Legal Solutions Islamabad.

Legal Solutions Islamabad. We provide solutions for your legal issues. Legal services, counseling, argbitration, settlement of

قانون کے 50 مشہور اصول📜 50 اہم قانونی ضوابط (Legal Maxims in Urdu with Explanation & Examples)---1. Ignorantia juris non...
26/08/2025

قانون کے 50 مشہور اصول
📜 50 اہم قانونی ضوابط (Legal Maxims in Urdu with Explanation & Examples)

---

1. Ignorantia juris non excusat

📖 قانون کی لاعلمی عذر نہیں۔
👉 مطلب: کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے قانون کا پتہ نہیں تھا۔
🔹 مثال: اگر کوئی سگریٹ پینے پر پابندی والے علاقے میں سگریٹ پیے اور کہے کہ "مجھے قانون کا پتہ نہیں تھا"، تو یہ عذر قابل قبول نہیں۔

---

2. Audi alteram partem

📖 فریق مخالف کو سنے بغیر فیصلہ نہ دیا جائے۔
👉 مطلب: انصاف کا تقاضا ہے کہ دونوں طرف کو سننے کے بعد فیصلہ ہو۔
🔹 مثال: اگر کسی ملازم کو برطرف کیا جانا ہے تو اسے وضاحت کا موقع دینا ضروری ہے۔

---

3. Nemo judex in causa sua

📖 کوئی شخص اپنے ہی کیس کا جج نہیں۔
👉 مطلب: انصاف غیر جانبداری سے ہونا چاہیے۔
🔹 مثال: اگر کسی جج کا بیٹا کسی مقدمے میں فریق ہو تو وہ جج اس مقدمے کی سماعت نہیں کر سکتا۔

---

4. Fiat justitia ruat caelum

📖 انصاف ہونا چاہیے چاہے آسمان ہی کیوں نہ گر پڑے۔
👉 مطلب: انصاف ہر حال میں ہونا چاہیے، چاہے حالات مشکل ہوں۔
🔹 مثال: طاقتور شخص کے خلاف بھی قانون حرکت میں آئے گا۔

---

5. Ubi jus ibi remedium

📖 جہاں حق ہے وہاں چارہ جوئی ہے۔
👉 مطلب: ہر حق کے ساتھ اس کے تحفظ کا قانونی راستہ ہوتا ہے۔
🔹 مثال: اگر کسی کی جائیداد پر قبضہ ہو جائے تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔

---

6. Actus reus non facit reum nisi mens sit rea

📖 جرم تبھی ہے جب نیت بھی مجرمانہ ہو۔
👉 مطلب: صرف عمل کافی نہیں، نیت بھی دیکھنا ضروری ہے۔
🔹 مثال: غلطی سے کسی کو دھکا لگنا جرم نہیں، مگر جان بوجھ کر مارنا جرم ہے۔

---

7. Res ipsa loquitur

📖 چیز خود بولتی ہے۔
👉 مطلب: حالات خود بخود غفلت ظاہر کرتے ہیں۔
🔹 مثال: سرجری کے بعد مریض کے جسم میں کینچی رہ جانا ڈاکٹر کی غفلت ظاہر کرتا ہے۔

---

8. Nemo debet bis vexari pro eadem causa

📖 کسی کو ایک ہی معاملے میں دو بار پریشان نہیں کیا جا سکتا۔
👉 مطلب: ڈبل سزا یا ڈبل ٹرائل نہیں ہوگا۔
🔹 مثال: اگر کسی کو چوری کے الزام میں بری کر دیا گیا تو اسی الزام پر دوبارہ مقدمہ نہیں ہو سکتا۔

---

9. Caveat emptor

📖 خریدار خبردار رہے۔
👉 مطلب: خریدار کو خریداری سے پہلے جانچ کرنی چاہیے۔
🔹 مثال: اگر آپ بغیر دیکھے پرانی گاڑی خریدیں تو بعد میں خرابی پر بیچنے والا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

---

10. Lex posterior derogat priori

📖 بعد کا قانون پہلے کو ختم کر دیتا ہے۔
🔹 مثال: اگر 2020 کا قانون اور 2023 کا قانون آپس میں متصادم ہوں تو نیا قانون لاگو ہوگا۔

---

11. Injuria sine damno

📖 قانونی نقصان بغیر مالی نقصان۔
🔹 مثال: کسی کو ووٹ ڈالنے سے روکنا، چاہے مالی نقصان نہ ہو۔

---

12. Damnum sine injuria

📖 مالی نقصان بغیر قانونی نقصان۔
🔹 مثال: کوئی نئی دکان کھلنے سے پرانی دکان کا بزنس کم ہو جائے، تو پرانی دکان والے کا قانونی حق نہیں بنتا۔

---

13. Volenti non fit injuria

📖 جو راضی ہو اسے نقصان نہیں۔
🔹 مثال: کرکٹ کھیلتے وقت گیند لگ جائے تو کھلاڑی مقدمہ نہیں کر سکتا۔

---

14. Actio personalis moritur cm persona

📖 ذاتی دعویٰ مرنے والے کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔
🔹 مثال: ہتک عزت کا دعویٰ مدعی کی موت کے بعد جاری نہیں رہ سکتا۔

