13/09/2026
کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ 1925 کے مقدمات میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کا دائرۂ اختیار کیا ہے؟
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ — PLD 2026 Lahore 580
لاہور ہائی کورٹ نے کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ 1925 کے تحت مبینہ جرائم کی تفتیش، انکوائری اور فوجداری کارروائی کے حوالے سے ایک نہایت اہم قانونی اصول واضح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو محض رجسٹرار کی جانب سے ریفرنس بھیجے جانے کی بنیاد پر اس قانون کے تحت کارروائی کا اختیار حاصل نہیں ہو جاتا۔
یہ فیصلہ بالخصوص رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور فوجداری عدالت کے دائرۂ اختیار کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
1۔ جرمانہ اور سزا میں بنیادی فرق
عدالت نے واضح کیا کہ جرمانہ عائد کرنا اور فوجداری سزا دینا دو مختلف قانونی تصورات ہیں۔
قانون کے تحت جہاں جرمانہ یا انتظامی نوعیت کی کارروائی کا اختیار رجسٹرار کو دیا گیا ہے، وہاں باقاعدہ فوجداری سزا دینے کا اختیار فوجداری عدالت کے پاس ہوگا۔
لہٰذا رجسٹرار اپنے انتظامی یا قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کسی شخص کو وہ فوجداری سزا نہیں دے سکتا جو قانوناً عدالت کے اختیار میں آتی ہے۔
2۔ مقدمے کی سماعت کس عدالت میں ہوگی؟
عدالت نے اس امر کی بھی وضاحت کی کہ کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ کے متعلقہ جرائم میں مقررہ زیادہ سے زیادہ سزا پانچ سال تک ہے۔
چنانچہ قانون کے تحت ایسے جرائم کا مقدمہ مجسٹریٹ درجہ اول کے روبرو قابلِ سماعت ہوگا۔
یہ اصول اس لحاظ سے اہم ہے کہ کسی جرم کی سزا اور اس کے قانونی فورم کا تعین قانون کی متعلقہ دفعات کے مطابق ہوگا، نہ کہ محض کسی انتظامی ادارے کی جانب سے اختیار کیے گئے طریقۂ کار سے۔
3۔ رجسٹرار کا قانونی طریقۂ کار
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر رجسٹرار کی رائے میں کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ کے تحت کوئی قابلِ تعزیر جرم سرزد ہوا ہے تو اسے قانون کے مقررہ طریقۂ کار کے مطابق متعلقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں براہِ راست شکایت دائر کرنا ہوگی۔
یعنی رجسٹرار کے پاس قانون میں دیے گئے اختیار کو چھوڑ کر کسی دوسرے ادارے کو معاملہ منتقل کرنے کا لامحدود اختیار موجود نہیں۔
4۔ کیا رجسٹرار کیس اینٹی کرپشن کو بھیج سکتا ہے؟
عدالت نے اس اختیار کو تسلیم نہیں کیا۔
فیصلے کے مطابق رجسٹرار کی جانب سے معاملہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو بھیجنے سے اینٹی کرپشن کو خود بخود کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ کے تحت تفتیش یا انکوائری کا قانونی اختیار حاصل نہیں ہو جاتا۔
دائرۂ اختیار قانون سے پیدا ہوتا ہے، محض کسی انتظامی ریفرنس یا حوالہ سے نہیں۔
5۔ دائرۂ اختیار کے بغیر کارروائی کی قانونی حیثیت
یہ فیصلہ ایک بنیادی اصول کی بھی توثیق کرتا ہے کہ ہر سرکاری ادارہ صرف وہی اختیار استعمال کر سکتا ہے جو اسے قانون کے ذریعے واضح طور پر دیا گیا ہو۔
اگر کسی ادارے کو کسی مخصوص قانون کے تحت تفتیش، انکوائری یا فوجداری کارروائی کا اختیار حاصل نہیں تو محض انتظامی حکم، ریفرنس یا درخواست اس کمی کو پورا نہیں کر سکتی۔
عدالت کا حتمی مؤقف
لاہور ہائی کورٹ نے رجسٹرار کی جانب سے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو بھیجے گئے ریفرنس کو قانونی اختیار سے متجاوز قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا اور رجسٹرار کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ قانونی احکامات اور قانون کی روشنی میں خود قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائے۔
قانونی نچوڑ
کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ 1925 کے تحت کارروائی میں ادارے کا نام نہیں بلکہ اس کا قانونی اختیار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
رجسٹرار کو قانون کے تحت دیے گئے اختیارات ہی استعمال کرنے ہوں گے۔
جرمانہ عائد کرنے اور فوجداری سزا دینے کے اختیارات الگ الگ ہیں۔
متعلقہ فوجداری جرائم کا ٹرائل مجسٹریٹ درجہ اول کے روبرو ہوگا۔
رجسٹرار کو قانون کے مطابق متعلقہ عدالت میں شکایت دائر کرنی ہوگی۔
محض رجسٹرار کے ریفرنس سے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو اختیار حاصل نہیں ہو جاتا۔
قانونی اختیار کے بغیر کی جانے والی کارروائی دائرۂ اختیار کی بنیادی خامی کا شکار ہوتی ہ