Law firm & Legal Consultant

Law firm & Legal Consultant We have experienced team of lawyers, who are expert in their profession and they all are ready to ren

It's time to file your tax returnsBe vigilant
04/10/2022

It's time to file your tax returns
Be vigilant

*عدالت میں کاغذات جمع کرانے کا بہترین طریقہ👇----------------------------------------------------------------------------...
22/09/2022

*عدالت میں کاغذات جمع کرانے کا بہترین طریقہ👇
-----------------------------------------------------------------------------
کس بھی مقدمہ کو ثابت کرنے کے لیے عدالت میں دستاویزات پیش کرنا لازمی ہوتی ہیں دیوانی اور فیملی مقدمات میں مقدمہ دائر کرتے وقت ان دستاویزات کی تفصیل بھی لکھی جاتی ہے جو عدالت میں جمع کرانے ہوں
دستاویزات دو قسم کی ہوتی ہیں ایک پبلک ڈاکومنٹس اور ایک پرائیوٹ ڈاکومنٹس
کاغذات شہادت کے وقت جمع کراے جاتے ہیں اور عموماً زبانی شہادت کے بعد جمع کراے جاتے ہیں

*Exibit Documents*👇
یہ وہ کاغذات ہوتے ہیں جو بالکل اصلی ہوں یا پبلک ڈاکومنٹس ہوں جن کو جب وکیل جمع کراتا ہے تو عدالت انکے اوپر Exibit لکھ دیتی ہے

*Mark Documents*👇
یہ وہ کاغذات ہیں جو فوٹو کاپی کی شکل میں ہوں یا پھر جن پر عدالت انحصار نہ کرسکتی ہو ,یہ بھی جب وکیل جمع کراتا ہے تو عدالت کاغذات کے اوپر مارک لکھ دیتی ہے
کاغذات ہمیشہ شہادت میں جمع کراے جاتے ہیں مگر سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ایسے کاغذات جو اصلی ہوں وہ مقدمہ کی کسی بھی سٹیج پو جمع کراے جاسکتے ہیں

Any documents which is original and relevant can be produced at any stage whether it is trial court or appellate court in the interest of justice.
2016 SCMR 1(b)

21/09/2022

حق شفع کیا ہے؟ کون، کب اور کیسے اس کو استعمال کرسکتا ہے؟ آج کے دور میں اسکی قانونی حیثیت کیا ہے؟

ہم دیہاتوں میں رہنے والے زمیندار لوگ بخوبی واقف ہیں اس نام سے. حق شفع جس کو انگریزی Right of Pre Emption کہتے ہیں.اس سے مراد ہے کہ فروخت ہونے والی زمین پر خریدار سے زیادہ کسی دوسرے شخص کا حق ہونا اور وہ دوسرا شخص کون ہوگا جس کا حق خریدار سے زیادہ ہوگا تو Pre Emption Act 1991 کے مطابق مشترکہ کھاتے دار کا پہلے نمبر پر حق ہے جس کو شافع شریک کہتے ہیں۔پھر جس کی دیوار یا زمین فروخت ہونے والے زمین سے متصل ہو اس کا حق ہے جس کو شافع جار کہتے ہیں اور تیسرے نمبر پر اس کا حق ہے جس کا گزرنے کا رستہ ہو یا پانی کا رستہ ہو فروخت ہونے والی زمین کی طرف جس کو شافع خلیط کہتے ہیں. یہ حق اوپر بیان کیے گئے اشخاص استعمال کرسکتے ہیں جیسے ہی انکو معلوم ہو کے زمین یا پلاٹ فروخت ہوچکا ہے وہ شخص دو گواہوں کے سامنے زمین خریدنے کا ارادہ ظاہر کرے گا. پھر لیگل نوٹس خریدار کو بھیج کر بتائے گا اس زمین پر میرا حق ہے جس قیمت میں زمین خریدی ہے اس قیمت پر زمین اس کو بیچنے کا بولے گا اور اگر وہ زمین نہ دے تو عدالت میں دعویٰ بنائے حق شفع دائر کرے گا لیکن اگر وہ ایک سال کے اندر دعویٰ نہیں کرتا تو اس کا حق شفع ختم ہو جائے گا۔

اس قانون کا مقصد کیا تھا؟

اس قانون کو بنانے کا مقصد تھا کے ہمارے ملک کی اکثریت دیہات میں رہتی ہے دیہاتی علاقوں میں ایک خاندان خاص برادری کے لوگ ایک ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں اس لیے اس قانون کا مقصد تھا ایسی جگہوں میں کسی اجنبی شخص کو آنے سے روکنا۔

اس قانون کی موجودہ حیثیت؟

اعلی عدلیہ کی متعدد فیصلوں کی وجہ سے جیسا کے PLD 2017 359 کے مطابق اب یہ قانون شہری علاقوں، کمرشل اور سکنی جگہوں پر نافذالعمل نہیں ہے. اب صرف اس قانون کا دائرہ کار زرعی زمینوں کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے.

