Law and Policy Chambers

Law and Policy Chambers Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Law and Policy Chambers, Lawyer & Law Firm, House No. 7B, Street 32, F-8/1, Islamabad.

Law and Policy Chamber: پورے ملک سے وکلاء کا ایک ہمہ جہت قانونی دفتر پاکستان کے کسی بھی کونے میں ملازمت کے کیسز، پراپرٹی کیسز، فیملی کیسز، کمپنی کیسز، ٹیکس کے مسائل کسٹمز کیسز ودیگر تمام سول قسم کے کیسز کے لیے رابطہ کریں۔

سپریم کورٹ نے اہنے حالیہ فیصلے میں یہ سوال طے کر دیا ہے کہ کیس فائل کرنے کے بعد اگر انسٹیٹیوشن برانچ اعتراضات دائر کردے ...
25/08/2026

سپریم کورٹ نے اہنے حالیہ فیصلے میں یہ سوال طے کر دیا ہے کہ کیس فائل کرنے کے بعد اگر انسٹیٹیوشن برانچ اعتراضات دائر کردے اور وہ اعتراضات مقرر کردہ میعاد کے اندر اندر دور نہ کیے جایئں تو کیس قابل سماعت نہیں ہوگا

افغان شہریوں کے لیے بڑی خوشخبری: سپریم کورٹ نے ایک افغان شہری جس کی شادی ایک پاکستانی خاتون سے ہوئی تھی کو ضمانت دے دی ج...
24/08/2026

افغان شہریوں کے لیے بڑی خوشخبری: سپریم کورٹ نے ایک افغان شہری جس کی شادی ایک پاکستانی خاتون سے ہوئی تھی کو ضمانت دے دی جو کی فارنر ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا:

سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں ایک غیر ملکی (افغان )شہری کو دفعہ 14، Foreigners Act, 1946 کے تحت درج مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت کا اہم سوال زیرِ غور لایا۔ درخواست گزار ایک غیر ملکی شہری تھا جو ایک پاکستانی خاتون سے 1994 میں باقاعدہ نکاح کے بعد پاکستان میں مقیم تھا اور اس کے بچے بھی تھے۔ اس کا Pakistan Origin Card (POC) کا معاملہ بھی متعلقہ حکام کے سامنے زیرِ التوا تھا۔ اس کے خلاف الزام یہ تھا کہ وہ درست ویزا یا رہائشی اجازت نامے کے بغیر پاکستان میں مقیم تھا۔

عدالت عظمیٰ نے Foreigners Act کی دفعہ 14(1) اور 14(2) کے درمیان بنیادی فرق واضح کیا۔ دفعہ 14(1) اس شخص پر لاگو ہوتی ہے جو قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوا لیکن اجازتِ قیام یا متعلقہ دستاویز کی میعاد ختم یا منسوخ ہونے کے بعد پاکستان میں موجود رہا۔ اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا تین سال ہے۔ اس کے برعکس دفعہ 14(2) اس شخص سے متعلق ہے جو جان بوجھ کر غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوا، جس کی سزا دس سال تک ہو سکتی ہے۔

عدالت نے خاص طور پر دفعہ 14-A کا جائزہ لیا، جو ضمانت پر پابندی عائد کرتی ہے۔ عدالت کے مطابق دفعہ 14-A صرف دفعہ 14(2) کے تحت قابلِ سزا جرم پر لاگو ہوتی ہے۔ چونکہ FIR میں یہ الزام موجود نہیں تھا کہ درخواست گزار نے جان بوجھ کر غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخلہ لیا، اس لیے بادی النظر میں اس کا معاملہ دفعہ 14(1) کے تحت آتا تھا اور دفعہ 14-A کی ضمانت پر پابندی اس پر لاگو نہیں ہوتی تھی۔ چونکہ دفعہ 14(1) کی زیادہ سے زیادہ سزا تین سال ہے، اس لیے دفعہ 497 Cr.P.C. کی prohibitory clause بھی لاگو نہیں ہوئی۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ پاکستانی خاتون سے شادی، بچوں کی موجودگی، POC کی زیرِ التوا درخواست اور درخواست گزار کی حیثیت کے تعین سے متعلق پہلے سے موجود عدالتی احکامات ایسے اہم عوامل تھے جنہیں ضمانت کے مرحلے پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ انتظامی حکام کی جانب سے درخواست گزار کی حیثیت کے تعین میں تاخیر کو اس کی قید کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

