Law and Policy Chambers

Law and Policy Chambers Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Law and Policy Chambers, Lawyer & Law Firm, House No. 7B, Street 32, F-8/1, Islamabad.

Law and Policy Chamber: پورے ملک سے وکلاء کا ایک ہمہ جہت قانونی دفتر پاکستان کے کسی بھی کونے میں ملازمت کے کیسز، پراپرٹی کیسز، فیملی کیسز، کمپنی کیسز، ٹیکس کے مسائل کسٹمز کیسز ودیگر تمام سول قسم کے کیسز کے لیے رابطہ کریں۔

19/03/2026
عدالت عظمیٰ پاکستان کا اہم فیصلہ: کیا ملازمت سے معطل ملازم تنخواہ اور مراعات کا حقدار ہے؟خلاصہ فیصلہ:عدالت عظمیٰ پاکستان...
09/03/2026

عدالت عظمیٰ پاکستان کا اہم فیصلہ: کیا ملازمت سے معطل ملازم تنخواہ اور مراعات کا حقدار ہے؟

خلاصہ فیصلہ:

عدالت عظمیٰ پاکستان نے فیصلہ دیا ہے کہ ملازمت سے معطلی کی صورت میں افسر یا ملازم اپنی تنخواہ اور دیگر مراعات سے محروم نہیں ہوتا۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو کی جانب سے وفاقی سروس ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف دائر کردہ درخواست کو عدالت عظمیٰ نے مسترد کر دیا۔

فیصلے کی وجوہات:

عدالت عظمیٰ نے وضاحت کی کہ ملازمت سے معطلی کوئی سزا نہیں ہے (جیسے برطرفی یا ملازمت سے علیحدگی)۔ یہ محض ایک عبوری اقدام ہے۔ ملازم کا معاہدہ ملازمت برقرار رہتا ہے، اور ملازم اپنے عہدے پر فائز رہتا ہے، چاہے وہ اپنے فرائض انجام نہ دے رہا ہو۔

معاہدہ ملازمت کے حقوق:

چونکہ ملازمت کا معاہدہ جاری رہتا ہے، اس لیے معاہدے سے حاصل ہونے والے تمام حقوق (بشمول مکمل تنخواہ کا حق) نافذ العمل رہتے ہیں۔

بنیادی قاعدہ ۵۳ (ب) کی روشنی میں:

عدالت عظمیٰ نے بنیادی قاعدہ ۵۳ (ب) کا حوالہ دیا، جس میں صراحتاً کہا گیا ہے کہ معطل ملازم اپنی مکمل تنخواہ اور معاہدہ ملازمت کے تحت دی جانے والی تمام مراعات کا حقدار ہے۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں:

فیصلے میں اسلامی تعلیمات کا بھی حوالہ دیا گیا۔ عدالت نے فرمایا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"اے ایمان والو! اپنے معاہدوں کو پورا کرو" (سورۃ المائدہ: ۱)

نیز اللہ تعالیٰ نے دوسروں کے مال ناحق کھانے سے منع فرمایا (سورۃ البقرہ: ۱۸۸) اور تول میں کمی کرنے سے روکا (سورۃ ھود: ۸۵)۔

عدالت نے مزید کہا کہ کسی ملازم کو جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی معاشی محرومی میں مبتلا کرنا سزا دینے کے مترادف ہے جو انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔

نتیجہ:

عدالت عظمیٰ نے وفاقی سروس ٹربیونل کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا کہ معطل ملازم کو اس کی جائز تنخواہ سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ نتیجتاً، زیر التوا ملازم معطلی کی پوری مدت کی مکمل تنخواہ اور مراعات کا حقدار ہے، اور اس دوران ادا کی گئی رقم کی واپسی کا مطالبہ غیر قانونی قرار دیا گیا.

Civil Petition No.4753/2025

06/03/2026

پشاور ہائی کورٹ کا شہریوں کے سفری حقوق سے متعلق تاریخی فیصلہ: عدالت کا کہنا ہے کہ شہریوں کے پاسپورٹ بلاک کرنا، پاسپورٹ کی تجدید سے انکار کرنا یا ان کا نام بغیر قانونی جواز کے پی این آئی ایل یا بلیک لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔

ایک اہم فیصلے میں پشاور ہائی کورٹ نے پی این آئی ایل جیسی انتظامی "بلیک لسٹ" کو غیر قانونی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔ عدالت نے ان شہریوں کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا جنہیں بغیر کسی نوٹس یا وجہ بتائے سفری پابندی کا سامنا تھا، پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے تھے یا بیرون ملک پاسپورٹ کی تجدید سے انکار کر دیا گیا تھا۔

بنیادی سوال
بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا قانونی جواز اور مناسب عمل کے بغیر عائد کردہ سفری پابندیاں آئینی ہیں؟ عدالت نے واضح کیا کہ یہ پابندیاں غیر آئینی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ نقل و حرکت پر پابندی لگانے کا اختیار خصوصی طور پر ایگزٹ فرام پاکستان (کنٹرول) آرڈیننس 1981 اور پاسپورٹ ایکٹ 1974 کے تحت آتا ہے۔ غیر قانونی پی این آئی ایل اور "بلیک لسٹ" ان قوانین کی حفاظتی تدابیر کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک متوازی نظام چلا رہی ہیں، جو کہ قانون کے ساتھ دھوکہ ہے۔

یہ فیصلہ بنیادی حقوق یعنی زندگی، آزادی اور روزگار کے حق (آئین کے آرٹیکل 9، 15 اور 18) کے تحت سفر کے حق کی توثیق کرتا ہے۔ عدالت نے زور دیا کہ کوئی بھی پابندی "قانون کے تحت عائد کردہ معقول پابندی" ہونی چاہیے، جس کے لیے پیشگی نوٹس اور وجوہات پر مبنی حکم نامہ ضروری ہے۔ عدالت نے ان فہرستوں کی خفیہ نوعیت کو تنقید کا نشانہ بنایا، جو شہریوں کو اندھیرے میں رکھتی ہیں اور انہیں اپنا دفاع کرنے سے روکتی ہیں، جو کہ آرٹیکل 10-اے کے تحت منصفانہ مقدمے کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

لہٰذا، عدالت نے درخواست گزاروں کے نام فوری طور پر پی این آئی ایل/بلیک لسٹ سے ہٹانے، ایف آئی اے کے ذریعے ضبط کیے گئے پاسپورٹ واپس کرنے (کیونکہ صرف وفاقی حکومت کو پاسپورٹ ضبط کرنے کا اختیار ہے) اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے پاسپورٹ کی تجدید کا حکم دیا۔