---

15. Delegatus non potest delegare

📖 نمائندہ مزید نمائندہ نہیں بنا سکتا۔
🔹 مثال: اگر وزیر کو اختیار دیا جائے تو وہ کسی اور کو منتقل نہیں کر سکتا۔

---

16. Ex turpi causa non oritur actio

📖 غیر اخلاقی بنیاد پر کوئی دعویٰ نہیں بنتا۔
🔹 مثال: جوا کھیلنے کا معاہدہ عدالت میں نافذ نہیں ہوگا۔

---

17. Salus populi suprema lex

📖 عوام کی بھلائی سب سے بڑا قانون ہے۔
🔹 مثال: وبا کے دوران لاک ڈاؤن لگانا۔

---

18. Lex non cogit ad impossibilia

📖 قانون ناممکن پر مجبور نہیں کرتا۔
🔹 مثال: اگر زلزلے سے دستاویزات جل جائیں تو پیش نہ کرنے پر سزا نہیں ہوگی۔

---

19. Ut res magis valeat quam pereat

📖 چیز کو بچانے کی کوشش قانون کا مقصد ہے۔
🔹 مثال: معاہدے میں چھوٹی غلطیوں کے باوجود اسے مؤثر مانا جاتا ہے۔

---

20. Lex specialis derogat legi generali

📖 خاص قانون عام قانون پر غالب ہے۔
🔹 مثال: فیملی لا، سول پروسیجر پر فوقیت رکھے گا۔

---

21. Qui facit per alium facit per se

📖 جو دوسرے سے کرائے وہ گویا خود کرتا ہے۔
🔹 مثال: آجر (Employer) ملازم کے عمل کا ذمہ دار ہے۔

---

22. Consensus ad idem

📖 ایک بات پر باہمی رضامندی۔
🔹 مثال: خریدار اور بیچنے والا ایک ہی چیز پر متفق ہوں۔

---

23. Falsus in uno, falsus in omnibus

📖 ایک بات میں جھوٹا تو سب میں جھوٹا۔
🔹 مثال: گواہ اگر ایک بات میں جھوٹ بولے تو اس کی پوری گواہی مشکوک ہو جاتی ہے۔

---

24. Lex loci contractus

📖 معاہدے کی جگہ کا قانون۔
🔹 مثال: دبئی میں معاہدہ ہو تو دبئی کا قانون لاگو ہوگا۔

---

25. Lex fori

📖 عدالت کا اپنا قانون۔
🔹 مثال: پاکستان کی عدالت میں پاکستان کا طریقہ کار ہوگا۔

---

26. Lex loci delicti commissi

📖 جرم کی جگہ کا قانون۔
🔹 مثال: سعودی عرب میں جرم ہو تو سعودی قانون لاگو ہوگا۔

---

27. Bona fide

📖 نیک نیتی سے۔
🔹 مثال: کوئی شخص ایمانداری سے کام کرے۔

---

28. Mala fide

📖 بدنیتی سے۔
🔹 مثال: کوئی افسر ذاتی دشمنی میں کسی کو سزا دے۔

---

29. Ratio decidendi

📖 فیصلے کی اصل وجہ۔
🔹 مثال: عدالت نے گواہی کے ناقابل اعتماد ہونے کی بنیاد پر فیصلہ دیا۔

---

30. Obiter dictum

📖 جج کی ضمنی رائے۔
🔹 مثال: جج کا ایسا تبصرہ جو فیصلہ کا حصہ نہ ہو۔

---

31. Consensus facit legem

📖 رضامندی قانون بناتی ہے۔
🔹 مثال: نکاح میں میاں بیوی کی رضامندی۔

---

32. Acta exteriora indicant interiora secreta

📖 ظاہری عمل نیت کو ظاہر کرتا ہے۔
🔹 مثال: چوری کرتے وقت دروازہ توڑنا نیت ظاہر کرتا ہے۔

---

33. Dur lex sed lex

📖 قانون سخت ہے مگر قانون ہے۔
🔹 مثال: ٹیکس لازمی دینا پڑے گا۔

---

34. Nullum crimen sine lege

📖 قانون کے بغیر جرم نہیں۔
🔹 مثال: جس کام پر قانون نہ ہو، اسے جرم نہیں کہا جا سکتا۔

---

35. Nulla poena sine lege

📖 قانون کے بغیر سزا نہیں۔
🔹 مثال: عدالت خود سزا ایجاد نہیں کر سکتی۔

---

36. Qui prior est tempore potior est jure

📖 جو وقت میں پہلے ہے، قانون میں مضبوط ہے۔
🔹 مثال: پہلے رجسٹری کرانے والا مالک مضبوط حق رکھتا ہے۔

---

37. Nemo dat quod non habet

📖 جو چیز اس کے پاس نہیں وہ نہیں دے سکتا۔
🔹 مثال: چوری شدہ گاڑی بیچنے والا اصل مالک نہیں۔

---

38. Pacta sunt servanda

📖 معاہدے پورے کرنا لازم ہیں۔
🔹 مثال: کرایہ داری کا معاہدہ پورا کرنا ہوگا۔

---

39. Expressio unius est exclusio alterius

📖 ایک کا ذکر دوسروں کو خارج کرتا ہے۔
🔹 مثال: اگر قانون میں "بیٹے" لکھا ہو تو بیٹیاں شامل نہیں۔