کن زمینوں پر یہ قانون نافذالعمل نہیں؟

وراثتی زمین، ہبہ کے ذریعے زمین ملے، وقف زمین پر یا شوہر اپنی بیوی کو حق مہر میں دے وغیرہ پر حق شفع کا دعوی نہیں ہو سکتا۔

15/09/2022

تنسیخ نکاح کی وہ صورتیں جس میں عورت کو مکمل حق مہر ملے گا

پاکستانی قانون میں عورت کو یہ حق حاصل ہے اگر وہ اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور اس کا شوہر اس کو طلاق دے کر آزاد نہیں کررہا تو اس صورت میں پاکستانی قانون کے مطابق عورت عدالت میں خلع کا کیس کرسکتی ہے اور عدالت کے ذریعے سے تنسیخ نکاح کروا سکتی ہے.
لیکن اگر عورت عدالت سے خلع لیتی ہے تو The family court Act 1964 کے سیکشن 10 کے تحت عورت کو وہ مہر جو اس کو نہیں ملا یعنی Deferred dower جس کو اردو میں مہر موجل یا غیر معجل بھی کہتے ہیں اس کا 50 فیصد شوہر کو معاف کرے گی اس کو 50 فیصد حق مہر ملے گا اور اگر حق مہر معجل یعنی prompt dower ہے تو 25 فیصد واپس کرے گی اگر وصول کرلیا ہے. اگر حق مہر میں گھر سونا زیور لکھا تھا اس پر بھی یہی اصول لاگو ہوگا خلع کی صورت میں.

کن صورتوں میں بیوی حق مہر واپس نہیں کرے گی؟

تو The dissolution of marriage Act 1939 میں وہ Grounds بیان ہوئے ہیں کہ اگر عورت ان گراونڈز کی بنیاد پر عدالت سے اپنے نکاح کی تنسیخ کرواتی ہے تو اسے حق مہر گھر زیور واپس نہیں کرنا ہوگا۔

1) اگر کسی عورت کا شوہر 4 سال سے لاپتہ ہو تو اس صورت میں عورت عدالت سے نکاح ختم کرواسکتی ہے۔ عدالت 6 ماہ تک انتظار کرے گی اگر شوہر آگیا تو تنسیخ نہ ہوگی اگر شوہر نہ آیا تو تنسیخ نکاح کی ڈگری effective ہو جائے گی۔

2) اگر شوہر 2 سال سے خرچہ نہیں دے رہا

3) اگر شوہر 3 سال سے ازواجی حقوق بغیر کسی وجہ کے ادا نہیں کر رہا.

4) اگر شوہر پاگل ہوگیا ہے یا کوئی وبائی مرض کا شکار ہوگیا عرصہ 2 سال سے

5) اگر شوہر کو 7 سال یا اس سے زائد قید کی سزا ہوگئی ہو

6) اگر شوہر شادی کے وقت سے ہی نامرد تھا اور آگے بھی نامرد ہے تو اس صورت میں بھی عدالت تنسیخ نکاح کا حکم دے دے گی لیکن تنسیخ نکاح سے پہلے عدالت مرد کو علاج کروانے کا ٹائم دے گی 1 سال کا اگر 1 سال میں علاج نہیں ہوتا تو عدالت تنسیخ نکاح کر دے گی

7) اگر عورت کی شادی 16 سال کم عمر میں اسے کے والدین یا سرپرست نے کر دی اب وہ لڑکی 16 سال کی ہوگئی ہے اب اس پر ہے اگر وہ اپنی شادی ختم کرنا چاہے تو کرسکتی ہے اس کو حق اخیارغ البلوغ کہتے ہیں

