JUI Digital

Directions Contact the practice

JUI Digital Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from JUI Digital, Islamabad.

JUI Digital is the official digital media platform of Jamiat Ulema-e-Islam Pakistan, dedicated to presenting the party’s vision, activities, policies, and organizational updates through authentic and responsible digital communication.

پروگرام کی کامیابی کا اصل معیارتحریر:سہیل سہراب ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کانٹینٹ جنریٹر رائٹرز گروپ کسی بھی ت...
23/09/2026

پروگرام کی کامیابی کا اصل معیار
تحریر:
سہیل سہراب ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کانٹینٹ جنریٹر رائٹرز گروپ

کسی بھی تنظیمی پروگرام، خواہ وہ تربیتی کنونشن ہو، ڈیجیٹل میڈیا کا پروگرام ہو یا کوئی تحصیلی و ضلعی اجلاس، اس کی کامیابی کا معیار محض ہجوم اکٹھا کرنا، تصاویر بنوانا یا سوشل میڈیا پر تصاویر کی بھرمار کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ جس مقصد کے لیے پروگرام منعقد کیا گیا تھا، ہم اس مقصد کے حصول میں کس حد تک کامیاب رہے اور شرکاء نے اس پروگرام سے کیا سیکھا، کیا سمجھا اور اپنے عملی کام کے لیے کیا حاصل کیا۔

اس کے بعد ہماری ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ پروگرام میں شریک ہر ڈیجیٹل میڈیا کارکن اپنے تاثرات، اہم نکات اور حاصل مطالعہ کو ویڈیو یا تحریری صورت میں دیگر دوستوں کے ساتھ شیئر کرے، تاکہ جو احباب اس پروگرام میں شریک نہیں ہو سکے، وہ بھی اس کی مفید باتوں سے استفادہ کر سکیں۔ یوں ایک پروگرام کا فائدہ چند سو شرکاء تک محدود رہنے کے بجائے ہزاروں افراد تک پہنچ سکتا ہے۔

میرا اپنا مزاج یہ ہے کہ کسی بھی پروگرام میں مختلف مقررین کی گفتگو کے دوران ان کے چیدہ چیدہ نکات نوٹ کرتا رہتا ہوں، خواہ وہ تحصیل یا ضلع کا اجلاس ہو یا کوئی تربیتی کنونشن۔ کوشش ہوتی ہے کہ پروگرام کے اختتام کے فوراً بعد ان اہم نکات کو دوست احباب کے ساتھ فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر شیئر کر دوں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دوستوں تک بروقت اور مفید معلومات پہنچ جاتی ہیں اور وہ انہی معلومات کی روشنی میں اپنی ترجیحات اور آئندہ کی حکمت عملی کا تعین کر سکتے ہیں۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں بعض اوقات پروگرام تو بڑے اہتمام سے منعقد ہوتے ہیں، لیکن ان میں مقصدی اور فکری گفتگو کو اجاگر کرنے کے بجائے تصاویر کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ پروگرام کے بعد کا وہ قیمتی وقت، جب شرکاء اور کارکنان کی توجہ اسی پروگرام پر مرکوز ہوتی ہے اور اس کی باتیں تازہ ہوتی ہیں، ہم صرف تصاویر شیئر کرنے میں ضائع کر دیتے ہیں۔ یوں پروگرام کا اصل مقصد، اس کا پیغام اور اس سے حاصل ہونے والی فکری و تربیتی روشنی پس منظر میں چلی جاتی ہے۔

میری دوستوں سے بس اتنی سی عاجزانہ گزارش ہے کہ اپنی محنت کو کیش کرنا سیکھیں۔ مہینوں کی تیاری، وقت، وسائل اور محنت سے منعقد ہونے والے ایک پروگرام کے ثمرات کو چند تصاویر تک محدود نہ کریں۔ مقررین کی اہم باتیں نوٹ کریں، ان پر غور کریں، انہیں تحریری اور ویڈیو صورت میں دوسروں تک پہنچائیں اور کوشش کریں کہ آپ کے پروگرام کی افادیت پروگرام ختم ہونے کے ساتھ ختم نہ ہو، بلکہ اس کا پیغام مسلسل آگے بڑھتا رہے۔

کیونکہ ایک کامیاب پروگرام وہ نہیں جس کی تصاویر سب سے زیادہ ہوں، بلکہ وہ ہے جس کا مقصد سب سے زیادہ لوگوں تک پہنچے، جس سے سب سے زیادہ لوگ سیکھیں اور جس کے اثرات پروگرام کے اختتام کے بعد بھی محسوس ہوتے رہیں۔

ڈیجیٹل میدان اور ہماری ذمہ داریتحریر: حافظ محمد اسامہ پسروریڈیجیٹل میڈیا آج سیاسی اور جماعتی ابلاغ کا ایک مؤثر ذریعہ بن ...
23/09/2026

ڈیجیٹل میدان اور ہماری ذمہ داری

تحریر: حافظ محمد اسامہ پسروری

ڈیجیٹل میڈیا آج سیاسی اور جماعتی ابلاغ کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ چند لمحوں میں ایک پیغام ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ سہولت جہاں جماعتی پیغام کو وسیع سطح پر پہنچانے کا موقع فراہم کرتی ہے، وہیں اس کے استعمال میں ذمہ داری، سنجیدگی اور اخلاقی تربیت کی ضرورت بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ آج سیاسی جماعتوں کے لیے یہ میدان محض تشہیر کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی رابطے، فکری ترجمانی اور جماعتی موقف کی وضاحت کا اہم وسیلہ بن چکا ہے، اس لیے یہاں موجودگی کے ساتھ ذمہ داری کا احساس بھی ناگزیر ہے۔

جمعیۃ علماء اسلام ایک دینی و سیاسی جماعت ہے، جس کی شناخت صرف سیاسی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ ایک مضبوط فکری، دینی اور تربیتی پس منظر سے جڑی ہوئی ہے۔ اس لیے جماعت کا پیغام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پیش کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید ابلاغ کے تقاضوں کے ساتھ جماعتی فکر، دینی مزاج اور اخلاقِ گفتگو کو بھی پیشِ نظر رکھیں۔ ہماری گفتگو، ہمارا اندازِ اظہار اور ہمارے الفاظ بھی جماعت کی شناخت کا حصہ بنتے ہیں۔ اس لیے ڈیجیٹل میدان میں سرگرمی صرف تکنیکی صلاحیت کا نام نہیں، بلکہ فکری شعور اور اخلاقی ذمہ داری بھی اس کا بنیادی تقاضا ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا پر مؤثر ہونا صرف یہ نہیں کہ پوسٹ خوبصورت ہو، ویڈیو زیادہ لوگوں تک پہنچے یا کسی بیان کو زیادہ سے زیادہ شیئر کیا جائے۔ اصل ذمہ داری یہ ہے کہ بات درست ہو، انداز باوقار ہو اور مقصد واضح ہو۔ خبر کی تصدیق، الفاظ کا محتاط انتخاب، اختلافِ رائے کا احترام اور مخالف نقطۂ نظر کے ساتھ گفتگو کے آداب بھی ڈیجیٹل تربیت کا حصہ ہونے چاہییں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کی رفتار ہمیں فوری ردِعمل پر مجبور کر سکتی ہے، لیکن ایک سنجیدہ اور تربیت یافتہ فرد ہر خبر یا ہر معاملے پر فوراً بولنے کے بجائے پہلے اس کی حقیقت، ضرورت اور ممکنہ اثرات کو دیکھتا ہے۔