---

40. In pari delicto potior est conditio possidentis

📖 برابر قصور میں قابض کو ترجیح۔
🔹 مثال: ناجائز قبضے میں دونوں برابر ہوں تو موجودہ قابض کو برتری ملے گی۔

---

41. Qui tam pro domino rege quam pro se ipso in hac parte sequitur

📖 جو بادشاہ اور اپنے لیے ایک ساتھ دعویٰ کرے۔
🔹 مثال: عوامی مفاد میں بھی ذاتی مفاد شامل ہو سکتا ہے۔

---

42. Lex prospicit non respicit

📖 قانون آگے دیکھتا ہے، پیچھے نہیں۔
🔹 مثال: نیا قانون پرانے واقعات پر لاگو نہیں ہوتا۔

---

43. De minimis non curat lex

📖 قانون چھوٹی باتوں کی پرواہ نہیں کرتا۔
🔹 مثال: ایک روپے کا نقصان عدالت میں دعویٰ نہیں۔

---

44. Cessante ratione legis cessat ipsa lex

📖 قانون کی وجہ ختم ہو تو قانون ختم۔
🔹 مثال: پرانے حالات کے لیے بنایا گیا قانون نئے حالات میں نہیں۔

---

45. Ignorantia facti excusat

📖 حقیقت کی لاعلمی معافی ہے۔
🔹 مثال: کوئی شخص زہر سمجھ کر دوا نہ دے تو معافی ہے۔

---

46. Inter arma silent leges

📖 جنگ میں قانون خاموش ہو جاتا ہے۔
🔹 مثال: ہنگامی صورتحال میں عام قوانین معطل ہو سکتے ہیں۔

---

47. Necessitas non habet legem

📖 ضرورت کا کوئی قانون نہیں۔
🔹 مثال: آگ بجھانے کے لیے کسی کا مکان توڑ دینا۔

---

48. Nemo est supra leges

📖 کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔
🔹 مثال: صدر یا وزیراعظم بھی قانون کے تابع ہیں۔

---

49. Jus cogens

📖 ناقابل تنسیخ اصول۔
🔹 مثال: غلامی یا نسل کشی عالمی سطح پر ممنوع ہے۔

---

50. Stare decisis et non quieta movere

📖 فیصلوں پر قائم رہو اور طے شدہ بات کو نہ چھیڑو۔
🔹 مثال: عدالت اپنے پرانے فیصلوں کو بدلنے میں جلدی نہیں کرے گی۔

02/07/2025

وراثت کی تقسیم کا مکمل اور جامع قانونی طریقہ کار:

(١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد تقسیم ہوگی.

(٢): اگر صاحب جائیداد خود اپنی جائیداد تقسیم کرے تو اس پر واجب ہے کہ پہلے اگر کوئی قرض ہے تو اسے اتارے، جن لوگوں سے اس نے وعدے کیۓ ہیں ان وعدوں کو پورا کرے اور تقسیم کے وقت جو رشتےدار، یتیم اور مسکین حاضر ہوں ان کو بھی کچھ دے.

(٣): اگر صاحب جائیداد فوت ہوگیا اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ ہی جائیداد تقسیم کی تو متوفی پر واجب الادا قرض دینے کے بعد جائیداد صرف حقداروں میں ہی تقسیم ہوگی.

جائیداد کی تقسیم میں جائز حقدار:

(١): صاحب جائیداد مرد ہو یا عورت انکی جائیداد کی تقسیم میں جائیداد کے حق دار اولاد، والدین، بیوی، اور شوہر ہوتے ہیں.

(٢): اگر صاحب جائیداد کے والدین نہیں ہیں تو جائیداد اہل خانہ میں ہی تقسیم ہوگی.

(٣): اگر صاحب جائیداد کلالہ ہو اور اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں تو کچھ حصہ سوتیلے بہن بھائی کو جاۓ گا اور باقی نزدیکی رشتے داروں میں جو ضرورت مند ہوں نانا، نانی، دادا، دادی، خالہ، ماموں، پھوپھی، چچا، تایا یا انکی اولاد کو ملے

(1): شوہر کی جائیداد میں بیوی یا بیویوں کا حصہ:

(١): شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حصہ آٹھواں (1/8) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہونگی تو ان میں وہی حصہ تقسیم ہوجاۓ گا.

(٣): اگر شوہر کے اولاد ہے تو جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ بیوی کا ہے، چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر شوہر کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، بیوی کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر شوہر کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیوی کیلئے جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ ہے اور شوہر کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر کے اولاد نہیں ہے تو بیوی کا حصہ چوتھائی (1/4) ہو گا اور باقی جائیداد شوہر کے والدین کی ہوگی.

(٧): اگر کوئی بیوی شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاتی ہے تو اسکا حصہ نہیں نکلے گا.

(٨): اگر بیوہ نے شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے دوسری شادی کرلی تو اسکو حصہ نہیں ملے گا.

(٩): اور اگر بیوہ نے حصہ لینے کے بعد شادی کی تو اس سے حصہ واپس نہیں لیا جاۓ گا.

(2): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ:

(١): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ نصف (1/2) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر بیوی کے اولاد نہیں ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور نصف (1/2) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے.

