Adv Abdul Majeed MahaR

Adv Abdul Majeed MahaR Adv Abdul Majeed Mahar
Islamabad High court.. IIU Islamabad

پنجاب میں  دفعہ 144،انٹرنیٹ بند،راستےبند ،اسلام آباد میں کنٹینرز،ہزاروں پولیس فورس منگوالی گئ،جگہ جگہ خندقیں کھودی جارہی...
23/09/2026

پنجاب میں دفعہ 144،انٹرنیٹ بند،راستےبند ،اسلام آباد میں کنٹینرز،ہزاروں پولیس فورس منگوالی گئ،جگہ جگہ خندقیں کھودی جارہی ہے،پکڑ دھکڑ جاری،عوام کےکروڑوں روپےان بےتکے کاموں پر لگانے،عوام کو اذیت میں ڈالنےسےبہتر ہے پی ٹی آئی کےآئین وقانون کےمطابق جائزمطالبات ہیں وہ تسلیم کریں
ان کا مطالبہ ہے عمران خان کو علاج کے لئے ذاتی معالج اور فیملی کی نگرانی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال سے کروانے کی اجازت دی جائے ۔۔
عمران خان صاحب کے تمام کیسز آئین وقانون کے مطابق سن کر فیصلے کئے جائیں
تمام سیاسی اسیران پر جھوٹے مقدمات ختم کرکے انصاف کیا جائے
ایک قیدی کے جو بنیادی حقوق ہیں جس میں فیملی ،وکلاء سے ملاقات،اخبار،کتابیں،ٹی وی ،ورزش کی سہولت وہ دی جائے
قید تنہائی فوری ختم کی جائے
ملک کو آئین وقانون کے مطابق چلایا جائے ۔۔
ان میں سے کوئ ایک مطالبہ ایسا نظر نہیں آرہا جو خلاف قانون ہو یا نا ماننے جیسا ہو ۔
اس لئے پکڑ ،دھکڑ ،گرفتاریوں ،روڈ راستے بند کرنے کنٹینرز اور فورس پر اربوں خرچ کرنے اور راستے ،انٹرنیٹ بند کرکے کاروبار بند کرواکر عوام کو مزید مشکل میں ڈالنے سے بہتر ہیں مطالبات تسلیم کریں اور ثابت کریں کہ اس ملک میں آئین وقانون اور جمہوریت تھوڑی بہت اب بھی موجود ہے

23/09/2026

شہباز حکومت نے جون میں دکانداروں کیلئے ٹیکس اسکیم کا اعلان کیا، فروخت پر صرف 1% ٹیکس۔ 4 ماہ بعد صرف 2 نئے دکاندار اسکیم میں شامل ہوئے ہیں۔ دوسری طرف تنخواہ دار طبقے کا خون نچوڑ لیا ہوا ہے، پیٹرول پر لیوی الگ ظلم ہے۔

23/09/2026

Jamait Islami train March 😅

علیمہ اور عظمی خان کے گھروں پر چھاپوں کے دوران کیا ہواپولیس نے دروازے توڑے، خواتین سے بدتمیزی کی، علیمہ خان کی بہو جو اپ...
22/09/2026

علیمہ اور عظمی خان کے گھروں پر چھاپوں کے دوران کیا ہوا

پولیس نے دروازے توڑے، خواتین سے بدتمیزی کی، علیمہ خان کی بہو جو اپنے دو سالہ اور سات سالہ بچے کے ساتھ تھیں انکو دھمکایا گیا اور گرفتار کیا گیا دو سالہ بچے کے رونے پر ماں کو چھوڑ دیا گیا۔ گھر سے بچوں اور ملازمین تک کو تھانے لے جایا گیا۔ تاحال گھر کے باہر پولیس اور ناکے موجود ہیں۔ عمران خان کی فیملی کا بیان

جماعت اسلامی کی بھی کیا زندگی ہے ۔۔لانگ مارچ ملتوی کردیا ایک کال پر
22/09/2026

جماعت اسلامی کی بھی کیا زندگی ہے ۔۔
لانگ مارچ ملتوی کردیا ایک کال پر

اسلام آباد ہائیکورٹ صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخواہ جنید اکبر کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی درخواست دائر 14 ست...
22/09/2026

