Mian Uzair Ul Haq

Mian Uzair Ul Haq Offering legal services in Islamabad and KP

اگر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زخم لگنے اور موت واقع ہونے کے درمیانی وقت کا ذکر موجود نہ ہو، اور میڈیکل آفیسر کی رائے کے مطابق...
01/06/2025

اگر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زخم لگنے اور موت واقع ہونے کے درمیانی وقت کا ذکر موجود نہ ہو، اور میڈیکل آفیسر کی رائے کے مطابق موت کی وجہ غیر یقینی ہو اور موت کا طریقہ (manner of death) غیر متعین ہو، تو استغاثہ کا مقدمہ دفعہ 497(2) ضابطہ فوجداری کے تحت مزید تفتیش (Further Inquiry) کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ لہٰذا درخواست ضمانت منظور کی گئی۔

Crl. Misc. 9980/25
Maryam Vs The State etc.
Mr. Justice Farooq Haider
29-05-2025
2025 LHC 3484

Mian Uzair Ul Haq AHC

31/01/2025

جہالت ایک بڑی نعمت ہے

نکاح کے دوران پیدائش----نسب کا حتمی ثبوت:👇آرٹیکل 128 قانو نِ شہادت آرڈر 1984:آرٹیکل 128 قانو نِ شہادت آرڈر 1984 کے مطابق...
06/12/2024

نکاح کے دوران پیدائش----نسب کا حتمی ثبوت:👇

آرٹیکل 128 قانو نِ شہادت آرڈر 1984:

آرٹیکل 128 قانو نِ شہادت آرڈر 1984 کے مطابق، اگر کسی عورت کے ہاں بچے کی پیدائش نکاح کے دوران یا طلاق کے دو سال کے اندر ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ طلاق کے بعد غیر شادی شدہ رہے، تو یہ بچے کی قانونی حیثیت کا حتمی ثبوت ہوگا۔ یہ ایک ایسا حقائق ہے جو "حتمی ثبوت" کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے خلاف کوئی شہادت پیش نہیں کی جا سکتی۔

آرٹیکل 2(ف)(9) قانو نِ شہادت آرڈر 1984 کے تحت، جب ایک حقیقت کو دوسرے حقیقت کا حتمی ثبوت قرار دیا جائے تو عدالت ایک حقیقت کے ثابت ہونے پر دوسری حقیقت کو ثابت سمجھے گی اور اسے جھٹلانے کے لیے کوئی شہادت پیش کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ آرٹیکل 128 کے تحت اگر کسی بچے کی پیدائش اس مدت کے دوران ہوتی ہے تو یہ اس بات کا حتمی ثبوت ہوگا کہ وہ جائز بچہ ہے۔ نکاح کے آغاز، طلاق کی تاریخ اور بچے کی پیدائش کی تاریخ جو آرٹیکل 128 کے تحت دی گئی مدت میں آتی ہے، ثابت ہونے کے بعد عدالت کسی قسم کی شہادت کو قبول نہیں کرے گی جو بچے کی جائز حیثیت کو جھٹلا سکے۔

آرٹیکل 128(1)(ا) میں ذکر ہے کہ اگرچہ نکاح کے دوران یا طلاق کے دو سال کے اندر بچے کی پیدائش جائزیت کا حتمی ثبوت ہے، لیکن مخصوص حالات میں شوہر بچے کی ولدیت کو تسلیم نہ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شوہر بچے کی ولدیت کو کس وقت تسلیم نہ کرنے کا حق رکھتا ہے؟

شریعت ایکٹ 1962 کا سیکشن 2
مغربی پاکستان مسلم پرسنل لاء (شریعت) ایپلیکیشن ایکٹ 1962 کے سیکشن 2 کے تحت، "کسی بھی رسم و رواج یا رواج کے باوجود، ... جائزیت یا ناجائزیت سے متعلق تمام معاملات میں، مسلم پرسنل لاء (شریعت) فیصلہ کا اصول ہوگا، بشرطیکہ موجودہ قانون کے تحت کوئی اور حکم نہ ہو۔"

