11/11/2025
انا للہ وانا الیہ راجعون
سانحہ
یہ سب کچھ
اچانک کیسے ہو گیا
لمحوں نے صدیوں کے زخم دے دیے
وہ بے لوث، خوب سیرت اور مسکراتا شخص ظالموں نے چھین لیا۔
آہ برادرم زبیر اسلم گھمن!
۔۔۔۔۔ نہ جانے کیا حالت تھی کہ اپ مجھے نظر ہی نہیں ائے ورنہ یا آپ کا ہمسفر ہوتا یا آپ بھی ہمارے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔
کیوں ھوا ایسا۔۔۔ اپ تو ہمیشہ مجھے خود آواز دے کر بلاتے تھے۔
عدالت عالیہ سے آ کر G11 پہنچا ابھی واک تھرو کراس کیاتھا کہ دھماکہ ھوا۔ لوگوں کے دھکوں سے لالا قاسم نیازی گرے تو انہیں سہارا دے کر سیکرٹری افس تک لے کر گیا۔
ڈسٹرکٹ کورٹ کے سامنے جیسے ہی اتر کر روڈ کراس کیا تو سڑک اور وکلا انٹری گیٹ کی جانب چند وکلا کھڑے تھے جنہیں حسب عادت ہاتھ ہلا کر سلام کیا اور عدالت میں کیس کال ہونے کی وجہ سے میں فورا کورٹ کے اندر چلا گیا۔
ابھی تک حیرت زدہ ہوں کہ برادرم زبیر اسلم نے مجھے نہ دیکھا اور میں نے بھی انہیں نہ دیکھا ورنہ یہ ممکن نہیں تھا کہ میں ان سے ملے بغیر یا ان کو ساتھ لے کر عدالت میں نہ جاتا
ابھی تو مجھے وہ لمحات بھی نہیں بھولے جب برادرم زبیر اسلم کو یہ معلوم ہوا کہ میں بار کونسل کا الیکشن لڑ رہا ہوں تو وہ عدالت عالیہ میں خود میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے سختی سے میرے الیکشن کارڈز طلب کرتے ہیں
انہوں نے باجوہ صاحب کے سامنے بھی برملا اظہار کیا کہ پہلی مہر راو عبد الرحیم کے لیے اور دوسری مہر باجوہ صاحب کے لیے
وہ ہر لمحے مسکراتا ملا بے لوث تھا بے خوف تھا سچا تھا اور اس کے دل میں اقائے دو عالم کی محبت ہی وہ جذبہ تھا جس نے مجھ جیسی ناچیز کو اس جیسے بلند پایا کہ انسان کے ساتھ باندھ رکھا تھا
بم پھوڑنے والو!
میرے ملک کا امن تباہ کرنے والو!
تم اجڑ جاؤ۔ تمہارا ستیاناس ہو جائے۔
تم نے ہم سے ایک سچا اور کھرا انمول ہیرا چھین لیا۔
تمہیں گھر اجڑنے کا دکھ نہیں معلوم۔
خدا تمہیں غارت کرے
برادرم زبیر اسلم گھمن آپ ہمیں وہ دکھ دے گئے جسے بھلانا مشکل ہوگا۔
راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