عدالت نے معاملے کو دفعہ 497(2) Cr.P.C. کے تحت مزید تحقیق (further inquiry) کا بھی معاملہ قرار دیا اور درخواست منظور کرتے ہوئے درخواست گزار کو بعد از گرفتاری ضمانت دے دی۔ ضمانت کے لیے 20,000 روپے کے مچلکے اور اتنی ہی رقم کے دو ضامن مقرر کیے گئے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس کے مشاہدات عارضی نوعیت کے ہیں اور درخواست گزار کی شہریت، ڈومیسائل یا CNIC/POC کے حتمی تعین پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔

Jalat Khan v. The State، Crl. P. No. 894/2026

کسی عوامی اتھارٹی کی جانب سے اپنے اقدام کی وجوہات بیان کرنا محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ یہ ایک قانونی ذمہ داری اور ش...
10/08/2026

کسی عوامی اتھارٹی کی جانب سے اپنے اقدام کی وجوہات بیان کرنا محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ یہ ایک قانونی ذمہ داری اور شہریوں کا آئینی حق ہے: جسٹس راحیل کامران شیخ، لاہور ہائی کورٹ۔

رِٹ پٹیشن نمبر 27534/2026، محمد عباس بنام وفاقِ پاکستان میں لاہور ہائی کورٹ نے سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر درخواست گزار کو آف لوڈ کیے جانے کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا، حالانکہ اس کے پاس درست پاسپورٹ، نائجیریا کا ویزا، واپسی کا ٹکٹ اور دیگر تمام سفری دستاویزات موجود تھیں۔ جواب دہندگان نے آف لوڈ کیے جانے کا جواز اس بنیاد پر پیش کیا کہ درخواست گزار کے پاس مناسب مالی وسائل موجود نہیں تھے اور وہ اپنے سفر کا مقصد تسلی بخش طور پر ثابت کرنے میں ناکام رہا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ بیرونِ ملک سفر کا حق آئین کے آرٹیکلز 4، 9 اور 15 کے تحت محفوظ ہے ، تاہم یہ حق عوامی مفاد میں قانون کے مطابق عائد کی جانے والی معقول اور قانونی پابندیوں سے مشروط ہے۔ FIA کو مسافروں کی جانچ پڑتال اور، مناسب صورت میں، غیر قانونی ہجرت، انسانی اسمگلنگ، ٹریفکنگ یا ویزا کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے مسافر کو آف لوڈ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم یہ اختیار لامحدود یا غیر مقید نہیں بلکہ اسے منصفانہ، شفاف، معقول اور Due Process کے تقاضوں کے مطابق استعمال کیا جانا لازم ہے۔

عدالت نے درخواست گزار کو آف لوڈ کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ ریکارڈ میں دی گئی وجوہات، یعنی "ناکافی مالی وسائل" اور "سفر کا مقصد تسلی بخش نہ ہونا" ، مبہم، عمومی نوعیت کی اور کسی معروضی مواد کے بغیر تھیں۔ حکام نے نہ تو نائجیریا کے سفر کے لیے درکار مالی وسائل کی کوئی مخصوص مقدار بتائی، نہ کوئی قابلِ اطلاق پالیسی پیش کی، نہ درخواست گزار کے مؤقف میں کسی تضاد کی نشاندہی کی اور نہ ہی کوئی ایسا ٹھوس جواز فراہم کیا جس کی بنیاد پر اسے آف لوڈ کرنا ضروری سمجھا گیا۔ مزید برآں، حکام نے درخواست گزار کے اس مؤقف کا بھی مناسب طور پر جائزہ یا تحقیق نہیں کی کہ وہ نائجیریا میں اپنے برادرِ نسبتی کے ہاں قیام کرے گا۔

