LAW for ALL

LAW for ALL Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from LAW for ALL, Lawyer & Law Firm, Islamabad.

اس پیج کا مقصد قانون کی پیچیدہ اصطلاحات کو آسان اور سادہ زبان میں پیش کرنا ہے تاکہ آپ اپنے قانونی حقوق سے مکمل آگاہی حاصل کر سکیں۔ ہم ہر قسم کی قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے یہاں موجود ہیں۔

ہمیں فالو کریں۔

اب آئینی ترمیم کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا!پاکستان کی حالیہ 27ویں آئینی ترمیم نے آئینی منظرنامے میں ایک اہم اور ...
19/11/2025

اب آئینی ترمیم کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا!
پاکستان کی حالیہ 27ویں آئینی ترمیم نے آئینی منظرنامے میں ایک اہم اور تاریخی تبدیلی کی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 239 میں واضح شق شامل کی گئی ہے کہ اب کسی بھی آئینی ترمیم کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ آئینی ترمیم پر عدالت کی نگرانی کو محدود کر دیا گیا ہے، اور اس کے اثرات آئینی، قانونی اور سیاسی سطح پر بہت اہم ہیں۔
قبل ازیں، جب بھی پارلیمنٹ نے کوئی آئینی ترمیم منظور کی، تو شہری، تنظیمیں یا دیگر ادارے Supreme Court یا High Court میں جا کر اسے چیلنج کر سکتے تھے۔ عدالت یہ فیصلہ کرتی تھی کہ ترمیم آئین کے بنیادی اصولوں اور بنیادی ڈھانچے (basic structure) کے مطابق ہے یا نہیں۔
Eighteenth Amendment (2010): اس کے خلاف چیلنج دائر ہوئے۔ عدالت نے کہا کہ پارلیمنٹ کو آئین میں ترامیم لانے کا اختیار تو حاصل ہے، لیکن یہ اختیار لامحدود نہیں، بلکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے دائرے میں محدود ہے۔
Twenty‑Fourth Amendment: لاہور ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئیں کہ ترمیم سے نمائندگی اور ووٹ کے اصول متاثر ہو سکتے ہیں۔ عدالت نے اس پر غور کیا اور آئینی جائزہ لیا۔
اس طرح، عدالتیں پارلیمنٹ کی ترامیم پر نظر رکھتی تھیں اور آئین کے بنیادی اصولوں کی حفاظت کرتی تھیں۔
اب 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سب کچھ بدل گیا ہے:
1. چیلنج کا راستہ بند: اب کوئی عدالت اس ترمیم کو چیلنج نہیں کر سکتی۔
2. پارلیمنٹ کی بالادستی: پارلیمنٹ کے فیصلے حتمی اور غیر مشروط قرار پاتے ہیں۔
3. عدالتی نگرانی محدود: عدالتیں آئینی ترامیم پر نظرثانی یا جائزہ نہیں کر سکتیں، جو پہلے ایک اہم توازن کا حصہ تھا۔
یہ ترمیم قانونی اور سیاسی نقطہ نظر سے بہت اہم ہے:
مثبت پہلو: پارلیمنٹ کے اختیار کو مضبوطی ملتی ہے، اور آئینی ترامیم پر کسی قسم کی عدالتی رکاوٹ نہیں رہتی۔
تشویش کا پہلو: عدلیہ کی نگرانی کمزور ہو جاتی ہے، اور آئینی توازن (checks and balances) متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آئینی ترامیم جو متنازعہ ہوں، انہیں اب عدالتیں روک نہیں سکتیں۔
---
اس ترمیم کے مطابق
‏ سپریم جوڈیشل کونسل آرٹیکل 209 میں تبدیلی ، حکومت نے ججوں کو گھر بھیجنے کا رستہ بھی اپنے حق میں آسان بنا دیا کیسے ؟ ملاحظہ کریں
27 ویں ترمیم سے پہلے کے سپریم جوڈیشل کونسل 5 ممبران
1.چیف جسٹس یحییٰ آفریدی ، 2.جسٹس منصور ، 3.جسٹس منیب ، 4.چیف جسٹس عالیہ نیلم ، 5.چیف جسٹس سرفراز ڈوگر ۔۔

نوٹ: اس composition میں کسی جج کو بظاہر گھر بھیجنا آسان نہیں تھا
27 ویں ترمیم میں مجوزہ سپریم جوڈیشل کونسل (7 ممبران جن میں تین حکومت کے نامزد کردہ باقی خود دیکھ لیں)
1.چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت (حکومت تقرر کرے گی)
2.سینئر جج وفاقی آئینی عدالت (حکومت تقرر کرے گی)
3.چیف جسٹس سپریم کورٹ
4.سپریم کورٹ کا سینئر جج
5. چیف جسٹس آئینی عدالت اور چیف جسٹس سپریم کورٹ اکٹھے کسی ایک جج کو دو سال کے لیے ممبر بنائیں گے اگر ڈیدلاک آجائے تو دونوں چیف جسٹس ایک ایک نام صدر کو بھجیں گے صدر وزیر اعظم کی سفارش پر ایک جج کی نامزدگی کریں گے اس صورت میں آئینی عدالت کا چیف جسٹس (جو حکومت کا مقرر کردہ ہو گا) اپنی بات منوائے گا اگر نا مانی گئی تو کہے گا نام حکومت کو بھیج دیں پھر یہ بھی (حکومت کا مقرر کردہ ہو جائے گا)
6۔ دو چیف جسٹس ۔۔۔یعنی کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم اور چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کونسل کے ممبر ہوں گے
نوٹ : ترمیم کے بعد کونسل میں حکومتی (مقرر کردہ یا اس کے طرف دار تاثر والے) ججز کی اکثریت ہو جائے گی یوں کسی جج کو گھر بھیجا مشکل بالکل بھی نہیں ہو گا
‏⬅️27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کا قومی اسمبلی سے منظور ہوگیا