عدالت نے مستقل طور پر تمام حکام کو پابند کیا کہ وہ مناسب قانونی عمل کی پیروی کیے بغیر سفری پابندیاں عائد نہیں کر سکتے اور وزارت داخلہ کو اس فیصلے کی تعمیل کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ یہ فیصلہ انتظامی اختیار کے بے جا استعمال پر ایک مضبوط روک ہے، جو ریاست کو اپنے اختیارات آئینی اور قانونی حدود میں استعمال کرنے کا پابند بناتا ہے۔

03/03/2026

کہانی بلوچستان کے ایک اسسٹنٹ کمشنر کی جس نے زاتی انا کی خاطر ایک جج/قاضی کو ایک خاتون سائلہ کے ساتھ رنگے ہاتھوں گرفتار کیا:

کہانی کچھ یوں ہے کہ قلات میں ایک قاضی صاحب (جو سول جج کے برابر عدالتی افسر تھے) کے پاس ایک مقدمہ زیرِ سماعت تھا۔ اسی دوران قاضی صاحب نے ایک ڈگری کے نفاذ کے سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر کے خلاف وارنٹ جاری کیے۔ بات یہیں ختم ہو جانی چاہیے تھی، مگر نہیں ہوئی۔

16 فروری 2016 کو دوپہر ساڑھے تین بجے، بغیر ایف آئی آر درج کیے، اسسٹنٹ کمشنر صاحب نے قاضی کی سرکاری رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ الزام لگایا کہ قاضی کے ایک خاتون پولیس کانسٹیبل سے ناجائز تعلقات ہیں۔ قاضی کو مبینہ طور پر مارا پیٹا گیا، ننگے پاؤں لیویز لائن لے جایا گیا، اور تقریباً چھ گھنٹے حراست میں رکھا گیا۔ نہ کوئی مقدمہ درج ہوا، نہ قانونی طریقہ اپنایا گیا۔ بالآخر کمشنر اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی مداخلت پر رات نو بجے رہائی ملی۔

اگلے ہی دن یہ واقعہ بلوچستان ہائیکورٹ تک پہنچا۔ معاملہ اتنا سنگین تھا کہ اسے عدلیہ کی آزادی پر حملہ سمجھا گیا۔ ہائیکورٹ نے کمیشن بنایا۔ کمیشن کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ اصل معاملہ ذاتی انتقام کا تھا—قاضی نے وارنٹ جاری کیے، اسسٹنٹ کمشنر نے انا کی تسکین کے لیے کارروائی کی۔ قاضی کی کمزوری کو جال بنا کر استعمال کیا گیا، اور سرعام بے عزتی کر کے عدالتی وقار کو مجروح کیا گیا۔

ہائیکورٹ نے توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کی۔ قاضی نے استعفیٰ دے دیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے “غیر مشروط معافی” مانگ لی۔ لیکن عدالت نے کہا: معافی مانگنا جرم کے اعتراف کے مترادف ہے۔ یہ ایسا معاملہ نہیں جسے صرف معافی پر چھوڑ دیا جائے۔ چنانچہ انہیں توہینِ عدالت کا مجرم قرار دے کر “عدالت برخاست ہونے تک قید” اور پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، جہاں جسٹس سید منصور علی شاہ نے تفصیلی فیصلہ تحریر کیا۔ اسسٹنٹ کمشنر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ازخود اختیار غلط استعمال کیا اور منصفانہ ٹرائل نہیں دیا۔ متبادل طور پر استدعا کی کہ سزا کا ان کی سرکاری ملازمت پر اثر نہ ڈالا جائے۔

سپریم کورٹ نے صاف الفاظ میں کہا:

▪ ہائیکورٹ کو توہینِ عدالت کی کارروائی ازخود شروع کرنے کا مکمل اختیار تھا۔
▪ “غیر مشروط معافی” جرم کے اعتراف کے برابر ہے، اس کے بعد باقاعدہ چارج فریم کرنا اور گواہ پیش کرنا ضروری نہیں رہتا۔
▪ عدالتی وقار پر سرعام حملہ محض فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف پر ضرب ہے۔

عدالت نے زور دیا کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری عدالتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ پاکستان میں تقریباً 82 فیصد مقدمات انہی عدالتوں میں نمٹائے جاتے ہیں۔ اگر ضلعی ججوں کو انتظامیہ کے ہاتھوں ذلت کا سامنا کرنا پڑے تو عوام کا انصاف پر اعتماد ختم ہو جائے گا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ توہینِ عدالت کا قانون ججوں کی انا کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کے تحفظ کے لیے ہے۔ اگر عوام کا اعتماد مجروح ہو جائے تو عدالتوں کی اخلاقی قوت ختم ہو جاتی ہے۔

عدالت نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیا اور اپیل مسترد کر دی۔

البتہ جسٹس شاہد وحید نے ایک اضافی نوٹ لکھا، جس میں ایک اہم مسئلہ اٹھایا:
اگر کسی جج کے خلاف واقعی کوئی فوجداری مقدمہ ہو تو کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟

انہوں نے تسلیم کیا کہ جج قانون سے بالاتر نہیں، مگر ساتھ ہی کہا کہ انتظامیہ کو کچھ احتیاطی تدابیر اپنانی چاہئیں تاکہ جھوٹے مقدمات یا ذاتی انتقام کے ذریعے عدلیہ کو دبایا نہ جا سکے۔ انہوں نے چند رہنما اصول تجویز کیے:

✓ جج کی گرفتاری سے پہلے ہائیکورٹ کے نامزد افسر کو اطلاع دی جائے۔
✓ ہنگامی صورت میں بھی فوری اطلاع دینا لازمی ہو۔
✓ جج کو تھانے نہ لے جایا جائے بغیر ہائیکورٹ کی ہدایت کے۔
✓ ہتھکڑی نہ لگائی جائے، سوائے ناگزیر حالات میں۔
✓ بیان اور میڈیکل ٹیسٹ وکیل یا مساوی/اعلیٰ عدالتی افسر کی موجودگی میں ہوں۔

عدالت نے واضح کیا کہ عدلیہ کی آزادی صرف نظری بات نہیں، اسے عملی طور پر محفوظ کرنا ہوگا۔

آخر میں سپریم کورٹ نے اپیل خارج کر دی اور کہا کہ ملازمت کے حوالے سے کوئی پیشگی رعایت نہیں دی جا سکتی، یہ متعلقہ محکمہ خود طے کرے گا۔