عدالت نے خصوصی طور پر اس امر پر زور دیا کہ **وجوہات کا ریکارڈ کیا جانا محض ایک رسمی کارروائی نہیں ہے۔** وجوہات ایسی ہونی چاہئیں جو حکام کے زیرِ غور مواد اور ان کے حتمی فیصلے کے درمیان ایک واضح اور قابلِ فہم تعلق قائم کریں، تاکہ متاثرہ شخص اور عدالتی نظرثانی کرنے والی عدالت دونوں یہ سمجھ سکیں کہ اقدام کی بنیاد کیا تھی۔ General Clauses Act, 1897 کی دفعہ 24-A انتظامی اختیارات کو معقول، منصفانہ اور منصفانہ طریقے سے استعمال کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔

مستقبل میں آف لوڈنگ کے معاملات کے لیے عدالت کی ہدایات:

آف لوڈنگ کا فیصلہ **معروضی مواد پر مبنی ہونا چاہیے اور مختصر لیکن بامعنی وجوہات کو اسی وقت تحریری طور پر ریکارڈ کیا جانا چاہیے۔
جہاں متعلقہ ہو، ریکارڈ میں نشاندہی کیے گئے تضاد، مسافر سے کیے گئے سوالات، اس کے جوابات کا خلاصہ، شبہ کی معروضی بنیاد اور آف لوڈنگ کو ضروری سمجھنے کی وجوہات درج ہونی چاہئیں۔
* جہاں ممکن ہو، مسافر کے انٹرویو یا اس کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو مناسب طریقے سے دستاویزی شکل دی جائے یا الیکٹرانک طور پر محفوظ کیا جائے۔
وجوہات پر مشتمل آف لوڈنگ آرڈر/پروفارما کی ایک نقل، جہاں تک ممکن ہو، متاثرہ مسافر کو جلد از جلد فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے خلاف کیے گئے اقدام کی بنیاد سے آگاہ ہو سکے اور قانون کے تحت دستیاب قانونی چارہ جوئی اختیار کر سکے۔

چنانچہ عدالت نے رِٹ پٹیشن منظور کرتے ہوئے درخواست گزار کو آف لوڈ کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ مذکورہ آف لوڈنگ آئندہ بیرونِ ملک سفر کرنے کے اس کے حق پر مستقل پابندی نہیں ہوگی۔ درخواست گزار مستقبل میں درست سفری دستاویزات اور قابلِ اطلاق قانونی و امیگریشن تقاضے پورے کرنے کی صورت میں قانون کے مطابق امیگریشن حکام کی جانچ پڑتال کے تابع بیرونِ ملک سفر کرنے کا حق رکھتا ہے۔

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: وراثتی جائیداد میں بہنوں کے حقِ وراثت اور قانونِ تحدید (Limitation) (Civil Petition No. 262-P o...
30/07/2026

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: وراثتی جائیداد میں بہنوں کے حقِ وراثت اور قانونِ تحدید (Limitation)

(Civil Petition No. 262-P of 2017، فیصلہ مورخہ 23-09-2021)

اہم قانونی نکات:

وراثت کے مقدمات بھی قانونِ تحدید (Limitation Act, 1908) سے مستثنیٰ نہیں ہوتے۔ جہاں کسی دعویٰ کے لیے مخصوص مدت مقرر نہ ہو وہاں آرٹیکل 120 کے تحت چھ سال کی مدت لاگو ہوگی۔

اگر کوئی بھائی اپنی بہن کے حقِ وراثت کا **واضح اور عملی طور پر انکار (Overt Act) کرے، مثلاً خود کو واحد مالک ظاہر کرتے ہوئے جائیداد فروخت کرے، معاوضہ وصول کرے یا جائیداد منتقل کرے، تو یہی عمل دعویٰ دائر کرنے کا سبب (Cause of Action) بن جاتا ہے۔

