NKM Advocates & Legal Consultants

NKM Advocates & Legal Consultants Consultations by appointment.
📞 0305-5292488
(3)

Advocate High Court | Islamabad
Representation and legal counsel in criminal, civil, family, and property matters before the courts of Islamabad and Rawalpindi.

غیر ملکی کرنسی لے جانے کی کوشش — تیاری یا اسمگلنگ کی کوشش؟سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ اگر کوئی مسافر بین الاقوا...
21/09/2026

غیر ملکی کرنسی لے جانے کی کوشش — تیاری یا اسمگلنگ کی کوشش؟

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ اگر کوئی مسافر بین الاقوامی روانگی کے تمام مراحل مکمل کرنے کے بعد آخری سیکیورٹی چیکنگ پوائنٹ تک پہنچ جائے اور اس کے پاس مقررہ حد سے زائد غیر ملکی کرنسی موجود ہو جسے ڈیکلیئر نہیں کیا گیا، تو معاملہ محض Preparation تک محدود نہیں رہتا بلکہ Attempt to Smuggle کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

کیس کے اہم نکات:
🔹 مسافر کے پاس US$40,000 موجود تھے، جبکہ مقررہ حد US$10,000 تھی۔
🔹 اس نے State Bank of Pakistan کا NOC حاصل نہیں کیا تھا۔
🔹 مسافر نے بورڈنگ کارڈ، پاسپورٹ پر Exit Stamp اور امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر لیا تھا اور آخری سیکیورٹی چیکنگ پوائنٹ تک پہنچ چکا تھا۔
🔹 ٹریبونل اور ہائی کورٹ نے مسافر کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اسے اسمگلنگ کی کوشش نہ سمجھا۔
🔹 سپریم کورٹ نے کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کی اپیل منظور کرتے ہوئے غیر ملکی کرنسی کی ضبطی کا Order-in-Original بحال کر دیا۔

اہم قانونی اصول
سپریم کورٹ کے مطابق، جب ملزم بین الاقوامی روانگی کے مراحل مکمل کرکے آخری سیکیورٹی چیک تک پہنچ چکا ہو تو اس کا فعل محض ابتدائی تیاری نہیں رہتا بلکہ حالات کے مطابق Attempt to Smuggle قرار پا سکتا ہے۔
مزید یہ کہ:

Ignorantia Juris Non Excusat
قانون سے لاعلمی کوئی عذر نہیں۔
لہٰذا محض یہ مؤقف کہ مسافر کو NOC کی قانونی ضرورت کا علم نہیں تھا، اسے قانونی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔

Preparation اور Attempt کے درمیان فرق کا تعین صرف نیت سے نہیں بلکہ فعل کے مرحلے، حالات اور اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ ملزم نے جرم کی تکمیل کی طرف کتنی پیش رفت کر لی تھی۔
NKM Advocates & Legal Consultants
Reliable Legal Guidance in Islamabad
NOOR KHALID
Advocate High Court
📍 Office No. 25, First Floor, Gakkar Market, Adjacent to Police Station Bhara Kahu, Islamabad
📞 0305-5292488
📧 [email protected]

12/09/2026

آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت کسی ہائیکورٹ کا علاقائی دائرۂ اختیار صرف اس بنیاد پر وسیع نہیں ہوجاتا کہ متعلقہ ادارہ وفاقی ادارہ ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ territorial jurisdiction کا تعین petition کے “dominant object” اور اصل impugned action کی جگہ سے ہوگا۔

موجودہ معاملے میں درخواست گزار کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر FIA حکام نے آف لوڈ کیا، جبکہ پنجاب میں کوئی continuing order، restraint یا cause of action موجود نہیں تھا۔ لہٰذا صرف درخواست گزار کا پنجاب کا رہائشی ہونا یا FIA کا وفاقی ادارہ ہونا لاہور ہائیکورٹ کو jurisdiction نہیں دیتا۔

Federal character of an authority, by itself, does not confer unrestricted territorial jurisdiction upon every High Court.