(٣): اگر بیوی کے اولاد ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے، اور چھٹا (1/6) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر بیوی کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، شوہر کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد بیوی کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر بیوی کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور بیوی کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر، بیوی کے والدین کی طرف سے جائیداد ملنے سے پہلے فوت ہو جاۓ تو اس میں شوہر کا حصہ نہیں نکلے گا.

(٧): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے بچے ہیں تو بیوی کا اپنے والدین کی طرف سے حصہ نکلے گا اور اس میں شوہر کا حصہ چوتھائی (1/4) ہوگا اور باقی بچوں کو ملے گا.

(٨): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے

(3): باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): باپ کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): باپ کی جائیداد میں پہلے باپ کے والدین یعنی دادا، دادی کا چھٹا (1/6) حصہ، اور باپ کی بیوہ یعنی ماں کا آٹھواں (1/8) حصہ نکالنے کے بعد جائیداد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں، دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، آٹھ واں (1/8) حصہ بیوہ ماں کا ہوگا اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کوملے گا.

(٤): اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے، آٹھواں (1/8) حصہ بیوہ ماں کیلئے ہے اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر باپ کے والدین یعنی دادا یا دادی جائیداد کی تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اگر کوئی بھائی باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوگیا اور اسکی بیوہ اور بچے ہیں تو بھائی کا حصہ مکمل طریقہ سے نکالا جاۓ گا.

(٧): اگر کوئی بہن باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاۓ اور اسکا شوہر اور بچے ہوں تو شوہر اور بچوں کو حصہ ملے گا. لیکن اگر بچے نہیں ہیں تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.

(4): ماں کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): ماں کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): جائیداد ماں کے والدین یعنی نانا نانی اور باپ کا حصہ نکالنے کے بعد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اور اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، باپ کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد ماں کے والدین کیلئے ہے.

(٤): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، باپ کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور ماں کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر ماں کے والدین تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اور اگر باپ بھی زندہ نہیں ہے تو باپ کا حصہ بھی نہیں نکالا جاۓ گا ماں کی پوری جائیداد اسکے بچوں میں تقسیم ہوگی.

(٧): اگر ماں کے پہلے شوہر سے کوئی اولاد ہے تو وہ بچے بھی ماں کی جائیداد میں برابر کے حصہ دار ہونگے.

(5): بیٹے کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹے کے اولاد ہو تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹے کے اولاد نہیں ہے لیکن بیوہ ہے اور بیوہ نے شوہر کی جائیداد کے تقسیم ہونے تک شادی نہیں کی تو اس کو جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ملے گا اور باقی جائیداد بیٹے کے والدین کی ہوگی.

(٤): اگر بیٹے کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹا رنڈوا ہے اور اسکے کوئی اولاد بھی نہیں ہے تو اسکی جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور دو تہائی (2/3) حصہ باپ کا ہے اور اگر بیٹے کے بہن بھائی بھی ہوں تو اسکی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور باقی باپ کا ہے.

(6): بیٹی کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹی کے اولاد ہے تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹی کے اولاد نہیں ہے لیکن شوہر ہے تو شوہر کو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ملے گا اور نصف (1/2) جائیداد بیٹی کے والدین کی ہوگی.

(٤): اور اگر بیٹی کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے ایک چوتہائی (1/4) حصہ اور باقی والدین کا ہے.

(٥): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے چوتہائی (1/4) حصہ اور والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹی بیوہ ہو اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہوگا اور اگر بیٹی کے بہن بھائی ہیں تو ماں کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہوگا اور باقی باپ کو ملے گ

(7): کلالہ:

کلالہ سے مراد ایسے مرد اور عورت جنکی جائیداد کا کوئی وارث نہ ہو یعنی جنکی نہ تو اولاد ہو اور نہ ہی والدین ہوں اور نہ ہی شوہر یا بیوی ہو.

(١): اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہوں، اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں، اور اگر اسکا صرف ایک سوتیلہ بھائی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے، یا اگر صرف ایک سوتیلی بہن ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر بہن، بھائی تعداد میں زیادہ ہوں تو وہ سب جائیداد کے ایک تہائی (1/3) حصہ میں شریک ہونگے.

(٣): اور باقی جائیداد قریبی رشتے داروں میں اگر دادا، دادی یا نانا، نانی زندہ ہوں یا چچا، تایا، پھوپھی، خالہ، ماموں میں یا انکی اولادوں میں جو ضرورت مند ہوں ان میں ایسے تقسیم کی جاۓ جو کسی کیلئے ضرر رساں نہ ہو.

(8): اگر کلالہ کے سگے بہن بھائی ہوں:

(١): اگر کلالہ مرد یا عورت ہلاک ہوجاۓ، اور اسکی ایک بہن ہو تو اسکی بہن کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلئے ہے.

(٢): اگر اسکی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلیے ہے.

(٣): اگر اسکا ایک بھائی ہو تو ساری جائیداد کا بھائی ہی وارث ہوگا.

(٤): اگر بھائی، بہن مرد اورعورتیں ہوں تو ساری جائیداد انہی میں تقسیم ہوگی مرد کیلئے دوگنا حصہ اسکا جوکہ عورت کیلئے ہے.

الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اور ہر ترکہ کیلئے جو ماں باپ اور عزیز و اقارب چھوڑیں ہم نے وارث قرار دئیے ہیں اور جن سے تم نے عہد کر لئے ہیں ان کا حصہ ان کو دیدو بیشک الله ہر شے پر گواہ ہے. (4:33)

مردوں کیلئے اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں ایک حصہ ہے اور عورتوں کیلئے بھی اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں تھوڑا یا زیادہ مقرر کیا ہوا ایک حصہ ہے. (4:7)

اور جب رشتہ دار و یتیم اور مسکین تقسیم کے موقع پر حاضر ہوں تو انکو بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے نرمی کے ساتھ کلام کرو. (4:8)

الله تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے اور اگر فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو ترکے کا دو تہائی (2/3) ان کا ہے اور اگر وہ ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے نصف (1/2) ہے اور والدین میں سے ہر ایک کیلئے اگر متوفی کی اولاد ہو تو ترکے کا چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر متوفی کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کیلئے ترکہ کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور اگر متوفی کے بہن بھائی بھی ہوں تو اس کی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے بعد تعمیل وصیت جو وہ کر گیا ہو یا بعد اداۓ قرض کے تم نہیں جانتے کہ تمہارے آباء یا تمہارے بیٹوں میں سے نفع رسانی میں کون تم سے قریب تر ہے یہ الله کی طرف سے فریضہ ہے بیشک الله جاننے والا صاحب حکمت ہے. (4:11)

اور جو ترکہ تمہاری بے اولاد بیویاں چھوڑیں تمہارے لئے اس کا نصف (1/2) حصہ ہے اور اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لئے اس ترکہ کا جو وہ چھوڑیں چوتھائی (1/4) حصہ ہے اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو وہ کر گئی ہوں یا قرض کی ادائیگی کے بعد اور اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو جو ترکہ تم چھوڑو ان عورتوں کیلئے اس کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور اگر تمہارے اولاد ہو تو ان عورتوں کا اس ترکہ میں آٹھواں (1/8) حصہ ہے جو تم چھوڑو بعد از تعمیل وصیت جو تم نے کی ہو یا قرض کی ادائیگی کے اور اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر وہ تعداد میں اس سے زیادہ ہوں تو بعد ایسی کی گئی وصیت کی تعمیل جو کسی کیلئے ضرر رساں نہ ہو یا ادائیگی قرض کے وہ سب ایک تہائی (1/3) میں شریک ہونگے یہ وصیت منجانب الله ہے اور الله جاننے والا بردبار ہے. (4

تجھ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں کہہ دے کہ الله تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا آدمی ہلاک ہوجاۓ جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو پس اس کی بہن کیلئے اس کے ترکہ کا نصف (1/2) حصہ ہے. (اگر عورت ہلاک ہوجاۓ) اگر اس عورت کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کا وارث اس کا بھائی ہوگا اور اگر اس کی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے اس کے ترکہ کا دو تہائی (2/3) ہے اور اگر بھائی بہن مرد اور عورتیں ہوں تو مرد کیلئے دوگنا حصہ اس کا جو کہ عورت کیلے ہے الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

03/05/2024

حق حضانت یعنی کسٹڈی آف مائنر کے حوالے سے عدالت عظمی کے جج؛ جسٹس اطہر من اللہ صاحب کا ایک انتہائی اہم فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل اور حقائق کی طرف جانے سے پہلے عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ کیا محض دوسری شادی کی بناء پر والد یا والدہ کو حضانت سے محروم کیا جا سکتا ہے یا نہیں اور وہ کون سے عوامل ہیں جن کی بنیاد پر عدالتیں " بچے کی بہتری" کا فیصلہ کرتے وقت انحصار کر سکتی ہیں۔

کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :

شائستہ حبیب نامی مدعیہ کی شادی اکیس جون دو ہزار بارہ کو عارف حبیب نامی مدعا علیہ کے ساتھ ہوئ تھی جس کے نتیجے میں سترہ اپریل دو ہزار تیرہ کو ابراہیم کی پیدائش ہوئ۔ ابراہیم کی پیدائش کے بعد مدعیہ اور مدعا علیہ میں اختلافات جنم لیتے ہیں لیکن مختصرا زوجین کے درمیان ان اختلافات کا نتیجہ بائیس نومبر دو ہزار سولہ کو طلاق کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہاں پر یاد رہے کہ فریقین کے درمیان اختلافات اس حد تک گھمبیر ہو چکے تھے کہ مدعا علیہ کی جانب سے ایک طرف جسٹس آف پیس کے زریعے مدعیہ پر دو جنوری دو ہزار سترہ کو ایف آئی آر کے اندراج کے زریعے فوجداری مقدمات کا آغاز بھی کیا جاتا ہے تو دوسری طرف عائلی عدالت میں ابراہیم کی حضانت یعنی کسٹڈی کے لئے اٹھائیس جنوری دو ہزار سترہ کو درخواست بھی دی جاتی ہے۔ مدعا علیہ یعنی عارف حبیب کی جانب سے بچے کی حضانت کے لئے دائر کردہ درخواست پر بالآخر چار سال کے صبر آزما انتظار کے بعد تیس جون دو ہزار اکیس کو مدعا علیہ کے حق میں فیصلہ سنایا جاتا ہے یعنی عدالت یہ فیصلہ دیتی ہے کہ ابراہیم کی بہتری اس میں ہے کہ وہ اپنے والد کے ساتھ رہے جس کے خلاف شائستہ حبیب کی جانب سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سے رجوع کیا ہے لیکن مختصرا یہ کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی جانب سے بیس جون دو ہزار بائیس کو شائستہ حبیب کی اپیل بھی خارج کر دیتی ہے یعنی اپیل میں بھی والد کے حق میں فیصلہ برقرار رہ جاتا ہے جس کے خلاف مدعیہ آئین پاکستان کو استعمال میں لاتے ہوئے آرٹیکل ایک سو ننانوے کے تحت مندرجہ بالا دونوں فیصلوں کے خلاف عدالت عالیہ لاہور میں آئینی درخواست یعنی رٹ پٹیشن جمع کرتی ہے لیکن مختصرا یہ کہ مدعیہ کی آئینی درخواست بھی اکیس ستمبر دو ہزار بائیس کو خارج کر دی جاتی ہے یعنی تینوں عدالتیں یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ ابراہیم کی بہتری اس میں ہے کہ وہ اپنے والد یعنی عارف حبیب کے ساتھ رہے لیکن مندرجہ بالا زکر شدہ تینوں فیصلوں کے خلاف شائستہ حبیب عدالت عظمی سے رجوع کرتی ہے۔ یہاں پر یاد رہے کہ عدالت عظمی میں مدعیہ یعنی شائستہ حبیب بذات خود یعنی بغیر کسی وکیل کے پیش ہوتی ہیں۔

