22/08/2024
کراچی کے حالیہ ٹریفک حادثے میں جس میں ایک نوجوان لڑکی اور اسکے والد کی جان چلی گئی، اس پر عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ قانونی لحاظ سے اس معاملے کا تجزیہ کرنا ضروری ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اس حادثے کے ذمہ دار کو کیا سزا دی جا سکتی ہے اور پاکستانی قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے۔
تعزیرات پاکستان کی دفعہ 320 اس نوعیت کے کیسز کے لیے بنیادی قانون ہے، جو کہ غیر ارادی طور پر موت کا سبب بننے والے افراد کے لیے ہے۔ اگرچہ یہ جرم قابل ضمانت ہے اور زیادہ سے زیادہ سزا 10 سال تک قید ہو سکتی ہے، مگر اس کی بنیاد پر سزائے موت یا عمر قید کا امکان نہیں ہوتا۔ عام طور پر یہ دفعہ ان حادثات پر لاگو ہوتی ہے جہاں ڈرائیور کی غفلت سے کسی کی جان چلی جاتی ہے لیکن اس میں جان بوجھ کر قتل کی نیت شامل نہیں ہوتی۔
بعد میں اس کیس میں دفعہ 322 کا اطلاق کیا گیا، جو کہ قتل بالسبب سے متعلق ہے۔ یہ دفعہ ناقابل ضمانت ہے لیکن اس کی سزا قید نہیں بلکہ دیت ہے، جو کہ اسلامی قانون کے مطابق متاثرہ کے خاندان کو مالی معاوضہ ادا کرنا ہے۔ دیت کی ادائیگی کے بعد ملزم کو رہا کیا جا سکتا ہے، اور ایسے معاملات میں سزا کی بجائے مالی تلافی پر زور دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں اس نوعیت کے جرائم کے لیے Fatal Accidents Act, 1855 بھی موجود ہے، جو کہ متاثرہ خاندانوں کو مالی ہرجانہ دلانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ ایکٹ جسمانی سزا کی بجائے مالی تلافی پر زور دیتا ہے اور اس کے تحت ورثا عدالت میں ہرجانے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
اگرچہ عوامی دباؤ اور سوشل میڈیا پر بحث کے نتیجے میں یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ملزمہ کو سخت سزا دی جائے، لیکن پاکستانی قانون کے تحت اس کیس میں سزائے موت یا عمر قید کا امکان کم ہے۔ اس کے بجائے، دیت کی ادائیگی کے بعد رہائی متوقع ہے، جیسا کہ ماضی کے واقعات میں بھی دیکھنے میں آیا ہے۔
دیگر ممالک جیسے امریکہ اور برطانیہ میں اس نوعیت کے جرائم پر سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ امریکہ میں "Vehicular Manslaughter" کے تحت سنگین غفلت کی صورت میں عمر قید تک سزا دی جا سکتی ہے، جبکہ برطانیہ میں "Causing Death by Dangerous Driving" کے تحت 14 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں ہونے والی اموات کے لیے انصاف کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کی جا سکے اور غفلت برتنے والوں کو موثر سزائیں دی جا سکیں۔