The Lawline Immigration & Family Law Consultants LLP

The Lawline Immigration & Family Law Consultants LLP The Law Line (A Partnership Firm) renders all kinds of legal services in Pakistan.

If a wife seeks Khula without proving cruelty or misconduct by her husband, she may be required to return the Haq-e-Mahr...
17/09/2026

If a wife seeks Khula without proving cruelty or misconduct by her husband, she may be required to return the Haq-e-Mahr she received.
Khula may dissolve the marriage, but the Mahr may still need to be returned.

PLD, 2026 Supreme Court 319

خلع کی بنیاد پر نکاح ختم ہو تو کیا بیوی حقِ مہر میں ملی جائیداد اپنے پاس رکھ سکتی ہے؟سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم قانونی...
14/09/2026

خلع کی بنیاد پر نکاح ختم ہو تو کیا بیوی حقِ مہر میں ملی جائیداد اپنے پاس رکھ سکتی ہے؟
سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم قانونی فیصلہ
PLD 2026 Supreme Court 319
فریقین کے درمیان نکاح 5 اپریل 2001 کو ہوا۔ نکاح کے وقت حقِ مہر میں 10 لاکھ روپے نقد اور ایک غیر منقولہ جائیداد، یعنی پلاٹ نمبر 6، غازی کوٹ ٹاؤن شپ، مانسہرہ مقرر کیا گیا۔
بعد ازاں مذکورہ پلاٹ شوہر کے والد کی جانب سے فروخت کیے جانے پر بیوی نے نکاح نامہ کی بنیاد پر جائیداد کے متعلق اپنا حقِ ملکیت تسلیم کرانے کے لیے دعویٰ دائر کیا، جس میں اسے ڈگری بھی حاصل ہوئی۔
بعد میں بیوی نے تنسیخِ نکاح، نفقہ، حقِ مہر اور جہیز وغیرہ کے لیے فیملی سوٹ دائر کیا۔
فیملی کورٹ کا فیصلہ
فیملی کورٹ نے فریقین کے درمیان نکاح کو خلع کی بنیاد پر ختم کر دیا۔
تاہم بیوی کی جانب سے شوہر کے خلاف ظلم یا cruelty ثابت نہ ہونے کی صورت میں عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ نکاح خلع کی بنیاد پر ختم ہوا ہے، اس لیے حقِ مہر میں حاصل ہونے والی جائیداد واپس کرنا ہوگی۔
ہائی کورٹ نے بھی اس مؤقف کو برقرار رکھا۔
سپریم کورٹ کا اہم قانونی اصول
سپریم کورٹ نے Family Courts Act, 1964 کی Section 10(4) اور اس میں Family Courts (Amendment) Act, 2015 کے ذریعے کی گئی ترمیم کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ:
اگر مصالحت کی کوشش ناکام ہو جائے اور بیوی خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کرواتی ہے، جبکہ شوہر کی جانب سے ظلم یا زیادتی ثابت نہ ہو، تو قانون کے تحت خلع کے نتیجے میں بیوی کو حاصل شدہ حقِ مہر یا اس کا نعم البدل واپس کرنے کا قانونی اثر پیدا ہوتا ہے۔
جائیداد بھی حقِ مہر ہو تو؟
یہ فیصلہ اس پہلو سے بھی انتہائی اہم ہے کہ اگر حقِ مہر صرف نقد رقم تک محدود نہ ہو بلکہ پلاٹ، مکان یا کوئی دوسری غیر منقولہ جائیداد بھی مہر میں شامل ہو، تو خلع کی قانونی صورتِ حال میں اس جائیداد کی واپسی کا سوال بھی پیدا ہوسکتا ہے۔
یعنی حقِ مہر میں دی گئی جائیداد کو محض اس بنیاد پر محفوظ نہیں سمجھا جا سکتا کہ اس کے متعلق پہلے کوئی ڈگری یا declaration حاصل کی جا چکی تھی۔
سابقہ ڈگری اور بعد کی خلع کی ڈگری
سپریم کورٹ نے اس امر پر بھی غور کیا کہ جب بعد میں فیملی کورٹ نے خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کرتے ہوئے حقِ مہر کی واپسی کا حکم دیا تو اس کا پہلے سے موجود عدالتی فیصلے پر کیا اثر ہوگا۔
عدالت نے قرار دیا کہ بعد میں آنے والی خلع کی ڈگری اور اس کے قانونی نتائج کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور موجودہ قانونی صورتحال کے تناظر میں سابقہ declaration/ڈگری کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا

"All legal services of your business under one roof".Feel Free to contact us for free ConsultationKhurram Bashir AHC : 0...
02/09/2026

"All legal services of your business under one roof".