عدالت عظمی نے اس کیس کا آغاز فریقین بالخصوص ابراہیم کو سننے کے بعد اس بات سے کیا ہے کہ محمد ابراہیم باوجود والدین کے درمیان جدائی جیسی گھمبیر صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے نہ صرف پر اعتماد تھا بلکہ عدالت کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات بھی نہایت بہترین طریقے سے دئے۔ یہاں پر یاد رہے کہ ابراہیم نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ مدعا علیہ اس کا والد ہے لیکن چونکہ بچپن میں ہی والد کا گھر چھوڑنے کی وجہ سے اب وہ اس کے لئے ایک اجنبی سے زیادہ نہیں تو اس لئے اس نے والدہ سے جدا ہونے سے واضح طور پر ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ ابراہیم کو سننے کے بعد عدالت نے مدعا علیہ کے وکیل کو بھی سنا اور اس کے بعد اس اہم فیصلے کا آغاز کیا۔

عدالت نے فریقین کو سننے کے بعد اپنے فیصلے کا آغاز ان امور کی نشاندھی سے کیا ہے کہ جس کی بنیاد پر تینوں عدالتوں یعنی ٹرائل کورٹ ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور عدالت عالیہ نے والد کے حق میں فیصلہ دیا ہے اور مختصرا لکھا ہے کہ تینوں عدالتوں نے صرف مدعیہ کی دوسری شادی اور بچے کی عمر کی وجہ سے والد کے حق فیصلہ دیا ہے اور ان عوامل کو سرے سے درخور اعتنا ہی نہیں سمجھا جن کی بنیاد پر اصل میں بچے کی بہتری کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ یہاں پر عدالت نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ فریقین کے درمیان ٹرائل کے وقت ریکارڈ ہونے والی شہادت اس کیس کے صحیح فیصلے کے لئے کافی ہے لیکن شہادت کو بچے کی بہتری کی نظر سے جانچا ہی نہیں گیا اور اس لئے عدالت نے اس موقع پر قرار دیا کہ بچے کی حضانت کا کوئ بھی فیصلہ جس میں بچے کی بہتری والے عوامل پر غور کئے بغیر فیصلے سنائے گئے ہوں تو وہ برقرار رہ نہیں سکتے اور نہ ہی وہ قانونی کہلا سکتے ہیں۔ مندرجہ بالا امور کے زکر کے بعد عدالت نے حق حضانت پر ایک نہایت ہی جامع بحث باندھا ہے جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ :

یہ ایک طے شدہ اور مسلم قانون ہے کہ والد ایک فطری سرپرست یعنی نیچرل گارڈین ہے جبکہ والدہ کو فطری طور پر مذکر بچے کی حضانت کا حق سات سال کی عمر تک جبکہ مؤنث اولاد کی حضانت کا حق بلوغت تک حاصل ہوتا ہے۔ والد ، نیچرل گارڈین ہونے کے ناطے اولاد کی کفالت یعنی نان نفقے کا زمہ دار ہے چاہے اولاد والدہ کے پاس کیوں نہ ہوں لیکن مندرجہ بالا زکر شدہ دونوں اصول حتمی نہیں ہیں بلکہ ان دونوں اصولوں کے ساتھ کچھ استثنائ صورتیں بھی پیوستہ ہیں جن کی تفصیل ملک خضر حیات خان بنام زینب بیگم میں موجود ہے۔ حق حضانت کا مکمل انحصار صرف اور صرف بچے کی بہتری کے اصول میں مضمر ہے اور بچے کی بہتری کا معیار ہر کیس میں الگ الگ ہوتا ہے لیکن بنیادی معیار جو کہ ہر کیس میں یکساں طور پر دیکھا جائے تو وہ بچے کی نہ صرف جسمانی ، دماغی ، نفسیاتی نقصان سے بچاؤ کی حفاظت ہے۔ یہاں پر عدالت نے بچے کی بہتری کے معیار کے طریقہ کار پر ہاؤس آف لارڈز کے ایک فیصلے پر بھی انحصار کیا ہے۔ یہاں پر عدالت نے گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ کے دفعہ سترہ ( تین ) کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ اگر بچہ اتنا زہین ہو کہ وہ خود اپنے لئے ترجیح کر سکے تو اس کے ترجیح کو بھی قابل غور لایا جائے گا۔ یہاں پر عدالت نے واضح طور پر ایک اور نکتہ یہ لکھا ہے کہ اگر بچے کی بہتری والدین کے علاؤہ کسی اور رشتہ دار مثلاً دادا، نانا ، پھوپی یا خالہ وغیرہ کو دینے میں ہو تو عدالت ان کو بھی بچے کی حضانت دے سکتی ہے۔