شریعت کے اصولوں کے مطابق، بچے کی ولدیت کو فوری طور پر بچے کی پیدائش کے فوراً بعد یا نفاس کی مدت (زیادہ سے زیادہ 40 دن) کے اندر تسلیم نہ کرنے کی اجازت ہے۔ امام ابو حنیفہ، امام محمد، اور امام یوسف کے مطابق، اس مدت کے بعد ولدیت کو تسلیم نہ کرنے کی کوئی قانونی گنجائش نہیں۔ یہ اصول فتاویٰ عالمگیری اور ہدایہ میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔

معاشرتی اور اخلاقی پہلو
یہ اصول خواتین اور معصوم بچوں کی عزت و وقار اور خاندانی نظام کی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لیے ہیں۔ جب بھی گزارہ الاؤنس کا دعویٰ دائر کیا جاتا ہے، اکثر مرد بچے کی ولدیت کو جھٹلاتے ہوئے ڈی این اے ٹیسٹ کی درخواست کرتے ہیں۔ یہ عمل عدالت کے نظام اور بچوں کی فلاح کے خلاف ہے اور اسے سختی سے روکنا چاہیے۔

حوالہ کیس
سخاوت حسین بمقابلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج بھلوال و دیگر
(2024 ایل ایچ سی 5579)
27 نومبر 2024
جسٹس احمد ندیم ارشد

01/10/2024

Blackening is found, if a firearm is discharged from a distance of not more than three feet.
Criminal Appeal No.827 of 2022
(Muhammad Atif Naveed v. The State) and
Criminal Appeal No.698 of 2022
(Muhammad Ishfaq v. The State) and
Murder Reference No.41 of 2022
(The State v. Muhammad Atif Naveed)

2024 PCr. LJ 1421
PLJ 2024 Cr.C 857

01/10/2024

The inquest report is a document prepared under Rule 35 of Chapter 25 of Police Rules, 1934 and its circumspective perusal gives traces about the manner in which investigation of a homicide case is conducted on the first day and besides that it also gives clue about the veracity of prosecution’s claim regarding the prompt registration of F.I.R. The inquest report comprises upon 24-columns which are followed by an additional page meant for incorporating the brief facts of the occurrence emerging from the contents of complaint. According to the sequence of proceedings required to be carried out by the police in a murder case, firstly the statement of complainant for the registration of F.I.R is recorded and then the spot inspection is carried out, whereafter the inquest report is to be prepared. Columns No.1 to 24 of inquest report are meant to mention various factors which include the place of incident, the time of receipt of its information, the detail of injuries on the co**se, the kind of weapon used and the articles recovered from the crime scene. The most important aspect is the brief facts of the case required to be mentioned on its last page. The inquest report is a document which is essentially required to be provided to the medical officer for holding of postmortem examination. The purpose of providing inquest report to the medical officer before the autopsy apparently is aimed at safeguarding the record from becoming vulnerable to the impurity of tampering through which the delayed F.I.Rs are shown to have been promptly registered.

2024 PCr. LJ 1421
PLJ 2024 Cr.C 857
Criminal Appeal No.827 of 2022
(Muhammad Atif Naveed v. The State) and
Criminal Appeal No.698 of 2022
(Muhammad Ishfaq v. The State) and
Murder Reference No.41 of 2022
(The State v. Muhammad Atif Naveed)

01/10/2024

لاہور ہائیکورٹ کے تین ججز پر مشتمل فل بنچ نے اس امر کا حتمی تعین کردیا ہے کہ خرچہ نان و نفقہ کی ڈگری کے قابل اپیل ہونے کا تعین فی کس خرچہ نان و نفقہ سے ہوگا نہ کہ مدعیان کے مجموعی خرچہ نان ونفقہ سے۔
ایک مقدمہ میں فیملی کورٹ اگر چار مدعیان کا خرچہ نان ونفقہ 4500 روپے ماہوار فی کس ڈگری کرتی ہے تو اس ڈگری کیخلاف اپیل دائر نہ ہوسکتی ہےخواہ مدعیان کامجموعی خرچہ نان ونفقہ 18000 روپے ماہوارکیوں نہ بنتا ہو