صرف زبانی انکار یا ریونیو ریکارڈ میں غلط اندراج بذاتِ خود بہن کے حقِ ملکیت کو ختم نہیں کرتا، کیونکہ اسلامی قانونِ وراثت کے تحت وراثت کا حق مورث کی وفات کے ساتھ ہی خود بخود منتقل ہو جاتا ہے۔

اگر بہن کو دھوکے سے اس کے حق سے محروم رکھا گیا ہو اور متعلقہ کارروائی چھپائی گئی ہو تو سیکشن 18، لمیٹیشن ایکٹ کے تحت مدتِ تحدید کا آغاز اس وقت ہوگا جب دھوکہ پہلی مرتبہ معلوم ہو۔ تاہم کھلے عام ہونے والی کارروائیاں اس رعایت میں شامل نہیں ہوتیں۔

ایک مرتبہ جب مدتِ تحدید شروع ہو جائے تو بعد میں آنے والی کسی معذوری یا تاخیر سے یہ مدت دوبارہ شروع نہیں ہوتی، اور یہ اصول بعد کے وارثوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

اس مقدمے میں عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ بہنوں کو 1960-61 میں جائیداد کے معاوضے کی وصولی اور اپنے حق کے انکار کا علم تھا، اس لیے دعویٰ دائر کرنے کی مدت اسی وقت سے شروع ہوگئی تھی۔ بعد میں ان کے وارث 2004 میں مقدمہ دائر کرکے مدتِ تحدید کی رکاوٹ سے نہیں بچ سکتے تھے، لہٰذا درخواست مسترد کر دی گئی۔

اپنے کسی بھی قانونی مسئلے کے لیے Law and Policy Chambers سے رابطہ کریں۔
رابطہ نمبر: 03015011568

30/07/2026
پاکستان میں آپ کئی طریقوں سے شہریت حاصل کرسکتے ہیں جن میں پیدائش اور شادی کے زریعے شہریت کے حصول کے طریقے سب سےاہم ہیں۔ ...
29/07/2026

پاکستان میں آپ کئی طریقوں سے شہریت حاصل کرسکتے ہیں جن میں پیدائش اور شادی کے زریعے شہریت کے حصول کے طریقے سب سےاہم ہیں۔
آپ کے والدیں خواہ کسی بھی ملک سے ہوں مگر آپ کی پیدائش پاکستان میں ہوئی ہو یا پھر آپ کی شادی کسی پاکستانی سے ہوئی ہو تو ان آپ کو پاکستانی شہریت مل سکتی ہے۔ دیگر طریقے زیل میں دیکھیے

اگر آپ کی پاکستانی شہریت کسی بھی وجہ سے منسوخ کردی گئی تھی، خاص کر شک کی بنیاد پہ افغانی سمجھ کر، اور اب آپ کی شہریت کی ...
27/07/2026

اگر آپ کی پاکستانی شہریت کسی بھی وجہ سے منسوخ کردی گئی تھی، خاص کر شک کی بنیاد پہ افغانی سمجھ کر، اور اب آپ کی شہریت کی درخواست نادرا نے رد کردی ہے، تو نادار کے خلاف اب آپ کو عدالت سے رجوع کرنا ہوگا، آپ پہلی فرصت میں عدالت سے رجوع نہیں کر سکتے سواۓ حکم امتناعی اور نادرا کے خلاف ڈائرکشن کے لیے۔

وفاقی آئینی عدالت کا کا بچوں اور کمزور طبقات کے قانونی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک ایم فیصلہمختصر حقائقِ  یہ مقد...
21/07/2026

وفاقی آئینی عدالت کا کا بچوں اور کمزور طبقات کے قانونی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک ایم فیصلہ