حضانت کے حوالے سے مندرجہ بالا اہم اصولوں کے زکر کے بعد عدالت موجودہ کیس کی طرف واپس آئ ہے اور یہ قرار دیا ہے کہ ابراہیم نہ صرف زہین ، پر اعتماد اور اتنا سمجھ دار ہے کہ اپنے لئے ترجیح کر سکے اور چونکہ ابرہیم کا یہ کہنا ہے کہ اس کا والد اس کے لئے ایک اجنبی سے زیادہ کچھ نہیں کیوں کہ اس نے والد کے ساتھ وقت ہی نہیں گزارا اور چونکہ وہ نہ صرف اپنی والدہ کے ساتھ نہ صرف آرام دہ ہے بلکہ اپنے غیر حقیقی باپ کے ساتھ بھی اس کے تعلقات خوش گوار ہیں اور چونکہ وہ پیدائش سے ہی اپنی والدہ کے ساتھ ہے اور چونکہ اس کے حقیقی باپ یعنی عارف حبیب نے بچے کے ساتھ ملاقات کے لئے کوئ خاص کوشش ہی نہیں کی اور چونکہ ابراہیم اپنے والد کے ساتھ رہنا نہیں چاہتا تو چونکہ مندرجہ بالا زکر شدہ وہ بنیادی عوامل ہیں جن کو ابراہیم کی حضانت کا فیصلہ کرتے ہوئے نچلی تمام عدالتوں کو جائزہ لینا چاہیے تھا لیکن کسی بھی عدالت نے مندرجہ بالا عوامل کو درخور اعتنا یعنی قابل توجہ ہی نہیں سمجھا اور اس کی بجائے غیر ضروری عوامل پر توجہ دی تو اس لئے عدالت نے شائستہ حبیب کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے تینوں عدالتوں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے کر ابرہیم کی حضانت کا حق دار اس کی والدہ کو قرار دیا۔

مندرجہ بالا فیصلہ لکھنے کے بعد عدالت نے آئین پاکستان کے آرٹیکل سات، انتیس ( تین ) اور پینتیس کے تحت ریاست کی یہ زمہ داری قرار دی کہ بچوں کی بہتری کے لئے لازمی ہے کہ نہ صرف ایسے ججز تعینات ہوں جو کہ باقاعدہ ٹریننگ رکھتے ہوں اور عدالتوں کو تمام تر سہولیات بشمول ماہر نفسیات وغیرہ بھی دستیاب ہوں اور عدالتیں ایسی ہوں کہ جو بچوں کے حق میں بہتر ہوں۔ اس کے بعد عدالت نے مندرجہ بالا فیصلہ نہ صرف صدر پاکستان اور تمام گورنروں ، چیف سیکرٹریز اور جوڈیشل اکیڈمیز کے ڈائریکٹر جنرلز کو بھیجنے کا حکم بھی صادر فرمایا۔

اس انتہائی اہم کیس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ بچے کی حضانت کا فیصلہ کرتے ہوئے بچے کی بہتری کو دیکھتے ہوئے تمام عوامل پر غور کیا جائے گا اور والد یا والدہ کو صرف بچے کی عمر یا دوسری شادی کی وجہ سے بچے کی حضانت یعنی کسٹڈی سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

یہ اہم فیصلہ سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس اطہر من اللہ صاحب نے لکھا ہے جن کے ساتھ جسٹس امین الدین خان نے اتفاق کیا ہے جو کہ CIVIL PETITION NO.3801 پر پڑھا اور دیکھا جا سکتا ہے۔

27/01/2024

لاء کالــــج کے اسٹوڈنٹ کے ایکــــــــ گروپ نے وکیل صاحب سے پوچھا۔
سر ! وکالت کے کیا معنی ہیں ؟

وکیل صاحب نے کہا
میں اس کے لئے ایکــــــــ مثال دیتا ھوں۔
مان لو کہ میرے پاس دو آدمی آتے ہیں۔ ایکــــــــ بالکل صاف ستھرا اور دوسرا بہت گندہ ھے۔ اب میں ان دونوں کو صلاح دیتا ھوں کہ وہ دونوں نہا کر صاف ستھرے ھو جائیں۔

*اب آپ لوگ بتائیں کہ ان
*میں سے کون نہائے گا ؟

ایکــــــــ اسٹوڈنٹ نے کہا۔ جو گندہ ھے وہ نہائے گا۔
وکیل نے کہا۔ نہیں صرف صاف آدمی ھی نہائے گا کیونکہ کہ اسے صفائی کی عادت ھے جب کہ گندے آدمی کو تو صفائی کی اھمیت ھی نہیں معلوم۔