Writ Petition No.126306 of 2017
Muhammad Aslam Vs. Judge Family Court, Ferozewala, etc.
PLJ 2024 Lahore 178

ایک کرایہ دار صرف اس بنیاد پر عمارت پر قبضہ برقرار نہ رکھ سکتا ہے کہ اس نے دعوی استقرار حق دائر کیا ہوا ہے۔اگر کرایہ دار...
01/10/2024

ایک کرایہ دار صرف اس بنیاد پر عمارت پر قبضہ برقرار نہ رکھ سکتا ہے کہ اس نے دعوی استقرار حق دائر کیا ہوا ہے۔
اگر کرایہ دار اس عمارت کی ملکیت کا دعویدار ہو تو اس صورت میں وہ قانونی طور پر پابند ہے کہ وہ دعوی استقرار حق کے فیصلہ تک عمارت خالی کردے۔ دعوی اسکے حق میں ڈگری ہو جانے پر دوبارہ قبضہ حاصل کر سکتا ہے۔

A tenant cannot maintain occupancy of rented premises merely because he/she has initiated a suit for declaration. In instances where the tenant asserts ownership of the property, the legally mandated procedure requires the (naeem)tenant to vacate the premises, pursue the civil suit, and, upon a favorable decision by the competent court, regain possession of the property
C.P.L.A.562-K/2024
Mst. Mussarrat Shaheen v. Mst. Verbeena Khan Afroz and another

01/10/2024
ڈگری کی تصدیق کے لئے فیس اور بار بار چکر کیوں؟ ہر یونیورسٹی اپنی جاری کردہ ڈگری آن لائن اپلوڈ کرے اور ہائیر ایجوکیشن کمی...
01/10/2024

ڈگری کی تصدیق کے لئے فیس اور بار بار چکر کیوں؟ ہر یونیورسٹی اپنی جاری کردہ ڈگری آن لائن اپلوڈ کرے اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن اپنی تصدیق کے ساتھ اپنی ویب سائیٹ پر ری پوسٹ کرے تاکہ آن لائن چند کلک پر ویری فیکیشن کا کام ہو جائے اس کے لئے اس قدر مشکل اور کرپٹ ترین طریقہ کار ختم کیا جائے.
۔
۔
۔
۔


اصل پوسٹ کنندہ ڈاکٹرکامیڈن



پاکستان میں وکیل کیسے بنتے ہیں؟پاکستان میں وکیل بننا آج کل کے تقریباً ہر با شعور نوجوان طالب علم کا خواب ہے، تاہم یہ دوس...
03/08/2024

پاکستان میں وکیل کیسے بنتے ہیں؟

پاکستان میں وکیل بننا آج کل کے تقریباً ہر با شعور نوجوان طالب علم کا خواب ہے، تاہم یہ دوسرے پروفیشنز کی طرح آسان نہیں ہے۔ ہماری اکثریت صرف نامی گرامی اور کامیاب سینئر وکلاء اور ان کے لائف اسٹائل سے متاثر ہو کر وکالت کے پیشے کی طرف مائل ہوتی ہے۔

