاء کارروائی میں حصہ نہیں لے رہے مگر سن رہے ہیں، اقوامِ متحدہ میں جن ممالک کی ممبر شپ نہیں ہوتی وہ سائیڈ پر بیٹھتے ہیں، اس وقت ان کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے اقوامِ متحدہ میں مبصر ممالک کی ہوتی ہے۔

جس کے بعد عدالت نے ڈھائی بجے تک سماعت میں وقفہ کیا تھا۔

سپریم کورٹ میں وقفے کے بعد ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پرویز الہٰی کی درخواست پر دوبارہ سماعت ہوئی۔

سابق ایڈوکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس روسٹرم پر آگئے
احمد اویس نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے سے قبل کچھ باتیں سامنے رکھے، 3 ماہ سے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا معاملہ زیرِ بحث تھا۔

انہوں نے کہا کہ ق لیگ کے تمام ارکان کو علم تھا کہ کس کو ووٹ دینا ہے، میری گزارش ہو گی کہ الیکشن سے قبل کا بھی سارا ریکارڈ دیکھا جائے، سپریم کورٹ تمام پہلوؤں کو مدِ نظر رکھے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دوسرے فریقین نے بعض عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا تھا۔

وکیل علی ظفر نے کہا کہ جن فیصلوں کا حوالہ دیا گیا ان پر کچھ گزارشات کرنا چاہوں گا، آرٹیکل 63 اے کے تحت منحرف ارکان کے خلاف ایکشن پارٹی سربراہ لے گا، پارٹی سربراہ منحرف ارکان کے خلاف ڈکلیئریشن بھیجتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فریقِ دفاع کا کہنا ہے پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کو کنٹرول کرتا ہے۔

وکیل علی ظفر نے کہا کہ پارٹی کے اندر تمام اختیارات سربراہ کے ہی ہوتے ہیں، پارٹی سربراہ کے اختیارات کم نہیں ہونے چاہئیں، آرٹیکل 63 میں ارکان کو ہدایت دینا پارلیمانی پارٹی کا اختیار ہے، پارٹی سربراہ کے کردار کی کوئی نفی نہیں کر رہا، پارلیمانی پارٹی پر کس کا زیادہ کنٹرول ہے یہ مدعا زیرِ بحث نہیں۔

وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں پارلیمانی پارٹی کے اندرونی کارروائی ایک طرح چلتی ہے، برطانیہ میں بورس جانسن نے پارلیمانی پارٹی کے کہنے پر استعفیٰ دیا، پارٹی سربراہ تحریکِ عدم اعتماد، بجٹ وغیرہ پر اراکین کو اپنے اختیارات کے تحت قائل کرتا ہے، پارٹی سربراہ ممبران کو ڈکٹیشن نہیں دے سکتا۔

جسٹس اعجاز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واضح ہے اگر کسی ممبر کو پارٹی پالیسی کے مطابق ووٹ نہیں دینا تو استعفیٰ دے کر دوبارہ آ جائے۔

پرویز الہٰی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ عائشہ گلالئی کیس میں عدالت پارٹی سربراہ کی ہدایات کا طریقے کار دے چکی ہے۔

عائشہ گلالئی کیس کا فیصلہ تو آپ کے مؤکل کے خلاف جاتا تھا، جسٹس اعجازالاحسن
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ عائشہ گلالئی کیس کا فیصلہ تو آپ کے موکل کے خلاف جاتا تھا۔

علی ظفر نے جواب دیا کہ عائشہ گلالئی کیس میرے مؤکل کے خلاف لیکن آئین کے مطابق ہے، عائشہ گلالئی کیس میں بھی منحرف ہونے کا سوال ہی سامنے آیا تھا۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا عائشہ گلالئی کیس میں لکھا ہے کہ ہدایت کون دے گا؟

علی ظفر نے جواب دیا کہ عائشہ گلالئی کیس میں ارکان کو مختلف عہدوں کے لیے نامزد کرنے کا معاملہ تھا، عائشہ گلالئی کیس میں قرار دیا گیا کہ پارٹی سربراہ یا اس کا نامزد نمائندہ نااہلی کا ریفرنس بھیج سکتا ہے۔

کوئی شبہ نہیں پارٹی سربراہ کا اہم کردار ہے، چیف جسٹس
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ اختیارات پارٹی ہیڈ کے ذریعے ہی منتقل ہوتے ہیں، کوئی شبہ نہیں کہ پارٹی سربراہ کا اہم کردار ہے تاہم ووٹنگ کے لیے ہدایات پارلیمانی پارٹی ہیڈ دیتا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ منحرف اراکین میں سے کتنوں نے ضمنی انتخاب میں حصہ لیا۔

وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ 25 منحرف اراکین میں سے 18 نے ضمنی انتخابات لڑے اور 17 کو شکست ہوئی۔

ڈسپلن کے تحت آئندہ روسٹرم پر آکر ہی بات کیا کریں، چیف جسٹس کی فیصل چوہدری کو ہدایت
چیف جسٹس نے فیصل چوہدری کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ڈسپلن کے تحت آئندہ روسٹرم پر آ کر ہی بات کیا کریں۔

وکیل علی ظفر نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق نہیں دی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز عدالت میں بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا تھا، سپریم کورٹ کس قانون کے تحت الیکشن کمیشن کے فیصلوں کی پابند ہے؟

وکیل علی ظفر نے کہا کہ کوئی قانون سپریم کورٹ کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کا پابند نہیں بناتا۔

جسٹس اعجاز نے ریمارکس دیے کہ فریقِ دفاع کے مطابق منحرف ارکان کے کیس میں ہدایات پارٹی ہیڈ عمران خان نے دی، فریقِ دفاع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم ہوا تو 25 ارکان بحال ہوجائیں گے، فریقِ دفاع کا کہنا ہے کہ اپیل منظور ہونے سے حمزہ کے ووٹ 197 ہو جائیں گے۔

پرویز الہٰی کے وکیل نے کہا کہ منحرف اراکین کے کیس میں یہ نکتہ ممبران کو ہدایات کا نہیں شوکاز نوٹس نہ ملنے کا ہے۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد بہت پیشرفت ہو چکی: جسٹس اعجازالاحسن
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد بہت پیش رفت ہو چکی ہے۔

وکیل علی ظفر نے کہا کہ وزارتِ اعلیٰ کے الیکشن پر ہائی کورٹ کا فیصلہ آ چکا ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ پاسٹ اینڈ کلوز ٹرانزیکشن ہو چکا ہے۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے یکم جولائی کو فریقین کے آپس میں اتفاقِ رائے سے فیصلہ دیا تھا، سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن ہوگا جس پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا تھا، کیا اب دوسری جانب سے اعتراض اٹھایا جا سکتا ہے؟

علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اب دوسری جانب سے اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا اب معاملہ ختم ہو چکا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ عدالت کو رضامندی دی گئی کہ ضمنی الیکشن ہونے دیے جائیں، یہ یقین دہانی بھی دی گئی کہ ضمنی الیکشن کے نتائج پر رن آف الیکشن کرایا جائے گا۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا رضا مندی دیتے وقت حمزہ شہباز عدالت میں موجود تھے؟

پرویز الہٰی کے وکیل نے جواب دیا کہ جی، حمزہ شہباز عدالت میں موجود تھے، دورانِ سماعت اس قسم کے اعتراضات کرنا بیوقوفی ہے، بہت سا پانی پل کے نیچے سے گزر چکا ہے، وزیرِ اعلیٰ اور ڈپٹی اسپیکر کے وکلاء میرٹ پر عدالتی سوالات کے جواب نہیں دے سکے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا معاملہ طے ہو چکا، اب مزید تشریح کی ضرورت نہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن روسٹرم پر آگئے
ایڈشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 27 اے کے تحت معاونت صرف اٹارنی جنرل کر سکتے ہیں، عدالت اجازت دے تو ہی معاونت کرسکتا ہوں۔

چیف جسٹس نے عامر رحمٰن کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل ملک سے باہر اور زیرِ علاج ہیں، ان کی واپسی کا انتظار نہیں کرسکتے، آپ اپنے دلائل کا آغاز کریں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہدایات پارلیمانی پارٹی یا پارٹی صدر جاری کرے گا اس کی واضح تشریح نہیں، آرٹیکل 63 اے کے فیصلے میں واضح ہے کہ ووٹ شمار نہیں ہو گا، سیاسی جماعت کے نمائندوں کی کیا ذمے داریاں ہیں؟