یہ فیصلہ ایک فرد کی سزا سے بڑھ کر ایک پیغام ہے:

انتظامیہ طاقتور ہو سکتی ہے، مگر عدالت کی توقیر عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔
اور اس اعتماد پر حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

23/02/2026

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے ایک ٹیکس قانون کی آئینی حیثیت اور اپنے دائرۂ اختیار کا جائزہ لیا، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں بظاہر عدالت کو عام اپیلی دائرۂ اختیار حاصل نہ ہو لیکن مقدمہ اس بنیاد پر اس کے سامنے آئے کہ اس میں آئین کی تشریح سے متعلق کوئی اہم اور بنیادی قانونی سوال موجود ہو۔

عدالت نے خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس بر خدمات قانون 2022 کے جدول دوم کی شق نمبر 14 کی آئینی حیثیت کا جائزہ لیا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ “تعمیراتی خدمات” پر عائد کیا گیا سیلز ٹیکس درحقیقت اشیاء پر بھی لاگو ہو رہا ہے، حالانکہ وفاقی فہرست قانون سازی کی شق ۴۹ کے تحت اشیاء پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار وفاق کو حاصل ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ متنازعہ شق آئین سے متصادم نہیں ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد خدمات پر ٹیکس عائد کرنا صوبوں کا خصوصی اختیار ہے جبکہ اشیاء پر ٹیکس لگانے کا اختیار وفاق کے پاس ہے۔ عدالت کے مطابق شق نمبر ۱۴ صرف خدمات پر ٹیکس عائد کرتی ہے، اشیاء پر نہیں، لہٰذا یہ آئین کے خلاف نہیں۔ چنانچہ اس کی آئینی حیثیت کو چیلنج مسترد کر دیا گیا۔

تاہم عدالت نے خیبر پختونخوا محاصل اتھارٹی کے طریقۂ وصولی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اظہارِ وجہ بتاؤ نوٹسوں میں پورے معاہداتی معاوضے پر ٹیکس کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس میں خدمات کی اجرت کے ساتھ ساتھ تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمت بھی شامل تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس طریقۂ کار سے دوہرا ٹیکس عائد ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے اور یہ صوبائی اختیار سے تجاوز کے مترادف ہو سکتا ہے۔ اگرچہ موجودہ قانونی نظام اور دو ہزار سولہ کے مفاہمتی معاہدے کے تحت وفاقی محاصل ادارہ اور خیبر پختونخوا محاصل اتھارٹی کے درمیان باہمی ایڈجسٹمنٹ اور اندرونی ٹیکس رعایت کی سہولت موجود ہے، عدالت نے ریونیو حکام کو ہدایت کی کہ وہ اپنے طریقۂ کار کو مزید واضح اور منظم کریں۔ خصوصاً معاہدوں میں خدمات اور اشیاء کے حصوں کی علیحدہ تعیین کو لازم قرار دیا جائے اور اس ضمن میں واضح قواعد یا معیاری طریقۂ کار وضع کیے جائیں تاکہ ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری مشکلات سے بچایا جا سکے۔

دائرۂ اختیار کے حوالے سے عدالت نے آئین کے آرٹیکل ۱۷۵۔ہ(۵)، جو دستور کی ستائیسویں ترمیم کے ذریعے شامل کیا گیا، کی اہم تشریح کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کو آئین کی تشریح سے متعلق اہم قانونی سوالات، بالخصوص کسی قانون کی آئینی حیثیت کے تعین کا خصوصی اختیار حاصل ہے۔ اگرچہ ٹیکس حوالہ جات صراحتاً اس کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں، لیکن مذکورہ آرٹیکل عدالت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی مقدمے کا ریکارڈ کسی بھی عدالت سے طلب کر سکتی ہے، بشرطیکہ اس میں آئینی تشریح کا کوئی اہم سوال موجود ہو۔ یہ شق عدالت کو نہ صرف اختیار عطا کرتی ہے بلکہ اس کے بنیادی کردار کو بھی واضح کرتی ہے، اور ایسے معاملات میں بھی دائرۂ اختیار فراہم کرتی ہے جہاں بصورت دیگر صریح اختیار موجود نہ ہو۔

عدالت نے واضح کیا کہ ستائیسویں ترمیم کے بعد سپریم کورٹِ پاکستان کو قوانین کی آئینی حیثیت جانچنے کا اختیار حاصل نہیں رہا، کیونکہ یہ اختیار اب خصوصی طور پر وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو چکا ہے۔

بالآخر اپیل کی اجازت مسترد کر دی گئی اور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔

17/02/2026

بڑی خوشخبری:
حال ہی میں ہم ایک اور فیملی کے لیے ، جس کی شہریت نادرا نے منسوخ کی تھی، اسلام آباد ہائی کورٹ سے اسٹے لینے میں کامیاب ہوگیے ہیں۔ اس کیس کی تفصیل جلد ہی شیر کی جاے گی۔ اس فیملی کی شہریت پہ افغان ہونے کا شک کیا جاتا ہے۔

02/02/2026

لاہور ہائی کورٹ میں ایک ریٹائرڈ پولیس افسر کی جانب سے BS-22 میں پروفارما پروموشن کے حصول کے لیے ایک درخواست دائر کی گئی۔ درخواست گزار BS-21 میں اہل تھا، خالی آسامیاں بھی موجود تھیں، مگر HPSB کے اجلاس نہ ہونے کے باعث ریٹائرمنٹ سے قبل اس کے کیس پر غور نہ ہو سکا۔ بعد ازاں اس نے پروفارما پروموشن کی درخواست دائر کی جو محکمہ نے مسترد کر دی۔

عدالت نے سب سے پہلے قابلِ سماعت ہونے (maintainability) کے سوال کا جائزہ لیا۔ قرار دیا گیا کہ سول سرونٹس کے سروس معاملات پر آئین کے آرٹیکل 212 کے تحت سروس ٹریبونل کو خصوصی دائرہ اختیار حاصل ہے، اور ہائی کورٹ کا اختیار عمومی طور پر خارج ہے، سوائے اس کے کہ معاملہ سیکشن 4(1)(b) STA کے تحت “fitness” کے تعین سے متعلق ہو۔