پاکستان میں وکلاء کو کیریئر کے آغاز سے آخر تک جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، لیکن اس جدوجہد کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایک پریکٹسنگ وکیل بننے کے لیے سب سے پہلے ایل ایل بی آنرز (پانچ سال) کی ڈگری مکمل کرنی پڑتی ہے، جس میں داخلے کے لیے ایک امتحان پاس کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ڈگری حاصل کرنے کے بعد بار کا امتحان (لاء گیٹ) پاس کرنا لازم ہوتا ہے، جس کے لیے پانچ سال کی ڈگری کے دوران تیاری کرنی پڑتی ہے۔ یہ امتحان ہر سال سخت سے سخت تیار کیا جاتا ہے، اور پاسنگ ریشو بہت کم ہے، جس میں ہر سال ملک بھر سے ہزاروں طلباء شرکت کرتے ہیں۔ بار کا امتحان پاس کرنے کے بعد مرحلہ آتا ہے کسی اچھے اور ماہر وکیل کے ساتھ شاگردی/ٹریننگ کرنے کا اور اس سے کام سیکھنے کا، جس کی مدت 1 سال سے لے کر 5 سال تک ہوتی ہے۔ اگر سینئر وکیل کچھ معاوضہ دے یا نہ دے، لیکن آپ کو اپنی بقا اور آگے بڑھنے کی جنگ خود لڑنی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، آپ کسی لاء فرم میں نوکری کر سکتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے، پاکستان میں وکلاء کے لیے ملازمت کے مواقع انتہائی مسابقتی ہیں، اور بہترین مواقع اکثر ان لوگوں کو دیے جاتے ہیں، جن کی پہنچ ہو یا جنہوں نے کسی اعلیٰ سرکاری یا نجی اداروں میں انٹرن شپ کی ہو یا اعلیٰ بین الاقوامی اداروں سے ڈگری حاصل کی ہو۔

سخت مالی بحران، کام کی عدم دستیابی، عوام کی بداعتمادی اور بدعنوانی کے تاثر کیساتھ یہ سب اذیتیں کم از کم دس سال تک جھیلنی پڑتی ہیں، تب کہیں جا کر اس پیشے میں پاؤں جم جاتے ہیں اور وکالت کے پیشے سے پیسہ، عزت اور نام کمانا شروع ہوتا ہے۔ ان مشکلات کے علاوہ، اس شعبے میں خواتین کو مزید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ مشرقی تاریخ اور مشرقی عقل و فہم کے اعتبار سے اور خاص طور پر دیہی یا تعلیمی طور پر پسماندہ علاقوں میں یہ پیشہ مرد کے زیر تسلط پیشوں میں شمار ہوتا ہے۔ خواتین وکلاء کو خاندانی و سماجی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، اور نہ ہی خواتین کی شرکت کی کوئی خاص حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

ان مشکل ترین چیلنجوں کے باوجود پاکستان میں بہت سے وکلاء کامیابیوں کے اس مقام پر پہنچے ہیں جو ہر نوجوان وکیل کا خواب ہوتا ہے۔ انہوں نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے تمام مشکلات کا سامنا کیا اور مسلسل سخت محنت و جدوجہد اور استقامت سے کام لیا۔ ان میں سے بہت سے وکلاء نہ صرف اپنی برادری میں بلکہ اپنے علاقے کے لوگوں میں بھی ایک نمایاں مقام کے مالک ہیں، جو مختلف طریقوں سے عوام کے مسائل اور ان کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

بہترین اور کامیاب وکیل بننے کے لیے ابتدائی جدوجہد کے ساتھ ساتھ انتہائی سخت محنت اور مطالعے کی بھی ضرورت ہے، اور یوں کہنا غلط نہیں ہوگا کہ "کامیاب وکیل مرتے دم تک مطالعے کا غلام ہوتا ہے۔" پاکستان میں وکالت کے شعبے میں اپنا نام بنانے کے لیے کافی حد تک محنت، ہمت اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن جو لوگ محنت کرتے ہیں، ہمت نہیں ہارتے اور پختہ عزم سے اس خواب کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، وہ ہمیشہ اس خواب کو سچ کر دکھانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ہماری تاریخ میں بہت سے ایسے وکلاء کے نام موجود ہیں جو نہ صرف قانون کے میدان میں چمکتے ستاروں کی مانند ہیں بلکہ معاشرے میں بھی قانون کی بالادستی اور انسانیت کی بے تحاشہ خدمت اور مثبت سوچ کے فروغ کے لیے جانے جاتے ہیں۔

