25/08/2026
😥 یہ وہ خوف ہے جو شاید صرف ایک پراپرٹی ڈیلر ہی سمجھ سکتا ہے۔
آج ایک اور ڈیل مکمل ہوئی۔ مالک بھی میرے سامنے تھا، کرایہ دار بھی ڈائریکٹ۔ اللہ کے فضل سے بات بنی، معاہدہ ہوا، پیمنٹس ہوئیں، گھر کا قبضہ بھی مل گیا۔ لیکن سچ بتاؤں؟ ڈیل مکمل ہونے کے بعد بھی ایک ڈیلر کے دل میں سکون نہیں آتا، کیونکہ سب سے بڑا سوال یہی ہوتا ہے...
"پتہ نہیں کمیشن ملے گا بھی یا نہیں؟ اگر ملے گا تو پورا ملے گا یا اس پر بھی بحث ہوگی؟"
افسوس کی بات یہ ہے کہ مالک مکان اور کرایہ دار، دونوں اپنے فائدے کے لیے ہر حد تک چلے جاتے ہیں۔ لاکھ، ڈیڑھ لاکھ کی پراپرٹی کا کرایہ دو لاکھ، سوا دو لاکھ، ڈھائی لاکھ تک دینے لینے پر راضی ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لیے ہزاروں نہیں، لاکھوں روپے کا فرق برداشت کر لیتے ہیں۔ مگر جب اس شخص کا حق دینے کی باری آتی ہے جس نے دونوں کو ایک میز پر بٹھایا، اعتماد پیدا کیا، وقت لگایا، بار بار وزٹ کروائے، فون کیے، مذاکرات کروائے اور آخرکار ڈیل مکمل کروائی... تو اچانک سب کو کمیشن بہت زیادہ لگنے لگتا ہے۔
کوئی کہتا ہے "یار تھوڑا کم کر لو۔"
کوئی کہتا ہے "ابھی پیسے نہیں ہیں۔"
اور کوئی تو ایسے غائب ہو جاتا ہے جیسے ڈیل خود بخود ہو گئی ہو۔
ذرا سوچیں...
اگر ڈیلر نہ ہوتا تو کیا آپ ایک دوسرے تک پہنچ سکتے تھے؟ کیا اتنی آسانی سے اعتماد قائم ہو جاتا؟ کیا اتنے کم وقت میں معاملہ طے ہو جاتا؟
ڈیلر صرف دروازہ نہیں کھولتا، وہ دو اجنبی لوگوں کے درمیان اعتماد کا پل بناتا ہے۔ وہ اپنا وقت، اپنی محنت، اپنی گاڑی کا خرچ، اپنا تجربہ، اپنی عزت اور اپنا نیٹ ورک استعمال کرتا ہے تاکہ آپ کی ضرورت پوری ہو سکے۔
لہٰذا جب ڈیل مکمل ہو جائے تو کمیشن کو احسان نہ سمجھیں، یہ ڈیلر کا حق ہے۔ حق ادا کرنے سے نہ دولت کم ہوتی ہے اور نہ عزت، بلکہ برکت بڑھتی ہے۔
تمام مالکان اور کرایہ داروں سے صرف ایک گزارش ہے کہ جس طرح آپ اپنے حق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، اسی طرح اس شخص کے حق کا بھی خیال رکھیں جس کی محنت نے آپ کو ایک دوسرے تک پہنچایا۔
یاد رکھیے، ڈیل صرف گھر کی نہیں ہوتی... ڈیل اعتماد کی بھی ہوتی ہے، اور اعتماد کی قیمت ہمیشہ عزت کے ساتھ ادا کی جانی چاہیے۔