سیاسی اختلاف جمہوری عمل کا فطری حصہ ہے، لیکن اختلاف کو بدزبانی میں تبدیل کرنا کسی بھی جماعت کے لیے مفید نہیں۔ اپنے موقف کا دفاع دلیل سے کیا جا سکتا ہے، تنقید اصول کے ساتھ کی جا سکتی ہے اور سیاسی اختلاف شائستگی کے دائرے میں رہ کر بھی پوری قوت سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ موقف میں مضبوطی اور زبان میں سختی لازم و ملزوم نہیں۔ ایک شخص اپنے نظریے اور سیاسی مؤقف پر پوری استقامت کے ساتھ قائم رہتے ہوئے بھی گفتگو میں تہذیب اور شائستگی برقرار رکھ سکتا ہے۔ دراصل دلیل کی مضبوطی کو غیر مناسب زبان کے سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

خاص طور پر جماعتی ساتھیوں کے باہمی اختلاف میں احتیاط کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ رائے کا اختلاف جماعتی تعلق کو کمزور کرنے کی وجہ نہیں بننا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر لکھا گیا ایک جذباتی جملہ وقتی طور پر اطمینان دے سکتا ہے، لیکن اس کے اثرات دیر تک باقی رہ سکتے ہیں۔ کسی ساتھی کی رائے سے اختلاف ہو تو اس کی تردید کی جا سکتی ہے، اس کے موقف پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے اور اپنے مؤقف کو دلیل کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے، لیکن ذاتی حملے، تضحیک اور تحقیر کسی بھی صورت اختلافِ رائے کا متبادل نہیں بن سکتے۔ جماعتی ماحول اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب اختلاف کے باوجود باہمی احترام اور تعلق باقی رہے۔

ہمیں ایسے ڈیجیٹل افراد تیار کرنے کی ضرورت ہے جو صرف ٹیکنالوجی سے واقف نہ ہوں بلکہ جماعتی فکر اور اخلاقِ گفتگو سے بھی واقف ہوں۔ جو جماعت کا موقف مضبوط دلیل کے ساتھ پیش کریں، لیکن اپنی زبان اور طرزِ اظہار سے جماعت کے دینی وقار کو مجروح نہ ہونے دیں۔ جو یہ جانتے ہوں کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں، ہر تنقید کو تنازع بنانا ضروری نہیں اور ہر جذباتی کیفیت کو سوشل میڈیا پر منتقل کرنا بھی دانش مندی نہیں۔ بعض اوقات خاموشی، تحمل اور مناسب وقت کا انتظار وہ کام کر دیتا ہے جو درجنوں جذباتی پوسٹیں بھی نہیں کر پاتیں۔

اسی لیے ڈیجیٹل میڈیا کی سرگرمیوں کے ساتھ تربیتی نشستوں اور کنونشنز کی ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے، جہاں جدید ذرائع ابلاغ کے استعمال کے ساتھ جماعتی فکر، اخلاق، اختلافِ رائے کے آداب، خبر کی تصدیق اور ذمہ دارانہ ابلاغ جیسے موضوعات پر بھی رہنمائی دی جائے۔ ہمیں صرف یہ نہیں سکھانا کہ پوسٹ کیسے بنانی ہے اور ویڈیو کیسے تیار کرنی ہے، بلکہ یہ بھی سکھانا ہے کہ جماعتی موقف کو کس زبان میں پیش کرنا ہے، مخالف رائے کا جواب کس انداز سے دینا ہے اور ایسی کون سی حدود ہیں جنہیں عبور کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔

آج ضرورت صرف ڈیجیٹل میڈیا چلانے والوں کی نہیں، بلکہ تربیت یافتہ ڈیجیٹل ترجمانوں کی ہے ایسے افراد کی جو جدید ذرائع ابلاغ کو سمجھتے ہوں، جماعتی فکر سے واقف ہوں، اپنی دینی شناخت کا احساس رکھتے ہوں اور اظہار کی ذمہ داری کو سمجھتے ہوں۔ جو جماعت کا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے ساتھ اس کے وقار کو بھی محفوظ رکھیں، جو موقف کا دفاع کرتے ہوئے دلیل کو بنیاد بنائیں اور اختلاف کے باوجود اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ یہی وہ تربیت ہے جو ڈیجیٹل سرگرمی کو محض سوشل میڈیا کی موجودگی سے آگے بڑھا کر ایک بامقصد جماعتی ابلاغ میں تبدیل کر سکتی ہے۔

کیونکہ ڈیجیٹل میدان میں ہماری ہر پوسٹ صرف ایک پوسٹ نہیں یہ ہماری فکر، تربیت اور جماعتی مزاج کا تعارف بھی بن سکتی ہے۔ ایک غیر محتاط جملہ برسوں کی محنت سے قائم ہونے والے تاثر کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ ایک سنجیدہ، مدلل اور باوقار تحریر جماعت کے پیغام کو مؤثر انداز میں آگے بڑھا سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ڈیجیٹل میڈیا کو محض تشہیر کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ اسے جماعتی فکر، مثبت ابلاغ اور عوامی رابطے کا مؤثر وسیلہ بنائیں۔ جدید ذرائع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، مگر اپنی دینی و اخلاقی بنیادوں کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔

بات مؤثر انداز میں پہنچانا ضروری ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ بات اپنے وقار، دلیل اور اخلاق کے ساتھ پہنچے۔ یہی ڈیجیٹل سیاست میں ہماری اصل ذمہ داری ہے اور یہی وہ تربیت ہے جو ہماری ڈیجیٹل سرگرمیوں کو جماعتی خدمت کے حقیقی مفہوم سے جوڑ سکتی ہے۔

*قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا مرکزی مجلس عمومی کے دو روزہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو*21 ستمبر 2026 بسم ا...
22/09/2026

*قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا مرکزی مجلس عمومی کے دو روزہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو*

21 ستمبر 2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمده و نصلی على رسوله الكریم۔

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس عمومی یا آپ اسے مرکزی جنرل کونسل کہیں اُس کا دو روزہ اجلاس 19 اور 20 ستمبر پشاور میں منعقد ہوا۔ اُس اجلاس میں جو امور زیر غور آئے اور ملک کے اندر کی صورتحال اور خطے کی صورتحال پر جہاں جماعت نے اپنا موقف طے کیا آج ہم وہ آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