⬅️آئینی ترمیم کے مسودے میں 48 آرٹیکلز میں مختلف ترامیم تجویز

⬅️ترمیم کے ذریعے "فیڈرل کونسٹی ٹیوشنل کورٹ" کے قیام کی تجویز

⬅️سپریم کورٹ سے علیحدہ نئی "وفاقی آئینی عدالت" قائم کرنے کی شق

⬅️وفاقی آئینی عدالت کا صدر مقام اسلام آباد ہوگا

⬅️چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی مدتِ ملازمت تین سال مقرر

⬅️وفاقی آئینی عدالت کے جج 68 برس کی عمر میں ریٹائر ہوں گے

⬅️آئینی عدالت کو وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات سننے کا اختیار

⬅️آئینی عدالت کو آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کا دائرہ اختیار

⬅️آئین کے آرٹیکل 184 کو ختم کرنے کی تجویز

⬅️آرٹیکل 175 میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی ترمیم

⬅️سپریم کورٹ کی آئینی اختیارات محدود، نئی عدالت کو منتقل

⬅️آرٹیکل 175A میں ججز تقرری کے لیے نیا طریقہ کار تجویز

⬅️جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ دونوں کے چیف جسٹس شامل

⬅️وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے فیصلے ایک دوسرے پر لازم نہیں ہوں گے

⬅️آرٹیکل 189 میں ترامیم، آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم

⬅️سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیلِ نو، دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس بطور ارکان

⬅️آرٹیکل 243 میں ترامیم — چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم

⬅️آرمی چیف کو "چیف آف ڈیفنس فورسز" کا اضافی عہدہ دیا گیا

⬅️آرٹیکل 93 میں ترمیم، وزیرِاعظم کو سات مشیروں کی تقرری کا اختیار

⬅️آرٹیکل 130 میں ترمیم، وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافہ

⬅️آرٹیکل 206 میں ترمیم، سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں تقرری سے انکار پر جج ریٹائر تصور

⬅️آرٹیکل 209 میں ترمیم، سپریم جوڈیشل کونسل کے نئے قواعد 60 دن میں بنانے کی شرط

⬅️آرٹیکل 175B سے 175L تک نیا باب شامل — وفاقی آئینی عدالت کے اختیارات و طریقہ کار

⬅️آرٹیکل 176 تا 183 میں ترامیم، سپریم کورٹ کے حوالے سے اصطلاحات کی تبدیلی

⬅️آرٹیکل 186 اور 191A حذف کرنے کی تجویز

⬅️آئینی عدالت کا ایڈوائزری دائرہ
کار بھی متعین کیا جائے گا۔
کیا آئینی ترمیم عدالت میں چیلنج ہو سکتی ہے؟
ہمارے ہاں ماضی میں مثالیں موجود ہیں کہ آئینی ترامیم عدالت میں چیلنج ہوتی رہتی ہیں، مگر کیا آئینی طور پر اس کی اجازت ہے؟

سابق چیف جسٹس جناب جواد ایس خواجہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آئین کے مطابق کسی آئینی ترمیم کو کسی عدالت میں چیلنج کیا بھی جا سکتا ہے؟

آئین کے آرٹیکل 239 کی ذیلی دفعہ پانچ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کسی بھی آئینی ترمیم کو کسی بھی بنیاد پر کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اصول آئین میں بہت پہلے سے موجود ہے۔ تازہ ترمیم سے بہت پہلے۔

اسی آرٹیکل کی ذیلی دفعہ چھ میں لکھا ہے کہ کسی شک و شبے کے ازالے کے لیے ایک بار پھر واضح کیا جاتا ہے کہ آئین میں ترمیم پارلیمان کا اختیار ہے اور اس اختیار پر کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں۔ جی ہاں، کسی بھی قسم کی۔

یہ اصول بھی آئین میں بہت پہلے سے موجود ہے، حالیہ ترمیم سے بہت پہلے سے۔ بعض یوٹیوبرز دہائی دے رہے ہیں کہ حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم میں یہ بات بھی شامل کر دی ہے کہ کوئی آئینی ترمیم عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتی۔

یہ دہائی خلاف واقعہ ہے اور یوٹیوب پر ماہر قانون بننے کا منطقی نتیجہ ہے۔ اگر کسی نے آئین کی کتاب کھول لی ہوتی تو اسے معلوم ہوتا کہ یہ بات وہاں پہلے سے ہی موجود ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ تیسری بار اس وضاحت کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کا جواب بڑا سادہ ہے کہ چوں کہ یہ بات آئین میں ہونے کے باوجود یہ رسم ہی چل پڑی ہے کہ یہاں آئینی ترامیم عدالت میں چیلنج بھی ہوتی ہیں اور ان پر باقاعدہ سماعت بھی شروع ہو جاتی ہے۔ کسی کو اس بات کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ آئین جس کام سے واضح طور پر روک رہا ہے وہ کام کیسے اور کیوں کیا جا رہا ہے۔

اس آرٹیکل میں نئی ترمیم بس ایک تذکیر ہے اور عدلیہ کو ایک بار پھر واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ جناب والا! یہ جو آپ آئینی ترامیم کے خلاف مسلسل ہی پیٹیشنز سنتے چلے آ رہے ہیں تو ہم عرض کیے دیتے ہیں کہ اس کی آپ کو اجازت نہیں ہے۔
جب ہم جیسے طالب علم سوال اٹھاتے تھے کہ آئین میں ممانعت کے باوجود یہ کیسے ہو جاتا ہے کہ عدالتیں ایسی درخواستیں سن لیتی ہیں تو آگے سے ماہرین قانون بتاتے تھے کہ فلاں عدالت نے فلاں وقت پر فلاں فیصلے میں قرار دیا تھا کہ سن سکتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ (یعنی عدالتی فیصلوں کو ان کے خیال میں آئین کے آرٹیکل پر فوقیت حاصل تھی)۔

اس تجاہل عادلانہ سے نمٹنے کے لیے اب اس آرٹیکل میں ایک چیز کا اضافہ کر دیا گیا ہے کہ ماورائے آئین عدالتی فیصلوں کی کوئی اہمیت ہے نہ ہی کسی عدالتی نظیر کی۔ جب آئین میں لکھ دیا گیا تھا کہ آئینی ترمیم کے خلاف کوئی درخواست کوئی عدالت نہیں سن سکتی اور اگر کوئی عدالتی فیصلہ اس آئینی شق سے ہٹ کر ہو تو اس فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں۔

