13/09/2021
۔
تحریر: ریحان اے خان۔۔۔۔۔۔
ایک دوست مجھ پر ہنستے ہوئے بولا کہ بھائی اپکو تو نام بھی صحیح لینا نہیں آتا یہ نہیں یہ ھے,
پب جی گھیل سے گلی محلوں کے منچلوں کے لیے بیرون ملک سے گوری بھاگ کے آئے تو ہم اسے اعزاز سمجھتے ہیں۔
اعزاز کیونکر نہ ہو ہم چھوٹے لوگوں کے لیے یہ بڑی بات ہے، اس کے پچھلے کیا راز ہو سکتا اس سے میرا اور آپ کا رب ہی واقف ھے مگر اگر ہم ماضی کے جھروکوں سے دیکھیں تو ہمیں ایسے کئی واقعات پڑھنے کو ملتے
سیاست دان تو بدنام ہیں ہی پر آج ایک شریف زادے کی کہانی آپ کی نظر کرتا ہوں۔
امریکی ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی ایک مالدار
خاتون جوآن کنگ ھیرنگ ہمارے اس وقت کے آمر حکمران (جنکو اسلامی لیڈر کہا جاتا تھا) کی دانستہ طور پر اس وقت قربت میں آئی جب یہ آمر بطور برگیڈیئر اُردن کے دورے پر تھا،
یہ خاتون جنرل صاحب کی خصوصی
محمان نوازی کرنے میں بھی کامیاب ہوئی ،
قربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے کہ جناب نے تمام تر سفارتی تقاضے رد کرتے ہوئے بوسٹن میں پاکستان کی طرف سے آنریری کونسل جنرل پاکستان نامزد کیا۔
بعد میں یہی حسینا افغانستان میں امریکی مداخلت کے لیے جنرل صاحب کی رہنمائی کرتی رہی اور ہم آلہ کار کے طور پر استعمال ہوتے رہے،
اپنی دوست کو بعد ازاں پاکستان کا اعلی ترین سول اعزاز (تمغہ قائد اعظم)سے بھی نوازا۔
یہ ایوارڈ خدمات کا اعتراف تھا۔
یقین'' آپ تجسس کا شکار ھو گئے ھیں کہ یہ کون صاحب تھے،
جناب یہ تھے ہمارے اور آپ کے مذہبی جذبات سے کھیلنے والے جنرل ضیاء الحق۔
حوالہ:
سابق سوویت یونین جنرل کی کتاب،
"میری آخری جنگ "