اسلام آباد ہائیکورٹ صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخواہ
جنید اکبر کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی درخواست دائر
14 ستمبر کو ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سمیت 3 ججز پر مشتمل لارجر بینچ نے تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کیخلاف ایک فیصلہ صادر کیا جس میں" لانگ مارچ کی اسلام آباد داخلے پر پابندی، چاروں صوبوں کے افسران کو روکنے کی ہدایت، سرکاری مشینری کے استعمال نہ ہونے اور فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف کارروائی وغیر شامل تھی، جنید اکبر نے دو روز پہلےایک بیان دیاجس میں انھوں نے مکمل جملہ بولا کہ " ہم اسلام آباد بار بار آئیں گے یہ ہمیں ماریں جو بھی کریں اسی طرح جیسے سومنات پر حملے ہوئے" جس پر آج اسلام آباد کے محب وطن اسی "تاجر" جس تاجر کی درخواست پر 14 ستمبر کا فیصلہ آیا اسنے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے جس میں جنید اکبر کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی استدعا کی ہے، کہ جنید اکبر نے " سومنات " کا بیان دیکر ہائیکورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے

سپریم کورٹ آف پاکستان کا نکاح، مہر اور نکاح نامہ سے متعلق اہم ترین فیصلہ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چار رکنی بینچ نے مورخ...
22/09/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان کا نکاح، مہر اور نکاح نامہ سے متعلق اہم ترین فیصلہ۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چار رکنی بینچ نے مورخہ 22 ستمبر 2026ء کو، مسماۃ فروا نورین بنام حسن علی آغا وغیرہ میں نکاح، مہر، نکاح نامہ اور اس کے مختلف کالمز کی قانونی حیثیت اور تشریح سے متعلق متعدد اہم قانونی سوالات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے نہایت اہم اصول وضع کیے ہیں۔ اس فیصلے میں اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ اسلامی قانون کے تحت نکاح محض ایک عام سول معاہدہ نہیں بلکہ ایک منفرد قانونی ادارہ ہے، جس میں معاہداتی خصوصیات کے ساتھ ساتھ مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داریاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ عدالت نے مہر کی قانونی نوعیت، نکاح نامہ کی حیثیت، مہر کے طور پر غیر منقولہ جائیداد کی منتقلی، نکاح نامہ کے مختلف کالمز کی باہمی نسبت اور ان کی تشریح کے اصولوں کو بھی تفصیل سے واضح کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ مہر محض نکاح کے عوض دی جانے والی کوئی روایتی یا صرف معاہداتی عوضی رقم نہیں بلکہ اسلامی قانون کے تحت شوہر پر عائد ہونے والی ایک مستقل قانونی ذمہ داری ہے۔ اسلامی قانون میں مہر کی کوئی زیادہ سے زیادہ حد مقرر نہیں، لہٰذا کوئی بھی جائز اور قابلِ قدر چیز مہر کے طور پر مقرر کی جا سکتی ہے۔ مہر نقد رقم، سونا، زیورات، منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد، سامان، کمپنی کے حصص، منافع یا کسی بھی دوسری جائز اور قابلِ قدر ملکیت کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ مہر کی مقدار یا اس کا موضوع نکاح سے قبل، نکاح کے وقت یا دورانِ ازدواج مقرر کیا جا سکتا ہے اور نکاح کے قائم رہنے کے دوران مہر میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

نکاح نامہ کے کالم نمبر 13، 14، 15 اور 16 کے باہمی تعلق کے حوالے سے عدالت نے قرار دیا کہ یہ تمام کالم مہر ہی سے متعلق ہیں، تاہم ہر کالم مہر کے ایک مختلف پہلو کو بیان کرتا ہے اور یہ ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ باہم معاون اور تکمیلی ہیں۔ عدالت کے مطابق ان کالمز کو الگ الگ اور ایک دوسرے سے منقطع کرکے نہیں پڑھا جا سکتا بلکہ ان کی ایسی ہم آہنگ تشریح کی جانی چاہیے جس سے ہر اندراج کو، جہاں تک ممکن ہو، مؤثر قانونی معنی حاصل ہو۔