یعنی جو غلط ہوا، اسے آگے مثال نہیں بنایا جا سکتا۔ فل سٹاپ۔

آپ دیکھیے کہ یہاں بار بار آئینی ترامیم کو چیلنج کیا جاتا رہا اور اس پر سماعتیں ہوتی رہیں۔

گویا وہ بھی سمجھتے ہیں کہ آئین کی کوئی حیثیت نہیں اور آئین میں واضح منع کرنے کے باوجود عدالت اس معاملے کو سن سکتی ہے۔

یہی وہ روایت ہے جس نے عدالتوں کو اتنا طاقتور کیا کہ وہ چاہتیں تو تشریح کے نام پر آئین کو ازسرےنو لکھ دیتیں، ان کا دل کرتا تو وہ جنرل مشرف کو، یعنی ایک فرد واحد کو آئین میں ترمیم کا اختیار بھی عنایت فرما دیتیں، لیکن جب کوئی پارلیمان دو تہائی اکثریت سے جائز اور آئینی طریقے سے آئین میں ترمیم کرتی تو یہ اس پر سماعتیں شروع کر دیتیں کہ کیا یہ درست ہوا ہے یا نہیں۔

اس غیر آئینی رسم کو جواز دینے کے لیے ایک مفروضہ گھڑ لیا گیا کہ عدالتوں کا کام ہے کہ وہ دیکھیں کہ آئین کی کوئی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم تو نہیں۔ اسی اختراع کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے 2015 میں کہا کہ آئین میں ممانعت کے باوجود ہم آئینی ترمیم کو دیکھ اور پرکھ سکتے ہیں اور اسے کالعدم بھی قرار دے سکتے ہیں۔

سچ لیکن یہ ہے کہ یہ جواز انتہائی کمزور ہے۔ پاکستان کے آئین میں بنیادی ڈھانچے نام کی کوئی چیز بھی کہیں نہیں پائی جاتی۔ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ فلاں فلاں چیز بنیادی ڈھانچہ ہے اور فلاں فلاں کی حیثیت ثانوی ہے۔

نہ ہی آئین میں کہیں یہ لکھا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی محافظ سپریم کورٹ ہے جو اس بنیادی ڈھانچے کو آئین ساز پارلیمان سے بچائے گے
For the removal of doubt, it is hereby declared that there is no limitation whatever on the power of the Majlis-e-Shoora (Parliament) to amend any of the provisions of the Constitution
(کسی بھی قسم کے شک کے خاتمے کے لیے قرار دیا جاتا ہے کہ آئین میں ترمیم کے پارلیمان کے اختیار پر کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں۔) جی ہاں، کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔
اب تک تو جوڈیشل ایکٹیوزم نے آئین کے آرٹیکل 239 کی متعلقہ دفعات کو اہمیت نہیں دی اور آئینی ممانعت کے باوجود آئینی ترامیم چیلنج ہوتی رہیں اور ان پر کارروائی بھی ہوتی رہی اور پارلیمان بے بسی سے یہ سب کچھ ہوتا دیکھتی رہیں۔ لیکن کیا آگے بھی یہ مشق قائم رہ پائے گی؟
میرے خیال میں اس کا جواب نفی میں ہے۔ حالیہ ترمیم میں عدالتی نظیر اور فیصلوں پر اس معاملے میں اگر فل سٹاپ لگایا گیا ہے تو یہ بلاوجہ نہیں۔ مزید ایسا کچھ ہوا تو امکان یہ ہے کہ اب کی بار پارلیمان کا ردعمل آئے گا۔
*_‏آئینی عدالت کے چھ ججز کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری_*
*_جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق آئینی عدالت کے جج تعینات_*
*_جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس کریم خان آغا، جسٹس روزی خان آئینی عدالت میں تعینات_*
*_جسٹس ارشد حسین شاہ بھی آئینی عدالت کے جج ہونگے، نوٹیفیکیشن_*

اسلام آباد میں ججز کی تقرری میں عدلیہ کی مشاورت لازمی: جسٹس بابر ستار کا فیصلہ1. ججز کی تقرری اور عدلیہ کی مشاورتاسلام آ...
12/11/2025

اسلام آباد میں ججز کی تقرری میں عدلیہ کی مشاورت لازمی: جسٹس بابر ستار کا فیصلہ

1. ججز کی تقرری اور عدلیہ کی مشاورت

اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ ججز کی تقرری، ٹرانسفر یا برطرفی کے لیے ایگزیکٹیو (حکومت) کو لازمی طور پر عدلیہ کی مشاورت حاصل کرنی ہوگی۔ بغیر مشاورت کی گئی تقرری یا ٹرانسفر غیر قانونی اور آئین کے منافی ہوگا۔

2. عدلیہ کی آزادی اور آئین

عدالت نے زور دیا کہ عدلیہ کی خودمختاری ہر صورت میں برقرار رہنی چاہیے۔ کوئی بھی قانون یا انتظامی فیصلہ جو عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرے، آئین کے خلاف ہوگا۔

3. ڈیپوٹیشن ججز کا مسئلہ

دوسرے صوبوں سے اسلام آباد میں عارضی طور پر تعینات ججز کی موجودگی عدلیہ کی خودمختاری اور فیصلہ سازی پر اثر ڈال سکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ طریقہ کار مستقل بنیادوں پر عدلیہ کی آزادی کے لیے خطرہ ہے۔

4. عملی ہدایات

وزارت قانون و انصاف اور کابینہ ڈویژن کو فیصلے کی نقول بھجوانے کا حکم دیا گیا تاکہ حکومت آئندہ ججز کی تقرری میں عدلیہ کی مشاورت لازمی طور پر شامل کرے۔ اس فیصلے سے آئندہ کسی بھی غیر مشاورتی تقرری یا ٹرانسفر کے قانونی چیلنج کی بنیاد مضبوط ہوگئی۔