ملک میں بد امنی کی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیا اور خاص طور پر دو صوبوں کے اندر بد امنی کی صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ ہماری مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس جو کراچی میں طے تھا لیکن بلوچستان کے حضرات وہ کہہ رہے تھے کہ ہم اپنے راستوں سے وہاں اجلاس میں نہیں پہنچ سکیں گے، جس کی وجہ سے ہم نے وہ اجلاس پشاور کی طرف منتقل کیا، کبھی آج تک ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے امن و آمان کی وجہ سے، راستوں کے غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے اپنا اجلاس ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں منتقل کیا ہو، اسی سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ملک کے اندر کی داخلی صورتحال امن و آمان کے حوالے سے کس حد تک پہنچ چکی ہے۔ ہم بار بار اس بات کا اظہار تو کرتے رہے ہیں کہ دو صوبوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے اور سندھ میں بھی جائیں تو وہاں بھی ڈاکو کا راج ہے اور سٹریٹ کرائمز ہیں، اب بلوچستان میں دن دہاڑے بینک لوٹے جاتے ہیں اور بینک سے باہر سڑک کے کنارے پیسے تقسیم کیں جاتے ہیں، گٹھلیاں باندھی جاتی ہیں اور کوئی نظام نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک کے بینکوں کو تحفظ دے سکیں، شہریوں کو تحفظ دے سکیں۔ کل ہمارے ایک سینیٹر عبدالشکور خان اچکزئی وہ سینیٹ کے پریویلج کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں اور اس کے باوجود ان کو ایئرپورٹ پر روک دیا گیا اور چین کے جانے کا طے شدہ پروگرام اس پر وہ سفر نہیں کر سکے، پتہ نہیں کون سی قوتیں ہیں ہمارے صوبے میں تو باقاعدہ منسٹرز ان کو گاڑیوں سے اتار دیا جاتا ہے، مسلح لوگ آتے ہیں ان کے گاڑیوں کے ٹائر پر فائرنگ کرتے ہیں اور منسٹروں کو اٹھا دیا جاتا ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی حکومت کہیں پر بھی موجود نہیں ہے، طاقتور ادارے اس وقت حکومت کر رہے ہیں، جہاں مرضی ہو جس کے ساتھ جو رویہ اختیار کریں، نہ وہ کسی آئین کے پابند ہیں، نہ وہ کسی قانون کے پابند ہیں، یہاں تک کہ وہ کسی اخلاق کی بھی پابند نہیں ہیں۔

تو ایسی صورتحال میں ظاہر ہے کہ قوم کا تشویش میں ڈوبنا ایک فطری بات ہے، ملک میں قرضوں کا دباؤ، اگر ہم پچھلی حکومت سے شکایت کرتے تھے کہ انہوں نے ملک کی قرضے دو گناہ بڑھا دیے، تو آج جو ہمارے کنٹینروں پر اس پر تنقید کرنے والے تھے حکومت کر رہے ہیں اور یہاں پر قرضوں کا دباؤ اس سے بھی کہیں زیادہ آگے بڑھ گیا ہے، مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے اور یہاں تک کہ اب لوگ کہیں پر اپنا مداوا بھی نہیں دیکھ رہے، کہاں روئے، کس کے سامنے روئے، نہ کوئی حکومت ہے اور جو حکمران ہیں نہ ان کی آنکھیں ہیں، اور نہ ان کے کان ہیں، نہ وہ دیکھ رہے ہیں اور نہ وہ سننے کے لئے تیار ہیں، بس طاقت کا استعمال ہے، اندھا دھند طاقت کا استعمال، کہاں ملک کو پہنچانا چاہتے ہیں؟

ابھی اسلام آباد میں چند روز بعد کچھ جماعتوں نے مظاہروں کا اعلان کیا ہے پورے اسلام آباد کو کنٹینروں سے بھر دیا گیا ہے، پاکستان کے دارالخلافہ کا جو تصور ہے دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے اور ہم ہیں کہ ہم نے کسی کو بھی احتجاج کرنے کا حق نہیں دینا، اظہار رائے کا حق نہیں دینا اور پھر جب لوگوں کو آپ آواز بند کر دیتے ہیں اور وہ دیوار سے جا کر لگ جاتے ہیں اور اس کے بعد پھر زبان کی بجائے وہ ہاتھ استعمال کرتے ہیں تو پھر ان کو باغی بھی کہا جاتا ہے، تو ملک کے لئے باغی تو آپ بنا رہے ہیں، کشمیر کے اندر تو کسی کے پاس بندوق نہیں ہے، ان کو تو لاشیں دی جا رہی ہیں، تین مہینے سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ کیے گئے وعدے اور وہ مطالبہ جو تسلیم کیے جا چکے ہیں اسے حکومت واپس لے چکی ہے اور ہر ایک پر الزام ہے کوئی را کا ایجنٹ بن جاتا ہے، تو کوئی افـغانستان کا ایجنٹ بن جاتا ہے، تو کوئی ایـران کا ایجنٹ بن جاتا ہے اور صرف یہی پاکستانی رہ گئے ہیں، جس طرح خـوارج جو ہیں وہ صرف اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اسی طریقے سے ہمارے طاقتور بھی اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہیں اور اپنے علاوہ کسی کو پاکستانی نہیں سمجھتے ہیں۔

تو یہ روئے جو ہیں یہ ناقابل برداشت ہوتے جارہے ہیں اور اس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے، اگر اسمبلیاں ہیں، اگر حکومتیں ہیں، تو پھر ان کے رٹ بھی نظر آنی چاہیے، ان کی اختیارات کو کوئی چیلنج نہ کرے ورنہ پھر ہر ایک ایک دوسرے کے اختیار کو چیلنج کرے گا، آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں، گزشتہ کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے، پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، افـغانستان کے سرحدات ہوں یا انـڈیا کے سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں، تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا جو ہے وہ مشکل ہو گیا ہے، چائنا کا ہم اعتماد کھو بیٹھے ہیں وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں لے رہا، تو ایک محصور ریاست کی شکل پاکستان نے اختیار کر لی ہے، بد امنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، پولیس پر حملے ہو رہے ہیں، فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں، اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے، کتنی بری بات ہے، ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے، گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں، کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود کے ڈھیر پر ہم بیٹھے ہوئے ہیں اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہوسکتی۔

مسائل ہیں ڈسکس کیں جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے اور حکومت خاموش، حکومت میں شامل جماعتیں خاموش، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے، ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے، وہ جس کے گھر کا نوکر ہے اس کے گھر کی اپنی نوکری کرے، اس کی برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، یہی ان کی ڈیوٹی ہے، ملکی مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں، اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہے ہیں اور ہم تماشہ دیکھتے رہیں، اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل کا پاکستان متحمل نہیں ہے، نئے صوبوں کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے، ہر چیز کو ایک خاص حد کے اندر لینا چاہیے، حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے، شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔

ہم نے ایـران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائے نا کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دئیے گئے ہیں اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیام امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو بتایا تو جائے اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا ایک ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے اور ان کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے؟ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا، پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس میرے خیال میں وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لی۔

تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے، سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ، گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہیں وہ دفاعی معاہدہ ہیں لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسری ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں، اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا، اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایـران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کا عمل کا ایک تسلسل تھا وہ فی الحال رک گیا ہے، تو اس میں ہمیں قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے، تو اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا، ملک کے اندر اسلحہ کے راستے اپنے اپ بنائے جا رہے ہیں اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں، پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹـی ٹـی پی سے آمن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بـی ایل اے سے آمن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المـجاھدین سے آمن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے آمن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے آمن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیام امن اور ہمارے جان مال، عزت و آبرو کے محافظ ہیں اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے، ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا آمن دے رہے ہیں؟

یہاں پر چھبیسویں ترمیم میں کچھ چیزیں تسلیم کی گئی تھی جس میں یکم جنوری دو ہزار اٹھائیس سے سود کے خاتمے کا فیصلہ کیا گیا، اس کو آئین کا حصہ بنایا گیا، اب تک اس حوالے سے کسی قسم کی چیزیں سامنے نہیں آ رہی ہیں، سود اور ربا کے الفاظ کو پھر سے موضوع بحث بنانے کی کوشش کی جا رہی ہیں، جبکہ اس پر ایک باقاعدہ کنونشن ہو چکا ہے علماء کرام اور تاجر برادری کا، جس میں ہمارے وزیر خزانہ شریک ہوئے، سٹیٹ بینک کے صدر شریک ہوئے اور انہوں نے کہا کہ سود وہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ ہے اور سٹیٹ بینک اور جو نیشنل بینک ہے وہ اپنے اپیلیں واپس لیں گی، تو اس وقت آپ کس خوشی میں اس میں شریک ہوئے تھے؟ آپ نے کس خوشی میں یہ باتیں کی کہ ہم سب کچھ کر رہے ہیں اور ہم سود کو حرام سمجھتے ہیں اگر کل آپ نے آئین کا احترام کیا اور آپ نے اپنی رائے دے دی اور آج آپ اس میں پھر ادھر ادھر کی باتیں کر رہے ہیں کہ سارے چیزیں بحث مکمل ہو چکی ہے، عدالت میں ایک دفعہ بحث ہوتی ہے، ہمارے ہاں تو دو تین دفعہ بحث ہو چکی ہے اور مکمل بحث، باہر سے ماہرین معیشت بلائے گئے، علماء بلائے گئے، ملک کے اندر بلائے گئے، شریعت کے حوالے سے جو ماہرین معیشت ہیں وہ بلائے گئے، ان کے آراء لی گئے ہیں اور بہت لمبی چوڑی بحث جو ایک سال سے زیادہ عرصہ محیط رہی اس کے بعد فیصلے کئے گئے ہیں، پھر نئی نسل آتی ہے اور نئی نسل کے سامنے ایک نئے سوال رکھ دیا جاتا ہے، تو یہ کھیل کھیلے جا رہے ہیں۔

وفاقی شرعی عدالت اس کو مؤثر بنانا، ان کے فیصلوں کو مؤثر بنانا، اس کے لئے آئینی ترمیم ہوئی اب تک اس میں ہمیں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات اس کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لانا آئینی ذمہ داری قرار دی گئی آج تک ایک بھی سفارش بحث کے لیے ایوان میں پیش نہیں کی گئی، اس طرح آئین کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اس طرح ہمارے حکومتیں بے بس ہیں، اس لیے کہ وہ دھاندلی کے ذریعے لائی گئی ہیں اور اب وہ ان کے رحم و کرم پر ہیں، تو اس طرح کی حکومتیں جب ہوں گی وہ پھر آئین بھی پامال ہوگا، قانون بھی پامال ہوگا، اخلاقیات بھی پامال ہوں گی اور ہم ایک خاص طبقہ کے رحم و کرم پر زندگی گزاریں گے جو آزادی کی زندگی نہیں کہلائی جا سکتی، بہرحال دنیا میں اس طرز زندگی کو غلامی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ اور ان کے ساتھ مشاورت، اشتراک عمل، اس حد تک جماعت نے اجازت دی ہے اور جو ہم نے پارلیمنٹ کے اندر ایک جوائنٹ اپوزیشن پہ اتفاق کیا تھا ہماری جماعت نے اس کی توثیق کر دی ہے اور اس سے مزید اگر کوئی بات چیت ہوگی تو اس کو جماعت کو اختیار دیا گیا ہے۔

ہم اس وقت پندرہ اکتوبر کو ان شاء اللہ العزیز ملتان میں بہت عظیم الشان مفتی محمود کانفرنس کرنے کی طرف جا رہے ہیں، یہ بہت بڑا اجتماع ہوگا اس کے بعد ہم دوسرے اضلاع میں بھی بڑے کانفرنس کریں گے ان شاء اللہ العزیز اور یہ ایک عوام میں بیداری پیدا کرے گی، عوام کے اندر ایک شعور بیدار ہوگا اور دنیا میں ہمارا ایک مثبت پیغام جائے گا کیونکہ ہم نظریاتی گفتگو کرتے ہیں اور ہم کوئی اسلحے کی جنگ نہیں لڑ رہے، ہم کوئی بغاوت کی سیاست نہیں کر رہے، ہم ملک کے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا حق مانگتے ہیں، ہم نے صوبوں کے حقوق کی بات کی ہے، صوبوں کے وسائل پر صوبوں کا حق اس کو تسلیم کیا جائے، اس پر جبر کرنے کی کوئی کسی کو اجازت نہیں ہے اور ہر صوبے کے وسائل کے اس صوبے کے عوام اس کی مالک ہیں، ان کے بچے ان کے مالک ہیں، اس پر ان کو ان کو حق دیا جائے، یہ جو منرلز اینڈ مائنز ایکٹ پاس کیا گیا یہ در حقیقت ان صوبوں کے حقوق کو غصب کرنے کے لیے کیا گیا ہے، تو ہماری جماعت نے اس کو مسترد کیا ہے اور صوبوں کے حقوق کی جنگ جو ہے وہ ہم آئین اور قانون کے تحت لڑیں گے اور اس کی پاسداری کریں گے۔