مختصر حقائقِ

یہ مقدمہ ایک مصالحتی ڈگری (Compromise Decree) سے متعلق تھا جو غیر منقولہ جائیداد کے بارے میں صادر ہوئی، جس میں متعدد نابالغ افراد کے حقوق بھی شامل تھے۔ درخواست گزاروں نے ضابطۂ دیوانی (CPC) کی دفعہ 12(2) کے تحت اس ڈگری کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ نابالغوں کے لیے قانون کے مطابق گارڈین ایڈ لائٹم (Guardian ad litem) مقرر نہیں کیا گیا، لازمی قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، اور ایک ان پڑھ پردہ نشین خاتون سے اس کے قانونی نتائج سے آگاہ کیے بغیر مصالحت کروا لی گئی۔ وفاقی آئینی عدالت (FCC) نے نظرثانی عدالت کا فیصلہ بحال کرتے ہوئے مصالحتی ڈگری کالعدم قرار دی اور مقدمہ نئے سرے سے سماعت کے لیے ٹرائل کورٹ کو واپس بھیج دیا۔

عدالت بطور Parens Patriae

عدالت نے قرار دیا کہ پاکستانی عدالتیں Parens Patriae (ریاستی و آئینی محافظ) کی حیثیت رکھتی ہیں اور نابالغوں سمیت معاشرے کے دیگر کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کی مستقل ذمہ دار ہیں۔ اس حیثیت میں عدالتیں محض غیر جانبدار ثالث نہیں بلکہ ایسے مقدمات میں فعال کردار ادا کرنے کی پابند ہیں تاکہ نابالغوں کے حقوق ہر مرحلے پر محفوظ رہیں۔

نابالغوں سے متعلق لازمی قانونی تقاضے

عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی مقدمے میں نابالغ فریق ہو تو آرڈر ###II رول 3، CPC کے تحت اس کے لیے گارڈین ایڈ لائٹم کی تقرری لازمی ہے۔ مزید برآں، نابالغ کے حقوق یا جائیداد سے متعلق کسی بھی مصالحت کو آرڈر ###II رول 7 کے تحت عدالت کی واضح اجازت کے بغیر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کو پہلے خود مطمئن ہونا ہوگا کہ مجوزہ مصالحت نابالغ کے بہترین مفاد میں ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ تقاضے محض رسمی کارروائیاں نہیں بلکہ بنیادی قانونی ضمانتیں ہیں۔

نابالغ کی جائیداد سے متعلق اصول

عدالت نے قرار دیا کہ قدرتی سرپرست (Natural Guardian) بھی گارڈین کورٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر نابالغ کی غیر منقولہ جائیداد سے متعلق کوئی مصالحت، منتقلی یا دستبرداری نہیں کر سکتا۔ Guardians and Wards Act, 1890 کی خلاف ورزی میں کی جانے والی ایسی ہر مصالحت قانونی حیثیت سے محروم ہوگی۔

پردہ نشین خواتین سے متعلق اصول

عدالت نے اپنے سابقہ نظائر کی توثیق کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر کوئی ان پڑھ یا پردہ نشین خاتون کسی دستاویز یا مصالحت پر دستخط کرے تو اس سے فائدہ اٹھانے والے شخص پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مضبوط اور قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت کرے کہ خاتون نے اس دستاویز کی نوعیت، قانونی اثرات اور نتائج کو مکمل طور پر سمجھا، آزادانہ مرضی سے فیصلہ کیا اور اسے غیر جانبدارانہ مشورہ بھی حاصل تھا۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر ایسی مصالحت نابالغوں کے حقوق کو بھی متاثر کرتی ہو تو عدالت کو غیر معمولی احتیاط اور سخت جانچ پڑتال سے کام لینا ہوگا۔

اہم نکتہ

یہ فیصلہ نابالغوں اور کمزور طبقات، خصوصاً خواتین، کے آئینی اور قانونی تحفظ کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ عدالت نے تمام سول اور ریونیو عدالتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نابالغوں کے جائیداد یا وراثتی حقوق پر اثر انداز ہونے والی کسی بھی مصالحت کی منظوری سے قبل آرڈر ###II، CPC، Guardians and Wards Act, 1890 اور Parens Patriae کے اصول پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ یہ فیصلہ اس اصول کی توثیق کرتا ہے کہ قانونی طریقۂ کار محض رسمی تقاضے نہیں بلکہ کمزور طبقات کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جسٹس انعام امین منہاس نے  فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA...
08/07/2026

اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جسٹس انعام امین منہاس نے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) پر اطلاق سے متعلق ایک حالیہ فیصلے میں ریگولیٹر اور سروس پرووائیڈر کے درمیان بنیادی فرق واضح کیا اور فرنچائزر اور فرنچائزی کے تصورات کی جامع تشریح کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) جب ٹیلی کام آپریٹرز کو لائسنس جاری کرتی ہے تو وہ ایک خودمختار ریگولیٹری (Sovereign Regulatory) فریضہ انجام دیتی ہے، نہ کہ کوئی تجارتی خدمت فراہم کرتی ہے۔ لہٰذا PTA کو نہ تو سروس پرووائیڈر سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی فرنچائزر، اس لیے لائسنس فیس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) عائد نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے واضح کیا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ، 1996** کے تحت PTA ایک آزاد ریگولیٹری ادارہ ہے، جس کی ذمہ داری ٹیلی کام شعبے کی نگرانی، لائسنسنگ، اسپیکٹرم کی تقسیم، صارفین کے حقوق کا تحفظ، قانون پر عمل درآمد اور منصفانہ مسابقت کو فروغ دینا ہے۔ یہ تمام ذمہ داریاں حکومتی اور نگرانی پر مبنی نوعیت رکھتی ہیں۔

عدالت کے مطابق ریگولیٹر مارکیٹ سے بالاتر ہو کر قواعد نافذ کرتا اور نگرانی کرتا ہے، جبکہ سروس پرووائیڈر مارکیٹ کے اندر رہتے ہوئے صارفین کو معاوضے کے بدلے خدمات فراہم کرتا ہے۔ PTA نہ خود ٹیلی کمیونیکیشن خدمات فراہم کرتی ہے، نہ انفراسٹرکچر چلاتی ہے اور نہ ہی صارفین کو براہِ راست خدمات دیتی ہے۔ یہ خدمات آزاد ٹیلی کام کمپنیاں، جیسے Jazz اور Zong، اپنے نام اور اپنی تجارتی شناخت کے تحت فراہم کرتی ہیں۔

عدالت نے ایف بی آر کا یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ لائسنس کا اجرا فرنچائزر–فرنچائزی کا تعلق پیدا کرتا ہے۔ عدالت کے مطابق فرنچائز ایک تجارتی انتظام ہوتا ہے جس میں فرنچائزی، فرنچائزر کے برانڈ، نیک نامی (Goodwill)، کاروباری ماڈل یا آپریشنل نظام کو استعمال کرتے ہوئے کاروبار کرتا ہے، اور صارفین اس کی خدمات کو فرنچائزر سے منسوب کرتے ہیں۔

PTA کے لائسنسنگ نظام میں یہ بنیادی عناصر موجود نہیں۔ لائسنس صرف ایک قانونی اجازت ہے جو ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کام کرنے کی اجازت دیتی ہے؛ اس سے نہ PTA کے کاروباری حقوق منتقل ہوتے ہیں اور نہ ہی لائسنس یافتہ کمپنیاں PTA کی نمائندہ بن جاتی ہیں۔ لائسنس فیس بھی ایک **ریگولیٹری چارج** ہے، نہ کہ فرنچائز سروسز کا معاوضہ۔

چنانچہ عدالت نے قرار دیا کہ PTA نہ سروس پرووائیڈر ہے، نہ فرنچائزر، اور اس کے لائسنس یافتہ آپریٹرز فرنچائزی نہیں ہیں۔ چونکہ فرنچائز کے بنیادی عناصر موجود نہیں تھے، اس لیے لائسنس فیس پر FED کا نفاذ غیر قانونی قرار دیتے ہوئے عدالت نے تمام شوکاز نوٹس کالعدم قرار دے دیے۔

سپریم کورٹ نے اراضی کے جبری حصول پر معاوضے کے تعین کے اصول واضح کر دی:  اجسٹس محمد علی مظہر نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں ...
07/07/2026