5. عدالتی دلائل

عدلیہ کا استدلال تھا کہ:

ججز کی تقرری اور ٹرانسفر میں ایگزیکٹیو کی بلا مشاورت مداخلت عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

آئین میں عدلیہ کی خودمختاری اور عدالتی فیصلوں کی شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے، اور یہ اصول ہر صوبے اور وفاق کے لیے یکساں لاگو ہے۔

شفاف اور آئینی عمل کے بغیر کسی بھی جج کی تعیناتی آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہوگی۔

---

05/11/2025

فوجداری قانون میں بڑا ججمنٹ آگیا۔
ايف أئى آر بذریعہ مختار درج کرائی جاسکتی ہے، اور مختار کو دیگر فوجداری کارروائی کرنے کا بھی قانونی اختیار حاصل ہے۔
2025 LHC 5989 — مرزا یحییٰ بیگ بنام سرکار

A major judgment has been issued in criminal law.
An FIR (First Information Report) can be registered through an authorized representative (Mukhtar), and the representative also holds the legal authority to carry out other criminal proceedings.
2025 LHC 5989 — Mirza Yahya Baig vs. The State

25/10/2025
بلوچستان کے نوجوان طالب علم کو قتل کرنے پر ایف سی اہلکار کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے مو...
25/10/2025

بلوچستان کے نوجوان طالب علم کو قتل کرنے پر ایف سی اہلکار کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے موقف اختیار کیا کہ ماورائے عدالت قتل پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو سخت سے سخت سزا دینی چاہیے۔

قانون کے 50 مشہور اصول📜 50 اہم قانونی ضوابط (Legal Maxims in Urdu with Explanation & Examples)---1. Ignorantia juris non...
25/10/2025

قانون کے 50 مشہور اصول
📜 50 اہم قانونی ضوابط (Legal Maxims in Urdu with Explanation & Examples)

---

1. Ignorantia juris non excusat

📖 قانون کی لاعلمی عذر نہیں۔
👉 مطلب: کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے قانون کا پتہ نہیں تھا۔
🔹 مثال: اگر کوئی سگریٹ پینے پر پابندی والے علاقے میں سگریٹ پیے اور کہے کہ "مجھے قانون کا پتہ نہیں تھا"، تو یہ عذر قابل قبول نہیں۔

---

2. Audi alteram partem

📖 فریق مخالف کو سنے بغیر فیصلہ نہ دیا جائے۔
👉 مطلب: انصاف کا تقاضا ہے کہ دونوں طرف کو سننے کے بعد فیصلہ ہو۔
🔹 مثال: اگر کسی ملازم کو برطرف کیا جانا ہے تو اسے وضاحت کا موقع دینا ضروری ہے۔

---

3. Nemo judex in causa sua

📖 کوئی شخص اپنے ہی کیس کا جج نہیں۔
👉 مطلب: انصاف غیر جانبداری سے ہونا چاہیے۔
🔹 مثال: اگر کسی جج کا بیٹا کسی مقدمے میں فریق ہو تو وہ جج اس مقدمے کی سماعت نہیں کر سکتا۔

---

4. Fiat justitia ruat caelum

📖 انصاف ہونا چاہیے چاہے آسمان ہی کیوں نہ گر پڑے۔
👉 مطلب: انصاف ہر حال میں ہونا چاہیے، چاہے حالات مشکل ہوں۔
🔹 مثال: طاقتور شخص کے خلاف بھی قانون حرکت میں آئے گا۔

---

5. Ubi jus ibi remedium

📖 جہاں حق ہے وہاں چارہ جوئی ہے۔
👉 مطلب: ہر حق کے ساتھ اس کے تحفظ کا قانونی راستہ ہوتا ہے۔
🔹 مثال: اگر کسی کی جائیداد پر قبضہ ہو جائے تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔

---

6. Actus reus non facit reum nisi mens sit rea

📖 جرم تبھی ہے جب نیت بھی مجرمانہ ہو۔
👉 مطلب: صرف عمل کافی نہیں، نیت بھی دیکھنا ضروری ہے۔
🔹 مثال: غلطی سے کسی کو دھکا لگنا جرم نہیں، مگر جان بوجھ کر مارنا جرم ہے۔

---

7. Res ipsa loquitur

📖 چیز خود بولتی ہے۔
👉 مطلب: حالات خود بخود غفلت ظاہر کرتے ہیں۔
🔹 مثال: سرجری کے بعد مریض کے جسم میں کینچی رہ جانا ڈاکٹر کی غفلت ظاہر کرتا ہے۔

---

8. Nemo debet bis vexari pro eadem causa

📖 کسی کو ایک ہی معاملے میں دو بار پریشان نہیں کیا جا سکتا۔
👉 مطلب: ڈبل سزا یا ڈبل ٹرائل نہیں ہوگا۔
🔹 مثال: اگر کسی کو چوری کے الزام میں بری کر دیا گیا تو اسی الزام پر دوبارہ مقدمہ نہیں ہو سکتا۔

---

9. Caveat emptor

📖 خریدار خبردار رہے۔
👉 مطلب: خریدار کو خریداری سے پہلے جانچ کرنی چاہیے۔
🔹 مثال: اگر آپ بغیر دیکھے پرانی گاڑی خریدیں تو بعد میں خرابی پر بیچنے والا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

---

10. Lex posterior derogat priori

📖 بعد کا قانون پہلے کو ختم کر دیتا ہے۔
🔹 مثال: اگر 2020 کا قانون اور 2023 کا قانون آپس میں متصادم ہوں تو نیا قانون لاگو ہوگا۔

---

11. Injuria sine damno

📖 قانونی نقصان بغیر مالی نقصان۔
🔹 مثال: کسی کو ووٹ ڈالنے سے روکنا، چاہے مالی نقصان نہ ہو۔

---

12. Damnum sine injuria

📖 مالی نقصان بغیر قانونی نقصان۔
🔹 مثال: کوئی نئی دکان کھلنے سے پرانی دکان کا بزنس کم ہو جائے، تو پرانی دکان والے کا قانونی حق نہیں بنتا۔

