Sages Law Chambers

Sages Law Chambers Advocates & Legal Consultants

08/02/2026

⚖️ YOUR LEGAL SOLUTION STARTS HERE
Facing court issues or legal complications?
We provide strategic, reliable, and confidential legal services.
✔ Civil & Criminal Litigation
✔ Family Matters
✔ Bail, Stay, Appeals & Restoration
✔ Passport Blocking Issues
📞 0315-9856543
SAGES LAW CHAMBERS

27/12/2025

Direct Access to Court-Annexed Mediation Centre
(CAMC)

Under the Civil Rules of Practice and Directions, 2023, read with the Alternative Dispute Resolution Act, 2017, parties to a civil dispute are not required to first approach the Court by instituting a suit. They may directly and voluntarily approach the In-Charge of the Mediation Centre, i.e. the Judge-Mediator, for resolution of their dispute.

In the case of a Court-Annexed Mediation Centre, the Rules recognise the authority of the Judge-Mediator / In-Charge Mediation Centre to entertain requests for pre-litigation mediation, enabling parties to seek an amicable settlement without invoking the formal jurisdiction of the Court at the outset.

This position is further reinforced by Section 3 of the ADR Act, 2017, which permits referral of disputes to ADR before or after the filing of a suit, thereby legally validating direct access to mediation without prior court proceedings.

Where mediation results in a settlement, the settlement agreement / award may, in terms of Section 11 of the ADR Act, 2017, be submitted before the Court of competent jurisdiction, which may, upon satisfaction, make the settlement a rule of the Court, conferring upon it the force and effect of a decree.

Accordingly, parties are fully empowered to approach the Court-Annexed Mediation Centre directly, engage in mediation under the supervision of a Judge-Mediator, and only approach the Court thereafter for the limited purpose of formal recognition and enforcement of the settlement, if so required.

25/12/2025

REVIEW UNDER THE CODE OF CRIMINAL PROCEDURE, 1898
"Waqeel Sahab, I cannot review my own order."
This remark by an Additional Sessions Judge is the origin of this post.

According to Section 369 of the Code of Criminal Procedure, unless there is a provision in the code or any other law, expressly conferring the power of review, a judgement in a criminal case, once signed by the court which delivered it, shall not be altered or reviewed by that court except to correct any clerical error. In short, once a Criminal Court pronounces a judgement in a case, it becomes 'functus officio', subject to certain exceptions.

A judgement must be taken to mean and refer to the judicial act of the court in finally disposing of the case. The expression 'signed judgement' means that the judgement in question must not only be signed but also be pronounced in an open court, fulfilling the requirements of Section 366 and 367 of Cr. P.C.

Correction of error refers to 'accidental or arithmetical mistakes due to human forgetfulness, not involving a mental process of reasoning or the appreciation of any law or the facts already proved or admitted'.

There are two well-recognized exceptions to the general rule that power to review does not exist unless it is expressly conferred by law, namely;
(i) A judgement delivered without jurisdiction.
(ii) A judgement obtained by fraud.

Case Laws:
AIR 1926 Mad. 420
PLD 1962 SC 97
PLD 1958 SC(Pak.) 201
(1958) 1 ALL ER 289
PLD 1975 SC 331

خاتون نے ریپ کا الزام لگایا۔ اس ریپ سے اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ بچے کا ڈی این اے کروایا گیا۔ وہ ملزم کے ساتھ میچ کر گی...
19/12/2025

خاتون نے ریپ کا الزام لگایا۔ اس ریپ سے اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ بچے کا ڈی این اے کروایا گیا۔ وہ ملزم کے ساتھ میچ کر گیا۔ بھکر کی عدالت نے کہا کہ زنا بالجبر ثابت ہوتا ہے اور ملزم کو 20 سال قید بامشقت اور متاثرہ کو 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنا دی۔ ملزم نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔ عدالت نے اپیل خارج کر دی اور ملزم کی سزا برقرار رکھی۔ ملزم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ زنا بالجبر نہیں، زنا بالرضا کا کیس تھا۔ ملزم کی سزا کم کر کے 5 سال قید بامشقت اور جرمانہ 5 لاکھ سے کم کر کے 10 ہزار روپے کر دیا۔