عدالت نے کالم 13 میں استعمال ہونے والے الفاظ "Amount of Dower" کی بھی وضاحت کی اور قرار دیا کہ یہاں لفظ "Amount" سے مراد صرف نقد رقم نہیں بلکہ مہر کی مقدار یا نوعیت ہے۔ اس لیے اس کالم کو محض نقد رقم تک محدود کرنا اسلامی قانون اور قانونی اسکیم کے مطابق درست نہیں ہوگا۔ کالم 13 میں فریقین کے درمیان طے شدہ مہر کو درست طور پر درج کیا جانا چاہیے، خواہ وہ نقد رقم، منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد، سونا، زیورات یا کسی بھی جائز قابلِ قدر چیز کی صورت میں ہو۔

کالم 14 مہر کے اس حصے کی وضاحت کرتا ہے جو فوری یا معجل (Mu'ajjal) ہے اور اس حصے کی بھی جو مؤجل (Mu'wajjal) ہے۔ کالم 15 میں یہ درج کیا جاتا ہے کہ نکاح کے وقت مہر کا کوئی حصہ ادا کیا گیا یا نہیں، اور اگر ادا کیا گیا ہو تو اس کی رقم یا مالیت کیا ہے۔ جبکہ کالم 16 اس صورت سے متعلق ہے جب مکمل یا جزوی مہر کے عوض کوئی جائیداد دی گئی ہو۔ اس کالم میں متعلقہ جائیداد کی شناخت، تفصیل اور فریقین کے درمیان طے شدہ مالیت درج کرنا ضروری ہے۔

عدالت نے بالخصوص واضح کیا کہ کالم 16 میں درج جائیداد کو کالم 13، 14 اور 15 میں درج مہر کا لازماً متبادل تصور نہیں کیا جا سکتا۔ قانون میں ایسا کوئی تقاضا موجود نہیں کہ کالم 16 میں درج مہر، دوسرے کالمز میں درج مہر کو خارج کر دے۔ اگر مقننہ کی منشا یہ ہوتی کہ کالم 16 میں درج جائیداد کالم 13، 14 اور 15 میں درج مہر کا متبادل ہوگی تو قانون میں اس امر کو واضح طور پر بیان کیا جاتا۔ لہٰذا ان تمام کالمز کا مجموعی اور ہم آہنگ مطالعہ کیا جانا چاہیے، اور ان میں درج مہر کو فریقین کے مجموعی طور پر طے شدہ حقِ مہر کے تناظر میں سمجھا جائے گا۔

عدالت نے ایک نہایت اہم قانونی مسئلے کا بھی جائزہ لیا جو مہر کے طور پر غیر منقولہ جائیداد مقرر کیے جانے کے بعد اس جائیداد کی منتقلی میں رکاوٹ سے متعلق ہے۔ عدالت کے سامنے ایسی صورتیں بھی آئیں جہاں شوہر نے نکاح نامہ میں ایسی غیر منقولہ جائیداد مہر کے طور پر درج کی جو اس کی مکمل ملکیت یا قبضے میں نہیں تھی، یا وہ جزوی طور پر اس کی ملکیت تھی، یا جائیداد کے مکمل کوائف درج نہیں کیے گئے تھے، یا بعد ازاں اس جائیداد کی ملکیت کسی عدالتی کارروائی کے نتیجے میں شوہر کے ہاتھ سے نکل گئی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہو کہ کوئی غیر منقولہ جائیداد مکمل یا جزوی مہر کے عوض بیوی کو دی جائے گی تو نکاح نامہ میں اس کا اندراج عموماً اس جائیداد کی منتقلی کے معاہدے یا عہد کو ظاہر کرتا ہے۔ شوہر محض اس وجہ سے اپنے عہد اور بیوی کے حقِ مہر کو ختم نہیں کر سکتا کہ مذکورہ جائیداد بالآخر بیوی کو منتقل نہ ہو سکی یا شوہر اسے برقرار رکھنے میں ناکام رہا۔ جائیداد کی منتقلی میں ناکامی بذاتِ خود مہر کی بنیادی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتی۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر مہر کے طور پر مقرر کردہ غیر منقولہ جائیداد بالآخر بیوی کو منتقل نہ کی جا سکے تو شوہر بدستور مہر کی ذمہ داری ادا کرنے کا پابند رہے گا۔ ایسی صورت میں اگر فریقین نے نکاح نامہ میں مذکورہ جائیداد کی کوئی مخصوص مالیت طے کر رکھی ہو تو شوہر اس طے شدہ مالیت کو مہر کی ادائیگی کے طور پر ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ تاہم اگر جائیداد کی کوئی مالیت طے یا درج نہ کی گئی ہو تو عدالت بیوی کے مہر کی وصولی کے دعویٰ پر فیصلہ یا ڈگری دیتے وقت مذکورہ جائیداد کی اس وقت کی مارکیٹ ویلیو کا تعین کر سکتی ہے۔ اس اصول کا مقصد فریقین کے معاہدے کی اصل روح کو برقرار رکھنا اور شوہر کو اپنی ہی ناکامی یا عدمِ اہلیت سے فائدہ اٹھا کر بیوی کے حقِ مہر سے محروم ہونے سے روکنا ہے۔