*وکیل اب بتاؤ کون نہائے گا ؟
دوسرے اسٹوڈنٹ نے کہا صاف آدمی۔
وکیل نے کہا۔ نہیں گندہ شخص نہائے گا کیونکہ کہ اسے صفائی کی ضرورت ھے

*اب بتاؤ کون نہائے گا؟*
دو اسٹوڈنٹ ایکــــــــ ساتھ بولے جو گندہ ھے وہ نہائے گا۔
وکیل نے کہا۔ نہیں دونوں نہائیں گے کیونکہ صاف آدمی کو نہانے کی عادت ھے اور گندے آدمی کو نہانے کی ضرورت ھے۔

*اب بتاؤ کون نہائے گا ؟*
سب اسٹوڈنٹ ساتھ بولے جی دونوں نہائیں گے۔
وکیل نے کہا ، غـــــــلط ! کوئی بھی نہیں نہائے گا کیونکہ گندے کو نہانے کی عادت نہیں اور صاف آدمی کو نہانے کی ضرورت نہیں۔

*اب بتاؤ کون نہائے گا ؟*
ایکــــــــ اسٹوڈنٹ نے بہت نرمی سے کہا سر آپ ھر بار الگ الگ جواب دیتے ہیں اور ھر جواب صحیح معلوم پڑتا ھے تو ھمیں صحیح جواب کیسے معلوم ھو گا ؟
وکیل صاحب بولے بس یہی وکالت ھے۔ اھم یہ نہیں کہ حقیقت کیا ھے بلکہ اھمیت اس بات کی ھے کہ آپ اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کے لئے کتنی ممکنہ دلیل دے سکتے ہیں!
کیا سمجھے؟
نہیں سمجھے؟
یہی وکالت ھے!

*تو اب بتائیں کون نہائے گا ؟*

16/10/2023
01/10/2023

RULES OF CROSS-EXAMINATION

1 The cross-examination is intuitive like music and painting.
It is a mental dual between the counsel and the witness.
The counsel has to adopt number of tactics to elicit truth from witness. Perfection can be achieved by training, practice and experience.

2 Never take your eyes from that of the witness, keep up channel of communication fom 1 mind to mind during the course of examination.

3 Be mild with mild, shrewd with the crafty , confiding with the honest, merciful to the young, frail and fearful: rough to the ruffian and a thunder bolt to the liar.

4 An equivocal question shall be avoided.

5 Be careful to a witty or refractory witness with you, not to lose temper, anger is always either the precursor or evidence of assured defeat in every intellectual treat.

6 Do not bend your mind upon partial and temporary success otherwise defeat is bount to happen in the end.

7 Never under-value your adversary.

8 Be respectful to the court, kind to your colleagues, civil to your antagonist but without any compromise on the principle of your duty.

9 Never commence cross-examination without the best preparation relating to your brief, concerning the witness and the point on which he would be called upon to dipose.

10 Always attack the witness under cross-examination in the opening at the weakest point.

11 Do not begin with your bad witness, begin with the best.

12 Never attack a witness character unless you have a record of it.

13 Do not make too much of immaterial discrepancies.

14 Do not examine a witness in a language which is above the level of the witness.

15 Do not cross-examine much when the offence is only technical.

16 When the offence is proved to the hilt try to reduce the gravity of the offence, rendering mitigating circumstances in favour of the accused.

17 If the witness is enthusiastic or exaggerating allow him to exaggerate the matter until the exaggeration becomes apparently absurd.

18 Do not cross-examine a moderate witness severely.

19 Do not press an unwilling and letting witness too much.

20 Do not ask more information from a witness other than necessary in cross-examination.

01/10/2023

To all respectable Bar Members: I propose the following nomenclatures for marking of exhibited documents in civil cases:

1. For plaintiff witnesses, for example, PW1, it should be marked as Ex. PW1/1, Ex. PW1/2, etc.

2. For defence witnesses, for example, DW1, it should be marked as Ex. DW1/1, Ex. DW1/2, etc.

3. For court witness, Ex. CW1/1, Ex. CW1/2, etc.

4. For documents produced by way of application or in the statement of counsel) and exhibited, it should be marked as Ex. P1, Ex. P2, etc. Or Ex. D1, Ex. D2, etc, as the case may be.

5. For documents put to plaintiff’s witnesses during cross examination and exhibited, it should be marked as, if put to PW1 by the defence, Ex. D1/PW1, Ex. D2/PW1, etc.

6. For documents put to defence witnesses during cross examination and exhibited, it should be marked as, if put to DW1 by the plaintiff, Ex. P1/DW1, Ex. P2/DW1, etc.

7. For documents put to court witnesses during cross examination and exhibited, it should be marked as, if put by Plaintiff to CW1, Ex. P1/CW1, Ex. P2/CW1, etc., if put by defence to CW1, Ex. D1/CW1, Ex. D2/CW1, etc.

The use of above nomenclature would ensure consistency in the production of evidence and would greatly facilitate the reading of evidence and identifying the source and target of production and exhibition of documentary evidence.

Address

House No. 351, Street No. 98, Sector E-11/1
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Solutions Islamabad. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Legal Solutions Islamabad.:

Share