اس کے علاوہ ہم اگلے سال ان شاءاللہ یعنی دو ہزار ستائیس کی مارچ میں امن عالم کانفرنس صوبہ سندھ میں کریں گے جس میں ہم سمجھتے ہیں کہ چالیس پچاس لاکھ تک لوگ ان شاءاللہ العزیز شرکت کریں گے اور یہ ایک کاوش ہے ہماری جماعت کی، کہ قیام امن کے لیے ہم آواز بلند کریں، اس کے طرف ہم امت مسلمہ کو متوجہ کریں، ہم اپنے قوم کو متوجہ کریں اور ایک فضاء بنائیں کہ جس میں امن کی قدر و قیمت لوگوں کو معلوم ہو، پرامن زندگی یہ ہر انسان کا حق ہے، پرامن زندگی ہر شہری کا حق ہے اور اس حوالے سے اپنے پیغام کو فروغ دینا اور دنیا میں اس کو لوگوں تک پہنچانا یہ جمعیۃ علماء اسلام کا مشن ہے اور اس مشن کے تحت ہم ان شاءاللہ آگے بڑھیں گے اور اپنا تحریک اور اپنی جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے، اللہ تعالیٰ پاکستان کو سلامت رکھے اور پاکستان کے عوام کو اللہ تعالیٰ خوشحالی نصیب فرمائے۔

سوال و جواب

صحافی: مولانا صاحب پہلے کی جو پالیسی تھی تو اس میں یہ تھا کہ آپ کی جو ادارے ہیں یعنی مجلس عاملہ، مجلس شوریٰ، جنرل کونسل انہوں نے پابندی لگائی تھی کہ باقی اپوزیشن جماعتیں خصوصاً پی ٹی آئی کے ساتھ اس وقت ہی الائنس یا اشتراک عمل بنے گا کہ جب ان کے ساتھ تحریری معاہدہ ہوگا اور پھر پارلیمان میں ہم نے دیکھا کہ آپ لوگوں کا پارلیمان کی حد تک الحاق ہو گیا، ابھی کیا باہر کوئی معاہدہ نہیں اور اس مارچ کے حوالے سے جے یو آئی کی پوزیشن کیا ہے؟

مولانا صاحب: آپ کی عادت ہے بس بال کی کھال اتارنے کی، بات تو میں نے کہہ ڈالی ساری جی، کہ جو طے ہوا ہے اس کو توثیق کر دی گئی ہے اور باقی معاملات وہیں پر ہوں گے، باقی مشاورت، رابطہ یہ عمل جاری رہے گا لیکن جہاں تک احتجاج کا تعلق ہے وہ چوں کہ پاکستان کے ہر شہری کا حق ہے، اسلام آباد میں مظاہرے ہم نے بھی کئے ہیں، دوسروں کو بھی اس وقت کا حق پہنچتا ہے اور اس کے لیے پکڑ دھکڑ کرنا اور اس کے لیے پتہ نہیں کون لوگ ہیں کالے لباس پہنے ہوئے، ماسک پہنے ہوئے اور مسلح ہو کر ایک منسٹر کی گاڑی پر فائر کر رہے ہیں، ان کے ٹائر پر فائر کر رہے ہیں اور ان کو گاڑی سے اُٹھا کے لے جاتے ہیں۔

صحافی: مولانا صاحب یہ بتائیے گا اسی سوال کے تناظر میں، آپ نے متحدہ اپوزیشن کے بارے میں ایک خوبصورت بات کی، اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ہوا ہے اور ہم آہنگی بھی پیدا ہو گئی ہے، اسی سیاق و سباق میں آپ سے میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ یقیناً آپ نے بھی آزادی مارچ کیا، اور طویل ایک آزادی مارچ کیا، پرامن ایک آزادی مارچ اور جہاں آپ کو مطلوب مقام دیا گیا تھا آپ نے وہاں پر آزادی مارچ کیا، اب پی ٹی آئی نے متحدہ اپوزیشن کے تناظر میں کیا آپ کو لانگ مارچ کے بارے میں اعتماد میں لیا ہے کیوں کہ ان کے کارکنوں کی جانب سے آپ کو بڑی امید کی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے؟

مولانا صاحب: بات آپ نے ٹھیک کہی ہے چوں کہ یہ فیصلہ ان کے پارٹی کا فیصلہ ہے، جس طرح ہمارا ہماری پارٹی کا فیصلہ تھا، سو اس وقت کی اپوزیشن جو تھی وہ ہمارے ساتھ اس کاز میں شریک تھی، کنٹینر پر آتی تھی، باقی تحریک میں شامل نہیں تھی، لیکن اب بھی اسی طرح ہے کہ انہوں نے اپنے فورم پہ فیصلہ کیا ہے اور ہم اصولی بات ضرور کریں گے کہ احتجاج کا حق سب کو ہے، پرامن احتجاج کا حق سب کو ہے اور اگر حکومت کو کوئی تحفظات ہیں تو ہمیشہ پارٹیوں سے بات کی جاتی ہے کہ بھئی یہ نہیں ہونا، یہ نہیں ہونا، اس طرح نہ کریں، اس طرح نہ کریں اور وہ یقین دہانی حاصل کرنے جاتی ہیں کون سیاسی آدمی ہوگا جو کہے گا کہ میں اسلام باد اس لیے آتا کہ میں یہاں آگ لگاؤں گا یا میں لوگوں کو قتل کروں گا یا میں اداروں پہ حملے کروں گا، کون ایسی پارٹی ہے جو اس قسم کی بات کرے گی۔ تو اس حوالے سے دو طرفہ گفتگو ہوتی ہے اور ہمارے ساتھ بھی اس حوالے میں ہوئی تھی باتیں، ہم نے کہا جی ہم تو جانے پہچانے لوگ ہیں مظاہرہ بھی ہوگا، پبلک بھی آئے گی اور پھر آپ لوگوں نے بھی دیکھا کہ کوئی نہ پتا ٹوٹا، نہ کوئی گملہ ٹوٹا، نہ کوئی مشکل پیش آئی اور سڑکیں بھی مصروف رہی، ہم لاہور میں جلسہ کر رہے تھے تو جلسہ بھی تھا، تاحد نظر لوگ تھے اور میٹرو بھی بیچ میں چل رہی تھی۔

صحافی: مولانا صاحب دو سوال ہوئے لیکن آپ نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ان کو دائیں بائیں کر دیا، لیکن ہم دو ٹوک پوچھنا چاہتے ہیں کہ جے یو آئی کو پی ٹی آئی نے اپنے دھرنے میں شرکت کی دعوت دی تھی اور جے یو آئی نے اس میں شرکت نہیں کرنی، ٹھیک ہے، دوسرا حضرت ہم دیکھ رہے ہیں کئی سالوں سے آپ کو کہ پچھلی حکومت کو جو گرانے میں بھی جے یو آئی کا کلیدی کردار تھا، یہ جو کولیشن ہے ان کے ساتھ بھی آپ کا بڑا اچھا قریبی رابطہ ہے، اب بھی آپ کی ظاہر ہے جو حکمران اتحاد ہے اس کے ساتھ آپ کے اچھے تعلقات ہیں، اپوزیشن کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں تو آپ خود میڈییشن کیوں نہیں کرتے اور کیوں اس ملک کو اس دلدل سے نہیں نکالتے؟
مولانا صاحب: آپ نے میڈییشن کی بات کی ہے، میں چوں کہ ملکی سیاست میں یا میری جماعت خود فریق ہے، میڈییشن کا کوئی مسئلہ ہمارے پاس نہیں ہے، ہم خود فریق ہیں۔ ہم نے الیکشن کو تسلیم نہیں کیا ہے، ہم نے نتائج کو تسلیم نہیں کیا ہے، ہم اس پارلیمنٹ کو عوام کا نمائندہ نہیں کہتے، ہم اسے اسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ کہتے ہیں، اس کے بعد پھر ہم کس بات پر میڈییشن کریں اور ہم تو تعاون کرتے رہے افغانستان اور پاکستان کے بیچ میں الیکشن سے پہلے بھی تناو آ گیا تھا، ہم نے بیچ میں اتر کر اس تناو کو ختم کیا۔ پھر جب ان کے ہمارے ساتھ یہ روئے ہوئے اور ہم نے ہاتھ اٹھا لیا تو ان سے نہیں چلی بات جی، تو وہ جو مشہور ہے نا جی کہ جمعیۃ کے بغیر حکومت بنتی نہیں ہے اور اگر بن جاتی ہے تو پھر چلتی نہیں ہے، تو ابھی بھی تقریبا یہی صورتحال ہے۔