---

13. Volenti non fit injuria

📖 جو راضی ہو اسے نقصان نہیں۔
🔹 مثال: کرکٹ کھیلتے وقت گیند لگ جائے تو کھلاڑی مقدمہ نہیں کر سکتا۔

---

14. Actio personalis moritur cm persona

📖 ذاتی دعویٰ مرنے والے کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔
🔹 مثال: ہتک عزت کا دعویٰ مدعی کی موت کے بعد جاری نہیں رہ سکتا۔

---

15. Delegatus non potest delegare

📖 نمائندہ مزید نمائندہ نہیں بنا سکتا۔
🔹 مثال: اگر وزیر کو اختیار دیا جائے تو وہ کسی اور کو منتقل نہیں کر سکتا۔

---

16. Ex turpi causa non oritur actio

📖 غیر اخلاقی بنیاد پر کوئی دعویٰ نہیں بنتا۔
🔹 مثال: جوا کھیلنے کا معاہدہ عدالت میں نافذ نہیں ہوگا۔

---

17. Salus populi suprema lex

📖 عوام کی بھلائی سب سے بڑا قانون ہے۔
🔹 مثال: وبا کے دوران لاک ڈاؤن لگانا۔

---

18. Lex non cogit ad impossibilia

📖 قانون ناممکن پر مجبور نہیں کرتا۔
🔹 مثال: اگر زلزلے سے دستاویزات جل جائیں تو پیش نہ کرنے پر سزا نہیں ہوگی۔

---

19. Ut res magis valeat quam pereat

📖 چیز کو بچانے کی کوشش قانون کا مقصد ہے۔
🔹 مثال: معاہدے میں چھوٹی غلطیوں کے باوجود اسے مؤثر مانا جاتا ہے۔

---

20. Lex specialis derogat legi generali

📖 خاص قانون عام قانون پر غالب ہے۔
🔹 مثال: فیملی لا، سول پروسیجر پر فوقیت رکھے گا۔

---

21. Qui facit per alium facit per se

📖 جو دوسرے سے کرائے وہ گویا خود کرتا ہے۔
🔹 مثال: آجر (Employer) ملازم کے عمل کا ذمہ دار ہے۔

---

22. Consensus ad idem

📖 ایک بات پر باہمی رضامندی۔
🔹 مثال: خریدار اور بیچنے والا ایک ہی چیز پر متفق ہوں۔

---

23. Falsus in uno, falsus in omnibus

📖 ایک بات میں جھوٹا تو سب میں جھوٹا۔
🔹 مثال: گواہ اگر ایک بات میں جھوٹ بولے تو اس کی پوری گواہی مشکوک ہو جاتی ہے۔

---

24. Lex loci contractus

📖 معاہدے کی جگہ کا قانون۔
🔹 مثال: دبئی میں معاہدہ ہو تو دبئی کا قانون لاگو ہوگا۔

---

25. Lex fori

📖 عدالت کا اپنا قانون۔
🔹 مثال: پاکستان کی عدالت میں پاکستان کا طریقہ کار ہوگا۔

---

26. Lex loci delicti commissi

📖 جرم کی جگہ کا قانون۔
🔹 مثال: سعودی عرب میں جرم ہو تو سعودی قانون لاگو ہوگا۔

---

27. Bona fide

📖 نیک نیتی سے۔
🔹 مثال: کوئی شخص ایمانداری سے کام کرے۔

---

28. Mala fide

📖 بدنیتی سے۔
🔹 مثال: کوئی افسر ذاتی دشمنی میں کسی کو سزا دے۔

---

29. Ratio decidendi

📖 فیصلے کی اصل وجہ۔
🔹 مثال: عدالت نے گواہی کے ناقابل اعتماد ہونے کی بنیاد پر فیصلہ دیا۔

---

30. Obiter dictum

📖 جج کی ضمنی رائے۔
🔹 مثال: جج کا ایسا تبصرہ جو فیصلہ کا حصہ نہ ہو۔

---

31. Consensus facit legem

📖 رضامندی قانون بناتی ہے۔
🔹 مثال: نکاح میں میاں بیوی کی رضامندی۔

---

32. Acta exteriora indicant interiora secreta

📖 ظاہری عمل نیت کو ظاہر کرتا ہے۔
🔹 مثال: چوری کرتے وقت دروازہ توڑنا نیت ظاہر کرتا ہے۔

---

33. Dur lex sed lex

📖 قانون سخت ہے مگر قانون ہے۔
🔹 مثال: ٹیکس لازمی دینا پڑے گا۔

---

34. Nullum crimen sine lege

📖 قانون کے بغیر جرم نہیں۔
🔹 مثال: جس کام پر قانون نہ ہو، اسے جرم نہیں کہا جا سکتا۔

---

35. Nulla poena sine lege

📖 قانون کے بغیر سزا نہیں۔
🔹 مثال: عدالت خود سزا ایجاد نہیں کر سکتی۔

---

36. Qui prior est tempore potior est jure

📖 جو وقت میں پہلے ہے، قانون میں مضبوط ہے۔
🔹 مثال: پہلے رجسٹری کرانے والا مالک مضبوط حق رکھتا ہے۔

---

37. Nemo dat quod non habet

📖 جو چیز اس کے پاس نہیں وہ نہیں دے سکتا۔
🔹 مثال: چوری شدہ گاڑی بیچنے والا اصل مالک نہیں۔

---

38. Pacta sunt servanda

📖 معاہدے پورے کرنا لازم ہیں۔
🔹 مثال: کرایہ داری کا معاہدہ پورا کرنا ہوگا۔

---

39. Expressio unius est exclusio alterius

📖 ایک کا ذکر دوسروں کو خارج کرتا ہے۔
🔹 مثال: اگر قانون میں "بیٹے" لکھا ہو تو بیٹیاں شامل نہیں۔

---

40. In pari delicto potior est conditio possidentis

📖 برابر قصور میں قابض کو ترجیح۔
🔹 مثال: ناجائز قبضے میں دونوں برابر ہوں تو موجودہ قابض کو برتری ملے گی۔

