26/08/2026
این سی سی آئی اے کسی بھی شہری کے بینک اکاؤنٹس منجمد نہیں کر سکتی۔۔
اسلام آباد ہائی کورٹ:-
محمد عزیر انور وغیرہ بنام وفاقِ پاکستان وغیرہ
I.C.A. No. 362 of 2025 بمعہ متصل اپیلیں Nos. 359، 360 اور 361 of 2025
اسلام آباد ہائی کورٹ:-
فیصلہ: 28 اکتوبر 2025ء
فاضل ججز: جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس
اہم قانونی نکات:-
انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ، 2016ء — دفعہ 29 — ایف آئی اے ایکٹ، 1974ء — دفعہ 5 — نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) — دائرۂ اختیار — بینک اکاؤنٹس منجمد کرنا
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو 2025ء کی ترمیم کے ذریعے Prevention of Electronic Crimes Act, 2016 کی دفعہ 29 کے تحت ایک آزاد تحقیقاتی ادارے کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ لہٰذا NCCIA اب وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FIA) کا ماتحت شعبہ نہیں رہی اور اسے FIA ایکٹ 1974ء کی دفعہ 5(5) کے تحت حاصل اختیارات ازخود حاصل نہیں ہیں۔ NCCIA اپنے اختیارات صرف PECA 2016ء سے حاصل کرتی ہے اور وہی اختیارات استعمال کرسکتی ہے جو پارلیمنٹ نے اسے قانون کے ذریعے تفویض کیے ہوں۔
بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا اختیار:-
عدالت نے واضح کیا کہ PECA 2016ء میں NCCIA کو زیرِ تفتیش شہریوں کے بینک اکاؤنٹس یا دیگر املاک منجمد کرنے کا کوئی صریح اختیار نہیں دیا گیا۔
NCCIA نے National Cyber Crime Investigation Agency (Function) Rules, 2025 کے Rule 5 کی بنیاد پر یہ اختیار استعمال کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت قانون سازی (subordinate legislation) اپنے بنیادی قانون (parent statute) سے آگے نہیں بڑھ سکتی اور ایسا کوئی نیا substantive اختیار پیدا نہیں کرسکتی جو پارلیمنٹ نے اصل قانون میں نہیں دیا۔ لہٰذا Rule 5 بادی النظر میں PECA 2016ء کے تحت تفویض کردہ اختیارات سے تجاوز کرتا ہے۔
Anti-Money Laundering Act کا طریقۂ کار
عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر NCCIA کی رائے میں کسی شہری کے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم proceeds of crime یا منی لانڈرنگ سے متعلق ہے تو اسے Anti-Money Laundering Act, 2010ء کے تحت مقررہ قانونی طریقۂ کار اختیار کرنا ہوگا۔
ایسی صورت میں قانون کے مطابق متعلقہ عدالت سے حکم حاصل کرنا ضروری ہے؛ NCCIA براہِ راست بینکوں کو اکاؤنٹس منجمد کرنے کی ہدایت دے کر اس قانونی طریقۂ کار کو bypass نہیں کرسکتی۔
آئینی حقوق اور متناسب کارروائی:-
عدالت نے اس امر کو بھی اہم قرار دیا کہ کارروائی محض NCCIA کی اپنی source report کی بنیاد پر شروع کی گئی تھی، جس میں مبینہ جرائم میں ہر اپیل کنندہ کے کردار کو الگ الگ واضح نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت کے مطابق ضروری تھا کہ پہلے تفصیلی انکوائری کی جاتی، متعلقہ افراد کو الزامات سے آگاہ کیا جاتا اور انہیں قانونی عمل میں شامل کیا جاتا۔ اس کے بجائے جلد بازی میں بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے سے ان کے حقِ ملکیت، ذریعۂ معاش اور زندگی پر اثر پڑ سکتا تھا۔
بالخصوص خاندان کے ان افراد کے اکاؤنٹس یا مالی حقوق کو متاثر کرنا جن کے خلاف کوئی مخصوص الزام موجود نہیں تھا، عدالت نے غیر متناسب، سخت اور غیر معقول اقدام قرار دیا۔
فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے:-
1. Intra Court Appeals منظور کرلیں؛
2. سنگل بینچ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا؛
3. NCCIA کی جانب سے اپیل کنندگان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کی کارروائی ختم کردی؛
4. متعلقہ اداروں کو اکاؤنٹس فوری طور پر unfreeze/unblock کرنے کی ہدایت کی؛ اور
5. NCCIA کو ہدایت کی کہ وہ انکوائری قانون کے عین مطابق جاری رکھے۔
Ratio Decidendi — بنیادی قانونی اصول
NCCIA محض ماتحت قانون سازی یا قواعد کے ذریعے ایسا substantive اختیار حاصل نہیں کرسکتی جو PECA 2016ء میں پارلیمنٹ نے اسے صراحتاً نہیں دیا۔
مزید برآں، ماتحت قانون سازی بنیادی قانون سے تجاوز نہیں کرسکتی اور کسی سرکاری ادارے کو ایسا اختیار نہیں دے سکتی جو اصل قانون میں موجود ہی نہ ہو۔ شہریوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے جیسی کارروائی کے لیے واضح قانونی اختیار، مقررہ قانونی طریقۂ کار اور آئینی تقاضوں، بالخصوص قانونی جواز، تناسب اور منصفانہ طریقۂ کار کی پابندی ضروری ہے۔۔