صحافی: دوسرا اپ نے پڑوسی ممالک کی بات کی اور افـغانستان کے ساتھ مسلسل جو پاکستان کے تعلقات ہیں وہ کشیدہ دہ ہو رہے ہیں، انـڈیا کے ساتھ تو پہلے سے کشیدہ تھے، اب جہاں کشیدہ ہو رہے ہیں اور یہ جس طرح کے حملے ہو رہے ہیں اس کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟ اس معاملے کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟ کیا آپ کوئی تجویز دیں گے؟
مولانا صاحب: دیکھیں! صحیح معنوں میں ایک نمائندہ حکومت ہو، یہ واضح ہو کہ حکومت سیاستدانوں کی ہے، یہ واضح ہو کہ حکومت قوم کے نمائندوں کی ہے، تو پھر ان کے ساتھ بات بھی ہو سکتی ہے، پڑوسی ملک بھی اعتماد کرے گا اس کے اوپر، بات چیت بھی ہوگی۔ آپ کو یاد شائد نہ ہو دو ہزار تین میں انـڈیا اور پاکستان کے درمیان جو ٹینشن تھی وہ اس حد تک تھی کہ بس بند، ریلوے بند، جہاز بند، فضائیں ایک دوسرے کے لیے بند، دونوں کے ہائی کمیشن بند ہو گئے، اسٹینوگرافر لیول پہ آگئے جی اور ان حالات میں صرف میری پارٹی گئی جی، دس دن ہم نے وہاں گزارے اور سارے معاملات ان کے ساتھ طے کیے، اس کے باوجود ہماری اپنی حکومت نے، پاکستان کی گورنمنٹ نے، مشرف کی گورنمنٹ نے ہمیں گھاس ڈالنے سے گریز کیا، لیکن بلآخر وہ حالات آگئے جب مجھے کہا جی آپ گئے تھے، جی آپ گئے تھے، کیا ہوا، کیا ہوا اور الحمدللہ جو کچھ ہم نے طے کیا تھا چھ مہینے کے اندر وہ پھر ایمپلیمنٹ ہوا اور حالات بحال ہو گئے۔ افغـانستان میں ہم گئے ہیں ہم نے حالات ٹھیک کیں ہیں جی، ہم نے چائنہ کو پاکستان کے ساتھ وابستہ کرنے میں کردار ادا کیا ہے، تو یہ ساری وہ چیزیں ہیں کہ یہ نہیں ہم کہتے کہ ہمارے اپروچ سے باہر ہیں لیکن قابل اعتماد حکومت ہو جس پر قوم بھی اعتماد کرے، پڑوسی ممالک بھی اعتماد کرے، اب یہ ہے کہ اپنی سرزمین تو خون سے سرخ ہے اور باہر جا کر ریڈ کارپٹس جو ہے اس کو انجوائے کر رہے ہیں یہ کوئی بات ہے، باہر اپنے آپ کو مصروف رکھا ہوا ہے، ملک کی کیا صورت حال ہے، تو درون درچ کر دی کہ برون خانہ آئی۔

صحافی: مولانا صاحب! عدم اعتماد کی تحریک آرہی ہے کیا؟
مولانا صاحب: عدم اعتماد حضرت نہیں ہے ایسی کوئی اس وقت تجویز نہیں ہے اور نہ اپوزیشن اس وقت اس میں ہے کہ وہ عدم اعتماد لا سکے، لیکن میں ایک بات کرنا چاہتا ہوں کہ پیپلز پارٹی باقاعدہ حکومت کا حصہ نہیں ہے، پیپلز پارٹی کے پاس صرف آئینی عہدے ہیں اور پیپلز پارٹی ایک دباؤ کے تحت ووٹ استعمال کرتی ہے یا کرے گی، ورنہ اگر ہم اس اصول کو تسلیم کر لیں کہ وہ حکومت کا حصہ نہیں ہے تو پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے، تو اگر پیپلز پارٹی آتی ہے اور ان کے شراکت کے ساتھ اپوزیشن جو ہے وہ عدم اعتماد لانے کے پوزیشن میں آتی ہے ہم ویلکم کریں گے ان کو۔

صحافی: مولانا صاحب! جیسے کہ آپ نے کہا کہ اس ملک میں عجیب عجیب بحثیں جو ہے وہ چھیڑ دی جاتی ہیں، کبھی نئے صوبوں کی بات کی جاتی ہے اور کبھی معدنی ذخائر کی بات کی جاتی ہے۔ اب اگر صدارتی نظام کی بات کی گئی تو کیا ری ایکشن ہوگا آپ کا؟
مولانا صاحب: آپ نے ایک اور بڑھا دیا نکتہ، ایک بات ذہن میں رکھیں جی کہ صدارتی طرز حکومت ہمیشہ آمریت کی رہی ہے، جب ملک پر آمریت مسلط کرنی ہو تو پھر صدارتی نظام کی بات کی جائے، سکندر مرزا نے یہ صدر مملکت کا عہدہ کریٹ کیا، اس سے پہلے گورنر جنرل کا عہدہ تھا، ایوب خان نے صدارتی طرز حکومت، جنرل ضیاء الحق کے گیارہ سال صدارتی طرز حکومت، جنرل مشرف کا پورا دور صدارتی طرز حکومت، تو یہ سارے صدارتی طرز حکومت تو امریت کے علامات ہیں اور پارلیمانی جمہوریت کو سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیا تھا ایوب خان کے زمانے میں، ایوب خان کے زمانے میں گول میز کانفرنس ہوئی تھی، اس میں شیخ مجیب الرحمٰن بھی موجود تھے اور اس وقت تمام سیاسی جماعت موجود تھے، صرف بھٹو صاحب تھے جو صدارتی طرز حکومت کی بات کرتے تھے، لیکن عبوری نظام میں وہ صدر پاکستان بنے لیکن صوبہ میں پارلیمانی حکومت، لیکن جب سن تریہتر کا مستقل آئین آیا تو اس میں وہ بھی وزیراعظم بن گئے اور انہوں پھر پارلیمانی نظام کو تسلیم کر لیا۔
تو پارلیمانی طرز حکومت ملک میں آئی ہے ایک بڑے لمبے پروسس کے ساتھ جی اور اب اس کو مستحکم نہیں ہونے دیا جا رہا کیونکہ اس سے عوام کو، عوام کے نمائندوں کو، سیاسی لوگوں کو، پارلیمنٹ کو ایگزیکیٹیو بننا پڑتا ہے اور اختیارات ان کے ہاتھ میں آتے ہیں آج یہی کشمکش ہے کہ پارلیمنٹ کو بھی غیر مؤثر بنا دو، جب پارلیمنٹ غیر مؤثر ہو جائے گی، امن و آمان کا ذمہ دار اسے قوم ٹھہرائے گی تو پھر کہیں گے جی وہ یہ شائد اسمبلیاں ناکام ہوگئی ہیں، صدارتی طرز حکومت، تو اس طرح نظاموں کو ناکام بنانا اور ایک آمرانہ نظام کی جو علامت ہے اس کی بات کرنا یہ تو پھر شائد قوم کو قبول نہ ہو۔