---

41. Qui tam pro domino rege quam pro se ipso in hac parte sequitur

📖 جو بادشاہ اور اپنے لیے ایک ساتھ دعویٰ کرے۔
🔹 مثال: عوامی مفاد میں بھی ذاتی مفاد شامل ہو سکتا ہے۔

---

42. Lex prospicit non respicit

📖 قانون آگے دیکھتا ہے، پیچھے نہیں۔
🔹 مثال: نیا قانون پرانے واقعات پر لاگو نہیں ہوتا۔

---

43. De minimis non curat lex

📖 قانون چھوٹی باتوں کی پرواہ نہیں کرتا۔
🔹 مثال: ایک روپے کا نقصان عدالت میں دعویٰ نہیں۔

---

44. Cessante ratione legis cessat ipsa lex

📖 قانون کی وجہ ختم ہو تو قانون ختم۔
🔹 مثال: پرانے حالات کے لیے بنایا گیا قانون نئے حالات میں نہیں۔

---

45. Ignorantia facti excusat

📖 حقیقت کی لاعلمی معافی ہے۔
🔹 مثال: کوئی شخص زہر سمجھ کر دوا نہ دے تو معافی ہے۔

---

46. Inter arma silent leges

📖 جنگ میں قانون خاموش ہو جاتا ہے۔
🔹 مثال: ہنگامی صورتحال میں عام قوانین معطل ہو سکتے ہیں۔

---

47. Necessitas non habet legem

📖 ضرورت کا کوئی قانون نہیں۔
🔹 مثال: آگ بجھانے کے لیے کسی کا مکان توڑ دینا۔

---

48. Nemo est supra leges

📖 کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔
🔹 مثال: صدر یا وزیراعظم بھی قانون کے تابع ہیں۔

---

49. Jus cogens

📖 ناقابل تنسیخ اصول۔
🔹 مثال: غلامی یا نسل کشی عالمی سطح پر ممنوع ہے۔

---

50. Stare decisis et non quieta movere

📖 فیصلوں پر قائم رہو اور طے شدہ بات کو نہ چھیڑو۔
🔹 مثال: عدالت اپنے پرانے فیصلوں کو بدلنے میں جلدی نہیں کرے گی۔
منقول

11/10/2025

سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم پر بحث، حامد خان کے دلائل پر ججز کے سخت سوالات

خبر:
سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران سینیئر وکیل سینیٹر حامد خان نے ماضی کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا جن میں آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
دلائل کے دوران بینچ کے ارکان — جسٹس عائشہ ملک، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس امین الدین خان — نے استفسار کیا کہ ماضی میں کن فیصلوں میں عدالت نے کسی آئینی ترمیم کو ختم کیا؟
ججز نے فل کورٹ تشکیل دینے اور چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق نکات پر بھی تفصیلی سوالات کی

سیاسی پناہ یعنی اسائلم کی غرض سے اپنی جان بچانے کی خاطر غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے والے افراد کے حوالے سے ا...
02/10/2025

سیاسی پناہ یعنی اسائلم کی غرض سے اپنی جان بچانے کی خاطر غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے والے افراد کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایک اہم فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ:

راہل عزیزی نام کی ایک افغان پناہ گزین جو کہ پانچ سال افغانستان پولیس میں اپنے فرائض منصبی سر انجام دینے کے بعد دو ہزار اکیس کے اواخر یعنی اگست میں حکومت کی تبدیلی کے باعث اپنی جان بچانے کی غرض سے غیر قانونی طور پر یعنی بغیر کسی دستاویزات کے پاکستان میں داخل ہوتی ہے جہاں پر وہ خود کو اسلام آباد پولیس کے سامنے سرینڈر کر دیتی ہیں جس کے بعد اسلام آباد پولیس ان کو اسسٹنٹ کمشنر کے سامنے پیش کرتی ہے اور وہ راہل کو دار الامان بھیجنے کا حکم صادر فرماتے ہیں اور اس کے بعد راہل کے خلاف ایف آئی اے کی جانب ڈے فارنرز ایکٹ کے دفعہ چودہ کے تحت ایف آئی آر کا اندراج کیا جاتا ہے اور یوں وہ اڈیالہ جیل پہنچ جاتی ہے۔ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ سے راہل کی درخواست ضمانت منظور ہوتی ہے اور ان کو سیکرٹری داخلہ کے حوالے کیا جاتا ہے اور وہ ان کو یو این ایچ سی آر کے حوالے اس لئے کرتے ہیں کہ ایک تو فارنرز ایکٹ کے دفعہ چودہ کے تحت ان کا ٹرائل مکمل ہو سکے اور دوسرا تاکہ وہ اپنے پناہ گزینی یعنی اسائلم کی درخواست پر پیش رفت کر سکے۔ یاد رہے کہ اس کے بعد راہل عزیزی کی حکومت آسٹریلیا کی جانب سے نہ صرف اسائلم کی درخواست منظور ہوتی ہے بلکہ ان کو " ویمن ایٹ رسک " ویزا بھی عطا کردیتی ہے جو کہ راہل عزیزی کو اس بات کی حقدار بنا دیتی ہے کہ وہ تاحیات آسٹریلیا میں قیام کر سکے لیکن یہاں سے کہانی میں ایک نیا موڑ آتا ہے اور وہ یہ کہ آسٹریلیا جانے کے لئے راہل عزیزی کو پاکستان سے اخراج کے لئے ایک " ایگزٹ سرٹیفکیٹ " چاہئے ہوتا ہے لیکن حکومت پاکستان اس وجہ سے راہل عزیزی کو سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کر دیتی ہے کہ ان کے خلاف فارنرز ایکٹ کے دفعہ چودہ کے تحت ٹرائل چل رہا ہوتا ہے۔ جس کے بعد راہل عزیزی ٹرائل کورٹ یعنی مجسٹریٹ کی عدالت میں ضابطہ فوجداری کے دفعہ دو سو انچاس اے کے تحت بریت کی درخواست دیتی ہے لیکن ان کی نہ صرف وہ درخواست خارج ہو جاتی ہے بلکہ نظر ثانی کی درخواست بھی خارج کر دی جاتی ہے جس کے بعد راہل عزیزی اسلام آباد کی عدالت عالیہ سے رجوع کرتی ہے اور وہاں پر یہ درخواست کرتی ہے کہ ان کے خلاف درج ایف آئی آر ختم کر دی جائے اور ساتھ ہی ساتھ مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دیا جائے اور یوں اس کیس کا ہائ کورٹ میں آغاز ہوتا ہے ۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کے عدالت عالیہ کے سامنے سوال یہ تھا کہ کیا راہل عزیزی کو پاکستان سے اخراج کی اجازت ایف آئی آر کے خاتمے کے بعد دی جائے یا پھر ان کو مکمل ٹرائل کا سامنا کرنے کے بعد اجازت دی جائے ؟ یاد رہے کہ مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن جج نے اس وجہ سے راہل عزیزی کی درخواست بریت خارج کی تھی کہ راہل عزیزی کو جو اسائلم کی متلاشی ہونے کا سرٹیفکیٹ ایف آئی آر کے اندراج کے دو مہینے بعد ملا تھا جو کہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ راہل عزیزی پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئ تھی۔