عدالت نے واضح کیا کہ پروموشن کوئی حقِ مکتسبہ نہیں؛ البتہ اہل افسر کو منصفانہ غور کی جائز توقع ہوتی ہے۔ پروفارما پروموشن کا تصور FR-17(1) کے سابقہ پروائزو کے تحت انتظامی عمل میں تسلیم شدہ رہا ہے، مگر اس کا اختیار صرف تقرر کرنے والی اتھارٹی کے پاس ہے۔ ہائی کورٹ نہ تو اس اتھارٹی کے اختیارات سنبھال سکتی ہے اور نہ ہی خود سے پروفارما پروموشن دے سکتی ہے۔

ہائی کورٹ کے پروفارما پروموشن سے متعلق دائرہ اختیار پر سپریم کورٹ متعدد فیصلوں میں واضح اصول طے کر چکی ہے۔ چیف سیکرٹری حکومتِ پنجاب بنام مس شمیم عثمان (2021 SCMR 1390) میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سروس سے متعلق معاملات، بشمول پروفارما پروموشن، آرٹیکل 212 آئین کے تحت مکمل طور پر سروس ٹربیونل کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ ہائی کورٹ صرف اسی صورت مداخلت کر سکتی ہے جب کسی حکم کے ذریعے سول سرونٹ کی اہلیت (fitness) کا تعین کیا گیا ہو جیسا کہ سروس ٹربیونلز ایکٹ کی دفعہ 4(1)(b) میں بیان ہے۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ کو ایسے معاملات سننے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔

اسی طرح صوبہ پنجاب بنام حافظ محمد کلیم الدین (2024 SCMR 689) میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دیا جس کے ذریعے ریٹائرمنٹ کے بعد پروفارما پروموشن اور پنشنری فوائد دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ متعلقہ عہدہ سلیکشن پوسٹ تھا، جسے پنجاب سول سرونٹس ایکٹ 1974 کی دفعہ 8(6)(a) کے تحت صرف میرٹ پر پُر کیا جا سکتا ہے، نہ کہ سینیارٹی کی بنیاد پر۔ مزید یہ کہ عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں قرار دیا کہ آرٹیکل 212 ہائی کورٹ اور سول عدالتوں کے دائرہ اختیار پر مکمل اور مطلق پابندی عائد کرتا ہے جہاں معاملہ سول سرونٹس کی سروس شرائط سے متعلق ہو۔

ان فیصلوں کی روشنی میں یہ اصول طے ہو چکا ہے کہ پروفارما پروموشن کے دعوے آئینی درخواست کے ذریعے نہیں بلکہ سروس ٹربیونل کے سامنے ہی قابلِ سماعت ہیں، سوائے اس کے کہ معاملہ براہِ راست اہلیت (fitness) کے تعین سے متعلق ہو۔
چونکہ درخواست گزار کی نمائندگی کو محکمانہ طور پر حتمی فیصلے کے ذریعے مسترد کیا جا چکا تھا، اس کے خلاف درست فورم سروس ٹریبونل تھا۔ لہٰذا آئینی درخواست آرٹیکل 212 کے تحت ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کر دی گئی۔

شہریت زبان سے نہیں، قانون سے طے ہوتی ہے: نادرا بمقابلہ قانونِ شہریتمدینہ منورہ میں پیدا ہونے والی فاطمہ حنیف کی شادی 199...
30/01/2026

شہریت زبان سے نہیں، قانون سے طے ہوتی ہے: نادرا بمقابلہ قانونِ شہریت

مدینہ منورہ میں پیدا ہونے والی فاطمہ حنیف کی شادی 1994 میں محمد حنیف اسماعیل سے ہوئی۔ شوہر پاکستانی شہری تھے، آٹھ بچے پیدا ہوئے، اور آٹھوں کے آٹھوں پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ رکھتے ہیں۔ خاندان برسوں سے سعودی عرب میں مقیم تھا، مگر پاکستان سے رشتہ، شناخت اور شہریت کبھی منقطع نہیں ہوئی۔

مسئلہ تب پیدا ہوا جب فاطمہ حنیف نے فروری 2024 میں نیشنل آئیڈنٹیٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستانیز (NICOP) کے لیے درخواست دی۔ نادرا نے پہلے درخواست موخر کی، کاغذات مانگے، رشتہ داروں کے پتے مانگے، حلف نامہ لیا—سب کچھ دیا گیا۔ مگر اکتوبر 2024 میں اچانک نادرا نے درخواست مسترد کر دی۔

وجہ؟
نادرا کی اندرونی رپورٹ کے مطابق فاطمہ حنیف کا خاندان “بنگالی بولنے والا” ہے، ان کے والدین نے سعودی عرب میں مستقل رہائش اختیار کر لی تھی، اور ان کے والدین کے شناختی کارڈ پر پتا “برمی کالونی” درج تھا—اس لیے شبہ ظاہر کیا گیا کہ خاندان شاید برمی نژاد ہے، پاکستانی نہیں۔

یہ فیصلہ فاطمہ حنیف کے لیے محض ایک کاغذی انکار نہیں تھا۔ NICOP کے بغیر وہ سفر نہیں کر سکتیں، بینکنگ سہولیات استعمال نہیں کر سکتیں، اور ایک پاکستانی ہونے کے باوجود عملی طور پر بے شناخت ہو چکی تھیں۔ آخرکار شوہر نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

نادرا عدالت میں آیا تو کہا:

یہ رِٹ قابلِ سماعت نہیں

درخواست گزار شوہر متاثرہ فریق نہیں

بیوی کو پہلے ویری فکیشن بورڈ یا وفاقی حکومت سے رجوع کرنا چاہیے

اور یہ کہ خاندان کی قومیت مشکوک ہے

عدالت کے سامنے اصل سوال یہ تھا:
کیا کسی شخص کی پاکستانی شہریت نسل، زبان یا قیاس کی بنیاد پر مشکوک بنائی جا سکتی ہے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریکارڈ کھولا تو تصویر بالکل مختلف نکلی۔

عدالت نے دیکھا کہ:

فاطمہ حنیف کے والد کے پاس 1980 کا سرکاری سرٹیفکیٹ آف ڈومیسائل موجود تھا

والد اور والدہ دونوں پاکستانی شہری تسلیم شدہ تھے

فاطمہ حنیف کی پیدائش کا سرٹیفکیٹ واضح طور پر والدین کو پاکستانی ظاہر کرتا تھا

وہ بچپن میں اپنے والد کے ساتھ قانون کے تحت خودبخود پاکستانی شہری بن چکی تھیں

عدالت نے واضح کیا کہ پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کی دفعہ 6(2) کے تحت:

اگر باپ کو شہریت ملے تو اس کے نابالغ بچے الگ درخواست کے بغیر پاکستانی شہری بن جاتے ہیں۔

مزید یہ کہ فاطمہ حنیف سعودی عرب میں ضرور پیدا ہوئیں، مگر دفعہ 5 کے مطابق:

اگر والدین پاکستانی ہوں تو بیرونِ ملک پیدا ہونے والا بچہ بھی پاکستانی شہری بالنسب ہوتا ہے۔

عدالت نے نادرا کے اس مؤقف کو بھی سختی سے مسترد کیا کہ “برمی کالونی” یا “بنگالی زبان” کسی کی شہریت طے کرنے کا معیار ہو سکتا ہے۔ عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا:

شہریت قانون سے طے ہوتی ہے، نسل، زبان یا نسلی شناخت سے نہیں۔

یہ بھی کہا گیا کہ اگر کسی درجے پر بھی شک ہوتا تو نادرا کا کام درخواست مسترد کرنا نہیں بلکہ قانون میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق معاملہ وفاقی حکومت کو بھیجنا تھا۔

بالآخر اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا:

فاطمہ حنیف پاکستانی شہری ہیں

نادرا کا فیصلہ غیر قانونی، بلا اختیار اور آئین کے منافی ہے

نادرا کو حکم دیا گیا کہ 30 دن کے اندر NICOP جاری کیا جائے

عدالت نے یہ بھی کہا کہ نادرا کا یہ طرزِ عمل آئین کے آرٹیکل 25 (قانون کے سامنے برابری) اور اصولِ انصاف کی صریح خلاف ورزی ہے۔

یوں ایک ایسی خاتون، جو برسوں سے پاکستانی خاندان، شوہر اور بچوں کے ساتھ جڑی ہوئی تھیں، انہیں عدالت نے یہ یاد دہانی کروائی کہ:
ریاست شناخت چھین نہیں سکتی—جب قانون خود شناخت دے رہا ہو۔

By Law and Policy Chambers

ایک عیسائی خاتون کی شادی کی کہانی جس نے عیسائیت سے اسلام قبول کیا: اس بارے میں پاکستانی قانون کیا کہتا ہے؟ آئیے جانتے ہی...
30/01/2026

ایک عیسائی خاتون کی شادی کی کہانی جس نے عیسائیت سے اسلام قبول کیا: اس بارے میں پاکستانی قانون کیا کہتا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔

کیرن مسیح (عیسائی خاتون) نے عامر بھٹی سے شادی کی۔دونوں عیسائی تھے. 2024 میں عامر نے زبانی طور پر طلاق دے دی۔ کیرن کو علم ہوا کہ عیسائی قانون میں طلاق کے لیے عدالتی حکم ضروری ہے۔ چنانچہ اس نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا، مگر ایک تکنیکی بنیاد (فیس کی عدم ادائیگی) پر یہ دعویٰ خارج ہو گیا۔

صرف تین دن بعد، 5 اکتوبر 2024 کو کیرن مسیح نے اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام نور فاطمہ رکھا۔ پھر 12 دسمبر 2024 کو اس نے ایک مسلمان مرد عدنان عبداللہ سے شادی کر لی۔

تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب پہلے شوہر عامر بھٹی نے اعتراض کیا کہ ان کی عیسائی شادی اب بھی قائم ہے۔ اس نے مقامی پولیس پر دباؤ ڈال کر نور فاطمہ اور اس کے نئے شوہر کو "غیر قانونی شادی" کے لیے ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ نور فاطمہ نے تحفظ کے لیے ہائی کورٹ کا رخ کیا۔

قانونی الجھن اور عدالتی بحث:
عدالت کے سامنے دو مذاہب کے ذاتی قوانین کا ٹکراؤ تھا:

عیسائی قانون: شادی ایک مقدس عہد ہے۔ محض مذہب تبدیل کرنے سے یہ ختم نہیں ہوتی۔

اسلامی قانون: اگر غیر مسلم خاتون اسلام قبول کر لے تو اس کی غیر مسلم شوہر کے ساتھ شادی ختم ہو جانی چاہیے۔ لیکن ختم ہونے کا طریقہ کار ہی اصل متنازعہ مسئلہ ہے۔

عدالت کا بنیادی سوال تھا: کیا نور فاطمہ کے اسلام قبول کرنے سے اس کی پہلی شادی خودبخود ختم ہو گئی تھی، جس سے اسے قانونی طور پر دوسری شادی کا حق مل گیا؟

قانونی ماہرین کی رائے:
عدالت نے معاون قانونی ماہرین (امیقی کوری) مقرر کیے۔

مفتی ڈاکٹر خلیق الرحمان کا موقف تھا کہ صرف اسلام قبول کرنے سے شادی فوراً ختم نہیں ہوتی۔ صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے کہ غیر مسلم شوہر کو اسلام کی دعوت دی جائے۔ اگر وہ انکار کر دے تو عدت گزارنے کے بعد شادی ختم ہو جائے گی۔ اس کے بغیر دوسری شادی ناجائز ہے۔

ایڈووکیٹ کشف الیگزنڈر نے عیسائی نقطہ نظر پیش کیا کہ شادی ایک مقدس، زندگی بھر کا عہد ہے۔

عدالت کا فیصلہ اور گہری نظر:
جسٹس طارق سلیم شیخ نے سابقہ فیصلوں کا بغور جائزہ لیا:

مسلم فقہا کا اتفاق: اگر خاتون اسلام قبول کر لے تو اس کی غیر مسلم شوہر سے شادی لازماً ختم ہو جائے گی۔ البتہ طریقہ کار پر اختلاف ہے۔

اہم سابقہ فیصلے:

مسٹر نذیران کیس (1988): سپریم کورٹ کے شرعی ایپلیٹ بنچ نے کہا کہ بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ خاتون عدالت سے رجوع کرے اور شوہر کو عدالت کے ذریعے اسلام کی دعوت دی جائے۔ لیکن فیصلے کا اہم ترین نکتہ یہ تھا کہ جب تک اس طریقہ کار کو واضح قانون نہ بنا دیا جائے، اگر ایک خاتون یہ سمجھ کر کہ اس کی عدت کے بعد شادی ختم ہو گئی ہے، دوسری شادی کر لے تو اسے زنا کی سزا نہیں دی جا سکتی۔

حتمی نتائج:
ہائی کورٹ نے پولیس کے قانونی عمل کا یقین دلانے پر درخواست نمٹا دی۔ لیکن عدالت نے:

نور فاطمہ کی نئی شادی کی توثیق یا تردید نہیں کی۔ یہ فیصلہ کن باتوں (مثلاً شوہر کو اطلاع، عدت کی تکمیل) کا انحصار تھا جو اس نوعیت کی سماعت میں طے نہیں ہو سکتیں۔ یہ معاملہ فیملی کورٹ میں چلنا چاہیے۔

پارلیمنٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ جج نے کہا کہ تین دہائیوں سے، 1997 کے صفیہ بی بی کے فیصلے کے بعد بھی، پارلیمنٹ نے تبدیلی مذہب کے بعد شادی ختم کرنے کا کوئی واضح قانون نہیں بنایا۔ یہ خلا قانونی پیچیدگیاں، خواتین کے لیے خطرات اور خاندانی بحران پیدا کر رہا ہے۔

ہدایت دی کہ پارلیمنٹ، اسلامی نظریاتی کونسل سے مشورے سے، ایک جامع قانون سازی کرے جو مذہبی آزادی، اسلامی اصولوں اور خاندان کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرے۔



یہ مقدمہ "قوانین کے تصادم" کی بھرپور مثال ہے، جہاں ریاست نے واضح حل نہیں دیا۔

فیصلہ مسٹر نذیران کے اہم اصول کی بنیاد پر ہے، جو تبدیلی مذہب کے بعد سچی نیت رکھنے والوں کے لیے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

فیصلے سے عدالت کی بے چینی عیاں ہے۔ وہ شہری کو تحفظ تو دے سکی، لیکن حتمی حل دینے سے قاصر رہی، جس کی ذمہ دار قانون سازی کی کمی ہے۔

یہ قانونی ابہام اولینہ صرف میاں بیوی کو ہی نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی شرعی حیثیت، وراثت اور حقِ حضانت کو بھی متاثر کرتا ہے۔

قصور کے علاقے مستفٰی آباد ٹول پلازہ کے قریب 11 جنوری 2014 کی شام تھی۔ گھڑی نے تقریباً پانچ بجائے تھے۔ لاہور میں ایک محفل...
30/01/2026

قصور کے علاقے مستفٰی آباد ٹول پلازہ کے قریب 11 جنوری 2014 کی شام تھی۔ گھڑی نے تقریباً پانچ بجائے تھے۔ لاہور میں ایک محفلِ میلاد میں شرکت کے لیے گاڑیوں کا ایک قافلہ رواں دواں تھا۔ قافلے میں دو کاریں اور ایک ویگو ڈالا شامل تھا، جس میں مسعود احمد بھٹی اپنے ساتھیوں کے ساتھ سوار تھے۔ ابھی ٹول پلازہ پیچھے ہی رہ گیا تھا کہ اچانک دو کاروں اور تین موٹر سائیکلوں نے ویگو ڈالا کو اوورٹیک کرکے زبردستی روک لیا۔

چند لمحوں میں فضا گولیوں کی آواز سے لرز اٹھی۔ محمد ریاض، مقصود عرف باو، ارشد عرف بلی، رشید عرف شیڈو، عبد الحمید، سبح صادق عرف صوبے خان اور ان کے ساتھی جدید اسلحے سے لیس گاڑیوں سے نکلے اور ویگو ڈالا پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسعود احمد بھٹی، بابر سرفراز، خالد بشیر، امیر علی اور زیا اللہ موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ یعقوب شدید زخمی ہوا۔ پیچھے آنے والی گاڑی میں بیٹھے ناصر جاوید اور عمر فاروق نے یہ پوری واردات اپنی آنکھوں سے دیکھی۔

ناصر جاوید نے کوئی تاخیر کیے بغیر شام ساڑھے چھ بجے ایف آئی آر درج کرا دی۔ الزام یہ تھا کہ چند ماہ قبل سراج بھٹی اور اس کے بیٹے کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے یہ خونی کھیل کھیلا گیا۔

مقدمہ انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور میں چلا۔ ٹرائل کورٹ نے 26 مئی 2017 کو فیصلہ سناتے ہوئے چند ملزمان کو بری کردیا، مگر محمد ریاض اور اس کے ساتھیوں کو چار چار قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی، ساتھ ہی انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اور دیگر دفعات کے تحت بھاری سزائیں بھی دے ڈالیں۔

یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج ہوا۔ ہائی کورٹ نے ایک ملزم، مشوق علی، کو شک کا فائدہ دے کر بری کردیا، دہشت گردی ایکٹ کے تحت دی گئی سزائیں ختم کردیں، اور سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا۔ باقی سزائیں برقرار رہیں۔

اب معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔ ایک طرف مجرموں کی جیل پٹیشن تھی کہ ہمیں بری کیا جائے، دوسری طرف مقتولین کے لواحقین کی اپیل تھی کہ عمر قید کم ہے، سزائے موت بحال کی جائے۔

سپریم کورٹ کے سامنے اصل سوال یہ نہیں تھا کہ قتل ہوا یا نہیں—یہ بات تو سب مان رہے تھے۔ اصل سوال یہ تھا کہ:
کیا عینی شہادت قابلِ اعتماد ہے؟
کیا شناخت ممکن تھی؟
اور کیا سزائے موت ضروری تھی یا عمر قید کافی ہے؟

سپریم کورٹ نے ریکارڈ کھول کر دیکھا۔ ناصر جاوید اور عمر فاروق کی گواہیاں ایک دوسرے سے پوری طرح مطابقت رکھتی تھیں۔ ان کی موقع پر موجودگی فطری تھی، اس لیے کہ وہ مقتولین کے ساتھ سفر میں تھے۔ یہ اعتراض بھی رد کردیا گیا کہ چونکہ یہ گواہ محفوظ رہے، اس لیے ان کی موجودگی مشکوک ہے—عدالت نے پرانے فیصلوں کا حوالہ دے کر کہا کہ ہر حملے میں سب کو زخمی ہونا لازم نہیں۔

یہ دلیل بھی مسترد ہوئی کہ اندھیرا ہوچکا تھا اور شناخت ممکن نہیں تھی۔ عدالت نے ریکارڈ دیکھ کر قرار دیا کہ شام پانچ بجے کافی روشنی موجود تھی اور اندھیرے کا شوشہ محض ایک دفاعی چال تھی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹس نے بھی سچ بول دیا۔ کسی کے جسم پر 18 گولیاں، کسی پر 13، کسی پر 11۔ جائے وقوعہ سے سینکڑوں خ*ل ملے، جو اس بات کی گواہی تھے کہ یہ ایک منظم، اجتماعی اور سفاک حملہ تھا۔