وجوہات جن کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا۔

✍️1۔ مدعیہ نے واقعہ ہونے کے 7 ماہ بعد جرم کو رپورٹ کیا۔

✍️2۔ مدعیہ کے مطابق وہ صبح ساڑھے 5 بجے کھیتوں میں گئی تو وہاں ملزم پہلے سے چھپا ہوا تھا۔ اس نے ریپ کر دیا۔ جہاں کا وقوعہ ہے وہاں ساتھ ہی آبادی بھی ہے۔ مدعیہ نے کسی قسم کا شور نہیں کیا۔ اس کے جسم پر مزاحمت کے کوئی نشان نہ تھے۔ کوئی زخم یا خراش کا نشان نہ تھا۔ متاثرہ خاتون نے اپنے کپڑے جمع نہیں کروائے کہ اس سے پتہ چلتا کہ وہ پھٹے ہوئے تھے یا نہیں۔ ان پر کوئی سیمن تھا یا نہیں۔ خاتون 7 ماہ تک خاموش رہی۔ مبینہ وقوعہ کے بعد جس وقت وہ گھر آئی اس کے مطابق اس کے بھائی اور باقی گھر والے گھر پر موجود تھے۔ اس نے 7 ماہ تک اس بات کا کسی سے ذکر نہیں کیا۔ ملزم کو کیسے پتہ تھا کہ وہ اس وقت وہاں اکیلی آئے گی۔

✍️3۔ اگرچہ پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے ملزم سے میچ کر گیا ہے لیکن یہ ریپ نہیں بلکہ زنا بالرضا کا واقعہ ہے۔ ریپ ہوتا تو مزاحمت، شور، زخم، خراش کچھ نہ کچھ تو ہوتا۔

✍️4۔ میڈیکل رپورٹ میں ڈاکٹر نے یہ ضرور بتایا کہ ٹو فنگر ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن اسے بھی کسی زخم وغیرہ کا کوئی پرانا نشان نہیں ملا۔

قانون کے طالبعلموں کیلئے: اگرچہ اس کیس میں 376 (ریپ) کی ایف آئی آر ہوئی تھی اور چارج بھی اسی دفعہ کے تحت فریم ہوا تھا لیکن سزا 496 بی (زنا بالرضا) میں تبدیل کر دی گئی۔ جو کہ اس جنرل اصول کی خلاف ورزی ہے کہ جس جرم کا چارج فریم ہو سزا بھی اسی میں ہو۔ اس اصول کی استثنی کیلئے آپ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 238(2) اور سپریم کورٹ کی ایک ججمنٹ 2006SCMR 1170 پڑھ لیں۔

نوٹ: شیئر کردہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی لارجر بینچ جسٹس شہزاد احمد خان، جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس صلاح الدین پنہور نے دیا ہے۔ جسٹس صلاح الدین نے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا اور اپنا اختلافی نوٹ جاری کیا جس کی تفصیل ذیل میں ہے۔

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں جہاں اکثریتی معزز جج صاحبان نے ایک ریپ کے مقدمے میں سزا کم کرتے ہوئے جرم کی نوعیت میں تبدیلی کی، وہیں محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب کا اختلافی نوٹ قانون، انصاف اور سماجی حقیقتوں کی ایک مضبوط اور باوقار ترجمانی کرتا ہے۔ یہ اختلاف محض قانونی نکات تک محدود نہیں بلکہ انسانی وقار، سماجی دباؤ اور فوجداری قانون کے بنیادی اصولوں پر ایک گہری اور بصیرت افروز دستک ہے۔

یہ مقدمہ ایک تقریباً 24 سالہ غیر شادی شدہ خاتون سے متعلق ہے، جس کے نتیجے میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی ڈی این اے رپورٹ کے مطابق ملزم اور متاثرہ خاتون اس بچے کے حیاتیاتی والدین ثابت ہوئے۔ اکثریتی فیصلے میں سات ماہ کی تاخیر سے درج ایف آئی آر اور جسم پر تشدد کے نشانات کی عدم موجودگی کو بنیاد بنا کر ریپ کے الزام کو کمزور قرار دیا گیا، تاہم محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے نہایت مدلل، قانونی اور انسانی بنیادوں پر اس سوچ سے اختلاف کیا۔

محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب واضح کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ریپ اور جنسی ہراسانی کے واقعات اکثر رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ جرم کی عدم موجودگی نہیں بلکہ خوف، بدنامی، کردار کشی اور خاندانی دباؤ ہوتا ہے۔ ایک متاثرہ خاتون کو عدالت سے پہلے اپنے ہی گھر میں اپنے کردار کا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں تاخیر کو بدنیتی یا رضامندی سے تعبیر کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