نوٹ : یاد رہے کہ فیصلے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ راہل عزیزی کی درخواست ضمانت کے موقع پر عدالت نے حکومت سے مہاجرین کو اسائلم کا حقدار قرار دینے اور نہ دینے کے طریقہ کار بابت رپورٹ مانگی تھی جس کا خلاصہ اس فیصلے میں مذکور ہے اور اس بابت عدالت عالیہ کے جسٹس بابر ستار صاحب کی بحث اس فیصلے کو چار چاند لگا دیتی ہے۔

عدالت عالیہ کی جانب سے سوال کی وضاحت کے بعد مسمات راہل عزیزی کے وکلاء کی جانب سے اپنی بحث کا آغاز اس نکتے سے ہوتا ہے کہ چونکہ فارنرز ایکٹ کے دفعہ چودہ کی خلاف ورزی بنیادی طور پر ایک فوجداری کیس ہے اور فوجداری کیس کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ جرم کی تکمیل کے لئے ملزم کا ارادہ یعنی نیت بھی شامل ہو اور چونکہ اس کیس میں ملزمہ راہل عزیزی اپنی جان بچانے کی غرض سے پاکستان آئ اور پھر یہاں بھی غیر قانونی طور پر رہنے کی بجائے اسائلم سرٹیفکیٹ لیا اور مزید برآں حکومت آسٹریلیا کی جانب سے ان کو اسائلم مل بھی گیا اور یہ کہ آئین پاکستان ہر اس شخص کو آزادی دیتا ہے جو کہ پاکستان میں ہوں جن میں مہاجرین بھی شامل ہیں جبکہ دوسری طرف حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ حکومت کو کوئ اعتراض نہیں ہے لیکن چونکہ راہل عزیزی کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ چل رہا ہے تو اس وجہ سے وزات داخلہ ایگزٹ سرٹیفکیٹ جاری نہیں کر سکتا۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سب سے پہلے اس نکتے کا رخ کیا ہے کہ پاکستان میں ایسا کوئ قانونی نظام نہیں ہے جس کے تحت مہاجرین کو کوئ پہچان یا ان کو اسائلم دینے کا طریقہ کار موجود ہو اور یہ کہ پاکستان مہاجرین کنونشن کا دستخط کنندہ بھی نہیں ہے۔ یہاں سے جسٹس صاحب نے بین الاقوامی معاہدوں اور اس کے پاکستانی نظام قانون میں عمل درآمد پر ایک خوبصورت بحث باندھی ہے۔ اور اس سب کے بعد اس بحث پر آئے ہیں کہ جب ایک مرتبہ راہل عزیزی کو مہاجر ہونے کا سٹیٹس اور اس کو آسٹریلیا کی جانب سے اسائلم اور تاحیات ویزا بھی مل گیا تو کیا ریاست کے لئے لازمی ہے کہ وہ اس کا ٹرائل کرے ؟ اور یہاں سے جسٹس صاحب نے بحث کا رخ فارنرز ایکٹ کے سیکشن چودہ کی طرف موڑ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس ایکٹ کا مقصد کسی کو سزائیں دینا نہیں بلکہ پاکستان میں باہر سے آمد و رفت کو منظم کرنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کوئ غیر ملکی کسی غیر قانونی کام کی غرض سے جی کسی غیر قانونی کام کی غرض سے داخل نہ ہو اور اس کے بعد ایک اور خوبصورت بحث باندھ کر جسٹس صاحب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ جرم سٹرکٹ لائبلٹی جرائم میں شمار نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی ثابت کیا ہے کہ فارنرز ایکٹ کے دفعہ چودہ کے تحت نہ صرف پاکستان میں غیر قانونی پر داخل ہونا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ جرم کی تکمیل کے لئے یہ بھی لازمی ہے کہ آپ پاکستان جرم کی نیت سے آئے ہوں اور اگر کوئ صرف اپنی جان بچانے کی غرض سے پاکستان آئے تو یہ جرم شمار نہیں ہوگا۔ اس فیصلے میں ایک اور خوبصورت بحث اس بابت بھی باندھی گئی ہے کہ فارنرز ایکٹ کے سیکشن چودہ کو آئین پاکستان میں موجود بنیادی انسانی حقوق کی روشنی میں پڑھا جائے گا۔

اس انتہائی اہم فیصلے کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئ غیر ملکی شہری کسی غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں اپنی جان بچانے کے لیے داخل ہو اور اس کا پاکستان آنے کا مقصد قطعی طور پر کسی غیر قانونی کام کے لئے نہ ہو تو ایسی صورت میں یہ جرم نہیں سمجھا جائے گا اور اسی کو دیکھتے ہوئے عدالت عالیہ نے راہل عزیزی کو مقدمے سے بری کرتے ہوئے حکومت سے ان کو ایگزٹ سرٹیفکیٹ فوری طور پر جانے کا حکم دیا۔

This Important Judgment Is Written By Justice Babar Sattar And Can Be Searched And Cited As W.P No. 1666 of 2023.

