19/11/2025
اب آئینی ترمیم کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا!
پاکستان کی حالیہ 27ویں آئینی ترمیم نے آئینی منظرنامے میں ایک اہم اور تاریخی تبدیلی کی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 239 میں واضح شق شامل کی گئی ہے کہ اب کسی بھی آئینی ترمیم کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ آئینی ترمیم پر عدالت کی نگرانی کو محدود کر دیا گیا ہے، اور اس کے اثرات آئینی، قانونی اور سیاسی سطح پر بہت اہم ہیں۔
قبل ازیں، جب بھی پارلیمنٹ نے کوئی آئینی ترمیم منظور کی، تو شہری، تنظیمیں یا دیگر ادارے Supreme Court یا High Court میں جا کر اسے چیلنج کر سکتے تھے۔ عدالت یہ فیصلہ کرتی تھی کہ ترمیم آئین کے بنیادی اصولوں اور بنیادی ڈھانچے (basic structure) کے مطابق ہے یا نہیں۔
Eighteenth Amendment (2010): اس کے خلاف چیلنج دائر ہوئے۔ عدالت نے کہا کہ پارلیمنٹ کو آئین میں ترامیم لانے کا اختیار تو حاصل ہے، لیکن یہ اختیار لامحدود نہیں، بلکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے دائرے میں محدود ہے۔
Twenty‑Fourth Amendment: لاہور ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئیں کہ ترمیم سے نمائندگی اور ووٹ کے اصول متاثر ہو سکتے ہیں۔ عدالت نے اس پر غور کیا اور آئینی جائزہ لیا۔
اس طرح، عدالتیں پارلیمنٹ کی ترامیم پر نظر رکھتی تھیں اور آئین کے بنیادی اصولوں کی حفاظت کرتی تھیں۔
اب 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سب کچھ بدل گیا ہے:
1. چیلنج کا راستہ بند: اب کوئی عدالت اس ترمیم کو چیلنج نہیں کر سکتی۔
2. پارلیمنٹ کی بالادستی: پارلیمنٹ کے فیصلے حتمی اور غیر مشروط قرار پاتے ہیں۔
3. عدالتی نگرانی محدود: عدالتیں آئینی ترامیم پر نظرثانی یا جائزہ نہیں کر سکتیں، جو پہلے ایک اہم توازن کا حصہ تھا۔
یہ ترمیم قانونی اور سیاسی نقطہ نظر سے بہت اہم ہے:
مثبت پہلو: پارلیمنٹ کے اختیار کو مضبوطی ملتی ہے، اور آئینی ترامیم پر کسی قسم کی عدالتی رکاوٹ نہیں رہتی۔
تشویش کا پہلو: عدلیہ کی نگرانی کمزور ہو جاتی ہے، اور آئینی توازن (checks and balances) متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آئینی ترامیم جو متنازعہ ہوں، انہیں اب عدالتیں روک نہیں سکتیں۔
---
اس ترمیم کے مطابق
سپریم جوڈیشل کونسل آرٹیکل 209 میں تبدیلی ، حکومت نے ججوں کو گھر بھیجنے کا رستہ بھی اپنے حق میں آسان بنا دیا کیسے ؟ ملاحظہ کریں
27 ویں ترمیم سے پہلے کے سپریم جوڈیشل کونسل 5 ممبران
1.چیف جسٹس یحییٰ آفریدی ، 2.جسٹس منصور ، 3.جسٹس منیب ، 4.چیف جسٹس عالیہ نیلم ، 5.چیف جسٹس سرفراز ڈوگر ۔۔
نوٹ: اس composition میں کسی جج کو بظاہر گھر بھیجنا آسان نہیں تھا
27 ویں ترمیم میں مجوزہ سپریم جوڈیشل کونسل (7 ممبران جن میں تین حکومت کے نامزد کردہ باقی خود دیکھ لیں)
1.چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت (حکومت تقرر کرے گی)
2.سینئر جج وفاقی آئینی عدالت (حکومت تقرر کرے گی)
3.چیف جسٹس سپریم کورٹ
4.سپریم کورٹ کا سینئر جج