خصوصاً اس مقدمے میں متاثرہ خاتون کم عمر، غیر شادی شدہ، والدین سے محروم اور اپنے بڑے بھائی پر انحصار کرنے والی تھی۔ ریکارڈ پر دھمکیوں کے شواہد بھی موجود تھے۔ محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب کے مطابق ایسے حالات میں خاموشی ایک فطری انسانی ردعمل ہے، نہ کہ جرم سے انکار۔ ان کے بقول یہ خاموشی اس وقت تک برقرار رہنا بالکل فطری تھا جب تک متاثرہ خاتون کو اپنے حمل کا علم نہ ہو سکا۔

جسم پر تشدد کے نشانات نہ ہونے کے نکتے پر بھی محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے ایک اہم قانونی اصول اجاگر کیا۔ اگر ملزم مسلح ہو تو مزاحمت نہ کرنا انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ مزید یہ کہ سات ماہ بعد ہونے والا طبی معائنہ کسی جسمانی مزاحمت کے آثار محفوظ نہیں رکھ سکتا، جیسا کہ عدالتی نظائر میں بھی تسلیم کیا جا چکا ہے۔

ڈی این اے رپورٹ کے حوالے سے محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے سائنسی بنیادوں پر اکثریتی فیصلے کی کمزوری واضح کی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی میں ڈی این اے کو بروقت extract کر کے محفوظ کیا جاتا ہے، جو برسوں تک قابلِ اعتماد رہتا ہے۔ محض buccal swab کے مبینہ طور پر ضائع ہونے کے امکان کو بنیاد بنا کر ڈی این اے رپورٹ کو مشکوک قرار دینا نہ سائنسی ہے اور نہ ہی قانونی طور پر درست۔

اختلافی نوٹ کا سب سے اہم اور حساس پہلو وہ ہے جہاں اکثریتی فیصلے میں ریپ (دفعہ 376 PPC) کو رضامندی پر مبنی فعل (دفعہ 496-B PPC) میں تبدیل کیا گیا۔ محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ یہ دونوں الگ الگ جرائم ہیں جن کے اجزاء مختلف ہیں۔ اگر رضامندی ثابت نہیں تو محض سزا کم کرنے کے لیے جرم کی نوعیت بدلنا قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ریپ ثابت نہ ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ رضامندی خودبخود ثابت ہو گئی۔

انہوں نے نہایت اہم سوال اٹھایا کہ اگر ڈی این اے رپورٹ ریپ کے الزام کے لیے ناقابلِ اعتبار سمجھی جا رہی ہے تو اسی رپورٹ کو رضامندی پر مبنی جرم کے لیے کیسے قابلِ قبول مانا جا سکتا ہے؟ قانون مفروضوں پر نہیں بلکہ ناقابلِ تردید ثبوت پر عمل کرتا ہے۔

محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے اپنے اختلافی نوٹ کا اختتام انسانی وقار کے قرآنی تصور پر کیا، جو اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انسان کی عزت اور حرمت ہر قانونی بحث سے بالاتر ہے۔ یہ اختلافی نوٹ دراصل صرف ایک فیصلے سے اختلاف نہیں بلکہ اس سوچ کے خلاف ایک مضبوط اعلان ہے جو مظلوم کی خاموشی کو اس کے خلاف ثبوت بنا دیتی ہے۔

یہ اختلافی رائے مستقبل کے لیے ایک واضح رہنما اصول ہے کہ انصاف صرف شکوک و شبہات کی بنیاد پر نہیں بلکہ سماجی حقیقتوں، انسانی نفسیات اور قانون کے مسلمہ اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر دیا جانا چاہیے۔ اگر خاموشی کو جرم اور کمزوری کو رضامندی سمجھا جائے تو یہ انصاف نہیں بلکہ خوف کی توثیق ہو گی۔




















The Islamabad High Court has ruled that Justice Tariq Mehmood Jahangiri was not legally qualified at the time of his app...
18/12/2025

The Islamabad High Court has ruled that Justice Tariq Mehmood Jahangiri was not legally qualified at the time of his appointment, citing an invalid law degree.