نکاح نامہ کی تشریح کے حوالے سے سپریم کورٹ نے ایک بنیادی اصول وضع کیا کہ نکاح نامہ کے مختلف کالمز کو تنہائی میں نہیں پڑھا جا سکتا۔ ہر اندراج کو دوسرے متعلقہ اندراجات کے ساتھ ملا کر پڑھنا ہوگا اور جہاں تک ممکن ہو تمام اندراجات کو مؤثر بنایا جائے گا۔ کسی ایک کالم کو عمومی طور پر دوسرے کالم پر فوقیت دے کر باقی اندراجات کو غیر مؤثر نہیں کیا جا سکتا۔ چونکہ نکاح نامہ ایک مقررہ قانونی فارم کے تحت ایک سرکاری عہدیدار، یعنی نکاح رجسٹرار، کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے، اس لیے اس میں موجود کسی ابہام یا بظاہر تضاد کا بوجھ فریقین پر ڈالنے سے قبل عدالت کو اسلامی قانون، فریقین کی حقیقی منشا اور مقدمے کے متعلقہ حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم آہنگ تشریح اختیار کرنی چاہیے۔

عدالت نے نکاح رجسٹرارز کے لیے بھی اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ قرار دیا گیا کہ نکاح رجسٹرار مقررہ قانونی نکاح نامہ ہی استعمال کریں اور اس کے تمام متعلقہ کالمز کو انتہائی احتیاط اور درستگی کے ساتھ مکمل کریں۔ کسی کالم کو بلاجواز خالی نہ چھوڑا جائے کیونکہ ہر کالم ایک مخصوص قانونی مقصد کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ خصوصاً کالم 13 تا 16 میں مہر کی شرائط اس انداز میں درج کی جائیں کہ وہ فریقین کے درمیان حقیقتاً طے پانے والے معاہدے کی درست عکاسی کریں۔

عدالت نے ہدایت کی کہ کالم 13 میں فریقین کے درمیان طے شدہ کل مہر کو واضح طور پر درج کیا جائے، خواہ مہر نقد رقم، منقولہ جائیداد یا غیر منقولہ جائیداد پر مشتمل ہو۔ اگر کسی جائیداد کو مہر کے طور پر مقرر کیا جائے تو کالم 16 میں اس کی مکمل شناختی تفصیل، بشمول نوعیت، پیمائش، محلِ وقوع اور فریقین کے درمیان طے شدہ مالیت، جہاں طے کی گئی ہو، درج کی جائے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت کی کہ نکاح رجسٹرار فریقین کے دستخط یا انگوٹھے کے نشان حاصل کرنے سے قبل نکاح نامہ کی متعلقہ شرائط انہیں پڑھ کر سنائے یا سمجھائے، خصوصاً وہ اندراجات جو مہر، خصوصی شرائط، تفویضِ حقِ طلاق یا مہر کے عوض دی جانے والی جائیداد سے متعلق ہوں۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ نکاح نامہ میں وہی شرائط درج ہوں جو حقیقتاً فریقین کے درمیان طے ہوئی ہیں۔

اسی طرح کالم 17 میں خصوصی شرائط صرف وہی درج کی جائیں جو فریقین نے باہمی طور پر طے کی ہوں۔ نکاح رجسٹرار اپنی ذاتی رائے، مفروضے یا ذاتی فہم کی بنیاد پر کوئی شرط شامل نہیں کر سکتا۔ اگر فریقین کی منشا یا معاہدہ واضح نہ ہو تو متعلقہ کالم مکمل کرنے سے پہلے ان سے وضاحت حاصل کی جائے۔