5. چیف جسٹس آئینی عدالت اور چیف جسٹس سپریم کورٹ اکٹھے کسی ایک جج کو دو سال کے لیے ممبر بنائیں گے اگر ڈیدلاک آجائے تو دونوں چیف جسٹس ایک ایک نام صدر کو بھجیں گے صدر وزیر اعظم کی سفارش پر ایک جج کی نامزدگی کریں گے اس صورت میں آئینی عدالت کا چیف جسٹس (جو حکومت کا مقرر کردہ ہو گا) اپنی بات منوائے گا اگر نا مانی گئی تو کہے گا نام حکومت کو بھیج دیں پھر یہ بھی (حکومت کا مقرر کردہ ہو جائے گا)
6۔ دو چیف جسٹس ۔۔۔یعنی کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم اور چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کونسل کے ممبر ہوں گے
نوٹ : ترمیم کے بعد کونسل میں حکومتی (مقرر کردہ یا اس کے طرف دار تاثر والے) ججز کی اکثریت ہو جائے گی یوں کسی جج کو گھر بھیجا مشکل بالکل بھی نہیں ہو گا
⬅️27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کا قومی اسمبلی سے منظور ہوگیا
⬅️آئینی ترمیم کے مسودے میں 48 آرٹیکلز میں مختلف ترامیم تجویز
⬅️ترمیم کے ذریعے "فیڈرل کونسٹی ٹیوشنل کورٹ" کے قیام کی تجویز
⬅️سپریم کورٹ سے علیحدہ نئی "وفاقی آئینی عدالت" قائم کرنے کی شق
⬅️وفاقی آئینی عدالت کا صدر مقام اسلام آباد ہوگا
⬅️چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی مدتِ ملازمت تین سال مقرر
⬅️وفاقی آئینی عدالت کے جج 68 برس کی عمر میں ریٹائر ہوں گے
⬅️آئینی عدالت کو وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات سننے کا اختیار
⬅️آئینی عدالت کو آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کا دائرہ اختیار
⬅️آئین کے آرٹیکل 184 کو ختم کرنے کی تجویز
⬅️آرٹیکل 175 میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی ترمیم
⬅️سپریم کورٹ کی آئینی اختیارات محدود، نئی عدالت کو منتقل
⬅️آرٹیکل 175A میں ججز تقرری کے لیے نیا طریقہ کار تجویز
⬅️جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ دونوں کے چیف جسٹس شامل
⬅️وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے فیصلے ایک دوسرے پر لازم نہیں ہوں گے
⬅️آرٹیکل 189 میں ترامیم، آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم
⬅️سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیلِ نو، دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس بطور ارکان
⬅️آرٹیکل 243 میں ترامیم — چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم
⬅️آرمی چیف کو "چیف آف ڈیفنس فورسز" کا اضافی عہدہ دیا گیا
⬅️آرٹیکل 93 میں ترمیم، وزیرِاعظم کو سات مشیروں کی تقرری کا اختیار
⬅️آرٹیکل 130 میں ترمیم، وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافہ
⬅️آرٹیکل 206 میں ترمیم، سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں تقرری سے انکار پر جج ریٹائر تصور
⬅️آرٹیکل 209 میں ترمیم، سپریم جوڈیشل کونسل کے نئے قواعد 60 دن میں بنانے کی شرط
⬅️آرٹیکل 175B سے 175L تک نیا باب شامل — وفاقی آئینی عدالت کے اختیارات و طریقہ کار
⬅️آرٹیکل 176 تا 183 میں ترامیم، سپریم کورٹ کے حوالے سے اصطلاحات کی تبدیلی
⬅️آرٹیکل 186 اور 191A حذف کرنے کی تجویز
⬅️آئینی عدالت کا ایڈوائزری دائرہ