قانون کا ایک ادنیٰ طالب علم اور لکھنے کا وسیع تر تجربہ نہ ہونے کے سبب اصلاح یا تنقید کا ذاتی طور پر خیر مقدم کروں گا۔

میاں عزیر الحق ایڈووکیٹ ہائیکورٹ

* CPC on fingertips1) To delete/Add parties ORDER 1 RULE 10.2) Amendment of Suit to add defendants ORDER 1 RULE 10 (4)3)...
12/06/2024

* CPC on fingertips

1) To delete/Add parties ORDER 1 RULE 10.
2) Amendment of Suit to add defendants ORDER 1 RULE 10 (4)
3) Substitute service ORDER 5 RULE 20
4) Amendment of pleadings ORDER 6 RULE 17 5) Additional W.S (Rejoinder) ORDER 8 RULE 9 6) Setting aside ex-parte order ORDER 9RULE 7
7) Restoration ORDER 9 RULE 9
8) Set aside ex-parte decree ORDER 9 RULE 13
9) To order production of documents ORDER 11 RULE 14 11) Inspection of documents ORDER 11 RULE 15
12) To produce documents ORDER12 RULE 8
13) Production of documents ORDER 7 RULE 14(3)
14) To return unmarked documents ORDER 13 RULE 7(2)
15) To return marked Documents 13 RULE 9
16) Adjournment 17 RULE 1
17) Recalling witness 18 RULE 17
18) To grant installments after decree passed ORDER 20 RULE 11(2)
19) Stay of ex*****on ORDER 21 RULE 26
20) Delivery of immovable property ORDER 21 RULE 35
21) To Break open door ORDER 21 RULE 35(3)
22) Attachments of movables of JDRS ORDER 21RULE 43
23) Attachments of Payorders of JDRS ORDER 21RULE 45(1)
24) Attachment of salary of JDRS ORDER 21 RULE 48
25) Attachment of Immovable property of JDRS ORDER 21 RULE 54
26) Sale of attached property ORDER 21 RULE 64
27) Adjournment/stoppage of sale ORDER 21RULE 69
28) Delivery of movable property ORDER 21 RULE 9
29) To bring L.RS on record in case of death of Plaintiff ORDER 22 RULE 3
30) To bring L.RS on record in case of death of Defendant ORDER 22 RULE 4
31) For Compromise ORDER 23 RULE 3
32) Appointment of commissioner to examine witness ORDER 26 RULE 1
33) Appointment of commissioner to make local investigation ORDER 26 RULE 9
34) Appointment of commissioner to examine adjust A/CS ORDER 26 RULE 11
35) Appointment of commissioner to make partition of immovable property
ORDER26 RULE 13
36) Disclose partners names ORDER 30 RULE 2
37) Appointment of guardian for minors ORDER 33 RULE 1
38) Removal of guardian ORDER 32 RULE 9
39) To declare as major ORDER 32 RULE 12
40) Appointment of guardian to unsound person ORDER 32 RULE 15
41) Attachment before judgment ORDER 38 RULE 5
42) Appointment of receiver ORDER 40 RULE 1
43) Regular appeal ORDER 41 RULE 1
44) Stay of ex*****on of decree in appeal ORDER 41 RULE 5(1)
45) Restore of appeal dismissed for default ORDER 41 RULE 19
46) Production of additional evidence in appeal ORDER 41 RULE 27 47) Second appeal ORDER 42 RULE 1 (SEC 100 CPC)
48) Review of Judgment ORDER 47 RULE 1 (114 CPC)
49) Advancement RULE 109(2)
50) Third party for C.Cs RULE188(2)
51) Amendment of Judgments/decrees/orders S.152 CPC
52) To summon (handover summons) for evidence ORDER 16 RULE 7(4)

Address

Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923109695955

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mian Uzair Ul Haq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Mian Uzair Ul Haq:

Share