عدالت نے متعلقہ یونین کونسلز اور مجاز حکام کو بھی ہدایت کی کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ تمام لائسنس یافتہ نکاح رجسٹرارز کو نکاح نامہ کی قانونی حیثیت، ہر کالم کے مقصد اور خصوصاً کالم 13 تا 16 کی درست تکمیل کے طریقہ کار سے مکمل آگاہی ہو۔ نکاح رجسٹرارز کی وقتاً فوقتاً تربیت اور رہنمائی کا انتظام کیا جائے تاکہ نکاح نامہ محض ایک رسمی یا میکانکی دستاویز کے طور پر نہ بھرا جائے بلکہ اس میں فریقین کے حقیقی معاہدے کی درست اور واضح عکاسی ہو۔ متعلقہ حکام نکاح رجسٹرارز کے رجسٹروں کا باقاعدگی سے معائنہ بھی کریں اور اگر کوئی رجسٹرار اپنے قانونی فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرے یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

مختصراً، اس فیصلے کا بنیادی قانونی اصول یہ ہے کہ مہر اسلامی قانون کے تحت بیوی کا ایک مستقل اور قابلِ نفاذ حق ہے، جبکہ نکاح نامہ اس حق اور فریقین کے درمیان طے شدہ شرائط کا اہم قانونی ریکارڈ ہے۔ نکاح نامہ کے مختلف کالمز کو الگ الگ نہیں بلکہ مجموعی اور ہم آہنگ انداز میں پڑھا جائے گا۔ مزید برآں، اگر غیر منقولہ جائیداد مہر کے طور پر مقرر کی گئی ہو لیکن کسی وجہ سے وہ بیوی کو منتقل نہ ہو سکے تو صرف عدمِ منتقلی کی بنیاد پر شوہر مہر کی ذمہ داری سے بری نہیں ہوگا؛ اسے قانون کے مطابق مذکورہ مہر کی طے شدہ یا عدالت کی جانب سے متعین کردہ مالیت ادا کرنا ہوگی۔

Case: C.P.L.A. No.372-P/2019
Mst. Farwa Noreen v. Hassan Ali Agha & others
Date of Judgment: 22-09-2026
Bench: Supreme Court of Pakistan
Judge mentioned: Mr. Justice Shahid Waheed

پنجاب پولیس نے زمان پارک میں علیمہ خان کے گھر کے دروازے توڑ کر نورین آپا، عظمیٰ آپا اور ان کے بچوں کو گرفتار کر لیا پہلے...
21/09/2026

پنجاب پولیس نے زمان پارک میں علیمہ خان کے گھر کے دروازے توڑ کر نورین آپا، عظمیٰ آپا اور ان کے بچوں کو گرفتار کر لیا پہلے علیمہ خان کو گرفتار کرکے MPO کے تحت نظر بند کیا گیا اور اب عمران خان کی بہنوں اور بچوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عمران خان کی بہنیں سیاست نہیں، اپنے بے گناہ بھائی کی رہائی کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ آخر عمران خان کا جرم کیا ہے یہی کہ وہ پوری قوم کے دلوں میں بستے ہیں؟ نفرت، انتقام اور فسطائیت کے بیج نہ بوئے جائیں۔ پنجاب حُکومت اور پنجاب پولیس نے ظلم و زیادتی کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔

19/09/2026

سپریم کورٹ فیصلہ پر پنجاب خیبرپختونخوا الیکشن 90 روز میں نہیں ہوا، فوجی ٹرائل قیدیوں کو اپیل کا حق نہیں دیا، عمران خان شفاء ہسپتال منتقل ہوئے نہ ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ رہا ہوئے۔ ہاں لانگ مارچ ضرور روکیں گے کیونکہ ہائیکورٹ کا فیصلہ ہے

اسلام آباد میں جگہ جگہ کنٹینر لگائے جارہے ہیں ،پنجاب حکومت اٹک پل پر سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے راستے بند کررہی ہے و...
19/09/2026

اسلام آباد میں جگہ جگہ کنٹینر لگائے جارہے ہیں ،پنجاب حکومت اٹک پل پر سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے راستے بند کررہی ہے
وفاقی اور پنجاب حکومت سرعام اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی توہین کرتی نظر آرہی ہے
کیا اسلام آباد ہائی کورٹ ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کرے گی؟

Address

Islamabad
44400

Telephone

+923333471084

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Abdul Majeed MahaR posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Adv Abdul Majeed MahaR:

Shortcuts

Share