کار بھی متعین کیا جائے گا۔
کیا آئینی ترمیم عدالت میں چیلنج ہو سکتی ہے؟
ہمارے ہاں ماضی میں مثالیں موجود ہیں کہ آئینی ترامیم عدالت میں چیلنج ہوتی رہتی ہیں، مگر کیا آئینی طور پر اس کی اجازت ہے؟
سابق چیف جسٹس جناب جواد ایس خواجہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آئین کے مطابق کسی آئینی ترمیم کو کسی عدالت میں چیلنج کیا بھی جا سکتا ہے؟
آئین کے آرٹیکل 239 کی ذیلی دفعہ پانچ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کسی بھی آئینی ترمیم کو کسی بھی بنیاد پر کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اصول آئین میں بہت پہلے سے موجود ہے۔ تازہ ترمیم سے بہت پہلے۔
اسی آرٹیکل کی ذیلی دفعہ چھ میں لکھا ہے کہ کسی شک و شبے کے ازالے کے لیے ایک بار پھر واضح کیا جاتا ہے کہ آئین میں ترمیم پارلیمان کا اختیار ہے اور اس اختیار پر کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں۔ جی ہاں، کسی بھی قسم کی۔
یہ اصول بھی آئین میں بہت پہلے سے موجود ہے، حالیہ ترمیم سے بہت پہلے سے۔ بعض یوٹیوبرز دہائی دے رہے ہیں کہ حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم میں یہ بات بھی شامل کر دی ہے کہ کوئی آئینی ترمیم عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتی۔
یہ دہائی خلاف واقعہ ہے اور یوٹیوب پر ماہر قانون بننے کا منطقی نتیجہ ہے۔ اگر کسی نے آئین کی کتاب کھول لی ہوتی تو اسے معلوم ہوتا کہ یہ بات وہاں پہلے سے ہی موجود ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ تیسری بار اس وضاحت کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کا جواب بڑا سادہ ہے کہ چوں کہ یہ بات آئین میں ہونے کے باوجود یہ رسم ہی چل پڑی ہے کہ یہاں آئینی ترامیم عدالت میں چیلنج بھی ہوتی ہیں اور ان پر باقاعدہ سماعت بھی شروع ہو جاتی ہے۔ کسی کو اس بات کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ آئین جس کام سے واضح طور پر روک رہا ہے وہ کام کیسے اور کیوں کیا جا رہا ہے۔
اس آرٹیکل میں نئی ترمیم بس ایک تذکیر ہے اور عدلیہ کو ایک بار پھر واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ جناب والا! یہ جو آپ آئینی ترامیم کے خلاف مسلسل ہی پیٹیشنز سنتے چلے آ رہے ہیں تو ہم عرض کیے دیتے ہیں کہ اس کی آپ کو اجازت نہیں ہے۔
جب ہم جیسے طالب علم سوال اٹھاتے تھے کہ آئین میں ممانعت کے باوجود یہ کیسے ہو جاتا ہے کہ عدالتیں ایسی درخواستیں سن لیتی ہیں تو آگے سے ماہرین قانون بتاتے تھے کہ فلاں عدالت نے فلاں وقت پر فلاں فیصلے میں قرار دیا تھا کہ سن سکتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ (یعنی عدالتی فیصلوں کو ان کے خیال میں آئین کے آرٹیکل پر فوقیت حاصل تھی)۔
اس تجاہل عادلانہ سے نمٹنے کے لیے اب اس آرٹیکل میں ایک چیز کا اضافہ کر دیا گیا ہے کہ ماورائے آئین عدالتی فیصلوں کی کوئی اہمیت ہے نہ ہی کسی عدالتی نظیر کی۔ جب آئین میں لکھ دیا گیا تھا کہ آئینی ترمیم کے خلاف کوئی درخواست کوئی عدالت نہیں سن سکتی اور اگر کوئی عدالتی فیصلہ اس آئینی شق سے ہٹ کر ہو تو اس فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں۔