اگر off-loading مکمل طور پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر ہوئی ہے تو بنیادی طور پر متعلقہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ لاہور ہائیکورٹ petition کو want of territorial jurisdiction کی بنیاد پر خارج کرسکتی ہے، بغیر merits پر فیصلہ کیے۔

اہم نظائر: Taufiq Asif v. General (Retd.) Pervez Musharraf, PLD 2024 SC 610؛ Federal Government v. Ms. Ayyan Ali, 2017 SCMR 1179 وغیرہ۔

سپریم کورٹ کے فیصلوں کی ڈیجیٹل مصدقہ نقل:"ڈیجیٹل سرٹیفائیڈ کاپیز" سپریم کورٹ کی آفیشل ویب سائٹ: (https://scp.gov.pk/Cert...
11/09/2026

سپریم کورٹ کے فیصلوں کی ڈیجیٹل مصدقہ نقل:

"ڈیجیٹل سرٹیفائیڈ کاپیز"

سپریم کورٹ کی آفیشل ویب سائٹ: (https://scp.gov.pk/CertifiedCopyApp)

کوئی بھی شخص پی ایف سی (PFC) پورٹل کا استعمال کرتے ہوئے مصدقہ درست نقل کے لیے درخواست دے سکتا ہے اور سپریم کورٹ کے کسی بھی فیصلے یا حکم کی ڈیجیٹل مصدقہ نقل حاصل کر سکتا ہے۔

درخواستیں جمع کرانے اور آن لائن ڈیجیٹل مصدقہ نقول حاصل کرنے کا تفصیلی طریقہ کار اس عدالت کی آفیشل ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

07/09/2026
اینٹی ریپ کورٹ نے بیوی سے غیر فطری زیادتی کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیاعدالت نے ملزم محمد فاروق کو دس سال قید با مشقت کی سزا...
30/08/2026

اینٹی ریپ کورٹ نے بیوی سے غیر فطری زیادتی کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا

عدالت نے ملزم محمد فاروق کو دس سال قید با مشقت کی سزا سنا دی

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ظفریاب چدھڑ نے فیصلہ سنایا
ملزم کو پچاس ہزار روپے جرمانہ اور متاثرہ لڑکی کو تین لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم کو مزید چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی

ملزم پر بیوی کے ساتھ زبردستی غیر فطری اور بے جا زیادتی کے الزام میں کاہنہ پولیس نے 3مارچ2025ک مقدمہ درج کیا تھا

پراسکیوٹر رضوان محمود نے کیس میں دلائل دئیے
متاثرہ لڑکی شدید ذہنی صدمے کے باعث جنرل اسپتال منتقل، آپریشن کیا گیا

مقدمے میں موقف اپنایا گیا کہ ملزم نشے کا عادی اور تشدد کرتا تھا

پولیس نے مجرم کوٹ لکھپت جیل منتقل کرنے کی کارروائی شروع کردی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے PLJ 2026 SC 1 میں ایک اہم اصول واضح کیا کہ اگر کسی شخص سے اس وقت جائیداد کا معاہدہ کروایا جائے ...
29/08/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے PLJ 2026 SC 1 میں ایک اہم اصول واضح کیا کہ اگر کسی شخص سے اس وقت جائیداد کا معاہدہ کروایا جائے جب وہ پولیس حراست میں ہو اور اس کی آزادانہ رضامندی ثابت نہ ہو، تو ایسا معاہدہ قانونی حیثیت برقرار نہیں رکھتا۔

⚖️ مقدمے کا مختصر پس منظر

معاملہ ایک ایسے شخص کی جائیداد سے متعلق تھا جو پولیس حراست میں موجود تھا۔ دورانِ حراست اس سے جائیداد کے حوالے سے ایک معاہدہ کروایا گیا۔ بعد ازاں اسی معاہدے کی بنیاد پر جائیداد کا انتقال (Mutation) بھی کر دیا گیا۔

متاثرہ فریق نے اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ حراست کے دوران کیا گیا معاہدہ آزادانہ مرضی اور رضامندی کا نتیجہ نہیں تھا۔

⚖️ سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کسی معاہدے کے لیے فریقین کی آزادانہ رضامندی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر کوئی شخص ایسی حالت میں ہو جہاں اس کی آزادیِ عمل اور آزاد مرضی متاثر ہو رہی ہو تو اس سے حاصل کی گئی رضامندی کو محض دستخط یا انگوٹھے کے نشان کی بنیاد پر آزاد رضامندی نہیں کہا جا سکتا۔

عدالت نے پولیس حراست کے دوران کیے گئے مذکورہ معاہدے کو باطل (Void) قرار دیا۔

🏛️ جائیداد کا انتقال بھی منسوخ

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ چونکہ جائیداد کا بعد والا انتقال اسی متنازع معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا تھا، اس لیے اس انتقال کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

چنانچہ متعلقہ Mutation No. 926 منسوخ کر دی گئی اور پہلی Mutation No. 428 بحال کر دی گئی۔