صحافی: مولانا صاحب! آپ کا اپنا ایک کردار رہا ہے، اس وقت جو حالات ہے کیا آپ صدر آصف علی زرداری اور نواز شریف کے ساتھ رابطے میں ہیں کہ ان حالات سے نمٹا جائے یہ جو صورتحال بن رہی ہے اور عوام کے جو مسائل ہیں وہ بھی سب کے سامنے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت وہ عوامی مسئلے کے لیے نہیں نکلتی، اپنے لیڈر کے لیے نکلتی ہے، تو آپ کیا سمجھتے ہیں؟
مولانا صاحب: دیکھیں! پارلیمنٹ کے اندر جو جوائنٹ اپوزیشن بنی ہے اس میں جو ہم نے ترجیحات طے کی ہیں ایک امن و آمان کا مسئلہ، ایک معیشت کا مسئلہ، ایک صوبوں کی مذید تقسیم کا مسئلہ اور قیدیوں کی رہائی کا مسئلہ، ایک قیدی کی نہیں، قیدیوں کی رہائی کا مسئلہ اور کشـمیر میں جو لوگ دھرنے پہ بیٹھے ہوئے ہیں ان کے مسئلے کو حل کرنے کا، یہ کچھ ہمارے سامنے ترجیحی بنیادوں پر یہ صورتحال سامنے آئی اور اس پر ہم ان شاءاللہ مشترکہ حکمت عملی بنائیں گے، باقی تو چوں کہ ہر پارٹی کا اپنا فورم ہے، اپنے فورم پر اس کو حق حاصل ہے کہ وہ کیا مطالبہ اٹھاتی ہے اور وہ کس چیز کو ترجیح دیتی ہے لیکن جوائنٹ اپوزیشن نے جو ترجیحات متعین کی ہیں وہ ہم نے آپ کے سامنے رکھے ہیں۔

صحافی:......
مولانا صاحب: اس پر میں تبصرہ نہیں کر سکتا لیکن یہ حق ہے ان کا، میں حق کا انکار نہیں کر سکتا، لیکن جو آپ کا سوال ہے اس پر مذید تبصرے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

صحافی:......

مولانا صاحب: دیکھیں! بات ہے واضح جی کہ اس وقت ہم اپوزیشن کا حصہ ہیں، جوائنٹ اپوزیشن کا حصہ ہیں، حکومت سے ہم اب کوئی رابطہ نہیں کر رہے ہیں، اگر انہوں نے رابطہ کیا یا وہ کوئی بات کرنا چاہیں تو اس طرح پر ہم ایک رائے بنا سکتے ہیں اصولی طور پر ہمارے طرف سے کوئی رابطہ کی بات نہیں ہے۔

صحافی: مولانا صاحب! یہ بتائیں کہ اس وقت حالات اس نہج پہ ہیں کہ عوام کی برداشت اب ختم ہوتی جا رہی ہے، نظام کوئی اور چلا رہا ہے، اس صورتحال میں جے یو آئی کی ایک آواز ہے اس آواز کا ایک اثر بھی ہے لیکن واحد جماعت اسلامی ہے جس نے ایک سلوگن اٹھایا ہوا ہے، کیا جے یو آئی کی مصلحت کا شکار ہے؟
مولانا صاحب: نہیں ہمارا ایک اصولی فیصلہ ہے ہم اپنی جماعت کی پلیٹ فارم پر ہی سارے مسائل اٹھائیں گے اور ہم بہتر طور پر جا رہے ہیں پبلک کی جو رسپانس ہے وہ ہم دیکھ رہے ہیں، ان شاءاللہ ہم سب کی نمائندگی کر رہے ہیں، ہم کسی کے ساتھ متصادم نہیں ہیں، ہماری آواز جماعت اسلامی کی آواز بھی بنتی ہے، ہماری آواز اپوزیشن کی تمام پارٹیوں کی آواز بھی بنتی ہے، ہم ازراہ تفنن ایک دوسری کے ساتھ ذرا گپ شپ کبھی لگا لیتے ہیں جو آپ لوگ پھر اس کو بڑے سنجیدہ انداز کے ساتھ رپورٹ کرتے ہیں۔ تو یہ چیزیں چلتے رہتے ہیں لیکن یہ ہے کہ مہنگائی ہے، اگر مہنگائی پر کوئی آواز اٹھاتا ہے تو یہ حق ہے، ہم بھی اٹھا رہے ہیں، جماعت اسلامی بھی اٹھا رہی ہے، پی ٹی آئی بھی اٹھا رہی ہے اور قوم کا ہر فرد اس سے متاثر ہو رہا ہے، سیاسی معاملات ہوتے ہیں نا جی اس میں کچھ لوگ متاثر ہوتے ہیں اور کچھ نہیں، لیکن معشیت اور مہنگائی ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے ہر شہری متاثر ہوتا ہے، آپ، میں بشمول کوئی ایسا نہیں جو اس سے مستثنیٰ ہو۔ تو اس حوالے سے یہ سب کی آواز ہیں۔