سب کو معلوم ہے پارلیمانی پارٹی سے مراد کیا ہے، جسٹس منیب اختر
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 63 اے میں پارلیمانی پارٹی واضح لکھا ہے، سب کو معلوم ہے کہ پارلیمانی پارٹی سے مراد کیا ہے، آرٹیکل 63 اے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کو اختیار دینا ضروری ہے، پارلیمانی پارٹی کو مضبوط کرنا پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 2015ء کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ہدایت دے سکتا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر جب تک نظرِثانی نہ ہو اس پر عمل در آمد لازمی ہے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ہر فیصلے پر عمل در آمد لازمی نہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیصلے موجود ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے ہر عدالت کے لیے بائنڈنگ ہیں۔

جسٹس منیب اختر نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی دلیل عجیب و غریب ہے، وہاں اس کیس میں تو ووٹنگ کا سوال ہی نہیں تھا۔

اٹھارہویں اور اکیسویں ترمیم میں اکثریتی رائے کا اطلاق ہم پر لازم نہیں: چیف جسٹس
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اٹھارہویں اور اکیسویں ترمیم میں اکثریتی رائے کا اطلاق ہم پر لازم نہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹھارہویں اور اکیسویں ترمیم کیس کے فیصلے کا اطلاق لازم ہے۔

جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کے فیصلے کا اطلاق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی پر لازم ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے کہا کہ نہیں اطلاق لازم نہیں ہے۔

جسٹس منیب اختر نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے دلائل مطابقت نہیں رکھتے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر ڈپٹی اسپیکرکے ذہن میں 21 ویں ترمیم کیس کا فیصلہ تھا تو اسے لکھنا چاہیے تھا۔

سپریم کورٹ آئین کی مضبوطی چاہتی ہے: چیف جسٹس
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آئین کی مضبوطی چاہتی ہے، تمام وکلاء کے شکر گزار ہیں۔

PDM نے NRO کے سوا ہر چیز کا بائیکاٹ کیا: بابر اعوان
قانون دان، پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ڈی ایم نے معیشت کا، مسئلہ کشمیر کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوائے این آر او کے پی ڈی ایم نے دیگر سب چیزوں کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔

مونس الہٰی سپریم کورٹ پہنچ گئے
اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی کے صاحبزادے مونس الہٰی ق لیگ کے ایم پی ایز کے ہمراہ سپریم کورٹ پہنچ گئے۔

صحافی نے مونس الہٰی سے سوال کیا کہ کوئی بڑا فیصلہ آئےگا؟ بائیکاٹ کا کیا اثر پڑے گا؟

مونس الہٰی نے کہا کہ بائیکاٹ کام شروع ہونے سے پہلے ہوتا ہے، کام شروع ہونے کے بعد کون بائیکاٹ کرتا ہے۔

شاہ محمود قریشی سپریم کورٹ پہنچ گئے
تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی سپریم کورٹ پہنچ گئے۔

شاہ محمود قریشی نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم مسترد شدہ قیادت ہے ان کے خلاف عدالت سے رجوع کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم عدلیہ کو کیا مسترد کرے گی، انہیں قوم نے مسترد کر دیا ہے۔

میڈیا کو نہیں بتاسکتے، عدالت کو بتائیں گے، فاروق ایچ نائیک
پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے پیش ہو کر بتائیں گے کہ کیا کررہے ہیں۔

صحافی نے فاروق ایچ نائیک سے سوال کیا کہ عدالت کو بتائیں گے کہ بائیکاٹ کر دیا؟

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میڈیا کو نہیں بتاسکتے، عدالت کو بتائیں گے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس کی سماعت کا حکم نامہ جاری
سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس کی سماعت کا حکم نامہ جاری کر دیا۔

سپریم کورٹ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ فل کورٹ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے، فل کورٹ تشکیل نہ دینے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حمزہ شہباز، ڈپٹی اسپیکر اور دیگر وکلاء کی طرف سے مزید وقت مانگا گیا، فریق دفاع کے وکلاء کی مزید وقت کی استدعا منظور کی جاتی ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم نامے میں کہا گیا کہ تمام وکلاء 26 جولائی کو مقدمے کی تیاری کر کے آئیں۔

فل کورٹ بنانے کی تمام درخواستیں مسترد
گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے فل کورٹ بنانے کی تمام درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔

سپریم کورٹ نے فل کورٹ بنانے سے متعلق تمام درخواستیں مسترد کردیں

عدالت نے کہا تھا کہ فل کورٹ نہ بنانے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ معاملے کی بنیاد قانونی سوال ہے کہ ارکانِ اسمبلی کوہدایت پارٹی سربراہ دے سکتا ہے یا نہیں؟