🔑 اہم قانونی اصول

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کسی شخص کی حراست کے دوران اس سے حاصل کیا گیا معاہدہ صرف اس وجہ سے معتبر نہیں ہو جاتا کہ اس پر اس کے دستخط یا انگوٹھے کا نشان موجود ہے۔ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ رضامندی واقعی آزادانہ اور رضاکارانہ تھی یا نہیں۔

یہ فیصلہ بالخصوص ایسے جائیداد کے معاملات میں اہم ہے جہاں کسی شخص سے دباؤ، حراست یا غیر معمولی حالات میں دستاویزات پر دستخط کروائے جائیں۔

⚖️ نتیجہ

PLJ 2026 SC 1 میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ آزادانہ رضامندی کے بغیر کیا گیا معاہدہ جائیداد کے حقوق منتقل کرنے کی قابلِ اعتماد بنیاد نہیں بن سکتا۔ اگر معاہدہ حراست کے دوران کیا گیا ہو اور آزاد رضامندی ثابت نہ ہو تو عدالت اسے باطل قرار دے کر اس کی بنیاد پر ہونے والے انتقال کو بھی منسوخ کر سکتی ہے۔

📚 Citation

PLJ 2026 SC 1 — Supreme Court of Pakistan

این سی سی آئی اے کا بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا اختیاراسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ 2025ء کی ترمیم کے بعد Preventio...
29/08/2026

این سی سی آئی اے کا بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا اختیار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ 2025ء کی ترمیم کے بعد Prevention of Electronic Crimes Act, 2016 (PECA) کی دفعہ 29 کے تحت قائم کردہ National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA) ایک آزاد تحقیقاتی ادارہ ہے اور اب FIA کا ماتحت شعبہ نہیں ہے۔ لہٰذا NCCIA کو FIA Act, 1974 کی دفعہ 5(5) کے تحت حاصل اختیارات ازخود حاصل نہیں ہیں۔ NCCIA صرف وہی اختیارات استعمال کر سکتی ہے جو اسے PECA, 2016 کے تحت صراحتاً دیے گئے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ PECA, 2016 میں NCCIA کو کسی شہری کے بینک اکاؤنٹس یا جائیداد منجمد کرنے کا صریح اختیار نہیں دیا گیا۔ محض ماتحت قانون سازی کے ذریعے ایسا substantive اختیار پیدا نہیں کیا جا سکتا جو بنیادی قانون میں موجود نہ ہو۔NCCIA نے اکاؤنٹس منجمد کرنے کے لیے National Cyber Crime Investigation Agency (Functions) Rules, 2025 کے Rule 5 پر انحصار کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت قانون سازی اپنے بنیادی قانون سے تجاوز نہیں کر سکتی اور نہ ہی ایسا نیا اختیار پیدا کر سکتی ہے جو پارلیمنٹ نے اصل قانون میں نہیں دیا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر NCCIA کے مطابق کسی بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم جرم سے حاصل شدہ رقم (proceeds of crime) یا منی لانڈرنگ سے متعلق ہو تو Anti-Money Laundering Act, 2010 کے تحت مقررہ قانونی طریقۂ کار اختیار کرنا ہوگا۔ ادارہ براہِ راست بینک کو اکاؤنٹ منجمد کرنے کی ہدایت دے کر قانونی طریقۂ کار کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔
عدالت نے قانونی طریقۂ کار، تناسب (proportionality)، حقِ ملکیت اور ذریعۂ معاش کے تحفظ کو بھی اہم قرار دیا۔ خصوصاً ایسے خاندان کے افراد کے اکاؤنٹس منجمد کرنا جن کے خلاف کوئی مخصوص الزام موجود نہ ہو، محض ایک source report کی بنیاد پر، غیر متناسب اور غیر معقول اقدام قرار دیا گیا۔ عدالت نے Intra-Court Appeals منظور کرتے ہوئے سنگل بینچ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیا، اپیل کنندگان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کی کارروائی ختم کر دی اور متعلقہ اداروں کو اکاؤنٹس فوری طور پر unfreeze/unblock کرنے کی ہدایت کی۔ تاہم NCCIA کو قانون کے مطابق انکوائری جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔
Noor Khalid
Advocate High Court
Serving Islamabad and surrounding areas
📞 Contact: 0305-5292488

If you are looking for a trusted, skilled, and top lawyer in Islamabad, NKM Advocates & Legal Consultants provide reliable legal representation and expert legal solutions.