صحافی: مولانا صاحب! پی ٹی آئی والے احتجاج کے لیے آرہے ہیں، ان کی گرفتاریاں بھی ہم دیکھ رہے ہیں، جبری گمشدگیاں بھی ان کی ہو رہی ہیں، آپ بھی پی ڈی ایم کے ساتھ ایک پروٹیسٹ یہاں پر آپ آئے تھے، احتجاج کرنے کے لیڈ کر رہے تھے آپ، کیا اس وقت آپ کو بھی اسی طرح کی مزاحمت کا سامنا تھا اور ساتھ میں یہ بھی بتا دیجئے گا کہ عمران خان کی تینوں بہنوں کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے اس پر آپ کا مؤقف سامنے نہیں آیا اور اس وقت اگر دیکھا جائے جب مریم نواز گرفتار ہو رہی تھی تو بلاول بھٹو نے تو بڑے سخت الفاظ میں حکومت کے خلاف ایک تقریر کی، آپ کیا کہیں گے؟
مولانا صاحب: دیکھیے! میں بار بار کہہ چکا ہوں، اب آپ جب سوال کرتے ہیں تو آپ سمجھتے ہیں کہ شائد پہلی مرتبہ ہمارے بات کا جواب دے رہا ہے، میں نے پارلیمنٹ میں میاں نواز شریف صاحب کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ اگر میں نے آپ کی رہائی کے لیے آواز اٹھائی تھی تو میں عمران خان کی رہائی کے لیے بھی آواز اٹھاؤں گا، یعنی یہ ایک شہری حق ہے جو ہر ایک کو حاصل ہے، اگر ان کی بہنوں کو اٹھایا گیا ہے یہ خواتین کا مسئلہ ہے، خواتین کی اپنی عزت و حرمت ہوتی ہے، ہمیں کسی سے سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس کے جو اپنے ایک انسانی حرمت ہے وہ ہمارے لیے محترم ہے اور ان کو جو اٹھایا گیا ہے ہم شدید الفاظ مذمت کرتے ہیں۔
صوبوں میں حکومتیں ہیں، عجیب بات یہ ہے کہ صوبوں میں حکومتیں ہیں لیکن یہ کیسی حکومتیں ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور ڈیرہ اسماعیل خان میں پی ٹی آئی کے ورکرز جو ہیں وہ ایک ہال میں کنونشن نہیں کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور ان کے منسٹر کی گاڑی کے ٹائر گولیوں سے مار دیے اور گاڑی سے اٹھا لیا، یہ کیا ہو رہا ہے ملک کے اندر؟ کیا میسج دیا جا رہا ہے لوگوں کو کہ کون حکومت کر رہا ہے، کس کی حکومت ہے؟ صوبائی حکومتیں بے بس، وفاقی حکومت بے بس، گھروں سے جس کو چاہے اٹھا لیا جائے سڑکوں سے جس کو چاہے اٹھا لیا جائے اور اگر آپ کنونشن کرنا چاہیں آپ کا سارا سامان اکٹھا کر کے اس کو آگ لگا دی جائے، یہ کون کر رہا ہے؟

صحافی: مولانا صاحب! یہ بتائیں کہ ایسی جمعیۃ علماء اسلام ایسی جماعت ہے جو نہ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ ہے اور نہ ہی روکنے والوں کے ساتھ، آپ خاموش رہیں گے اس ساری صورتحال پہ، آپ کے پاس فارمولا کیا ہے؟ کیونکہ ایک بڑی جماعت ہے۔
مولانا صاحب: آپ نے پچھلا سوال گھما پھرا کر دوبارہ کر دیا ہے تو اس پر میں اپنی بات کر چکا ہوں ہماری اپنی ایک حیثیت ہے میں نے کہا کہ ہم فریق ہیں اور بطور فریق کہ ہم ڈائریکٹ عوام کی طرف جا رہے ہیں اور عوام کا بھرپور رسپانس ہے جس پہ ہم مطمئن ہیں کہ جے یو آئی اس وقت ان شاءاللہ پوری قوم کے اور عوام کی نمائندگی کر رہی ہیں۔

صحافی: مولانا صاحب! ابھی آپ بھی بڑا واضح ان کے بات کر رہے ہیں چاہے وہ نئے صوبوں کا معاملہ ہو یا پھر احتجاج کی صورتحال ہو لیکن ابھی محسن نقوی نے بھی پریس کانفرنس کیے وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ نئے صوبے بنیں گے اور ہر صورت میں بنیں گے، جتنا تیزی سے کام ہو رہا ہے وہ آپ کے تصور سے زیادہ ہے، دوسرا وہ کہہ رہے ہیں کہ ایک مرتبہ احتجاج آنے دیں ایک ہی مرتبہ ان سے نمٹ لیں گے، دوسری طرف سے بھی وہ کہہ رہے ہیں کہ سیاسی حل نہیں بلکہ طاقت کا استعمال کیا جائے گا، تو اس کا کوئی حل ہے؟
مولانا صاحب: جی جی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ "یہ بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے ایک تھانے دار کی مار ہے" یہ وہی آدمی ہیں نا۔

صحافی: سیکیورٹی کی صورتحال بہت خراب ہے، جب ہم بریفنگ میں جاتے ہیں اور ہم ذکر کرتے ہیں کہ مولانا صاحب نے کابل کا دورہ کیا تھا اور یہ مسئلہ سلجھانے کی کوشش کیجیے، تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ مولانا صاحب کی جب مفتی نور ولی محسـود سے ملاقات ہوئی تھی، کابل سے پوچھے میں پیغام رسانی نہیں کر رہا، ایک بریفنگ کا حوالہ دے رہا ہوں، وہ کہہ رہے کہ مولانا صاحب نے اپنی اور اپنی جماعت کے لیے مفـتی نـور ولی محـسود سے کیا مانگا تھا؟ وہ تو پاکستان کے بارے میں زیادہ اپنی پارٹی اور اپنے لیے مانگتے ہیں۔
مولانا صاحب: تو آپ ان سے کہیں کہ جب وہ واپس آئے تھے تو انہوں نے ساری تفصیلات آپ کو بتائی تھی اور آپ نے اپریشیٹ کیا تھا اور آپ نے یہ درخواست کی تھی کہ جو کچھ طے ہوا ہے اب اس کے لیے میکنزم کیا ہوگا، آپ ہماری رہنمائی فرمائیں، تو میں نے کہا یہ دو یونین کا مسئلہ ہے، آپ اپنا کام کریں کہیں مشکل آئے گی تو ہم ملک کی خدمت کے لیے تیار ہیں۔ تو ہم نے اس وقت آپ کو یہ جواب دیا تھا آپ نے خراج تحسین کس چیز کا کیا تھا؟

صحافی: مولانا صاحب! یہ فرمائیے گا آپ نے ابھی حکومت کے اہم وزیر کے حوالے سے ذکر کیا اور آپ نے کہا کہ وہ جن کے ملازم ہیں ان کا کام کرے، وہ آپ کے پاس بھی ا چکے ہیں، ملاقاتیں کر چکے ہیں، اگر وہ پھر آتے ہیں آپ سے ملاقات کرنے کے لیے زیادہ صوبوں کی تجاویز لے کر، تو کیا آپ ان سے ملاقات کریں گے؟
مولانا صاحب: میں اس کو آنے دوں گا لیکن اسی حیثیت میں جس حیثیت میں وہ بیس سال، پچیس سال پہلے مجھے ملتا تھا۔ بہت شکریہ

ضبط تحریر: #محمدریاض
‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
‎
https://teamjuiswat.com/maulana-speaks-to-the-media-following-the-two-day-session-of-the-central-general-council/

Address

Islamabad
720000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JUI Digital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to JUI Digital:

Shortcuts

Share