البتہ ایک بات عدالت نے مان لی:
محرک (motive) پوری طرح ثابت نہیں ہو سکا، اور اسلحے کی برآمدگی کو بھی سائنسی طور پر جوڑا نہیں جا سکا۔ یہی وہ نکتہ تھا جس پر ہائی کورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں بدلا تھا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے grain from chaff کا اصول درست استعمال کیا ہے—جو مجرم تھا اسے سزا دی، جس پر شک تھا اسے فائدہ ملا۔ نہ شواہد کی غلط پڑتال ہوئی، نہ قانون کا غلط اطلاق۔

نتیجہ یہ نکلا کہ:

مجرموں کی جیل پٹیشن مسترد

مقتولین کے ورثاء کی سزائے موت بحال کرانے کی درخواست بھی مسترد

عمر قید کا فیصلہ برقرار

یوں 11 دسمبر 2025 کو سپریم کورٹ نے اس خونچکاں کہانی کا قانونی باب بند کرتے ہوئے کہہ دیا کہ:
یہ قتل ثابت ہے، سزا جائز ہے، مگر موت نہیں—عمر قید کافی ہے۔

22 اگست 2018 کی رات تھی۔ پولیس کی ایک پارٹی، جس میں ایچ سی رانا طارق اور کانسٹیبل فیض اللہ، منیم رحیم اور عرفان شفیق شام...
29/01/2026

22 اگست 2018 کی رات تھی۔ پولیس کی ایک پارٹی، جس میں ایچ سی رانا طارق اور کانسٹیبل فیض اللہ، منیم رحیم اور عرفان شفیق شامل تھے، کراچی میں بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن سے فائیو سٹار چورنگی کی طرف موٹر سائیکلوں پر گشت کر رہی تھی۔ تقریباً 9:45 بجے، یو-فون فرنچائز اور فیصل بینک کے قریب، انہوں نے دو مشکوک موٹر سائیکل سوار دیکھے۔ جب پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو دونوں نے براہ راست پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔ پولیس نے خود دفاع میں جوابی فائرنگ کی۔ ایک مشتبہ شخص، سید اویس حسین جعفری، زخمی ہو کر گر گیا اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔ دوسرے مشتبہ شخص ارشد بن مختار کو بھی موقع پر ہی پکڑ لیا گیا۔
تلاشی میں زخمی اویس سے 30 بور کی پستول برآمد ہوئی، جبکہ ارشد سے ایک 30 بور کی پستول، دو سیمسنگ موبائل فون، ایک کیو موبائل اور 42,250 روپے نقد ملے۔ بعد میں اویس اپنے زخموں کی وجہ سے انتقال کر گیا۔ ایف آئی آر درج ہوئی اور تفتیش کے بعد ارشد کے خلاف دہشت گردی مخالف عدالت (اے ٹی سی) کراچی میں چالان پیش کیا گیا۔

عدالتی سفر:

اے ٹی سی کراچی: اے ٹی سی نے ارشد کو دہشت گردی کی کارروائی (اے ٹی اے) کی دفعات 7(ایچ) اور 6(2)(ایم)(این) کے تحت، نیز پی پی سی کی دفعہ 353 اور 324 کے تحت مجرم ٹھہرایا اور دس سال قید سخت اور 1 لاکھ روپے جرمانہ کیا۔ سندھ آرڈیننس کے تحت بھی سزا سنائی۔

سندھ ہائی کورٹ: ارشد نے ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ ہائی کورٹ نے ثبوتوں کا ازسر نو جائزہ لیا اور استغاثہ کے بیان کو ناقابل اعتبار قرار دیتے ہوئے ارشد کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔ لیکن پھر ہائی کورٹ نے اسی ریکارڈ پر نظر ڈالی اور اے ٹی اے کی دفعہ 27 کے تحت مقدمے کی تفتیش کرنے والے پولیس اہلکاروں (رانا طارق وغیرہ) کو نوٹس جاری کیا۔ ان سے تحریری وضاحتیں طلب کیں اور انہیں سنا۔ آخرکار ہائی کورٹ نے ان پولیس اہلکاروں کو "ناقص تفتیش" کا مجرم قرار دے کر ہر ایک کو چھ ماہ قید سخت اور 50 ہزار روپے جرمانہ کر دیا۔

سپریم کورٹ پاکستان: سزا پانے والے پولیس اہلکاروں نے سپریم کورٹ میں اپیل کی۔ جسٹس ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنھور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے معاملہ سنا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ:
سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں ہائی کورٹ کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا اور پولیس اہلکاروں کو بری کر دیا۔ فیصلے کے اہم نکات یہ تھے:

واقعہ دہشت گردی نہیں تھا: سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ محض گولی بازی، ہتھیاروں کی برآمد، یا مقامی سطح پر خوف و ہراس پیدا ہونا کسی واقعے کو دہشت گردی نہیں بنا دیتا۔ دہشت گردی وہ ہوتی ہے جہاں تشدد کا استعمال یا خطرہ کسی سیاسی، مذہبی یا نظریاتی مقصد کے لیے ہو، یا حکومت/عوام کو ڈرانے یا معاشرے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہو۔ اس واقعے میں ایسا کوئی عنصر نہیں تھا۔ یہ ایک عام سٹریٹ انکاؤنٹر تھا۔ لہٰذا، پورا مقدمہ ہی دہشت گردی مخالف قانون (اے ٹی اے) کے دائرے سے باہر تھا۔

دفعہ 27 اے ٹی اے کا غلط استعمال: چونکہ بنیادی مقدمہ ہی دہشت گردی کا نہیں تھا، اس لیے اس سے جڑی دفعہ 27 (ناقص تفتیش کی سزا) بھی لاگو نہیں ہو سکتی تھی۔ یہ دفعہ صرف اسی وقت استعمال ہو سکتی ہے جب اصل مقدمہ درست طور پر دہشت گردی کے تحت چل رہا ہو۔

منصفانہ سفر کی خلاف ورزی: سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے طریقہ کار پر بھی سخت تنقید کی۔ دفعہ 27 کے تحت کسی اہلکار پر مقدمہ چلانا دراصل اس پر ایک الگ سے مجرمانہ چارج عائد کرنا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 10-A (منصفانہ سفر کا حق) کے تحت ایسے ملزم اہلکار کو مکمل دفاع کا موقع دینا ضروری ہے۔