Declaring the appointment unlawful, the court ordered his removal and directed the Ministry of Law to de-notify him as a judge.

The verdict was announced by IHC Chief Justice Sardar Sarfraz Dogar and Justice Azam Khan, bringing a long-running controversy to a decisive close.

یہ کنزیومر پروٹیکشن اور (Service Negligence) کا کیس ہے، جو اس اصول کو مضبوطی سے واضح کرتا ہے کہ کوئی بھی سروس فراہم کرنے...
14/12/2025

یہ کنزیومر پروٹیکشن اور (Service Negligence) کا کیس ہے، جو اس اصول کو مضبوطی سے واضح کرتا ہے کہ کوئی بھی سروس فراہم کرنے والی کمپنی اپنی طے شدہ شرائط پوری کرنے کی پابند ہوتی ہے، اور خلاف ورزی کی صورت میں صارف (consumer) کو ہرجانہ کا حق حاصل ہے۔
صدیق گھمن نے فیس بُک پر ’’شازیہ سعید‘‘ نامی آئی ڈی سے دوستی کے بعد اس کے کہنے پر ایک نیا موبائل فون خریدا اور TCS کی Self Collection سروس کے تحت یہ واضح ہدایت دی کہ پارسل صرف شازیہ کو ہی فراہم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے گھمن نے انشورنس چارجز بھی ادا کیے۔ چند روز بعد مذکورہ آئی ڈی نے موبائل ملنے کی تصدیق کی اور پھر گھمن کو بلاک کردیا۔

گھمن نے TCS سے معلومات حاصل کیں تو پتا چلا کہ کمپنی نے موبائل شازیہ کے بجائے ایک اجنبی شخص عامر کو دے دیا، جس نے خود کو شازیہ کا بھائی ظاہر کیا۔ یہ قدم کمپنی کی لاپرواہی (negligence) کا واضح ثبوت تھا، کیونکہ Self Collection ایک مخصوص اور سخت شرائط والی سروس ہوتی ہے جو صرف نامزد وصول کنندہ کو پارسل فراہم کرنے کی پابند ہے۔

گھمن نے کمپنی کو لیگل نوٹس بھیجا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ عامر ہی ’’شازیہ سعید‘‘ کی جعلی آئی ڈی چلا رہا تھا، اور اسی نے دھوکہ دہی سے موبائل حاصل کیا تھا۔ تاہم کمپنی نے اس غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے موبائل واپس کرنے کی پیشکش کی، مگر گھمن نے مؤقف اپنایا کہ چونکہ کمپنی نے اپنی سروس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے، اس لیے وہ 24 ہزار روپے انشورنس ہرجانہ ادا کرنے کی بھی پابند ہے۔ کمپنی نے اس مطالبے سے انکار کردیا۔

نتیجتاً، گھمن نے کنزیومر کورٹ سے رجوع کیا۔ مکمل ٹرائل کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ TCS نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اور صارف کو مالی نقصان و ذہنی اذیت پہنچائی۔ لہٰذا کمپنی کو 24 ہزار روپے انشورنس ہرجانہ اور مزید ایک لاکھ روپے بطور compensation ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ ۔TCS نے اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا، لیکن صدیق گھمن نے ہائیکورٹ میں اپنا کیس خود لڑا اور سروس نیگلیجنس ثابت کی۔ ہائیکورٹ نے بھی کنزیومر کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے TCS کی اپیل خارج کردی۔

یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط بناتا ہے کہ جب سروس پروائیڈر اپنی سروس کے معیار، شرائط یا وعدوں کی خلاف ورزی کرے، تو صارف نہ صرف شکایت درج کر سکتا ہے بلکہ ہرجانہ بھی حاصل کر سکتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کو شرعی عدالت منتقل کرنے کا بڑا فیصلہ، نوٹیفکیشن جاری
11/12/2025

وفاقی آئینی عدالت کو شرعی عدالت منتقل کرنے کا بڑا فیصلہ، نوٹیفکیشن جاری

خٌدا کَرے میری ارضِ پاک پہ اٌترےوہ فصّلِ گٌل جِسے اندیشہِ زوال نہ ہویہاں جو پھول کھِلے وہ کھِلا رہے صدیوںیہاں خزاں کو بھ...
13/08/2025