8) اگر شوہر مارپیٹ کرتا ہے نشہ کرتا ہے، غیر عورتوں سے تعلقات رکھتا ہے، عورت کا سامان بلا اجازت بیچتا ہے یا عورت کو استعمال نہیں کرنے دیتا، اگر شوہر عورت کو غیر اخلاقی زندگی گزارنے پر مجبور کرتا ہے یا اس کو اسے مذہبی معاملات کے مطابق زندگی گزارنے نہیں دیتا یا اس کی زیادہ بیویاں ہیں وہ ان بیویوں کی موجودگی میں اس عورت سے انصاف نہیں کرتا تو ان اوپر بیان کی گئی وجوہات کی بنا پر اگر بیوی شوہر سے عدالت کے ذریعے علیحدگی، تنسیخ نکاح کرتی ہے تو اس صورت میں بیوی کو حق مہر گھر زیور واپس نہ کرنا ہوگا. خلع میں اگر بیوی صرف اتنا کہہ دے کے مجھے نفرت ہوگئی ہے اپنے شوہر سے میں نہیں رہنا چاہتی تو عدالت خلع دے دیتی ہے لیکن ان اوپر بیان کی گئی وجوہات کو عدالت میں عورت کو ثابت کرنا ہوگا جیسا کے وہ خرچہ نہیں دیتا مار پیٹ کرتا ہے. اگر عورت ثابت کر دیتی ہے عدالت میں تو اسے حق مہر واپس نہ کرنا ہوگا.

11/09/2022

دفعہ 489 ایف (F) ت پ کیس، اگر چیک بزنس معاملات کے طور پر جاری کے طور پر جاری کیۓ جائیں، تو ملزم ضمانت قبل از گرفتاری کا حقدار ہو گا.
(2006 CrLJ 221)
اگر چیک بطورِ Security دیا گیا ہو تو ملزم کے خلاف 489F ت پ کا اطلاق نہ ہو گا. ملزم ضمانت قبل از گرفتاری کا حقدار ہو گا.
{2013 SCMR 51}
اگر چیک بزنس معاملات کے طور پر جاری کیا جائے، تو ملزم ضمانت کا حقدار ہو گا.
PLJ 2013 CrC 998.
2009 PCrLJ 1418.
اگر چیک بطورِ سیکورٹی دیا گیا ہو، تو 489 ایف ت پ کا اطلاق نہ ہو گا. ضمانت منظور ہوئی.
2014 YLR 90

Cheque issued to self would seriously need consideration at a trial, Bail allowed.

2014 YLR 640.

29/08/2022

فیملی کورٹ یا اپیلیٹ کورٹ فہرست گواہان کی لسٹ میں ترمیم نہ کر سکتی ہے.
(2020 MLD 554).
فیملی کیس میں ضابطہ دیوانی یا قانون شہادت کا اطلاق نہ ہوتا ہے، اس لئے عورت بزریعہ اٹارنی، پیروی مقدمہ کر سکتی ہے، اور عورت کا خود بطورِ گواہ پیش ہونا ضروری نہ ہے.
(2019 YLR 1900).
فیملی ایکٹ کا اطلاق، مسلم اور غیر مسلم دونوں پر ہو گا.
(2010 YLR 2711).
(PLJ 2017 Lah 732).
عدالتِ اجراء ،نکاح نامہ میں درج، بیوی کی منقولہ جائیداد کو Attach نہ کر سکتی ہے.
(2016-SCMR-2170).
نکاح نامہ کی یہ شرط ،کہ خاوند بلاوجہ طلاق دینے کی صورت میں، اتنا معاوضہ ادا کرے گا، غیر قانونی ہے.
(2012 CLC 837).

File your income tax return Consultation regarding tax matter. Free registration NTN numberSales tax returnsAll other ma...
17/08/2022

File your income tax return
Consultation regarding tax matter.
Free registration NTN number
Sales tax returns
All other matters regarding tax, vigilant

Income Tax Return Filing ServicesFree ConsultationCan contact  at 👇
17/08/2022

Income Tax Return Filing Services

Free Consultation
Can contact at 👇

16/08/2022

ADDITIONAL EVIDENCE:

Permission to bring additional evidence cannot be accorded just to fill in lacunas left by a party in its evidence under Order XLI , R.27 CPC.

2022 YLR 1752

16/08/2022

Address

Jinnah Avenue
Islamabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923126633885

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law firm & Legal Consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Law firm & Legal Consultant:

Share