یعنی جو غلط ہوا، اسے آگے مثال نہیں بنایا جا سکتا۔ فل سٹاپ۔
آپ دیکھیے کہ یہاں بار بار آئینی ترامیم کو چیلنج کیا جاتا رہا اور اس پر سماعتیں ہوتی رہیں۔
گویا وہ بھی سمجھتے ہیں کہ آئین کی کوئی حیثیت نہیں اور آئین میں واضح منع کرنے کے باوجود عدالت اس معاملے کو سن سکتی ہے۔
یہی وہ روایت ہے جس نے عدالتوں کو اتنا طاقتور کیا کہ وہ چاہتیں تو تشریح کے نام پر آئین کو ازسرےنو لکھ دیتیں، ان کا دل کرتا تو وہ جنرل مشرف کو، یعنی ایک فرد واحد کو آئین میں ترمیم کا اختیار بھی عنایت فرما دیتیں، لیکن جب کوئی پارلیمان دو تہائی اکثریت سے جائز اور آئینی طریقے سے آئین میں ترمیم کرتی تو یہ اس پر سماعتیں شروع کر دیتیں کہ کیا یہ درست ہوا ہے یا نہیں۔
اس غیر آئینی رسم کو جواز دینے کے لیے ایک مفروضہ گھڑ لیا گیا کہ عدالتوں کا کام ہے کہ وہ دیکھیں کہ آئین کی کوئی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم تو نہیں۔ اسی اختراع کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے 2015 میں کہا کہ آئین میں ممانعت کے باوجود ہم آئینی ترمیم کو دیکھ اور پرکھ سکتے ہیں اور اسے کالعدم بھی قرار دے سکتے ہیں۔
سچ لیکن یہ ہے کہ یہ جواز انتہائی کمزور ہے۔ پاکستان کے آئین میں بنیادی ڈھانچے نام کی کوئی چیز بھی کہیں نہیں پائی جاتی۔ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ فلاں فلاں چیز بنیادی ڈھانچہ ہے اور فلاں فلاں کی حیثیت ثانوی ہے۔
نہ ہی آئین میں کہیں یہ لکھا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی محافظ سپریم کورٹ ہے جو اس بنیادی ڈھانچے کو آئین ساز پارلیمان سے بچائے گے
For the removal of doubt, it is hereby declared that there is no limitation whatever on the power of the Majlis-e-Shoora (Parliament) to amend any of the provisions of the Constitution
(کسی بھی قسم کے شک کے خاتمے کے لیے قرار دیا جاتا ہے کہ آئین میں ترمیم کے پارلیمان کے اختیار پر کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں۔) جی ہاں، کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔
اب تک تو جوڈیشل ایکٹیوزم نے آئین کے آرٹیکل 239 کی متعلقہ دفعات کو اہمیت نہیں دی اور آئینی ممانعت کے باوجود آئینی ترامیم چیلنج ہوتی رہیں اور ان پر کارروائی بھی ہوتی رہی اور پارلیمان بے بسی سے یہ سب کچھ ہوتا دیکھتی رہیں۔ لیکن کیا آگے بھی یہ مشق قائم رہ پائے گی؟
میرے خیال میں اس کا جواب نفی میں ہے۔ حالیہ ترمیم میں عدالتی نظیر اور فیصلوں پر اس معاملے میں اگر فل سٹاپ لگایا گیا ہے تو یہ بلاوجہ نہیں۔ مزید ایسا کچھ ہوا تو امکان یہ ہے کہ اب کی بار پارلیمان کا ردعمل آئے گا۔
*_آئینی عدالت کے چھ ججز کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری_*
*_جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق آئینی عدالت کے جج تعینات_*
*_جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس کریم خان آغا، جسٹس روزی خان آئینی عدالت میں تعینات_*
*_جسٹس ارشد حسین شاہ بھی آئینی عدالت کے جج ہونگے، نوٹیفیکیشن_*