Specialized in:
⚖ Family Law Cases
⚖ Civil Litigation
⚖ Criminal Defense
⚖ Property and Revenue Matters
⚖ Corporate Legal Advisory
⚖ Legal Documentation and Court Representation
⚖ Marriage, Divorce, and Custody Matters
⚖ Legal Consultation and Case Strategy

As an Advocate High Court, I am committed to delivering professional, result-oriented, and client-focused legal services with dedication to justice and law.

✅Best Lawyer in Islamabad
✅ Professional Legal Solutions
✅ Strong Court Advocacy
✅ Client Confidentiality
✅ Practical Legal Strategy

🌐 Available for legal consultation and case handling in Islamabad and nearby areas.

📞 Contact today for expert legal assistance: 0305-5292488

اگر کوئی شخص درست اور مؤثر ڈرائیونگ لائسنس کا حامل ہو اور وہ گاڑی چلاتے ہوئے اپنی تیز رفتاری اور غفلت پر مبنی ڈرائیونگ ک...
28/08/2026

اگر کوئی شخص درست اور مؤثر ڈرائیونگ لائسنس کا حامل ہو اور وہ گاڑی چلاتے ہوئے اپنی تیز رفتاری اور غفلت پر مبنی ڈرائیونگ کے نتیجے میں کسی شخص کی موت کا سبب بن جائے تو اس کا فعل قتلِ خطا (Qatl-i-Khata) کے زمرے میں آئے گا۔ اس شخص کا کسی کو قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا، تاہم گاڑی چلانے کا اس کا عمل قانوناً جائز اور مجاز ہوتا ہے۔

اس کے برعکس، اگر کوئی شخص ڈرائیونگ لائسنس نہ رکھتا ہو یا اس کے پاس درست اور مؤثر ڈرائیونگ لائسنس موجود نہ ہو اور وہ اپنی تیز رفتاری یا غفلت پر مبنی ڈرائیونگ کے نتیجے میں کسی شخص کی موت کا سبب بن جائے، تو اگرچہ اس کا بھی کسی شخص کو قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا، لیکن چونکہ گاڑی چلانے کا اس کا عمل غیر قانونی اور خلافِ قانون ہوتا ہے، اس لیے اس کا فعل بادی النظر میں قتل بالسبب (Qatl-bis-Sabab) کے جرم کے زمرے میں آتا ہے اور اس پر دفعہ 322 تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی تعزیری دفعات کا اطلاق ہوگا۔

اگرچہ پٹیشنر کے پاس HTV ڈرائیونگ لائسنس موجود تھا، تاہم اسے Public Service Vehicle (PSV) لائسنس/اینڈورسمنٹ جاری نہیں کیا گیا تھا، جو بس چلانے کے لیے ضروری ہے۔ پبلک سروس وہیکل لائسنس ایک خصوصی ڈرائیونگ اینڈورسمنٹ ہے جو کمرشل مسافر بردار گاڑیاں، مثلاً وین، کوسٹر اور بس وغیرہ چلانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ یہ لائسنس عموماً LTV یا HTV لائسنس رکھنے کے کم از کم ایک سال بعد جاری کیا جاتا ہے اور اس کے لیے کم از کم عمر 22 سال مقرر ہے۔

یہ امر ریکارڈ سے ثابت ہے کہ پٹیشنر کے پاس PSV لائسنس موجود نہیں تھا، لہٰذا وہ کسی بھی پبلک ٹرانسپورٹ گاڑی کو چلانے کا مجاز نہیں تھا۔ کوئی شخص جب غیر قانونی اور غیر مجاز طریقے سے گاڑی چلاتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی جان بلکہ اپنے ساتھ سفر کرنے والے افراد اور عام عوام کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔ پٹیشنر کی جانب سے بس چلانے کے فعل کو صرف غیر قانونی اور خلافِ قانون ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ پٹیشنر کا یہ فعل Punjab Motor Vehicle Ordinance, 1965 کی متعلقہ دفعات کی کھلی خلاف ورزی بھی تھا۔

پٹیشنر کے اس فعل کے نتیجے میں ایک حادثہ پیش آیا، جس میں چار نوجوان لڑکوں کی موت واقع ہوئی، جن میں سے ایک لڑکے کی شادی اگلے روز مقرر تھی۔ ہر باشعور شخص سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے کسی غیر قانونی یا خلافِ قانون فعل یا ترکِ فعل کے نتائج سے واقف ہوگا۔