حکومت کا عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان
دوسری جانب حکومت نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں اسپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواستوں کی عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔
حکمراں اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے کیس میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ 3 ججوں کے بجائے فل بینچ سماعت کرے، تاہم عدلیہ نے غور کے بجائے مطالبہ مسترد کر دیا۔

PDM رہنماؤں کا ہر جملہ توہینِ عدالت ہے، شاہ محمود
تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم رہنماؤں کی پریس کانفرنس کا ایک ایک جملہ توہینِ عدالت ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کہا گیا کہ بائیکاٹ کریں گے، ایگزیکٹو نے عدلیہ پر حملہ کیا ہے۔

In view of the foregoing and for detailed reasons to be recorded later and such elaboration and amplification as may be necessary, the titled constitutional petition is allowed. The sole question of public importance with reference to enforcement of fundamental rights involved in this petition is whether the understanding and implementation of the short judgment of this Court dated 17.05.2022 passed in Presidential Reference No.1 of 2022 read with Article 63A(1)(b) of the Constitution of Islamic Republic of Pakistan, 1973 (“the Constitution”) was correct. We find that the understanding and implementation of the said short judgment as well as the provisions of Article 63A(1)(b) of the Constitution by the Deputy Speaker, Provincial Assembly of Punjab, Lahore (Respondent No.1) was patently incorrect and erroneous and cannot be sustained. The governance of the Province of Punjab in accordance with the Constitution has been subverted whereby the fundamental rights of the people have been seriously infringed. As a result, the Ruling dated 22.07.2022 issued by Respondent No.1, Deputy Speaker, Punjab Assembly is set aside and declared to be void, without lawful authority and of no legal effect.
In consequence of the above, having admittedly secured 186 votes as against 179 votes obtained by Mr.Hamza Shehbaz Sharif (Respondent No.2) in the runoff election of Chief Minister, Punjab held on 22.07.2022 pursuant to the consent order of this Court dated 01.07.2022 passed in Civil Petition No.2242 of 2022, Chaudhry Parvez Elahi (the petitioner) is declared as the duly elected Chief Minister, Punjab.
We direct the Chief Secretary, Punjab (Respondent No.3) to immediately and forthwith and on announcement of this short order issue the requisite notification declaring the petitioner as the duly elected Chief Minister, Punjab.
In consequence of the foregoing, it is declared that Respondent No.2 not being the duly elected Chief Minister, the oath of office administered to him was and is without lawful authority and of no legal effect. Likewise all acts, deeds and things attendant and consequent upon such oath including but not limited to the notification of Respondent No.2 and the formation and swearing in of the Cabinet on his advice is also declared to be without lawful authority and of no legal effect.

All Advisors, Special Advisors and Special Assistants etc (if any) by whatever name called appointed by, on behalf or under orders/advice of Respondent No.2 shall immediately and forthwith cease to hold office, their appointment is declared illegal and without lawful authority and the respondent No.2, the persons appointed as Minsters on his advice and the aforementioned persons are relieved of their offices/posts with immediate effect.
We direct the Governor, Punjab to arrange and administer oath of office to the petitioner as the duly elected Chief Minister, Punjab in accordance with law and the Constitution not later than 11:30 pm tonight i.e. 26.07.2022. In case, the Governor, Punjab is unable or unwilling to administer such oath, the President of Pakistan may forthwith administer oath of office to the petitioner as Chief Minister, Punjab.

All acts, deeds and things lawfully done or purported to be done by Respondent No.2 and or any Member of the Provincial Cabinet in accordance with the Constitution and the law under colour of office are hereby saved and protected under the de facto doctrine subject to all just and legal exceptions and such review, modification, reversal or withdrawal as may be deemed appropriate by the incoming Chief Minister, Punjab and any member of the Cabinet or other officer appointed by him in accordance with law. 18. The office shall immediately communicate/ transmit a copy of this order to the Governor Punjab, Respondent No.1 (Deputy Speaker, Provincial Assembly of Punjab, Lahore) as well as Respondent No.3 (Chief Secretary, Punjab) for implementation and compliance of the same.
CONSTITUTION PETITION NO.22 OF 2022
AGAINST THE RULING OF DEPUTY SPEAKER, PUNJAB ASSEMBLY DATED 22.07.2022
Chaudhry Parvez Elahi Petitioner(s) Versus Deputy Speaker, Provincial Assembly of Punjab, Lahore and others

Address

Office No. 10, Barrister Arcade, Opposite To Family Court Complex, G-10/1
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bahadar Khan Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category