ذوالقرنین ایڈوکیٹ
ریسرچ آفیسر ؛ خیبرپختونخوا بار کونسل

اہم اعلامیہ برائے خریداری — پنجاب ای-اسٹام پیپرمعزز صارفین، السلام علیکم!پنجاب حکومت نے ای-اسٹام پیپر کے اجراء کے لیے جد...
20/09/2025

اہم اعلامیہ برائے خریداری — پنجاب ای-اسٹام پیپر

معزز صارفین، السلام علیکم!

پنجاب حکومت نے ای-اسٹام پیپر کے اجراء کے لیے جدید خودکار نظام نافذ کر دیا ہے۔ براہِ کرم نوٹ کریں کہ آئندہ ای-اسٹام پیپر صرف درج ذیل شرائط کی تکمیل پر جاری کیے جائیں گے:

بنیادی شرائط

1. شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ موبائل نمبر لازمی ہوگا — جس شخص کے نام پر اسٹام پیپر جاری کرنا ہوگا، اسی کے شناختی کارڈ پر موبائل نمبر رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے۔
اگر سم آپ کے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہے تو اسٹام پیپر آپ کے نام پر جاری نہیں کیا جائے گا۔

2. آن لائن او ٹی پی (OTP) ویری فیکیشن
شناختی کارڈ کی تصدیق کے بعد سسٹم اسی رجسٹرڈ نمبر پر ایک او ٹی پی بھیجے گا۔ یہ او ٹی پی آپ کو اسٹام فروش (e-Stamp Vendor) کو دینا ہوگا۔ او ٹی پی ویری فکیشن مکمل ہونے کے بعد ہی اسٹام پیپر پرنٹ کیا جائے گا۔

3. او ٹی پی کے ذریعے پرنٹ
او ٹی پی کی تصدیق کے بعد اسٹام فروش سسٹم سے آپ کا اسٹام پیپر پرنٹ کر سکے گا — اس طرح کوئی دوسرا شخص آپ کے نام پر جعلی یا غلط اسٹام پیپر جاری نہیں کر سکے گا۔

ضوابط برائے بیانِ حلفی (Affidavit)

چیف ٹیکس آفیسر کے حالیہ حکم کے مطابق صرف 300 روپے مالیت کا اسٹام پیپر بیانِ حلفی کے لیے قابلِ قبول ہوگا۔

100 یا 200 روپے مالیت کے اسٹام پیپر پر بیانِ حلفی جاری نہیں ہوگا۔

آئندہ اپ ڈیٹس (ممکنہ اضافی سیکیورٹی)

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق بہت جلد بائیو میٹرک اور ویڈیو ریکارڈنگ سسٹم بھی نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے بعد معاہدات میں دھوکہ دہی اور جعلسازی مزید مشکل ہو جائے گی۔

فوائد

جعلسازی اور فراڈ میں کمی۔

صرف اصل مالک ہی اپنے نام پر اسٹام پیپر حاصل کر سکے گا۔

خریدار کی شناخت محفوظ اور شفاف طریقے سے رکھی جائے گی۔

نظام کی شفافیت، عوامی اعتماد اور انصاف کی فراہمی میں اضافہ ہوگا۔

آپ سے گزارش

جب بھی اسٹام پیپر لینے جائیں تو اپنا رجسٹرڈ موبائل نمبر ساتھ لائیں۔

اسٹام فروش حضرات سے تعاون کریں اور بلاوجہ بحث سے گریز کریں۔

آپ کے تعاون سے یہ نظام مؤثر اور کامیاب ہوگا۔ شکریہ۔

19/09/2025

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں نے اپنے ہی چیف جسٹس کے خلاف اختیارات کے غلط استعمال پر درخواستیں دائر کردیں"

ایک غیر معمولی پیش رفت میں، پاکستان کی سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ جج — جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس سمن رفعت امتیاز — اکٹھے سپریم کورٹ کی جانب روانہ ہوئے اور اپنے ہی چیف جسٹس، جسٹس سرفراز ڈوگر، کے خلاف الگ الگ درخواستیں جمع کرائیں، جن میں ان پر اختیارات کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا گیا۔

یہ تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب جسٹس طارق محمود جہانگیری نے 2025 کے انتخابی دھاندلی کی تحقیقات شروع کیں، جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے انہیں ہائی کورٹ سے ہٹانے کا حکم دے دیا۔

ایمان مزاری نے کمرۂ عدالت میں تلخ کلامی کے واقعے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کے خلاف...
15/09/2025

ایمان مزاری نے کمرۂ عدالت میں تلخ کلامی کے واقعے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کے خلاف ہراسمنٹ کمیٹی میں شکایت دائر کر دی۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس ڈوگر کو 26ویں آئینی ترمیم کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کیا گیا تھا۔

*کالا جادو کرنے والوں کے خلاف قانون پاس*جادو کرنیوالےکو 7 سال تک قید اور 10 لاکھ جرمانہ ہوگا، سینیٹ میں ترمیمی بل پیشسین...
13/09/2025

*کالا جادو کرنے والوں کے خلاف قانون پاس*

جادو کرنیوالےکو 7 سال تک قید اور 10 لاکھ جرمانہ ہوگا، سینیٹ میں ترمیمی بل پیش

سینیٹ میں جادو ٹونے کی روک تھام سے متعلق فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل پیش کیا گیا۔

سینیٹر ثمینہ ممتاز کی جانب سے فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کیا گیا۔ بل جادو ٹونے کی روک تھام سے متعلق ہے۔

بل میں کہا گیا ہے کہ جو شخص جادو کرے یا اس کی تشہیر کرے اسے 6 ماہ سے7 سال تک قید ہوگی۔ جرم کے مرتکب کو 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا اور جرم ناقابل ضمانت ہوگا

Address

Islamabad
44220

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when LAW for ALL posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share