قتل بالسبب (Qatl-bis-Sabab) کا جرم، جو دفعہ 322 تعزیراتِ پاکستان کے تحت قابلِ سزا ہے، سابقہ طور پر صرف دیت کی سزا کا مستوجب تھا، تاہم ضابطۂ فوجداری (Code of Criminal Procedure) کے ساتھ منسلک دوسری جدول (Second Schedule) میں اسے قابلِ دست اندازیِ پولیس (Cognizable) اور ناقابلِ ضمانت (Non-Bailable) جرم قرار دیا گیا ہے۔

مذکورہ قانونی شق 1990ء میں تعزیراتِ پاکستان کے باب XVI، یعنی انسانی جسم کے خلاف جرائم (Offences Affecting the Human Body) میں کی جانے والی ترمیم کے بعد شامل کی گئی، جو قانون ساز کی منشا کو واضح کرتی ہے۔

محض یہ حقیقت کہ اس جرم کی سزا صرف دیت ہے، بذاتِ خود کسی ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے، کیونکہ ہر مقدمہ کو اس کے اپنے مخصوص حالات، حقائق اور دیگر متعلقہ عوامل کی روشنی میں الگ سے جانچنا ضروری ہے۔

نتیجہ: ضمانت مسترد کر دی گئی۔

مقدمہ: Crl. Misc. 5377-B-26
عنوان: Riaz Hussain Vs. State & 1 Other
فاضل جج: مسٹر جسٹس تنویر احمد شیخ
فیصلہ کی تاریخ: 20-08-2026
حوالہ: 2026 LHC 5349

When a person carrying a valid and effective license drives a vehicle and causes the death of a person by rash and negligent driving, his act would be covered by the offence of qatl-i-khata. He has no intention to kill, but his act of driving is lawful.

On the other hand where a person, not holding a license, or a valid/effective driving license causes the death of somebody by his rash or negligent driving, although he has also no intention to kill, but his act of driving is illegal and unlawful, therefore, his act squarely falls within the mischief of offence of “qatl-bis-sabab” and penal provisions of Section 322 of PPC shall be applicable to him.

Although petitioner was holding HTV license, but he was not issued public service vehicle (PSV) license, which is required for driving the Bus. “Public service vehicle license” is a special driving endorsement required to drive commercial passenger transport like van, coaster and bus. It is issued at least one year after holding LTV or HTV license with the minimum requirement of the age of 22-years.

It is matter of the record that petitioner was not a holder of PSV license, therefore, he was not authorized to drive any public transport vehicle. A person driving the vehicle illegally/unlawfully puts not only his own life, but also life of the persons travelling with him as well as life of the public at risk. Act of petitioner of driving the Bus could only be regarded as illegal and unlawful. It was also in flagrant violation of the provisions of Punjab Motor Vehicle Ordinance, 1965. Act of the petitioner triggered a crash causing a fatality and resulted into the death of four young boys, out of which marriage of a boy was scheduled for following day. Every sane person is presumed to know the consequences of his illegal/unlawful act or omission.

Offence of “qatl-bis-sabab” punishable under Section 322 of PPC was inviting the punishment only of Diyat, but as per second schedule appended with Code of Criminal Procedure it was shown to be cognizable and non-bailable. Said provision was introduced following the amendment of Chapter XVI of the Pakistan Penal Code (Of offences affecting the human body) in 1990, which is manifesting the intention of legislature. The fact that it is punishable only with Diyat is not sufficient by itself for the release of an accused on bail, because each and every case has to be scrutinized in the light of its own surrounding circumstances.
Bail Refused.

Crl. Misc.5377-B-26
RIAZ HUSSAIN VS
STATE & 1 OTHER
Mr. Justice Tanveer Ahmad Sheikh
20-08-2026
2026 LHC 5349

فیصلے میں استعمال شدہ الفاظ کے چناؤ پر غور کریں ۔لہذا مفروضوں پر انحصار کرنے کی بجائے حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے جائیداد ...
20/08/2026

فیصلے میں استعمال شدہ الفاظ کے چناؤ پر غور کریں ۔
لہذا مفروضوں پر انحصار کرنے کی بجائے حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے جائیداد کی خرید کرے۔

Address

Islamabad
051

Opening Hours

Monday 09:00 - 22:00
Tuesday 09:00 - 22:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 22:00
Friday 09:00 - 22:00
Saturday 09:00 - 22:00
Sunday 11:00 - 14:00

Telephone

+923055292488

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when NKM Advocates & Legal Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to NKM Advocates & Legal Consultants:

Shortcuts

Share

Category