سپریم کورٹ نے اراضی کے جبری حصول پر معاوضے کے تعین کے اصول واضح کر دی:

اجسٹس محمد علی مظہر نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں قرار دیا کہ اگرچہ حکومت کو حقِ اقتدارِ اعلیٰ (Eminent Domain) کے تحت عوامی مفاد کے لیے نجی اراضی جبراً حاصل کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم اس اختیار کا استعمال آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 23 اور 24 کے تحت دیے گئے منصفانہ اور مناسب معاوضے کے آئینی تحفظ سے مشروط ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اراضی کے جبری حصول کے نتیجے میں ریاست کو زمین کے مالک کے نقصان پر ناجائز فائدہ نہیں پہنچنا چاہیے۔

عدالت نے قرار دیا کہ معاوضے کا بنیادی اصول "سونے کے بدلے سونا، سونے کے بدلے تانبہ نہیں" ہے۔ یعنی جس شخص کی زمین عوامی مفاد میں حاصل کی جائے، اسے ایسا معاوضہ دیا جائے جو اس کی زمین کی حقیقی مالیت کی مکمل عکاسی کرے، تاکہ وہ مالی طور پر نقصان میں نہ رہے۔

سپریم کورٹ نے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ، 1894 کی دفعہ 23 کی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا کہ مارکیٹ ویلیو (Market Value) کا تعین صرف کلکٹر ریٹ یا دفعہ 4 کے نوٹیفکیشن کے وقت کی قیمت تک محدود نہیں ہو سکتا۔ خصوصاً خیبر پختونخوا میں مارکیٹ ویلیو کا تعین زمین پر قبضہ لینے کی تاریخ کے مطابق کیا جائے گا۔ مزید برآں، اگر حصولِ اراضی کی کارروائی یا معاوضے کی ادائیگی میں تاخیر ہو تو عدالتیں افراطِ زر، قیمتوں میں اضافے اور زمین کی **ممکنہ یا مستقبل کی قدر (Potential/Future Value) کو بھی مدنظر رکھیں گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ حصولِ اراضی کرنے والا ادارہ اپنی ہی تاخیر سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ معاوضے کے تعین میں صرف ریونیو ریکارڈ میں درج زمین کی نوعیت فیصلہ کن نہیں ہوگی بلکہ زمین کے ممکنہ استعمال اور ترقی کے امکانات کو بھی اہمیت دی جائے گی۔ اس سلسلے میں سڑکوں، تجارتی مراکز، رہائشی آبادیوں، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، صنعتی علاقوں اور دیگر شہری سہولیات سے قربت کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ اسی طرح اسی یا ملحقہ علاقے میں ہونے والی مماثل فروخت، حتیٰ کہ بعض حالات میں نوٹیفکیشن کے بعد ہونے والی فروخت بھی، مارکیٹ ویلیو کے تعین کے لیے قابلِ غور ہو سکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ معاوضہ صرف زمین کی قیمت تک محدود نہیں۔ اگر حاصل کی گئی زمین کی وجہ سے باقی ماندہ جائیداد الگ ہو جائے اور اس کی افادیت یا مالیت متاثر ہو تو Severance Charges بھی ادا کیے جائیں گے۔ اسی طرح دیگر املاک کو پہنچنے والے نقصان، رہائش یا کاروبار کی منتقلی کے اخراجات اور منافع میں کمی جیسے نقصانات بھی دفعہ 23 کے تحت قابلِ معاوضہ ہیں۔

آخر میں عدالت نے قرار دیا کہ معاوضے کے تعین کے لیے کوئی جامد یا ریاضیاتی فارمولا موجود نہیں۔ ہر مقدمہ اپنے مخصوص حقائق اور حالات کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا، تاہم بنیادی مقصد یہی ہوگا کہ زمین کے مالکان کو منصفانہ، حقیقی اور آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ معاوضہ فراہم کیا جائے۔

Address

House No. 7B, Street 32, F-8/1
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law and Policy Chambers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Law and Policy Chambers:

Shortcuts

Share