خٌدا کَرے میری ارضِ پاک پہ اٌترے
وہ فصّلِ گٌل جِسے اندیشہِ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھِلے وہ کھِلا رہے صدیوں
یہاں خزاں کو بھی گٌزرنے کی مجال نہ ہو

پاکستان زندہ باد 🇵🇰

اور جب بات کرو تو انصاف کی کرو خواہ رشتہ دار ہی کیوں نا ہوں۔۔ (القرآن۔سورہ الانعام 15)
10/08/2025

اور جب بات کرو تو انصاف کی کرو خواہ رشتہ دار ہی کیوں نا ہوں۔۔ (القرآن۔سورہ الانعام 15)

09/08/2025

Company Registration from SECPSMC Pvt & Pvt Ltd Company Registration from FBR📈 Trusted by 100+ Happy Clients⏰ Fast and E...
07/07/2025

Company Registration from SECP

SMC Pvt & Pvt Ltd

Company Registration from FBR

📈 Trusted by 100+ Happy Clients
⏰ Fast and Efficient Service
Let us handle your company registration with ease and professionalism!

SAGES LAW CHAMBERS
📞 For Call/SMS & WhatsApp:
03159856543
03430500984

20/05/2025

If it has been established that during trial, prosecution has changed the venue of receipt of injuries of the deceased i.e. occurrence then it is fatal for the case of prosecution; if identification of the unknown accused is based on the external appearance then without detail of the facial features, identification through identification parade is of no legal efficacy.
Crl. Appeal 39118/21
Yasir Shaban Vs The State etc
Mr. Justice Farooq Haider
06-05-2025
2025 LHC 2992.
قانونی تجزیہ:

یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ نے ایک کریمنل اپیل میں دیا جس کا حوالہ 2025 LHC 2992 ہے۔ اس میں دو اہم قانونی نکات کو زیر بحث لایا گیا:

1. وقوعہ کی جگہ کی تبدیلی:

عدالت نے قرار دیا کہ اگر استغاثہ (پراسیکیوشن) اپنے کیس کے دوران مقتول کے زخمی ہونے کی جگہ یعنی وقوعہ کی جگہ کو تبدیل کرتا ہے،
تو یہ استغاثہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ کیونکہ وقوعہ کی جگہ ہی کیس کی بنیاد ہوتی ہے۔
اگر وہی غیر یقینی ہو جائے یا تبدیل کی جائے، تو پورے کیس پر شکوک و شبہات پیدا ہو جاتے ہیں،
اور اس صورت میں ملزم کو فائدہ پہنچتا ہے۔ ایسے کیس میں شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے (benefit of doubt)۔

2. شناخت پریڈ میں خامیاں:

عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی نامعلوم ملزم کو صرف اس کی ظاہری شکل و شباہت (external appearance) کی بنیاد پر شناخت کیا جائے
اور شناخت کرنے والا فرد چہرے کے واضح خدوخال بیان نہ کر سکے،
تو اس صورت میں شناخت پریڈ کی کوئی قانونی اہمیت نہیں رہتی۔

قانونی طور پر شناخت پریڈ اس وقت مؤثر مانی جاتی ہے جب گواہ ملزم کی شناخت کرتے وقت یہ بتا سکے کہ:

چہرے پر کون سی خاص علامت تھی؟

ناک، آنکھ، داڑھی، یا چال ڈھال کیسی تھی؟

اور پہلے کب اور کہاں دیکھا تھا؟

اگر یہ تفصیلات نہ ہوں اور صرف "یہی آدمی تھا" کہہ دیا جائے تو عدالت اسے ناقابلِ بھروسا سمجھتی ہے۔

نتیجہ:

اس فیصلے میں عدالت نے استغاثہ کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ:

وقوعہ کی جگہ میں تضاد ہو تو مقدمہ مشکوک ہو جاتا ہے؛

ناقص شناخت پریڈ کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی۔

لہٰذا، اگر ایسے حقائق سامنے آئیں، تو ملزم کو شک کا فائدہ دیا جائے گا اور اسے بری بھی کیا جا سکتا ہے۔

Address

Islamabad

Opening Hours

Monday 11:00 - 18:00
Tuesday 11:00 - 18:00
Wednesday 11:00 - 18:00
Thursday 11:00 - 18:00
Friday 14:00 - 19:00
Saturday 11:00 - 18:00

Telephone

+923401929887

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sages Law Chambers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Sages Law Chambers:

Share