اس پر واضح طور پر "ملزم" ہونے کا نوٹس دینا۔

اسے اپنی صفائی میں گواہ پیش کرنے کا موقع دینا۔

اسے مخالف گواہوں سے جرح (کراس ایکزامین) کرنے کا موقع دینا۔

فیصلے کی وجوہات تحریر کرنا۔
سپریم کورٹ کے مطابق، ہائی کورٹ نے محض نوٹس دے کر وضاحتیں طلب کیں اور کچھ سوالات کیے، جو منصفانہ سفر کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے۔ اس طرح پولیس اہلکار بغیر صحیح طریقے سے مقدمہ چلائے مجرم ٹھہرائے گئے تھے۔

سزا کالعدم، لیکن دیگر کارروائی جاری رہ سکتی ہے: سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ صرف دفعہ 27 اے ٹی اے کے تحت دی گئی سزا کو ختم کرتا ہے۔ اگر متعلقہ ادارے اس واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف عام قانون (مثلاً قتل، جعلی مقابلہ) کے تحت مقدمہ چلانا چاہیں یا محکمانی کارروائی کرنا چاہیں، تو وہ ایسا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں بھی منصفانہ سفر کا پورا موقع دیا جائے۔

نتیجہ:
سپریم کورٹ نے پولیس اہلکاروں کی اپیل منظور کرتے ہوئے ان کی سزائیں ختم کر دیں اور انہیں بری کر دیا۔ ساتھ ہی، ارشد کی بریت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے خلاف اپیل (کریمنل پیٹیشن 209-K) بھی خارج کر دی۔

CRIMINAL APPEAL NO.119 OF 2021 & CRIMINAL PETITION 209-K of 2020
(Against the judgment dated 15.12.2020 passed by the
High Court of Sindh, Karachi, in Crl. A.T. J. Appeal No.184/2019)

ملازمت پر بحالی کے بعد سول سرونٹ کو بقایا تنخواہ کی ادائیگی سے متعلق سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ: (تم میری زندگی چھین لی...
29/01/2026

ملازمت پر بحالی کے بعد سول سرونٹ کو بقایا تنخواہ کی ادائیگی سے متعلق سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ:

(تم میری زندگی چھین لیتے ہو، جب تم وہ ذریعہ چھین لیتے ہو جس سے میں زندہ رہتا ہوں)

یہ جملہ محض شاعری نہیں، بلکہ ایک سرکاری ملازم کی خاموش چیخ ہے۔
جب کسی شخص کی نوکری چھینی جاتی ہے تو صرف عہدہ نہیں جاتا،
اس کا وقار، اس کے بچوں کا مستقبل، اس کے گھر کا چولہا—سب خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

اسی انسانی حقیقت کے گرد سپریم کورٹ کا یہ تاریخی فیصلہ گھومتا ہے۔

کہانی کہاں سے شروع ہوتی ہے؟

کئی پولیس افسران کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
بعد میں عدالتوں اور ٹربیونلز نے کہا:

“یہ برطرفی درست نہیں تھی”

نوکری واپس مل گئی…
مگر سوال باقی تھا:

کیا اس عرصے کی تنخواہ بھی ملے گی، جب وہ زبردستی بے روزگار رکھے گئے؟

یہاں دو تصورات سامنے آتے ہیں
1. Unfair Dismissal (غیر منصفانہ برطرفی)

جہاں:

طریقہ کار غلط ہو

قانونی تقاضے پورے نہ کیے گئے ہوں

سزا ضرورت سے زیادہ سخت ہو

یہاں ریاست نے غلط راستہ اختیار کیا، مگر الزام مکمل طور پر جھوٹا ثابت نہیں ہوا۔

2. Wrongful Dismissal (غلط برطرفی)

جہاں:
الزام ثابت ہی نہ ہو

ملازم بے قصور نکلے

یہ وہ صورت ہے جہاں ریاست نے انسان کو ناحق روزگار سے محروم کیا۔
پرانا نظام: Culture of Authority (اختیار کی ثقافت)

پہلے ریاست کہتی تھی:

“ہم بااختیار ہیں، اس لیے یہ فیصلہ درست ہے”

وجہ بتانا ضروری نہیں

انصاف طاقت کے سائے میں دب جاتا تھا

تنخواہ دینا یا نہ دینا محض صوابدید (discretion) سمجھا جاتا تھا

نیا آئینی موڑ: Culture of Justification (وجہ بتانے کی ثقافت)

آرٹیکل 10-A کے بعد اب ریاست کو کہنا پڑتا ہے:

“ہم نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟
کیا یہ فیصلہ منصفانہ، معقول اور متناسب تھا؟”

اب:

طاقت کافی نہیں

وجہ دینا لازم ہے

انصاف کو دلیل کے سہارے کھڑا ہونا ہے

اب Back Pay (بقایا تنخواہ) کا اصول کیا ہے؟
مکمل Back Pay کب ملے گی؟

جب برطرفی Wrongful ہو

الزام ثابت نہ ہو

ملازم نے اس دوران کوئی متبادل روزگار نہ کیا ہو

تاخیر ملازم کی وجہ سے نہ ہو

یہاں عدالت کہتی ہے:

“تمہاری زندگی کا ذریعہ ناحق چھینا گیا—اس کا پورا ازالہ ہوگا”

Back Pay کب کم یا رد ہو سکتی ہے؟

جب برطرفی صرف Unfair ہو

محض تکنیکی یا طریقہ کار کی خرابی ہو

ملازم اس دوران کمائی کر رہا ہو

ریاست معقول اور واضح وجہ دے سکے

مگر یاد رہے:

وجہ دینا اب لازم ہے—خاموشی نہیں چل سکتی

فیصلے کی روح (Soul of the Judgment)

عدالت کہتی ہے:

انصاف ایک طرفہ نہیں ہوتا
“Fair go all round”
یعنی ملازم کے ساتھ بھی انصاف،
اور ریاست کے ساتھ بھی—مگر دلیل کے ساتھ

آخری بات

یہ فیصلہ صرف تنخواہ کا نہیں،
یہ عزت، وقار اور زندگی کے حق کا فیصلہ ہے۔

جب ریاست کسی انسان سے روزگار چھینتی ہے،
تو اسے جواب دینا ہوگا—
کیونکہ اب ہم اختیار کے نہیں،
وجہ کے دور میں جی رہے ہیں۔

Address

House No. 7B, Street 32, F-8/1
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law and Policy Chambers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Law and Policy Chambers:

Share