Feel Free to contact us for free Consultation

Khurram Bashir AHC : 03335948136



این سی سی آئی اے کسی بھی شہری کے بینک اکاؤنٹس منجمد نہیں کر سکتی۔۔اسلام آباد ہائی کورٹ:-محمد عزیر انور وغیرہ بنام وفاقِ ...
26/08/2026

این سی سی آئی اے کسی بھی شہری کے بینک اکاؤنٹس منجمد نہیں کر سکتی۔۔
اسلام آباد ہائی کورٹ:-
محمد عزیر انور وغیرہ بنام وفاقِ پاکستان وغیرہ
I.C.A. No. 362 of 2025 بمعہ متصل اپیلیں Nos. 359، 360 اور 361 of 2025
اسلام آباد ہائی کورٹ:-
فیصلہ: 28 اکتوبر 2025ء
فاضل ججز: جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس

اہم قانونی نکات:-
انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ، 2016ء — دفعہ 29 — ایف آئی اے ایکٹ، 1974ء — دفعہ 5 — نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) — دائرۂ اختیار — بینک اکاؤنٹس منجمد کرنا
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو 2025ء کی ترمیم کے ذریعے Prevention of Electronic Crimes Act, 2016 کی دفعہ 29 کے تحت ایک آزاد تحقیقاتی ادارے کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ لہٰذا NCCIA اب وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FIA) کا ماتحت شعبہ نہیں رہی اور اسے FIA ایکٹ 1974ء کی دفعہ 5(5) کے تحت حاصل اختیارات ازخود حاصل نہیں ہیں۔ NCCIA اپنے اختیارات صرف PECA 2016ء سے حاصل کرتی ہے اور وہی اختیارات استعمال کرسکتی ہے جو پارلیمنٹ نے اسے قانون کے ذریعے تفویض کیے ہوں۔

بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا اختیار:-
عدالت نے واضح کیا کہ PECA 2016ء میں NCCIA کو زیرِ تفتیش شہریوں کے بینک اکاؤنٹس یا دیگر املاک منجمد کرنے کا کوئی صریح اختیار نہیں دیا گیا۔

NCCIA نے National Cyber Crime Investigation Agency (Function) Rules, 2025 کے Rule 5 کی بنیاد پر یہ اختیار استعمال کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت قانون سازی (subordinate legislation) اپنے بنیادی قانون (parent statute) سے آگے نہیں بڑھ سکتی اور ایسا کوئی نیا substantive اختیار پیدا نہیں کرسکتی جو پارلیمنٹ نے اصل قانون میں نہیں دیا۔ لہٰذا Rule 5 بادی النظر میں PECA 2016ء کے تحت تفویض کردہ اختیارات سے تجاوز کرتا ہے۔

Anti-Money Laundering Act کا طریقۂ کار
عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر NCCIA کی رائے میں کسی شہری کے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم proceeds of crime یا منی لانڈرنگ سے متعلق ہے تو اسے Anti-Money Laundering Act, 2010ء کے تحت مقررہ قانونی طریقۂ کار اختیار کرنا ہوگا۔
ایسی صورت میں قانون کے مطابق متعلقہ عدالت سے حکم حاصل کرنا ضروری ہے؛ NCCIA براہِ راست بینکوں کو اکاؤنٹس منجمد کرنے کی ہدایت دے کر اس قانونی طریقۂ کار کو bypass نہیں کرسکتی۔

آئینی حقوق اور متناسب کارروائی:-
عدالت نے اس امر کو بھی اہم قرار دیا کہ کارروائی محض NCCIA کی اپنی source report کی بنیاد پر شروع کی گئی تھی، جس میں مبینہ جرائم میں ہر اپیل کنندہ کے کردار کو الگ الگ واضح نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت کے مطابق ضروری تھا کہ پہلے تفصیلی انکوائری کی جاتی، متعلقہ افراد کو الزامات سے آگاہ کیا جاتا اور انہیں قانونی عمل میں شامل کیا جاتا۔ اس کے بجائے جلد بازی میں بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے سے ان کے حقِ ملکیت، ذریعۂ معاش اور زندگی پر اثر پڑ سکتا تھا۔
بالخصوص خاندان کے ان افراد کے اکاؤنٹس یا مالی حقوق کو متاثر کرنا جن کے خلاف کوئی مخصوص الزام موجود نہیں تھا، عدالت نے غیر متناسب، سخت اور غیر معقول اقدام قرار دیا۔

فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے:-
1. Intra Court Appeals منظور کرلیں؛
2. سنگل بینچ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا؛
3. NCCIA کی جانب سے اپیل کنندگان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کی کارروائی ختم کردی؛
4. متعلقہ اداروں کو اکاؤنٹس فوری طور پر unfreeze/unblock کرنے کی ہدایت کی؛ اور
5. NCCIA کو ہدایت کی کہ وہ انکوائری قانون کے عین مطابق جاری رکھے۔

Ratio Decidendi — بنیادی قانونی اصول
NCCIA محض ماتحت قانون سازی یا قواعد کے ذریعے ایسا substantive اختیار حاصل نہیں کرسکتی جو PECA 2016ء میں پارلیمنٹ نے اسے صراحتاً نہیں دیا۔

مزید برآں، ماتحت قانون سازی بنیادی قانون سے تجاوز نہیں کرسکتی اور کسی سرکاری ادارے کو ایسا اختیار نہیں دے سکتی جو اصل قانون میں موجود ہی نہ ہو۔ شہریوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے جیسی کارروائی کے لیے واضح قانونی اختیار، مقررہ قانونی طریقۂ کار اور آئینی تقاضوں، بالخصوص قانونی جواز، تناسب اور منصفانہ طریقۂ کار کی پابندی ضروری ہے۔۔

"All legal services of your business under one roof".Feel Free to contact us for free ConsultationKhurram Bashir AHC : 0...
19/08/2026

"All legal services of your business under one roof".

Feel Free to contact us for free Consultation

Khurram Bashir AHC : 03335948136



Address

Office No. 1, Allah Wala Plaza. 2nd Floor, Karachi Company, G 9 Markaz
Islamabad
44090

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Lawline Immigration & Family Law Consultants LLP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to The Lawline Immigration & Family Law Consultants LLP:

Shortcuts

Share

Category